متّی 1 یسوع کے خاندان کی تاریخ 1 یسوع مسیح کی خاندانی تاریخ۔ وہ داؤد کے خاندان سے ہے اورداؤد،ابراہیم کے خاندان سےہے۔ 2 ابراہیم اسحاق کا باپ تھا۔ اسحاق یعقوب کا باپ تھا۔ یعقوب یہوداہ اور اسکے بھائیوں کا باپ تھا۔ 3 یہوداہ فارص اور زارح کا باپ تھا ان کی ماں تمر تھی۔ فارص حصرون کا باپ تھا۔ حصرون رام کا باپ تھا 4 رام عمّینداب کا باپ تھا۔ عمّینداب نحسون کا باپ تھا نحسون سلمون کا باپ تھا 5 سلمون بو عز کا باپ تھا۔ بوعزکی ماں راحب تھی بوعزعوبید کا باپ تھا عوبید کی ماں روت تھی عوبید یسّی کا باپ تھا 6 یسّی داؤد بادشاہ کا باپ تھا داؤد سلیمان کا باپ تھا سلیمان کی ماں اوریاہ کی بیوی رہ چکی تھی۔ 7 سلیمان رحُبعام کا باپ تھا رحُبعام ابیاہ کا باپ تھا ابیاہ آساہ کا باپ تھا 8 آساہ یہوسفط کا باپ تھا یہوسفط یورام کا باپ تھا۔ یورام عزیّاہ کا باپ تھا۔ 9 عُزیاہ یوتام کا باپ تھا۔ یوتام آخز کا باپ تھا۔ آخز حزقیاہ کا باپ تھا۔ 10 حزقیاہ منسی کا باپ تھا۔ منسّی امون کا باپ تھا۔ امون یوسیاہ کا باپ تھا۔ 11 یوسیاہ یکونیاہ اور اسکے بھائی کا باپ تھا۔ اسوقت یہودیوں کو قید کرکے بابل کو لے گئے تھے۔ 12 یہودیوں کو بابل لے جانے کے بعد سے خاندان کی تاریخ: یکونیاہ سیالتی ایل کا باپ تھا– سیالتی ایل زربابل کا باپ تھا 13 زربابل ابیہود کا باپ تھا۔ ابیہود الیاقیم کا باپ تھا۔ الیاقیم عازور کا باپ تھا۔ 14 عازور صدوق کا باپ تھا۔ صدوق اخیم کا باپ تھا۔ اخیم الیہود کا باپ تھا۔ 15 الیہود الیعرز کا باپ تھا۔ الیعرز متان کا باپ تھا۔ متان یعقوب کا باپ تھا۔ 16 یعقوب یوسف کا باپ تھا۔ یوسف مریم کا شوہر تھا۔ مریم یسوع کی ماں تھی۔ یسوع کو مسیح [a] کے نام سے پکارتے ہیں۔ 17 ابراہیم سے داؤد تک چودہ پشتیں ہوئیں داؤد سے لوگوں کو بابل میں گرفتار کئے جانے تک چودہ پشتیں ہوئیں۔بابل میں قید رہنے کے بعد سے مسیح کے پیدا ہونے تک چودہ پشتیں ہوئیں۔ یسوع کی پیدائش 18 یسوع مسیح کی ماں مریم تھی۔ یسوع کی پیدائش اسطرح ہوئی۔ شادی کے لئے یوسف سے مریم کی سگائی ہوئی تھی۔لیکن شادی سے پہلے ہی اس کو اس بات کا علم تھا کہ وہ حاملہ ہوگئی ہے۔ مریم روح القدس [b] کے اثر سے حاملہ ہوگئی ہے۔ 19 مریم سے شادی کرنے والا یوسف ایک اچھا انسان تھا۔مریم کو لوگوں کے سامنے نادم و شرمندہ کرنا اس کو پسند نہ تھا۔جس کی وجہ سے وہ خفیہ طور پر سگائی کو منسوخ کرنا چاہتے تھے۔ 20 جب یوسف اس طرح سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کا فرشتہ یُوسُف کو خواب میں نظر آیا۔اور اس فرشتے نے کہا، “اے داؤد کے بیٹے* [c] یوسف، مریم کا اپنی بیوی ہونے کے قبول کرنے سے تو خوف زدہ نہ ہو۔کیوں کہ وہ روح القدس کے ذریعے حاملہ ہوئی 21 ہے۔وہ ایک بیٹے کوپیدا کریگی۔ اور تو اس بچےّ کا نام یسوع [d] رکھنا۔کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو انکے گناہوں سے نجات دلائیگا۔” 22 کیوں کہ نبی کی معرفت خداوند نے جو کچھ بتایا تھا وہ پورا ہونے کے لئے یہ سب کچھ ہوا۔ 23 وہ یوں ہوگا کہ “ایک پاک دامن کنواری حاملہ ہوکر ایک بچہ کو جنم دیگی۔اور اسکو عِمّانوایل (عمّانوایل، یعنی “خدا ہمارے ساتھ ہے”) کا نام دینگے۔” [e] 24 یُوسُف جب نیند سے جاگاتو خدا وند کے فرشتے کے کہنے کے مطابق مریم سے شادی کرنا قبول 25 کرلیا۔لیکن مریم کے وضع حمل ہونے تک یُوسُف نے اس سے جنسی تعلق نہ رکھا۔ اور یوسف نے اس بچے کو “یسوع” کا نام دیا۔ Footnotes: a. متّی 1:16 مسیح جس کے معنی مقدس پانی(مسیح) یا خدا کا منتخبہ۔ b. متّی 1:18 روح القدس یہ خدا کی روح، مسيح کي روح، اور تسلي دينے والي روح بھي کہلاتي ہے۔ اور يہ روح خدا اور مسيح کے ساتھ دنیا میں رہنے والے لوگوں کے درمیان خدا کا کام کر تي ہے۔ c. متّی 1:20 داؤد کے بیٹے داؤدکے خاندان سے آنے والا ۔ داؤد اسرائیل کا دوسرا بادشاہ تھا، اور مسیح کے پیدا ہونے کے ایک ہزار سال قبل بادشاہ تھا۔ d. متّی 1:21 یسوع یسوع نام کے معنی ہیں “نجات۔” e. متّی 1:23 اِقتِباس یسعیاہ ۱۴:۷ متّی 2 یسوع سے ملنے کیلئے مذہبی پیشواؤں کی آمد 2 ہیرودیس بادشاہ کےزمانے میں یسوع یہوداہ کے بیت اللحم گاؤں میں پیدا ہوا۔یسوع کی پیدائش کے بعد مشرقی ممالک کے چند عالم یروشلم آئے۔ 2 ان عالموں نے لوگوں سے پوچھا کہاں ہے “یہودیوں کا بادشاہ جو یہاں پیدا ہوا ہے ؟ اس کی پیدائش بتا نے والا ایک ستارہ مشرق میں طلوع ہوا ہے جس کو دیکھ کر ہم اس کو سجدہ کرنے کے لئے آئےہیں۔” 3 جب ہیرودیس [a] اور یروشلم کے تمام لوگوں کو یہودیوں کے نئے بادشاہ کے بارے میں معلوم ہوا تو پریشان ہو گئے۔ 4 ہیرودیس نے فورًاتمام یہودی کاہنوں کے رہنما اور معلمین شریعت کو جمع کیا ،اور ان سے دریافت کیا کہ یسوع کے پیدا ہونے کی جگہ کونسی ہے؟ 5 انہوں نے کہا، “وہ یہوداہ کے بیت اللحم شہر میں پیدا ہوگا۔کیوں کہ نبی نے صحیفوں میں اسی طرح لکھا ہے۔ 6 اے بیت اللحم، یہوداہ کے علاقہ میں، یہوداہ پر حکمرانی کرنے والوں میں تو ہی اہم ہے اور ہاں ایک حکمراں تجھ سے آئیگا اور وہی حکمراں میرے لوگ بنی اسرائیلیوں پر حکمرانی کریگا۔” [b] 7 تب ہیرودیس نے خفیہ طور پر مشرقی ممالک کے مذہبی عالموں کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ اس نے اس ستارے کوصحیح طور پر کس وقت پر دیکھا۔ 8 ہیرودیس نے ان مذہبی عالموں سے کہا، “تم سب جاؤ اور ہوشیاری سے ڈھونڈو کہ وہ بچّہ کہاں ہے پھر بچّہ ملے تو آ کر مجھے بتاؤ تا کہ میں بھی جا کر اس کو سجدہ کروں۔” 9 وہ مذہبی علماءبادشاہ کی بات سن کر جب وہاں سے نکلے، انہوں نے مشرق میں طلوع شدہ اس ستارے کو دیکھا۔ اور وہ لوگ اس ستارے کے پیچھے ہو لئے اور وہ ستارہ ان کے سامنے چلا اور اس جگہ پر جا کر ٹھہر گیا جہاں پر وہ بچّہ تھا۔ 10 وہ اس ستارے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ 11 جب وہ لوگ اس گھر میں آئے اور بچہ کو اپنی ماں مریم کے پاس پایا تو اسکے سامنے گر کر سجدہ کیا ،اور اپنے قیمتی تحفے کھول کر اس میں سے سونا، لبان اور مُر اس کو نذر کیا۔ 12 لیکن خدا نے ان مذہبی عالموں کو خواب میں ہدایت دی کہ تم ہیرو دیس کے پاس دوبارہ نہ جاؤ۔ لیکن وہ عالم دوسری راہ سے اپنے ملک کو گئے۔ یسوع کے ماں باپ اس کو مصر لے گئے 13 مذہبی عالموں کے چلے جانے کے بعد خداوند کا فرشتہ یوسف کو خواب میں نظرآیااور کہا ، “اٹھ جا اس بچے کو اور اس کی ماں کو ساتھ لیکر مصر کو بھاگ جا۔کیونکہ ہیرودیس اس بچے کی تلاش میں ہے کہ اس کو مار ڈالے۔اورجب تک میں نہ کہوں تو مصر ہی میں آرام سے رہنا۔” 14 اس کے فورًا بعد یوسف اٹھا بچہ اور اسکی ماں کو ساتھ لیکر رات کے وقت میں مصر کو چلا گیا۔15 ہیرودیس کے مرنے تک یوسف مصر ہی میں رہا خدا وند کہتا ہے، “میں نے اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا” [c] “نبی کی معرفت خدا کی کہی ہوئی یہ بات پوری ہوئی۔ بیت ا للحم میں ننھے بچّوں کا قتل عام 16 ہیرودیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ عالموں نے اسے بیوقوف بنایا ہے تو وہ بہت غضبناک ہوا۔حالانکہ اس بچے کے پیدا ہونے کا وقت ہیرودیس نے ان عالموں سے جان لیا تھا۔اور اب اس بچے کو پیدا ہوئے دو سال گزر گئے تھے۔اس وجہ سے ہیرودیس نے بیت اللحم اور اسکے اطراف میں دو سال کی کم عمر کے تمام ننھّے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ 17 اس طرح یرمیاہ نبی کے ذریعہ خدا کی کہی ہوئی یہ بات پوری ہوئی۔ 18 “رامہ میں ماتم اور زار و قطاررونا سنائی دیا وہ بہت رونے اور غم و اندوہ کی آواز تھی۔ راخل اپنے بچوں کے لئے رو رہی تھی ان کے مرجانے کی وجہ سے انکو تسلی نہ دے سکا۔” [d] یوسف اور مریم کا مصر سے واپس آنا 19 ہیرودیس کے مرنے کے بعد خداوند کا فرشتہ یوسف کو خواب میں پھر نظر آیا۔اور یوسف کے مصر میں رہنے کے وقت ہی یہ بات پیش آئی تھی۔ 20 فرشتہ نے اس سے کہا، “اٹھ جا بچہ کو اور اسکی ماں کو ساتھ لیکر اسرائیل کو چلا جا۔ اور کہا کہ بچہ کو قتل کرنےکی کوشش کرنے والے اب مرگئے ہیں۔” 21 تب یوسف اٹھا اور بچہ کو اور اسکی ماں کو ساتھ لیکر اسرائیل کو چلا گیا۔ 22 لیکن اسکو معلوم ہوا کہ ہیرودیس کے مرجا نے کے بعد اس کا بیٹا ار خلاؤس،یہوداہ کا بادشاہ بن گیا ہے۔تو وہ وہاں جا نے سے ڈر گیا اور خواب میں دی گئی ہدایت کی بنا پر وہ اس جگہ کوچھوڑ کر گلیل کے علاقے کو چلا گیا۔23 ناصرت نامی مقام پر جا کر مقیم ہو گیا۔ اسلئے مسیح ناصری [e] کہلایا۔اس طرح جو کچھ نبیوں نے کہا تھا وہ پورا ہوا۔ Footnotes: a. متّی 2:3 ہیرودیس ہیرو (عظيم) يہوداہ کا پہلا حکمراں، ۴۴۰ قبل مسیح۔ b. متّی 2:6 میکاہ۵:۲ c. متّی 2:15 میں ... بلایا ہوسیع ۱:۱۱ d. متّی 2:18 یرمیاہ ۱۵:۳۱ e. متّی 2:23 ناصری ایک شخص ناصرت شہر کا رہنے والا۔ اس نام کا ممکنہ معنی “شاخ” ہو سکتاہے۔( دیکھیں یسعیاہ ۱:۱۱ متّی 3 بپتسمہ دینے والے یوحنا کا کام 3 اُن دنوں میں بپتسمہ(اصطباغ) دینے والے یوحنا یہوداہ کے بیابان میں منادی دینا شروع کردیا۔ 2 یوحنا نے پکار کر کہا آسمانی بادشاہت قریب آگئی ہے “تم اپنے گناہوں سے توبہ کرکے خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤ”وہ اس طرح منادی دینے لگا۔ 3 “خداوند کیلئے راہ ہموار کرو اسکی راہوں کو سیدھی بناؤ، اس طرح صحرا میں پکارنے والا پکار رہا ہے۔ [a] یوں بپتسمہ دینے والے یوحناکے بارے ميں یسعیاہ نبی نے کہاتھا۔ 4 یوحنا کا لباس اونٹ کے بالوں سے تیارہوا تھا۔اور اسکی کمر میں چمڑے کا ایک کمر بند لگا ہوا تھا۔ اور وہ ٹڈّیاں اور جنگلی شہد کو بطور غذا استعمال کرتا تھا۔ 5 لوگ یوحنا کی منا دی کو سننے کیلئے یروشلم اوریہوداہ کےپورے علاقے اور دریائے یردن کے آس پاس کےسبھی علاقوں سے آتے تھے۔ 6 جب لوگ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے تھے تو یوحنا انکو دریائے یردن میں بپتسمہ دیتا تھا۔ 7 کئی فریسی [b] اور صدوقی [c] یوحنا سے بپتسمہ لینے کے لئے آئے یوحنا نے انکو دیکھ کر کہا، “تم سب سانپ ہو آنے والے خدا کے آنے والے غضب سے تم کو آگاہ کرنے والا کون ہے؟ 8 تم اپنے صحیح کاموں اوراچھے اعمال کے ذریعہ ثابت کرو کہ حقیقت میں تم اپنا دل و جاں بدل چکے ہو۔ 9 ابراہیم ہمارا باپ ہے یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو فریب نہ دو میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر خدا چاہتا تو ابراہیم کیلئے یہاں پائے جانے والی چٹانوں کے پتھروں سے اولاد کو پیدا کرسکتا ہے۔ 10 اب درختوں [d] کو کاٹنے کے لئے کلہاڑی تیّار ہے۔ اچھے پھل نہ دینے والے تمام درختوں کو کاٹ کر آ گ میں جلا دیا جائیگا۔ 11 “تمہارے دل خدا کی طرف رجوع ہیں۔” میں اس بات کے ثبوت میں تم کو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن میرے بعد آنے والا مجھ سے عظیم ہے میں اسکی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہیں ہوں وہ تو تم کو رُوح القُدس اور آ گ سے بپتسمہ دیگا۔ 12 وہ دا نے کو صاف کر نے کیلئے تیار ہے اور وہ دانہ کو بھوسے سے الگ کر کے اچّھے اناج [e] کو گودام میں بھر وا دیگا اور کہا کہ اس کے بھوسے کو نہ بجھنے والی آ گ میں جلا دیا جائے گا۔” یوحنا کا یسوع کو بپتسمہ دینا 13 تب ایسا ہوا کہ یوحنا سے بپتسمہ [f] لینے کیلئےیسوع گلیل سےدریائے یردن کے پاس آئے۔ 14 لیکن یوحنا نے کہا، “میں اس لائق نہیں کہ تجھے بپتسمہ دوں لیکن تو مجھے بپتسمہ دے اور میں اسکا محتاج ہوں۔ تو پھر تو مجھ سے بپتسمہ لینے کیوں آیا ؟اس طرح کہتے ہوئے اس نے اس کو روکنے کی کوشش کی۔” 15 یسوع نے جواب دیا “فی الوقت ایسا ہی ہونے دے اور ہمیں وہ تمام کام جو اچھے اور نیک ہیں کرنا چاہئے” تب یوحنا نے یسوع کو بپتسمہ دینا منظور کرلیا۔ 16 یسوع بپتسمہ لینے کے بعد پانی سے اوپر آئے۔توفورًا ہی آسمان کھل گیا۔ اور یسوع اپنے اوپر خدا کی روح کو کبوتر کی شکل میں اُترتے ہوئے دیکھا۔ 17 تب آسما ن سے ایک آواز آئی “یہ وہ میرا پیارا چہیتا بیٹا ہے اور اس سے میں بہت خوش ہوں۔” Footnotes: a. متّی 3:3 یسعیاہ ۳:۴۰ b. متّی 3:7 فریسی یہ فریسی یہودی مذہبی گروہ ہے۔ c. متّی 3:7 صدوقی ایک اہم یہودی مذہبی گروہ جو پرا نے عہد نامے کی صرف پہلے کی پانچ کتابوں کو ہی قبول کیا ہے اور کسی کے مر جانے کے بعد اسکا زندہ ہو نا نہیں مانتے۔ d. متّی 3:10 درختوں جو لوگ یسوع کو تسلیم نہیں کئے وہ “درختوں” کی طرح ہیں اور ان کو کاٹ دیا جائے گا۔ e. متّی 3:12 اچھّے اناج یوحنّا کے کہنے کا مطلب ہے یسوع اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے الگ کر دیتا ہے۔ f. متّی 3:13 بپتسمہ (اصطباغ ) یہ یونانی لفظ ہے جسکے معنی’ ڈبونا ،یا آدمی کو دفن کرنا یا کوئی چیز پانی کے نیچے۔ متّی 4 یسوع کی آزمائش 4 تب روح یسوع کو جنگل میں شیطان سے آزمانے کیلئے لے گئی۔ 2 یسوع نے چالیس دن اور چالیس رات کچھ نہ کھایا تب اسے بہت بھوک لگی۔ 3 تب اسکا امتحان لینے کیلئے شیطان نے آکر کہا، “اگر تو خداکا بیٹا ہی ہے تو ان پتھروں کو حکم کر کہ وہ روٹیاں بن جائیں۔” 4 یسوع نے اس کو جواب دیا یہ “صحیفہ [a] میں لکھا ہے: کہ انسان صرف روٹی ہی سے نہیں جیتا ، بلکہ خدا کے ہر ایک کلام سے جو اس نے کہیں۔” [b] 5 تب شیطان یسوع کو مقدس شہر یروشلم میں لے جاکر ہیکل کے انتہائی بلندجگہ پر کھڑا کرکے کہا۔6 شیطان نے کہا، “اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو نیچے کود جا کیوں؟ اسلئے کہ صحیفہ میں لکھا ہے ، خدا اپنے فرشتوں کو تیرے لئےحکم دیگا کہ پتھروں سے تیرے پیر کو چوٹ نہ آئے اور وہ اپنے ہاتھوں پر تجھے اٹھا لینگے۔”[c] 7 تب یسوع نے جواب دیا، “یہ بھی کلام میں لکھا ہے خدا وند اپنے خدا کا تو امتحان نہ لے۔”[d] 8 پھر اس کے بعد شیطان یسوع کو کسی پہاڑ کی اونچی چوٹی پر لے جاکر دنیا کی تمام حکومتوں کو اور انکی شان و شوکت کو دکھایا۔ 9 شیطان نے اس سے کہا، “اگر تو میرے سامنے سجدہ کرے تو میں تجھے یہ تمام چیزیں عطا کرونگا۔” 10 یسوع نے شیطان سے کہا، “اے شیطان! تو یہاں سے دور ہو جا ایسا کلام میں لکھا ہوا ہے۔ خداوند اپنے خدا کو ہی سجدہ کرنا اور اس ایک ہی کی عبادت کرنا۔” [e] 11 تب ابلیس یسوع کو چھوڑ کر چلا گیا۔ پھر فرشتے آئے اور اسکی خدمت میں لگ گئے۔ گلیل میں یسوع کی خدمت کی شروعات 12 یسوع کو یہ بات معلوم ہوئی کہ یوحنا کو قید میں بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یسوع گلیل کو واپس لوٹ گیا۔ 13 یسوع ناصرت میں نہیں رہے اورجھیل سے قریب کفر نحوم کے گاؤں میں جا کر رہنے لگے۔اور یہ گاؤں زُبولون اور نفتالی کی سرحد وں سے قریب ہے۔ 14 یسعیاہ نبی کے ذریعہ سے خدا کی کہی ہوئی بات اس طرح پوری ہوئی: 15 “زُبُولون سرحد، نفتالی سرحد، سمندر کی طرف جانے والی سڑک کے کنارے کی زمین یردن ندی کے پچھم سرحد گلیل کے غیر یہودی لوگوں کو دیکھو 16 لوگ اندھیرے میں زندگی گزار ہے تھے۔ تب انکو ایک بڑی تیز روشنی نظر آئی قبر کی طرح گھپ اندھیرے ملک میں زندگی گزارنےوالے ا ن لوگوں کے لئے روشنی نصیب ہوئی” [f] 17 اس دن سے یسوع منادی دینا شروع کیا۔ آسمانی بادشاہت بہت جلد آنے والی ہے جس کی وجہ سے “تم اپنے دلوں کو اور اپنی زندگیوں میں تبدیلی لاؤ۔” یسوع کے چنے ہوئے کچھ شاگرد 18 گلیل جھیل کے کنا رے پر یسوع ٹہل رہے تھے۔ اس نے شمعون ( اس کو پطرس کے نام سے بھی جانا جاتاہے) اور اسکا بھا ئی اندر یاس کو دیکھا۔ یہ دونوں مچھیرے اس دن جھیل کے کنارے پر جال ڈال کر مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ 19 یسوع نے ان سے کہا، “ آؤ میرے پیچھےہو لو میں تم کو دوسری طرح کا ماہی گیر بناؤنگا۔ تمکو جو جمع کرنا ہے وہ مچھلیاں نہیں بلکہ لوگوں کو۔” 20 فورًا شمعون اور اندریاس اپنے جالوں کو چھوڑکر اس کے پیچھے ہو لئے۔ 21 یسوع گلیل کی جھیل کے کنارے آگے چلنے لگے تو زبدی کے دو بیٹے یعقوب اور یوحنا دونوں کو دیکھا۔وہ دونوں اپنے باپ زبدی کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔اور وہ مچھلیوں کا شکار کرنے کیلئےاپنے جالوں کی مرمت کر رہے تھے یسوع نے انکو بلایا۔ 22 تب وہ کشتی کو اور اپنے باپ کو چھوڑ کر یسوع کے ساتھ ہولئے یسوع کی تعلیم اور بیماروں کو شفاء 23 یسوع گلیل کے تمام علاقوں میں گیا۔ یسوع یہودیوں کی عبادت گاہوں [g] میں تعلیم دینے لگا اور خدا کی بادشاہت کے بارے میں خوش خبری کی منادی دینے لگا۔یسوع تمام لوگوں کی بیماریوں اور خرابیوں کو دُور کر کے شفاءدی۔ 24 یسوع کی خبریں تمام ملک سوریہ میں پھیل گئی۔لوگ تمام بیماروں کو یسوع کے پاس لانا شروع کئے۔وہ لوگ جو مختلف قسم کے امراض اور اور تکالیف میں مبتلا تھے۔اور بعض تو شدید تکلیف اور درد میں بے چین تھے۔