حوالہ جات کی پی ڈی ایف (PDF) یہاں دیکھیں

﷽ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حوالہ جات بائیبل BIBLE & QURAN فہرست مضامین نمبر شمار عنوان صفحہ 1 ابن آدم۔ خدا کا بيٹا 4 2 محاورۃ لفظ بيٹا 5 3 الوہيت مسيح 6 4 تثليث 7 5 NWT بائيبل ميں تحريف 9 6 عيسائيوں کا اعتراف تحريف 10 7 يہواہ/ خدا کا لفظ کن کتابوں ميں نہيں آيا 11 8 کی تاریخ اور اختلافات Codex & Cannon 11 9 ٹیکسٹ میں اختلافات 13 10 نيا عہد نامہ کے حوالےجوMT میں موجودنہیں 43 11 عہد نامہ جدید(NT)کے مختلف مسودات میں فرق 49 12 نئے عہد نامہ(NT)میں اختلافات 53 13 نئے عہد نامہ میں غیر تاريخی واقعات 55 14 اعداد وشمار کےاختلافات 56 15 عہد نامہ قدیم (OT)میں اختلافات 59 16 اختلافات نیا عہد نامہ 68 17 بائیبل مفروضہ زمانہ کے بعد کی تحریر 73 18 شريعت سے متعلق حضرت مسيح اور پو لوس کا نظریہ 75 19 اپنی ہی تعلیم کے خلاف مسیح  سے منسوب اقوال 81 20 قرآن اور بائیبل میں واقعاتی اختلافات 82 21 موازنہ تعليم 92 22 مدفون صحائف سےقرآن کی تصدیق 97 23 جنگ سے متعلق قرآن و بائیبل کی تعلیم کا موازنہ 107 24 گناہ کی معافی 111 25 بائیبل میں ایمان کی نشانیاں 112 26 بائیبل میں حضرت مسیح  کے علاوہ بے گناہ انسان 113 27 آنحضرتﷺ کے متعلق پیشگوئیاں 114 28 آمد ثانی 116 29 حضرت مسیح رسول الیٰ بنی اسرائیل 119 30 حضرت عیسیٰ صرف نبی اللہ تھے 120 31 علامات دجال: بائیبل اور حدیث میں 122 32 معجزات انبیاء 131 33 حضرت مسیح  کی صلیبی موت سے نجات 141 34 بائیبل میں بار باردہرائی جانے والی آیات 35 35 نیا عہد نامہ پر اعتراضات 125 36 بائیبل کےمطابق مردہ دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتے 132 37 باپ بیٹا اور روح القدس کے نام پربپتسمہ دینے پر عمل نہیں کیا 130 38 متفرق حوالہ جات 128 39 تتمہ 148  

ابن آدم

مَتی: 16:27 -12:40 -12:32- 12:19 -10:23-9:6 -8:20- 1:1, 20:28-20:18-19:28-18:11-17:22-17:9, 6:28, 24:30&31-20:30,31 مرقس:14:21-13:26-10:48-9:31-9:12-9:9-8:38-3:28-2:10, .14:62 لوقا:18:3-17:24-17:24-12:10-12:8-11:30-10:58-1:32, 22:48-21:27 یوحنا: 13:31-12:24-6:62 اعمال: 7:57 ،رومیوں 1:3,4

"خدا کا بیٹا" ایک اصطلاح

فرشتوں کو = ایوب 1:6 ، پیدائش ،6:2ایوب 38:7 نیک اور اچھے لوگوں کے لیے=متی 5:9-5:45 - 14:33-3:17 دیگر افراد کے لیے اسرائیل پلوٹھا=خروج4:22،سلیمان =زبور 89:26,27،داؤد= تواریخ داؤد= زبور, 2:7قاضی مفتی= زبور,82:6یتیم=زبور 68:5 بدکاریسعیاہ30:1سب اسرائیل=رومیوں,9:4استثناء14:1 اسرائیل=ہوسیع11:1،بنی اسرائیل= یرمیاہ31:9،حزقیل23:37 افرائیم پلوٹھا=یرمیاہ31:9،31:20،سلیمان،یوحنا1:12 خدا کے لیے لفظ باپ متی6:6, 6:9-13, 6:14, 7:11یوحنا10:36،10:34 یوحنا 29:18،15:26 لوقا6:36،12:32۔ افسیون 4:6۔ تھسلیکون 2:16  

محاورۃ لفظ بیٹا

باپ ابلیس سے ہو=یوحنا8:44 ہلاکت کا فرزند=یوحنا 11:12 اچھابیچ بادشاہی کے فرزند اور کڑوےدانے شریر کے فرزند متی13:38 گناہ گار ابلیس سے یوحنا3:8،3:10 ـــ خدا کے فرزند نیک =یوحنا3:8،3:10 ابلیس کے فرزند2کرنتھیوں 6:18 شریر ابلیس کے فرزند=اعمال13:10 نور پر ایمان لانے والے نور کے فرزند=یوحنا12:36 ہلاکت کا فرزند=یوحنا17:12 لعنت کے فرزند=2۔پطرس 12:14 نغمہ کی بیٹیاں=واعظ12:4 قیامت کے فرزند=لوقا 21:36 پاکیزگی کی روح کے اعتبار سے۔مردوں میں الٹنے کی وجہ سے خدا کا بیٹاٹھہرا۔رومیوں1:3،1:4 جتنے خدا کی ہدایت سے چلتے ہیں وہ خدا کے بیٹے ہیں ۔رومیوں 8:14 دوسروں کو خدا کہا۔یوحنا10:34،10:36 تم ایمان کے وسیلہ سے خدا کے فرزند ہو۔گلبتوں3:25 بیٹوں کو دورسے اور میری بیٹیوں کو زمین کی انتہاء سے لاؤیعنی ہر وہ جو میرے نام سے کہلاتا ہے ۔یسعیاہ43:6 وہ بنی اسرائیل زندہ خدا کےفرزندکہلا دینگے۔ہوسیع 1:10 میرے بیٹے کا عصا ہر لکڑیکو حقیر جانتا ہے ۔حزقیل21:15  

الوہیت مسیح

ایک خدا =استثناء: 6:4 یسعیاہ 37:20،رومیوں3:4 یسعیاہ 43:11 یسعیاہ 45:14،45:21،45:23،استثناء4:35،4:39،یودا1:25 یوحنا: 5:44،۔۔۔1:16،1:17،رومیوں16:27،یوحنا5:44کرنتھیوں6:5، 2:5 1-TIM کرنتھیوں 8:4،افسیوں4:6 کرنتھیوں 8:6،9:6،یوحنا 17:3،استثناء4:39،4:35،زبور73:25،خروج22:20،TIM-6 6:15،متی23:9 بے مثل خدا=40:11یسعیاہ44:24 یسعیاہ 45:5،45:6 یسعیاہ 44:24 لاشریک یسعیاہ 40:18سیموئیل2:2 کوئی دوسری چٹان نہیں سیموئیل 22:32،تواریخ17:20،زبور=87:8 سیموئیل 2:2، چٹان نہیں سیموئیل 22:32 1۔سلاطین8:23،زکریا14:9،واحد خداافسیوں4:6 واحد خدایہودا1:4 دوسروں کو بھی خدا کہا گیاہے،یوحنا10:34،10:36 اس روز ایک ہی خدا ہو گااور اسکا نام واحد ہو گا۔زکریا13:9  

تثلیث

مسیح کا دعا کرنا=متی26:40،26:41۔لوقا11:1،11:2،5:16،9:28،متی21:22،26:39،لوقا5:16 کھانا کھانا=متی 17:33،متی4:1،4:2،لوقا24:43،متی21:19 بے علمی =وقس13:32،وقس5:30 مخلوق=رومیوں1:4کلیسون1:15 سر دھرنے کی جگہ نہیں=متی8:20،سونا=لوقا8:23،8:24،مجسم ہونا=یوحنا1:13 ابلیس سے آزمایاجانا=متی4:1،4:2،زخمی ہونا=لوقا24:29،24:30 خدا کی صفات قادر=استثناء10:17،لوقا18:28 غیب کا جاننے والا=استثناء29:29،علیم سیموئیل2:3،تواریخ16:9 زندہ خدا ابدالاباد۔استثناء32:40،زبور19:46یرمیاہ4:2 خالق=اعمال4:24یسعیاہ44:24،اسکا کوئی شریک نہیں بادشاہ مالک=یثوع2:11 لامحدودسلاطین8:27۔بے مثل سلاطین8:23 خدا آزمایا نہیں جا سکتا،یعقوب1:13 لا تبدیل=ملاکی3:6 دعاؤںکا قبول کرنے والایرمیاہ29:12 متی قیومدانی ایل4:34،12:7 سوتا نہیں=زبور121:4 خدا روح ہے اسکی مخصوص شکل نہیں=استثناء4:15،4:19 خدا غیور ہے=استثناء= عیسائیوں کے دلائل (س)میں اور باپ ایک ہیں =یوحنا10:30،14:8،14:11،یوحنا14:20 (ج)حواری۔خدا اور مسیح بھی ایک ہیں=یوحنا 17:21،17:23 دیگر انبیاء کے معجزات مردوں کا زندہ کرنا حقیقی مردے زندہ نہیں ہو سکتےیسعیاہ26:1،2سیموئیل14:14 الیشع کا مردہ زندہ کرنا=2۔سلاطین4:32،4:37 ایلیا کا مردہ زندہ کرنا=2۔سلاطین 17:17،17:23 تثلیث برابر نہیں=بیٹا بعض قدرت نہیں رکھتا۔وقس10:40 یسوع خدا سے چھوٹا =یوحنا13:16،یوحنا8:28،8:42 باپ بڑا ہے=یوحنا14:28 باپ حکم دیتا ہے=یوحنا14:31،بیٹا وحی نہیں کر سکتا۔یوحنا6:8 بیٹاخدا کے تابع ہے1کرنتھیوں15:24،15:28 یسوع اور خدا ایک نہیں =یوحنا8:17 خدا کے حضور یسوع کی حاضری ۔مکاشفہ9:24 یسوع خادم ہے۔اعمال4:27 خدا یسوع سے الگ ہو گیا۔متی27:46 مگر کامل آدمی کو خدا نہیں چھوڑتا=ایوب8:20 تاکستان کی مثال میںالگ الگ ذکر۔لوقا 20:9-16 خدا نے مسیح کو زندہ۔ اعمال2:24 Act20:28لفظ Sonکا اضافہ کر دیاہے We Hab 1:12کی بجائے Youکر دیا ہے موازنہ کے لیے دیکھیں The Kingdom interlinear Translation oft he Greek Scriptures by The N.W.B Translation Comittee Ed 1985 WATCHTOWER BIBEL SOCIETY of N.Y.INC USA The Kingdom INTER-TRANS oft he GREEK SCRIP 1985Edd

NWT بائیبل میں تحریف

(1)9:8 متی Must be deadمگر اصل میں ہے right now deceased تضاد ختم کرنے کے لیے (2)مرقس 2:26 داؤد کے واقعہ میں تضاد ختم کرنے کے لیے (3)مرقس Three days Later8:31اصل میںafter Three daysہے موازنہ متی16:21،لوقا9:22 (4)یوحنا I have been 8:58،8:59 اصل ہےI am اختلاف الوہیت مسیح کی وجہ سے (5)یوحنا 10:8me in place of مگر اصل ہے before me اعتراض ختم کرنے کے لئے (6) یوحنا 12:32 لفظSorts کاا ضافہ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس کے بغیر ان کا یہ عقیدہ غلط ثابت ہوتا ہے کہ سب آسمان پر جائیں گے(ہم) (7) اعمال 11:26،divine providenceکا اضافہ کر دیا گیا ہے اصل معنی ہیںcalled )8)1۔یوحنا 4:1،4:2 Spirtکی بجائےInspired Expression کر دیا ہے اس سے بھی عقیدہ ثابت کرنا ہے۔ (9)عیرانیوں12:23Spirit کی بجائے Spirtual livesکر دیا ہے (10)Sending کی بجائے Lets go کردیا ہےThes-22:11 9:4 Genیہاں Which isلفظ بڑھا دیے گئے ہیں 2:12 Det یہاں فعل ماضی کو مستقبل میں تبدیل کردیا ہے کیونکہ ماضی سے پتہ چلتا ہے کہ نبی اسرائیل کنعان پر قابل ہو چکے ہیں مگر موسٰی تو کنعان گئے ہی نہیں اسلئے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتاب بعد میں لکھی گئی ہے۔ -216:1 Josیہاں Blonging to Luz کا اضافہ کردیا ہےے کیونکہ پیدائش 19:28 سے پتہ چلتا ہے کہ بیعت ایل کا پرانا نام نور تھا اسلئے یہاں غلط لکھا گیا ہے کہ بیعت ایل سے نکل کر نور کو گئی اس غلطی کو درست کرنے کے لیے یہ اضافہ کرنا پڑا۔ Mark9:24-25یہاں Help me to the lack of Faithکی بجائے Help me where I need faith کر دیا ہے کیونکہ پہلے وہ شخص کہ رہا ہے کہ میرااعتقاد ہے تو پھر اعتقاد کی کمی میں مدد کی کیاضرورت ہے۔ Amos 5:27 لفظ آگے پیچھے کر کے مطلب بگاڑا گیا ہے Jehovah whose name is the God of Hosts کی بجائے Whose name is Jehovah the God of armies(Hosts)? کر دیا ہے

عیسائیوں کا اعتراف تحریف

‘‘وہ مقامات جہاں عیسائیوں کو خود اعتراف ہے کہ بائیبل میں اضافہ یا کمی ہوئی ہے،، (1)مرقس 16:8،16:12 بعد میں شامل کی گئی ہیں ۔اگر نہ مانیں تو پھر ایمان کی یہ نشانیاں دکھلائیں۔ (2)یوحنا 5:3،5:4 یعنی اس کا کچھ حصہ اور آیت 4 پوری کی پوری (3)یوحنا 7:53 سے8:11 تک بعد میں شامل کی گئی ہیں۔ (4)یوحنا 1۔5:7 تثلیث کے عقیدہ کی وجہ سے شامل کی گئی ہیں۔ (5)1۔ TIM 3:16 بعض میں نہیں ہے۔ بعض الفاظ کم یا زیادہ جو آیات غائیب ہیں یا کم یا زیادہ ہیں۔ متی 12:46،12:47،17:21، 18:11، 19:9، 23:14، 27:50، 26:74، 6:9، 6:13۔آخری حصہ یوحنا5:4 متی 16:3، 20:16، 24:36 اعمال8:37، 28:29، 15:34،(27:37 مختلف مسودات میں تعداد مختلف ہے) مرقس=7:16، 9:44، 9:46، 11:26،20 ـ16:9،15:28، 9:29۔ لوقا= 56ـ9:54،22:43، 22:44، 23:17، 24:40، 24:52، 24:36 مرقس 1:1 بعض میںSon of God نہیں ہے،9:49، 10:24، 14:51، 14:68۔ لوقا=4:8، 6:1، 17:36، 22:19، 22:20، 22:68، 23:34، 23:38، 24:6، 24:12، 24:36، 24:40، 24:51، 24:52 یہ تمام آیات Codex of Bezaمیں نہیں پائی جاتی ان میں24:52 میں آسمان پر جانے کا ذکر ہےCodex Sinaiticus میں بھی نہیں پا ئی جاتی Luke 6:5 ( Codex D) بعد میں شامل کیا گیا ہے۔ John 6:52-59 Is a redactor additions made to an earlier work. Codex Alexandrinus ‘‘This Codex contaon 1 and 2 clement ’’

یہوواہ ۔ خدا کا لفظ کن کتابوں میں نہیں آیا

‘‘لفظ خدا’’ کتاب ایستر میں نہیں آیا ‘‘لفظ یہووا ’’ ایستر ۔واعظ،غزلالفرلات،فلپیون ططق3،2،1 یوحنا میں نہیں آیا۔ (نوٹ )ویسے تو تمام نیا عہد نامہ میں نہیں آیا اوریہووا وٹنس والوں میںN.W.T میں شامل کر لیا ہے مگر مندرجہ بالا کتب میںN.W.T میں نہیں ہے

Cannon & Codex کی تاریخ میں اختلافات

Melito(1) 180:170) (A.D-کے مطابق LAMENTATON of Sarids اس میں نوحد کی کتب شامل نہیں بحوالہ(13ـ12 ، 26(Ch.HIST- 1V EUSEBIUS (2)ORIGEN اور Teromeمطابق کےLetter of Termiah بھی شامل ہے۔ Codex Vaticanus(3) Wisdom of Sirach اور البتہ Esterاضافہ کے ساتھSusana, Letter of Termiah Baruch, Tobit Danial with Additions oft he prayer of Azariah and the song of three Bel and Dragon بھی موجود نہیں۔ (4)Codex Sinaiticus اس میں MACCABEES1سے4 (2)زبور ISI(3) TOBIT(4) JODITH(5) Jesus Sirachبھی موجود ہیں۔ Codex Alexandrinu زائد کتب= Letter of Jermiah(2) Susana(3) Eastherکے زائد ابواب، (4) Jesus Maccabi 1ـ 4(5)زبور 151 شامل ہے(6) Wisdom of Sirach Tobit, Wisdom of Jesus.SL XX Maccabi 1,2, Easther 10:3-16 Baruch, Letter of Jermiah میں 7 کتب زائد ہیں۔ VULGATE زاید کتب=(1) Tobith(2) Judith (3) Easther with AD 10-4 to 16:24 (4) Sirach Wisdom of (5) Baruch(6) Letter of Jermiah(7) Add Danial(8) Susana (9) Bell&Dragon(10) 2-1 Miccabi(11) 3-Esdras CANON of NT A.D 367 میں ATHANASIUSنے سب سے پہلے NT کی 27 کتب کا ذکر کیا ہے۔ MURATORIAN FRAGMENT WISDOM متی کی انجیل کا شروع میں نہیں ہے پولوس کے خطوط میں سے عبراتبوں کا خط شامل نہیں ہے۔یوحنا کا تیسرا خط یعقوب کا خط اور پطرس کے خطوط کے علاوہ یوحنا کا ۔۔۔شامل نہیں ہے مگر Wisdomکی کتاب شامل ہے۔ Writings of Origen مندرجہ ذیل کتب کے متعلق لکھا ہے کہ یقینی طور پر الہامی نہیں ہیں۔ (1)یعقوب کا خط(2)2ـپطرس(3) 2ـ یوحنا(4)3ـ یوحنا(5)یہودا کاخط(6)۔۔کا خط (7) Shepherd of Hemas مگر یعقوب 17:2اور یودا 6 کت متعلق بھی شک ظاہر کیا ہے۔ List of Eusebius مشکوک کتب=(1)Jude(2)یعقوب(3)2ـ پطرس Eusebiusنے لکھا ہے کہ 2ـ پطرس Canonicalمیں نہیں ہے۔2اور3 =یوحنا Spurious Book (1) Act of Paul(2) Shepherd(3) Apocalypse of Peter (4) Letter of Barnahas(5) Teaching of Apostes Revilation(It is seem proper)Gospel According to Hebrems Codex Sinaticus Contain (1)Letter of Shepherd (2) Letter of Barnabas Codex Alexandrinus First and second Letter of element Roman Catholies Cannon of old Testament Contains following books in addition. (1)Tobit(2)Judith(3)Easter with addition of Chapter 11to 17(4)Makkaboy 1,2(5)Jesus Siraeh Wisdom(7)Brief des Jermias(Baruch) Codex Beza(D)

ٹیکسٹ میں اختلاف

لوقا اور اعمال کا مستودا دوسرے مستودات سے مختلف ہے۔اعمال کی کتاب میں1:10 حصہ زائد ہے۔1562ء میں دستیاب ہوا(بحوالہ النسا ٹیکلو پیڈیا برٹینکا)۔ O.Tکے مختلفText میں اہم اختلافات LXX M.T Ar pach shad lived Thirty five years.Then he became Father to Shelah after Ar pach Shad live four hunderd and three years. (GEN 11:12-13) Ar pach shad lived a hunderd and thirty five years and became Father to Cainan….after… Ar pach shad lived four hunderd thirty years… Abd cainan lived a hunderd and thirty years..and became Father to shelah..and after Cainan lived 330 years and also(LU3.36) (GEN 11:12-13) (1) Omits She..began to raise her voice and Weep (GEN 16:21) Adds Saying From my Father (GEN 19:37) And raising his voice The young child wept (GEN 16:21) (2) (3) Seik Korah(GEN 36:16) نہیں ہے(GEN 36:16). (4) Add=and he said to me I am going to Cohabit with you.(GEN 39:17) (5) مختلفText میں کمی یا زیادتی اور فرق LXX MT (6) After Ephraim adds butt there were sons born to Manasseh, whom his Syrian concubins born to him normily Machir Became Father to Galad.But the son of Ephraim Manasseh’s brother,were Sutalaam and Taam.And the sons of Sutalam were Edem. Omits (GEN 46:20) LXX -1تواریخ 25:3 میں بسعیا اور حسبتیا کے درمیان سمعی کا نام زاید ہے.MTمیں ہی نام نہیں ہے مگر -1تواریخ 25:17 میں موجود ہے۔ (7) QM who come into Egypt were Seventy five.(GEN46:27) Who come into Egypt were seventy. (GEN46:27) (8) And Israel worshiped over the Top of staff.(GEN47:31) At that Israel prostrated himself over the head of the Couch.(GEN47:31) (9) EXD 1:5 Seventy five Sauls EXD 1:5 Seventy Sauls (10) SAM and……. Sons of Israel and their Fathers.(EXD12:40) LXX Add: and their Fathers dewelt in the land of Egypt and in the land of Canon Four hunderd and thirty years long.(Comp GA 3:17) And the dewilling oft he sons of Israel who dewelt in Egypt was four hunderd and thirty years.(EXD12:40) Sam.LXX and Josephs shows that the 430 years are counted from the time Abrahim entered the land of Canon until the Time oft he Israelies went out of Egypt. (11) EX32:28 Txenty Three EX32:28 Fell…..Three Thousend men. (12) Num 3:28 Eight Thousend Three hunderd. Which added tot he sums in Vss 22+34 totals 22,000 as given in vs 39. NUM3:28 Eight Thousand Six hunderd (13) Num 4:3 From Twenty five NUM 4:3 From thorty years old (14) LXXESAM NUM 4:14 Add: And they will take a purple clothe cover the basin and its stand and put upon poles. NUM4:14 Omits (15) NUM 10:6 Add: When you will blow the third signal,then the Camps of those Camping tot he West will pull away.When you will blow a fourth signal then the Camps of those Camping to North will pull away. NUM 10:6 (16) Alexendrine Text NUM16:35 Ends Chapter 16 here NUM 16:35-50 Continude (17) NUM 25:9 Died….Twenty-Three Thousend(Comp1-cor10:8) NUM 25:9 Died… Twenty Four thousend (18) SP GEN 11:32 And…One hunderd Fourty Five GEN11:32 And the dogs of Terah came tob e two hunderd and five (19) GEN 4:8 And Sam Add. Let us go over into the field vg Let us go out door. GEN 4:8 Omits (20) EX 2:22 Add one more son Ader……… EX2:22 She born a son…. Gershom…. (21) DET 33:2 Vg-And with him Thousends of holy ones,in his wright a fiery law. DET33:2 And with him were…my…At his reight hand war.. belonging tot hem.(Holy=Kadesh) (22) Det32:43 Beglade o haven, together with him, and let all the angels of God worship him,B Glade, YouNations,with his people and let all the sons of God strenthen themselves in him(Comp Heb 1:6) DET 32:43 Beglade,You nations with his people. (23) Judg 14:15 Forth Day Judg14:15 Seventh Day (24) Judg 18:30 LXX,UG Mansseh حضرت موسیؑ کی عزت کی وجہ سے منسی میں بدل دیا ہے۔ Judg 18:30 The son of Gershom Moses son. (25) 1-Sam1:24A 3 year old Balls 1-Sam1:24MvG 3 Balls (26) 1-Sam4:1 And it occured in those days that the Philistines began gathering together against israel for battle. 1-Sam4:1 Omits open space (27) 1-Sam5:9 Add:And the people of Gath. Took Counsel together and make themselves seets of skins. 1-Sam5:9 (28) 1-Sam6:1 Add and their land broke out with me. 1-Sam6:1 Omits (29) Judg21:22 You Judg21:22 Us Seventy men among them and Fifty Thousend of men SY=Five Thousend and and Seventy men. Josekhus J.A6 1-4only Seventy and Omits 50,000 Seventy men-Fifty Thousend men vgELXXI-Sam-10:1 Has Jehovah anointed you as a leader over his people,over israel,and you will rule over Jehovah’s people and you will save them out of hand of their enemies round about and this will be the sign to you that Jehovah….. 1-Sam 10:1 Omits 1-Sam11:1 Add=and it cause about approximately a month later in… Chapter2. 1 Sam11:1 Omits 1-Sam14:21 And the slaves Who were Formaley with Philistines. 1-Sam14:21 And the Mebrews 1-Sam14:23 Add:And all the People with Saul were about Ten Thousend men and the Battel was spreed about to every City in the mountainous region of Ephraim. 1-Sam14:23 And Battle uself passed over to Bethoven. 1-Sam14:41 Add:Why it is that you didn’t answer your servent Today?If in me or in Jonathan my son the unrighteousness is so Jehovah.The God of Israel, give clear manifestations and if this you should say, in your people Israel,then give Holiness. 1-Sam14:41 O God of Israel 1-Sam17:55-58 and 1-Sam18:1-6 Omit 1-Sam17:55-58 Add:Now at……and with lutes. 1-Sam18:27 100 Men 1-Sam18:27 200 Men 1-Sam18:28 With David,and all Israel was loving him 1-Sam18:28 With David ..for Michael loved him 1-Sam20:5 Omits 1-Sam20:5 The Third 1-Sam23:13 400Men 1-San23:13 600Men Amended To read Treated the enemies of Jehovah with disrespected (2Sam-12:14) Melchol 2-Sam12:30 فرشتہ کا نام Malcom 2-Sam12:30 Add: And the lookout come near and announced to the King and said.I have seen men from the way to Horonom by the Mountain side (2-Sam13:34) Omits 2-Sam13:34 4 Years 2-Sam15:27 40 Years 2-Sam15:7 Ismaelite 2-Sam17:25 (Comp1-CH2:17) Israelite 2-Sam17:25 Targum/SY Comp6:23 Merab2-Sam21:8 Michal 2-Sam21:8 2-Sam21:14 Add: And those hanged in the sun. 2-Sam21:14 Omit 2-Sam23:8 Three 2-Sam23:8 K.J.V Omits 2-Sam23:17 Shall I drink 2-Sam23:17 میں زیادہ کر دیا ہے N.W.T مگر Omits 2-Sam23:18 Thirty 2-Sam23:18 Omits 2-Sam24:6 Land of Hittits Toword Kadesh. 2-Sam24:6 Land of Tah-Tim-Hod-Shi 2-Sam24:13 Three years of Famine 2-Sam24:13 7Years of Famine 2-Sam23:19 Head of three 2-Sam23:19 Head of thirty 2-Sam14:5 Add:And David made his Choice of deadly plage(15)And it was the days of the wheat harvest 2-Sam24:14 But into the hand of man (but after that Omits) 1-King 4:32 Five Thousand VG/SY1-King4:32 Songs…ThousandFive 1King 6:1 Four hundred and fourty years440 1-King 6:1 Four hundred and eighty years480 1-King 6:8 The enrance of Lowest 1-King 6:8 Middel 1-Ki 7:42 Upon the two pillars upon the top oft he pillars 1-Ki 7:42 N.W.T upon the two pillars M in front of the pillars 1-Ki 10:24 And all the Kings of earth 1-Ki 10:42 And all the people of the earth 1-Ki 10:8 Happy are your wives 1-Ki 10:8 Happy are your men 1-Ki 21:10 You have cursed Cursed was original The text is emended N.W.T 2Ki 8:10 You will positively revive 2Ki 8:10 You will not revive 2Ki 10:24 Three hundred and eighty men 2Ki 10:24 Jehu himself stationed Eighty Men 2-Ki10:16 And he kept 2-Ki10:16 And they Kept 2Ki 24:2,16:6 Sy Emodites 2Ki 24:2,16:6 Syrians 1-Ch11:11 Head of Three 1-Ch 11:11 Head of Thirty VG secong Three SY Thirty LXX, oft he three 2-Ch3:4 SY Tewenty cubits 2-Ch3:4 Neight was a Hundres and twenty 2-Ch 22:2 SY Twent Two Years 2-Ch22:2 VG Fourty two years 2 Ch 36:9 Eighteen Years (Comp 2 Ki24:8) 2-Ch 36:9 VG Eight Years Ezra 5:4 They said to them Esra5:4 We said to them NEH 7:68 Their horses were seven hundred and Thirty –Six thier mules two hundred and fourty five COMP EZR 2:66 NEH 7:68 Some MSS omit this verss NEH 12:17 ایک نام MINIAMINکےبعد کم ہے۔ 8:1 ESTH 1:9,1:1 King Artaxerxes 8:1 ESTH1:9,1:1 King A-hasu-erus Job5:8,6:4 Jehovah Job5:8,6:4 El/Elohah Job19:4 Add:by Saying a Thing that was not necessery and my saying are mistake and not ….. Job 19:4 After=my mistake will lodge omits Job40:24 Continued this Chapter dor 8 more Vss SP Isaac was sacrifice at Moreh near Schechem.(GEN22:2) MT LXX Job 42:17 Job 42:17 Omits Add= And it has been written that he will rise again with those whom Jehovah raises up. This is described from the Syriae book as residing in the land of Austis (UZ), on the border of Idchmea and Arabia. And formerly his name was Jobab. After taking a Arabian wife , he became Father tos on whose name was Enon. But he himself was the son of his Father Zare, a son of the son Esau, but (was the son) og his mother Bosorah, so that he was the Fifth from Abraham and there are the Kings that reigned in Edom, of which Country he also was.The ruler First Balack, the son of Beor, and the name of his City was Dennaba. But after Balack,Jehoab ,the son called Job, but after this one a son , who happened to be Governer out of the Country of Thaimamitis,but after this one one Adad,the son of Barad who cutt off Madian in the plain of Moab, and the name of the City was Gethaim.But the Friends of that come to him (were)Eliphaz,of the son of Esau,King of the Thamanites,Bidad the absolute ruler of Sauchaians,Zophar the King of the Minainas. LXX ST MT نام 230 - 130 Adam 205 - 105 Seth 190 - 90 Enos 170 - 70 Kainan 165 - 65 Malateel 162 62 162 Jared 165 - 65 Henoch 167 67 187 Mathusalam 188 53 182 Lamech 500 - 500 Noha کل عمر = = 930 Adam = = 912 Seth = = 905 Enos = = 910 Kainan = = 895 Malaleel 847 965 Jared = 365 Henoch 720 969 Malhusalam 653 777 Lamech 600 950 Noha مزید صفحہ 172پر دیکھیں MT LXX Job42:16 Job lived ….hundred and fourty eight years. Job42:16 Job lived..hundred and fourty(but LXX omit eight) Eight years. PS 13:6 Omits PS 13:6 Add=And I shall move melody to the name of Jehovah the most highly. PS14:1 After …no Jehovah omits PS 14:1 There is not even one PS 14:3 Omits after not even one PS 14:3 And VG= Add= Their throut is am opened grave, they have used ….. with their Tongues poison of asps is behind their lips .And their mouth is full of Cursing and biller expressions. Their feet are speedyto shed blood.Rain and misry are their ways and they haven’t known the way of peace. There is no fear of God before their eyes. (Comp Rom3:12-18) PS 40:6 Secrifice and offering you did not delight im these ears of mine opend up PS 40:6 Secrifice and offering you didn’t want, but you prepared a body for me (Comp Heb 10:5) No. 151 Add one more Psalams Pr 6:24 Sy=Bad Women Pr 6:24 VG= Maried Womedn EZEK 40:44 East EZEK 40:44 South LXX and VG After Fiery Furnace make (DAN 3:23) Make a long insertions

بائیبل میں بار بار دہرائی جانے والی آیات

2-Sam=PS 18 2-Ki 18:13-20=IS 36:1-38,8 PS 14 and 53 EX 20:17 SP After EX 20:17 Command to build a sane tuary on MT. Gerizim SP, Preserved by sectarian community has about 6000 variants when compared with MT, and it shares about1,600 of these with LXX. DET 27:4 Mount of blessing is MT Ebal DET 27:4 Mount of blessing is MT Gerizim Ex 40:17 Omits 4QEX Ex 40:17 Add from their leaving Egypt Ex 32:10 MT Omits 4QPaleo Ex 32:10 After I will make you a great nation. Add and yehveh was very angry with Aaron se as to be ready to destroy him but , but Moses prayed on behalf of Aaron(als SP) Num 20:13 Omits 4Q Num 20:13 Add Det 3:23-24 (also SP) The LXX of Jermiah difference from MT laking one word in every eigt, or about 2,700 words for t he whole book. Jer 10:6-8 Omitted in LXX & some is omitted in 4QJR. 1 Sam 10:1 LXX Add After has not Yahweh anainted you as commander over his people , over israel? And you shal govern the people of Yahweh and save them from the hand of their enemies round about. And this will be a sign to you the Yahweh has onainted you to be commander over his heritage. 1 Sam 29:10 Add afer with you And go to the people which i pitched for you ,and don’t harbor a hostile Idea in your heart for you are acceptable to me. Jer 25:6-7 Omitts And do not provoke me to anger with the work of your hands the i will do you noharm. LXX 1 Sam 17:32 MT Heart of my lord. Heart of man Jer 11:7-8 LXX Omitts folowing verses For i solemnly warnd your Fathers when i brought them out of the land of Egypt, warning them persisently, even to this day , saying, obey my voice yet, they didn’t obey or incline their ear, but every one walked in the stubbornness of his evil heart. Therefore i brought upon them all the words of this convenant ,which i command them to do , but they didn’t. 2-Sam 11:22-23 LXX Add: after Joab had instructed him all the words of war, And David was angry with Joab.And he said to the messener, why did you know that you would be struck down from the wall? Who killed Abimelch, son of Jerubballe. Did not a woman throw on him an upper millstone from the wall and he died in thebes. Why did you come near the wall. Jer LXX Omitts the following With lord of hosts, that the vessels which are left in the house of Yahweh in the house of the King of Judah and in Jerusalem may go to Baby lon. For thus says Yahweh of hosts concerning the billars, the sea, the stands and the rest of vessels which are left in the City, which Nebuchadnezzar……(and after Jeconiah) The son of Jehoia Kim King of Judah, and all the nobel of Juda and Jerusalem-this says Yahweh of hosts , the God of israel, concerning the vessels which are left in the house of Yahweh in the house of King of Judah, and Jerusalem …………..renaim there until thay day when I give attention tot hem says Yahweh then i will bring them back and restore them to this place. Jer 33:14-26 Is omitted by LXX Choronolgy LXX King of Judah Regnal Years Synchronism Jehoshafhat 25 Lithofomeri L Ki 16:28 Jehoram 11 2nd of Ahaziah 2 Ki 8:16 Ahaziah 1 11th of Joram 2K8:25 King of Israel Omri 12 31st of Asa 1 Ki 16:23 Ahab 22 2nd of Jehoshaplat 1Ki16:29 Joram 12 2nd of Jehoram 2Ki1:18 Contemporaries, but LXX makes omri third Contempararies while MT gives that distinetion to Joram. Choronology MT King of Judah Regnal Years Synchronism Jehoshaphat 25 4th of Ahab 1-Ki 22:41 Jehorom 8 5th of Joram 2-Ki8:16 Ahaziah 1 12th of Joram 2-Ki8:25 King of Israel Omri 12 27th of Asa 1-Ki16:15-16:23 Ahab 22 38th of Asa 1-Ki 16:29 Ahaziah 2 17th of Jehoshaphat 1=Ki22:52 Joram 12 18th of Jehoshaphat 2-Ki 3:1 Most significant difference between these two choronology is the alternative list of three Contemporaries produced for Jehoshplat. According to MT, Ahab,Ahaziah and Jeram ruled in Jehoshaphat’s days in Israel in the LXX the Contemporary N Kings were Omri, Ahab and Ahaziah both agree that Ahab and Ahaziah were Jehoshaphats. GEN4:6:7Tg Lord said to cain….surely. If you will improve your deeds.You will be forgiven; but if you will not improve your deeds(your) sin will be kept for the day of Judgement when punishment will be exacted of you, if you will not repent, but if you will repent, you will be forgiven. GEN5:24Tg And Enoch Walked….then he was no more for the Lord had caused him to die. 2-John II Vg Add Look i have told you before hand so that you may not be confused in the day of the Lord. Rom 8:35 ACDIT Vg Sy Love of Christ N Love of God B God that is in Christ Jesus. ‘‘Origen‘‘ Origen brings against the Jews a charge that the Jews Falsily and mutilate the Seripures 1 He is convinced that there is a want of agreement between the old and new copies of the Jewish Bible and that much which exhibited a christian Tendency in the former, has been disfigured in the latler.2 2(In MT com acr§28 Xiii1630 M)1(HOM in Jerem XVI 10 VIII 451 M) ‘‘Jerome‘‘ Jerome thought that most Copies of the Scriptures that were in Circulation were untrust worthy again Jerome(Pracf- in Gen(IX=6)) very frequently write in his writings that the Jewsinsist that the Cristian copies of the Bible were erroneows. Justin Jewish blamed to Christians that they usually read into the Bible more than it contained Moreover their copies were often incorret and also Christians blamed that the Jews had falsified and multilated that text for Polemical purposes. ‘‘Justin accuses the Jews of altering in is VII 14 in order to nullify a Christological argument‘‘ (Dialogue-C68(VI633M) He qoutes many passages which he alleges, are only to be found in the old Texts, but have been omitted from the new editions. (The Jewish Quarterly Review January1894)(Dialogue C72(VI645 on Jerem XI 19)Page,129,141,145 SP MT EX 20:18 EX20:18 And all the people heard All the people saw the the voices Thunderings……….. GEN 3:15 Tg Add After I will put enmity….And i will come about that when her sons observe.The la wand do the commandment they will aim and at you and smite you on (your head and) kill you.But when they for sake the Commandment of the law(you will aim and) bite him and make him ill.For her sons however there will be remdy but for you o serpent thse will be no remedy.Since they are to make appearment in the end in thay day of King Messiah. ترجوم میں زائد عبارات PS.Jonathan Tg پیدائش9:22 حضرت ابراہیمؑ کے عبادت گاہ بنانے کا ذکر وہ فرمان گاہ جوآدم۔نوح نے نیالی اور ان کے بیٹے نے پتھر پکڑاتے پیدائش 2:22(instead of Moriah) get into the land of Worship. پیدائش14:8:2ان سے نکلنے والے دریاؤں کا ذکر پیدائش15:2 آدم کو ضیت میں کام کرنے اور احکام خدا وند پر عمل کرنے کے لیے رکھا پیدائش14:3 شیطان کو معلون قرار دینے ۔۔۔۔۔۔ پیدائش20:3۔23 زائید عبارت پیدائش8:4 ۔۔۔۔۔۔اور بائیبل کا سکالم زائد ہے۔ In his Comment on MT 15:14 The loving one’s neghbour as one self in MT 19:19 does not fit into the context of the story.He assumed that it was added to the text this passage also omitted in Parallel MT 10,19 and LU 18:20 Gospal Hebrews (Mathew) If somebody accepts the Gospal according to the Heb, where the Savior himself sys. A moment ago my mother the Holy spirit took me by one of my hairs and brought to the great hill , the To bor. Origen Comment in Johannen 2:12 DET 32:6 LXX And let him be great in number. Vg And let him be small in number. (دونوں بالکل متضاد بیانات ہیں)

نیا عہد نامہ کے حوالے جو MT میں موجود نہیں ہیں

MT 27:9-10 Spoken by Jermiahthe prophet saying They took the thirty pieces of silver. The price of him that was valued….and gave them for the potter’s field, as the Lord appointed me. These words are not found in Jermiah but in ZECH 11:12-13 but not as propheey. MT 3:13-15 یہووا والوں نے ترجمہ میں تبدیلی کردی ہے۔ یہاں متی یسوع کے بپتسمہ لینے کے بارے میں کسی پیشگوئی کا ذکر کرتا ہے جو کہیں پرانا عہد نامہ میں موجود نہیں ہے۔ MT 23:35 برکیاہ کے بیٹے زکریا جسے تم نے مقدس اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔ زکریا بن یو یدع کے قتل کا واقعہ 2ـتواریخ 24:20،24:21 میں ملتا ہے مگر ذکریا بن برکیاہ کا کہیں نہیں ملتا۔ MAKT 1:2:3 It is written in ISAIAH the prophet. I well send my messenger ahead of you who will prepare your way not be found in ISAIAH but in Malachi 3:1 K.J.V omits ISAIAH. MARK2:25:26 In a days of Abiathar the high priest he (David) entered the house of God and ate the consecrated bread. According to 1-Sam 22:20,21:1-4 and 1-Chr 24:1-4. The high price at that time was A-him-eleech not Abiathar. LUKE 20:18 That is written Whosoever shall fall upon that stone shall be broken; but on whomsoever it shall fall, it will grind him to powder. ‘‘Nowhere is to be found“ LUKE 24:46-47 And said unto them, Thus it is written, and thus it behoved Christ to suffer, and to rise from the dead the third day: And that repentance and remission of sins should be preached in his name among all nations, beginning at Jerusalem. Acts 20:35 Jesus said I have shewed you all things, how that so labouring ye ought to support the weak, and to remember the words of the Lord Jesus, how he said, It is more blessed to give than to receive. 1-Cor14:37 Commandment of Lord Let your women. Keep silence in the churches for it is not permitted into them to speak. 1-Cor 15:3 Christ was rose again…and he was seen of the Twelve. When he rose their were only eleven. MT 5:43 You have heard Thou shalt …. hate thine enemy. جوبلی میں ہے 46:9-10 میں نہیں ہےAct 7:15 O.T Acts 13:41 Spoken by Prophets LXX(Hab 1:5) ‘‘Behold ye despiser ‘‘ Acts 26:22-23 Prophet and Moses said…… That Christ should suffer, and that he should be the first that should rise from the dead, and should shew light unto the people, and to the Gentiles. Rom 9:52 Ho soa says Those not my people i will call my people and her who was not beloved. Rom 11:26 It is written The deliverer will come out of Zion and turn away ungodly practices from Jacob and this is the convent on my part with them when I take their sins away (PS 14:7/ISA59:20 LXX) Act 8:28 Acts 8:32-33 Written in Isariah During his humilation the judgment was taken away from him. Who will tell the detail of his generation? Because his life is taken away from the earth (ISA 53:7-9). بہت مختلف ہے۔ Act 7:42-43 It is written in the book of Prophets ‘‘Oh house of Israel….But it was the tent of Molch and the star of the God Rephan that you took up the figures which you made to worship them Consequently I will deport you beyond. Bablon: (Comp:Amos5:25-27)LXX تحریف کی عمدہ مثال ہے۔ Rom 15:12 Isaiah says ……and there will be one arising to rule nations on him nations will rest their hope (Comp Isaiah 11:1,10) 1-Cor2:9 It is written ‘‘ Eye has not seen and ever has not heard neither have there been concieved in the heart of man. The things that God has prepared for those who love him. (Comp Isaiah64:4). خدا کے متعلق ہے۔ 1-Cor 15:3-4 According to the seriptures ‘‘ Christ died for our sins…..and that he was buried…he has been raised up the third day according to the scriptures. کتاب مقدس سے مراد پرانا عہد نامہ ہے مگر وہاں الہی کوئی پیشگوئی نہیں ہے۔ Heb 1:6 But when he again brings his first born into the inhabited earth he says: And let all God’s angels do worship to him. (LXX Det 32-43) (PS96-7LXX) Heb 1:8 But with references to the son (says) God is your throne forever and ever (Comp Ps 45:7) but also Comp (Ps 45:3, 4,5)یہ علامات یسوع میں نہیں پائی جاتیں۔ Heb2:12 He says I will declare your name to my brothers, in the middle of Congregation I will prais you with song. صلیب سے بچایا (Comp/PS also22:21) Heb 9:19-22 He took the blood…..and sprinkled the book. (Comp Ex 24:3,Ex 24:8/Nu 19:6) کتاب پر چھڑکنے کا ذکر نہیں ہے۔ Heb 11:21 Jacob….worship learning upon the top of staff. (Comp Gen 48:20,47:31) Heb 11:35 Women recieved their dead by resurrection but othesr were tortured because they would not accept release by some ransom, in order that they might attain a better resurrection. Heb 11:37 They were stoned, they were sawn asunder, were tempted, were slain with the sword: they wandered about in sheepskins and goatskins; being destitute, afflicted, tormented Jude:4and 2-Pet 2:4 God did not hold back from punishing the angels that sinned but by throwing them into Tartarus delivered them to pits of dense darkness to be reserved for judgement. Jude 9 Michael the archangel had a difference with the Devil and was disputing about Moses body. Jude 14 Enoch prophesied als regarding Them….Jehovah come with his holy Myriads. Heb11:24 By faith Moses…refused to be called the son of the daughter of Pharaoh. 3-Joh 1:12 Demetrius has had witness born to him by them all and by the train itself. انجیل یوحنا John 7:8بعض قدیم ترین مسودات میںYET کے لفظ نہیں ہیں۔یہ لفظ بعد میں اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ اس لفظ کے بغیر یسوع کا جھوٹ بولنا ثابت ہے۔ اعمال 16-15=7 یعقوب مصر میں گیا وہاں وہ اور ہمارے باپ دادا مر گئے اور وہ شہر جوبلی 46:9,46:10شکم میں پہنچائے گئے اور اس مقبرہ میں دفن ہوئے جسکو ابراحام نے ۔۔میں روپیہ دیگر نبی حمور سے مول لیا۔

عہد نامہ جدید(NT) کے مختلف مسودات میں فرق

MT 12:46-47 K.J.V …..his mother and his brethrem stood without desiring to speak with him. A.T his brother and his Mothers…..stood outside….wanting to speak to him. MT19:17 K.J.V And he said …why callest me thou good. A.T Why do you ask me about what is good. MT 20:16 K.J.V Add: for many be called but few chosen. A.T Omits these word after who are first will be last. MT 24:36 K.J.V Omits nor the son A.T Adds: nor the son. انجیل متی میں کے وہ الفاظ اور آیات جو بعض مسودات میں نہیں ہیں 21:31 in some first but in some is last 5:22=The word‘‘without a cause“ is not found in best ancient manuscripts. 6:13= The dexology at the end of the Lord’s prayer does not appear in the best ancient G M (Aleph, B, D, Z) and the old Latin and Vg-it is liturgical addition evidently based on 1Chr 29:11 12:47: not present in most ancient G M. It has crept into the text from MARK 3:2 16:2,3=The saying about the sign of the times is not found in OGM or in the best versions. 17:21=not found in OGM crept into Text from MARK9:29 18:11=not found in OGM crept from Luke 19:10 24:36 omits Nor the son جو کچھ نبیوں نے کہاں پورا ہؤا کے الفاظ زائد ہیں۔بعض میں نہیں ہے۔ انجیل مرقس 1:1=“The son of God“These words are not present in some G.M and in early Christian citations added for MARK 15:39. 6:20= ‘‘He did many things‘‘ but the best A.M read‘‘ He was very much disturbed‘‘. 6:33=“Come together into him“ The best A.M read“Got a head of them“ 9:49=“And every sacrifice shall be salted with salt“These words are not in O.G.M crept into the text from LEV 2:13 10:24=“For them that trust in riches“not present in O.G.M 14:51=“The young Men“ not present in O.G.M 14:68=“And the Cock crew“ not in O.G.M 14:30=in some O.G.M word Twice بعض میں جو لکھا تھا پورا کہ وہ گناہ گاروں میں گنا ہ کےا لفاظ زائد ہیں۔15=27-28= انجیل لوقا 4:8=“Get behind me , Satan=not present in O E Best G.M crept into from MT 4:10E16:23 4:44=“Galilee“ The BE.O.M read“Juda“ 6:1=on the second sabbath after the first=The G word translate“second after the first“ is not persent in O.G.M 9:55=“and said, ye know not what manner of spirit ye are of“ These words are not present in OEB G.M 9:56=“For the son of man is not come to destroy men’s lives, but to save them“ These words are not present in most of OEB.G.M including all the oldest and best. 17:36=Verse is not present in O.G.M 22:43-44= Verse is not present in O.G.M 22:19,20=Which is given for you……which is shed for you not present in codex of Beza and other western witness-crept into from 1 Cor-11:24-25. “انجیل لوقا“ 22:68=“nor let me go“ not present 23:34=not present in OEB.G.M 23:38=not present“letter of in G.L and Hl. brew“ 24:6=not present in the Codex of Beza and W.W the word“He is not here, but is risen“ 24:12=Verse is not in Codex of Beza EWA 24:36=not in Codex of Beza and W-W 24:40= not in Codex of Beza and W-W 24:51=“and carried up into heaven= word are not present in Codex Beza and Codex Sinaitic M the Sinaitic Syriac and a number of early Latin witness. 24:52=“and they worshipped him“ Words are not present in Codex Beza and number of Latin witnesses. خدا کے کلام میں کچھ نہ بڑھانے اور گھٹانے کا حکم استشناء4:2،12،32،امثال30:6،مکا شفہ22:18،22:19 بعض میں 13:1 10:45 MARK کیا یہ کتاب اضافی ہے:پھر ایک اور کتاب کھولی گئی کتاب حیاتـنیز اور کتابیں کھولی گئیں۔مکاشفہ 20:11،20:15

نئے عہد نامہ (NT) میں اختلافات

واقعہ صلیب کے بیان میں اختلاف 1)تین دن کے بعد جی اٹھے گا=مرقس10:34،8:31،10:33 تیسرے دن زندہ کیا جائیگا=متی17:22،17:23 2)اس پروہ بہت غمگین ہوئے=متی 17:22،17:23 لیکن وہ اس بات کو سمجھتے نہ تھے=مرقس9:32،9:32 ان باتوں کا مطلب ان کی سمجھ میں نہ آیا=لوقا18:31تا18:34 3)شیطان یہودا میں پہلے ہی سمایا ہوا تھا=لوقا22:6 نوالہ لینے کے بعد شیطان یہودا میں سما گیا=یوحنا13:26 4)اس رات مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو(پطرس) تین بار میرا انکار کرے گا=متی26:34،26:35،لوقا22:34،22:6 آج اسی رات مرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تین بار میرا انکار کریگا=مرقس 14:30 صرف ایک بار ہی مرغ نے بانگ دی تھی کہ پطرس نے تین بار انکار کر دیا اور لعنت کی اور تیسری بار انکار کرنے کے بعد مرغ نے دوسری با ر بانگ دی =مرقس14:66تا14:72 مگر متی کے مطابق پطرس کے تین دفعہ انکار کرنے اور لعنت کرنے کے بعد مرغ نے پہلی دفعہ بانگ دی=متی 26:69،26:75 5)یہودا اسکر یوطی نے بوسہ دے کر یسوع کی نشاندھی کی متی26:47،50،مرقس 14:43،47،لوقا 22:47،48 یسوع نے خود اپنی نشاندھی کی=یوحنا 18:2،12 6)یسوع نے پیلا طوس کے کسی سوال کا جواب نہ دیا متی 26:13،14،مرقس 14:4،5 یسوع نے پیلا طوس کے بعض سوالوں کا مفصل جواب دیا=یوحنا 17:10،11 7)صلیب دیے جانے کا وقت اس کی تعاری کا دن اور چھٹے گھنٹے کے قریب تھا=یوحنا19:14 یعنی چھٹے گھنٹے کے قریب ابھی پیلا طوس کی عدالت میں تھا ۔ پیر دن چڑھا تھا جب انہوں نے اسکو صلیب دیا=مرقس 15:25 Third hour ہے کہ یہاں واضع اختلاف ہے۔اس کے متعلق یہودا والوں نے اقرار کیا۔ 8)دونوں چوروں نے لعن طعن کی=مرقس 15:32 صرف ایک نے لعن طعن کی =لوقا 23:39،43 واقعا ت صلیب میں اختلاف 9) ‘‘میں کیا ملا تھا’’ پت ملی ہوئی ہے اسے پینے کو دی =متی27:34 مر ملی ہوئی ہے اسے دی=مرقس15:23 10) ‘‘چوغہ کا رنگ’’ ارغوانی رنگ کا چوغہ پہنایا=مرقس15:17 قرمری(رنگ)کا چوغہ پہنایا=متی27:28 11) ‘‘فرشتوں کی تعداد’’ ایک جوان سفید جامہ پہنے ہوئے بیٹھا تھا=مرقس 16:1،5 دو شخص براق پوشاک پہنے کھڑے تھے =لوقا24:2،4شخص یا فرشتے دو فرشتوں کو دیکھا=یوحنا 20:12 12) ‘‘آخری الفاظ’’ زبور 22:1 ایلی۔ایلی لما شبقتنی =متی27:46،50(عبرانی) الوہی ۔الوہی لما شبقتنی ۔مرقس 15:34،36آرامی زبور31:5 اے باپ میں اپنی روح تیرے ہاتھوں سونپتا ہوں=لوقا 23:46 میں پیاسا ہوں=سرکہ پیا اور جان دے دی=یوحنا 19:28،30 13)

نئے عہد نامہ میں غیر تاریخی و اوقات

قیدی کو چھورنے کا دستور= حاکم کا دستور تھا=متی27:15،مرقس15:6،لوقا23:17 (نوٹ)لوقا 23:17بعض یونانی مسودات میں نہیں ہے حاکم نے کہا تمہارا دستور ہے=یوحنا 18:29 مگر تاریخی طور پر یہ ایسا کوئی دستورثابت نہیں ہے نہ ہی یہودیوں کا اور نہ ہی رومی حکومت کا Insight on the Scriptures 1 under word “Barbaras“ by W.B ET S-NY Edd 1988 Page 251 14) ‘‘ زلزلہ اور مردوں کا زندہ ہونا’’ زمین لرزگئی=چٹا نیں تڑک گئیں۔قبریں کھل گئیں۔مردے زندہ ہو گئے زندہ ہو کر مقدس شہر میں گئے۔بتوں کا دکھائی دئے بھونچال آیا=متی27:51،54 ایسے کسی زلزلہ یا مردوں کے زندہ ہونے کا واقعہ کا ذکر تاریخ میں نہیں ملتا۔ 15)جتنے اس وبا سے مرے انکاشمار چوبیس ہزار تھا=گنتی 25:9 ایک ہی دن میں تئیس ہزار 23000 مارے گئے= 1- کر نتھیوں 10:8