اور بعض بد روحوں کے اثرات سے متاثر تھے ان میں بعض مرگی کی بیماری میں مبتلا تھے۔اور بعض فالج کے مریض تھے یسوع نے ان سب کو شفاء بخشی۔ 25 بے شمار لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے۔یہ لوگ گلیل سے، دس دیہاتوں [h] سے، یروشلم سے،یہوداہ سے اور دریائے یردن کے اُس پار والے علاقے سے آئے ہوئے تھے۔ Footnotes: a. متّی 4:4 صحیفہ مقدس تحریریں، قدیم عہد نامہ۔ b. متّی 4:4 استثناء ۳:۸ c. متّی 4:6 زبور۱۹:۱۱-۱۲ d. متّی 4:7 استثناء ۱۶:۶ e. متّی 4:10 استثناء ۱۳:۶ f. متّی 4:16 یسعیاہ ۹:۱-۲ g. متّی 4:23 یہودیوں کے عبادت گاہوں یہودی عبادت گاہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں یہودی لوگ عبادت کرنے، تحریروں کو پڑھنے اور دوسرے عام مجمع لئے جمع ہوتے ہیں۔ h. متّی 4:25 دس دیہاتوں یونانی لفظ “ڈکپُلس” یہ علاقہ گلیل تالاب کےمشرق کی طرف ہے۔ ایک زمانے میں یہاں دس گاؤں تھے۔ متّی 5 یسوع کا لوگوں کو تعلیم دینا 5 یسوع نے جب لوگوں کی اس بھیڑ کو دیکھا تو پہاڑ کے اوپر چڑھکر بیٹھ گئے۔اسکے شاگرد بھی اسکے پاس آئے۔ 2 تب یسوع نے یہ تعلیم دینی شروع کی۔ اور کہا، 3 مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئےہے۔ 4 مبارک ہیں وہ لوگ ہے جو غم زدہ ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے تسلّی ملیگی۔ 5 مبارک ہیں وہ لوگ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ خدا کے وعدےسے زمین کے وارث ہونگے۔ 6 مبارک ہیں وہ لوگ جو راستباز بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ خدا انکو آسودہ اور خوشحال کریگا۔ 7 مبارک ہیں وہ لوگ جو رحم دل ہیں کیونکہ ان پر رحم کئےجائینگے۔ 8 مبارک ہیں وہ لوگ جو پاک ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھینگے۔ 9 مبارک ہیں وہ لوگ جو صلح کراتے ہیں وہ تو خدا کے بیٹے کہلائینگے۔ 10 مبارک ہیں وہ لوگ جو راستبازی کر نے کے سبب سے ستا ئے گئے کیوں کہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئے ہوگی۔ 11 “لوگ میری پیروی کرنے کی وجہ سے تمہارا مذاق اُڑائینگےاور ظلم و زیادتی کریں گے اور تم پر غلط اور جھوٹی باتوں کے الزام لگائینگے ،تو تم قابل مبارک باد ہوگے۔ 12 خوشی کرنا اور شادماں ہونا اس لئے کہ جنت میں تم اسکا بڑا بدلہ پاؤگے۔کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں کے ساتھ بھی لوگ ایسا ہی سلوک کیا کرتے تھے۔ تم نمک کی مانند اور روشنی کی طرح ہو 13 “تم زمین کے لئےنمک کی مانند ہو۔ اگر نمک اپنا مزہ کھودے تو دوبارہ اسے نمکین نہیں بنا سکتے۔اور اس نمک سے کوئی فائدہ نہ ہوگا لوگ اسکو باہر پھینک کر پیروں تلے روندینگے۔ 14 “تم ساری دنیا کے لئے روشنی ہو جو شہر پہاڑ کی چوٹی پر بنایا جاتا ہے وہ چھپ نہیں سکتا۔ 15 لوگ روشنی کو برتن کے نیچے نہیں رکھتے۔بلکہ لوگ اس چراغ کو شمعدان میں رکھتے ہیں۔تب کہیں روشنی تمام گھر کے لوگوں کو پہنچتی ہے۔ 16 اسی طرح تم لوگوں کو روشنی دینے والے بنو۔کہ تمہاری نیکیوں کو دیکھ کر وہ تمہارے باپ کی حمداور تعریف و توصیف کریں کہ جو آسمانوں میں ہے۔ یسوع اور شریعت کی تحریر 17 “یہ نہ سمجھو کہ میں موسیٰ کی کتاب شریعت اور نبیوں کی تعلیمات کو منسوخ یا بیکار کرنے کیلئے آیا ہوں میں ان کو منسوخ کر نے کے بجائےان کو پورا کرنے کیلئےآیا ہوں۔ 18 میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ زمین و آسمان کے فنا ہونے تک شریعت سے کچھ بھی غائب نہ ہوگا۔شریعت کا ایک حرف یا اسکا ایک لفظ بھی غائب نہ ہوگا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ 19 ہر انسان کو چاہئے کہ وہ ہر حکم بلکہ چھوٹے احکام کی بھی تعمیل میں فرمانبردار بنیں۔اگر کوئی ان احکامات میں سے کسی ایک کی تعمیل میں نافرمانی کرے اور دوسرےلوگوں کو بھی اس نا فرمانی کی تعلیم دے تو وہ خدا کی بادشاہت میں انتہائی حقیر ہوگا۔لیکن اگر وہ شریعت کا فرمانبردار ہوکر زندگی گزارنے اور دوسروں کو شریعت کا پابند ہونے کی تلقین کرنے والا خدا کی بادشاہت میں بہت اہم ہوگا۔ 20 لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ معلمین شریعت سے اور فریسیوں سے بہتر کام ہی تم کو کرنا چاہئے ورنہ تم خدا کی بادشاہت میں داخل نہ ہو سکو گے۔ غصّہ سے متعلق یسوع کی تعلیم 21 “وہ بات ایک عرصہ سے پہلے لوگوں سے کہی گئی تھی جس کو تم نے سنا تھا۔ کسی کا قتل نہیں کرنا چاہئے [a] جو شخص کسی کا قتل کرے اس کا انصاف کیا جائیگا۔ 22 لیکن میں تم سے جو کہتا ہوں کہ تم کسی پر غصّہ نہ کرو ہر ایک تمہارا بھائی ہے اگر تم دوسروں پر غصہ کروگے تو تمہارا فیصلہ ہوگا اور اگر تم کسی کو برا کہوگے تو تم سے یہودیوں کی عدالت میں چارا جوئی ہوگی۔اگر تم کسی کو نادان یا اُجڈ کے نام سے پکاروگے تو دوزخ کی آ گ کے مستحق ہوگے۔” 23 “اس لئے جب تم اپنی نذر قربان گاہ میں پیش کرنے آؤ اور یہ بھی یاد آجائے کہ تم پر تمہارے بھائی کی ناراضگی ہے تو، 24 تب اپنی نذر قربان گاہ کے نزدیک ہی چھوڑ دواور پہلے جا کر اسکے ساتھ میل ملاپ پیدا کرو اور پھر اسکے بعد آکر اپنی نذر پیش کرو۔ 25 “اگر تمہارا دشمن تمہیں عدالت میں کھینچ لے جارہا ہو تو تم جلد اسکے دوست ہو جا ؤ۔اور تم کو عدالت جانے سے پیشتر ہی ایسا کرنا چاہئے۔اگر تم اسکے دوست نہ بنوگے تو وہ تمہیں منصف کے سامنے لےجائیگا منصف تمہیں سپاہی کے حوالے کریگا تاکہ تمہیں قید میں ڈالا جائے۔ 26 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تم کوڑی کوڑی کو ادا نہ کرو تم قید سے رہا نہ ہوگے۔ جنسی گناہ سے متعلق یسوع کی تعلیم 27 “اس بات کو تم سن چکے ہو کہ یہ کہا گیا ہے ، تم زنا کے مرتکب نہ ہو، [b] 28 میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت کو زنا کی نظر سے دیکھے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہے تو گویااس نے اپنے ذہن میں عورت سے زنا کیا۔ 29 اگر تیری داہنی آنکھ تجھے گناہ کے کاموں میں ملوث کردے تو تو اس کو نکا ل کر پھینک دے۔اس لئے کہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کر دیا جائے۔ 30 اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے گناہ کا مرتکب کرے تو اس کو کاٹ کر پھینک دے۔ اس لئےکہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کردیا جائے۔ طلاق کے بارے میں یسوع کی تعلیم 31 “یہ بات کہی گئی ہے کہ جوکو ئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اسکو چاہئے کہ وہ اسکو تحریری طلاق نامہ دے۔ [c] 32 لیکن میں تم سے کہتا ہوں ،” کوئی بھی شخص جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو حرام کا ری کر نے کے گناہ کا قصور وار بناتا ہے- کسی بھی شخص کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا صرف ایک ہی وجہ ہے- وہ یہ کہ اسکی بیوی نے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کی ہو-اور کو ئی بھی شخص اس طلاق شدہ عورت سے شادی کر تا ہے تو وہ حرام کاری کا گناہ کر نے کا قصور وار ہے- قسمیں کھانے کے بارے میں یسوع کی تعلیم 33 “دو بارہ تم سن چکے ہو تمہارے اجداد سے کہی ہوئی بات کہ قسموں کو مت توڑو جو تم نے کھائی ہے اور خداوند کے نام پر کھائی ہوئی قسم کو پورا کرو۔ [d] 34 لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ قسم ہر گز نہ کھا ؤ۔جنّت کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ جنت خدا کا تخت ہے۔ 35 زمین کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤکیوں کہ زمین خدا کے پیروں کی چوکی ہے یروشلم کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ وہ عظیم شہنشاہ کا شہر ہے۔ 36 تم اپنے سروں کی بھی قسمیں نہ کھاؤ کیو ں کہ تمہارے سر کا ایک بال بھی سیاہ یا سفید کرنا تمہارے لئے ممکن نہیں۔ 37 اگر صحیح ہے تو کہو ٹھیک ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو کہو ٹھیک نہیں ہے تم اس سے بڑھ کر جو کہتے ہو تو وہ بدی سے ہے۔ بدلہ لینے کے بارے میں یسوع کی تعلیم 38 “تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ [e] 39 میں تم سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ برے شخص کے مقابلے میں کھڑے نہ ہو۔اگر کوئی تمہارے دائیں گال پر تھپڑ مارے تو اس کے لئے دوسرا بایاں گال بھی پیش کرو۔ 40 اگر تم سے کوئی کرتا لینے کیلئے تم کو عدالت میں کھینچ لے جائے ،تو تم اسکو اپنا چغّہ بھی دے دو۔ 41 اگر کوئی تم کو زبردستی ایک میل بیکار چلنے کیلئے کہے تو اس کے ساتھ دو میل چلے جاؤ۔ 42 کوئی بھی تم سے اگر کوئی چیز پوچھے جو تمہارے پاس ہے ،تو وہ اسکو دیدو اگر کوئی تم سے قرض لینے کیلئے آئے تو تم اسکو انکار نہ کرو۔ سب سے محبت کرو 43 “تو اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر۔ اس کہی ہوئی بات کو تم نے سنا ہے۔[f] 44 لیکن میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور تمہارا نقصان پہونچانے والے کے لئے تم دعا کرو۔ 45 تب تم آسمان میں رہنے والے تمہارے باپ کے حقیقی بچّے ہوگے۔کیوں کہ تمہارا باپ سورج کو نکالتا اور چمکاتا ہے دونوں کے لئے بروں اور نیکوں دونوں کے لئے بارش بھیجتا ہے دونوں کے لئے راستباز اور غیر راستباز۔ 46 تم سے محبت رکھنے والوں سے اگر تم بھی محبت رکھو گے تو تم کو اس سے کیا صلہ ملیگا ؟اس لئے کہ محصول وصول کرنے والے بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔47 اگرتم صرف اپنے دوستوں کے حق میں اچھّے بننا چاہتے ہو تو ایسے میں تم دوسروں سے کوئی اتنے اچھے نہیں ہو۔اس لئے کہ خدا کو نہ پہچاننے والے لوگ بھی اپنے دوستوں سے اچھے رہتے ہیں۔ 48 اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔ Footnotes: a. متّی 5:21 اِقتِباس خروج۱۳:۲۰، استثناء ۱۷:۵ b. متّی 5:27 اِقتِباس خروج ۱۴:۲۰، استثناء ۱۸:۵ c. متّی 5:31 اِقتِباس استثناء ۱:۲۴ d. متّی 5:33 خداوند۔۔۔ پورا کرو۔ خروج ۱۲:۱۹، گنتی ۲:۳۰، استثناء ۲۱:۲۳ e. متّی 5:38 اِقتِباس خروج۲۱:۲۴، احبار ۲۰:۲۴ f. متّی 5:43 اِقتِباس احبار ۱۸:۱۹ متّی 6 خیرات کے بارے میں یسوع کی تعلیم 6 “ہوشیار رہو! تم اچھے کام لوگوں کے سامنے اس خیال سے نہ کرو کہ لوگ اسکو دیکھیں تو آسمان میں رہنے والے تمہارے باپ کی طرف سے تمہیں اس کا کوئی اجر نہ ملے گا- 2 “جب تم غریب کو خیرات دو تو اسکی تشہیر نہ کرو۔منافقوں کی طرح نہ بنو۔جب کبھی ریا کار خیرات دیتے ہیں یہودی عبادت گاہوں میں اور گلی کوچو ں میں نر سنگوں کو بجا کر اعلان کرتے ہیں اور لوگوں سے تعریف حاصل کرنا ہی انکا مقصد ہوتا ہے۔میں کہتا ہوں یہی تو وہ صلہ ہے جو وہ حاصل کرتے ہیں۔3 اور جب بھی غریبوں کو تم کچھ دو تو وہ خفیہ طور پر دو تا کہ اس کے متعلق کسی کو اس بات کا علم نہ ہو۔ 4 اس طرح تمہارا خیرات دینا پوشیدہ ہوگا لیکن تمہارا باپ دیکھتا ہے کہ پوشیدہ کیا کیا گیا ہے اوروہ تم کو اسکا اچھّا صلہ دیگا۔ دعا اور عبادت سے متعلق یسوع کی تعلیم 5 “جب تم عبادت کرو تو ریا کاروں کی طرح نہ کرو۔ریا کار لوگ یہودیوں کی عبادت گا ہوں میں اورگلیوں کے کونوں پر ٹھہر کر زور سے دعا کرنے کو پسند کرتے ہیں اور انکی یہ خواہش ہو تی ہے کہ لوگ انکی عبادت کو دیکھیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ گویا وہ اسی وقت اپنے صلہ کو پا لئے۔ 6 اگر تم عبادت کرنا چاہو تو تم اپنے کمرے میں جاکر دروازہ بند کرلو اور تمہارے باپ کی عبادت کرو جس کو تم نہیں دیکھ سکتے تمہارا باپ دیکھتا ہے جو پوشیدہ کیا گیا ہے اور وہ تم کو صلہ دیگا۔ 7 “جب تم عبادت کرو تو ریا کاروں کی طرح عبادت نہ کرو۔کیوں کہ وہ بے معنی باتوں کو دہراتے رہتے ہیں۔اس قسم کی عبادت تم نہ کرو۔ اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر زیادہ باتیں کریں تو خدا انکی دعا کو سنتا ہے۔ 8 تم انکی طرح نہ بنو۔اس لئے کہ تمہارے مانگنے سے پہلے تمہارے باپ کو معلوم ہے کہ تمہیں کیا چاہئے۔ 9 اس وجہ سے تم اس طرح عبادت کرو: آسمان میں رہنے والے اے ہمارے باپ تیرا نام مقدس ہے۔ 10 تیری بادشاہی آئے، جس طرح کہ تیرا منشا آسمان میں پورا ہوتا ہے اسی طرح اسی دنیا میں بھی پورا ہو۔ 11 ہماری ہر روز کی روٹی ہم کو اسی دن دے۔ 12 ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم سے غلطی کرنے والوں کو ہم معاف کرتے ہیں۔ 13 ہمیں آزمائش میں نہ ڈال لیکن برائی سے ہماری خفاظت فرما۔ [a] 14 ہاں، دوسروں کی غلطیوں کو تم معاف کروگےتو تمہارا باپ بھی جو جنت میں ہے تمہاری غلطیوں کو معاف کریگا۔ 15 اگر لوگوں کی غلطیوں کو معاف نہ گروگے تو آسمانوں میں رہنے والا تمہارا باپ بھی تمہاری غلطیوں کو معاف نہ کریگا۔ روزہ رکھنے کے بارے میں یسوع کی تعلیم 16 “جب تم روزہ رکھو تو تم اپنے چہروں کو پھیکے اور اداس نہ بناؤ۔ریا کار والے ویسا ہی کرتے ہیں۔تو تم ان ریا کاروں کی طرح نہ بنو۔ وہ روزہ کی حالت میں لوگوں کو دکھاوا کرنے کیلئے وہ اپنے چہروں کی ہیئت کو بگاڑ لیتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں ان ریا کاروں کو اپنے کئے کا پورا بدلہ مل چکا ہے۔17 اس لئے جب تم روزہ رکھو تو منھ کو خوب دھویا کرو اور سر میں تیل لگاؤ۔ 18 تب لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ تم روزے سے ہو۔لیکن تمہاری نظروں سے پوشیدہ تمہارا باپ تو ضرور تم کو دیکھتا ہے۔اور وہ پوشیدگی میں رونما ہونے والے تمام حالات کو جانتا ہے اور تمہارا باپ تم کو اچھا بدلہ دیگا۔ دولت سے بڑھ کر خدا کی اہمیت 19 “اپنے لئے اس زمین پر خزانے نہ رکھو۔کیوں کہ اس میں کیڑا لگ جا ئے گا اور زنگ آلود ہوکر یہ ضائع ہو جائے گا۔چور تمہارے گھروں میں داخل ہو سکتے ہیں اور جو چیزیں تم رکھتے ہو وہ چرا سکتے ہیں۔ 20 اس لئے تم اپنے خزانوں کو جنت کیلئے تیا ر کرو کہ جہاں ان کو نہ تو کوئی کیڑا تباہ کریگا اور نہ کوئی زنگ پکڑیگا۔ اور نہ کوئی چور نقب زنی کے ذریعے اس کو چرائیگا۔ 21 کیوں کہ جہاں تیرا خزانہ ہوگا وہیں پر تیرا دل بھی لگا رہیگا۔ 22 “آنکھ بدن کے لئے روشنی ہے۔ اگر تیری آنکھیں اچھی ہوں تو تیرا سارا بدن روشن ہوگا۔ 23 اگر تیری آنکھوں میں خرا بی ہو تو تیرا سارا بدن تاریکی سے بھر جائیگا۔تجھ میں پائی جانے والی ایک روشنی اگر وہ تاریک ہو جائے تو کتنا گھپ اندھیرا ہو جائیگا۔ 24 کوئی شخص ایک وقت دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔وہ ایک سے نفرت کرکے دوسرے سے محبت کر سکے گا ،یا اگر ایک مالک کی پیروی کریگا تو دوسرے کو نظر انداز کریگا۔تو بیک وقت خدا اور مال و دولت کی خدمت نہیں کرسکتا۔” پہلا درجہ خدا کی بادشاہت 25 “اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ تم کو غذا کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور بدن کو ڈھانکنے کے لئے ملبوسات کے لئے تم فکر مند نہ ہو نا۔کیوں کہ زندگی غذا سے اور بدن کپڑوں سے بڑھ کر اہم ہے۔ 26 پرندوں پر ایک نظر ڈالو۔نہ تو وہ بیج بوتے ہیں اور نہ فصل کاٹتے ہیں۔اور نہ کوٹھیوں میں اناج کے ذخائر جمع کرتے ہیں لیکن اس کے با وجود آسمانوں میں رہنے والا تمہارا باپ انہیں غذا فراہم کرتا ہے اور تم جانتے ہو کہ ان پرندوں سے بڑھ کر تم کتنی قدر و قیمت کے لائق ہو۔ 27 اور تمہاری فکر مندی کی وجہ سے تمہاری عمر دراز نہ ہوگی۔ 28 “لباس کی فکر کیوں کرتے ہو ؟جبکہ کھیتوں میں پائے جانے والے پھولوں پر غور کرو۔اور انکے بڑھنے پر غور کرو۔وہ محنت مشقّت بھی نہیں کرتے۔اور نہ اپنے لئے کوئی کپڑے بنتے ہیں۔ 29 میں تم سے جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ سلیمان جو اتنی آن بان و عظمت کے ساتھ رہا۔تب بھی وہ کسی ایک پھول کی خوبصورتی کے برابر لباس زیب تن نہ کیا۔ 30 میدان میں اُگنے والی گھاس کو خدا پوشاک پہنا تا ہے۔جبکہ گھاس جو اب ہے اور کل کو آ گ میں جلےگی اس لئے خدا تم کو کتنا زیادہ پہنائے گا۔ کم ایمان والے نہ بنو۔ 31 تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھا ئینگے ؟ اور کیا پئینگے؟اور کیا پہنیں گے؟ 32 لوگ جو خدا کو نہیں جانتے وہ ان اشیاء کو پا نے کی کوشش کرتے ہیں۔تم فکر نہ کرو کیوں کہ جنّت میں رہنے والا تمہارا باپ جانتا ہے کہ تم کو یہ تمام چیزیں چاہئے۔ 33 اس لئے تم کو خدا کی بادشاہت کے لئےاور اسکی مرضی کے مطابق کاموں کی خواہش کرنا چاہئے۔تب تمہیں دوسری چیزیں بھی دی جائیں گی جو تم چاہتے ہو۔34 اس لئے تم کو کل کی فکر نہ کرنی چاہئے کیوں کہ ہر دن کے اپنے مشکلات ہیں کل بھی اسکے اپنے افکار ہوں گے۔ Footnotes: a. متّی 6:13 آیت ۱۳ چند یونانی نسخوں میں اس آیت کو شامل کیا گیا ہے۔ ”کیوں کہ حکومت، طاقت اور جلال ہمیشہ ہمیشہ تیرا ہی رہےگا۔” آمین۔ متّی 7 دوسروں کے تعلق سے فیصلہ کرنے کے بارے میں یسوع کی تعلیم 7 “دوسروں کے متعلق فیصلہ نہ دو۔تب خدا تمہارے حق میں بھی فیصلہ نہ دیگا۔ 2 اگر تم دوسروں کے حق میں فیصلہ دوگے تو تمہارے حق میں بھی اس قسم کا فیصلہ ہوگا۔اگر تم دوسروں کے ساتھ جو اقدام کرو تو وہی اقدام تمہارے ساتھ بھی ہوگا۔ 3 “تیری اپنی آنکھ میں پائے جانے والے شہتیر کو تو نہیں دیکھتا۔ تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ میں پائے جا نے والے تنکے کو دیکھتا ہے۔ 4 تُو اپنے بھائی سے کیسے کہہ سکتا ہے کہ تُو مجھے اپنی آنکھ کا تنکا نکالنے دے جبکہ پہلے تو اپنی آنکھ کو دیکھ! کہ اب تک تیری آنکھ میں شہتیر موجود ہے۔ 5 تُو تو ایک ریا کار ہے! پہلے توُاپنی آنکھ کے شہتیر کو نکال تب اپنے بھائی کی آنکھ میں پائے جا نے والے تنکے کو نکالنے کیلئے تجھے صاف نظر آئیگا۔ 6 “مقدس چیزوں کو تم کُتوں کے آگے نہ ڈالو۔اسلئے کہ وہ پلٹ کر تمہیں کاٹ لیں گے۔سُوّروں کے سامنے اپنے موتیوں کو نہ ڈالو۔کیوں کہ وہ موتیوں کو پیروں تلے روند ڈالیں گے۔ اپنی حاجتوں کو خدا سے مانگا کرو 7 “مانگو،تب خدا تمہیں دیگا۔تلاش کرو ،تب کہیں تم پاؤگے۔دروازہ کھٹکھٹاؤتب کہیں وہ تمہارے لئے کھلے گا۔ 8 ہاں ہمیشہ پوچھتے رہنے والے ہی کو ملتا ہے اور لگاتار ڈھونڈنے والا پا ہی لیتا ہے اور لگاتار کھٹکھٹا نے وا لے کے لئے دروازہ کھل ہی جاتا ہے۔ 9 “اگر تمہارا بچّہ روٹی مانگے تو کیا تم اس کو پتھر دوگے۔ 10 اگر وہ مچھلی پو چھے تو کیا اس کو سانپ دو گے۔ 11 تم خدا کی طرح اچھے نہیں ہو۔بلکہ خراب ہو لیکن اس کے با وجود تم اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا چاہتے ہو۔اس طرح تمہارا باپ بھی جنّت میں ہے پوچھنے والوں کو اچھی چیزیں دیگا۔ بہت اہم شریعت 12 “دوسروں کے ساتھ تم اچھا برتاؤ کرو جس کی تم ان سے اپنے لئے کرنے کی امید کرتے ہو۔یہ موسیٰ کی شریعت اور نبیوں کی تعلیمات کا خُلاصہ ہے۔ ابدی زندگی کا راستہ تکلیف دہ ہے 13 “تنگ دروازے کے راستے سے جنّت میں داخل ہوجاؤ۔جہنم کو جانے والا راستہ آسان اور بہت زیاہ چوڑا ہے۔کئی لوگ اسکے ذریعے دا خل ہوتے ہیں۔ 14 لیکن ابدی زندگی کے داخلے کا دروازہ بہت چھوٹا ہے اوروہ راستہ مشکل ہے صرف چند ہی لوگ اس راستہ کو پاتے ہیں۔ لوگوں کے کردار پر غور کرو 15 “جھوٹے نبیوں کے بارے میں ہوشیار رہو۔وہ بھیڑوں کی طرح تمہارے پاس آئینگے۔لیکن حقیقت میں وہ بھیڑئیے کی طرح خطرناک ہو ں گے۔ 16 تم ان کے کاموں کو دیکھ کراُن کو پہچان لوگے۔جس طرح تم کانٹے دار جھاڑیوں سے انگور نہیں پا سکتے۔ اور کا نٹے دار درخت سے انجیر نہیں پا سکتے -اسی طرح اچھی چیزیں بُرے لوگوں میں نہیں ہوتی۔ 17 ٹھیک اسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل ہی دیتا ہے۔ 18 اچھا درخت خراب پھل نہیں دیتا۔ اور خراب درخت اچھا پھل نہیں دیتا ۔ 19 ہراس درخت کو جو اچھا پھل نہیں دیتا اس کو کاٹ کر آ گ میں جلادیا جائےگا۔ 20 اس لئے جھوٹی تعلیم دینے والوں کو اُن کے پھلوں سے پہچان لو گے۔ 21 “صرف اتنا کہنے سے کوئی آدمی خداکی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا جو صرف مجھے خدا وند اے خدا وند کہہ کر پکارے آسمان میں رہنے والے ہمارے باپ کی مرضی کے مطابق زِندگی گزارنے والے ہی خُدا کی بادشاہت میں داخل ہوں گے۔ 22 آخری دن کئی لوگ مجھ سے کہیں گے کہ تو ہی ہمارا خداوند ہے! تیرے ہی بارے میں ہم نے نبوّت دی ہے۔تیرے ہی نام سے ہم نےبد رُوحوں کو چھڑایا ہے اور مختلف غیر معمولی کا موں کو انجام دیا ہے۔ 23 لیکن میں صاف طور پر ان سے کہہ دوں گاکہ اے بد کار لوگو!مجھ سے دور ہو جاؤمیں نے تمہیں کبھی نہیں جا نا ؟ عقلمند اور بے وقوف 24 “میری ان باتوں کو سن کر اس کی فرماں برداری کرنے والا ہر شخص اُس عقلمند کی طرح ہوگا کہ جو اپنا گھر پتھّر کی چٹان پر بنا یا ہو۔ 25 سخت اور شدید بارش ہوئی اور بارش کا پانی اوپر چڑھنے لگا۔تیز ہوائیں اس گھر سے ٹکرانے لگیں۔چونکہ وہ گھر پتھّر کی چٹان پر بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ گرا نہیں۔ 26 جو کو ئی میری ان باتوں کو سننے کے باوجود اس کی اطاعت نہ کرے وہ بے وقوف ہوگا اور کم عقل آدمی ہی ایسا ہے کہ جس نے ریت پر اپنا گھر بنایا۔ 27 شدید بارش ہو ئی اور پانی اوپر چڑھنے لگا اور تیز ہوائیں اس گھر سے ٹکرائیں اور وہ گھر زوردار آواز سے گر گیا۔” 28 جب یسوع نے ان چیزوں کی تعلیم ختم کی تو لوگ اسکی تعلیم سے بہت حیرت میں پڑ گئے۔ 29 کیوں کہ اس نے ان کو شریعت کے معلِّموں کی طرح تعلیم نہیں دی بلکہ ایک صاحب اقتدار کی طرح تعلیم دی متّی 8 صحت یاب ہو نے والے کوڑھی 8 یسوع پہاڑ سے اُتر کر نیچے آگئے لوگ جوق درجوق اس کے پیچھے ہو لئے۔ 2 تب ایک کوڑھی شخص یسوع کے پاس آیا۔اور یسوع کے سامنے جھک گیا اور کہا ، “اے خدا وند اگر تو چاہے تو مجھے صحت دے سکتا ہے۔” 3 یسوع نے اسے چھو کر کہا، “میں تیری شفا کی خواہش کرتا ہوں ٹھیک ہو جا” اس کو اسی لمحہ کو ڑھ کی بیماری سے شفا ملی۔ 4 یسوع نے اس سے کہا ، “یہ کس طرح ہوا تو کسی سے نہ کہنا۔تُو اب جا اور اپنے آپ کو کا ہن کو دکھا، اور موسیٰ کی شریعت کے حکم کے مطا بق مقّررہ نذرانہ پیش کر۔اور تیری صحت یا بی لوگوں کے لئےگواہی ہوگی۔ صحت پانے والے عہدیدار کا خادم 5 یسوع کفر نحوم شہر کو چلے گئے۔جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو فوج کا ایک سردار اس کے پاس آیا۔6 اور منّت کرتے ہوئے مدد کے لئے کہا ، “اے میرے خداوند میرا خادم بیمار ہے اور وہ بستر پر پڑا ہے اور وہ شدیدتکلیف میں مبتلا ہے۔” 7 یسوع نے اس عہدیدار سے کہا، “میں آکر اس کو شفا دونگا۔” 8 اس بات پر اس عہدیدار نے کہا ،“اے میرے خدا وند میں اس لائق نہیں ہوں کہ آپ میرے گھر آئیں۔آپکا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ وہ صحت پا جائے تو یقینا میرا خادم صحت پائے گا۔ 9 میں بھی دوسرے اعلی عہدیداروں کے تا بع ہوں۔ میرے ما تحت سپا ہی ہیں۔میں اگر ایک سپاہی سے یہ کہہ دوں کہ چلا جا تو وہ چلا جا تا ہے اور اگر دوسرے سپاہی سے یہ کہدوں کہ آجا تو وہ آ جا تا ہے۔ اگر میں اپنے خادم سے یہ کہوں کہ یہ کر تو وہ اس کو کرتا ہے میں جانتا ہو ں کہ تجھے بھی اس قسم کی باتوں پر اختیار ہے۔” 10 اس بات کو سُن کر یسوع کو بڑی حیرت ہوئی اور اسکے ساتھیوں سے کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں نے اسرائیل میں بھی ایسا اعتقاد رکھنے والے کسی فرد کو نہ دیکھا۔ 11 کئی لوگ مشرق اور مغرب سے آتے ہیں۔اور وہ خدا کی باد شاہت میں ابراہیم اسحاق یعقوب کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھائینگے۔ 12 اور کہا کہ خدا کی بادشاہت کو پانے والے با ہر اندھیرے میں پھینک دیئے جائینگے اور وہ وہاں چیخ و پکار کریں گے اور درد سے دانت پِیسیں گے۔” 13 تب یسوع نے اس عہدیدار سے کہا ، “گھر چلا جا تیرے عقیدہ کے مُطابِق تیرا خادم شفا پائیگا۔” اسی وقت اُس کاخادم شفا یاب ہوا۔ شفاءپانے والے مختلف لوگ 14 یسوع پطرس کے گھر کو گئے۔اور وہاں دیکھا کہ پطرس کی ساس بُخار کی شدّت سے بستر پر پڑی ہے۔ 15 جب یسوع نے اسکا ہاتھ چھوا تو وہ بخار سے نجات پائی۔تب وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ان کی خدمت کی۔ 16 اُس دن ایسا ہوا کہ شام کے وقت لوگ بد رُوحوں سے متاثر کئی افراد کو یسوع کے پاس لا نے لگے۔یسوع نے اپنے کلام سے بد رُوحوں کو اُن افراد سے بھگا دیا۔اور اُن تمام بیماروں کو صحت بخشا۔17 یسعیاہ نبی کی کہی ہوئی بات اس طریقہ سے پُوری ہوئی کہ “وہ ہم سے ہمارے دکھ درد کو لے لیا اور ہماری بیماریوں کو اٹھا لیا۔” [a] یسوع کی اتباع کرو 18 یسوع نے اپنے اطراف جمع شدہ تمام لوگوں کو دیکھا تو اس نے حکم دیا جھیل کے اس پار کنارے پر جاؤ۔ 19 تب ایک معلّم ِ شریعت یسوع کے پاس آ یا۔اور کہنے لگا، “اے استاد آپ جس جگہ جائیں گے وہاں میں تیرے پیچھے چلونگا۔” 20 یسوع نے اس سے کہا ، “لومڑیوں کے تو کھوہ ہوتے ہیں اور پرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں۔لیکن ابن آدم [b] کو آرام کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔” 21 شاگردوں میں سے ایک نے یسوع سے کہا ، “اے خدا وند آپ مجھے پہلے اس بات کی اجازت دیجئے کہ میں اپنے باپ کی تدفین کے مراسم کو انجام دوں۔پھر اس کے بعد میں تیرے پیچھے ہو لونگا ۔” 22 لیکن یسوع نے اس سے کہا ، “تو میرے پیچھے چل اور مردوں کو اپنے مردے دفن کر نے دے۔” یسوع کے حکم پر طوفانی ہوا کی اطاعت 23 یسوع کشتی میں سوار ہوئے اس کے شاگر دبھی اس کے ساتھ ہو لئے۔ 24 کشتی جھیل کے کنارے سے نکل جا نے کے بعد طوفانی ہوا جھیل کے اوپر چلنی شروع ہوئی۔ اور لہریں کشتی کو اچھالنے لگیں۔لیکن یسوع سو رہے تھے۔ 25 یسوع کے شاگرد اس کے قریب جا کر اس کو بیدار کئے اور کہنے لگے ، “اے خداوند ہماری حفاظت فرما ہم ڈوب رہے ہیں۔” 26 یسوع نے ان سے کہا، “تم کیوں خوف کرتے ہو ؟تم میں مناسب ایمان نہیں ہے ،،یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور ان بڑی طوفانی ہواؤں اور لہروں کو حکم دیا۔اس کے فورا بعد طوفانی ہوا رک گئی۔ اور جھیل پر مکمل سکوت چھاگیا۔ 27 لوگ حیرت زدہ تھے اور آپس میں کہنے لگے، “یہ کس قسم کا آدمی ہے ؟ یہاں تک کہ طوفانی ہوا اور پانی بھی اس کے فر مانبردار ہے۔” بدروحوں سے متاثر دو آدمیوں کو چھٹکارہ 28 یسوع جھیل کے دوسرے کنارے پر گدرین کی سر زمین میں آ ئے۔وہاں بد روح سے متاثر ہ دو آدمی یسوع کے پاس آئے۔وہ قبروں میں رہتے تھے۔اور وہ دونوں بہت ہی ضرر رساں تھے۔جس کی وجہ سے لوگوں میں ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس راہ پر جائیں۔ 29 وہ دونوں چلاّتے ہوئے یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے، “ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟اے خدا کے بیٹے کیا تو مقرّرہ وقت سے پہلے ہی ہمیں سزا دینے کےلئے یہاں آیا ہے۔” 30 اس جگہ سے قریب سوّروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ 31 بد روحیں منّت کر نے لگےکہ “تو چاہتا ہے کہ ہم ان دونوں کو چھوڑ کر سوّروں میں چلے جائیں تو مہر بانی فرما کر ہمیں سوّروں کے اس غول میں بھیج دے۔” 32 تب یسوع نے ان سے کہا ، “چلے جاؤ” تب وہ روحیں ان دونوں کو چھوڑ کر سوّروں میں چلی گئیں۔فوراً وہ تمام سوّر پہاڑ کے نشیب میں دوڑے اور جھیل میں گر کر پا نی میں ڈوب گئے۔ 33 سوّروں کو چرا نے والے شہر میں دوڑ کر گئے سوّروں پر اور ان لو گوں پر جو کہ شیطانوں سے متاثر تھے پیش آئے ہوئے واقعات کو وہ لو گوں سے بیان کئے۔ 34 تب شہر کے تمام لوگ یسوع کو دیکھنے کیلئے چلے گئے۔ جب ان لوگوں نے انہیں دیکھاتو اس سے التجاکر نے لگے کہ وہ ان لوگوں کی جگہ چھوڑ کر چلا جائے۔ Footnotes: a. متّی 8:17 یسعیاہ ۵۳:۴ b. متّی 8:20 ابن آدم یہ نام یسوع خود اپنے ليے استعمال کیا متّی 9 شفاء پا نے والا مفلوج مریض 9 یسوع کشتی میں سوار ہو ئے اور جھیل کو پار کرتے ہو ئے خاص شہر کو چلے گئے۔ 2 چند لوگ ایک مفلوج آدمی کو یسوع کے پاس لائے جو اپنے بستر پر پڑا ہواتھا۔ یسوع نے ان لوگوں کو دیکھا کہ ان میں بڑی عقیدت تھی تو وہ مفلوج مریض سے کہنے لگا، “اے نو جوان تو خوش ہو جا۔کیوں کہ تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔” 3 وہاں پر موجود چند معلّمین شریعت نے جب اس کو سنا تو آپس میں کہنے لگے کہ “یہ آدمی ایسی بات کر رہا ہے جیسا کہ وہ خدا ہے، اور یہ تو کفر ہے۔” 4 انکا اس طرح سوچنا یسوع کو معلوم ہوا۔ انہوں نے ان سے کہا ، “تم ایسی بری بات کیوں سوچتے ہو؟5 آسان کیا ہے ؟اس مفلوج مریض سے کیا یہ کہنا آسان ہے کہ تیرے گناہ معاف کردیئے گئے ہیں، یا یہ کہنا کہا، “اٹھ اور چل ؟” 6 لیکن میں تم کو بتاؤں گا کہ ابن آدم کو گناہوں کو معاف کر نے کے لئے اس زمین پر اختیار حاصل ہے۔تم جان جاؤگے کہ مجھے وہ اختیار ہے اس کے بعد یسوع نے اس مفلوج آدمی سے کہا، “اٹھ اور تو اپنا بستر لیتے ہو ئے اپنے گھر کو چلا جا۔” 7 تب وہ آدمی اٹھا اور گھر کو چلا گیا۔ 8 لوگ اس بات کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے۔لوگ خدا کی تعریف کر نے لگے کہ اس نے لوگوں کو یہ اختیار دیا۔ متّی (لیوی)یسوع کے پیچھے ہو لیا ہے 9 یسوع جب جا رہا تھا تو اس نے متی نام کے ایک آدمی کو محصول کے دفتر میں بیٹھا دیکھا۔ تب یسوع نے اس سے کہا ، “تو میرے پیچھے ہو لے” پھر متی اٹھا اور یسوع کے پیچھے ہو لیا۔ 10 یسوع متی کے گھر میں کھا نا کھا نے بیٹھ گئے۔ کئی محصول وصول کرنے والے اور برے لوگ بھی یسوع اور انکے شاگردوں کے ساتھ کھا نا کھا نے بیٹھ گئے۔ 11 فریسیوں نے دیکھا کہ یسوع ان لوگوں کے ساتھ کھا نا کھا رہے ہیں۔فریسیوں نے یسوع کے شاگردوں سے پوچھا، “تمہارا استاد محصول وصول کرنے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کھا نا کیوں کھا تا ہے ؟” 12 جو کچھ فریسیوں نے کہا یسوع نے سن لیا اور ان سے کہا، “صحت مند لوگوں کے لئے کسی حکیم کی ضرورت نہیں صرف بیماروں کے لئے ہی طبیب چاہئے۔ 13 تم جاؤ اور کہو کہ مجھے قربانی نہیں چاہئے بلکہ صرف رحم و کرم چاہئے۔ [a] جس طرح الہامی صحیفوں میں لکھا ہوا ہے۔ اس جملہ کے معنی سیکھ لو۔ میں نیک راستبازوں کو دعوت دینے نہیں آیا ہوں”۔ بلکہ صرف گنہگاروں کو بلا نے کے لئے آیا ہوں۔” یسوع دیگر مذہبی یہودیوں کی طرح نہیں ہے 14 تب یوحناّ کے شاگرد یسوع کے پا س آ ئے۔وہ یسوع سے پو چھنے لگے “ہم اور فریسی اکثر روزہ رکھتے ہیں۔ لیکن تیرے شاگرد کیوں روزہ نہیں رکھتے ؟” 15 یسوع نے ان سے کہا، “شا دی کے وقت دولہا کے ساتھ رہنے والے اس کے دوست احباب رنجیدہ نہیں ہو تے، لیکن ایک وقت وہ بھی آئے گا جس میں دولہا ان سے الگ کر دیا جا ئے گا۔ تب وہ روزہ رکھیں گے۔” 16 “پھٹے ہو ئے پرا نے کر تے میں نئے کو رے کپڑے کا پیوند کو ئی نہیں لگا تا ہے اگر کو ئی لگا تابھی ہے تو پیوند سکڑ کر کرتے سے الگ نکل جا تا ہے۔تب وہ کرتا اور بھی زیادہ پھٹ جا تا ہے۔17 اسکے علا وہ لوگ نئی مئے کو پرا نی مئے کی تھیلیوں میں نہیں رکھتے۔ کیوں کہ پرا نی تھیلیاں پھٹ جا تی ہیں۔ اور مئے بہہ جا تی ہے۔ اس وجہ سے لوگ ہمیشہ نئی مئے نئی تھیلیوں ہی میں بھرتے ہیں۔اور تب وہ دونوں محفوظ رہتے ہیں۔” دوبارہ زندہ ہو نے والی لڑ کی اور شفاء یاب ہو نے وا لی عورت 18 یسوع جب ان واقعات کو کہہ رہے تھے تب یہو دی عبا دت گاہ کا ایک عہدیدار اس کے پا س آیا اور اس کے سامنے جھک گیا اور کہا، “میری بیٹی ابھی مر گئی ہے۔ اگر تو آکر اپنا ہاتھ اس پر رکھے تو وہ دوبارہ زندہ ہو جا ئے گی۔” 19 تب یسوع اٹھے اور سردار کے ساتھ چلے گئے اور اس کے ساتھ یسوع کے شاگرد بھی چلے۔ 20 وہا ں پر ایک ایسی بیما ر عورت تھی جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا۔ وہ عورت یسوع کے پیچھے سے ان کے قریب آکر ان کے کرتے کے دامن کو چھو لی۔ 21 وہ عورت سوچنے لگی ، “اگر میں اس کا کرتا چھو لوں تو میں ضرور صحت یاب ہو جا ؤں گی۔” 22 یسوع نے اس عورت کو دیکھا اور کہا، “بیٹی تو اطمینان و سکون سے رہ اپنے ایمان کی وجہ سے ہی تو صحتیاب ہوئی “تب وہ تندرست ہو گئی۔ 23 تب یسوع سردار کے ساتھ آگے بڑھتا ہوا اس کے گھر میں چلا گیا۔ یسوع نے جنا زہ میں آئے ہوئے با جا بجا نے والوں کے گروہ کو اور رو نے والوں کو دیکھا۔ 24 یسوع نے کہا، “دور ہو جا ؤ کہ یہ لڑکی مری نہیں ہے بلکہ وہ سو رہی ہے ۔” لیکن انہوں نے یسوع کا مذاق اڑا یا۔ 25 لوگو ں کو گھر سے باہر بھیج دینے کے بعد یسوع اس کمرے میں گیا جس میں لڑ کی تھی یسوع نے جب اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تو وہ اٹھ کھڑی ہو ئی۔ 26 خبر اطراف و اکناف کے علاقوں میں پھیل گئی۔ کئی لوگوں کی صحتیابی 27 یسوع جب وہاں سے لوٹ رہے تھے تو دو اندھے اس کے پیچھے ہو لئے۔ اور وہ زور سے پکارنے لگے ، “اے داؤد کے فرزند ہم پر رحم کر۔” 28 یسوع گھر کے اندر چلے گئے۔ اندھے آدمی بھی اس کے ساتھ چلے گئے۔ یسوع نے ان سے کہا ، “کیا تم یقین کرتے ہو کہ میں تمہیں شفاء دے سکتا ہوں ؟” اندھوں نے جواب دیا، “ہاں خدا وند ہم یقین رکھتے ہیں۔” 29 تب یسوع نے انکی آنکھیں چھو کر کہا،“جیسا تمہارا اعتقاد ہے ویسا ہی تمہارے ساتھ ہو۔” 30 فوراً ہی انکو بینائی آگئی۔ یسوع نے انہیں سختی سے تا کید کی کہ “یہ واقعہ کسی سے نہ کہنا۔” 31 لیکن وہ اندھے وہاں سے لو ٹے اور اس خبر کو اس علا قے کے چاروں طرف پھیلا دیئے۔ 32 جب وہ دونوں جا رہے تھے تو چند لوگ ایک شخص کو یسوع کے پاس لا ئے چونکہ اس پر بد روح کا سایہ تھا اس وجہ سے وہ گونگا ہو گیا تھا۔ 33 تب یسوع نے اس بد روح کو حکم دیا کہ وہ اسکو چھو ڑ کر چلا جائے۔ تب وہ بولنے لگا۔ لوگوں نے دیکھا تو تعجب میں پڑ گئے۔ اور کہنے لگے“اسرائیل میں ایسا کام ہم نے دیکھا ہی نہیں۔” 34 لیکن فریسی کہنے لگے، “یہ بدروحوں کے مالک و سردار کی قوت و طاقت سے بد روحوں کو چھڑاتا ہے۔” لوگوں کے لئے یسوع کا دکھ اٹھا نا 35 یسوع نے تمام گاؤں اور شہروں کا دورہ کیا۔ اور یسوع نے انکی عبادت گاہوں میں تعلیم دیتے ہو ئے بادشاہت کے بارے میں خوشخبری سنائی تمام قسم کی بیماریوں کو شفاء بخشا۔ 36 تکلیف میں مبتلا ء بے سہارا لوگوں کے مجمع کو دیکھ کر یسوع غمگین ہوئے۔ وہ بغیر چرواہے کے بھیڑوں کی ریوڑ کی مانند ہے۔ 37 یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “فصل تو بہت زیادہ ہے لیکن مزدور کم ہیں۔” 38 اور اس نے کہا کہ “فصل کا مالک خدا ہے۔ اس لئے فصل کےمالک سے درخواست کرو کہ فصل کاٹنے کے لئے زیادہ مزدور بھیج دے۔” Footnotes: a. متّی 9:13 اِقتِباس ہوسیع ۶:۶ متّی 10 یسوع کی جانب سے رسولوں کو دیئے گئے احکام 10 یسوع اپنے بارہ شاگردوں کو ایک ساتھ جمع کرکے ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ بد روحوں کو چھڑا ئے اور ہر قسم کی بیماری سے شفاء دے۔ 2 ان بارہ رسولوں کے نام اس طرح ہیں: شمعون جسکو پطرس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اسکا بھائی اندر یاس، زبدی کا بیٹا یعقوب اور اسکا بھا ئی یوحنا۔ 3 فلپس اور برتلمائی، توما، اور محصول وصول کرنے والا متی، حلفی کا بیٹا یعقوب، تدّی۔ 4 قوم پرست [a] شمعون قتانی، اور یہوداہ اسکریوتی جس نے یسوع کو دشمنوں کے حوالے کیا۔ 5 یسوع ان بارہ رسولوں کو چند احکامات دیکر اور بادشاہت سے متعلق لوگوں کو معلومات فراہم کر نے کے لئے بھیج دیا۔ اور یسوع نے ان سے جو کہا وہ یہ کہ“غیر یہودیوں کے پاس اور ان شہروں میں نہ جانا جہاں سامری رہتے ہوں۔ 6 بلکہ اسرائیل کے پاس جاؤ جو کھو ئی ہو ئی بھیڑوں کی طرح ہے۔ 7 اور انکو منا دی کرو جنت کی بادشاہت قریب آرہی ہے۔ 8 بیماروں کو شفاء دو۔ اور مردوں کو جلا دو۔ اور کو ڑھیوں کو صحت دو۔ اور لوگوں کو بد روحوں سے چھڑا ؤ۔ میں یہ تمام اختیارات تمہیں آزادانہ دے رہا ہوں۔ اسلئے تم غیروں کی بے لوث خدمت کرو۔ 9 تم روپیہ پیسہ یا تانبا،چاندی یا سونا کو ئی بھی چیز اپنے ساتھ نہ لے جا نا۔ 10 کو ئی تھیلی بھی نہ لے جانا۔ اپنے سفر کے لئے صرف پہننے کے کپڑے اور جو تے لے جانا۔ اپنے ساتھ اپنا عصا بھی نہ لے جانا۔ ایک مزدور کو صرف وہی دینا چاہئے جس کی اسے ضرورت ہو۔11 “جب تم کسی گاؤں میں یا کسی شہر میں داخل ہو تو کسی اچھے با اثر شخصیت کو ڈھونڈو اور تم اس جگہ کو چھو ڑ نے تک اسی کے گھر میں قیا م کرو۔ 12 جب تم اس گھر میں داخل ہو تو ان سے کہو کہ سلامتی تم پر ہو۔ 13 اس گھر کے لوگ اگر تمہارا استقبال کریں تو وہ تمہاری دعائے خیر و سلامتی کے مستحق ہیں تو وہ سلامتی انہیں حاصل ہو۔ لیکن اگر وہ تمہیں خوش آمدید نہ کہیں تو تمہاری دعائے خیر کے مستحق نہیں ہیں اور تم پر ہی واپس لوٹے۔ 14 ایک گھر والے یا ایک گاؤں والے اگر تمہیں خوش آمدید نہ کہے یا تمہاری باتیں نہ سنے تو تم کو چاہئے کہ اس جگہ کو چھوڑنے سے پہلے اپنے پیروں میں لگی دھول وہیں پر جھاڑ دو۔ 15 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ فیصلہ کے دن اس گاؤں کا حال سدوم اور عمورہ سے بھی زیادہ برا ہو گا ظلم و زیادتی کو روکنے کے متعلق یسوع کی تاکید 16 “سنو! میں تمہیں بھیڑوں کی طرح بھیڑیوں کے درمیان بھیج رہا ہوں۔ اس وجہ سے تم سانپوں کی طرح ہوشیار رہو۔ کبوتروں کی طرح کو ئی غلطی نہ کرو۔ 17 لوگوں کے بارے میں باخبر رہو۔ تم کو وہ قید کرکے عدالت میں حاضر کردیں گے۔ وہ اپنی یہودی عبادت گاہوں میں تم پر درّے برسائیں گے۔ 18 وہ تم کو حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے پیش کریں گے۔میری وجہ سے لوگ تمہارے ساتھ ایسا ہی کریں گے۔ لیکن تم ان بادشاہوں اور حاکموں اور غیر یہودی لوگوں کو میرے بارے میں کہو گے۔ 19 جب تم قید کئے جاؤ تو اس بات کی فکر نہ کرو کہ کس طرح گفتگو کریں، اور تمہیں کیا کہنا چاہئے وہ سب باتیں تمہیں اس وقت عطا ہونگی۔ 20 حقیقت میں کلام کر نے والے تم نہ ہو گے۔ بلکہ تمہارے باپ کی روح ہی تمہارے ذریعے بات کریگی۔ 21 حقیقی بھا ئی اپنے حقیقی بھا ئی کے خلاف ہو جائیگا اور اسکو موت کی سزا کے حوالے کریگا۔باپ اپنی ہی اولاد کو موت کی سزا کے حوالے کریں گے۔اور اولاد والدین کے خلاف کھڑے ہو کر انہیں موت کی سزا کے حوالے کریں گے۔ 22 کیوں کہ تم میری پیروی کرتے ہو اس وجہ سے سب لوگ تم سے نفرت کریں گے۔ لیکن آخری وقت تک صبر کرنے والا ہی نجات پا ئیگا۔ 23 اگر کسی ایک گاؤں میں تم پر ظلم و زیادتی ہو تو دوسرے گاؤں چلے جاؤ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ابن آدم دوبارہ آنے سے پہلے تم اسرائیل کی تما م آبادیوں میں گزرنے بھی نہ پاؤگے۔ 24 “شاگرد اپنے استاد سے بہتر نہ ہوگا۔ اور نہ ہی نوکر اپنے مالک سے بہتر ہوگا۔ 25 شاگرد کے لئے یہ کا فی ہوگا کہ وہ اپنے استاد جیسا بنے۔ اور نوکر کے لئے یہ کا فی ہوگا کہ وہ اپنے مالک جیسا بنے۔ اگر خاندان کے صدر ہی کو ابلیس کے نام سے پکا را جائے تو کیا خاندان کے دیگر افراد کو اور زیادہ برے ناموں سے پکا را نہ جا ئے گا۔ خدا ہی سے ڈرنا چاہئے نہ کہ لوگوں سے 26 “اس وجہ سے لوگوں سے نہ ڈرو۔ کیوں کہ ہر وہ چیز جو پوشیدہ ہے وہ ظا ہر ہو جائیگی۔ 27 میں اندھیرے میں یہ تمام واقعات تم سے کہہ رہا ہوں لیکن میری یہ آرزو وتمنّا ہے کہ تم ان واقعات کو دن کے اجالے میں کہو۔ میں یہ ساری باتیں تم سے آہستگی کے ساتھ کہہ رہا ہوں۔ مگر ان باتوں کو تم لوگوں کو آواز سے سناؤ۔ 28 تم لوگوں سے نہ گھبراؤ۔کیوں کہ وہ تو صرف جسم کو مار سکتے ہیں لیکن روح کو مار نہیں سکتے۔ بلکہ خدا سے ڈرو جو روح اور جسم کو جہنم میں نیست و نابود کر سکتا ہے۔ 29 بازار میں ایک سکّہ میں دو چڑیوں کو بیچتے ہیں۔ لیکن تمہارے باپ کی اجازت کے بغیر ان میں کو ئی ایک بھی نہیں مرتی۔30 تمہارے سر میں کتنے بال ہیں خدا کو اسکا بھی علم ہے۔ 31 اس لئے خوف نہ کرو۔ کیوں کہ تم کئی چڑیوں سے بھی بہت زیادہ قیمتی ہو۔ تمہارے ایمان کے بارے میں تمہارا ظا ہر گواہ ہے (لوقا ۱۲:۸-۹) 32 “اگر کو ئی شخص لوگوں کے سامنے یہ کہے کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے تو میں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمانوں میں ہے اس کو اپنا بتاؤں گا۔ 33 اگر کو ئی شخص لوگوں کے سامنے یہ کہے کہ میں اسکا نہیں ہوں تو میں بھی آسمانوں میں رہنے والے اپنے باپ سے یہ کہونگا کہ یہ آدمی میرا نہیں ہے۔ یسوع کی پیروی کرنا شاید تکلیف دہ ہو گی 34 “تم یہ نہ سمجھو کہ میں دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے آیا ہوں بلکہ تلوار چلا نے کے لئے آیا ہوں”۔35-36 اس کو پو را کرنے کے لئے آیا ہوں: کہ ایک شخص ایسا ہے کہ اس کے گھر والے ہی اسکے دشمن ہونگے۔ بیٹا باپ کے خلاف، بیٹی ماں کے خلاف اور بہو ساس کے خلاف، دشمن ہونگے۔ [b] 37 اگر کو ئی شخص میری محبت سے بڑھکر اپنے باپ یا اپنی ماں سے محبت کرتا ہے تو وہ میری پیروی کر نے کے لا ئق نہ ہو گا۔ اور جو کو ئی میری محبت سے بڑھکر اپنے بیٹے سے یا اپنی بیٹی سے محبت کرے تو وہ بھی میرا پیرو کہلا نے کا مستحق نہ ہو گا۔ 38 جو کو ئی اس کو دی جا نے والی صلیب کو قبول کر نے کا خواہشمند نہ ہو تو وہ میرا متبّع ہو نے کے لا ئق نہ ہو گا۔ 39 میری محبت سے بڑھکر جو کو ئی اپنی جان سے محبت کرتا ہے وہ اس کو کھو دیتا ہے میری خاطر جو کو ئی اپنی جان کو کھو دیتا ہے تو وہ اس کو پا ئیگا۔ جو تمہیں قبول کریں گے خدا ان لوگوں پر رحم کریگا 40 جو تمہیں قبول کرنے والا ہے وہ مجھے بھی قبول کرنے والا ہے جو مجھے قبول کرنے والا ہے وہ مجھے بھیجنے والے خدا کو بھی قبول کر تا ہے۔ 41 نبی کو نبی سمجھ کر قبول کریگا گویا وہ نبی کا اجر پائے گا۔ حق کو سچا جان کر اس کو قبول کر نے والا گو یا اس حق کو ملنے والے حق کا وہ حقدار ہوگا۔42 غریب مفلس کو جو کہ میرا پیرو کار ہے اگر کو ئی مناسب امداد کرے تو وہ یقیناً اسکا اجر پا ئیگا۔ میری پیروی کرنے والوں کو اگر کو ئی ایک پیا لہ ٹھنڈا پانی ہی پلا ئے تو وہ ضرور اسکے اجر کا حقدار ہو گا”۔ Footnotes: a. متّی 10:4 قوم پرست یہ سیاسی گروہ یہودیوں سے تعلق رکھتاہے۔ b. متّی 10:35 میکاہ ۷:۶ متّی 11 یسوع اور بپتسمہ دینے والے یوحّنا 11 یسوع اپنے بارہ شاگردوں سے ان واقعات کو سنا نے کے بعد ہدایات دینا ختم کیا۔ تبلیغ اور منادی کر نے کے لئے وہ گلیل کے قصبوں میں چلے گئے۔ 2 یوحنا بپتسمہ دینے والے قید میں تھے۔انکو ان چیزوں کے متعلق معلوم ہوا جو مسیح کر رہے تھے۔ اس لئے یوحنا نے اپنے چند شاگردوں کو یسوع کے پاس بھیج دیا۔ 3 یوحنا کے شاگرد یسوع سے پو چھنے لگے کہ “کیا وہ آنے والا آپ ہی ہیں یا ہم کسی دوسرے آنے والے کے انتظار میں رہیں”۔ 4 اس کا جواب یسوع نے دیا، “تم نے جن واقعات کو یہاں سنا اور دیکھا ہے تم جاؤ اور ان سب باتوں کی اطلاع یوحنا کو دو۔ 5 اندھے نظر کو پا لیتے ہیں اور لنگڑے اچھی طرح چلنے پھر نے کے قابل ہو جا تے ہیں اور کو ڑھی بھی شفاء پا لیتے ہیں اور بہرے سننے کے قا بل بن جاتے اور مردوں کو دوبارہ زندگی ملتی ہے۔ اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔ 6 جو کو ئی مجھے قبول کر لیتا ہے تو وہ متبّرک ہو جا تا ہے”۔ 7 جب یوحنا کے شاگرد لوٹ رہے تھے تو یسوع لوگوں سے یوحنا کے بارے میں باتیں کر نے لگے۔یسوع نے ان سے کہا، “تم کیا دیکھنے کے لئے بیابان گئے تھے ؟ کیا ہوا سے ہلنے والے سر کنڈے؟ نہیں! 8 تو پھر حقیقت میں تم کیا دیکھنے گئے تھے ؟ کیا جاذب نظر لباس میں ملبوس آدمی کو نہیں! نئے اور قیمتی پوشاک پہننے والے لوگ تو بادشاہوں کے محلوں میں رہتے ہیں۔ 9 تو پھر تم کیا دیکھنے گئے تھے ؟ کیا ایک نبی کو ؟ میں تم سے کہتا ہوں کہ یوحنا نبی سے بڑھکر ہے۔ 10 یوحنا کے بارے میں صحیفوں میں اسطرح لکھا ہوا ہے: یہ لو! میں اپنے پیغمبر کو تجھ سے پہلے بھیجتا ہوں۔ اور وہ تیرے لئے راستے کو ہموار کریگا۔ [a] 11 یوحنا بپتسمہ دینے والے پہلے جو گزرے ہیں ان سے بڑا ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ“آسمانی بادشاہت میں رہنے والا چھو ٹا بھی یوحنا سے بڑا ہی ہو گا۔ 12 بپتسمہ دینے والا یوحنا جب سے آیا ہے تب سے آسمانی بادشاہت طاقت ور حملوں کا شکار ہو ئی ہے۔ لوگ قوت کا استعمال کرکے حکومت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 13 تمام نبیوں اور موسٰی کی شریعت میں یوحنا کے آنے تک آسمانی بادشاہت کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا تھا۔ 14 شریعت اور نبیوں نے جو بات کہی ہے اس پر اگر تم ایمان رکھتے ہو کہ یوحنا، ایلیاہ ہے۔ اس کے آنے کے بارے میں شریعت اور نبیوں نے بھی خبر دی ہے۔ 15 اے لوگو! میں جو بات بتاتا ہوں اس کو سنو اور توجہ دو۔ 16 میں اس دور کے لوگوں کے بارے میں کیا بتاؤں ؟انکا مقابلہ کس سے کروں اسلئے کہ اس دور کے لوگ بازاروں میں بیٹھے ہو ئے بچوں کی طرح ہو نگے۔ جب کہ ایک گروہ کے بچّے دوسرے گروہ کے بچوں سے اس طرح کہیں گے: 17 ہم نے تمہارے لئے ایک باجا بجایا۔ مگر تم نہ ناچے۔ ہم نے مرثیہ سنا یا لیکن تم نے ماتم نہ کیا۔ 18 میں تم سے کہتا ہوں کہ آج کے لوگ ان بچوں کی طرح ہیں۔ کیوں کہ یوحنا آ گیا ہے مگر وہ دوسرے لوگوں کی طرح کھانا نہیں کھا یا اور مئے نہ پی لیکن لوگ اسکے بارے میں کہتے ہیں کہ اس پر بد روح کے اثرات ہیں۔ 19 ابن آدم آ گیا ہے وہ دوسرے لوگوں کی طرح کھا نا کھا تا ہے اور مئے بھی پیتا ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو! وہ پیٹو ہے۔ اور وہ مئے خور ہے۔ محصول وصول کرنے والے دیگر اور برے لوگ ہی اس کے دوست و احباب ہیں۔ لیکن حکمت ہی اپنے کاموں سے اپنی صلاحیت کو ظا ہر کرتی ہے۔” ایمان نہ لا نے والوں کے بارے میں یسوع کی تا کید 20 تب یسوع نے جن شہروں میں اپنے معجزے اورنشا نیا ں دکھا ئی تھی ان شہروں کی ملا مت اور مذمت کر نے لگا۔ کیوں کہ ان شہرو ں کے لوگوں نے اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لا ئی اور نہ گناہ کے کا موں سے اپنے آپ کو روک سکے۔ 21 یسوع نے خرا زین [b] سے مخا طب ہو کر کہا، “اے خرا زین والو! افسوس ہے تم پر میں تمہا رے کس انجام کو بتا ؤں؟ اور اے بیت صیدا! تمہا را بھی کیا انجام بتا ؤں افسوس ہے تم پر بہت سے معجزات بتا یا ہوں۔ اگر وہ غیر معمو لی کام اور معجزے صور اور صیدا [c]میں ہو تے تو ان کے رہنے والے ایک عرصہ پہلے ہی اپنی زندگیوں میں انقلاب لا ئے ہوتے اور اپنے کئے ہوئے کامو ں پرپچھتا تے ہوئے ٹا ٹ کا ٹکڑا اوڑھ لیتے اوراپنے سر پر راکھ ڈال لیتے۔ 22 میں تم سے کہتا ہو ں کہ فیصلہ کے دن صور اور صیدا سے بڑھ کر تمہا ری حا لت بد تر ہو گی۔ 23 اے کفر نحوم! کیا تو جنت میں اٹھا ئے جا نے کے با رے میں غور و فکر بھی کرتا ہے ؟ نہیں، بلکہ تو عالم ارواح میں اترے گا۔ میں نے تجھے بے شمار معجزات بتا ئے اگر سدوم میں ان معجزات کو دکھا تا تو یقیناً وہ لوگ گناہ کے کاموں سے بچ جا تے اور آج تک وہ بحیثیت شہر ہی بچا رہتا۔ 24 میں تم سے کہتا ہوں کہ فیصلہ کے دن تمہا ری حا لت سدوم سے بھی زیادہ بد تر ہوگی۔” یسوع لوگوں کو آرام پہنچا تا ہے 25 تب یسوع نے کہا “اے زمین و آسمان کے خدا وند” اور باپ میں تیرا شکر ادا کر تاہوں۔میں تیری تعریف کرتا ہوں۔ کیوں کہ تو نے ان واقعات کو داناؤں اور عقلمندوں سے چھپا ئے رکھا۔ لیکن ان لوگوں پر تو ظاہر کردیاہے جو کہ چھوٹے بچوں کی طرح ہیں۔ 26 ہاں میرے باپ حقیقت میں یہ تیری مرضی اور پسند ہو نے کی وجہ سے تو نے ایسا کیا ہے۔ 27 “میرے باپ نے مجھے ہر چیز عطا کی ہے۔ کو ئی بھی بیٹے کو نہیں جانتا۔ صرف باپ ہی اپنے بیٹے کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اور کو ئی شخص باپ کو نہیں جانتا بیٹا ہی صرف باپ کو جانتا ہے۔ بیٹا باپ کو جس پر ظا ہر کر نے کی خواہش کر تا ہے تو وہی اپنے باپ کو پہچان لیتے ہیں۔ 28 اے محنت مشقت کر نے والو! اور وزنی بوجھ اٹھا نے والو تم سب میرے پاس آ جا ؤ۔ میں تمہیں آرام پہنچا ؤں گا۔ 29 میرے جوئے کے کندھے دیتے ہو ئے مجھ سے باتیں سیکھو۔ میں شریف اور خاکسارہوں۔ اور تم اپنی جانوں کے لئے تشفی پا ؤگے۔ 30 ہاں! جو کام میں تم سے قبول کر نے کے لئے کہتا ہوں آسان ہے۔ تمہیں اٹھا نے کے لئے جو بوجھ دے رہا ہوں وہ وزنی نہیں ہے۔” Footnotes: a. متّی 11:10 ملاکی۳:۱ b. متّی 11:21 خزازین، بیت صیدا یہ دونوں شہر گلیل تالاب کے قریب واقع ہے جہاں یسوع لوگوں کو منادی دیا کر تا تھا۔ c. متّی 11:21 صور اور صیدا ان گاؤں کے نام ہیں جہاں بُرے لوگ رہا کرتے تھے۔ متّی 12 چند یہودیوں کا یسوع کے بارے میں تنقید کر نا 12 وہ سبت کا دن تھا یسوع اناج کے کھیتوں کی راہ سے چل کر جا رہے تھے۔ اور یسوع کے شاگرد اسکے ساتھ تھے اور وہ بھو کے تھے۔جس کی وجہ سے شاگرد بالیاں توڑ کر کھا نے لگے۔ 2 جب فریسیوں نے دیکھا تو یسوع سے کہنے لگے، “دیکھ سبت کے دن کئے جانے والے تما م کام جن کے بارے میں شریعت میں بتا ئے گئے احکامات کے خلاف ہیں اور اسے تیرے شاگرد کر رہے ہیں۔” 3 اس پر یسوع نے کہا، “جب داؤد اوراس کے ساتھ موجود لوگ بھو کے تھے، تب داؤد نے کیا کیا تم کو معلوم ہے ؟۔ 4 داؤد ہیکل کو چلا گیا۔ خدا کی نذر کی ہوئی روٹیاں داؤد نے کھا یااور اسکے ساتھیوں نے بھی کھا یا۔ جبکہ ان لوگوں کا ان روٹیوں کو کھا نا شریعت کے خلا ف تھا۔ اور اسکا کھا نا صرف کاہنوں کے لئے جا ئز تھا۔ 5 کیا تم نے شریعت موسٰی میں نہیں پڑھا کہ؟ ہر سبت کے دن کا ہن ہیکل کے اصولوں کے حلاف ورزی کرنے کے با وجود بے قصور کہلا تے ہیں۔ 6 لیکن ہیکل کے مقابلے میں افضل ترین انسان یہاں ہو نے کی بات میں تم کو بتاتا ہوں۔ 7 صحیفہ کہتی ہے کہ مجھے جانوروں کی قربانی نہیں چاہئے بلکہ مجھے رحم و کرم ہی چاہئے۔ اس لئے کہ اسکے حقیقی معنی تم نہیں جانتے۔ اگر تم اسکے معنی سے واقف ہو تے تو ان بے قصوروں کو تم قصور وار ہو نے کا فیصلہ نہ دیتے۔ 8 اور یہ کہا، “ابن آدم سبت کے دن کا خدا وند ہے۔” سوکھے ہاتھ والوں کا شفایاب ہو نا 9 یسوع اس جگہ کو چھو ڑ کر یہودیوں کی عبادت گاہ میں گئے۔ 10 یہودیوں کی اس عبادت گاہ میں ایک آدمی تھا جو ہاتھ سے معذور تھا۔ یہودیوں میں بعض وہ لوگ تھے جنہوں نے یسوع پر الزام دھر نے کیلئے وجہ تلاش کر نے لگے۔ اس وجہ سے انہوں نے یسوع سے پو چھا، “کیا سبت کے دن شفاء دینا درست ہے؟” 11 یسوع نے ان سے کہا، “اگر تم میں سے کسی کے پاس ایک بھیڑ ہو اور وہ بھیڑ سبت کے دن ایک گڑھے میں گر جا ئے تو کیا تم اس بھیڑ کو اس گڑھے سے نہ نکا لو گے ؟ 