اعدادوشمار کے اختلافات

1)اسرائیل میں آٹھ لاکھ۔۔۔یہودا کے پانچ لاکھ= 2-Sam 24:9 اسرائیل گیارہ لاکھ یہودا 4 لاکھ ستر ہزار= 1- Chr21:5 2) سات برس قحط یا تین ماہ دشمن سے بھاگنا یا تین دن مری24:13 2-Sam تین برس قحط۔۔ ۔ 1 Chr- 21:12 3)تین ہزار تین سو منصبداراسی ہزار درخت کاٹنے والے = Ki-1 5:16-15 اسی ہزار پتھر کاٹنےوالے تین ہزار چھ سو نگران= 2:2 Chr-2 (5:16 Ki-1 =3600 LXX) 4) یعقوب کے ساتھ 70افراد مصر گئے= GEN46:27،DET10:22 75 افراد مصر گئے=Act7:14 5)یہویا کیں 18 برس کا تھا =24:8Ki-2 یہویا کیں8برس کا تھا=1- تواریخ 7:26 6)تین ہزار بت کی سمائی تھی =4:5Chr 2 دو ہزار بت کی سمائی تھی=7:26Ki-1 LXXمیں7:26Ki-1بت ہی نہیں ہے۔ 8) کسی نےسات بیٹوں کوسیموئیل کے سامنے نکالا(بسی نے کہا)سب سے چھوٹا ابھی رہ گیا ہے(یعنی کل 8بیٹے ہیں)16:10-11Sam-1 کسی سے اسکا پلوٹھا الیابابنداب سمع³۔نتنی ایل ۔روی،عوھم،داؤد ساتواں=-1تواریخ2:13-15 9)یورام بتیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا اس نے آٹھ برس سلطنت کی (کل عمر 40سال)=-2تواریخ20 : -19-21 (یورام کی وفات کے فوراً بعد)اسکا بیٹا اخنریا۔۔۔بادشاہ بنا وہ بیالیس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا۔ ‘‘باپ سے بیٹا عمر میں بڑا ’’ -2تواریخ 22:1-2 10)یرلعل یعنیجدغون کے ستر بیٹے تھے=قضاۃ8:30 یر لعل کے ستر بیٹے قتل ہوئےمگر چھوٹا بیٹا بونام بچا رہا=9:5 ایک میں تعداد70دوسرے میں 71بیان ہوئی۔ کتاب عزراباب2 نحمیاہ باب7 ‘‘اسیری بائیبل سے آنےوالوں کی تعداد’’ 1) بنی ارخ775=عزرا2:8 بنی ارخ652=نحمیاہ7:10 2) بنی رتو945=عزرا 2:8 بنی رتو845=7:13 3) بنی بخت جواب جو یشوع اور یورب کی اولادتھے2812=عزرا2:6 بنی بخت جواب جو یشوع اور یورب کی اولاد تھے2818=نحمیاہ7:11 4) بنی ببی 623=عزرا2:11 بنی ببی 628=نحمیاہ7:16 5) بنی بانی 642=آیت10 بنی648=آیت15 6) بنی عزجاد1222=آیت 12 بنی عزجاد2322=آیت 17 7) بنی ادو نقام 666=آیت 13 بنی ادو نقام668=آیت18 8) بنی بگوی 2056=آیت 14 بنی بگوی2068=آیت19 9) بنی عدین454=آیت15 بنی عدین655=آیت20 10) بنی بضی323=آیت17 بنی بضی324=آیت 23 11) بنی حاشوم223=آیت19 بنی حاشوم328=آیت22 12) بیت لحم123+اہل نطوفہ56 کل179=آیت22،21 بیت لحم اوراہل نطوفہ188=آیت36 13) بیعت اہل اور عی223=28 123=آیت32 14) بنی ستاآہ3630=آیت35 3930=آیت38 15) لود،حادید،،اونو725=آیت33 721=آیت37 16) بنی آسف 128=آیت41 148=آیت44 17) بنی دلایاہ،طوبیاہ،نقود652=آیت60 642=آیت62 18) گانے والے200=آیت65 245گانے والے=آیت67 19) دربانوں کی نسل139=آیت42 138=آیت45 20) کل تعداد42360=عزرا2:64 کل تعداد42360=نحمیاہ7:66 21)سرداروں نے دیا سونے کے 61000درہم،چاندی کے 5 ہزار منہ اور کانوں کے 100 پیرائین=عزرا2:69 سرداروں نے دیا سونے کے بیس ہزار درہم چاندی کے دو ہزار دو سو چاندی کے منہ=نحمیاہ7:71-72 عزرا نے کل تعداد42360تبائی ہے مگر حاصل جمع21818ہے۔ نحمیاہ نے کل تعداد42360تبائی ہے مگر حاصل جمع31079ہے۔ مگر یوسفین نے تعداد42462دی ہےANT Book11 Chap. 1 22) 120ہاتھ اونچائی=3:4Chr-2 اونچائی30ہاتھ=6:2Ki-1 23) 24ہزارمارے گئے=25:9NU 23ہزارمارے گئے=-1کرنتھون10:8 (LXX23ہزارمارےگئے) 24)پیدائش46:15میں افراد کی تعداد33دی گئ ہےمگر گنتی کرنے پرحاصل جمع34بنتاہے۔ 25)1ـتواریخ میں تعداد6دی ہے مگر 5ہے=1ـتواریخ3:22 26)تعدادگاؤں29دی ہے مگر37ہے=یشوع15:21-32 27)تعداد گاؤں14دی ہے مگر 16ہے=یشوع15:33-36

عہد نامہ قدیم (OT) میں اختلافات

خیمہ اجتماع ہر کام کرنے والوں کی عمر20 سے50سال گنتی=4:1-2 25سے50سال گنتی8:23-24 20برس اور اس سے اوپر والے گنے گئے=1ـتواریخ23:24 30برس اور اس سے اوپر والے گنے گئے=1ـتواریخ23:1-3 ‘‘لا وی کے پلوٹوں کی تعداد’’ جیر سونی7500گنتی3:22 قہائی8600گنتی3:28 مرادی6200گنتی3:34 کل تعداد22300 مگر گنتی3:39میں کل تعداد22000لکھی ہے۔ پھر لکھا ہے بنی اسرائیل کے پلوٹوں کی تعداد22273تھی=گنتی3:43 اس طرح بنی اسرائیل273لاویوں سے زیادہ تھے=گنتی3:46 ‘‘بنی اسرائیل کی تعداد’’ 20سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد63550=خروج38:26 نیم مشقال فی آدمی کے حساب ہدیہ کی مشقال1775عدد خروج38:26 حالانکہ اشقال کی تعداد 1:2 مشقال کے حساب سے 317750ہونا چاہیے ‘‘اختلافات’’ ساؤل کی بیٹی میکل بے اولاد تھی=6:23Sam-2 میکل کے عدری ایل سے 5بیٹے تھے=21:8Sam-2 میکل فلطی ایل کے بیٹے لیس کی بیوی تھی=3:15Sam-2 میکل برزلی محولا کے بیٹے عدری ایل کی بیوی تھی=21:8Sam-2 صدقیاہ یہویا کین کا بھائی تھا=3:16,36:9-10Chr-2 صدقیاہ یہویا کین کا چچا تھا=24:17Ki-2 ابراھام،اسحٰق،یعقوب خدا کانام یہواہ جانتے تھے۔پیدائش=22:14،پیدائش4:26 ابراہیم۔اسحٰق۔یعقوب پر خدا نے اپنا نام یہواہ ظاہر نہیں کیا تھا=خروج6:2-3 Anchor Dictionary of Bible کے مطابق یہاں لفظ اصل میں ایلوہیم تھا۔ جسکو بعد میں‘‘Jehovah’’میں بدل دیا گیا ہے۔ دیکھیں زیر لفظ‘‘Moriah ’’((Page905 پہلے انسان پیدا کیا گیا تھا=پیدائش 2:19 پہلے جانور اور پرندے پیدا کیے گئے=پیدائش1:24-26 انسان خدا کو نہیں دیکھ سکتے=خروج33:20TIM-16:16یوحنا=5:37 یعقوب نے خدا سے کشتی کی،روبرو دیکھا=پیدائش32:28،پیدائش32:30 موسیٰ نے روبرو باتیں کیں اور خدا وند کو دیکھا=گنتی12:8 معکہ بنت ابی سلوم آساکی ماں تھی=15:9-11Ki-1 معکہ بنت ابی سلوم ابیام کی ماں تھی=15:1-2Ki-1 یعقوب کے تمام(12)بیٹے فدان ارم میں پیدا ہوئے=پیدائش35:26 افرات اور بیت اہل لے درمیان(کنعان) میں پیدا ہوئے=پیدائش35:16-19 ‘‘حز قیاہ بے گناہ اور بے مثال تھا’’ حز قیاہ نے وہی کیا جو خداوند کی نظر میں بھلا تھا خدا پر توکل کرتا تھا ایسا کہ اس کے بعد یہوداہ کے سب بادشاہوں میں اسکی مانند ایک نہ ہوانہ اس سے پہلے کوئی ہوا خدا وند سے لپٹا رہا۔حکموں کو مانا=18:1-8Ki-2 ‘‘یوسیاہ بے گناہ اور بے مثال تھا’’ یوسیاہ نے شریعت میں لکھی ہوئی باتوں کو پورا کیا۔اس سے پہلے کوئی بادشاہ اسکی مانند نہیں ہؤا نہ اس کے بعد ہؤا جو اپنے سارے دل جان اور زور سے موسیٰ کی ساری شریعت پر عمل کرنے والا ہو=23:24-28Ki-2 ‘‘شفا پائے گا۔نہیں پائے گا’’ بن ہدد ضرور شفا پائے گا خدا وند نے بتایا کہ وہ مر جائیگا= 8:9-10Ki-2 ,8:14-15Ki-2 سمعی بن جیرا ساؤل یعنی(بنیمٰین)کے گھرانے سے تھا16:7 Sam-2 سمعی بن جیرا یوسف کے گھرانے سے تھا=19:18 Sam-2 داؤد کے بیٹے کا ہن تھے=8:18 Sam-2 داؤد کے بیٹے بادشاہ کے مصائب تھے=18:17 Chr-1 (نوٹ)‘‘یاد رہے کہ کا ہن سوائے بنی ۔۔۔۔۔۔ کے نہیں ہو سکتے’’ ابراہیم اور نحور کا باپ تارح دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے تھے=یشوع24:2 ابراھام۔نحور اور تارح کا خدا ایک ہی تھا=پیدائش31:53 مواب ،ادوم کے بادشاہ نے بنی اسرائیل کو گزرنے نہ دیا=قضاۃگنتی 11:17-18/20:14,18,21 ادوم اور مواب کے بادشاہ نے بنی اسرائیل کو گذرنے دیا=استشناء2:29 بلق بن صفورا بنی اسرائیل سے کبھی نہیں لڑا=قضاۃ11:25 بلق بن صفورا اسرائیلوں سے لڑا=یشوع24:9 بلعام بن بعور نجومی تھا=یشوع13:22 بلعام بن بعور خدا کا نبی تھا=گنتی24:15,24:4,22:12,20,35,38 موازنہ نبی کی تعریف گنتی 12:6بلعام کی پیشگوئی گنتی باب23،باب24 غیب کا علم صرف خدا کو ہے=استثناء29:29 لونڈی کو بھی غیب کی خبردی=اعمال16:16-18 عورت کو غیب کا علم تھا=28:8-15Sam-1 آسانے اور نچےمقام گرا دئیے=-2تواریخ14:3 آسانے اور نچے مقام نہ گرائے=-1سلاطین15:4 آسا کی سلطنت کے 32سال تک کوئی جنگ نہ ہوئی-2 تواریخ15:9 آسا اور بعشا میں عمر بھر جنگ رہی=-1سلاطین15:16 حیرام نفشانی قبیلہ سے تھا=-1سلاطین7:13 جاں نفشانی باپ صور کا باشندہ= ماں دان کے قبیلہ سے تھی=2-تواریخ2:14 سلیمان نے حوارام کو بیس شہر دیئے=9:10-13Ki-1 حوارام نے سلیمان کو شہر دئے=-2تواریخ8:1-2 مصری سمندر کے کنارے پڑے تھے=خروج14:30-31 مصری سمندر کی تہ میں چلے گئے۔پانی نے انہیں چھپا لیا وہ سیسہ کی طرح ڈوب گئے=خروج15:4-5 مدیانی عورت سے شادی پر کوئی سزا نہیں موسیٰ کی بیوی مدیانی تھی=خروج1:16-21 مدیانی عورت سے تعلق پیدا کرنے پر سزا=گنتی25:6-9 (سزا دینے کو وجہ مدیانی قوم کا بت پرست ہونا تھا) خدا کا حکم تھا کہ نبی عیسو(ادوم)کے علاقہ سے نہ گزریں اسلئے بنی اسرائیل کترا کر گزرے=استثناء2:1-8 بنی عیسو نے بنی اسرائیل کی خواہش کے باوجود گذرنے نہ دیا اسلئے کترا کر جانا پڑا=گنتی20:14-21 ستائے جانے پر ہجرت نہ کرو=واعظ10:4 ستائے جانے پر ہجرت کر جاؤ=متی10:22 بغیر خون بہائے گناہ معاف نہیں ہو سکتے=عبرانیوں9:22 دعا سے گناہوں کی معافی=یعقوب5:15،8:27-30Ki-1 بخور جلانے سے معافی=گنتی16:46-49 شفاعت سے معافی=گنتی11:1-3,12:13-15,14:18-20 رجوع اور توبہ سے معافی=-2تواریخ6:25-39 توبہ اور رجوع اور ترک گناہ سے معافی=لیعیاہ55:6-7نیکی۔انصاف کرنے۔سچائی کا طالب ہونے پر معافی یرمیاہ5:1 دوسروں کے قصور معاف کرنے سے معافی=متی6:14 دعا سے معافی=متی6:12 اگر تم قصور نہ معاف کرو گے تو خدا بھی معاف نہیں کر یگا=متی6:15 مسیح کو گناہ معاف کرنے کا اختیار=متی9:5-6،مرقس2:9 توبہ کرنے والے کو معاف کرنے کی تعلیم=لوقا17:3 حواریوں کو گناہ بخشے کا اختیار=یوحنا20:23 عماسا کا باپ اسرائیل تھا=17:25Sam-2 عما سا کا باپ اسمٰعیل تھا=1- تواریخ2:17 ‘‘عیسو کی بیویوں کے نام’’ بیری حتی کی بیٹی یہود تھی=پیدائش26:34 ایلون حتی کی بیٹی بشا حتی ایلون کی بیٹی عدہ=پیدائش36:1-2 حوی صبون کی نواسی عنہ کی بیٹی ابلیبامہ اسمعٰیل کی بیٹی اور نیا بوت کی بین بشامہ محولاتی عدری ایل کی بیوی میرب تھی=18:19Sam-1 عدری ایل کی بیوی مئیکل تھی=21:8Sam-2 (دونوں ساؤل کی بیٹیاں تھیں)نیز3:14-15Sam-2 سیالتی ایل نیری کا بیٹا=لوقا3:27 متی1:12سیالتی ایل یکو نیا کا بیٹا=-1تواریخ3:17 زربابل کا بیٹا رلیا=لوقا3:27 زربال کے بیٹے -1تواریخ3:19-20سلام۔حنانیاہ۔حسوبہ۔اہل۔برکیاہ۔حسدیہ۔یوسجد زربال کا بیٹا ابیہود=متی1:13 زربال کے بعد دس پشت کا نسب نامہ=-1تواریخ3:19-24 ‘‘زربا بل کے بیٹے’’ مسلام۔حنانیاہ۔حسوبہ۔اہل۔برکیاہ۔حسدیا۔یوسجد حنانیاہ کے بیٹے فلطیاہ۔یسمیاہ۔بنی رفایا۔بنی ارنان۔بنی عیدیاہ۔بنی سکنیاہ سکنیاہ کا بیٹا بنی سمعیاہ حطوش۔اجال۔بریح۔نعریاہ۔سافط(چھ) نعریا کے بیٹے الیو عینی۔حنر قیاہ۔عزر یقام بنی الیوعینی=یود یوا۔الیاسب۔فلایاہ۔عقوب یوحنان۔دلایاہ۔عنانی زربابل کے بعد دس پشتوں کا نسب نامہ=متی1:12-16 زربابل سے ابیہود۔الیا قیم۔عازور۔صدوق۔اخیم۔الیہود۔الیعزر۔متان۔یعقوب۔یوسف (نوٹ)دونوں نسب نامے بالکل مختلف ہیں نیز تواریخ کی کتاب کا مصنف عزرا زربابل کا ہم عصر ہے مگر1تواریخ10 3:19-24 پشتوں کا ذکر ہے جس سے پتہ چلتا ہےکہ یہ نام بعدمیں شامل کئے ہیں۔ داؤد سے بابل کی اسیری تک پشتوں کا شمار متی کے مطابق داؤد سے بابل کی اسیری تک کل پشتوں کا شمار13ہے۔ مگر متی نے یورام کے بعد آخنریاہ۔یوآس امصیاہ۔عنرریاہ اور پھر یوسیاہ کے بعد یہو قیم کا نام چھوڑ دیا ہے حالانکہ تمام مشہور بادشاہ تھے اور اسطرح کل 18پشتیں بنتی ہیں تین نام چھوڑے ہیں اور چوتھا یہوقیم عنریاہ کو عنریاہ لکھا ہے۔ یہوقیم کو چھوڑنے کی وجہ یہ ہے کہ یر میاہ36:29-30میں پیشگوئی موجود ہے کہ اسکی نسل سے کوئی بادشاہ نہ ہو گا یکو نیا بابل کی اسیری کے دوران پیدا نہیں ہوا تھا۔بلکہ اسیری کے وقت اسکی عمر 18 برس تھی=24:8Ki-2 نیز یکونیا یو سیاہ کا پوتا ہے بیٹا نہیں یرمیاہ22:24 سیالتی اہل سے زربابل پیدا ہوا=متی1:12 سیالتی ایل زربابل کا چچا تھا=-1تواریخ3:18 زربابل فدایا کا بیٹا تھا=-1تواریخ3:19 سیان کا کوئی بیٹا نہیں تھا=-1توریخ2:24 سیان کا بیٹا اخلی تھا=-1تواریخ2:3 عزرا اور نحمیاہ کے بیان میں 4 ناموں کا فرق ہے عزرا2:2 نحمیاہ7:7 AZARIA SERAIAH RAAMIAH REELAIAH MIPERETH MISPAR NEHUM REHUM پیدائش36:16 اور پیدائش36:15-16کے موازنہ سے پتہ چلتا ہے الیفر کی اولاد میں‘‘قورح’’نام پیدائش36:15-16زائد ہے حالانکہ پیدائش36:14کے مطابق قورح عیسو کا بیٹا ہے اور اسطرح قورح الیفر کا بھائی تھا نہ کہ بیٹا پیدائش36:12کے مطابقTIM-NA عیسو کے بیٹے الیفر کی بیوی ہے مگر -1توریخ1:36کے مطابق بیٹی یا بیٹا بت سوع عمی ایل کی بیٹی=-1تواریخ3:5 بت سوع لعام کی بیٹی=11:3SAM-2 آخز شاہ اسرائیل کے سبب یہودا کو بست کیا= 28:19Chr-2 آخز شاہ یہودا=16:1Ki-2 ۔۔۔۔۔میں شاہ یہودا ہی لکھا ہے۔ ‘‘بنیں مین کی اولاد’’ پیدائش46:21 بنی بنیمین= بالع۔بکر۔اشبیل۔جیر۔نعمان۔اخی۔روس۔مفیم ،حفتیم اور ارد -1تواریخ7:6 بنی بنیمین=بالع۔بکر۔ید یعیل -1تواریخ8:1-2 بنی بنیمین=بالع اشبیل۔اخرج۔نوحہ۔رفا ‘‘بالع کو اولاد’’ -1تواریخ7:7 بنی بالع=اصبون۔عزی۔عزایل۔یرعوت -1تواریخ8:3بنی بالع=عیری(5) بنی بالع=ادار۔جیرا۔ابیہود۔ابیشوع۔نعمان۔اخوح۔جیری۔سفوفان۔حورام جبعون کے باب یعی ایل کی اولاد عبدون۔صور۔قیس۔بعل۔نیر۔ندب۔جدود۔احنیو۔زکریا۔مقلوت -1 تواریخ9:35-37 -1تواریخ31-29:28میں‘‘نیر’’کا نام نہیں ہے۔ خدا نے وعدہ توڑدیا بنی عمون کا کوئی حصہ میراث کے طور پر نہ دونگا=استشناء2:19 بنی عمون کا آدھا ملک جد کے قبیلہ کو دیا=یشوع13:24-25 ‘‘مصری لوگوں کے سب چوپائے مر گئے تھے’’ مصریوں کے سب چوپائے مر گئے=خروج6:9 مصریوں کے جانور بچ گئے تھے خروج21،20،19:9 حرام زادہ دسویں پشت تک خدا وند کی جماعت میں شامل نہیں ہو سکتا=استشناء23:2 قارص۱سےمصرون2۔رام3۔عمیداب4۔تحسون5۔بو عنز6۔عو بید7۔یسی8۔داؤد4۔روت22-18:4فارص حرام زاداہ تھا=پیدائش30-13:38 داؤد نے ایک ہزار رتھ۔7ہزار سوار قید کیے=-1تواریخ18:4 داؤد نے ہد عزر کے 1ہزار7 سو سوار پکڑ لئے=8:4Sam-2 ہد عزر کے شہر طبخت اور کون تھے=-1تواریخ18:8 ہد عزر کے شہر بطاہ اور بیروتی=8:8Sam-2 حمات کا بادشاہ تو عو۔بیٹے کا نام ہدورام=-1تواریخ18:9-10 حمات کا بادشاہ توغی۔بیٹے کا نام یورام=9:9-10Sam-2 ایلیا نے کہا سب نبیوں کو قتل کر ڈالا فقط میں ہی اکیلا بچا ہوں=-1سلاطین19:14 ایک بنی نے شاہ اسرائیل کو جاکر کہا=-1سلاطین20:13 اس کا مطلب ہے کہ اور بھی نبی تھے

اختلافات نیا عہد نامہ

مگدن کی سرحد میں آیا=متی 15:39 دلموتہ کے علاقہ میں آیا=مرقس 8:10 بہرے اور ہکلے کو لائے=مرقس7:32 گونگے کو لائے=متی9:32 حکمت کاموں سے راست ہوئی=متی11:19 حکمت لڑکوں سے راست ہوئی=لوقا7:35 شریعت منسوخ کرنے نہیں آیا= جو کوئی چھوٹے سے چھوٹے حکم توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا۔وہ بادشاہی میں داخل نہ ہوگا۔جو عمل کریگا اور عمل کرنے کی تعلیم دیگا وہ راستباز ہو گا=متی5:17-20 ‘‘شریعت منسوخ’’ اس نے جسم کے ذریعہ شریعت کے حکموں اور ضابطوں کو موقوف کر دیا=افیسون 2:15 بدلہ نہ لینے کی تعلیم=متی5:39-40نا قابل عمل تلوار چلانے آیا ہوں=متی10:34 کپڑے بیچ کر تلواریں خریدنے کی تعلیم=لوقا22:36-38(دو تلواریں) سب کچھ اسکے پاؤں تلے کر دیا=افیسون1:22 ہم سب چیزیں اسکے تابع نہیں دیکھتے=عبرانیوں2:8 پولوس کے ساتھیوں نے آواز سنی مگر کسی کو دیکھا نہیں =اعمال9:3-9 پولوس کے ساتھیوں نے نوردیکھا مگر آواز نہ سنی=اعمال22:9 عورتوں نے کسی سے کچھ نہ کہا=مرقس16:8 عورتوں نے گیرہ کو سب باتیں بتائیں=لوقا 24:9 پطرس نے کہا تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے=متی16:16 پطرس نے کہا تو مسیح ہے=مرقس8:9 سردار نے کہا بیٹی ابھی وہی ہے=متی9:18-19 سردار نے کہا مرنے کو=لوقا8:42،مرقس5:23 (نوٹ)یہاں یہووا والوں نے ترجمہ میں تبدیلی کردی ہے۔ یہودا اسکر یوتی نے اپنے آپ کو پھانسی دی=متی27:5 یہودا اسکر یوتی سر کے بل گرا=اعمال1:18 ایک آدمی قبروں سے نکلا=لوقا8:27،مرقس5:1-4 دو آدمی قبروں سے نکلے=متی8:28 راستہ کے لیے جھولی نہ دودو کرتے نہ جونیاں نہ لاٹھی راستہ کے لیے لاٹھی کے سوا کچھ نہ لو۔متی 10:10۔۔۔۔=مرقس6:7-9 اسکانام عما نوائیل رکھیں گے=یسعیاہ7:14،متی1:23 اسکانام یسوع رکھنا=متی1:21 بیٹے کا نام یسوع رکھا=متی1:25 میں تمہارے پاس ہمیشہ نہ رہو نگا=مرقس14:7،یوحنا17:11 دیکھو میں دنیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہوں=متی28:20 انجیر کا درخت اسی دم سو کھ گیا=متی21:19 صبح جاکر سیکھا تو انجیر کا درخت سو کھا ہوا تھا=مرقس11:20 ۔۔۔۔۔ سے دو دن کے لیےبیت عنیاہ میں تھا=مرقس14:1-3 ۔۔۔۔۔ سے چھ روز پہلے بیت عنیاہ میں آیا =یوحنا12:1,11:55-57 یوحنا خود نور نہ تھا=یوحنا1:8 یوحنا جلتا ہوا چراغ تھا تم کو کچھ عرصہ تک اسکی روشنی میں خوش رہنا منظور تھا=یوحنا5:35 شریعت پر عمل کرنے والے راستبازٹھہرا ئے جائیں گے=رومیوں2:13 شریعت کے اعمال سے کوئی راستباز نہیں ٹھہرایا جائیگا=رومیوں3:20 انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے بسبب راستباز ٹھہرایا جا ئیگا=رومیوں3:28 انسان صرف ایمان سے نہیں بلکہ اعمال سے راست باز ٹھہرائے جائینگےیعقوب 2:25 مسیح تیسرے آسمان پر اٹھا یا گیا=-2کر نتھیون12:2-5 مسیح سب آسمانوں سے اوپر چڑھ گیا=امیوں4:9-10 سب نے ایک ہی روحانی خوراک کھائی۔ایک ہی روحانی پانی پیا وہ اس چٹان سے پیتے تھے جو ان کے ساتھ چلتی تھی اور وہ چٹان مسیح تھی=-1کرنتھیون10:1-4 موسیٰ نے وہ روٹی نہ دی۔تمہارےباپ دادا نے من کھایا اور مر گئےیہ (مسیح)وہ روٹی ہے جو آسمان سے اترتی ہے تاکہ آدمی کھائے اور نہ مرےیوحنا6:32،6:49-50 میرے سوا کوئی خدا نہیں کوئی چٹان نہیں میں تو کوئی نہیں جانتا یسعیاہ44:8 مسیح ہمارے لیے لعنتی بنا=گلیتون3:13 بحوالہ استشناء21:22-23 خدا کی روح کی ہدائیت سے کوئی یسوع کوملعون نہیں کر سکتا=-1کرنتھیون12:3 عورت نے عطر پاؤں پر ڈالا=لوقا7:37-46 عورت نے عطر سر پر ڈالا=مرقس14:3 ‘‘لا یعنی اور بے ربط بیانات’’ لیکن خدا وند نے تیری بات یا حکم صادر فرمایا ہے کی تیری نسل باقی نہ رہے=نا حوم1:14 (کس کی نسل کوئی علم نہیں ہوتا) ادوم اور شعیر دونوں اسکے قبضہ میں ہونگے ادوم اور شعیر ایک ہی ہیں گنتی12:16-18 عیسو اپنی بھیڑ بکریاں لے کر یعقوب کے پاس سے دور چلا گیا۔کیونکہ بھیڑ بکریوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ایک جگہ اکھٹے نہیں رہ سکتے تھے( بھیڑ بکریوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ایک جگہ اکھٹے رہے ہی نہیں) پیدائش36:6-8 تضادات ابلیس کو موت پر قدرت حاصل تھی=عبرانیوں2:14 حاکم تو ایک ہی ہے جو بچانے اور ہلاک کرنے پر قادر ہے=یعقوب4:12 یسوع دنیا کے بادشاہوں پر حاکم ہے=مکاشفہ1:5 یسوع نے کہا میری بادشاہی اس دنیا کی نہیں =یوحنا18:36 کوئی چیز بذات حرام نہیں جو اسکو حرام سمجتا ہے اسکے لئے حرام ہے=رومیوں14:14 پرانا عہد نامہ میں متعدد چیزیں حرام ہیں اسی طرح نئے عہد نامہ میں بھی بتوں کی قربانی۔خون۔مردار و غیر حرام ہیں احبار11:1-23،اعمال15:29 حکمت سب سے افضل ہے=امثال4:7 محبت سب سے افضل ہے=-1کرنتھیون13:13 خدا نہ جھوٹ بولتا ہےاور نہ پچھتاتا ہے=,15:2Sam-1گنتی23:19 خدا نے جھوٹ بولنے والی روح بتوں میں بھیجی-1سلاطین22:21-23 خدا پچھتایا۔افسوس کیا۔ملول ہوا Sam-115:11،پیدائش6:6،6:7،خروج32:14 قضاۃ2:18، Sam-2 24:16 -1تواریخ21:15،یرمیاہ26:19،15:16،گنتی23:19،قضاۃ21:15،21:6 Sam-215:32،عاموس7:6،یونا3:10،4:10 آدمیوں کے لیے ایک بار مرنا اور اس کے بعد عدالت کا ہونا مقرر ہے=عبرانیوں9:27 (نوٹ)جو مردے زندہ ہوئے تھے کیا ان کی عدالت ہو گئی تھی4:35Ki-2،حزقیل37:10,17:22-2,17:22Ki-1, اعمال20:9-12,9:40-42وغیرہ خدا وند نے بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کے بعد سوائے داؤد کے کسی کو نہیں چنا وہ قوم اسرائیل کاحاکم ہو=-2تواریخ 6:5-6 داؤد سے پہلے ساؤل کو بھی خدا وند نے خود چنا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ ہو10:17-24 Sam-1 JOHANA -1تواریخ3:15میں لکھا ہے کہ یوسیاہ کا پلوٹھا یوحنا تھا مگر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہوا(Comp2-Ki23:31)ہے LXX Joah صدقیاہ یوسیاہ کا بیٹا تھا=-1تواریخ3:15 صدقیاہ یہوقیم کا بیٹا تھا=-1تواریخ3:16 صدقیاہ یکونیا یہویا کین کا بھائی تھا=-2تواریخ36:9-10 صدقیاہ(ستنیاہ) یہوکین کے باپ کا بھائی تھا یعنی یکو نیا کا چچا تھا=,24:17Ki-224:1 (یاد رہے کہ یہوقیم یوسیاہ کا بیٹا تھا=-1تواریخ3:14-15 خود عیسائیوں کا اعتراف کہ بائیبل میں زیادتی یا کمی یا غلطی ہے بحوالہWhen Critics Ask(1996) =پیدائش4:26 کے غیر واضح ہونے کا اقرار(38p) =انسانیت صرف 69000ہزار سال پرانی ہے(38p) =خدا کے بیٹے سے مراد(سیت کی نیک اولاد) =انسان خدا کے بیٹے ۔یسعیاہ43:6(40 p) =دوسری دفعہ دنیا آگ کے ذریعہ مٹائی جائیگی(43 p)-2پطرس3:10 =ابراہیم پر جھوٹ کو بولنے کا الزام پیدائش17:15-16(49 p) =اسمٰعیل بے ایمانی کی حالت میں پیدا ہؤا اس لیے وہ موعود وارث نہیں تھا=( 52 p) =اکلوتے بیٹے سے مراد پیارا بیٹا(52 p) =یعقوب کا دھوکہ سے برکت حاصل کرنا پیدائش29:1(55 p) =یعقوب کے مصر آنے کی پیشگوئی جھوٹی نکلی پیدائش46:4 سلع کےمتی جس کے لیے ہے(61 p) =خروج4:24 جسکا ختنہ نہ ہو وہ مارا جائے(یہ حکم نہیں ہے)(67 p) =خروج6:3 نام یہواہ بعد میں لکھے جانے کا اعتراف(69 p) =(وزنی اعتراض) اگر تمام لوگ 20سال سے اوپر کی عمر کے صحرا میں مر گئے تھے تو ان کی قبر یں کیوں نہیں ملیں=گنتی14:29 =گناہ کے کفارہ کی قربانی گنتی15:24،احبار4:14،تضاد(یعنی صفحہ85)

بائیبل مفروضہ زمانہ کے بعد کی تحریر

1)کنعانی اور فرزی اسوقت ملک میں رہتے تھے=پیدائش13:7 2)ابرھیم نے۔۔داں تک۔۔تعاقب کیا=پیدائش14:14 3)دان کے نام پرشم کانام دان رکھا=یشوع19:47 4شہرکا نام دان رکھا۔اسشہرکانام لیس تھا=قضاۃ18:29 5)یونین بن جیر سوم بن موسیٰ اور اسکے بیٹے اس ملک کی اسیری تک بنی دان ۔کے کاہن رہے=قضاۃ18:30 6)راخل کی قبر کا یہ ستون(افرات بیت لحم میں )آج تک موجود ہے=پیدائش35:20 7)وہ شہر آج تک بیر سیع کہلاتا ہے=پیدائش36:33 8)جیسے اسرائیل نے اپنی میراث کے ملک میں کیا جسے خداوند نے ان کو دیا=استثناء 9)یہ وہ بادشاہ ہیں جو ملک ادوم میں پیشتر اسکے کہ اسرائیل پر کوئی بادشاہ ہو مسلط ہوئے=پیدائش36:31 10)حضرت موسیٰ کی وفات کاذکر=استثناء34:7-10 11)یشوع کی وفات کاذکر=یشوع24:29-31 12)ان دنوں اسرائیل پر کوئی بادشاہ نہیں تھا=قضاۃ21:15،19:1،17:16 پہلا بادشاہ=ساول ہوا=-1سیموئیل11:12،18:5 13)موسیٰ روئے زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا=گنتی12:3 14)بنی اسرائیل جب تک آباد ملک میں نہ آئے چالیس سال تک من کھاتے رہے=خروج16:35،گنتی32:13 =موسیٰ نے لکھاDan9:11,PS103:7,Neh1:7,Ezra3:2,2Kig14:6, 1-Ki2:3,Jud3:4,Mark7:10,…4:7-10,1Cor9:9, =استشناء2:10-12بعد میں اضافہ کا اقرا ر (115 p) =استثناء5:6-21 خروج20:2-17تبدیلی کا اقرار118) p) =عبرانیوں11:21،پیدائش LXX47:31تبدیلی کا اقرار(522 p) =-2,24:6King-2 تواریخ36:6غلطی کا اقرار(199 p) =متی11:12،رومیوں14:17مشکل کا اعتراف(140 p) =استثناء5:6-21خروج20:2-17میں تبدیلی کا اعتراف(118 p) =-1اسموئیل6:19 ،50،000آبادی کے بیان میں غلطی کا اعتراف(156 p) =-1اسموئیل13:1 MT کے Text میں غلطی کا اعتراف(159 p) =-1اسموئیل13:5میں30،000غلطی کا اعتراف(160 p) =-1اسموئیل17:50، 2 –اسموئیل21:19تضاد کے سلسلہ میں غلطی کا اعتراف(163 p) =8:4Sam-2،-1تواریخ18:4تضاد میں غلطی کا اعتراف(171 p) = Sam-224:13،-1تواریخ21:12میں غلطی کا اعتراف(176) = 1 King-4:26،-2توارریخ9:25تضاد میں غلطی کا اعتراف(181) =1 King-15:5میںS Mمیں کم یا زائد عبارت کا اعتراف(185) =2 King-18:13تاریخی غلطی کا اعتراف سخرب نے حزقیاہ کے 14برس یہودا کےعلاقہ کو فتح کیا تاریخی غلطی ہے(197) =2 King-24:8میں غلطی کا اعتراف،-2تواریخ36:9(199) =-2تواریخ16:1کے بیان میں غلطی کا اعتراف(209) =عززا2:1،نحمیاہ7میں غلطی کا اعتراف(214) =ابوب1:5میں لعنت کے لفظ کو برکت میں بدلنے کا اعتراف(124) =زبور3:1میں زائد عبارت اعتراف(234) =زبور30کے آغازکے الفاظ زائد ہونے کااقرار (236) =زبور34کے ٹائیٹل میں نام غلط ہونے کا اعتراف(237) =امثال25:1۔سلیمان نے تین ہزار امثال لکھیں1 King-4:32 مگر امثال کی کتاب میں بہت کم امثال ہیں (250)

شريعت سے متعلق حضرت مسيح اور پو لوس کا نظریہ

شریعت ۔احکام نیا عہد نامہ شریعت منسوخ نہیں ہوئی= میں شریعت منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں آسمان اور زمین کے ٹل جانے تک شریت منسوخ نہیں ہوگی۔ جوکوئی ان حکموں میں سے کسی کو توڑے اور یہی آدمیوں کو سکھائے وہ بادشاہی میں داخل نہ ہوگا مگر عمل کرنے والا داخل ہو گا=متی5:17-19 شریعت۔احکام نیا عہد نامہ شریعت منسوخ نہیں ہوئی۔ میں شریعت منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ آسمان اور زمین کے ٹل جانے تک شریعت منسوخ نہیں ہو گی۔جو کوئی ان حکموں میں سے کسی کو توڑےاور یہی اور یہی ادمیوں کو سکھائے وہ بادشاہی میں داخل نہ ہوگا مگر عمل کرنے والا داخل ہوگا۔ متی 5:17-19 1)اگر زندگی میں داخل ہونا چاہتے ہو تو حکموں پر عمل کرو=متی19:17 2)کامل ہونے کے لئے سارا مال غریبوں کو دینا=لوقا18:20-22 (3اے ریارکار فقہیو۔تم شریعت کی زیادہ بھاری باتوں ایمان انصاف اور رحم کو چھوڑ دیتے ہو۔لازم تھا یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے=متی23:23-24 4)اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو=یوحنا14:15-21-23 حکموں پر عمل کرو گے تو تم میری محبت میں قائم رہو گے=یوحنا15:10 5)جس نے ساری باتوں پر عمل کیا اور ایک ہی بات میں خطا کی وہ سب باتوں میں قصوروارٹھہرا=یعقوب2:10 ایمان بغیر اعمال کے مردہ ہے=یعقوب4:17اسی طرح یعقوب باب4ایمان اور عمل کی بحث 6)خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اس کے حکموں پر عمل کریں=خدا کے حکم سخت نہیں =1-یوحنا5:9۔استثناء30:11 یا یوحنا14:15 7)شریعت منسوخ نہیں جو احکام شریعت کے خلاف عمل کرتا ہے یا اسکی تعلیم دیتا ہے وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا=متی5:17-20 8)سبت کا حکم منسوخ نہیں کیا تھا=لوقا24:1 شریعت کی مخالفت نیا عہد نامہ پولوس 1)شریعت کے بغیر راستبازی=رومیوں3:21 2)شریعت اعمال کے بغیر راستبازی ایمان کے سبب=رومیوں3:27-28 3)شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے سے راستباز=گلیتون2:17 4)راستبازی اگر شریعت کے وسیلہ سے ملی تو مسیح کا مرنا عبث ہوتا=گلیتون2:21 5)شریعت پر تکیہ کرنے والے لعنت کے ماتحت ہیں=گلیتون3:10 6)جو یسوع مسیح میں ہیں ان پر سزا کا حکم نہیں۔۔کیونکہ یسوع نے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کردیا۔رومیوں8:1-2 7)جس کا حکم منشاء زندگی تھا وہی میرے حق میں موت کا باعث بن گیا=رومیوں7:10 8)تم شریعت کے ماتحت نہیں=رومیوں4:15 9)مسیح میں مرنے کی وجہ سے شریعت سے آزاد۔ رمیوں7:3-4 10)مسیح جو تمہارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں شریعت کی لعنت سے چھڑایا=گلیتون3:12 11)اس نے ۔۔۔دشمنی یعنی شریعت ۔۔۔موقوف کردیشریعت کے حکم ضابطوں کے طور تھے=افسیون2:15 1)شریعت کے ۔۔۔۔۔ سے خدا کی بے عزتی=رومیوں2:23 2)حضرت عیسیٰ فرمادیں گے=اے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔پس جو کوئی میری باتیں سنتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے۔جو کوئی عمل نہیں کرتا وہ بیوقوف کی مانند ہے=متی7:22-27 3)اگر بعض بے وفا نکلے تو کیا ان کی بے وفائی خدا کی وفا داری کا باطل کر سکتی ہے ہرگز نہیں بلکہ خدا ہی سچا ٹھہرے اور ہر ایک آدمی جھوٹا کیا خدا بے انصاف ہے۔ 4)موسیٰ کی شریعت کے باعث جن باتوں سے تم بری نہیں ہو سکتے تھے ان سب سے ایمان لانے سے بری ہوئے=اعمال13:39 5)شاگردوں کی گردن پر ایسا جوار کچھ کر جسکو نہ تمہارے نہ باپ دادا اٹھا سکتے تھے نہ تم خدا کو کیوں آزمائے ہو(یعنی شریعت کے احکام انسانی طاقت سے با ہر ہیں) اعمال15:10-11 (6تم دنوں۔مہینوں۔مقرر وقتوں کو مانتے ہو۔یہ نکمی باتیں ہیں۔گلیتون4:9-11 (مگر ان کے ماننے کا حکم خدا نے دیا تھا) 7)شریعت غضب پیدا کرتی ہے=رومیوں4:15 8)گناہ کی رغبتیں شریعت سے پیدا ہوئی ہیں=رومیوں 9)گناہ سے آزاد۔تم شریعت کےماتحت ۔رومیوں6:14 1)جھوٹے گواہ کھڑے کئے کہ یہ شخص شریعت کے خلاف بولنے سے باز نہیں آتا=اعمال6:13 2)فخر کہاں رہا کیا اعمال کی شریعت سے نہیں بلکہ ایمان کی شریعت سے =رومیوں3:27 3)رومیوں 10:6-8میں پولوس شریعت مشکل نہیں اور نہ دور ہے تیر منہ میں ہے اور تیرے دل (یعنی فطرت) میں ہے استثناء30:13-14سے بالکل الٹ استدلال کرتا ہے 4)انسانی احکام اور تعلیم کے موافق۔۔اسے نہ چھونا اسے نہ چکھنا۔اسے ہاتھ نہ لگانا=۔۔۔2:20-21 5) خدا کی پیدا کی ہوئی ہر چیز اچھی ہےکلام اور دعا سے پاک ہو جاتی ہے4:3-5Tim-1 (6شریعت جو کہتی ہے ان سے کہتی ہے جو شریعت کے ماتحت ہیں تاکہ ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ٹھہرے۔شریعت کے اعمال سے کوئی بشر راست باز نہیں ٹھہر سکتا=رومیوں3:19-20 7)شریعت راستبازوں کے لیے مقرر نہیں ہوئی=1:9Tim-1 8)پہلا عہد بے نقص نہیں تھا=عبرانیوں8:13،8:7پرانا عہد پہلا حکم کمزور اور بے فائدہ ہونے کے سبب منسوخ 9)شریعت نے کسی چیز کو کامل نہیں کیا=عبرانیوں7:18 10)موسیٰ کی شریعت کی پیروی کرنے دینے والے کہتے=فلپیون3:2 احکام۔قوانین شریعت۔پرانا عہد نامہ شریعت پر عمل کرنا= 1)انسان قائم رہتا ہے=استثناء28:9،بھلائی ہے۔زندگی ہے 2)باعث برکت ہے=استثناء4:40,30:15-16 3)زندگی کی درازی۔برکت=استثناء5:29-31,5:33,30:19-20 4)خداوند کے شکر کے طور پر عمل کرو=خروج13:9 5)شریعت پر عمل نہ کرنا خدا کے کلام کا حقارت ہے=گنتی15:31 6)شریعت پر عمل نہ کرنا باعث موت ہے=استثناء30:15-16 7)شریعت پر عمل کرنے سے مصیبتیں اور بیماریاں آتی ہیں=استثناء28:59-62 8)شریعت بے سود نہیں بلکہ زندگی ہے=استثناء32:46-47 9)شریعت کا مقصد اسپر عمل کرنا ہے=استثناء4:14 10)شریعت کا مقصد تربیت کرنا=استثناء4:36 11)شریعت کو چھوڑ کر انسان نکما ہو جاتا ہے=17:15Ki-2 (12شریعت پر عمل کرنے سے زندگی ملتی ہے=احبار25:18,20:22,20:8,19:37,18:3 13)زندگی ملے گی=18:19-20 ،20:11،20:13 ،استثناء30:16 14)باعث برکت=استثناء11:26-28 15)تیرا اور تیری اولاد کا بھلا=عمردراز=استثناء6:2،5:29،4:40 16)ہزار پشت تک خدا رحم کرتا ہے=استثناء7:9-11 (17شریعت پر عمل نہ کرنے سے ہلاکت=استثناء8:19-20 18)شریعت پر عمل نہ کرنے سے لعنت=استثناء11:26-28 ‘‘شریعت و قوانین واحکام’’ 20)برحق ہے،جان کو بحال کرتی ہے=زبور19:17 21)راست احکام۔سچے قوانین۔اچھے آئین اور فرمان ۔استثناء4:9نحمیاہ9:29 23)شریعت پر عمل کرنے سے عمل کرنے والے غرور پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ محبت پیدا ہوتی ہے=استثناء17:19-20 24)سرفرازی ملتی ہے=استثناء28:1،28:13 25)مبارک ہیں=زبور119:1 26)اس درخت کی مانند ہے جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے=زبور1:2-3 ‘‘انبیاء اور شریعت’’ 1)خداوند سب نبیوں اور غیب نبیوں کی معرفت ۔۔۔۔آگاہ کرتا رہا کہ تم بری راہوں سے باز آؤ اور ساری شریعت کے مطابق جسکا حکم تمہارے پاس بھیجا ہے میرے احکام اور آئین مانو-2سلاطین17:13-14 2)لاوی کے ساتھ عید زندگی اور سلامتی کا تھا۔خود بھی راستی پر چلتا رہا اور بہتوں کو بدی کی راہ سے واپس لایا۔لاوی کا کام شریعت کے مسائل سنانا کیونکہ وہ رب الافواح کا ۔۔۔ ہے=ملاکی2:5-8 3)نبیوں کےذریعہ شریعت عمل کرنے کے لئے دی =9:10-11 (4اپنے نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا بروقت یہ کہتے ہوئے بھیجا کی تم اپنی بر ی روش سے باز آؤ اور اپنے اعمال کو درست کرو=یرمیاہ35:14-15 5)انہوں نے تیری شریعت کو پیٹھ پیچھے پھینکا اور تیرے نبیوں کو جو ان کے خلاف گواہی دیتے تھے تاکہ ان کو تیری طرف پھیر لائیں قتل کیا=نحمیاہ9:26 6)خدا اپنی روح سے اپنے نبیوں کی معرفت ان کے خلاف گواہی دیتا رہا تو بھی انہوں نے کان نہ لگایا=نحمیاہ9:30 8)تم نے کہا۔۔رب الافواج کے احکام پر عمل کرنا اور اسکے حضور قائم کرنا لا حاصل ہے=ملاکی3:14 صادق اور شریر میں امتیاز(اعمال)=ملاکی3:17 9)تم میرے سےبندہ موسیٰ کی شریعت یعنی فرائض احکام یاد رکھو=ملاکی ‘‘مقصد حیات’’ خدا وند تیرا خدا تجھ سے اسکے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو خدا وند اپنے خدا کا خوف مانے،اسکی سب راہوں پر چلیں اس سے محبت رکھے اپنے سارے دل ساری جان سے خداوند کی بندگی کرے اور خدا وند کے احکام اور آئین پر عمل کرے تاکہ تیری خیر ہو استثناء10:12-13، 11:22،11:13 2) خدا سے ڈر اسکے حکموں کو مان کہ انسان کا فرض کلی یہی ہے کیونکہ خدا ہر فعل کو ہر ایک پوشیدہ چیز کے ساتھ خواہ بھلی ہو خواہ بری عدالت لاۓ گا ۔واعظ12:13-14 3)انسانوں کو پیدا کیا تاکہ خدا کو ڈھونڈیں اعمال17:24-27 ‘‘شریعت کا مقصد(پولوس)’’ 1)شریعت مسیح تک پہنچانے کے لیے ہماری استاد تھی ایمان آچکا تو ہم استاد کے ماتحت نہ رہے=گلیتون3:23-25 2)مسیح شریعت کا انجام ہے=رومیوں10:4 ‘‘مختلف جرائم کی سزائیں’’ لونڈی اگر زانی ہو تو جان سے ماری نہ جائے=احبار19:20 زانیہ اور زانی جان سے مارے جائیں= احبار 20:10-11 =بیوی اور ساس کو اکھٹا رکھنے والے=استثناء22:22-24 =کو جلا دیا جائے= احبار 20:12-14 =جانور سے محبت کرنے والا مارا جائے= احبار 20:15-16 =بہن کا بدن دیکھنے والا قتل کیا جائے= =حائضہ عورت سے جماع کرنے والا کا اخراج احبار 2:18 ممنوع رشتوں سے شادی کرنے والے لا ولد مرینگے=اصار20:20-21 =کاہن کی بیٹی زنا کرتے تو آگ میں جلائی جائے=اصار21:9 =جادوگر اور آسیب زدہ کا سنگسار کیا جائے=اصار20:7 =ماں باپ پر لعنت کرنے والا قتل کیا جائے=اصار2:9،خروج21:17 =بیل اگر ماردے تو جان سے مارا جائے=خروج21:28 کنواری سے زناکرنے والا اس سے شادی کرائے یا نقد دے =خروج22:16-17 =مشرک جان سے مارا جائے= احبار =22:20،17:2-7 =خدا کے نام پر کفر بکنے والا سنگسار کیا جائے= احبار 24:16 اگر عورت کسی مرد کی شرم گاہ پکڑے تو اسکے ہاتھ کاٹے جائیں=استثناء25:11 وہ رشتے جن سے شادی نہیں ہو سکتی =ماں اور باپ کی بیوی سے= احبار 18:17-8 =بہن سے باپ کی بیٹی ہو یا ماں کی= =پھوپھی ۔خالہ۔بھابی۔چچی ۔تائی۔بہو۔خالو۔مامی =بیٹی اور ماں کو اکھٹے۔دو بہن اکھٹی رکھنا= احبار 18:6-23 قرآن کریم میں احکامات النساء 4:23-24 ،ابقرہ2:223

اپنی ہی تعلیم کے خلاف مسیح سے منسوب اقوال

1)جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کرے گا عدالت کی سزا کے لائق اور جو اسکو احمق کرے گا وہ آتش جہنم کی سزا کے لائق=متی5:22 2)جو اپنے بھائی سے غصے ہو گا وہ عدالت کی سزا کے لائق=متی 5:22 3)اپنے دشمن سے محبت کرو=متی5:44 1)پاک چیزیں کتوں کہ نہ دو موتی سؤروں کے آگے نہ ڈالو=متی7:6 2)شہروں کو ملامت کرنا=متی11:20 3)سانپ کے بچو=متی12:34؛برے اور زنا کا لوگ= متی16:6،12:39 4)غیر اقوام کتے=7:25-30مرقس،15:26متی 5)پطرس شیطان=متی16:23 6)بے اعتقاد۔کجرو نسل=متی17:17،درخت کو بددعا=متی21:18-19 7)اے ریا کار فقہیو اور فریسوں=متی23:15 8)اے احمقو اور اندھو= متی5:22، متی23:17 9)اندھے فریسی=متی23:36 10)سانپو۔افصی کے بچو=متی23:33 11)سفیدی بھری قبرو۔ریاکار۔نجاست سے بھرے ہوئے =متی23:27-29 چور اور ڈاکو۔=یوحنا10:7

قرآن اور بائیبل میں واقعاتی اختلافات

حضرت آدم 1)قرآن گناہ ارادتاً نہیں کیا تھا20:116 طٰہٰ بائیبل تمام دنیا میں گناہ پھیلانے کا ذمہ دار تھا=رومیوں 5:12 قرآن خدا کے برگزیدہ انسان تھے=3:34آل عمران حضرت آدم نے دعا کی گناہ کی معافی مانگی۔اللہ تعالی نے گناہ معاف کردیا=2:38البقرہ،7:24اعراف،20:122 بائیبل نہ معافی مانگی نہ گناہ معاف ہؤا بلکہ اسکو سزا دی گئی اور اس کی وجہ سے اس کی نسل بھی گناہ گار=پیدائش3:17 ‘‘حوّا’’ قرآن عورت اور مرد ایک ہی جنس سے پیدا ہوئے=النساء4:3 بائیبل حوا آدم کی پسلی سے بنائی گئی=پیدائش2:21 ‘‘نوح’’ قرآن طوفان صرف قوم نوح کی طرف آیا تھا=العکنبوت29:15 اس کا ذکر ہم نےذکر باقی رکھا=37:79 بائیبل طوفان نوح تمام دنیا میں آیا تھا=پیدائش5:12-13 ‘‘کشتی کہاں ٹھہری’’ قرآن=جو دی کے پہاڑ پر= بائیبل ارارط کے پہاڑ پر=پیدائش8:4 قرآن بیوی اور ایک بیٹا طوفان میں ڈوب گئے=ھود11:43-44,66:11 بائیبل بیوی اور تمام بیٹے بچائے گئے=پیدائش7:14،6:1،8:15مگر کنعان پر لعنت کیوں کی گئی=پیدائش9:25 سیر جوبلی کے ۔۔۔ میں کنعان کو بیٹا کہا گیا ہے کتنے جانور سوار ہوئے قرآن= اختلاف/بائیبل=پاک جانور7،7 اور ناپاک دودوGen8:1-2مگر دودو بھی لکھا ہے پیدائش7:19 ‘‘حضرت ابراھیم’’ قرآن 1)صیح حالات قرآن میں اور بڑے راستباز تھے=مریم19:41 بائیبل=جھوٹ بولا=12:11-13 (2قرآن=ہجرت والد کی زندگی میں کی =مریم19:41-49 بائیبل=ہجرت کنعان کی طرف باپ کی وفات کے بعد کی=پیدائش11:32،12:1-2 اختلاف=باپ کی عمر پیدائش کے وقت70سال=11:26 باپ کی وفات کی عمر205=11:32 ابراھیم کی ہجرت وقت عمر=12:4 75سال 3)قرآن=اسمعیل کی قربانی=الصٰفٰت37:103-104 بائیبل=اسحٰق کی قربانی=پیدائش22:2 مددگار حوالے=سفر کا آغاز بیر سبع=21:31-34،واپسی بیر بع22:19،عمر22:12 4)قرآن=اپنے بیٹوں کو وصیت کی=البقرہ2:133 بائیبل=وصیت کرنے کی پیشگوئی موجود ہے=پیدائش18:19 مگر وصیت کرنے کا کہیں ذکر نہیں ہے جوبلی میں مکمل وصیت درج ہے 5)قرآن=مہمان فرشتوں نے کھانا کھانے سے انکار کیا=ہود11:70-71 بائیبل=مہمان فرشتوں نے کھانا کھایا=پیدائش18:8 فرشتے کھانا نہیں کھاتے=قاضیوں13:15-16 (6قرآن=جب حضرت اسحق کی خوشخبری دی گئی تو حضرت۔۔۔گھیرا گئیں مگر خدا نے تسلی دی=ھود11:71-72 بائیبل=حضرت سائرہ نے یقین نہ کیا۔ہنیس جھوٹ بولا پیدائش18:12-15 7)قرآن=حضرت ابراھیم نے 30۔40سال کی عمر میں کنعان کی طرف ہجرت کی لفظ =متی ایک نوجوان کو بتوں کی کمزورریاں کرتے سنا الانبیاء21:62 باپ کے کہنے پر ہجرت=مریم19:47-49 بائیبل =کنعان کی طرف ہجرت 75سال کی عمر میں کی=پیدائش12:1-2 ‘‘حضرت لوط’’ قرآن=حضرت لوط اور ان کے اہل قوم کے قبیح اعمال سے پاک تھے=اشعرا 26:169-171 بائیبل=بیٹوں نے باپ کو شراب پلا کر اس کے ساتھ زنا کیا=پیدائش19:31-38 2)بائیبل =بیوی نمک میں تبدیل ہو گئی=پیدائش19:26 قرآن=لوط کی بیوی کو نجات نہیں ملی مگر نمک میں تبدیل ہونے کا لایعنی بیان نہیں=الضف37:136-137 ‘‘حضرت یعقوب’’ قرآن =یعقوب نے اپنے بیٹوں کو انصاف اور خدا کی راہ پر قائم رہنے کی وصیت کی=البقرہ2:133 بائیبل=یعقوب دھوکہ باز۔جھوٹ بولا۔بھائی کا حق غصب کر لیا=پیدائش27:19-36 (نوٹ)کنعان کے ملنے کا وعدہ انصاف اور خدا کی راہ پر قائم رہنے کے ساتھ مشروط تھا=پیدائش18:19 اگر یعقوب دھوکہ باز۔جھوٹا اور غاصب تھا تو یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکتا تھا یعقوب نبی تھا اور خدا کا ۔۔۔ تھا=زبور105:15 ‘‘حضرت یوسف’’ قرآن=خواب میں پہلے ستاروں اور پھر سورج چاند کا ذکر ہے=یوسف12:5 بائیبل=خواب میں پہلے سورج چاند اور پھر11ستاروں کا ذکر ہے پیدائش37:9-10 (نوٹ) مگر بعد کے واقعات بتا رہے ہیں کہ خواب قرآن کریم کی بیان کردہ ترتیب سے پورا ہوا پہلے بھائی مصر گئے اور پھر والدین 2)قرآن=حضرت یعقوب نے خواب سن کر کہا کہ خدا تجھے برگزیدہ کریگا اور مجھے باتوں کی حقیقت بیان کرنے کا علم بخشے گا=یوسف12:7 بائیبل=حضرت یعقوب نے ڈانٹا اور کہا کہ تونے یہ کیا خواب دیکھا ہے کیا میں اور تیری ماں اور بھائی تجھے سجدہ کرینگے=پیدائش37:10(قرآن کے مطابق ہوا) ‘‘حضرت یوسف’’ 3)قرآن=بھائیوں نے مشورہ کر کے حضرت یوسف کو قتل کرنے یا کسی دوسرے ملک میں پہنچنے کا منصوبہ بنایا=12:9-10 بائیبل=بھائیوں نے اچانک قتل کرنے کا پروگرام بنایا=پیدائش37:18-20 4)قرآن=بھائیوں نے والد کو کہا کہ یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دے مگر حضرت یعقوب خواب کی بنا پر فکر مند ہوئے=12:13-14 بائیبل=حضرت یعقوب نے خود حضرت یوسف کو بھائیوں کے پاس سکم میں بھیجا=پیدائش37:13 اب جس باپ کو علم ہو کہ دسرے بھائی بغض رکھتے ہیں اور ان کے ارادے یوسف کے متعلق نیک نہیں وہ کیسے اپنے پیارے بیتے کو خود ہی خطرہ میں ڈال سکتا ہے=پیدائش37:4،37:11،37:8 5)قرآن=حضرت یعقوب نے یوسف کے مرنے کا یقین نہ کیا بلکہ اللہ کی مدد کے خواہش مند ہوئے=12:19 بائیبل=حضرت یعقوب نے یوسف کے مرنے کا یقین کر لیا اور ماتم کرتا رہا=پیدائش37:33-34 جس نے خواب سنے ہوں ان کی تعبیر کی ہوا اور خواب یاد رکھی ہو وہ کیسے اس کی تعبیر کے خلاف یقین کر سکتا ہے طالمود سے بھی قرآنی بیان کی تائید ہوئی ہے۔ 6)قرآن=حضرت یوسف کو قافلہ والوں نے خود کنوے سے نکالا=12:20 بائیبل=بھائیوں کے خود یوسف کو نکال کر قافلہ والوں کے ہاتھ بیج دیا تھا=پیدائش37:25-29 مگر طالمود قرآنی بیان کی تصدیق کرتی ہے(طالمود انسائیکلو پیڈیا(H-Poleino Page 74-75 Rabah 7)قرآن=خواب کی تعبیر کے مطابق حضرت یوسف کی والدہ بھی حضرت یعقوب کے ساتھ مصر گئیں اور یوسف نے کہا کہ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے=یوسف12:101-102 بائیبل=حضرت یوسف کی والدہ خواب سے قبل حضرت بنیٰمین کی پیدائش کے وقت فوت ہو گئی تھیں اسلئے مصر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا=پیدائش35:19 حضرت یعقوب کی بیوی لیاہ بھی فوت ہو گئی تھیں=پیدائش49:31 اسی طرح پیدائش باب46میں مصر جانے والوں کی مکمل فہرست دی گئی ہے وہاں بھی کسی بیوی کا نام نہیں ہے ‘‘(یعنی قرآن کے مطابق خواب لفظ بلفظ پوری ہوئی مگر بائیبل کے مطابق پوری نہیں ہوئی’’) ‘‘حضرت موسیٰؑ’’ 1)قرآن=والدہ نے موسیٰ کو تابوت میں ڈال کر دریا میں ڈالا ےتھا=القصص 28:8طٰہٰ20:39-40 بائیبل=تابوت میں ڈالکر دریا کے کنارے رکھا=خروج2:3 تضاد۔میں نے اسے پانی سے نکالا ہے۔خروج2:10 2)قرآن=حضرت موسیٰؑ نے مصری کو ارادتاً قتل نہیں کیاتھا=28:16 بائیبل=ادھر ادھر دیکھ کر قتل کیا بعد میں ریت میں چھپا دیا ارادتاًمارا=خروج2:11-12 3)قرآن=مدین کے کہن کی ددو بیٹیاں چشمہ پر جانوروں کو پانی پلانے آئیں=القصص28:24 بائیبل=کاہن کی سات بیٹیاں بکریوں کو پانی پلانے چشمہ پر آئیں=خروج 12:16 4)لڑکیاں بیٹھے دوسرے چرواہوں کےجانے کا انتظار کر رہی تھیں ۔قرآن=القصص28:24 بائیبل=لڑکیاں پانی بھر رہی تھیں کہ دوسرے چرواہے آکر ان کو کنوے سے بھگانے لگے=خروج2:17موسیٰ نے مدد کی (شہر کے کاہن کی بیٹیوں کے ساتھ یہ سلوک بعید ازقیاس ہے) (حضرت موسیٰ بھی اجنبی ہونے کی وجہ سے جھگڑا نہیں کر سکتے تھے) 5)قرآن=حضرت موسیٰ نے فرعون کو کہا کہ اللہ تعالی نے ہمیں اسلئے بھیجا ہے کہ نبی کو ہمارے ساتھ بھیج دے طٰہٰ20:48 بائیبل=خدا نے کہا فرعون کو کہنا کہ ہمیں تین دن کی مسافت تک بیابان میں قربانی دینے کے لیے جانے دے=خروج3:18 دھوکہ کی تعلیم مگر خروج4:22-23سے قرآن کی تائید قرآن=حضرت موسیٰ کا ہاتھ خدا تعالٰی کی طرف سے بطور نشان کے بغیر بیماری کے سفید ہؤا۔طٰہٰ20:23 بائیبل =حضرت موسیٰ کا ہاتھ نشان کے طور پر کوڑھ کی بیماری سے سفید تھا=خروج4:6 ‘‘اگر ایک بنی مخالفین کو ایسا نشان دکھائے کہ اسکے ہاتھ کو کوڑھ ہو جائے تو اسکا جو امر ہو گا وہ صاف عیاں ہے’’ قرآن=حضرت موسیٰ نے فرعون کے ہاں جانے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ صرف حضرت ہارون کو ان کی فصاحت کی وجہ سے مددگار کے طور پر طلب کیا=القصص28:35 بائیبل=موسیٰ نے کہا کہ میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں۔تو کسی کے ہاتھ یہ پیغام بھیج دے اسپر خدا وند نے موسیٰ کو جھڑکا اور ہارون کو ساتھ بھیجاخروج3:11،4:13-11 قرآن=جب آپ نے پہلی دفعہ آگ کا نظارہ دیکھا تو اس وقت ان کے اہل ان کے ساتھ تھے۔طٰہٰ20:11 بائیبل=حضرت موسیٰ مدیان سے اپنی بکریوں کو لے کرچرانے کے لیے حورب کے پہاڑ کے نزدیک لائے تو اسوقت ان کو آگ والا نظارہ نظر آیا۔اسپرموسیٰؑ واپس مدیان آکر اپنے بیوی بچوں کو لے کر واپس مصر آگئے=خروج3:1-2,13;4:18-20 (نوٹ) مدیان سے حورب کا فاصلہ 30کلومیٹر ہے۔ ‘‘حضرت ہارون ؑ’’ قرآن=ہارون نے ان (بنی اسرائیل) سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم تم کو بچھڑے کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا گیا ہےْمیری اتباع کرو اور شرک نہ کرو۔ طٰہٰ 20:91 بائیبل=بچھڑا ہارون نے بنایا تھا۔ خروج32:35 قرآن بچھڑا بنانے کا ذمہ دار سامری کو قرا دیتا ہے=20:97 مگر بائیبل حضرت ہارون کو بچھڑا بنانے کا ذمہ دار اقرا ر دیتا ہے مگر عجیب بات ہے کہ سزا صرف بنی اسرائیل کو ملی ہارون کا کہیں ذکر نہیں ہے بلکہ الٹا ان کو قوم کامذہبی سردار بنانے کا انعام دیا=خروج32:27-28،32:32-33خروج40:13-16 ‘‘حضرت داؤد’’ قرآن=داؤد باربار خدا کی طرف جھکنے والا تھا=ص38:18 بائیبل=داؤد نے اپنے جرنیل کی بیوی سے زنا کیا اور پھر اس سے ناجائز بیٹے کی ولادت ہوئی اور پھر اس جرنیل کو قتل کروادیا=11:14-18,11:2-6Sam2 قرآن=داؤد اللہ تعالی کا مقرب تھا اور اسکو اللہ تعالی کے پاس اچھا ٹھکانا ملے گا=ص38:26 ‘‘تضادات’’=بے گناہ=22:20-29Sam-2،دعاستی24:25Sam-2 بہتان لگایا گیا=زبور119:69اعمال13:36 حضرت سلیمان ؑ قرآن=حضرت سلیمان نے کوئی کفر والی بات نہیں کی تھی بلکہ اس کے مخالفین اور الزام لگانے والے کافر تھے =البقرہ2:103 بائیبل=بڑھاپے میں غیر اقوام عورتوں سے شادی کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہو گیا اور خدا وند اس سے ناراض ہوا=11:4-40Ki-1 خدا وند نے خودا سکا نام مددیاہ پیارا خدا کا جب خدا خود نام رکھتا ہے تو اسمیں پیشگوئی ہوتی ہے تو وہ شرک کیسے کرسکتا ہے=13:24-25Sam-2 The history of Ancient Israel by Michael Grant1984 Page87 میں لکھا ہے سلیمان کا آخری عمر میں مشرک ہونا اس پر الزام ہے ‘‘حضرت یونس’’ قرآن =مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے چونکہ یونس بیمار ہو گیا تھا اسلیے ہم نے اسکو دھوپ سے بچا نے کے لیے کرو کا درخت اگایاہ=الصفت37:46-147 بائیبل=یونس نے اپنے لیے ایک چھپر بنایا اور اسکے سایہ میں بیٹھا اور پھر خدا نے اسپر کدو کا درخت لگایا تکہ اسپر سایہ ہو=یونا4:5-6 چھپر کی موجودگی میں کدو کے درخت کی کیا ضرور ت تھی نیز بیمار ہونے کی وجہ سے وہ خود چھپر کیسے بنا سکتے تھا قرآن=ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا=الصفت37:144-45 بائیبل=تین دن تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا یونا2:1-10متی12:40-41 قرآن میں عرصہ کا تعین نہیں ہے مگر بائیبل کے مطابق تین دن تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہنے کا ذکر ہے مگر اسی طرح حضرت عیسیٰ کی پیشگوئی جھوٹی ثابت ہوئی ہے دیکھیں یوحنا19:31-42،20:1-3لوقا باب23-24 اور متی 12:39-41 ‘‘حضرت زکریا ؑ’’ قرآن =حضرت زکریا نے حضرت یحیٰ (یوحنا) کی پیدائش کی خوشخبری پاکر شکرانہ کے طور پر خدا سے اسکا حکم مانگا تو خدا نے کہا کہ تین دن تک لوگوں سے باتیں کرنے کی بجائے میری عبادت وتسبیح کرو=مریم19:10-12 بائیبل=خدا کی بات کایقین نہ کرنے پر تیندن تک زبان بند کردی بطور سزا=لوقا1:18-20 تضاد=دیگر افراد نے بھی بیٹوں کی پیدائش پر یہی جواب دیا مگر ان کے لیے کوئی سزا نہیں بلکہ سارہ نے نہ صرف یہ کہ خدا کی بات کا یقین نہ کیا بلکہ جھوٹ بھی بولا=پیدائش18:12-15 مریم کا جواب لوقا1:23مگر شاید خدا کےہاں بھی دوستوں اور رشتہ داروں کا لحاظ ہے۔ ‘‘حضرت یحیٰ’’ قرآن=نبی تھے،اللہ کی بات پورا کرنے والا ہوگااور سردار تھے=آل عمران3:40 بائیبل=حضرت مریم کے پیٹ میں ہی حضرت عیسیٰ کے خدا وند ہونے کا اقرار حضرت یحیٰ نے کیا=لوقا1:43-44 تضادات=حضرت عیسیٰ نے حضرت یحیٰ سے بپتسمہ لیا=متی3:13-15 حضرت عیسیٰ نے یوحنا کو تمام لوگوں سے افضل قرار دیا=متی11:11 ‘‘حضرت مریم’’ قرآن=حضرت مریم کلام کی تصدیق کرنے والی تھیں۔کتابوںؓ پر ایمان لائی تھیں۔فرمانبرداروں میں شامل تھیں اور مثالی عورت تھی =التحریم66:13،آل عمران3:44 بائیبل=حضرت عیسیٰ پر ایمان نہیں لائیں تھیں=لوقا11:27-28متی12:46-50 بائیبل کے مطالعہ اور عیسائیت کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مسیح کے خاندان کے افراد کی کردار کشی کی گئی ہے۔ ‘‘حضرت عیسیٰ’’ قرآن=والدہ سے نیک سلوک کرنے والے تھے ظالم اور بدبخت نہیں تھے=مریم 19:33 بائیبل=ماں کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور ماں کو اے عورت کہہ کر پکارتے تھے=لوقا11:27-28متی12:46-50 قرآن=بابرکت وجود تھے ان کی پیدائش اور وفات سلامتی والی تھی=مریم19:32-34 بائیبل=خدا کی طرف سے لعنتی ہوئے=گلیتون3:13،استثناء21:22-23 لعنتی موت مرے تضاد=ملعون نہیں تھے =-1کرنتھیون12:3 لعنتی موت نہیں مرے تھے بلکہ دعا کے نتیجہ میں صلیبی موت سے بچالیے گئے=عبرانیوں5:7 ‘‘حوارین’’ قرآن=اللہ تعالی کے مدد گار تھے،اللہ پر ایمان رکھتے تھے ان کے دل میں رافت اور رحم تھا آل عمران3:53،ایمائیدہ5:115،الحدید57:28 بائیبل=جھوٹے مسیح پر لعنت کرنے والے ایک دوسرے پر ملامتکرنے والے شیطان چور۔بے اعتقاد ۔کم ایمان۔مصیبت کے وقت یسوع کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ریا کار تھے ۔متی26:71-75،گلیتون2:11،مرقس9:33،لوقا22:3-6متی14:31،متی26:56،مرقس14:50،14:71 ‘‘بنی اسرائیل کی تعداد’’ قرآن=بنی اسرائیل جب موت کے ڈر سے مصر سے نکلے تھے تو ہزار وں کی تعداد میں تھے =2:244 بائیبل=گیارہ قبیلوں کے 20سال سے اوپر کے مردوں کی تعداد چھ لاکھ تین ہزار پانچ سو پیچاس(63550)تھی خروج12:37،گنتی1:45 مگر جیسا کہ ہمیں علم میں بائیبل کے اعداد شمار میں اکثر تضاد پایا جا تا ہے اسلئے یہاں بھی تضاد نمایا ں ہے کیونکہ اکثر لاوی کے قبیلہ کو شامل کریں نیز عورتوں اور بچوں کہ بھی شامل کریں تو کل تعداد 30،25لاکھ بنی ہےاور یہ نا ممکن ہے کہ 70افراد صرف 4پشتوں میں 30،25لاکھ کی تعداد تک پہنچ جائیں قاضیوں کے وقت تعداد40ہزار قضاۃ5:7-8 داؤد کے وقت تعداد 13لاکھ 24:9Sam-2 مصرے نکلنے کے وقت تعداد 40سال بعد تعداد بنی شمعون59،300گنتی1:23 بنی شمعون22،200گنتی26:14 افرائیم40،500گنتی1:33 افرائیم32،500گنتی26:37 منسی32،200گنتی1:32 منسی 52،700گنتی26:34 تضاد ظاہر ہے باقی قبیلوں کی تعداد میں خاص فرق نہیں ہے مگر ان میں اتنا فرق کیسے ہو گیا پھر قاضیوں کے وقت کے تمام بنی اسرئیل کی تعداد4لاکھ دی ہے قضاۃ20:1-2،اور بنیمین کی تعداد 26،700قضاۃ20:15 تضاد=کل تعداد بنیمین 26700جنگ میں مارے جانے والوں کی تعداد 25900 قضاۃ 20:39،20:25،20:21 ،20:46-47 ،25100ہزار قضاۃ20:35 18000نہیں مرے=قضاۃ،20:45 500+20:42 ،200 20:45 = 25000 20:46باقی600بچے۔۔مگر تعداد کے لحاظ1600یا1700بچنے چاہئے تھے 4پیش۔جو تھی پشت پیدائش خروج 6:16-20 قلیل تعداد کا اقرار=خروج23:29-30 بنی اسرائیل ایک چھوٹے حصہ میں آباد تھے=جشن کے علاقہ میں عذاب نہیں آیاخروج9:26،8:25جشن کا علاقہ جہاں اسرائیلی رہتے تھے فیصلہ کن حوالہ=بائیبل کے مطابق کل لڑنے کے قابل افراد کی تعداد 63550ہےمگر خروج باب 38 کے مطابق گنتی کے حساب سے ہر ایک کو نیم مشکل دنیا ضروری تھا اور اس حساب سے مثقال کی کل مشقال1775مثقال بنتی ہے اس طرح بنی اسرئیل کی کل تعداد20سال سے اوپر کے افراد کی 63550 کی بجائے صرف3550 افراد بنتی ہے اور اسطرح کل بنی اسرائیل کی تعداد ۔۔۔ہزار سے زیادہ بنتی ہیں اور یہ تعداد ایک محقق نے اپنے مضمونOn the footsteps of Moses, National Geographic Jan1976Vol 149, No1Page7,21 by Harveyarden N.G. Staffمیں دی ہے یہ صاحب خود اس علاقہ میں تحقیق کی غرض سے گئے اور تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ 15000سے زیادہ تعداد اس علاقہ میں نہیں سما سکتی

موازنہ تعلیم

خدا کی راہ میں خرچ قرآن کریم=فضول خرچی اور بخل کی درمیانی حالت میں خرچ کرنا میانہ روی=الانعام6:142،17:27،17:28-30الفرقان25:68خرچ اسطرح نہیں کرنا چاہیے کہ خود ملامت کا نشانہ بن جائے=17:30 ضرورت کے باوجود دوسروں کو ترجیح=59:10الحشر بائیبل=سب کچھ بیچ کر غریبو میں تقسیم کردے=لوقا18:22 ‘‘بدلہ لینا یا معاف کرنا’’ قرآن=اگر تم (زیادتی کرنے والے) کو سزا دو تو جتنی تم پر زیادتی کی گئی ہے اتنی ہی سزا دو اگر تم صبر کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہو گا=النحل16:127 برائی کا جواب نیکی سے=حٰم سجدہ41:35 بائیبل=شریر کا مقابلہ نہ کرو۔ایک گال پر مارے تو دوسرا بھی آگے کردو کرتہ کے لیے نالش کرے تو چوغہ بھی دے دو ایک کوس بیگار مانگے تو دو کوس چلا جا=متی5:39-40 استثناء32:41،32:43،انسان کو خدا کی صور ت پر پیدا کیا ہے =پیدائش1:27 تضاد=تلواریں خرید نے کی تعلیم=لوقا22:36-38 ‘‘شادی’’ قرآن=انصاف اور برابرسلوک کی شرط کے ساتھ وضرورت پڑنے پر 4عورتوں تک سے شادی کی اجازت ہے لیکن اگر عدل نہ کر سکیں تو ایک ہی بہتر ہے=النساء4:4 بائیبل=نگہان ایک بیوی کا شوہر ہو نا چاہیے=3:2Tim-1،7:1-3Cor-1 گو حضرت مسیح نے کہیں بھی ایک بیوی سے شادی کرنے کا حکم نہیں دیا مگر عیسائی متی19:4-6سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں مگر یہ تعلیم بھی بعض حالات میں ناقابل عمل ہے مثلاً جنگوں کے بعد یورپ میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت زیاہ ہے جرمنی 27لاکھ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ ہیں اگر وہ شادی نہ کر سکیں گی تو معاشرہ کو یقیناً خراب کریں گیں اسطرح کے مزید حالات مثلاً بیماری۔بے اولادی وغیرہ تضاد=حضرت ابرہیم کی دو بیوییاں۔یعقوب 4بیویاں موسیٰ دو بیویاں۔داؤد اب مجبوراً بعض چرچ زائد شادیوں کی اجازت دے رہے ہیں مثلاً اینگلیکن چرچ جنکی تعداد70ملین ہے نے 1988میں زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دے دی ہے (Awake22-12-1988) ‘‘طلاق’’ قرآن=قرآن کریم خاص حالات میں طلاق وخلع کی اجازت دیتا ہے=النساء 65:1-3 4:130131 پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے۔۔۔۔24:27النور بائیبل=زنا کا ارتکاب۔متی 5:2 ناقابل عمل تعلیم اسکا مطلب ہے کہ عورت چاہے کتنی بے حیا ہو جائے مگر زنا سے بچی رہی تو مرد ہر قسم کی بے حیائی اور بے راہ روی برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ ‘‘شادی’’ قرآن=عورت باعث رغبت ہے اور شادی باعث سکون =7:190،الروم30:22 بائیبل=شادی باعث تکلیف=-1کرنتھیون7:28 تضاد=آدم کا اکیلا رہنا اچھا نہیں=پیدائش2:18 ‘‘مسیح کے خدا کا بیٹا ہونے سے مراد’’ قرآن=مسیح خدا کے حقیقی بیٹے نہیں صرف نیک بندہ ہونے کی وجہ سے ان کو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔الانبیاء21:27-28 بائیبل=مسیح کے علاوہ دیگر افراد کو بھی کہا گیا ہے اور مراد ہے خدا کا پیار –نیک شخص ‘‘بیٹا ہونے کے دلا ئیل’’ بیوی نہیں ۔مدد کی ضرورت نہیں۔ ہر چیز اسکی کردہ ہے حکومت میں کوئی شریک نہیں الانعام6:102،المؤمنون23:92،25:3الفرقان-بنی اسرئیل17:112،الزمر38:5 ‘‘شریعت’’ قرآن=باعث برکت ہے=المائیدہ5:45،القصص28:44 بائیبل=شریعت لعنت ہے=گلیتون3:13 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موضوع شریعت وقوانین ‘‘شراب نوشی’’ قرآن=شراب کا نفع اسکے نقصان سے کم ہے اور شیطانی کام ہے اسلئے اس سے بچو =البقرہ2:22،المائیدہ5:91 بائیبل=آئیندہ پانی کے علاوہ شراب بھی استمعال کیا کرو 5:23Tim-1 یہ انسان کے دل کو خوش کرتی ہے=زبور104:15 تضادات=قوانین زندگی کو منع=قضاۃ13:14 مسخرہ اور ہنگامہ کرنے والی=امثال20:1 شراب پینے والا مالدار نہ ہوگا=امثال21:17شرابیوں میں شامل نہ ہو=امثال23:20-21 سانپ کی طرح کاٹتی ہے=امثال23:31-33امثال31:4-6 خوشدلی سے مے پی=واعظ9:7کیونکہ خدا تیرے اعمال قبول کر چکا ہے مے جان کو خوش کرتی ہے=واعظ10:19 ‘‘قومی امتیاز-بین الاقومی تعلیم’’ قرآن=قبائیل یاقو میت وجہ امتیاز نہیں بلکہ صرف پہچان کا ذریعہ وجہ امتیاز صرف نیکی او ر تقویٰ ہے=الحجرات49:14 بائیبل=بنی اسرائیل کے علاوہ دیگر اقوام کتے اور ناپاک ہیں =متی15:22-26 =مختون یعنی یہودی کتے ہیں=فلپیون3:2 =کوئی عمونی یا موابی خدا کی جماعت میں شامل نہ ہو=استثناء23:3 دوسری اقوام سے سود لینے کی اجازت=استثناء23:19 تضاد=حکمت-قوت-مال وجہ فخر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کو سمجھنا اور جاننا عزت کی وجہ ہے=یرمیاہ9:23-24 ‘‘عورت کا مقام بائیبل’’ 1)ورثہ کا حق نہیں=گنتی27:3-11 2)شادی کے لیے رضا مندگی ضروری نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3)عورت نیک نہیں ہو سکتی=واعظ7:27-28 4)عورت ناپاک ہے=ایوب15:14،25:4،14:1-4 5)عورت کو طلاق کا حق نہیں=استثناء24:1 6)عورت کو بولنے کا حق نہیں=-1کرنتھیون14:37 7)سکھانے کا حق نہیں=2:12Tim-1 8)پردہ محکومی کی علامت =-1کرنتھیون11:10،11:15 9)سرڈھکنے کا حکم=-1کرنتھیون11:5-7 10)عورت کے لیے ہے=-1کرنتھیون11:9 11)بیٹی کو بچے کا حق=خروج21:7 12)عورت آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی=پیدائش2:22 13)عورت گناہ پھیلانے کی ذمہ داری=2:13-14Tim-1 14)مرد کی محکوم=پیدائش3:16،افیسون5:23-24،کلیسون3:18 15)مرد افضل ہے=-1کرنتھیون11:2 16)عورت ڈرتی رہے=افیسون5:33 17)عورت کا معاوضہ شوہر تجویز کرے=خروج21:22 18)مرد نگہبان ہے ططمعاوس3:1 19)شادی ہر مرد عورت کے لیے ضروری ہے=-1کرنتھیون7:1-3 20)زنا کے بغیر طلاق نہیں=متی5:32،19:9،مرقس10:11لوقا16:18 21)ایک سے زائد شادی کی اجازت=استثناء25:519،21:15لازمی ہے 22)عورت مرد یا شوہر کی تابع رہے=طیطس2:5،کلیسون3:18،افیسون5:24، -1 ٹمتھس2:11،-1پطرس۔۔ 23)عورت کے ہاتھ کاٹنا=استثناء25:11 ‘‘عورت کا مقام قرآن’’ 1)فرائض و حقوق=ابقرہ2:229 2)کمائی کی مالک=النساء4:33 3)ورثہ کی حقدار=النساء4:8-12 4)زبردستی وارث نہ بنو=النساء4:20 5)ایک جیسے جذبات اور پیدائش=النساء4:2،الانعام6:100 6انتظامی برتری مرد کی =2:229 اور وجہ=الساء4:35 7)عورت بھی پاک ہے=النور24:24،آل عمران5:76،3:34 8)عورتوں کی مثال=66:12-13 9)ایک دوسرے کا لباس=2:188البقرہ 10)عورت کا اجربرابر16:98،4:125،3:196 11)پردہ کا حکم خوبصورتی چھپانے کے لیے=النور24:32 12)پردہ شرافت کا نشان=الاھزاب33:60 13)دونوں ورغلائے گئے=الاعراف7:21-23 14)طلاق پر عورت کو دینے کا حکم=2:237،8:242 15)عورت مرد کی ساتھی ہے=70:14 16)مرد عورت کاقوام ہے =4:351 17)بیوی اگر نا پسند ہو تو پھر بھی گذارا کیا جائے=4:20 18)نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے=2:238 19)مرد اپنی نگاہ نیچی رکھے =24:30 20)ایک سے زائد شادی کی اجازت=4:4 21)عورتوں کے حقوق ہیں=33:51 22)عورت کو خلع کا حق=2:230، 4:21-22 23)مسلمان عورت کا کردار=33:35-36،60:12 24)بیوی ذریعہ تسکین=30:22،7:190الروم عورت کو مارنے کی تعلیم=4:35پہلے نصیحت(2)بستروں سے علیحدگی(3)بد نی سزا‘‘نشوز’’کے معنی4:129اٹھ کھڑا ہونا58:12 BIBLE TEXT

مدفون صحائف سے قرآن کی تصدیق

یہودی کتب،کتب تاریخ اور قدیم نسخہ ہائے بائیبل سے قرآنی بیانات کی اور جدید تحقیق سے تصدیق ‘‘قابیل کا ہابیل کو دفنانا’’ قرآن=قرآن کے مطابق جب حضرت آدمؑ کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تو اللہ تعالی نے کوے کو بھیجا کہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح دفنائے اس پر اس نے اپنے بھائی کو دفنایا اور پیشمان ہوا=المائدہ5:31-32 بائیبل=بائیبل میں ایسے کسی واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تصدیق=When he saw that he (Abel) had died he featured that his Father would demand Abel from him and he didn’t know what to do.He raised his eyes and saw the bird that had killed its fellow putting ist mouth to the ground;and it dug a hole and buried the other dead one ;and covered it with earth, At that moment ,Cain did the same to Abel, (NTG Apparatus4:8) Oxford Bodleian MS Heb C74R toseftot Gen4:7,8,23 Genziah Manuscripts of PTG to Pentateuch. Resting place of ARK: Quran: 11:45 مکی And the ARK came to rest on Al-Judi. Bible: GEN8:4 And the ARK rested……..upon the mountains of Ar-a-rat. Josephus has mentioned the remains of the ARK in Ararat-Mound Judi near Lake von and Quotes Berossus and other historians.[Nebrews Myths The book of Genesis by Robert Graves and Raphael Patai page 117] Abraham Showed the Existence of Allah. 6:75-80 Quran مکی When the night covered him over with darkness he saw the star .He said this is my lord. But when it set, he said, I like not those that set . When he saw the moon rising up,he said this is my Lord.But when it set he said;unless my Lord guids me,Isall surely be among the arring people. When he saw the sun rising up,he said this is my Lord.But when it set ,he said;O my people!I am indeed free from all that you Join as partners in worship with Allah verily,I have turned my face Towards him who has created the heaven and the earth.(Al Anam75-80) Bible:Said not hing about this event. Jubilees 12:16-20 And…Abraham set up during the night so that he might observe the stars from evening until day break so that he may see what the natures of the year would be with respect to rain ……..And a word come into his heart ,saying,All of the signs of the Stars and the signs of the Sun and the moon are all in the hand of the Lord………..And he prayed on that night,saying;My God the most High God,you alone are God to me And you created every thing which is was the work of of your hands and you and your Kingdom I have chosen…………………….. Abraham migration مکی Quran 19:47-49 He(The Father) said;Do you reject my gods, O Ibrahim if you stop not (this),I will indeed stone you.So get away from me safely before I punish you said;peace be on you ….And I shall turn away from you and from those whom you involk besides Allah…….So when he turned away from them and from these whom they worshipped besides Allah. قرآن کریم کے مطابق ابراھیمؑ نے باپ کی زندگی میں اور باپ کے کہنے پر ہجرت کی تھی۔ Bible Gen11:32,12:1-4 And the days of Te-rah were two hundred and five years;and Te-rah died in Ha.ram. Now the lord had said into Abraham,Get three out of thy Country,and from the Kindred,and from thy Father’s house into the land a land that i will departed as the Lord had spoken unto him. بائیبل کے مطابق حضرت ابراھیمؑ نے ہجرت باپ کی وفات کے بعد کی تھی۔ Jubilees 12:28-30,131 Andi t came to pass…..that he (Abraham) spoke with his Father and let him know that he was going from Hara nto walk (in) the land of Canaan so that he might see it and return tohim And Tera,his Father,said to him; Go in peace ma God eternal make straight your path and Lord be with you and protect you from all evil………..And when you have seen a land pleasant to your eyes to do well in ,come and Take me to you,……… ‘‘کتاب جوبلی کے مطابق بھی ہجرت ابراھیم باپ کی زندگی میں اور باپ کے کہنے پر ہوئی’’ Ibrahim and Hajj مدنی Quran 22:28-29 And proclaim to mankind the Hajj(Pilgrimage).They will come to you on foot and on every lean camel, they will come from every deep and distant mountain highway to prefor Hajj…..and mention the name of Allah on appointed days over the beast of cattle that he has provided for them (for sacrifice) at the time of their slaughtering. Bible=Syas nothing about Hajj= Jublees The Hajj of Booths 16:20-31 And he built an alter to the Lord who delivered him and who made him rejoice in the Land of his sojourm.And he clebrated a feast of rejoicing in this month seven days, near by the altor which he built by the well ofoath and he built booths for him self and for his servents, an that festival.And he first observed the feast of the booths on the earth And in these seven days he was making offering everyday, day by day, on the after a burnet offering to the Lord,…………………….And he blessed and rejoinced and called the name of this festival of the Lord,……..and each day of the days he used to go around the after with branches, seven times per day,in the morning,………….. عبرانی کا لفظ جسکا ترجمہ فیسٹ کی گیا ہے اصل میں حج ہے اور فیسٹ آف بوتھ سے مراد ہے خیموں کا حج اب کوئی بھی عرفات کے میدان کو حج کے موقعہ پر ایک نظر سے دیکھے گا وہ اسبات کا نکار نہیں کرسکتا ہے کہ یہ خیموں کا فیسٹ ہے اور یاد رہے کہ حج کے مناسک میں میدان عرفات کا منسک ہی سب سے اہم منسک ہے نیز آج دنیا کے تختہ پر سوائے کعبہ کے کوئی دوسرا خدا کا گھر نہیں ہے جسکے سات چکر لگائے جاتے ہوں اور اس موقعہ پر جانور قربان کیے جاتے ہوں اسلیے ذکر حضرت ابراھیم کے کعبہ کے حج کے ذکرکے سوا اور کسی حج کا ذکر نہیں ہے۔ Abraham’s farewell Testimony for his Children. مدنی Quran 2:132-133 When his Lord said to him, „Submit,“ he said „I have already submitted to the Lordof the worlds.“ The same did Abraham enjoin upon his sons,- and also Jacob also- saying „O my sons, truly Allah has chosen this religion for you, so let not death overtake you except when you are in a state of complete submission.” Bible For I know him (Abraham),that he will Command his Children and his houshold after him and they shall keep the way of the Lord, to do Justice and Judgment; that the Lord may bring upon Abraham,that which he hath spoken of him.(Gen18:19) اب بائیبل کے مطابق بھی خدا تعالی فرماتا ہے کہ ابراہیم اپنے بیٹوں کو اللہ تعالی کے راستہ پر اور انصاف کی راہ پر چلنے کی وصیت کریگا لیکن حضرت ابراھیم کی کسی وصیت کا پوری بائیبل میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ Jubilee30:1 Abraham called Ismael and his Twelve Children and Isaac and his two children and Keturah’s six children and their sons And he commanded them that they should guard the way of the Lord so that they might love his neighbour ,and it should be thus among all men so that one might proceed to act Justly and rightly toward them upon earth………..and that they should not cross over either to the right or left from all of the ways which the Lord commanded us………. I exhort you,my sons love the God of heaven and be jained to all of his commands اس کے آگے کچھ احکامات کی تفصیل اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والے انعامات کا ذکر ہے اور انعامات کے ذکر میں مزید لکھتا ہے کہ And you will become a blessing upon the earth and all of the nations of the earth will desire you and they will bless your sons in my name so that they might be blessed just as I am. اور یہ آخری الفاظ درودشریف کا لفظ بلفظ ترجمہ ہے اور مسلمانوں کے ذریعہ یہ پیشگوئی کی بڑی شان سے پوری ہو رہی ہی ہے۔ Quran 2:128 مدنی And remeber the time when Abraham and Ismael raised the foundation of the house praying our Lord accept this from us; Targum (Gen 22:9TgPsJ) They(Abraham and hiss on) to the place of which the Lord had told him ,and their Abraham(re)built the altor,which,Adam had built and (which) had been demalished by the water the water of the Flood . Noah rebuilt it,but it was demolished in the generation of the Division. PRE Ch31 He(son) also janded Abrahams stones to rebuild the broken alter which stood there, It had been raised by by Adam and used in turn by Abel ,Noah and Shem. بائیبل میں ایسے واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ Quran21:69-70 مکی „They said, burn him and help your gods..we said O fire, be thou a means of coolness and safety for Abraham.“ Quran 29:25 And the only answer of his people was that they said, „Slay him or burn him,“ But Allah delivered him from the fire.... Quran37:98 They said, „Build for him a structure and Cast him into the Fire.“ Targum TgPs(Gen11:28) Andi t came to pass ,when Nimrod cast Abraham into the fiery furnace because he would not worship his idols and there was no Power for the fire to burn him. Targum TgPs(Gen15 16:5) Andi t came to pass, when Nimrod cast Abraham into the Fiery furnace because he would not worship his idols and there was no power for the fire to burn him. Targum TgPsT (Gen15 16:5) Hagar the Egyptian the hand maid, who is of the children of the peole who threw you into the fiery furnace. Targum (Gen 15:7) I am the Lord who brought you out of furnace of fire of the chaladeans.بائیبل میں اس واقعہ کا کو ئی ذکر نہیں ہے۔ Quran 11:70-71 مکی And surely, our messengers come to Abraham with glad tidings…………and was not long in bringing a roasted calf. But when he saw their hands not reaching there to, he considered this strange on their part and conceived fear of them. They said, „Fear not, for we have been sent to the people of Lot.“ Quran 51:25 مکی Has the story of Abraham’s honoured guests reached thee? when they entered upon him….He thought that they were strangers. And he went quietly to his household and brought a fatted calf, and he placed before them and said, „will you not eat?“ Bible Gen18:2-8 And he lifted up his eyes and looked and to three men stood by him…….And Abraham ran unto the herd and fetcht a calf tender and good…..and he took butter and milk and the calf…..and they did eat. قرآن کے مطابق مہمانوں نے کھانا نہیں کھایا تھا مگر بائیبل کے مطابق فرشتوں نے کھایا تھا مگر بائیبل کے دوسرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Targum Tg Neofiti Gen18:8 Then he took curds and milk and the calf which he had prepared, and placed it before them;…..and they were giving the impression of eating and drinking. Quran 2:134 مدنی Were you prsent when death come to Jacob, when he said to his sons, what will you worship after me? They answered We will worship thy God, the God of the Fathers Abraham and Ishmael and Isaac the one God and to Him we submit ourselves. Bible Not menchend(Mentioned) Targum Neofiti 1(Gen 49:2) After the twelve Tribes of Jacob had gathered togalhelher (together?)and sourrounded;the bed of glad on which on Jacob lay……….our father Jacob answered and said to them….lest there should be among you one whose heart is divided against him are to go and worship before foreign Idols,, The twelve….of Jacob answerd to……………dear us , o Israel ,our father;The lord our God is one. ‘‘نصارٰی اور قرآن کریم’’ 1)ایل کتاب کو دعوت اتحاد3:65 2)نصارٰی میں بھی ایمان دار ہیں2:63 3) نصارٰی کے دعوای کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جائیگا2:112 4)یہودو نصارٰی ایک ہی کتاب پڑھنے کے باوجود اایک دوسرے کے مترادف دعوے کرتے ہیں2:114 5) نصارٰی اور یہود اسوقت تک راضی نہ ہونگے جب تک ان کی قوم کی پیروی نہ کی جائے2:121 6)عیسائیت کے علاوہ ہدائیت نہیں ہے۔2:136 7)یہودو نصارای کا دعویٰ کہ ابراھیم۔یعقوب اور ان کی اولاد ان کے مذہب پر تھے2:141 8)عسیائیوں سے عہد مگر عیسائیوں کا اس عہد کی تعلیم کو بھلا دینا جسکے نتیجہ میں دشمنی پیدا ہونا5:15 9) نصارٰی کا دعویٰ کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں 5:18 10) نصارٰی کو دوست نہ بناؤ5:52 11)مگر لڑائی نہ کرنے والوں سے دوستی کی ممانعت نہیں ہےالممتحنہ60:9 12) نصارٰی ایمان دار اور جنتی ہو سکتے ہیں5:70 13) نصارٰی مسلمانوں سے دیگر مذاہب والوں کی نسبت زیادہ محبت کرنے والے ہیں5:83 14) نصارٰی کا دعویٰ کہ مسیح اللہ تعالی کا بیٹا ہے9:30 15)نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے روزے ہوگا22:18 ‘‘حواری’’ 1)حواری اللہ کے انصار تھے اور مسیح پر ایمان لانے والے 3:53،61:156 الصف 2)حواری پر وحی اور اسکے نتیجہ میں ایمان لانا:5:112 بائیبل اور بے ایمان 17:17-20 حواریوں کو بے انعقاد بے ایمان کہتا ہے۔متی ایمان کا ثبوت پہاڑوں کا سرکانا ۔ متی 17:20 ایمان کا ثبوت پہاڑوں کا لوقا9:41مرقس9:19 ہے متی اور اس نے ان کی بے اعتقادی کے سبب معجزہ نہ دیکھا13:58ان کی بے اعتقادی پرتعجب کیا مرقس6:6(معجزہ نہ دکھا سکا) حواری بے ایمان دے اعتقاد تھے مرقس16:14 کرنتھیون6:15بے ایمان کا ایمان دار سے کیا واسطہ -2 وہ بے ایمان سے بدتر ہے5:8(TIM) نتھیمین بے ایمانوں کے لیے کچھ بھی پاک نہیں 1:15(Tit) ططق کرنتھیون10:27بے ایمانوں میں سے کوئی-1 2کرنتھیون6:14بے ایمانوں کا حصہ آگ اور گندھک ہوگا ٹمتھس بے ایمانی کی حالت-1 دوسروں کو کتے کہنا۔متی15:26،7:6مرقس7:27 کتوں سے خبردار ہو۔فلپیون3:2،مکاشفہ22:15

جنگ سے متعلق قرآن و بائبل کی تعلیم کا موازنہ

جنگ اور قوانین بائیبل 1 گنتی=31:172:34-35,3:6-7 عورتوں اور بچوں کا قتل۔استثناء صاحب جنگ خدا۔خروج15:3،زبور24:8،یسمیاہ42:13 جنگ سکھانے والا خدا۔زبور144:1،18:34 ،7:9،22:19 15:1-3Sam-1 جانوروں اور شرخواریخوں کا قتل۔ 15:18Sam-1 دشمن کے فنا ہونے تک لڑائی۔ صلح نہیں تلوار۔متی10:34 20:16-18،استثناء 7:2-7 دشمن کو نابود کرنے کا حکم۔استثناء جانوروں اور باشندوں کا قتل۔استثناء13:5 20:2-3 تواریخ -1 ،12:31Sam-2 دشمن کو آروں سے چیرنا۔ بغیر وجہ کے جنگ۔استثناء2:24 22:49-51،لوقا 22:36-38 یسوع کا تلواریں خریدنے کا حکم۔لوقا درختوں کا تباہ کرنے کی تعلیم قرآنکریم ایک نفس کا قتل تمام انسانیت کا قتل 5:33 بت پرست ناپاک ہیں۔الیتھون5:5 قوانین قرآن 42:40-44, 9:36 ،22:40 ، 12:191-192 دفاعی لڑائی کی اجازت۔ الَّذِیۡنَ اُخْرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمْ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللہُ ؕ وَلَوْلَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمۡ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیۡہَا اسْمُ اللہِ کَثِیۡرًا ؕ وَلَیَنۡصُرَنَّ اللہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللہِؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾ وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾ اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظْلِمُوۡنَ النَّاسَ وَیَبْغُوۡنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾ وَلَمَنۡ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾ وَمَنۡ یُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ وَّلِیٍّ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ ؕ وَتَرَی الظّٰلِمِیۡنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلْ اِلٰی مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِیۡلٍ اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللہِ اثْنَاعَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ مِنْہَاۤ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الْقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظْلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَكُمْ کَآفَّۃً ؕ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیۡنَ عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے لڑائی۔22:41 اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوۡا بِالْمَعْرُوۡفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلہِ عَاقِبَۃُ الْاَمُوۡر مذہبی آزادی کے لیے لڑائی۔2:144 اَلشَّہۡرُ الْحَرَامُ بِالشَّہۡرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ؕ فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیۡكُمْ فَاعْتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیۡكُمْ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیۡنَ جنگ میں انصاف ترک نہ کرو۔ جنگ نہ کرنے والوں سے نیکی کا حکم جنگ روکنے کے لیے مجلس کا قیام49:10 اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡكُمْ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوۡنَ بغیر شرعی جواز کے قتل کی ممانعت25:69 یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیۡہٖ مُہَانًا جبر مٹانے کے لیے۔8:40 وَقَاتِلُوۡہُمْ حَتّٰی لَاتَكُوۡنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَكُوۡنَ الدِّیۡنُ كُلُّہٗ لِلہِ ۚ فَاِنِ انۡتَہَوْا فَاِنَّ اللہَ بِمَا یَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ مظلوم بچوں اور عورتوں کی حفاظت کے لیے ۔4:76،8:73 اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ وَالَّذِیۡنَ اٰمنُوۡا وَلَمْ یُہَاجِرُوۡا مَا لَكُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَ اِنِ اسْتَنۡصَرُوۡكُمْ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍۭ بَیۡنَكُمْ وَبَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ وَمَا لَكُمْ لَاتُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ وَاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚۙ وَّاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا جنگ نہ کرنے والوں سے صلح۔النساء8:62،4:91 اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوْمٍۭ بَیۡنَكُمْ وَبَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ اَوْ جَآءُوۡكُمْ حَصِرَتْ صُدُوۡرُہُمْ اَنۡ یُّقَاتِلُوۡكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوۡا قَوْمَہُمْ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیۡكُمْ فَلَقٰتَلُوۡكُمْ ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوۡكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوۡكُمْ وَاَلْقَوْا اِلَیۡكُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللہُ لَكُمْ عَلَیۡہِمْ سَبِیۡلًا وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ معاہد قوم کی پناہ لینے والوں سے ممانعت4:91 اِلَّا الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ اِلٰی قَوْمٍۭ بَیۡنَكُمْ وَبَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ اَوْ جَآءُوۡكُمْ حَصِرَتْ صُدُوۡرُہُمْ اَنۡ یُّقَاتِلُوۡكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوۡا قَوْمَہُمْ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیۡكُمْ فَلَقٰتَلُوۡكُمْ ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوۡكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوۡكُمْ وَاَلْقَوْا اِلَیۡكُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللہُ لَكُمْ عَلَیۡہِمْ سَبِیۡلًا غیر جانب دار لوگوں سے ممانعت4:90 وَدُّوۡا لَوْتَكْفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَكُوۡنُوۡنَ سَوَآءً فَلَاتَتَّخِذُوۡا مِنْہُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوْا فَخُذُوۡہُمْ وَاقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ ۪ وَلَاتَتَّخِذُوۡا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَّلَانَصِیۡرًا زیادتی کی ممانعت۔16:127 وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوۡا بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبْتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ،10:109،18:30،2:25788:22-23 دین میں جبر نہیں42:16، فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ۚ وَاسْتَقِمْ کَمَاۤ اُمِرْتَ ۚ وَلَاتَتَّبِعْ اَہۡوَآءَہُمْ ۚ وَقُلْ اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ مِنۡ کِتٰبٍ ۚ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیۡنَكُمۡ ؕ اَللہُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ؕ لَاحُجَّۃَ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَكُمۡ ؕ اَللہُ یَجْمَعُ بَیۡنَنَا ۚ وَ اِلَیۡہِ الْمَصِیۡرُ کَلَّاۤ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا وَّجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا لَاۤ اِكْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ٭ لَاانۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ لَاۤ اِكْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ٭ لَاانۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَاللہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ قُلْ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَاِنَّمَا یَہۡتَدِیۡ لِنَفْسِہٖ ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَایَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ وَمَاۤ اَنَا عَلَیۡكُمۡ بِوَکِیۡلٍ 60:9-10 عیسائیوں کو دوست بنانا اور اچھا سلوک کرنا لَایَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقَاتِلُوۡكُمْ فِی الدِّیۡنِ وَلَمْ یُخْرِجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِیَارِكُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمْ وَتُقْسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمْ ؕاِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ ﴿۸﴾ اِنَّمَا یَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡكُمْ فِی الدِّیۡنِ وَاَخْرَجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِیَارِكُمْ وَظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخْرَاجِكُمْ اَنۡ تَوَلَّوْہُمْۚ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ 60:2-3 دشمن سے جگری دوستی نہ کرو یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَاتَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوۡا بِمَا جَآءَكُمۡ مِّنَ الْحَقِّ ۚ یُخْرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنۡ تُؤْمِنُوۡا بِاللہِ رَبِّكُمْ ؕ اِنۡ كُنۡتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَادًا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیۡ ٭ۖ تُسِرُّوۡنَ اِلَیۡہِمۡ بِالْمَوَدَّۃِ ٭ۖ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیۡتُمْ وَمَاۤ اَعْلَنۡتُمْ ؕ وَمَنۡ یَّفْعَلْہُ مِنۡكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱﴾ اِنۡ یَّثْقَفُوۡكُمْ یَكُوۡنُوۡا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّیَبْسُطُوۡۤا اِلَیۡكُمْ اَیۡدِیَہُمْ وَاَلْسِنَتَہُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَ وَدُّوۡا لَوْتَكْفُرُوۡن َ 60:9-10 نہ لڑنے والوں سے دوستی اور نیکی کرنے کی تعلیم۔ لَایَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمْ یُقَاتِلُوۡكُمْ فِی الدِّیۡنِ وَلَمْ یُخْرِجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِیَارِكُمْ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمْ وَتُقْسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمْ ؕاِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ ﴿۸﴾ اِنَّمَا یَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡكُمْ فِی الدِّیۡنِ وَاَخْرَجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِیَارِكُمْ وَظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخْرَاجِكُمْ اَنۡ تَوَلَّوْہُمْۚ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ 5:34-35۔ زیادتی کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے سزا اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوْیُصَلَّبُوۡۤا اَوْتُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنۡفَوْا مِنَ الۡاَرْضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۳۳﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَقْدِرُوۡا عَلَیۡہِمْ ۚ فَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ مشرکوں کو پناہ دینے کی ہدایت9:6 فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ وَخُذُوۡہُمْ وَاحْصُرُوۡہُمْ وَاقْعُدُوۡا لَہُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ 16:127-128 بدلہ لیتے وقت انصاف کا حکم اور معاف فرمانا بہتر قَدْ مَکَرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ فَاَتَی اللہُ بُنْیَانَہُمۡ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیۡہِمُ السَّقْفُ مِنۡ فَوْقِہِمْ وَاَتٰىہُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیۡثُ لَایَشْعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُخْزِیۡہِمْ وَیَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ كُنۡتُمْ تُشَآقُّوۡنَ فِیۡہِمْ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَالْسُّوۡٓءَ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ معاہدہ توڑنے والوں سے جنگ کرو9:6 فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ وَخُذُوۡہُمْ وَاحْصُرُوۡہُمْ وَاقْعُدُوۡا لَہُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنۡ تَابُوۡا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوۡا سَبِیۡلَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ‘‘آنحضرتﷺکی پیشگوئیاں’’ 1)سفید گھوڑے پر سوار۔سچا اور بر حق۔راستی کے ساتھ انصاف اور لڑائی کرنے والا۔اسکا نام جسکو اسکے ہو کوئی نہیں جانتا۔خون کی جھڑ کہ ہونی پوشاک پہنے ہوئے۔اسکا نام کلام خدا۔آسمانی فوجیں سفید گوڑوں پر سوار اور سفید لباس پہنے ہوئے اس کے پیچھے ۔قوموں کے تا مرنے کے لیے اسکے منہ سے تلوار نکلتی ہے۔لوہے کے عصا سے حکومتْاسکا نام بادشاہوں کا 19:11-17 بادشاہ اور خداوند کا خداوند۔مکاشفہ زبور۔تلوار والا،سچائی۔حلم۔صداقت۔ تیز تیز دشمنوں کےدل میں لگے راستی کا عصا۔صداقت سے محبت 45:2-10اور بدکاری سے نفرت تیسرے ہمسروں سے زیادہ مسع کیا۔معزز شہزادیاں۔ زبور گناہ کی معافی 130:3-47 خدا شفیق ہے۔زبور خروج33:199:15-18 رحیم ہے۔رومیوں 9:17-18 معاف کرنے ولا۔زبور86:15،86:5،78:38،نحمیاہ 3:2-6 لوقا13:3، 19:21-2 امثال28:13۔لوقا17:4،متی2 ،متی12:419:15-18 اعمال8:22،رومیوں ،متی16:15،مرقس11:2619:21-23 توبہ اور نیکی کرنے سے۔متی17:4،متی یرمیاہ5:1 11:13-14 ، ایوب 1:15-18 شفقت اور سچائی سے۔امثال16:6،یسعیاہ ‘‘قدیر کا قانون’’ ادنیٰ اعلیٰ پر قربان ہوتا ہے روز مرہ کا اصول قتجربہ شریر صادق کا 25:7-13 فدیہ۔۔امثال21:18،امثال گنتی یوحنا11:50(یہودی جویسوع کو جھوٹا سمجھتے تھے ان کا بیان) کیونکہ وہ یسوع کو گناہ گار سمجھتے تھے۔یوحنا9:24،یوحنا18:30 خدا کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا۔لوقا5:21

بائبل میں ایمان کی نشانیاں

پہاڑ چلا سکتے ہیں۔متی17:21،22-21:21،لوقا6-17:5 بدروحوں کو نکالیں گے-نئی زبانیں بولیں گے-بیماروں کو شفا دیں گے۔مرقس18 16:16 مجھ سے بھی بڑے کام کرے گا۔یوحنا14:12 دعا قبول ہو گی۔متی22-21:21 یعقوب 5:15،یوحنا15:7،14:2 ایمان-دائمی ھے۔کرنتھیون13:13 بپتسمہ پانے والا روح القدس پائے گا اور یہ وعدہ دور کے لوگوں کے لیے بھی ہے۔اعمال39-3:38 نیک کی دعا سنی جاتی ہے۔یوحنا9:31 17:5-10 ایمان بڑھانے کا نسخہ۔ نوافل کی ادایئگی کو شخص دوسرے کے گناہ نہیں اٹھا سکتا۔حزقیل 18:5-20 گناہ کی معافی کے اصول رحم سے۔متی 9:13 ، 12:7 گنتی 14:19-20 نیکوں سے۔امثال 21:3، ہوسیع 6:6 توبہ اور دعا سے۔ یعقوب 5:15، استثناء 9:8-20،2 تواریح 6:25۔ 1یوحنا 5:16، 2 تواریخ 7:14 ، 6:27، 6:30 دوسروں سے نیک سلوک کرنے سے۔ لوقا 11:4 صبح بھی معاف کر سکتا تھا ۔ متی 9:6، رقس 2:10 ،لوقا 5:24 توبہ سے۔ زبور 32:5، یسعیاہ 55:6-7یرمیاہ 3:12-15 گناہوں کے اقرار سے۔امثال 28:13، لوقا 15:4-25، متی 18:23-25 ، اعمال 8:22، متی 3:2-6 ، مرقس 1:4-5

بائبل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے علاوہ بے گناہ انسان

حنوک۔پیدائش ،5:24،عبرانیوں 11:5 حنوک خدا کا پسندیدہ اور محبوب ۔ حکمت 4:10-11 بچےبےگناہ ہیں۔متی 18:3 نوح=پیدائش 6:9 لوط راستباز۔2 پطرس 2:7-8 کالب۔نحمیاہ 9:7، استثناء 1:36 ابراہیم۔پیدائش 26:5 یسعیاہ 11:22 نحمیاہ9:7-8،یعقوب2:23 داؤد۔1سلاطین11:34،14:8اعمال۔13:36،13:22 ایوب۔ ایوب2:3،1:1،1:8 سدرک۔میک۔عید نحو۔دانیال3:21-27، دانیال6;22 زکریا اور اسکی بیوی۔لوقا1:6 یوحنا اسطباغی۔1:15 لوقا ماں کےپیٹ سے روح القدس،رقس6:20 یوسیاہ۔ 2 ۔سلاطین۔23:25،حزقیاہ ، 2۔سلاطین18:5-6 شمعون۔ لوقا2:25،2:37 مالک صدق سالم۔پیدائش14:18 انسان خدا کی صورت پر پیدا ہؤا ہے وہ خدا کی صورت اور اس کا جلال ہے۔1۔کرنتھیوں11:7 وہ (یسوع) خدا کی صورت پر تھا۔فلپیون 2:6 ،کلیسون1:15 جو خدا کی صورت پر پیدا ہوئے۔یعقوب3:9 سمسون۔قضاۃ13:4-5،13:7،یوسف۔متی1:19 کرنیلس۔اعمال10:22 ابراہیم بے عیب تھا۔حکمت10:5 بنی اسرائیل کی بے عیب نسل10:15حکمت دیگر انبیاء =متی13:17،متی5:45

آنحضرت ﷺکےمتعلق پیشگوئیاں

بکہ یعنی مکہ کے متعلق۔ زبور84:4-7 LXX میں شریعت لانے کی پیشگوئی دس ہزار قدوسیوں کےساتھ۔ استثناء33:2-3 موسیٰ کی مانند نبی۔ استثناء 18:15-22 ، اعمال3:21-23 عرب کی بابت۔ یسعیاہ 21:13-17 قرآن کےمتعلق۔ یسعیاہ28:9-13 ، مکاشفہ ،20:12-13 دائمی شریعت۔ یسعیاہ 9:6-7 ، نیا گیت ، یسعیاہ42:10-17 بہادر جنگی مرد۔ یسعیاہ42:10-17 اسلام کی خبر دینے والا۔ یرمیاہ28:9 حضرت داؤد کی پیشگوئی45:1-9 زبور حبقوق کی پیشگوئی ۔ حبقوق3:1-14 نیا نام دیا جانے کی پیشگوئی ۔ یسعیاہ62:1-6 محمدیم کا دس ہزار سے ممتاز ہونا۔ غزل لغزلات 5:10-16 اچانک ہیکل مین آنے کی پیشگوئی۔ ملاکی 3:1 خدا کے پیاروں کی نشانیاں کھا ئیں گے پیئینگے۔ یسعیاہ65:13 مغضوبوں پر لعنت کریں گے۔ یسعیاہ65:15 خدائے بر حق کے نام سے دعا کریں گے۔65:16 خدائے بر حق کے نام کی قسم کھائیں گے۔65:16 نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کروں گا۔65:17 خداوند کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں 65:23 ان کی دعا قبول کی جائے گی پیشتر اس سے کہ وہ دعا کریں جانور کوہ مقدس پر ضرر نہیں پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے۔یسعیاہ 65:25 منصوبوں کی نشانیاں سؤر اور مکروہ چیزیں کھائیں گے۔66:17 تمام بنی آدم کے لئے نفرتی ہونگے۔66:24 پیاسےاوربھوکےرہیں گے۔65:13 شرمندہ رہنا۔65:13 خدا کےنام کی خاطر خارج کرنے والے شرمندہ ہونگے۔یسعیاہ66:2-8 انجیل کی پیشگوئیاں دوسرا مددگار۔سچائی کاروح۔یوحنا14:16-17 تمام باتیں سکھائے گا۔میرس باتیں یاد کرائے گا۔ اطمنان دیتا ہوں۔ اصل ترجمہ اسلام ہے۔یوحنا14:25-27 میری گواہی دے گاخاتم النبیین۔یوحنا 15:27-27 خدا سے خبریں پائے گا۔یوحنا16:7-15 آئندہ کی خبریں۔یوحنا16:15 روح القدس پہلے نبی دے چکاتھا۔ یوحنا20:19-23 اب تم ان باتوں کی برداشت نہیں رکھتے۔یوحنا 16:12-13 خداوند کے آنے کی پیشگوئی۔ خدا کی بادشاہی دوسری قوم کو دینے کی پیشگوئی۔ متی 21:43

آمد ثانی

پیشگوئی کا ذکر۔ متی باب24 ، مرقس باب13 ، لوقا باب21 خود نہیں آئے گا جیسے ایلیا خود نہیں آیا۔ متی17:12-13 ، متی11:13-14 ایلیا کے آنے کی پیشگوئی۔ ملاکی4:5-6 ایلیا آسمان پر چلا گیا۔2۔2:11 Kin یوحنا ایلیا کی روح اور قوت سے آیا۔ لوقا1:17 علامات ہیکل کی تباہی۔متی24:1-2 نئی پیدائش کے ساتھ آئے گا۔ متی19:28 جھوٹے مسیح اورنبیوں کا آنا۔متی24:11،24:5 ماننے والے قتل ہونگے۔ متی24:9 ،مرقس13:9-10،13:12 بے دینی بڑھ جائے گی۔ خدا کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔ متی24:11 ایمان غائب ہو جائے گا۔لوقا18:8 ،4:1-3Tim-1، بادشاہی کی منادی تمام دنیا میں ہو گی۔ متی24:14 پورب سے پچھم کو آئے گا۔ متی24:27 چاند سورج کو گرہن لگے گا۔ متی24:29 متی24:30 کی آواز کے ساتھ فرشتے برگزیدوں کو گمع کریں گے۔آسمان زمین کے اس کنارے سے اس کنارے تک۔مرقس13:27 ضرور آئے گا۔ یہ پیشگوئی ضرور پوری ہو گی۔ متی............... لڑائیاں ہونگی۔ متی24:7 کال پڑیں گے۔ زلزلے آئیں گے۔ مسیح کے آنے کا وقت کوئی نہیں جانتا۔ متی24:36-42 ، 24:44-46 ، لوقا 12:40 دنیاروز مرہ کےکاروبار میں مشغول ہوگی۔ متی24:44-46 دجال کے ظہور کے بعد مسیحا آئے گا تھسلنیکیون ۔2:2-4 دوبارہ آمدکی منادی کرنی چاہئے تھسلنیکیون 4:18 دجال اس کی دعاؤں سے ہلاک ہو گا تھسلنیکیون 2:8-9،مکاشفہ 19:19-20 جنگ کاخاتمہ ہوگا۔ یسعیاہ 2:4،میکا4:3-4 ، زبور72:7-16 اسرائیل ایک ہو جائے گا اور ان کا ایک ہی بادشاہ ہو گا۔حزقیل37:19-28 اسرائیل تمام دنیا سے اکھٹے ہونگے۔یسعیاہ11:11-12،27:13 ،حزقیل37:11-14، یسعیاہ 37:31-32 ، 35:1-9، 33:13-24، 32:15-20، 30:18-26 ، حزقیل 16:60-63، یوایل 3:1-21، میکا 5:2-9 ، عاموس 9:9-15 ، ملاکی6-4:3 ،زکریا 8:1-8 آمد یقینی۔ یوحنا 14:3 ، عبرانیوں 9:28 ، فلیپیون 3:20-21، مکاشفہ22:20 چور کی مانند آئے گا۔مکاشفہ16:15 ، تھسلنیکیون 5:2-3 ، متی 24:37-39 ، پطرس3:10 اچانک آئے گا۔ متی24:42 بعض تضادات خداوند جب آئے گا تمام مردے زندہ ہونگے۔ خداوند للکار، فرشتے کی آواز اور خدا کے نرسنگے کےساتھ آئے گا۔آسمان سے اترنے۔۔۔اسکااستقبال ہوگا۔ زمین والے لوگ تھسلنیکیون 4:13-18 زمین پر آئے گا۔ امین برحق کہلائے گا۔ خون سے چھڑکا ہؤا لباس پہنے گا منہ سے تیز تلوار نکلے گی۔ لوہے کے عصا سے حکومت کرے گا۔ بادشاہوں کا بادشاہ ہو گا۔ مکاشفہ9:1-16 چور کی مانند آئے گا۔ مکاشفہ 16:15 ، 2 ۔ پطرس3:10 عدل و اصاف کرے گا۔ شریر اس کے دم سے ہلاک ہوگا۔ ظالم کو منہ کی چھڑی سے مارے گا۔ امن ہو گا۔ فساد نہ ہو گا۔ یسعیاہ عورت کا بچہ لوہے کے عصاسے حکومت کرے گا۔ مکاشفہ12:1-6 مسلمانوں کے مطابق مکہ میں آئیں گے۔ یہودی اور عیسائی کہتے ہیں یروشلم میں آئے گا۔ زمین اورسمندرکا حیوان دجال سات سر۔ دس سینگ۔ دس تاج۔ سروں پر کفر لکھا ہوگا۔ شکل چیتے کی۔ پاؤں ریچھ کا منہ ببر کا۔ اژدہا نے اسکو اختیار دیا۔ دنیا اس کے پیچھے ہو گی۔ حیوان اور اژدہا کو لوگ سجدہ کرینگے۔ اس سے لڑنے کی کسی کو طاقت نہ ہو گی۔ (ساڑھے تین سال)بڑا بول اور کفر بکے گا42ماہ رہے گا۔ مقدسوں سے لڑائی کرکے غالب آئے گا۔ مکاشفہ13:1-10 آسمان سےزمین پہ آگ برسائے گا۔ حیوان کو سجدہ نہ کرنے والے قتلکئے جائینگے۔ سبکو نشان لگائے گا تاکہ کوئی خریدوفروخت نہ کر سکے سوائے ان کے جن پر اس حیوان کا نشان ہو۔ مکاشفہ13:11-18 ، اسکا عدد 666۔ہے ۔ مکاشفہ 13:18 دجال کی دیگر علامات خداکے مخالف، خدا کےبندوں پر ظلم کرے گا عہدوں اور شریعتوںمیں تبدیلی کرے گا۔ ساڑھے تین زمانوں تک رہے گا۔ دانیال 12:--- دجال کی علامات ہر معبود سے بڑا ہونے کا دعویٰ کرے گا تھسلنیکیون 2:4 دنیا میں امن قائم کرنے کادعویٰ کرے گا۔ مکاشفہ6:2 سفید گھوڑے پر سواری لا مذہب ہو گا عملی طور پر۔باپ دادا کےمعبود کی پرواہ نہیں کرے گا بلکہ خود کو سب سے بالاسمجھے گا۔ دانیال11:37 فوجی طاقت پر گھمنڈ کرے گا اور اپنی طاقت یا حمایت حاصل کرنے کےلئے بے پناہ دولت خرچ کرے گا۔ دانیال11:38 حکمرانی اور زمین بانٹے گا۔دانیال11:39 جو اس کو قبول کریں گے ان کودولت دے گا۔ دانیال 11:39 ۔مکاشفہ ،6:12-17موازنہ قرآن القیمہ 75:9-10-12-13 ، المرسلات 77:9-10-11 ، النساء78:20-21 ، التکویر 81:2-4،82:2-3 یاجوج و ماجوج زمین کے چاروں طرف سے جمع ہو کر لڑائی کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔شہر کو گھیر لیں گے۔ آسمان سے آگ نازل ہو کر ان کو کھا جائے گی۔ مکاشفہ20:7-10 دجال کانا ہو گا۔ آنکھوںکےدرمیان ک ۔ ف ۔ ر لکھا ہو گا جسے ہر کوئی پڑھ لےگا۔اس کےحکم سےبارش ہو گی۔ تمیں اگائے گی۔ اپنے خزانے باہر نکال دے گی۔ خزانے اس کے پیچھے ہو لیں گے۔اس کےساتھ روٹیوں کاپہاڑ ہو گا اور پانی کی نہر ہو گی۔ دجال چمک دار گدھے پر ظاہر ہو گا اور اس گدھے کے دونوں کانوں کے درمیان70ہاتھ کا فاصلہ ہو گا۔ (مشکٰوۃ کتاب الفتن)

حضرت مسیح رسول الیٰ بنی اسرائیل

حواریوں کوغیر قوموں کی طرف نہ جانے کاحکم۔متی10:5-6 صرف اسرئیل کےلئے بھیجا گیا ہوں۔متی15:21-28 پاک چیز کتوں کو نہ دو ( غیر اقوام کتے ہیں)۔ متی7:6 یہودیوں کابادشاہ۔متی27:28 ، 2:2،یوحنا1:49 لڑکوں کی روٹی کتوں کو نہیں ڈال سکتا۔مرقس7:27 یہودیوں کے سوا کسی کو تبلیغ نہ کرتے تھے۔متی11:19،13:24 پطرس پہ غیر قوموں کو تبلیغ کرنے کاالزام۔اعمال11:1-3 اسرائیلی کےسب شہروںمیں پھرنے کی پیشگوئی۔متی10:23 یعقوب کے گھرانے پر بادشاہی۔ لوقا1:32 ،متی2:6 اسرائیل کے قبیلوں کا انصاف کرنے کی پیشگوئی۔متی 19:28 اسرائیل پر ظاہر ہو۔ یوحنا1:31 ایسے اندازمیں تبلیغ کہ غیر اسرائیلیوںکو سمجھ نہ آئے تمثیلی بیان کی وجہ۔ مرقس4:10-12 اسرائیل کے لئے منجی۔لوقا2:8-11

حضرت عیسیٰ صرف نبی اللہ تھے

نبی وطن میں مقبول نہیں ہوتا۔ لوقا 4:23-24،یوحنا 4:43-45 گلیل سے نبی برپا نہیں ہو گا۔ یوحنا7:52 نبی کےنام سے نبی کو قبول کرنے والا نبی کااجرپائے گا۔ متی21:11 لوگ اس کو نبی جانتے تھے۔ متی21:46 بڑا نبی برپا ہؤا ہے۔لوقا7:16 نبی آنے والایہی ہے۔ یوحنا6:14،یوحنا 7:41،9:18 خدانے بھیجا ہے۔یوحنا8:1، 4:34 ، 5:30 ، 5:36-37 ،6:38 یوحنا6:44،6:57

علامات دجال۔ بائبل اور حدیث میں

ڈھانپ لینے والی چیز کیونکہ وہ زمین کو ڈھانپ لےگا۔ سیرو سیاحت کرنے والایعنی جب کسی نے تمام روئے زمین کو امنی سیرو سیاحت سے قطع کرلیاہو۔ بڑا مالدار خزانے والا۔ سونے کو بھی دجال کہتے ہیں۔ بڑا گروہ۔ جو تجارت کے احوال اٹھائے پھرے۔ (تاج العروس) نشانیاں آخری زمانہ میں نکلے گا۔ دنیاکو دین سے ملائیں گے۔ بھیڑوں کے لباس میں ظاہر ہونگے۔ زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی مگر دل بھیڑ سے کی طرح ہونگے۔ (کنز العمال جلد 7) دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے سورۃ الکہف کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھنے کی ہدایت۔ حضرت تمیم داری نے دجال کو گرجے میں بندھا ہؤا دیکھا۔ (مسلم باب خروج دجال) دجال کے مقابلےکے لئے مسیح موعودقرآن سے طاقت حاصل کرے گا۔ (کنز العمال جلد 7) یاجوج ماجوج کثرت سے دنیامیں پھیل جائینگے۔ دنیامیں فساد پھیلائیں گے۔ الکہف ، 18:95-102 الانبیاء 2:96-99 سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان سچےنبیکی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔ استثناء18:18 جھوٹا نبی مارا جاتا ہے اور نیست و نابود کیا جاتا ہے۔ زکریا 13:3،یرمیاہ 29:31-32 ،استثناء18:20یرمیاہ28:15-17 سچے نبی ہمیشہ مخالفین کےمقابلہ میں کامیاب ہوتے ہیں۔ سلاطین 18:15-39 ،گنتی16:1-35 انبیاء پر غیب کی خبریں ظاہرکی جاتی ہیں۔ یرمیاہ33:2 سچےنبی کی پیشگو ئیاں پوری ہوتی ہیں۔ یرمیاہ 28:9، قرآن 72:27-28 سچےنبی کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ یوحنا9:21 ،11:41-42 سچےنبی ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اوران کوکوئی مخالفت کےباوجود ناکام نہیں کر سکتا۔ اعمال5:33-40 دعوٰی نبوت سے پہلےکی زندگی اور کرداربے عیب ہوتا ہے۔ یوحنا 8:46 اللہ تعالیٰ سچے نبی کی مددکرتا ہے اور وہ غالب ہوتے ہیں۔یوحنا 8:29 وہ اپنے پھلوں یعنی پیروکاروں کے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔متی 7:15-18 جھوٹےنبی بھی معجزات دکھا سکتے ہیں۔متی24:24-25 دجال کی مزید علامات دجال گرجے میں زنجیروں سے جکڑا ہؤا تھا۔ دجال نے غیب کی خبریں بتائیں۔ عنقریب جزیرہ سےنکلےگا اور ساری دنیامیں گھوم جائے گامگر مکہ اور مدینہ میں نہیں جائے گا۔ دجال بحیرہ احمر کی طرف سے ظاہرنہیں ہو گابلکہ مشرق کی طرف سے ظاہر ہو گا مگر مشرق کا رہنے والانہیں ہو گا (صحیح مسلم کتاب الفتن فی خروج الدجال) شام اور عراق کے درمیان کے علاقعہ میں ظاہر ہوگا۔ جدھر رخ کرے گا قتل و غارت اور فتنہ و فساد برپا کرے گا۔ 40 دن رہے گامگر ایک دن ایک سال کے برابر مہینہ کےبرابر اور ہفتہ کے برابر ہوگااور عام دنوں کے برابر بھی۔ تیز رفتاری سے چلے گا یا دنیا میں گھومے گا۔ ایمان لانے والوں پر بارش برسائے گا ۔ زمین کو فصلیں اگانے کا حکم دے گا۔ان کےجانور زیادہ دودھ دیں گے۔ ایمان نہ لانے والے قحط اور مصیبت کاشکار ہونگے اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا۔ ویرانے دجال کے کہنے پر خزانے الٹ دیں گے۔ نوجوان کوقتل کرکے اسکو زندہ کردے گا۔ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو برپا کرے گا جن سے کسی کو لڑنے کی طاقت نہ ہو گی۔ یاجوج ماجوج کو طاعون ہلاک کرے گی۔ شریر اور علی الاعلان بد کاری کرنے والوں پر قیامت آئے گی (مسلم کتاب الفتن) یک چشم ہوگا۔پیشانی پر کافر لکھا ہو گا۔ (مسلم کتاب الفتن۔ مسند احمد) دجال ایک گدھے پر سوار ہوگا جو چاند کی طرح چمکے گا۔اس کے کانوں کے درمیان ستر باع کا فاصلہ ہو گا۔ (مشکوٰۃ کتاب الفتن) دجال کے گدھے کا کان ستر ہزار لوگوں پر سایہ کرے گا۔ (تفسیر در منصور) شراب قران کریم شراب ۔ جؤا شیطانیکام ہیں ان سے بچو۔ المائدہ 5:91 شراب اور جوئے کے ذریعہ عداوت اور کینہ پیدا ہوتا ہےاور اللہ کےذکر اور نماز سے روکتے ہیں۔5:92 شراب اور جوئے کا نقصان زیادہ ہے اور فوائد کم۔2:220 شراب بائبل شراب پی کر خیمہ اجتماع(مقام مقدس میں جانا منع ہے)۔ احبار10 نذیر یعنی واقف زندگی کےلئے شراب پینا منع ہے۔ گنتی باب 6 شراب میں متوالے ہونا منع ہےافسیون5:18 خمار اور نشہ بازی میں سست ہونا منع ہے۔ لوقا 21:34 شراب نقصان دہ ہے۔ امثال31:6 مے سے ہنگامہ اور مسخرہ پن پیدا ہوتا ہے اور اس کاپینا دانائی نہیں ہے۔ امثال20:1 شرابی کھاؤ اور کنگال ہو جاتے ہیں۔ امثال23:20-21 مےسےبصیرت جاتی رہتی ہےہوسیح4:11 سؤر کی حرمت قرآن کریم مردار۔خون۔سؤر کاگوشت۔مردہ اور اللہ کےنام کے علاوہ کسی اور نام پر ذبح کیا ہؤاجانور حرام ہیں۔5:4 المائدہ بائبل سؤر کی حرمت جس جانور کےپاؤں چرے ہؤے ہوں مگر وہ جگالی نہیں کرتا انکا گوشت کھانا منع ہے۔ استثناء14:8 سؤر اسی بنا پر ناپاک ہے۔ آحبار11:7 اونٹ۔سامان۔خرگوش بھی ناپاک ہیں ۔11:4-6 سؤر نفرتی چیز ہے۔یسعیاہ65:3-4 موتی سؤروں کے آگے نہ ڈالیں۔ متی7:6 ناپاک روح سؤروں میں چلی گئیں۔متی8:30-32 نئے عہد نا مہ پر اعترا ضا ت بپتسمہ کے واقعہ میں تد ریجی تبدیلی رقس ۔ گناہوں کی بخشش کے لیے بپتسمہ لیا ۔ متی ۔ گناہوں کی معا فی کا ذ کر نہیں کر تا ۔بلکہ یوحنا کی بپتسمہ دینے میں ہچکچاہٹ کا ذکر۔ یوحنا نے بپتسمہ کا ذکر تک نہیں کیا۔ لوقا کے مطابق یسوع Inn-Stable میں پیدا ہؤا 2:7 متی کے مطابق پیدا ئش بیت لحم میں ہوئی مگر Justin اور Orggen واضح طور پرکسی غار میں پیدا ہونے کا ذکر کرتے ہیں اگر ان کے نزدیک موجود ہ انا جیل کا بیان درست ہوتا تو یہ اختلاف نہیں ہو سکتا تھا ----- مگر Gospel of Jamesمیں " غار میں پیدا ہونے کا ذکر ہے ۔ Justinکے مطا بق یسوع یردن میں بپتسمہ لیکر پا نی سے باہر آیا تو آسمان پر آگ نمودار ہوئی Epiphaniusکے مطابق Gospel according to Hebrew میں اس موقعہ پر روشنی ظاہر ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ Marcion کے نزدیک صرف ایک انجیل ہی 140؁ تک مصدقہ ہے۔ Gospel of Peter میں ذکر ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد 12 حواری مغموم تھے اور روتے تھے اسمیں یہود اسکریوطی کے اکراج کا کوئی ذکر نہیں۔ Paul بارہ نے دیکھا

نیا عہد نامہ پر اعتراضات

متی کے نسب میں 4 نسلوں کی کمی ہے مثلا متی کے مطابق JoramاورJonathan کے درمیان صرف دونسلیں ہیں مگر ۱۔تواریخ 3:11-12 کے مطابق 5 ہیں اور متی Johoiakim کے درمیان ملتا ہے۔ لوقا کے بیان کردہ نسب نامہ میں Jechoniah کا ذکر نہیں ہے کیونکہ یرمیاہ 22:30 کے مطابق اس کی نسل سے کوئی داؤد کے تخت کا وارث نہیں ہو سکتا مگر لوقا کےمطابق یسوع داؤد کےتخت کا وارث ہو گا۔ لوقا1:32-33 مردم شماری کا ذکر سوائے لوقا کےکسی نے نہیں کیا ۔ Herod 37 ؁Bc سےBc 4؁ تک حکمران رہا ہے مگر اس کے عہد میں کوئی مردم شماری نہیں ہوئی۔دیگر اعتراضات ) Cyrenius سوریا کا گورنر تھا لوقا 2:2 ) صرف مردم شماری کی خاطر بیت لحم میں جو کہ ناصرہ سے 80میل کے فاصلےپر ہےکیا ضرورت تھی کیا محض اس لئے کہ ہزار سال قبل اس کے آباءواجداد میں سے داؤد وہاں پیدا ہؤا تھا۔ اناجیل میں پائی جانے والی اخلاقی تعلیم تمام کی تمام بت پرست اقوام میں موجود تھی جیسا کہ بعض Bishop نے اقرار کیاہے Farrer اور Thirlwall وغیرہ ستارہ کا اس گھر پر ٹھہرنا جہاں پر مسیح تھا ۔ متی3:9 تعلیم پراعتراضات رشتہ داروں سے لاتعلقی کی تعلیم ۔ لوقا 14:26 ،مرقس باب10 ،متی 19:29 شادی کےمتعلق تعلیم۔متی 19:10-12 ، کرنتھیوں باب7 جہنمکی آگ کی دائمی سزا۔ متی 25:31-46 ہاتھ پاؤں کاٹنے کی تعلیم۔مرقس باب9 ناقابل عمل تعلیم۔۔۔۔۔۔کو فروخت کر کے غریبوںمیں تقسیم کرنے کی تعلیم۔ مرقس باب10 دشمنوں سےمحبت کی تعلیم۔ (سب سے بڑا دشمن تو شیطان ہے) لوقا 9:48 ،متی12:30 ) متضاد تعلیم ( متی 12:56 کہ ابن آدم سزا دینے مہیں بلکہ بچانے آیا ہے والا فقرہ قدیم مسودات میں نہیں ہے۔ غصہ نہ کرنے کی تعلیم مگر خود غصہ کیا۔ مرقس 3:5،متی باب 5کی تعلیم۔ انکساری کی تعلیم مگر خود کو سلیمان سے بھی بڑا کہا ہے۔متی11:29, 11:42 جو کسی کواحمق کہےوہ جنت کی سزا کا سزا وار ہےمگر خود دوسروں کو احمق کہا ہے۔متی 23:17 ،لوقا12:20 دشمن کی محبت کی تعلیم مگر یہودی علماء کو کہا ۔ متی23:29-33 یوحنا میں مسیح کے دوبارہ آنے کی کوئی پیشگوئی نہیں ہے کیونکہ ابتداءمیں عیسائیوں کومسیح کے جلد دوبارہ آنے کی توقع تھی ۔جب وہ پوری نہ ہوئی تو مایوسی کی وجہ سے ذکر ہی چھوڑ دیا۔ مرقس14:51-52 میں ننگا بھاگنے والا واقعہ عاموس 11:16کی پیشگوئی پوری کرنے کےلئے گھڑا گیاہے۔ استثناء 17:13کی بناء پرچونکہ یسوع کو یہودی جھوٹا سمجھتے تھے اس لئے صلیب پر لٹکایا گیا تھا۔ تضاد۔مرقس اور متی متفق ہیں مگر یسوع کے مقدمے کی سماعت کے واقعات کےسلسلہ میں لوقا مختلف ہے۔ تین گھنٹے اندھیرا چھانا ۔ زلزلوں کا آنا اور مردوں کازندہ ہونا کسی تاریخ دان نےبیان نہیں کیا۔ اعمال کی کتاب میں لکھا ہے کہ مردوں میں سے زندہ ہونے والوں میں سے یسوعسب سےپہلا تھا۔ اعمال26:23 یسوع نے صلیب کےموقعہ پر یہودیوں کو معاف کرنے کی دعا کی تھی تو سزا کیوں ملی۔ (لوقا 23:27-30, 19:41-44 یروشلم کی تباہی کی صورت میں) مرقس چوروں کے ساتھ صلیب دئے جانے کو یسیاہ 53:12کی پیشگوئی پورا ہونا بیان کرتا ہے مگر یہ الفاظ بعض قدیم مسودات میں نہیں ہیں اس لئے AV میں نہیں لکھے۔ مرقس15:28 اے باپ انہیں معاف کر دے..۔اور اسی طرح کے الفاظ بعض قدیم قلمی نسخہ جات میں نہیں ہیں (صلیب پر کے آخری الفاظ دیکھیں RV ) یوحنا کےمطابق واقعہ صلیب کےوقت یسوع نے اپنی والدہ کو اپنے ایک حواری کے سپرد کیا مگر متی اور مرقس کےمطابق حواری اور میں وہاںموجود ہی نہ تھے۔ متی کےمطابق یسوع کی گرفتاری کے وقت سب حواری بھاگ گئے تھے (پیشگوئی کےمطابق) لوقا اور مرقس حواریوں میں سے نہیں ہیں اور نہ ہی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے یسوع کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں مرقس 11:13بے موسم انجیر کے درخت پر لعنت کرتا۔ متی 27:8اور متی 28:15کے فقرات "آج کےدن تک" سے پتہ چلتا ہے کہ متی کی انجیل واقعات کےبہت دیر بعد لکھی گئی۔ مرقس4:30-33 لوقا 13:18-19میں خدا کی بادشاہی متی میں 13:31-32آسمان کی بادشاہی ۔۔۔۔سے آنا خدا کی طرف سے آنا۔ زکریا کا بیٹا برخیاہ جو خدا کے گھر کے صحن میں قتل ہؤا 2تواریح 24:20-21میں زکریا کے جس بیٹے کا ذکرہے اسکا نام Jehoiadaہے جس کا قتل Temple کے صحن میں ہؤا تھا مگر کے مطابق 68 ؁ہرکیاہ بن زکریاکا قتل ہؤا تھا اور۔۔۔کے صحن میں ہؤا تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ متی کی انجیل 68 ؁کے بعد لکھی گئی ہے۔ (تاریخی غلطی ہے) یوحنا کی انجیل میں مسیح کی آمد ثانی سے مراد مسیح کا ذاتی طور پر آنا نہیں تھا بلکہ روح القدس کا ایمان داروں کے دلوں پر نزول تھا۔ یوحنا 14:16-18 مسیح کی پیدائش سے پہلے موجودگی کا ذکر صرف یوحنا میں ہے باقی اناجیل میں ذکر نہیں ہے۔اسی طرح اکلوتے بیٹے کا تصور بھی صرف یوحنا میں ملتا ہے۔ یوحنا کے مطابق یوحنا بپتسمہ دینے والا یسوع کو جانتا تھا کہ مسیح ہے مگر متی کےمطابق نہیں جانتا تھا۔ یوحنا 1:29, 11:2 ، متی یوحنا کے مطابق پانی کو شراب میں بدلنے کا معجزہ سب حواریوں کے سامنے اور سب سے پہلا معجزہ تھا مگر مرقس 8:12 کے مطابق یسوع نے معجزہ دکھانے سے انکار کیا۔ یوحنا نے لعزرکا مرنے کےچار دن بعد زندہ کرنا بیان کیا ہے کیونکہ یہودیوں کے مطابق چار دن کے بعد روح جسم سے جدا ہوتی ہے۔ یوحنا11:45-48 گرفتاری کےوقت تمام رومن سپاہی بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ یوحنا18:6 یہودا نے یسوع کی گرفتاری کےلئے بوسہ نہیں دیا بلکہ یسوع نے خود اپنی نشاندہی کی تھی۔یوحنا--- مریم مگدلین کو جی اٹھنے کے بعد چھونے کی اجازت نہ دی۔ یوحنا مگر متی کےمطابق مریم نے پاؤں چھوئے ۔متی28:9 یوحنا کے مطابق روحالقدس حواریوں کو دی( 20:22) یہ تمام اموریسوع کا رتبہ بڑھانے کےلئے ہیں مگر جن امور سے رتبہ میں کمی کا اشارہ ملتا ہے ان کے ذکر یوحنا نے نہیں کیامثلایوحنا سے بپتسمہ لینا، شیطان سے آزمایاجانا ، گرفتاری سے پہلے دعا کرنا، صلیب پرچلانا

متفرق حوالے

تمہارے باپ دادا نےمن کھایا اور مرگئے۔یہ وہ روٹی ہے جو آسمان سے اترتی ہے تاکہ آدمی اس سے کھائےاور نہ مرے میں وہ روٹی ہوں جو آسمان سے اتری۔ اگر کوئی اس روٹی سے کھائے تو ابد تک زندہ رہے گا۔ یوحنا6:49-51 جس طرح باپ مردوں کو اٹھاتا اور زندہ کرتا ہے اسی طرح بیٹا بھی جنہیں چاہتا ہے زندہ کرتا ہے۔ باپ کسی کی عدالت بھی نہیں کرتابلکہ اس نے عدالت کاسارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے۔ یوحنا5:19-23 میری بھیڑیں۔۔۔۔میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہونگے۔ یوحنا10:27-28 زمین و آسمان کا کل اختیار مجھے دیا گیا ہے۔متی28:18 جو چیز پرانی اورمدت کی ہو جاتی ہے وہ مٹنےکے قریب ہوتی ہے۔ عبرانیوں8:13 اگر وہ برگشتہ ہو جائیں تو انہیں توبہ کے لئے پھر نیا بنانا ناممکن ہے اس لئے کہ وہ خدا کے بیٹے کو اپنی طرف سے دوبارہ مصلوب کر کے علانیہ ذلیل کرتے ہیں۔عبرانیوں6:6-7 داؤد کی آمد ثانی داؤد کو چوپان مقرر کرونگا۔ حزقیل34:23-24 میرابندہ داؤد ہمیشہ کےلئے ان کا بادشاہ ہوگا۔ حزقیل37:24-25 ، ہوسیع3:5 داؤد کو برپاکرونگا۔ یرمیاہ30:9 مرنا صرف ایک بار اس کے بعد عدالت۔ عبرانیوں9:27 آدم کو خطا سے معافی دی۔ حکمت10:1 میں اپنی پہاڑی کےاردگرد کو باعث برکت بنادوں گا۔ حزقیل34:26 جو روح نکل گئی اسے واپس نہیں لائے گا اورقبض کی ہوئی جان واپس نہ بلائے گا۔ حکمت16:14-15 بنی اسرائیل کے بھائی ادومی استثناء23:7 ،اسماعیل 16:12-13، لوط ، پیدائش 13:8 بنی عیسو۔استثناء2:4,8 اسرائیل سے مراد پاک دل لوگ ۔ زبور73:1,2 لعنت "ملعون" جسکا دل خداوند سے برگشتہ ہو۔ یرمیاہ 17:5 سانپ (شیطان) ملعون ہے۔پیدائش 3:14 خداوند پرلعنت کرنے والا ملعون ، گنتی 24:9 بت ملعون ہیں۔ استثناء 7:26 ملعون سےنفرت رکھنا ضروری ہے۔استثناء7:26 جسےپھانسی ملی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے۔استثناء 21:23 یہودی ملعون ہوئے۔ ملاکی3:9 (خدا کی نافرمانی پر) اعتراضات

باپ بیٹا اور روح القدس کے نام پربپتسمہ دینے پر عمل نہیں کیا

تمام اقوام میں منادی کرنے اور باپ بیٹا اور روح القدس کےنام سے بپتسمہ دینے کی تعلیم۔ متی28:19 مگر عمل نہیں کیاگیا۔ اعمال 2:38, 8:16,10:48, 19:5 ،رومیوں 6:3 ، گلائیوں 3:27 ، 1کرنتھیوں1:12, 6:11 حواریوں کی فہرست میں فرق لوقا کے مطابق یہودا نامی دو حواری متی کے مطابق یہودا نامی ایک شخص تھیوڈاس متی میں زائید ہے اور مرقس کی دونوں سے مختلف ہے۔مرقس3:16-19 12حواریوں کی تعداد بنی اسرائیل کے 12 قبائل کےمطابق ہے اور 70 حواریوں کی تعداد70اقوام کے مطابق لوقا 10:--- مگر قسم کھانا فرشتہ نے خدا کی قسم کھا لی۔مکاشفہ10:6 آدمی تو اپنے سے بڑے کی قسم کھایا کرتے ہیں اور انکے ہر قضیہ کا آخری ثبوت قسم سے ہوتا ۔ عبرانیوں6:16 میں تمہیں خدا وندکی قسم دیتا ہوں۔1تھسلنیکیون5:27 خدا کی سچائی کی قسم ۔ 2کرنتھیوں1:18 مسیح کی صداقت کی قسم۔ 2کرنتھیوں11:10 مجھے اس فخر کیقسم۔ 1کرنتھیوں15:13 تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں۔ مرقس5:7 (پطرس) نے قسم کھا کر پھر انکار کیا۔متی26:72, 74 جو آسمان کی قسم کھاتا ہے وہ خداکے تخت اور اس پر بیٹھنے والے کی قسم کھاتا ہے۔متی33:22 وہ میرے نام کی قسم کھائیں ۔یرمیاہ12:16 اگر تو سچائی ۔۔۔۔اور صداقت سے زندہ خدا کی قسم کھائےتو۔۔۔۔۔۔یرمیاہ4:2 جو کوئی قسم کھائے گا خدائے برحق کےنام کی قسم کھائے گا۔یسعیاہ65:16 جہاں قسم کھانا منع ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کی قسم کی ممانعت کا ذکر نہیں ۔ متی5:33-37، 2کرنتھیوں11:13 خدا کو گواہ ٹھہرانا ۔۔۔۔۔رومیوں 1:9, 23 ، گلتیون متی 26:63 خدا کی قسم اور واسطہ دینا

معجزات انبیاء

بائیبل میں بیان کردہ معجزات الیشع کا مردہ زندہ کرنا۔2سلاطین4:35, 8:5 ایلیا کا مردہ زندہ کرنا۔ 1سلاطین17:22, 3:20 الیشع کی ہڈیوں سے مردہ زندہ ہونا۔ 2سلاطین13:21 ۔۔۔۔۔نام عورت کا زندہ ہونا۔ اعمال9:40-42 پولوس کا مردہ زندہ کرنا۔ اعمال19:11-13 حزقیل کا ہزاروں مردے زندہ کرنا۔ حزقیل37:1-13 بیماروں کو شفاء دینا الیشع کا کوڑھی۔ 2سلاطین5:14 پطرس کامفلوج کو۔ اعمال9:33-34, 3:1-8 پولوس کا بیماروں کو۔ اعمال19:11-13 حواریوں کا مردے زندہ کرنا، شفاء دینا،کوڑھیوں کو پاک کرنا۔متی10:8-9 عورتوں نے اپنے مردوں کوزندہ پایا۔ عبرانیوں11:35 مردوں سے مراد روحانی مردے۔ یوحنا 20:31 ، 1 کرنتھیوں 15:31-51 ، افسیون2:1, 2:5فلپیون3:11 زندگی سے مراد یسوع پر ایمان۔یوحنا17:3 مردوں کو مردے دفن کرنے دو۔متی8:22 روحانی مردے رومیوں 6:11, 8:10 گلتیون2:13 ، یہودا 1:12 ، زبور 119:25, 119:50. 119:93 ، رومیوں 8:13 گلتیون 2:19-21 خداوند کا خوف زندگی بخش ہے۔ امثال19:23 عورتوں نے مردوں کو زندہ پایا۔عبرانیوں11:35 موت اور زندگی زبان کا قابو میں ہے۔ امثال18:21 خدا نے ابدی حیات کا حکم کوہ صیہون پر فرمایا۔زبور133:3 مردوں کو زندہ کرنا از روئے قرآن روحانی مردے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی مردے زندہ کرنا۔ انفال8:25 خدا کے سوا کوئی مردے زندہ نہیں کر سکتا۔دخان44:9 گناہگار کو گمراہی سے پھرانا تو وہ اپنے آپ کو موت سے بچائے گا۔شوریٰ 42:10 ،یعقوب5:20 بیماریاں ختم کرنے سے مراد گناہ ختم کرنا۔ متی8:17 حنوک زندہ آسمان پر اٹھایا گیا اورمرا نہیں عبرانیوں11:5

بائبل کے مطابق مردہ دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتے

مردے اس دنیا میں واپس نہیں آسکتے قرآن الانبیاء 21:96 ،المؤمنون 23:100-101 بائیبل یسعیاہ 26:13 ، ایوب 12:14, 14:12, 10:21، واعظ9:5-6 اگر مسیح نے مردے زندہ کئے ہیں تو پھر ہر ایماندار کر سکتا۔ یوحنا14:12-13 موت صرف ایک دفعہ ہی ہے۔ عبرانیوں9:27 مرنے کے بعد جینے والوں میں سب سے پہلا مسیح تھا۔ 1کرنتھیوں15:23 ایمان دار پر دوسری موت نہیں ہے۔مکاشفہ2:11, 20:6 کفارہ ہر کوئی اپنا گناہ اٹھائےگا۔حزقیل18:5-20 گناہ کی معافی دعا سے۔استثناء14:19-20 ۔ 2تواریخ6:25 خدا کےرحم سے معافی۔متی :13, 12:7 9 دعا سے معافی گنتی 14:19-20، یعقوب 5:15 ،استثناء 9:8-20 ، یوحنا5:16 ،2تواریخ7:14, 6:27, 6:25,6:30 دوسروں کے گناہ معاف کرنے سے 11:4 ابن آدم کو گناہ معاف کرنے کا اختیار۔متی 9:6 ،مرقس2:10 لوقا5:24 گناہوں کے اقرار اور توبہ سے۔ زبور 32:5 ،یسعیاہ 55:6-7 ،یرمیاہ 3:12-15،حزقیل 18:27-30 ، امثال 28:13 ، اعمال8:22 اولاد ہونے سے نجات۔پیدائش3:--، 1 Tim 2:15 خدا کی مرضی ہے جس کو چاہے بخش دے۔رومیوں9:15-18 ، زبور 78:38 ،خروج33:19 جس نے گناہ کیا اسی کو سزا ملے گی۔ خروج 32:33 ،حزقیل 14:4, 14:16-20 ، استثناء 24:16 ،1سلاطین14:6 توبہ سے گناہوں کی معافی۔ لوقا 17:4 ،متی 19:21-23, 6:15،مرقس11:26 انصاف اور سچائی کے طالب کے گناہ معاف۔ یرمیاہ 5:1 ،امثال16:6 نیکیوں سے بدیوں کا کفارہ۔یسعیاہ 1:15-18 ، ایوب11:13-14 شریر صادق کا فدیہ ہوگا۔ امثال 21:18۔ گنتی25:7-13 اسی سے وہ مسیح کو صلیب دینا چاہتے تھے۔ استثناء 18:20 ، یوحنا 11:60, 19:7, 9:24 تتمہ Old Testament کے مختلف texts کا فرق The age of the Partriach according to MT and LXX LXX MT Remaining Years F. Son Remaining Years F. Son 500 100 500 Shem 100 430 (400) 135 403 Arpaschat 35 330 130 --- Cainan --- 330 130 403 Shelah 30 370 134 430 Eber 34 209 130 209 Peleg 30 207 132 207 Reu 32 200 130 200 Serag 30 129 (125) 79 (179) 119 Nahor 29 --- 70 135 Terah 70 75 100 75 Abraham 100 ST until flood follows MT and then LXX although with several varieties LXX Gen 11:32 And all the days of Tharrha in the land of Charrhan were two hundred and five years, and Tharrha died in Charrhan. MT Gen 11:32 And the days of Terah were two hundred and five years: and Terah died in Haran. Exodus 6:20 ”And Ambram took to wife Jochabed the daughter of his father’s brother, and she bore to him both Aaron and Moses, and Mariam their sister: and the years of the life of Ambram were a hundred and thirty-two years.“ Age of Amaron 132 years (Codex Alex-136 years) Exodus 6:20 ”And Amram took him Jochebed his father's sister to wife; and she bare him Aaron and Moses: and the years of the life of Amram were an hundred and thirty and seven years.“ Exodus 40:2 On the first day of the first month, at the new moon, thou shalt set up the tabernacle of witness. Exodus 40:17 And it came to pass in the first month, in the second year after their going forth out of Egypt, at the new moon, that the tabernacle was set up. Exodus 40:2 ”On the first day of the first month shalt thou set up the tabernacle of the tent of the congregation.“ Exodus 40:17 „And it came to pass in the first month in the second year, on the first day of the month, that the tabernacle was reared up.“ Numbers 13:20 And what the land is on which they dwell, whether it is good or bad; and what the cities are wherein these dwell, whether they dwell in walled cities or unwalled. Numbers 13:20 And what the land is, whether it be fat or lean, whether there be wood therein, or not. And be ye of good courage, and bring of the fruit of the land. Now the time was the time of the firstripe grapes. Josh 3:15 MT here gives the impression that the crossing of the Jordan took place at the time of harvest. If this means the wheat harvest as normally is the case, then there seems to be a contradiction in the statement in Josh 4:19 “And as they that bare the ark were come unto Jordan, and the feet of the priests that bare the ark were dipped in the brim of the water, (for Jordan overfloweth all his banks all the time of harvest,“ LXX The Jordan overflowed all its banks, as on the days of wheat harvest;but in fact in the dry month of the wheat harvest the Jordan did not overflow its bank. MT LXX Gen 2:2a And on the seventh day God ended his work which he had made; and he rested on the seventh day from all his work which he had made. Gen 2:2a And God finished on the sixth day his works which he made, and he ceased on the seventh day from all his works which he made. Gen 8:5 And the waters decreased continually until the tenth month: in the tenth month, on the first day of the month, were the tops of the mountains seen. Gen 8:5 And in the tenth month, on the first day of the month, the heads of the mountains were seen. Genesis 7:11 In the six hundredth year of Noah's life, in the second month, the seventeenth day of the month, the same day were all the fountains of the great deep broken up, and the windows of heaven were opened. Genesis 8:14 And in the second month, on the seven and twentieth day of the month, was the earth dried. Genesis 7:11 In the six hundredth year of the life of Noe, in the second month, on the twenty-seventh day of the month, on this day all the fountains of the abyss were broken up, and the flood-gates of heaven were opened. Genesis 8:14 And in the second month the earth was dried, on the twenty-seventh day of the month. Genesis 10:21 Unto Shem also, the father of all the children of Eber, the brother of Japheth the elder, even to him were children born. Genesis 10:21 And to Sem himself also were children born, the father of all the sons of Heber, the brother of Japheth the elder. (Please check, does not seem contradictory) LXX اور MT میں مزید اختلافات Some more obvious differences are listed below: Exodus Chapters 35 to 40 differ considerably from the MT. Some details in MT are absent, others abridged and others transposed in LXX. Deuteronomy At the end of the song of Moses (32:43). The LXX is longer by six verses than the MT. Joshua Two different descriptions of the territory of Benjamin and Judah and Simon (15:21-62 and 18:22-19:45). The discussion of the institution of the cities of refuge is not present in LXX. There is also variance in the ending of Joshua and beginning of Judges where the LXX contains 15 extra lines. Judge There are element not paralleled in MT. 1-2 Samuel Text of LXX is longer than MT in general. There are also elements in the MT that are not in the LXX. One of the more notable details is the portrayal of David in relation to the Goliath story (1 Samuel 17-18). The LXX is shorter by 50 verses than MT 1-2 Kings The LXX portrayal of Solomon, Jerobam and Ahab differs considerably from MT often giving two accounts of narratives attested anly once in MT. Some of these seem to point to the existence of two textual traditions concerning the schism between Israel and Judah. 1-2 Chronicles There are differences in the listing of genealogies of the descendants of Ham. LXX in general shortening the list found in MT . LXX of 2 Chronicles 35 contains readings which are absent in the MT. Job The Greek text is shorter by approximately one-sixth than MT. There is a long final addition and alternate rendering of some passages. Esther Of the 270 verses in the LX text, 107 find no parallel in the MT. Jeremiah The LXX text is shorter by 2700 words than the MT. It now seems absurd that the shortest LXXversion is based upon a different Hebrew text. The ‘oracles’ against the nations are situated in another place and in different order than the MT. There are significant differences in the contents of chapters 10 and 23. Ezekiel The LXX version differs from the MT in many ways. The significant difference is 36: 23-38. The LXX text seems to have been based on a Hebrew original much shorter than that represented in the MT. Daniel LXX differs from MT in a variety ways. In chapter 4 for example, the LXX text is clearly longer than the MT.In addition to these differences, there appears the addition Bel and Dragon. The prayer of Azariah and the three young men and the story of Susanna. Reference: MT is the (online) King James Version: (http://quod.lib.umich.edu/k/kjv/browse.html) Whereas LXX is also an online version: ( http://www.ecmarsh.com/lxx/)

حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت سے نجات

صلیب سے نجات کی پیشگوئیاں زبور22:16-12 دعا کرنا۔ دشمنوں سے چھڑانا ۔ نجات کے بعد تبلیغ دعا کی قبولیت اور نجات۔ زبور41:1-3, 37:32-33, 18:3, 18:17-20, 116:1-9, 94:17, 118:17-18, 41:11, 30:1-3, 91:14-16 18:4-7, 18:20-21, 37:40, 21:1-6, 81:7, 25:20, 27:13, 143:3-9, یسعیاہ 53:11 قمران انجیل کی پیشگوئی۔ متی 12:39-40 یونس نبی کا نشان ۔ یونا (یوحنا) 1:17 لوقا11:29-30 صلیب پر مرنے والا لعنتی۔ استثناء 21:23 ۔ گلیتون3:13 پیلاطوس کی بیوی کاخواب۔ متی27:19 پیلاطوس بچانا چاہتا تھا۔ لوقا 23:13-23۔یوحنا 18:39 ۔مرقس 15:9 ۔ یوحنا خدائی انتظامات اندھیری (آندھی مراد ہے؟) متی 27:45 مرقس 15:33 لوقا23:44 ہڈیاں نہ توڑنا یوحنا 19:31 دونوں چوروںکا نہ مرنا اور ان کی ہڈیاں توڑنا۔یوحنا19:32 خون اور پانی بہہ نکلنا۔ یوحنا 19:34 مردوں کے زندہ ہونےکا کشفی نظارہ اور اسکی تعبیر۔ متی28:52 قید سے دوسری بھیڑوں کو جمع کرنا۔ یوحنا10:16 پیلاطوس کی حیرانگی۔ مرقس15:42-44 دعا کرنا۔متی 26:38-40 ، مرقس14:35-36 ، لوقا22:41-43 دعا سنی گئی اور مسیح بچائےگئے۔عبرانیوں۔۔۔ زخم دکھانا اور کھانا۔لوقا 24:39-43، یوحنا 20:19-21 صلیب پرمرنے کی پیشگوئیوں میں اختلاف تیسرے دن جی اٹھے گا۔ متی 17:23 تین دن بعد مرقس 9:31-31 ،متی28:63 غمگین ہوئے متی، 17:23 سمجھےنہ تھے لوقا 9:45 ،مرقس 9:31-32 یوحنا 20:9 پیشگوئی نہ جانتے تھے مسیح کے لئے صلیب پر مرنے کا لفظ کہیں استعمال نہیں ہؤا سخت تکلیف کو بھی موت سے تشبیح دی گئی ہے۔ زبور71:20 1 کرنتھیوں15:30 مکاشفہ کا اقرار گویا ذبیح کیا ہؤا برہ دیکھا۔ مکاشفہ5:6 دشمن کامنصوبہ خدا کا ہنسنا۔ زبور2:3-4 مزید بھیڑوں کی تلاش کی پیشگوئی۔ یوحنا10:16 صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوںکی طرف۔ متی15:21-28 بچائے جانے کی پیشگوئی عالم اسفل کے قریب،مردوں کےدرمیان،غارمیںمکروہ قریبب الموت رفیق دور۔زبور88:4-19 زندہ کومردہ سمجھنے کی مثال۔اعمال14:19 خداوندمحبت رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے اورشریروں کو ہلاک کرتا ہے۔ زبور145:18-20 وہ اسنوشتہ کو نہ جانتے تھے میکاکےمطابق اسکاجی اٹھناضرور تھا یوحنا 20:9 1تواریخ 14:12 داؤدنے بت جلا دئے 2سیموئیل 5:21۔ اٹھا کر لے گئے۔ 2سیموئیل24:16 ۔1تواریخ21:15-16 اختلافات S.P., M.T., LXX Exodus 12:40 میں اسرائیلیوں کا مصر میں قیام 430 سال لکھا ہے اورSP میں بھی 430سال ہی لکھاہے مگرLXX میں مصر کے علاوہ کنان کے قیام کو بھی اس عرصہ میں شامل کیا گیا ہے۔ یرمیاہ کی کتاب کے MT TextاورLXX میں مختلف ہے اورLXX میں MT کی نسبت 2700الفاظ کم ہیں۔ LXX اورMT میں اختلاف 1 سیموئیل14:41 LXX میں زائد ہے 2 سیموئیل LXX 11:22-33میں کافی زائد ہے (یرمیاہ ) یہوواہ نام کی گنتی میں فرق دفعہ، دفعہ میں کل دفعہ اور میں دفعہ یہوقیم بن یاسیاہ یہودا کے بادشاہ کے وقت میں یرمیاہ پر خدا کاکلام نازل ہؤا مگر یہ تاریخی لحاظ سے غلط ہے کیونکہHananih صدقیاہ کے وقت تھا بعض درمیانی عرصہ کے قلمی نسخہ جات میں یہوقیم کی بجائے صدقیاہ ہی لکھا ہےمگر یہ بعدمیں ۔۔۔۔کی گئی ہے ۔ یرمیاہ 27:1 یرمیاہ LXX 28:4 میں مختلف اورکم ہے یرمیاہ11:7-8 LXX میں نہیں ہیں۔ بائیبل کےمطابق مردہ دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتے لڑکی مرنے کو ہے۔متی 9:18-25 قبریں کھل گئیں۔متی28:52-53 مردے زندہ نہ ہونگے۔ یسعیاہ26:13 ۔ ایوب12:14, 14:12. 10:21 ، واعظ 9:5-6 مسیح نے کہا کہ میں پھر دنیا میں نہیں ہونگا۔ یوحنا17:11 جس طرح باپ زندہ کرتا ہے اسی طرح بیٹا۔ یوحنا5:21 ، یسعیاہ 26:13 ، قرآن کریم الانبیاء21:96 اگر مسیح نے مردے زندہ کئے ہیں تو آج بھی یہ کام ہو سکتا ہے ۔ یوحنا11:25-26 وہ ابد تک نہ مرے گا۔مجھ سے بھی بڑے کام کر سکتا ہے۔ یوحنا14:12 ، متی 21:21-22, 17:12 ، لوقا7:5-6 زمین میں نکلا اور زمین میں لوٹ نہ جائے پیدائش3:19 خاک پھرخاک میں لوٹ جائیگی۔ مردوں کو مردے دفن کرنے دے۔ متی 8:22 ، لوقا9:60 دوسری موت (جہنم کی سزا) ۔ مکاشفہ21:8, 20:14 پہلی قیامت میں شریک لوگوں پر دوسری موت کا اختیار نہیں ۔مکاشفہ2:11, 20:6 ایک بار مرنا اس کے بعد عدالت(ّ؟) ۔ عبرانیوں9:27 1۔تواریخ 18:12۔۔۔کے سپہ سالار۔۔۔نےادومیوں کو شکست دی 2 ۔سیموئیل 8:13 داؤد نے آرامیوں کو شکست دی قدیم ترین مسودہ قلمی نسخہ عبرانی Text انبیاء کا ہے جو Cairo Copy کے نام سے موسوم ہے۔یہ 895؁ کا ہے 930؁ Aleppo Codex سے تعلق رکھتا ہے Babylonian Codex of Prophets 916؁ کا ہے قیامت کاذکر۔ مکاشفہ20:6 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حنوک اٹھا لیا گیا تاکہ موت کو نہ دیکھے۔ عبرانیوں11:5 LXX MT ارفکشدطوفان کے بعد دوسرے سال پیدا ہؤا۔ پیدائش 11:10 طوفان کے دو سال بعد پیدا ہؤا ارفکشد135سال کا تھا جب قینان پیدا ہؤا 11:12 ارفکشد35 برس کا تھا جب اسے شالخ پیدا ہؤا 11:12 قینان کی پیدائش کے بعد ارفکشد400-430 سال زندہ رہا 11:13 شالع کی پیدائش کے بعد ارفکشد403برس رہا 11:13 قینان130سال کا تھا جب شالع پیدا ہؤا 11:13 قینان شالع کی پیدائش کے بعد سال 330زندہ 11:15 شالع 130سال کا تھاجب عبر پیدا ہؤا 11:14 شالع30 برس کا تھا جب عبر پیدا ہؤا11:14 شالع 330برس عبر کی پیدائش کے بعد زندہ رہا11:15 شالع430 برس عبر کی پیدائش کے بعد زندہ رہا11:15 عبر 134 سال کا تھا جب فلج ہؤا11:16 عبر24-34 سال کا تھا جب فلج ہؤا11:16 فلج کی پیدائش کے بعد عبر 270-370 سال زندہ رہا 11:17 فلج کی پیدائش کے بعد عبر 430 برس بعد پیدا ہؤا11:17 فلج 130سال کا تھا جب رعوپیدا ہؤا11:18 فلج 30سال کا تھا جب رعوپیدا ہؤا 11:18 رعو 132برس کا تھا جب سروج پیدا ہؤا 11:20 رعو 32برس کا تھا جب سروج پیدا ہؤا11:20 سروج 130برس کا تھا جب ناحور پیدا ہؤا11:22 سروج 30برس کا تھا جب ناحور پیدا ہؤا 11:22 ناحور 179-79برس کا تھا جب تارح پیدا ہؤا11:24 ناحور29 برس کا تھا جب تارح پیدا ہؤا 11:24 ناحور تارح کی پیدائش کے بعد 125-129پیدا ہؤا11:25 ناحور تارح کی پیدائش کے119 برس بعد پیدا ہؤا11:25 خدا کے خلاف برے الفاظ کہے1 سیموئیل 3:3 اپنے آپ کے متعلق خدا پربرکت بھیج اور مر جا خدا پر لعنت کرور مر جا۔ ایوب 1:5,11, 2:5-9 واقعات دہرائے گئے 2 سیموئیل 22 ،زبور18،53:14 2 سلاطین 18:13-20 ، یسعیاہ 36:1 ، 38:8 پیدائش46:20 جہاں یعقوب کے ساتھ مصر جانے والوں کے نام ہیں وہاں MT کے مطابق 70 افراد ہیں مگرLXX اور قمران کے مطابق 75 افراد ہیں اور اعمال کےمطابق بھی افراد ہیں۔ EXD 20:17 SP میں گریزم زائد ہے ۔ استثناء 11:29-30،27:2-7میں Ebalکی بجائے گریزم ہے EXD 14:20 میں اسرئیلیوں کی شکایت درج ہے۔ میں مصر کے دوران کسی ایسی شکایت کا ذکر نہیں ہے۔ Samaritenاضافہ جات جوبلی کی کتاب میں بھی ہیں مثلا پیدائش 11:8 جوبلی 10:24 SP LXX میں Tower زائد ہے اور لڑابھی پیدائش 21:13 ، جوبلی 17:6 LXX , SP 1 تواریح 4:22سے متفق ہیں COZEBAمگرMT میںCHEZIB ہے۔ ایک وقت میں کم از کم دو مختلف Textپرانا عہد نامہ کے بیک وقت موجود تھے۔ ایک Babylonian Text اورایک Palestinian Text اور مصر اسکندریہ میں Palestinian Text کی کاپی بھجوائی گئی تھی جسکا یونانی زبان میں ترجمہ ہؤا تھا جوLXX کے نام سے مصروف ہے۔

تتمہ

Old Testament کے مختلف texts کا فرق The age of the Partriach according to MT and LXX LXX MT Remaining Years F. Son Remaining Years F. Son 500 100 500 Shem 100 430 (400) 135 403 Arpaschat 35 330 130 --- Cainan --- 330 130 403 Shelah 30 370 134 430 Eber 34 209 130 209 Peleg 30 207 132 207 Reu 32 200 130 200 Serag 30 129 (125) 79 (179) 119 Nahor 29 --- 70 135 Terah 70 75 100 75 Abraham 100