12 یقیناً انسان اس بھیڑ سے کئی گنا بڑھکر عزت و قدر کے لا ئق ہے۔ اسلئے سبت کے دن اچھے اور نیکی کے کام کرنا موسٰی کی شریعت کے مطابق ہی ہے۔” 13 تب یسوع نے ہاتھ کے اس معذور آدمی سے کہا، “تو اپنا ہاتھ دکھا” تب اس آدمی نے اپنے ہاتھ کو اسکی طرف آگے بڑھا یا۔ فوراً اسکا ہاتھ دوسرے ہاتھ کی طرح ٹھیک ہو گیا۔ 14 تب فریسی چلے گئے اور یسوع کو قتل کرنے کی تدبیریں کر نے لگے۔ یسوع کا خدا وند کا منتخب شدہ خادم ہو نا 15 فریسیوں سے کی جا نے والی تدبیر کا یسوع کو علم تھا۔ اس وجہ سے یسوع اس جگہ کو چھو ڑ کر چلے گئے۔ جب کئی لوگ اس کی پیروی کر نے لگے۔ اور اس نے تمام بیماروں کو شفاء دی۔ 16 انہوں نے لوگوں کو تاکید کی کہ میں کون ہو ں یہ بات کسی سے نہ کہیں۔ 17 یسعیاہ نبی کی کہی ہوئی بات پو ری ہو نے کے لئے یسوع نے یہ سب کیا۔ یسعیاہ نے جو کہا ہے وہ یہ ہے: 18 “یہ تو میرا خادم ہے۔ اور میں نے اسکاانتحاب کیا ہے۔ میں اس سے پیا ر کرتا ہوں۔ میں اس سے خوش ہوں۔ میں اپنی روح کو اس پر اتارونگا۔ اور یہ قوموں کو منصفا نہ فیصلہ دیگا۔ 19 نہ یہ جھگڑا کریگا اور نہ چیخ و پکار کریگا۔ اور نہ گلیوں میں اسکی آواز سنائی دیگی۔ 20 وہ نہ تو جھکے ہوئے سر کنڈے کوتوڑیگا۔ اور نہ ہی ٹمٹماتے ہو ئے چراغ کو بجھا ئے گا۔ وہ تب تک دم نہ لیگا جب تک انصاف کو فتح نہ بخش دے۔ 21 اور تمام لوگ اس پر امید کریں گے-” [a] یسوع کو دیا گیا اختیار خدا ہی کا ہے 22 تب ایسا ہوا کہ چند لوگ ایک آدمی کو یسوع کے پاس لا ئے وہ بد روح کے اثرات کی وجہ سے اندھا اور گونگا ہوگیا تھا۔ یسوع نے اس شخص کو شفاء بخشی اور وہ دیکھنے اور بولنے لگا۔ 23 لوگ حیران ہو گئے۔ اور آپس میں باتیں کر نے لگے“کیا یہ آدمی ابن داؤد ہو سکتا ہے؟” 24 لوگوں کی آپسی بات چیت سن کر فریسیوں نے کہا، “یسوع بعلزبول کی قوت کے ذریعہ لوگوں کو بد روحوں سے نجات دلاتا ہے۔ بعلزبول بدروحوں کا سردار ہے۔” 25 فریسی جن واقعات پر غور کرتے تھے وہ یسوع کو معلوم تھا جس کی وجہ سے یسوع نے ان سے کہا، “جس حکو مت میں آپسی اختلا فات ہوں وہ تباہ و برباد ہو جا تی ہے۔ داخلی اختلافات سے پھوٹ کا شکار ہو نے والا شہر اور خاندان قائم اور دیر پا ثابت نہ ہو گا۔ 26 ایسی صورت میں اگر شیطان ہی بد روحوں کو اپنے آپ سے باہر بھگا دے تو گویا وہ اپنے آپ ہی میں اختلافات پیدا کریگا۔ اور اسکی سلطنت ہمیشہ کے لئے قائم نہیں ہو سکے گی۔ 27 تم کہتے ہو کہ میں شیطان بعلزبول کی قوت سے بد روحوں کو نکا لتا ہوں اگر یہ بات حقیقت پر مبنی ہو تو تمہا رے لوگ کس کی قوت سے بد روحوں سے نجات دلا تے ہیں۔ جن کی وجہ سے تمہا رے اپنے خاص لوگ ہی یہ ثابت کریں گے کہ تم غلط ہو۔ 28 لیکن میں خدا کی روح کی قوت کے ذریعہ بد روحوں کو نکا لتا ہوں۔ اور اس بات سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ خدا کی بادشا ہت تمہا رے پاس آئی ہے۔ 29 “اگر کو ئی طاقتور و توا نا کے گھر میں گھس کر اس کے ما ل اسباب کو چرا تا ہے تو پہلے اس کو چاہئے کہ وہ اس مضبوط وتوانا شخص کو کس کر باندھے۔تب کہیں جا کر اس کے لئے طا قتور شخص کے گھر کے ما ل و اسباب کا چرانا ممکن ہو سکے گا۔ 30 “جو میرا ساتھی نہیں ہے وہ میرا مخالف ہو گیا ہے۔ اور میرے ساتھ جو ذخیرہ کر نے والا نہیں ہے وہی بکھیرنے اور منتشر کر نے والا ہو تا ہے۔ 31 ان تمام باتوں کی بنیا د پر میں تم سے کہتا ہوں کہ لوگوں سے سر زد ہو نے والا ہر گناہ اور کہی جا نے والی ہر بات کی برائی اور الزام کے لئے معا فی ہے۔ اس کے بر خلاف مقدس روح سے گستاخی کے لئے معا فی ہر گز نہیں۔ 32 ابن آدم کی مخالفت میں اگر کو ئی کہتا ہے تو اسکے لئے معا فی ہے لیکن مقدس روح کی مخالفت میں اگر کو ئی لبوں کو جنبش دے تو اس کے لئے نہ اس دنیا میں اور نہ آنے والی دنیا میں کو ئی معافی ہے۔ تمہاری حقیقت حال کے لئے تمہارے اعمال ہی گواہ ہیں 33 “اگر تمہیں عمدہ میوہ چاہئے تو اچھے قسم کا درخت لگا نا ہو گا۔ اگر اچھے قسم کا درخت نہ ہو تو وہ نا کا رہ اور خراب پھل ہی دیگا اور اس میں آنے والے پھل ہی سے اسکو پہچا نا جا سکتا ہے۔ 34 تم سب سانپ ہو! اور تم سب ظالم ہو تو ایسے میں تم کیوں کر اچھی بات کہہ سکو گے ؟ تمہارا دل جن باتوں سے بھرا ہوا ہے تمہاری زبان وہی بات کریگی۔ 35 ایک شریف النفس آدمی اپنے دل میں نیک اور اچھی باتوں ہی کو جگہ دیتا ہے۔ اس وجہ سے وہ اپنے دل سے نکلنے والی اچھی باتوں کو ہی بولتا ہے۔ لیکن ایک وہ شخص جو برا اور ظالم ہو تو وہ اپنے دل میں صرف برائیوں ہی کا ذخیرہ کر تا ہے۔ اس وجہ سے وہ وہی بری باتیں زبان سے نکا لے گا جو اسکے دل سے نکلتی ہیں۔ 36 اور میں تم سے کہتا ہوں کہ لوگ غفلت اور لا پر واہی سے جو باتیں کر تے ہیں انکو انصاف اور فیصلہ کے دن ہر بات کی جواب دہی ہو گی۔37 تمہارے ہی الفاظ تمہیں راستباز ثابت کر نے کے لئے استعمال ہونگے۔ تمہاری باتوں ہی سے تمہارا نیک اور راست باز اور گنہگار قصور وار ہو نے کا فیصلہ کیا جائیگا-” نشانیوں کو ظا ہر کر نے کے لئے یہودیوں کی مانگ 38 تب چند فریسی اور معلمین شریعت نے یسوع سے کہا، “اے ہمارے استاد تو نے جن باتوں کو کہا ہے انکو ثابت کرنے کے لئے ایک معجزہ پیش کر۔” 39 یسوع نے کہا، “برے اور گنہگار لوگ معجزہ کو دیکھنے کی آرزو کر تے ہیں۔ لیکن ان کے لئے کوئی معجزہ دکھایا نہ جا ئے۔ سوائے جو نبی یوناہ( یونس) پر ظا ہر کیا گیا تھا۔ 40 “جس طرح یوناہ نبی مسلسل تین دن اور تین رات ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں رہے ٹھیک اسی طرح ابن آدم بھی مسلسل تین دن اور تین رات قبر میں رہے گا۔ اس کے علا وہ انکو اور کو ئی نشانی نہ دکھائی جائیگی۔ 41 حق و انصاف کے فیصلہ کے دن شہر نینوہ کے لوگ تمہارے ساتھ کھڑے ہو ئے زندہ لوگوں کے بارے میں مجرم ہو نے کا اعلان کریں گے۔ کیوں کہ یوناہ جب تبلیغ کر تا تھا تو وہ اپنی زندگی میں تبدیلی لا ئی تھی۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں میں یوناہ سے زیادہ مقدم ہوں۔ 42 انصاف و فیصلہ کے دن جنوبی علا قے کی ملکہ تم سب کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو گی اور تم سب کو قصور وار ٹھہرائے گی۔کیوں کہ وہ ملکہ سلیمان کی حکمت کی تعلیم سننے کے لئے بہت دور سے آئی تھی۔ اور میں سلیمان سے زیادہ مقدم ہوں۔” آج کے ظالم و جابر لوگوں کی حالت 43 “بری روح جب آدمی سے باہر آتی ہے اور آرام و سکون پا نے کے لئے جگہ کی تلاش کر تی ہو ئی پا نی نہ پا ئے جا نے والی خشک سوکھی جگہ پر سفر کرتی ہے۔ تب بھی اس بری روح کو سکون پا نے کے لئے کو ئی جگہ نہیں ملتی۔ 44 تب وہ روح کہیگی کہ میں پہلے جس گھر کو چھو ڑ کر آئی ہوں اب پھر دوبارہ اس گھر کو جاؤں گی۔ جب پھر روح دوبارہ اسکے پاس آئیگی تو وہ گھر خالی رہیگا صاف ستھرا جھاڑو دیا ہوا اور آراستہ و پیراستہ کیا ہوا ہو گا۔ 45 تب وہ بری روح باہر جا کر خود سے زیادہ سخت ظالم سات بری روحوں کو ساتھ لئے ہوئے آتی ہے۔ پھر وہ روحیں اس آدمی میں گھس کر رہنے لگتی ہیں۔ اور اس آدمی کو پہلے کے مقابلے میں مزید مصائب کا سامنا کر نا ہوگا اور کہا کہ اس زمانہ میں ظالم اور برے لوگوں کا حشر بھی اسی طرح ہو گا۔” یسوع کے شاگرد ہی اسکے اہل خاندان ہو نگے 46 یسوع جب لوگوں سے باتیں کر رہے تھے تب اسکی ماں اور اسکا بھا ئی باہر آکر کھڑے ہو گئے اور وہ اس سے باتیں کر نا چاہتے تھے۔ 47 کسی نے یسوع سے کہا، “آپکی ماں اور بھا ئی آپکے لئے باہر انتظار میں کھڑے ہیں اور وہ آپ سے باتیں کر نا چاہتے ہیں۔” 48 یسوع نے اس آدمی کو جواب دیا، “میری ماں کون ؟ اور میرے بھا ئی کون ؟” 49 اپنے شاگردوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “دیکھو یہی میری ماں اور یہی میرے بھا ئی ہیں۔” 50 آسمانوں میں رہنے والے میرے باپ کی مرضی کے مطا بق زندگی گزارنے والا ہی حقیقی معنوں میں میرا بھائی ہو گا اور کہا، “وہی میری ماں اور میری بہن بھی ہو گی۔” Footnotes: a. متّی 12:21 یسعیاہ ۴۲:۴-۱ متّی 13 تخم ریزی کو تمثیل بنا کر یسوع نے تعلیم دی 13 اسی دن یسوع گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے جاکر بیٹھ گئے۔ 2 اور کئی لوگ یسوع کے اطراف جمع ہو گئے۔ تب یسوع کشتی میں جا بیٹھے اور تمام لوگ جھیل کے کنارے کھڑے تھے۔ 3 تب یسوع نے تمثیلوں کے ذریعہ کئی چیزیں انہیں سکھا ئیں۔ اور یسوع انکو یہ تمثیل دینے لگے کہ ایک کسان بیج بونے کے لئے گیا۔ 4 “جب وہ تخم ریزی کررہا تھا تو چند بیج راستے کے کنارے پر گرے۔ اور پرندے آکر ان تمام بیجوں کو چگ گئے۔ 5 چند بیج پتھریلی زمین میں گر گئے۔ اس زمین میں زیا دہ مٹی نہ ہو نے کے وجہ سے بیج بہت جلد اگ آئے۔ 6 لیکن جب سورج ابھرا، اس نے پودوں کو جھلسا دیا۔ تو وہ اُگے ہوئے پو دے سوکھ گئے۔ اس لئے ان کی جڑیں گہرا ئی تک نہ جا سکیں۔ 7 دیگر چند بیج خا ر دار جھا ڑیوں میں گر گئے۔اور وہ خا ر دار جھا ڑیوں نے ان کو دبا کر ان اچھے بیجوں کی فصل کو آگے بڑ ھنے سے روک دیا۔ 8 دوسرے چند بیج اچھی زر خیز زمین میں گر گئے۔ اور وہ نشو نما پا کر ثمر آور ہوئے بعض پودے صد فیصد بیج دیئے ،اور بعض پودے ساٹھ فیصد سے زیادہ اور بعض نے تیس فیصد سے زائد بیج دئیے۔ 9 میری باتوں پر کان دھر نے والے لوگوں نے ہی غور سے سنا۔” یسوع نے تمثیلوں کا استعمال کیوں کیا ؟ 10 تب شاگرد یسوع کے پا س آکر پوچھنے لگے“آپ تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو کیوں تعلیم دیتے ہیں؟”۔ 11 یسوع نے کہا، “خدا کی بادشاہت کی پو شیدہ سچا ئی کو سمجھنے کی صرف تم میں صلا حیت ہے۔ اور ان پوشیدہ سچا ئی کو دیگر لوگ سمجھ نہیں پاتے 12 جس کو تھوڑا علم و حکمت دی گئی ہے وہ مزید علم حا صل کر کے علم و حکمت وا لا بنے گا۔ لیکن جو علم وحکمت سے عا ری ہو گا۔ وہ اپنے پاس کا معمو لی نام علم بھی کھو دے گا۔ 13 اسی لئے میں ان تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو تعلیم دیتا ہوں۔ ان لوگوں کا حا ل یہ ہے کہ یہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھنے کے برا بر اور سن کر بھی نہ سننے کے برا بر ہیں۔ 14 ایسے لو گو ں کے بارے میں یسعیاہ نے جو کہا وہ سچ ہوا: تم غورو فکر کر تے ہو، اور سنتے ہو لیکن تم سمجھتے نہیں حا لا نکہ تم دیکھتے ہو لیکن جو کچھ تم دیکھتے ہو اس کے معنی تم سمجھتے نہیں ہو۔ 15 ہاں ان لوگوں کے ذہن کند ہو گئے ہیں اور کان بہرے ہو گئے ہیں اور آنکھوں کی روشنی ماند پڑ گئی ہے۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے وا لوں کی طرح اور اپن کانوں سے سن کر بھی نہ سننے والوں کی طرح اور دل رکھتے ہوئے بھی نہ سمجھ میں آنے وا لوں کی طرح میری طرف متوجہ نہ ہو نے والوں کی طرح اور میری طرف سے شفا ء نہ پا نے کی وجہ سے ایسا ہوا۔ [a] 16 تم تو قابل مبارک باد ہو۔ اپنے سامنے نظر آنے والے واقعات اور سنے جانے والے حالات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہو۔ 17 میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ جو کچھ تم ابھی دیکھتے ہو اسے بہت سارے نبی اور بہت سارے راستباز لوگ دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ لیکن انہوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور کئی نبیوں اور نیک لوگوں نے وہ باتیں سننی چاہیں جو تم سن رہے ہو لیکن انہوں نے کبھی نہیں سنیں تخم ریزی سے متعلق یسوع کی وضاحت 18 “ایسی صورت میں کسان کے متعلق کہی گئی تمثیل کے معنی سنو۔ 19 سڑک کے کنارے میں گر نے والے بیج سے مرا د کیا ہے ؟راستے کے کنارے گرے بیج اس آدمی کی مانند ہیں جو آسمانی بادشاہت کے متعلق تعلیمات کو سن رہا ہے لیکن سمجھ نہیں رہا ہے۔ اسکو نہ سمجھنے والا انسان ہی راستے کے کنارے گرے ہو ئے بیج کی طرح ہے۔ برا شخص آکر اس آدمی کے دل میں بوئے گئے بیجوں کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔ 20 اور پتھریلی زمین میں گرے ہو ئے بیج سے مراد کیا ہے ؟ وہ بیج اس شخص کی مانند ہے جو بخوشی تعلیمات کو سنتا ہے اور ان تعلیمات کو بخوشی فوراً قبول کر لیتا ہے۔ 21 لیکن وہ آدمی جو کلام کو اپنی زندگی میں مستحکم نہیں بنا تا اور وہ اس کلام پر ایک مختصر وقت کے لئے عمل کرتا ہے۔ اور اس کلام کو قبول کر نے کی وجہ سے خود پر کو ئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ اسکو جلد ہی چھوڑ دیتا ہے۔ 22 “خار دار جھا ڑیوں کے بیچ میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے تعلیم کو سننے کے بعد زندگی کے تفکّرات میں اور دولت کی محبت میں تعلیم کو اپنے میں پر وان نہ چڑھا نے والا ہی خار دار زمین میں بیج کے گرنے کی طرح ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم اس آدمی کی زندگی میں کچھ پھل نہ دیگی۔ 23 اور کہا کہ اچھی زمین میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟تعلیم کو سن کر اور اسکو سمجھ کر جاننے والا شخص ہی اچھی زمین پر گرے ہو ئے بیج کی طرح ہو گا۔ وہ آدمی پر وان چڑھکر بعض اوقات سو فیصد اور بعض اوقات ساٹھ فیصد اور بعض اوقات تیس فیصد پھل دیگا۔” گیہوں اور گھاس پھوس کی تمثیل 24 تب یسوع انکو ایک اور تمثیل کے ذریعہ تعلیم دینے لگے۔ وہ یہ کہ“ آسمان کی بادشاہت سے مراد ایک اچھے بیج کو اپنے کھیت میں بونے والے ایک کسان کی طرح ہے۔ 25 اس رات جب کہ سب لوگ سو رہے تھے تو اسکا ایک دشمن آیا اور گیہوں میں گھاس پھوس کو بودیا۔ 26 جب گیہوں کا پو دا نشو نما پا کر دانہ دار بن گیا تو اسکے ساتھ گھا س پھوس کے پو دے بھی بڑھنے لگے۔ 27 تب اس کسان کے خادم نے اسکے پاس آکر دریافت کیا کہ تو اپنے کھیت میں اچھے دانوں کو بویا۔ مگر وہ گھاس پھوس کا پو دا کہاں سے آ گیا ؟ 28 اس نے جواب دیا، “یہ دشمن کا کام ہے تب ان خادموں نے پو چھا کہ کیا ہم جاکر اس گھاس پھوس کے پو دے کو اکھاڑ پھینکیں۔ 29 “اس آدمی نے کہا کہ ایسا مت کرو کیوں کہ تم گھاس پھوس کو نکالتے وقت گیہوں کو بھی نکال پھینکو گے۔ 30 فصل کی کٹا ئی تک گوکھر و دانے اور گیہوں دونوں کو ایک ساتھ اگنے دو۔ فصل کی کٹائی کے وقت میں مزدوروں سے کہتا ہو کہ پہلے گھا س پھوس بیجوں کو جمع کرو اور جلانے کے لئے ان کے گٹھے باندھ دو اور پھر اسکے بعد گیہوں کو یکجا کر کے اسکو میرے گودام میں رکھو-” مختلف تمثیلوں کے ذریعہ یسوع کی تعلیم 31 تب یسوع نے ایک اور تمثیل لوگوں سے کہی “آسما نی باد شاہت را ئی کے دا نے کے مشا بہ ہے۔ کسی نے اپنے کھیت میں اس کی تخم ریزی کی۔ 32 وہ ہر قسم کے دانوں میں بہت چھو ٹا دانہ ہے۔ اور جب وہ نشو نما پا کر بڑھتا ہے تو کھیت کے دوسرے درختوں سے لمبا ہو تا ہے۔ جب وہ درخت ہو تا ہے تو پرندے آکر اس کی شاخوں میں گھونسلے بناتے ہیں۔” 33 پھر یسوع نے لوگوں سے ایک اور تمثیل کہی “آسما نی بادشاہت خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے روٹی پکا نے کے لئے ایک بڑے برتن جسمیں آٹا ہے اور اس میں خمیر ملا دی ہے۔ گو یا وہ پورا آٹا خمیر کی طرح ہو گیا ہے۔” 34 یسوع ان تمام باتوں کو تمثیلوں کے ذریعے بیان کر نے لگے۔ جب بھی وہ تعلیم وتلقین کر تے تو تمثیلوں کے ذریعہ ہی سمجھا تے۔ 35 نبی کی کہی ہو ئی یہ بات مع تمثیلوں کے اس طرح پو ری ہوئی: “میں تمثیلوں کا استعما ل کر کے کلا م کرو نگا، میں ان باتوں کو جن پر دنیا کے وجود سے اب تک پر دے پڑے ہیں بیان کرونگا۔” [b] مشکل تمثیل کے لئے یسوع کی وضا حت 36 تب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر گھرچلے گئے۔ انکے شاگرد انکے قریب گئے اور ا ن سے کہا،” گو کھر و بیجوں سے متعلق تمثیل ہم کو سمجھا ؤ۔” 37 یسوع نے جواب دیا ، اس طرح کھیت میں اچھے قسم کے بیجوں کی تخم ریزی کر نے وا لا ہی ابن آدم ہے۔ 38 کھیت یہ دنیا ہے۔ اچھے بیج ہی آسما نی بادشاہت میں شا مل ہو نے وا لے خدا کے بچے ہیں اور بر ے وبد کا روں سے رشتے رکھنے وا لے ہی وہ گو کھر وکے بیج ہیں۔ 39 کڑ وے بیج کو بو نے وا لا دشمن ہی وہ شیطا ن ہے۔ فصل کی کٹا ئی کا مو سم ہی دنیا کا اختتام ہے اور اس کو جمع کر نے وا لے مز دور ہی خدا کے فرشتے ہیں۔ 40 “کڑ وے دانوں کے پودوں کو اکھا ڑ کر اس کو آ گ میں جلا دیتے ہیں اور دنیا کے اختتا م پر ہو نے وا لا یہی کام ہے۔ 41 ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔اور اس کے فرشتے گنا ہوں میں ملوث برے اور شر پسند لو گوں کو جمع کریں گے۔ اور وہ انکو اس کی بادشاہت سے باہر نکال دیں گے۔ 42 فرشتے ان لوگوں کو آ گ میں پھینک دیں گے۔اور وہاں وہ تکلیف سے رو تے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے رہیں گے۔43 تب اچھے لوگ سورج کی مانند چمکیں گے۔ وہ اپنے باپ کی بادشا ہی میں ہو ں گے۔ میری باتوں پر توجہ دینے والے لوگو غور سے سنو۔ خزانوں اور موتیوں کی تمثیل 44 “آسما نی بادشاہت کھیت میں گڑے ہو ئے خزا نے کی مانند ہے۔ایک دن کسی نے اس خزا نے کو پا لیا۔ او ربے انتہا مسر ّت وخوشی سے اس کو کھیت ہی میں چھپا کر رکھ دیا۔ تب پھر اس آدمی نے اپنی سا ری جا ئیداد کو بیچ کر اس کھیت کو خرید لیا۔ 45 “آسما نی بادشاہت عمدہ اور اصلی موتیوں کو ڈھونڈ نے وا لے ا یک سوداگر کی طرح ہے جو قیمتی موتیوں کی تلا ش کر تا ہے۔ 46 ایک دن اس تا جر کو بہت ہی قیمتی ایک مو تی ملا۔تب وہ گیا اور اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر کے اس موتی کو خرید لیا۔ مچھلی کے جال سے متعلق تمثیل 47 “آسما نی بادشاہت سمندر میں ڈالے گئے اس مچھلی کے جال کی طرح ہےجس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ 48 تب وہ جال مچھلیوں سے بھر گیا۔ مچھیرے اس جال کو جھیل کے کنا رے لائے اور اس سے اچھی مچھلیاں ٹوکریوں میں ڈال لیں اور خراب مچھلیوں کو پھینک دئیے۔ 49 اس دنیا کے اختتا م پر بھی ویسا ہی ہوگا۔فرشتے آئیں گے اور نیک کا روں کو بد کاروں سے الگ کریں گے۔ 50 فرشتے برے لوگوں کو آ گ کی بھٹی میں پھنک دیں گے۔ اس جگہ لوگ روئیں گے۔درد وتکلیف میں اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔” 51 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “کیا تم ان تمام باتوں کو سمجھ گئے ہو؟” شاگردوں نے جواب دیا “ہم سمجھ گئے ہیں” 52 تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،“ آسما نی باد شاہت کے بارے میں تعلیم دینے وا لا ہر ایک معلم شریعت ما لک مکان کی طرح ہوگا جو پرانی چیزو ں کو اس گھر میں جمع کر کے ان کو پھر باہر نکا لے گا۔” پیدائشی گاؤں کے لئے یسوع کا سفر 53 یسوع ان تمثیلوں کے ذریعے تعلیم دینے کے بعد وہاں سے چلے گئے۔ 54 تب وہ اپنے گاؤں گئے۔یسوع جب یہودی عبادت گاہ میں تعلیم دے رہے تھے تو لوگ تعجب کر نے لگے۔آپس میں کہنے لگے “یہ سوچ،سمجھ،حکمت،علم اور معجزے دکھا نے کی قوت کہاں سے پا ئی ہے؟ 55 یہ تو صرف ایک بڑھئی کا بیٹا ہے۔ اور اس کی ماں مریم ہے۔یعقوب ،یوسف اور شمعون ان کے بھا ئی ہیں۔ 56 اور اس کی سب بہنیں ہما رے پاس ہیں۔ اور آپس میں باتیں کر نے لگے کہ ایسے میں یہ حکمت اور معجزے دکھا نے کی طا قت کہاں سے پا ئی ہے؟” 57 اس کو کسی نے قبول نہ کیا۔ یسوع نے ان سے کہا، “دوسرے لوگ نبی کی تعظیم کر تے ہیں لیکن نبی کے گاؤں کے لوگ اور اس کے خاندان کے افرادعزت نہیں دیتے۔” 58 چونکہ ان لوگوں میں ایمان نہ ہو نے کی وجہ سے اس نے وہاں کئی معجزے نہیں دکھا ئے۔ Footnotes: a. متّی 13:15 یسعیاہ ۶:۹-۱۰ b. متّی 13:35 زبور ۷۸:۲ متّی 14 یسوع کے متعلق ہیرودیس کی را ئے 14 اس زما نے میں ہیرودیس گلیل میں حکو مت کرتا تھا لوگ یسوع کے متعلق جن واقعات کو سنا تے تھے وہ ساری باتیں اسے معلوم ہوئیں۔ 2 یہی وجہ ہے کہ ہیرودیس نے اپنے خادموں سے کہا، “حقیقت میں وہی بپتسمہ دینے وا لا یوحناّ ہے۔پھر وہ دوبارہ جی اٹھا ہے۔اسی وجہ سے وہ معجزے دکھا نے کی طاقت رکھتا ہے۔” بپتسمہ دینے والے یوحناّ کا قتل کیا جا نا 3 اس سے قبل ہیرو د یاس کی وجہ سے ہیرودیس نے یوحناّ کو زنجیروں میں جکڑوا کر قید خا نے میں ڈلوا دیا تھا۔ ہیرودیاس ہیرودیس کے بھا ئی فلپس کی بیوی تھی۔ 4 یوحناّ ہیرودیس سے کہہ رہا تھا۔ یہ تمہا رے لئے صحیح نہیں ہے کہ تم ہیرودیاس کے ساتھ رہو یہ کہنا ہی اس کے لئے قید خانے کی وجہ بنی۔”5 ہیرودیاس یوحناّ کو قتل کر وا نا چا ہتی تھی۔ لیکن وہ لوگوں سے گھبرا کر قتل نہ کر وا سکی لوگ یوحناّ کو ایک نبی کی حیثیت سے ما نتے تھے۔ 6 ہیرودیس کی پیدا ئشی سالگرہ کے دن ہیرودیاس کی بیٹی ہیرودیس اور اس کے مہمانوں کے سا منے ناچنے لگی۔ اور ہیرودیس اس سے بہت خوش ہوا۔ 7 اس لئے اس نے اس سے وعدہ کیا کہ تو جو چاہتی ہے وہ میں تجھے دونگا۔ 8 ہیرو دیاس نے اپنی بیٹی سے کہا، “کیا مانگا جائے۔ تب وہ ہرودیس سے کہنے لگی کہ بپتسمہ دینے والے” یوحنا کا سر اسی جگہ اور اسی طشت میں مجھے دیدے۔” 9 ہیرودیس بادشاہ بہت دکھی تھا۔ اس لئے کہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جو مانگے گی اسے میں دونگا۔ ہیرودیس کی صف میں کھا نا کھا نے والے لوگ بھی اس وعدے کو سنے تھے۔ اس لئے اس کی مانگ کے مطابق دینے کے لئے ہیرودیس نے حکم دیا۔ 10 قید خانہ جاکر یوحنا کا سر قلم کر کے لا نے کے لئے اس نے سپاہیوں کو بھیج دیا۔ 11 وہ یوحنا کا سر طشت میں لا کر اس کے حوالے کئے۔ وہ اس کو لیکر اپنی ماں ہیرودیاس کے پاس گئی۔ 12 یوحنا کے شاگرد آئے اور اسکی لاش لے گئے۔ اور اس کو دفن کرکے قبر بنا دی۔ وہ یسوع کے پاس گئے۔ اور پیش آئے ہو ئے سارے واقعات کو سنایا۔ یسوع کا پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں میں غذا تقسیم کرنا 13 یسوع کو یوحنا کے بارے میں جب تفصیل معلوم ہوئی تو یسوع کشتی میں سوار ہو کر اکیلے ہی ویران جگہ پر چلے گئے لیکن لوگ اس کے متعلق جان گئے تھے۔ اس لئے وہ سب اپنے گاؤں کو چھوڑ کر پیدل ہی وہاں چلے گئے جہاں یسوع تھے۔ 14 جب یسوع وہاں کنارے پر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کا مجمع ہے اس نے ان لوگوں پر ترس کھا ئے اور انکے بیماروں کو شفاء بخشی۔ 15 جب شام ہو ئی تو شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے، “اس جگہ لوگوں کی رہائش نہیں ہے۔ اور اب بھی وقت ہو گیا ہے۔ اور لوگوں کو گاؤں میں بھیج دیجئے تا کہ وہ اپنے لئے کھا نا خریدلیں-” 16 یسوع نے ان سے کہا، “لوگوں کو جا نے کی ضرورت نہیں۔ تم ہی ان لوگوں کے کھا نے کے لئے تھوڑا سا کھا نا دو۔” 17 شاگردوں نے جواب دیا، “ہمارے پاس تو صرف پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں۔” 18 یسوع نے کہا،“ان روٹیوں اور مچھلیوں کو لا ؤ –” 19 تب اس نے لوگوں کو ہری گھا س پر بیٹھنے کے لئے کہا پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں نکالیں۔ آسمان کی طرف دیکھا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ روٹیوں کو توڑ کر اپنے شا گر دوں کو دیئے۔ اور شاگردوں نے ان روٹیوں کو لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ 20 لوگ کھا پی کر سیر ہو گئے۔جب لوگ کھانے سے فا رغ ہو ئے تو کھا نے کے بعد بھی بچی ہو ئی رو ٹیوں کے ٹکڑوں کو جب شا گردوں نے جمع کیا تو بارہ ٹوکریاں بھر گئیں۔ 21 کھا نا کھا نے وا لے آدمیوں کی تعداد عورتوں اور بچوں کے علا وہ تقریباً پا نچ ہزار تھی۔ جھیل کے پا نی کے اوپر یسوع کی چہل قدمی 22 تب یسوع نے اپنے شا گردوں سے کہا، “میں ان لوگوں کو رخصت کر کے بعد میں آؤں گا۔ اور تم لوگ اب کشتی میں سوار ہو کر جھیل کے اس پار چلے جا ؤ۔” 23 وہ لو گوں کو رخصت کر نے کے بعد دعا کر نے کے لئے تنہا پہاڑ کے او پر چلے گئے۔ اس وقت رات ہو گئی تھی۔ اور وہ وہاں اکیلے ہی تھے۔ 24 اس وقت کشتی جھیل میں بہت دور تک چلی گئی تھی۔ اور وہ مخا لف ہوا اور لہروں کے تھپیڑوں کا سختی سے مقابلہ کر رہی تھی۔ 25 رات کے آخری پہر تک بھی شا گرد کشتی ہی میں تھے۔یسوع ان لوگوں کے پاس جھیل میں پانی کے اوپر چلتے ہو ئے آئے۔ 26 جب انہوں نے یسوع کو پا نی پر چلتے ہو ئے دیکھا تو ڈرگئے انہوں نے “ان کو بھوت” سمجھا اور ما رے خوف کے چیخنے لگے۔ 27 فوراً یسوع ان سے بات کر تے ہوئے کہنے لگے، “فکر مت کرو میں ہی ہوں ڈرو مت-” 28 پطرس نے کہا، “اے خداوند اگر حقیقت میں تم ہی ہو تو مجھے حکم کرو کہ میں پانی پر چلتے ہو ئے تمہا رے پا س آؤں۔” 29 یسوع نے پطرس سے کہا، “آ جا ”فوراً پطرس کشتی سے اتر کر پانی پر چلتے ہو ئے یسوع کے پا س آیا۔ 30 لیکن وہ طوفانی ہوا اور لہروں کو دیکھ کر خوفزدہ ہوا اور پانی میں ڈوبنے کے قریب ہوا اور پکار کر کہنے لگا “اے خداوند مجھے بچا ؤ۔” 31 یسوع نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر پطرس کو پکڑ لیا۔اور کہا، “اے کم ایمان والو تم نے کیوں شک کیا ؟” 32 جب پطرس اور یسوع کشتی میں سوار ہوئے تو ہوا تھم گئی۔ 33 کشتی میں سوار شاگرد یسوع کے سامنے گر گئے۔ اور کہنے لگے ،“حقیقت میں تو ہی خدا کا بیٹا ہے۔” یسوع کا کئی بیما روں کو شفا ء دینا 34 وہ سمندر پا ر جا کرگنیسرت کے علا قے میں پہنچے۔ 35 وہاں کے لوگوں نے یسوع کو دیکھا۔اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ کون تھے؟ اس وجہ سے انہوں نے اطراف واکناف کے علا قوں کے باشندوں کو یسوع کے آنے کی خبر دی۔لوگ تمام بیما روں کو یسوع کے پاس لا ئے۔ 36 اور انہوں نے ان سے التجا کی کہ “اپنے پیر ہن کو چھونے کی اجا زت دے۔” اور جن لوگوں نے ان کے پیر ہن کو چھوا وہ سب شفا ء یاب ہو ئے۔ متّی 15 خدا کا حکم اور لوگوں کے اصول 15 تب چند فریسی اور معلمین شریعت یروشلم سے یسوع کے پاس آئے اور کہا، 2 “تمہا رے ماننے وا لے ہما رے اجداد کے اصول وروا یات کی اطاعت کیوں نہیں کرتے ؟ اور پوچھا کہ تیرے شاگرد کھا نا کھانے سے قبل ہاتھ کیوں نہیں دھوتے ؟”- 3 یسوع نے کہا، “تم اپنے اصولوں پر عمل کر نے کے لئے خدا کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو ؟۔ 4 خدا کا حکم ہے کہ تم اپنے ماں باپ کی تعظیم کرو۔ [a] دوسرا حکم خدا کا یہ ہے کہ اگر کو ئی اپنے باپ یا ا پنی ماں کو ذلیل و رسوا کرے تو اسے قتل کر دیا جا ئے۔ [b] 5 لیکن اگر ایک آدمی اپنے ماں باپ کو یہ کہے کہ تمہا ری مدد کر نا میرے لئے ممکن نہیں کیوں کہ میرے پاس ہر چیز خدا کی بڑا ئی کے لئے ہے تو پھر ماں باپ کی عزت کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں۔ 6 تم اس بات کی تعلیم دیتے ہو کہ وہ اپنے ماں باپ کی عزت نہ کرے اس صورت میں تمہا ری روایت ہی نے خدا کے حکم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ 7 تم سب ریا کار ہو۔یسعیاہ نے تمہارے بارے میں صحیح کہا ہے وہ یہ کہ: 8 “یہ لوگ تو صرف زبانی میری عزت کرتے ہیں۔ لیکن ان کے دل مجھ سے دور ہیں۔ 9 اور انکا میری بندگی کرنا بھی بے سود ہے۔ انکی تعلیمات انسانی اصولوں ہی کی تعلیم دیتے ہیں۔ [c] 10 یسوع نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “میری باتوں پر غور کرو اور انہیں سمجھو۔ 11 کوئی آدمی اپنے کھا نے پینے والی چیزوں سے نا پاک و گندا نہیں ہو تا بلکہ اس نے کہا کہ اس کے منھ سے جو بھی جھوٹے کلمات نکلے وہی اس کو ناپاک کر دیتے ہیں۔” 12 تب شاگرد یسوع کے قریب آکر اس سے کہنے لگے، “کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری کہی ہو ئی بات کو فریسی نے سن کر کتنا برا ما نا ہے ؟” 13 یسوع نے جواب دیا، “آسمانوں میں رہنے والے میرے باپ نے جن پودوں کو نہیں لگا یا وہ سب جڑ سمیت اکھاڑ دیئے جائیں گے۔ 14 اور کہا کہ فریسی کو پریشان نہ کرو اسے اکیلا رہنے دو وہ خود اندھے ہیں اور دوسروں کو راستہ دکھا نا چاہتے ہیں۔ اسلئے کہ اگر اندھا اندھے کی رہنمائی کرے تب تو دونوں گڑھے میں گر جائیں گے۔” 15 تب پطرس نے کہا، “جو تو نے پہلے لوگوں سے کہا ہے اس بات کی ہم سے وضاحت کر۔ 16 یسوع نے ان سے کہا، “کیا تمہیں اب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ؟”۔ 17 ایک آدمی کے منھ سے غذا پیٹ میں داخل ہو تی ہے۔ اور جسم کی ایک نالی سے وہ باہر جاتی ہے۔ اور یہ بات تم سب کو معلوم ہے۔18 لیکن جو ایک آدمی کے منھ سے بری باتیں نکلتی ہیں وہی چیزیں ہیں جو آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔19 اور آدمی کے دل سے برے خیالات قتل زناکاری اور حرامکاری ،چوری ،جھوٹ اور گالیاں نکل آتی ہیں۔20 یہ تمام باتیں آدمی کو ناپاک بنا دیتی ہیں۔ اور کہا، “کھا نا کھا نے سے پہلے اگر ہاتھ نہ دھو یا جائے تو اس سے آدمی ناپاک نہیں ہوتا۔” یسوع کا غیر یہودی عورت کی مدد کرنا 21 یسوع اس جگہ کو چھوڑ کر صور اور صیدا کے علا قے میں گئے۔ 22 اس علا قے کی رہنے والی ایک کنعانی عورت یسوع کے پاس آئی اور چیخ چیخ کر کہنے لگی، “اے خدا وند داؤد کے بیٹے میرے حال پر رحم کر میری بیٹی پر بد روح کے اثرات ہو گئے ہیں اور وہ بہت ہی تکلیف میں مبتلا ہے” 23 لیکن یسوع نے اس کو کو ئی جواب نہ دیا۔ اس وجہ سے شاگرد یسوع کے پاس آ ئے اور کہنے لگے، “اس عورت کو چلے جانے کے لئے کہئے کیوں کہ وہ چیختی ہو ئی ہمارے پیچھے ہی آرہی ہے۔” 24 یسوع نے کہا، “میں خدا کی طرف سے اسرائیل کی کھو ئی ہو ئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا ہو ں۔” 25 تب وہ عورت یسوع کے پاس آئی اور یسوع کے سامنے گر گئی۔ اور کہنے لگی، “اے میرے خدا وند! میری مدد کر۔” 26 تب یسوع نے جواب دیا، “بچوں کے کھا نے کی روٹی کو نکال کر اسکو کتوں کے سامنے ڈالدینا اچھا نہیں۔” 27 اس عورت نے جواب دیا، “ہاں اے میرے خدا وند! کتے تو اپنے مالکوں کی میز سے گر نے والی غذا کے ٹکڑوں کو تو کھا جا تے ہیں۔” 28 تب یسوع نے جواب دیا،“اے عورت! تیرا ایمان بڑا پختہ ہے۔ اور میں تیری آرزو کو پوری کردیتا ہوں” اسکی بیٹی اسی لمحہ شفاء یاب ہو ئی۔ یسوع سے کئی لوگوں کو شفاء یابی 29 پھر یسوع اس جگہ کو چھو ڑ کر گلیل جھیل کے کنارے ایک پہاڑ پر جاکر بیٹھ گئے۔ 30 لوگ جوق در جوق یسوع کے پاس آئے۔ اور اپنے ساتھ مختلف قسم کے بیماروں کو لا کر یسوع کے قدموں میں ڈالدیئے۔ وہاں پر معذور، اندھے، لنگڑے، بہرے اور دوسرے بہت سے لوگ تھے۔ اور ان سبھوں کو شفا بحشی۔ 31 جب لوگوں نے دیکھا کہ گونگے باتیں کرتے ہیں۔ لنگڑے چلتے پھرتے ہیں ،اور معذور لوگ صحت پاتے ہیں۔ اور اندھے بینا ہو گئے ہیں تو وہ انتہائی حیرت میں پڑگئے اور اس اسرائیل کے خدا کی تعریف بیان کر نے لگے۔ چار ہزار سے زیادہ لوگوں میں اناج کی تقسیم۔ 32 یسوع نے اپنے شاگردوں کو پاس بلا کر کہا، “میں بھی ان لوگوں کے ساتھ انکے دکھ اور تکلیف میں شریک ہوں۔ کیوں کہ یہ تین دن سے میرے ساتھ ہیں۔ اب انکو کھا نے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ اور انکو بحالت بھو ک واپس بھیج دینا مجھے گوارہ نہیں۔ اور کہا یہ گھر جاتے ہو ئے بھوک سے تڑپ جائیں گے۔” 33 شاگردوں نے یسوع سے کہا، “اس مجمع کو کھلا نے کے لئے ہم اتنی روٹیاں کہاں سے لا سکتے ہیں ؟ جب کہ یہاں سے کو ئی گاؤں قریب نہیں ہے۔” 34 انہوں نے پو چھا، “تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں ؟” شاگردوں نے جواب دیا، “ہمارے پاس صرف سات روٹیاں اور چند چھوٹی مچھلیاں ہیں۔” 35 تب انہوں نے لوگوں کو زمین پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ 36 ان سات روٹیوں اور مچھلیوں کو اٹھا کر انہوں نے انکے لئے خدا کا شکر ادا کیا پھر انکو توڑ کر شاگردوں کو دیا۔ شاگردوں نے ان کو لوگوں میں بانٹ دی۔ 37 لوگ کھاکر شکم سیر ہوئے۔ پھر کھا نے سے بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑوں کو جب شاگردوں نے جمع کیا تو سات ٹوکریاں بھر گئیں۔38 اس دن کھا نا کھانے والوں میں مرد چار ہزار تھے۔ انکے علاوہ عورتوں اور بچوں نے بھی کھا نا کھا یا۔ 39 تب یسوع نے ان لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کوجا نے کی اجازت دیدی۔ پھر کشتی پر سوار ہو کر مگدن نام کے علاقے میں چلے گئے۔ Footnotes: a. متّی 15:4 اِقتِباس خروج ۱۲:۲۰، استثناء۱۶:۵ b. متّی 15:4 اِقتِباس خروج ۱۷:۲۱ c. متّی 15:9 یسعیاہ ۲۹:۱۳ متّی 16 یسوع کی آزمائش کرنے یہودی قائدین کی کو شش 16 فریسی اور صدوقی یسوع کے پاس آئے۔ اور یسوع کو آزمانے کے لئے وہ پوچھنے لگے کہ تو اگر خدا کا فرستادہ ہے تو اسکے ثبوت میں تو ایک معجزہ دکھا دے۔ 2 یسوع نے ان سے کہا، “غروب آفتاب کے وقت موسم کیسا ہو تا ہے تمہیں معلوم ہے اگر آسمان سرخ رہا تو کہتے ہو کہ موسم عمدہ ہے۔ 3 صبح سورج کے طلوع ہو تے وقت تم آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ اگر مطلع ابر آلود سیاہ اور سرخ ہو تو کہتے ہو کہ آج بارش برسے گی۔ یہ تمام چیزیں آسمان کی علامت ہیں تم ان علامات کو دیکھ کر انکے معنی سمجھتے ہو۔ ٹھیک اسی طرح آج تم جن علامات کو دیکھتے ہو وہ بطور نشانی و علا مت کے ہیں لیکن تم کو ان علامات کے معنی معلوم نہیں۔ 4 برے اور گنہگار لوگ علامت کے طور پر معجزہ دیکھنے کی آرزو کر تے ہیں۔ لیکن انکو یونس کی نشانی کے سوا کوئی اور نشانی نہیں ملتی ۔” تب یسوع اس جگہ کو چھوڑکر دوسری جگہ چلے گئے۔ یہودی قائدین کے بارے میں یسوع کی تاکید 5 یسوع اور اسکے شاگردوں نے جھیل کو پار کیا۔ لیکن شاگرد ساتھ میں روٹی لانا بھو ل گئے۔ 6 یسوع نے شاگردوں سے کہا، “ہوشیار رہو فریسی اور صدوقیوں کے خمیر کے پھندے میں نہ آنا۔” 7 شاگردوں نے اس کے معنوں پر گفتگو کی۔ اور آپس میں باتیں کر نے لگے “کہ شاید ہم نے جو روٹی بھول کر آئے ہیں اس وجہ سے یسوع ایسا کہا ہو گا-” 8 شاگردوں کے اس مو ضوع پر گفتگو کر نے کی بات یسوع کو معلوم تھی اس وجہ سے یسوع نے ان سے کہا تم یہ باتیں کیوں کر تے ہو کہ تمہا رے پا س روٹی نہیں ہے؟ اے کم ایمان رکھنے والو!۔ 9 کیا تم اب تک اس کے معنی نہیں سمجھے ہو ؟ پانچ روٹیوں سے پانچ ہزار آدمیوں کو کھا نا کھلا دیا جانا تمکو یاد نہیں؟ لوگوں کے کھا نا کھا نے کے بعد تم نے کتنی ٹوکریوں کو روٹیوں سے بھر وا دئیے کیا تم کو یاد نہیں؟ 10 کیا سات روٹیوں کے ٹکڑوں سے چار ہزار آدمیوں کو کھا نا کھلا نے کی بات تم کو یاد نہیں؟ کھا نے کے بعد تم نے کتنی ٹوکریوں میں روٹیوں کو بھرا تھا کیا تم کو یاد نہیں ؟ 11 اس وجہ سے میں نے تم سے جو کہا ہے وہ روٹیوں کی بابت نہیں۔ اور تم اس کے معنی کیوں نہیں سمجھے۔ اور کہا کہ فریسیوں اور صدوقیوں کے خمیر سے ہوشیار رہنے کی تمہیں تا کید کر تا ہوں۔” 12 تب شاگرد یسوع کی بات کو سمجھ گئے کہ وہ ان کو روٹی میں چھڑ کے ہو ئے خمیر کے متعلق با خبر رہنے نہیں کہا۔ بلکہ فریسی اور صدوقیوں کی تعلیم کے اثر کو قبول نہ کر نے کی بات سے باخبر رہنے کو کہا ہے۔ یسوع ہی کا مسیح ہو نے کے بارے میں پطرس کا اعلان 13 یسوع جب قیصر یہ فلپی کے علا قے میں آیا۔تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے پو چھا، “مجھ ابن آدم کو لوگ کیا کہہ کر پکار تے ہیں؟” 14 ماننے وا لوں نے جواب دیا، “بعض تو بپتسمہ دینے والا یوحناّ کے نام سے پکار تے ہیں اور بعض ایلیاہ[a] کے نام سے پکارتے ہیں۔ اور بعض یر میاہ [b] [c] کہہ کر یا نبیوں میں ایک کہہ کر پکا ر تے ہیں۔”15 تب اس نے ان سے پو چھا ، “تم مجھے کیا پکار تے ہو؟” 16 شمعون پطرس نے جواب دیا، “تو مسیح ہے اور تو ہی زندہ خدا کا بیٹا ہے۔” 17 یسوع نے کہا، “اے یونس کے بیٹے شمعون! تو بہت مبارک ہے۔ اس بات کی تعلیم تجھے کسی انسان نے نہیں دی ہے۔بلکہ میرے آسما نی باپ ہی نے ظا ہر کیا ہے کہ میں کون ہوں؟ 18 اس وجہ سے میں تجھے کہتا ہوں کہ تو ہی پطرس ہے۔اور میں چٹان پر اپنی کلیسا (جماعت) تعمیر کروں گا اور عالم ارواح [d] کی طاقت میری کلیسا کو شکست نہ دے سکے گی۔ 19 اور کہا کہ آسمان کی باد شاہت کی کنجیاں میں تجھے دوں گا۔ اس زمین پر دیا جانے والا تیرا فیصلہ وہ خدا کا فیصلہ ہو گا۔ اور اس زمین پر دی جا نے والی معا فی وہ خدا کی معا فی ہو گی۔” 20 پھر یسوع نے اپنے شاگردوں کو تا کید کی کہ میرے مسیح ہو نے کی بات کسی سے نہ کہنا۔ اپنی موت کے بارے میں یسوع کا پہلا اعلان 21 اسوقت سے یسوع نے اپنے شا گر دوں کو سمجھا نا شروع کیا کہ وہ یروشلم جانا چاہتا ہے۔اور پھر وہ وہاں یہودیوں کے بزرگ قائدین، سردار کا ہنوں اور معلمین شریعت سے خود مختلف تکالیف کو برداشت کرنے، پھرقتل کئے جانے پھر مردوں میں سے تیسرے ہی دن دوبارہ جی اٹھنے کی بات سمجھا ئی۔ 22 تب پطرس یسوع کو تھو ڑے فاصلہ پر لے گیا اور اس سے احتجاج کر نے لگا، “خدا ان باتوں سے تیری حفاظت کرے۔ اے خدا وند! وہ باتیں تیرے لئے ہر گز پیش نہ آئے گی۔” 23 پھر یسوع نے پطرس سے کہا، “اے شیطان یہاں سے دور ہوجا! تو میری راہ میں رکا وٹ ہے اور تیری فکر صرف انسانی فکر ہے نہ کہ خدا کی فکر-” 24 پھر یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “جو کو ئی میری پیروی کرنا چاہتا ہے اسکو چاہئے کہ وہ اپنی پسند کی چیزوں کو ردّکردے۔ اور اسکی دی گئی صلیب کو وہ قبول کرتے ہو ئے میرے پیچھے ہو لے۔25 جو اپنی جان بچانا چاہے گا وہ اپنی جان کھو دیگا۔ میرے لئے اپنی جان دینے والا اسکی جان کو بچا لے گا۔ 26 اگر کوئی شخص دنیا بھر کی دولت کما کر بھی اپنی روح کو کھو دیا تو اسے کیا حاصل ہوگا ؟ کیا کو ئی چیز ہے جو اسکی روح کا بدل ہو؟ 27 ابن آدم اپنے باپ کے جلال کے ساتھ اور اپنے فرشتوں کے ساتھ لوٹ کر آئیگا اور اس وقت ابن آدم ہر ایک کو انکے اعمال کا مناسب بدلہ دیگا۔ 28 میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ اب یہاں کھڑے ہو ئے چند لوگ ابن آدم کو اپنی بادشاہت کے ساتھ آتے ہو ئے دیکھے بغیر نہیں مریں گے۔” Footnotes: a. متّی 16:14 ایلیاہ اس آدمی نے خدا کے متعلق تقریباً ۸۵۰ قبل مسیح میں باتیں کیں- b. متّی 16:14 یرمیاہ c. متّی 16:14 س نے خداکے متعلق تقریباً ۶۰۰ سال قبل مسیح میں باتیں کیں۔ d. متّی 16:18 عالم ارواح سچ مچ میں یہ’’ دوزخ کا دروازہ” ہے۔ متّی 17 یسوع کی مختلف شکلیں 17 چھ دن کے بعد یسوع ، پطرس ، یعقوب اور اسکے بھا ئی یوحنا کو ساتھ لیکر ایک اونچے پہاڑ پر چلے گئے۔ جہاں انکے سوا کو ئی دوسرا نہ تھا۔ 2 ان شاگردوں کی نظروں کے سامنے ہی وہ مختلف شکلیں بدلنے لگا۔ انکا چہرہ سورج کی طرح روشن ہوا۔ اور اسکی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئی۔ 3 اس کے علا وہ انہوں نے دیکھا کہ اسکے ساتھ دو آدمی باتیں کرتے ہو ئے کھڑے تھے۔ وہی موسٰی اور ایلیاہ تھے۔ 4 پطرس نے یسوع سے کہا، “اے ہمارے خداوند! یہ اچھا ہے کہ ہم یہاں ہیں تم چاہو تو تمہارے لئے تین خیمے نصب کروں گا۔ ایک تمہارے لئے ایک موسٰی کے لئے اور ایک ایلیاہ کے لئے۔” 5 پطرس ابھی باتیں کر ہی رہا تھا کہ ایک تابناک بادل انکے اوپر سایہ فگن ہو گیا ,اور اس بادل میں سے ایک آواز سنائی دی، “یہی میرا چہیتا بیٹا ہے۔ میں اس سے بہت خوش ہوں اور اسکے فرماں بردار بنو۔” 6 یسوع کے ساتھ موجود شاگرد وں کو یہ آواز سنائی دی۔ وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہو کر منھ کے بل زمین پر گر گئے۔ 7 تب یسوع شاگردوں کے پاس آکر انکو چھوا اور کہا، “گھبراؤ مت اٹھو۔” 8 جب وہ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھے تو وہاں پر یسوع کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ 9 جب وہ پہاڑ سے نیچے اتر رہے تھے تو یسوع نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا، “جب تک ابن آدم مرکر دوبارہ جی نہ اٹھے اس وقت تک تم پہاڑ پر جن مناطر کو دیکھا ہے وہ کسی سے نہ کہنا۔” 10 شاگردوں نے یسوع سے پو چھا،“مسیح کے آنے سے پہلے ایلیاہ کو آنا چاہئے ایسی بات معلّمین شریعت کیوں کہتے ہیں ؟” 11 اس پر یسوع نے جواب دیا، “جو ایلیاہ کے آ نے کی بات کہتے ہیں صحیح ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ آئیگا اور تمام مسائل کو حل کریگا۔ 12 لیکن میں تم سے کہتا ہوں ایلیاہ تو آچکا ہے۔ لیکن لوگ اسے جان نہ سکے کہ وہ کون ہے ؟اور لوگوں نے جیسا چاہا اس کے ساتھ کیا اسی طرح ابن آدم بھی انکے ہاتھوں تکلیف اٹھا ئیگا۔” 13 تب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے ان سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے۔ یسوع کی جانب سے ایک بیمار بچّے کی صحتیابی 14 یسوع اور اسکے شاگرد لوگوں کے پاس لوٹ کر واپس آئے۔ ایک آدمی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنے ٹیک کر کہا، 15 “اے خدا وند! میرے بیٹے پر رحم کر کیوں کہ وہ مرگی کی بیماری سے بہت تکلیف میں ہے۔ وہ کبھی آ گ میں اور کبھی پا نی میں گر جاتا ہے۔ 16 میں اپنے بیٹے کو تیرے شاگردوں کے پاس لا یا۔ لیکن ان میں سے کو ئی بھی اسکو شفاء نہ دے سکے۔” 17 یسوع نے ان سے کہا، “اے کم ایمان اور کج رو نسل مزید کتنا عرصہ مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہوگا ؟ اور کتنی مدّت تک میں تمہیں برداشت کروں ؟ اس بچّے کو یہاں لاؤ۔” 18 یسوع نے بچّے میں پائی جانے والی بد روح کو ڈانٹ دیا تو وہ اس سے دور ہو گئی۔ اور اسی لمحہ لڑکا شفا یاب ہوا۔ 19 تب شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے کہ، “ہم ہزار کو شش کے باوجود اس بد روح کو لڑ کے سے دور کیوں نہیں کر سکے ؟ 20 تب یسوع نے انکو جواب دیا، “تمہارا کم ایمان ہی اصل وجہ ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو تا اور تم اس پہاڑکو کہتے کہ تو اپنی جگہ سے ہل جا تو وہ ضرور ہل جاتا۔ اور تمہارے لئے کو ئی کام نا ممکن نہ ہوتا۔” 21 [a] اپنی موت سے متعلق یسوع کا دوسرا اعلان کرنا 22 ایک مرتبہ گلیل میں سب شاگرد یکجا ہو ئے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “ابن آدم کو لوگوں کے حوالے کیا جائیگا۔ 23 آدمی ابن آدم کو قتل کر دیں گے۔ لیکن وہ مرنے کے تیسرے دن پھر دوبارہ زندہ ہو کر آئیگا۔” محصول سے متعلق یسوع کی تعلیم 24 یسوع اور اسکے شاگرد کفر نحوم میں آئے۔ چند یہودی پطرس کے پاس آئے وہ کلیسا کے محصول وصول کنندہ تھے۔ انہوں نے پوچھا، “کیا تمہارا آقا کلیسا کے لئے محصول نہیں ادا کریگا۔” 25 پطرس نے جواب دیا، “ہاں وہ ادا کریگا۔” تب پطرس گھر میں گیا جہاں یسوع مقیم تھے۔ وہ اس بات کو بتانے سے پہلے ہی یسوع نے اس سے کہا، “اس دنیا کے بادشاہ لوگوں سے مختلف قسم کے محصول وصول کرتے ہیں۔ لیکن محصول ادا کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ کیا بادشاہ کے بچے ہونگے یا دوسرے لوگ؟ تم کیا سمجھتے ہو شمعون ؟۔” 26 پطرس نے جواب دیا، “صرف دوسرے ہی لوگ لگان کو ادا کریں گے” یسوع نے پطرس سے کہا، “اگر ایسی ہی بات ہے تو بادشاہ کے بچّوں کو لگان دینے کی ضرورت نہیں۔ 27 لیکن ہم لگان وصول کر نے والوں پر کیوں غصہ ہوں ؟ تو چنگی ادا کر اور جھیل میں جاکر مچھلیاں پکڑ۔ اور پہلی ملنے والی مچھلی کے منھ کو تو کھول، تو اسکے منھ میں تو ایک چاندی کے سکّے کو پا ئیگا۔ اسکو نکال لا اور میری اور تیری طرف سے لگان وصول کر نے والوں کو ادا کر۔” Footnotes: a. متّی 17:21 آیت ۲۱ چند یونانی نسخوں میں اس آیت کو شامل کیا گیا ہے جو اس طرح ہے:“اس قسم کي بري روح سوائے دعا اور روزہ کے کسي اور طريقے سے نہيں نکالا جا سکتا ہے۔” متّی 18 اعلیٰ و ارفع مقام کس کو 18 اس وقت شا گرد یسوع کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ“ آسما نی باد شاہت میں کس کو اعلیٰ مقام نصیب ہو گا ؟۔” 2 یسوع نے ایک چھو ٹے بچے کو اپنے پا س بلا یا اور اپنے شا گردو ں کے سا منے اس کو کھڑا کیا اور اس طرح کہا،۔ 3 “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو تمہا رے دل چھوٹے بچوں کی طرح ہو ور نہ تم آسما نی باد شاہت میں داخل ہی نہ ہوں گے۔ 4 اس چھوٹے بچّے کی طرح جو اپنے آپ کو خاکسار بنائے وہی آسمانی بادشاہت میں اعلی و ارفع مقام پائیگا۔ 5 جو کو ئی ایک چھو ٹے بچّے کو میرے نام پر قبول کریگا تو گویا اس نے مجھے ہی قبول کیا۔ گناہوں کے اسباب کے بارے میں یسوع کا خبردار کرنا 6 ان چھوٹے بچّوں کو جو میری پیروی کر نے والوں میں سے ہے اگر کسی نے گناہوں کی راہ پر ڈال دیا تو اس شخص کے لئے بہت برا ہوگا۔ تو ایسے لوگوں کے لئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ اپنے گلے سے ایک چکّی کے پاٹ کو لٹکائے ہوئے ایک گہرے سمندر میں ڈوب جائے۔ 7 افسوس ہے دنیا میں ان چیزوں پر جو لوگوں کو گناہوں کی راہوں پر لے جاتی ہیں۔ وہ تو وہاں ہمیشہ ہی رہیں گی۔ لیکن افسوس اس پر ہے جو اسکا سبب ہوگا۔ 8 تیرا ہاتھ ہو یا تیرا پیر اگر وہ گناہوں کی طرف لے جائے تو تو اسکو کاٹ کر پھینک دے۔ ہاتھ ہو یا پیر اگر یہ کھوجا تا ہے اور ہمیشگی کی زندگی اس سے ملتی ہے تو وہی تیرے لئے بہتر ہو گا۔ دونوں ہاتھوں اور پیروں والا ہو کر ہمیشگی کی آ گ میں جلنے سے تو وہی بہتر ہوگا۔ 9 تیری آنکھیں اگر تجھے گناہوں کے کاموں پر اکسائے تو تو انکو نکال کر پھینک دے۔ دونوں آنکھوں والا ہو کر جہنم کی آ گ میں جلنے سے بہتر ہے کہ ایک آنکھ کا ہو کر ہمیشگی کی زندگی پائے۔ بھٹکی ہوئی بھیڑ کی تمثیل 10 “خبردار یہ نہ سمجھو کہ چھو ٹے بچوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ انکے لئے آسمانوں میں فرشتوں کو مقرّر کیا گیا ہے۔ وہ فرشتے آسمان میں رہنے والے میرے باپ کے سامنے رہتے ہیں۔ 11 [a] 12 “تم کیا سمجھتے ہو اگر کسی آدمی کی سو بھیڑیں ہواگر ان میں سے ایک بھٹک کر گم ہو جائے تو کیا وہ باقی ننانوے بھیڑوں کو پہاڑ ہی پر چھوڑ کر اس ایک بھٹکی ہوئی بھیڑ کی تلاش میں نہ جائیگا ؟13 اور میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ گم شدہ بھیڑ مل جائے تو وہ ان ننانوے نہ بھٹکنے والی بھیڑوں کے مقابلے میں اس ایک بھیڑ کے ملنے کی وہ خوشی محسوس کریگا۔ 14 اسی طرح ان چھوٹے بچوّں میں کوئی ایک بھی نہ بھٹکے آسمان میں رہنے والا تمہارے باپ کا یہ ارادہ ہے۔ اگر کو ئی تم سے غلطی کرے تو کیا کرنا چاہئے ؟ 15 “اگر تیرا بھا ئی تجھ سے کوئی برائی کرے تو تو اکیلا جاکر اسکو تنہائی میں اس سے سرزد ہو ئی غلطی کو سمجھا۔ اگر وہ تیری بات سنے ،تو اس کو پھر سے اپنا بھا ئی بنانے میں تو نے اسکی مدد کی۔16 اگر وہ تیری بات نہ مانے تو اپنے ساتھ ایک یا دو آدمی کو لیکر دوبارہ اسکے پاس جا ،تاکہ پھر وہ واقعہ پیش آئے اسکے دو یا تین گواہ بنیں گے۔ 17 اگر وہ انکی بات نہ مانے تو کلیسا کو معلوم کراؤ۔ اگر وہ کلیسا کی بات بھی نہ مانے تو اسکو خدا پر ایمان نہ رکھنے والے محصول وصول کرنے والے کی طرح اسکا شمار کرو۔ 18 میں تم سے سچ کہتاہوں کہ جو فیصلہ تم اس زمین پر دیتے ہو تو گویا کہ وہ فیصلہ خدا ہی نے دیا ہے۔ معافی کا وعدہ جو تم اس دنیا میں دیتے ہو گویا وہ معافی خدا کے دینے کے برابر ہے۔ 19 “اس کے علاوہ وہ تم میں سے دو آدمی اس دنیا میں راضی ہوکر اگر کچھ مانگ لے تو آسمانوں میں رہنے والا میرا باپ یقیناً اسکو پورا کریگا۔ 20 یہ حقیقت ہے کہ جب دو آدمی یا تین آدمی مجھ پر یقین رکھتے ہوں اور وہ سب اکٹھا ہو کر میرے پاس آئیں تو میں انکے بیچ میں ہو تا ہوں۔” معافی سے متعلق کہانی 21 پطرس یسوع کے پاس آیا اور “پوچھا اے خدا وند میرا بھا ئی میرے ساتھ کسی نہ کسی قسم کی برائی کرتا ہی رہا تو میں اسے کتنی مرتبہ معاف کروں ؟ کیا میں اسے سات مرتبہ معاف کروں ؟” 22 یسوع نے اس سے کہا، “تمہیں اس کو سات مرتبہ سے زیادہ معاف کرنا چاہئے۔ اگر چہ کہ وہ تجھ سے ستر مرتبہ برائی نہ کرے اسکو معاف کرتا ہی رہ۔” 23 “آسمانی بادشاہت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک بادشاہ نے اپنے خادموں کو دیئے گئے قرض کی رقم وصول کر نے کا فیصلہ کیا۔ 24 بادشاہ نے اپنی رقم کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا۔ جبکہ ایک خادم کو دس ہزار چاندی کے سکّے بادشاہ کو بطور قرض دینا تھا۔ 25 وہ خا دم بادشاہ کو قرض کی رقم دینے کے قابل نہ تھا۔ جس کی وجہ سے باد شا ہ نے حکم دیا کہ خا دم اور اس کے پاس کی ہر چیز کو اور اس کی بیوی کو ان کے بچوں سمیت فروخت کیا جا ئے اور اس سے حا صل ہو نے والی رقم کو قرض میں ادا کیا جا ئے۔ 26 “تب خادم باد شاہ کے قد موں پر گرا اور اس سے عاجزی کر نے لگا۔ ذرا صبر و برداشت سے کام لے میں اپنی طرف سے سا را قرض ادا کروں گا۔ 27 باد شا ہ نے اپنے خادم کے بارے میں افسوس کیا اور کہا، “تمہیں قرض ادا کر نے کی ضرورت نہیں باد شاہ نے خادم کو آزادا نہ جانے دیا۔ 28 “پھر اس کے بعد وہی خادم دوسرے ایک اور خادم کو جو اس سے چاندی کے سو سکے لئے تھے اس کو دیکھا اور اس کی گردن پکڑ لی اور اس سے کہا کہ تو نے مجھ سے جو لیا تھا وہ دیدے۔ 29 وہ خا دم اس کے پیروں پر گر پڑا اور منت و سما جت کر تے ہوئے کہنے لگا کہ ذرا صبر سے کام لے۔ تجھے جو قرض دینا ہے وہ میں پورا ادا کروں گا۔ 30 “لیکن پہلے خادم نے انکار کیا۔ اور اس خادم کے با رے میں جو اس کو قرض دینا ہے عدا لت میں لے گیا اور اس کی شکا یت کی اور اس کو قید میں ڈلوا دیا اور اس خادم کو قرض کی ادائیگی تک جیل میں رہنا پڑا۔ 31 اس واقعہ کو دیکھنے وا لے دوسرے خادموں نے بہت افسوس کر تے ہو ئے پیش آئے ہوئے حادثہ اپنے ما لک کو سنائے۔ 32 “تب مالک نے اس کو اندر بلا یا اور کہا، “تم برے خادم نے مجھ سے بہت زیادہ رقم لی تھی لیکن تم نے مجھ سے قرض کی معا فی کے لئے منت وسماجت کی۔” جس کی وجہ سے میں نے تیرا پورا قرض معا ف کر دیا۔ 33 اور کہا کہ ایسی صورت میں جس طرح میں نے تیرے ساتھ رحم و کرم کا سلوک کیا اسی طرح دوسرے نو کر سے تجھے بھی چاہئے تھا کہ ہمدر دی کا بر تاؤ کرے۔ 34 ما لک نہایت غضبناک ہوا۔اور اس نے سزا کے لئے خادم کو قید میں ڈال دیا۔ اور اس وقت تک خادم کو قید خا نہ میں رہنا پڑا جب تک کہ وہ پورا قرض نہ ادا کر دیا۔ 35 “آسما نوں میں رہنے وا لا میرا با پ تمہا رے ساتھ جس طرح سلوک کرتا ہے۔ اسی طرح اس بادشا ہ نے کیا ہے۔تم کو بھی چا ہئے کہ اپنے بھا ئیوں اور اپنی بہنوں سے حقیقت میں در گذر سے کام لو۔ ورنہ میرا باپ جو آسمانوں میں ہے تم کو کبھی بھی معاف نہ کریگا۔” Footnotes: a. متّی 18:11 آیت ۱۱ چند یونانی نسخوں میں آیت ۱۱ کو شامل کیا گیا ہے جو اس طرح ہے”ابن آدم بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی و حفاظت کرنے کے لئے آیا ہے۔ متّی 19 طلاق سے متعلق یسوع کی تعلیم 19 یسوع تمام واقعات کو سنا نے کے بعد گلیل سے نکل کر یردن ندی کے دوسرے کنا رے پر واقع یہوداہ کے علا قے میں گئے۔ 2 بہت سے لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے۔اور یسوع نے وہاں بیماروں کو شفاء دی۔ 3 چند فریسی یسوع کے پاس آئے اور اس کو غلطی میں پھنسا نے کے لئے اس سے پوچھا، “کیا کو ئی شخص کسی بھی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دینا صیح ہے ؟” 4 یسوع نے کہا ، “کیا تم اس بات کو صحیفوں میں نہیں پڑھتے ہو۔جب خدا نے اس دنیا کو پیدا کیا تو انسانوں میں مرد وعورت کو پیدا کیا۔ [a] 5 اس وجہ سے خدا نے کہا ہے کہ مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر صرف اپنی بیوی کا ہو کر رہے گا۔ اور دونوں ایک ہو کر رہیں گے۔۔ [b] 6 اس لئے یہ دونوں دو نہ رہیں گے بلکہ ایک ہی ہیں اور ان دونوں کو خدا ہی نے ایک بنا یا ہے ا ور کسی کو بھی علیحدٰہ نہ کر نا چا ہئے۔” 7 فریسیوں نے پو چھا، “اگر ایسا ہی ہے تو موسیٰ نے یہ کیوں حکم دیا کہ کوئی مرد چا ہے تو طلاق نامہ لکھ کر اس کو چھو ڑ سکتا ہے ؟” 8 یسوع نے جواب دیا، “تم نے خدا کی تعلیم کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ موسیٰ نے تمہیں بیوی کو طلاق دینے کی اجا زت دی ہے۔ابتداء میں بیوی کو طلاق دینے کی کوئی اجا زت نہیں تھی۔ 9 میں تم سے جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے شا دی رچا نے والا زانی وبد کار ہوگا۔اگر پہلی بیوی کسی دوسرے آدمی سے نا جا ئزو جنسی تعلقات قا ئم کر لی ہو تو تب وہ شخص اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے شادی کر سکتا ہے-” 10 شاگردوں نے یسوع سے کہا، “اگر کوئی شخص صرف اس بات کی بنیاد پر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اس کے لئے دوسری شادی نہ کر نا ہی بہتر ہو گا۔” 11 یسوع نے جواب دیا، “شادی سے متعلق اس حقیقت کو قبول کر نا ہر ایک کے لئے ممکن نہیں۔ اس کو قبول کر نے کے لئے خدا نے جس کو اس کا متحمل بنا یا ہو صرف اسکے لئے ہی یہ بات ممکن ہو گی۔ 12 بعض شخص کے لئے شادی نہ کر نے کی الگ الگ وجوہات ہیں۔ کچھ لوگ پیدائشی خوجے ہو تے ہیں اور بعض وہ ہوتے ہیں کہ جو آسمانی بادشاہت کے لئے شادی سے انکار کر دیتے ہیں جو شادی کر نے کے موقف میں ہو اس کو چاہئے کہ وہ شادی کے لئے ان تعلیمات کو قبول کرے۔” یسوع کی جانب سے بچّوں کا خیر مقدم 13 تب لوگ اپنے چھو ٹے بچوں کو یسوع کے پاس لا ئے کہ ان بچوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور انکے لئے دعا کرے شاگردوں نے دیکھا تو ڈانٹنے لگے کہ وہ چھو ٹے بچوں کو یسوع کے پاس نہ لے جائیں۔ 14 لیکن یسوع نے کہا، “چھو ٹے بچّوں کو میرے پاس آنے دو اور انکو مت روکو کیوں کہ آسمانی بادشاہت ان ہی کی ہے جو ان چھو ٹے بچّوں کی مانند ہیں۔” 15 یسوع اپنے ہاتھ بچوں کے اوپر رکھنے کے بعد اس جگہ سے نکل گئے۔ مالدار نوجوان کا مسئلہ 16 کسی نے یسوع کے پاس آکر پو چھا، “اے میرے استاد میں ہمیشگی کی زندگی پا نے کے لئے کس قسم کی نیکی اور بھلائی کے کام کروں۔ 17 “نیکی کی بابت تو مجھ سے کیوں پو چھتا ہے ؟ خداوند خدا ہی نیک اور مقدس ہے۔ اگر تو ہمیشگی کی زندگی کو پانا چاہتے ہو تو حکموں پر عمل کر۔” 18 اس آدمی نے پو چھا، “کون سے حکموں پر”۔ تب یسوع نے جواب دیا، “قتل و غارت گری نہ کرنا زنا و بدکاری نہ کر ،چوری نہ کر، اور جھو ٹی گواہی نہ دے۔ 19 تو اپنے ماں باپ کی تعظیم کر اور خود سے جیسی محبت کر تا ہے ویسی ہی محبت دوسروں سے بھی کر۔” [c] 20 اس نوجوان نے کہا، “میں ان تمام احکامات کا پابند ہو گیا ہوں۔اسکے علاوہ مجھے اور کیا کرنا چاہئے ؟۔” 21 تب یسوع نے جواب دیا، “اگر تجھے کامل و مکمل ہو نا ہے تو تو اپنی تمام جائیداد کو بیچ دے اور اس سے ملنے والی رقم کو غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر۔ تب تیرے لئے جنت میں نیکیوں کا ایک خزانہ ملے گا۔ پھر اسکے بعد میرے پیچھے ہو لے۔” 22 اسکے بعد وہ نوجوان بہت ہی افسوس کرتے ہوئے لوٹ گیا۔ کیوں کہ وہ بہت ہی مالدار تھا۔ 23 تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مالدار لوگوں کے لئے آسمانی بادشاہت میں داخل ہو نا بہت مشکل ہے۔ 24 ہاں اور میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی مالدار کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہو نے کے بہ نسبت آسان ہے۔” 25 شاگردوں نے جب یہ سنا تو بہت ہی تعجب کے ساتھ پو چھا، “اگر یہی بات ہے تو پھر وہ کون ہونگے کہ جو نجات پا ئیں گے۔” 26 یسوع اپنے شاگردوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے، “یہ انسانوں کے لئے نا ممکن کام ہے لیکن خدا کے لئے تو آسان و ممکن ہے”۔ 27 پطرس نے یسوع سے پو چھا، “ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم کو جو کچھ میسّر ہے وہ سب کچھ چھوڑ کر ہم تیرے پیچھے ہو لئے۔ تو ہمیں کیا ملیگا-” 28 یسوع اپنے شاگردوں سے اس طرح کہنے لگے، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب نئی دنیا پیدا ہو گی تو ابن آدم اپنے جاہ و جلال والے تخت پر متمکن ہو گا۔ اور تم سب جو میری پیروی کر نے والے ہو تختوں پر بیٹھے ہو ئے اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے۔ 29 میری پیر وی کر نے کے لئے اپنے گھروں کو بھا ئی بہنوں کو اپنے ماں باپ کو یا اپنی جا ئیداد کو قربا ن کر نے وا لے اپنی چھوڑی ہو ئی قربان کی ہو ئی چیزوں سے زیادہ اجر پائیں گے۔اور ہمیشہ کی* زندگی کے وارث بنیں گے۔ 30 لیکن مستقبل میں بہت اونچے مرتبہ والے کم مرتبہ وا لے میں شمار ہو نگے اور بہت سا رے لوگ جو نیچے مرتبہ وا لے ہیں مستقبل میں اونچے مرتبہ والے ہو جا ئیں گے۔ Footnotes: a. متّی 19:4 اِقتِباس پیدائش ۲:۵، ۱:۲۷ b. متّی 19:5 اِقتِباس پیدائش ۲:۲۴ c. متّی 19:19 اِقتِباس احبار۱۸:۱۹، خروج ۶-۱۲:۰۲۰، استثناء ۲۰-۱۶:۵ متّی 20 انگور کے باغ میں کام کر نے وا لے مزدوروں سے متعلق یسوع کی کہی ہو ئی مثال 20 “جنت کی بادشاہت انگور کے باغ کے مالک کی ما نند ہے۔ ایک دن صبح باغ کا مالک اپنے باغ میں کام پر لگا نے کے لئے مزدوروں کی تلا ش میں نکلا۔ 2 ہر مزدور کو ایک دن میں ایک چاندی کا سکہ بطور مزدوری طے کر کے ان کو اپنے باغ میں کام کر نے کے لئے بھیج دیا۔ 3 تقریباً نو بجے باغ کا ما لک ایک با ر پھر با زار گیا۔اس نے چند لوگوں کو وہا ں بیکار کھڑے ہو ئے دیکھا۔ 4 وہ ان سے کہنے لگا کہ اگر تم بھی میرے باغ میں کام کر نا چا ہو تو میں تمہیں تمہا رے کام کی منا سب مزدوری دوں گا۔ 5 وہ مزدور کام کر نے کے لئے اس کے باغ میں چلے گئے۔” باغ کا مالک ایک مرتبہ پھر اسی طرح بارہ بجے اور تین بجے بازار کو گیا اور دونوں مرتبہ اس نے اپنے باغ میں کام کر نے کے لئے کچھ اور بھی مزدوروں کا انتظام کر لیا۔ 6 تقریباً پانچ بجے وہ مالک ایک بار پھر بازار کی طرف گیا۔ اس نے وہاں چند لوگوں کو کھڑے ہوئے دیکھ کر کہا کہ تم لوگ یونہی پورا دن کیوں بیکا ر کھڑے ہو ؟۔ 7 “انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں کسی نے کام نہیں دیا۔تب اس مالک نے کہا، “اگر ایسی ہی بات ہے تو تم جاؤ اور میرے باغ میں کام کرو۔ 8 “دن کے آخر میں باغ کے مالک نے تمام مزدوروں کے نگراں کار سے کہا۔مزدوروں کو بلا ؤ اور ان تمام کو مزدوری دیدو۔آخر میں آنے والے لوگوں کو پہلے مزدوری اور پہلے آنے والے مزدوروں کو آخر میں مزدوری دو۔ 9 “پانچ بجے کے وقت میں جن مزدوروں کو کام پر لیا گیا تھا۔اپنی مزدوری حا صل کر نے کے لئے آگئے۔ اور ہر مزدور کو ایک ایک چاندی کا سکہ دیا گیا۔ 10 پھر وہ مزدور جو پہلے کرا ئے پر لئے گئے تھے اپنی مزدوری لینے کے لئے آئے۔ اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ دوسرے مزدوروں سے انہیں زیادہ ہی ملے گا۔ لیکن ان کو بھی مزدوری میں صرف ایک چاندی کا سکہ ہی ملا۔ 11 جب انہوں نے اپنا چاندی کا سکہ لے لیا تو یہ مزدور باغ کے ما لک کے بارے میں شکایت کرنے لگے۔ 12 انہوں نے کہا کہ تا خیر سے کام پر آئے ہو ئے مزدوروں نے صرف ایک گھنٹہ کام کیا ہے۔ لیکن اس نے ان کو بھی ہما رے برا بر ہی مزدوری دی ہے۔ جبکہ ہم نے تو دن بھر دھوپ میں مشقت کے ساتھ کام کیا ہے۔ 13 “باغ کے ما لک نے ان مزدوروں میں ایک سے کہا کہ اے دوست میں تیرے حق میں نا انصافی نہیں کیا ہو ں۔(لیکن ) تو نے تو صرف ایک چاندی کے سکہ کی خا طر سے کام کی ذمہ داری کو قبول کیا۔ 14 اس وجہ سے تو اپنی مزدوری لے اور چلتا بن۔ اور میں تجھے جتنی مزدوری دیا ہوں اتنی ہی مزدوری بعد میں آنے وا لے کو بھی دینا چاہتا ہوں۔ 15 میری ذاتی رقم کو میں اپنی مرضی کے مطا بق دے سکتا ہو ں اور کہا، “میں نے جو کچھ اچھا ئی کی ہے کیا تو اس کے بارے میں حسد کر تا ہے۔ 16 “ٹھیک اسی طرح آخرین،اولین، بنیں گے اور اولین آخریں بنیں گے۔” اپنی موت کے بارے میں یسوع کا تیسرا اعلان 17 یسوع یروشلم جا رہے تھے۔ اور انکے بارہ شاگرد بھی ان کے ساتھ تھے۔ راستے میں یسوع نے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ بلا کر کہا۔ 18 “ہم یروشلم جا رہے ہیں۔ ابن آدم کو سردار کا ہنوں اور معلمین شریعت کے حوا لے کر دیا جا ئیگا۔کا ہنوں اور معلمین شریعت کا کہنا ہے کہ ابن آدم کو مر نا چاہئے۔ 19 انہوں نے ابن آدم کو غیر یہودیوں کے حوا لے کر دیا۔وہ ابن آدم سے مذاق و ٹھٹھا کریں گے اور کوڑے مار کر صلیب پر چڑھائیں گے۔ لیکن وہ مر نے کے بعد تیسرے ہی دن پھردوبارہ جی اٹھے گا۔” ماں کی خصوصی گذارش 20 اس وقت زبدی کی بیوی یسوع کے پاس آئی۔اس کا نرینہ بچہ اس کے ساتھ تھا۔وہ یسوع کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ادب سے جھک گئی اور اپنی گذارش کو بر لا نے کی فرما ئش کی۔ 21 یسوع نے اس سے پوچھا، “تیری مراد کیا ہے ؟”اس نے کہا، “مجھ سے وعدہ کرو کہ تیری بادشاہی میں میرے بیٹوں میں سے ایک کو تیری داہنی جا نب اور دوسرے کو بائیں جانب بٹھا دے۔” 22 یسوع نے بچوں سے کہا، “تم کیا پوچھ رہے ہو۔اس کو تم سمجھ نہیں رہے ہو۔ میں جس طرح کی مصیبت میں مبتلا ہو نے جا رہا ہوں کیا تم اسے قبول کر سکتے ہو ؟اس پر انہو ں نے جواب دیا، “ہاں ہما رے لئے ممکن ہوگا۔” 23 یسوع نے ان سے کہا ، “میں جن مصائب و تکا لیف کو جھیل رہا ہوں ان کو تم ضرور جھیلو گے۔لیکن جو کوئی میرے داہنے اور میرے بائیں بیٹھے گا اس کا انتخاب میں نہیں کرونگا۔ اور کہا کہ میرا باپ ان جگہوں کو جن کے لئے منتخب کیا ہے انہی کے لئے وہ مواقع فراہم کریگا۔” 24 دوسرے دن شاگردو ں نے جب اسکی بات کو سنا تو وہ ان دو بھا ئیوں پر غصّہ ہو ئے۔ 25 یسوع نے تما م شاگردوں کو ایک ساتھ بلا کر ان سے کہا، “جیسا کہ تم جانتے ہو غیر یہودی حاکم لوگوں پر اختیار چلانا چاہتے ہیں جسکا تمہیں علم ہے اور انکے حاکم اعلٰی لوگوں پر بھی اپنا اختیار چلانا چاہتے ہیں۔26 “لیکن تم ایسا نہ کرنا تم میں جو بڑا بننے کی آرزو کرتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ خادم کی طرح خدمت کرے۔* 27 تم میں جو درجہ اول کی آرزو کرے تو اس کو چاہئے وہ ایک ادنی غلام کی طرح نوکری کرے ۔ 28 اور ایسا ہی ابن آدم کے لئے ہے۔ ابن آدم دوسروں سے خدمت لئے بغیر ہی دوسروں کی خدمت کر نے کے لئے اور بہت سے لوگوں کی حفاظت کر نے کے لئے ابن آدم اپنی جان ہی کو رہن رکھنے کے لئے آیا ہے۔ دو اندھوں کو یسوع کی جانب سے شفاء 29 یسوع اور اسکے شاگرد جب یریحو سے لوٹ رہے تھے تب بہت سے لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے۔30 راستے کے کنارے پر دو اندھے بیٹھے ہو ئے تھے۔ جب انکو یہ معلوم ہوا کہ یسوع اس راہ سے گزرنے والا ہے تو انہوں نے چیخ و پکار کی اور کہنے لگے، “اے ہمارے خداوند داؤد کے بیٹے ہماری مدد کر۔” 31 لوگ ان اندھوں کو ڈانٹنے لگے اور کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ لیکن اس کے باوجود وہ اندھے یہ کہتے ہو ئے زور زور سے پکار نے لگے، “کہ اے ہمارے خدا وند داؤد کے بیٹے! برائے مہر بانی ہماری مدد کر۔” 32 یسوع کھڑے ہو گئے اور ان اندھوں سے پو چھنے لگے، “تم مجھ سے کس قسم کے کام کی امید کر تے ہو۔” 33 تب اندھوں نے کہا، “اے ہمارے خداوند! ہمیں بینائی دے۔” 34 یسوع ان کے بارے میں افسوس کر نے لگے اور انکی آنکھوں کو چھوا۔ فوراً ان میں بینائی آگئی۔ پھر اسکے بعد وہ یسوع کے پیچھے ہو لئے۔ متّی 21 یسوع کا یروشلم میں شاہا نہ داخلہ 21 یسوع اور اسکے شاگرد یروشلم کی طرف سے سفر کرتے ہو ئے زیتون کے پہاڑ کے نزدیک بیت فگے کو پہنچے۔ 2 وہاں یسوع نے اپنے دونوں شا گردوں کو بلا کر کہا، “تم اپنے سامنے نظر آنے والے شہر کو جاؤ۔ جب تم اس میں داخل ہو گے تو وہاں پر بندھی ہو ئی ایک گدھی پاؤگے۔ اور اس گدھی کے ساتھ اسکا بچہ بھی ہو گا۔ انہیں کھو ل کر میرے پاس لے آؤ۔ 3 اگر تم سے کو ئی یہ پو چھے کہ ان گدھوں کو کھو ل کر کیوں لے جا رہے ہو تو کہنا کہ مالک کو ان گدھوں کی ضرورت ہے اور وہ ان گدھوں کو بہت جلد ہی واپس لوٹا دیگا۔ یہ کہہ کر انہوں نے ا ن لوگوں کو بھیج دیا۔” 4 یہ اسلئے ہوا کہ جو پیشین گوئی نبی کے ذریعے دی گئی تھی پوری ہو جائے: 5 “صیّون شہر سے کہہ دو۔ تیرا بادشاہ اب تیرے پاس آرہا ہے وہ بہت ہی عاجزی سے گدھے پر سوار ہو کر آرہا ہے۔ ہاں وہ جوان گدھے پر بیٹھ کر آرہا ہے۔ جو پیدائش سے ہی کام کر نے والا جانور ہے۔” [a] 6 یسوع کے کہنے کے مطابق وہ شاگرد گئے گدھی اور اسکے بچے کو یسوع کے پاس لا ئے۔ 7 وہ اپنے جبّوں کو انکے اوپر ڈالدیا۔ 8 تب یسوع اس پر سوار ہو کر یروشلم چلے گئے۔ بہت سارے لوگ اپنے جبّوں کو یسوع کی خاطر راستے پر بچھا نے لگے۔ اور بعص لوگ درختوں سے شگوفے اور نئی کونپلیں توڑ لائے اور راہ پر پھیلا دیئے۔ 9 بعض لوگ یسوع کے آگے اور بعض لوگ یسوع کے پیچھے چلتے آرہے تھے۔ اور ان لوگوں نے اس طرح نعرے لگانے لگے: “ابن داؤد کی تعریف و بڑائی کرو ,خداوند کے نام پر آنے والے کو خدا کی نظر و کرم ہو۔ [b] آسمانی خدا کی حمد و ثنا کرو!” 10 جب یسوع یروشلم میں داخل ہو ئے تو سارے شہر کے لوگ پریشان ہو گئے ا ن میں ہلچل مچ گئی اور دریافت کر نے لگے کہ “یہ کون آدمی ہے؟” 11 یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے والے ہجوم نے جواب دیا، “یہی یسوع ہے، یہ گلیل علاقے کے ناصرت نام کے گاؤں کا نبی ہے۔” یسوع ہیکل کو گئے 12 یسوع ہیکل کے اندر چلے گئے۔ وہاں پر خرید و فروخت کر نے والے تمام لوگوں کو اس نے وہاں سے بھگا دیا۔ سِکّوں کا صرّافہ کر نے والوں کو اور کبوتر فروخت کر نے والوں کے میز گرا دیئے۔ 13 یسوع نے وہاں پر موجود لوگوں سے کہا، “میرا گھر عبادت گاہ کہلائے گا۔” [c] اسی طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے، “لیکن تم ہیکل کو چوروں کے غار کی طرح بنا دیتے ہو۔” [d] 14 چند اندھے اور لنگڑے لوگ ہیکل میں یسوع کے پاس آئے۔ یسوع نے انکو شفاء دی۔ 15 اعلی کاہنوں اور معلّمین شریعت نے یہ سب دیکھا۔ ان لوگوں نے یسوع کے معجزے اور ہیکل میں چھوٹے چھو ٹے بچّوں کو یسوع کی تعریف میں گن گاتے ہو ئے دیکھا۔ چھوٹے بچے پکار رہے تھے “داؤد کے بیٹے کی تعریف ہو” ان سب کی وجہ سے کاہن اور معلّمین شریعت غصّہ سے بھڑک اٹھے۔ 16 اعلی کاہنوں اور معلّمین شریعت نے یسوع سے پو چھا، “یہ چھو ٹے بچے جو باتیں کہہ رہے ہیں کیا انکو تو نے سنا ؟” یسوع نے جواب دیا، “ہاں تو نے چھو ٹے اور معصوم بچوں کو تعریف کرنا سکھا یا ہے۔” [e] جو بات صحیفوں میں مذکور ہے۔ اور پوچھا کہ کیا تم صحیفہ پڑھتے نہیں ہو ؟” 17 تب اس نے اس جگہ کو چھو ڑ دیا اور بیت عنیاہ کو چلے گئے اور یسوع نے اس رات وہیں پر قیام کیا۔ یسوع نے ایمان کی قوّت کو بتایا 18 دوسرے دن صبح یسوع شہر کو واپس جا رہے تھے کہ انکو بھوک لگی۔ 19 انہوں نے راستے کے کنارے ایک انجیر کا درخت دیکھا اور اسکے میوہ کو کھانے کے لئے درخت کے قریب گئے۔ لیکن درخت میں صرف پتّے ہی تھے۔ اس وجہ سے یسوع نے اس درخت سے کہا، “اس کے بعد تجھ میں کبھی پھل پیدا نہ ہوں۔” اسکے فوراً بعد انجیر کا درخت خشک ہو گیا۔ 20 شاگردوں نے اس منظر کو دیکھ کر بہت تعجب کیا اور پو چھنے لگے یہ انجیر کا درخت اتنی جلدی کیسے سوکھ گیا؟” 21 یسوع نے جوابدیا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم شک و شبہ کے بغیر ایمان لاؤ جس طرح میں نے اس درخت کے ساتھ کیا ہے ویسا ہی تمہارے لئے بھی کرنا ممکن ہو سکے گا اس سے اور زیادہ بھی کر ناممکن ہو گا۔ اگر تم اس پہاڑ سے کہو کہ تو جاکر سمندر میں گر جا اگر پختہ ایمان سے کہا جائے تو ایسا بھی ضرور ہو گا۔ 22 جو کچھ بھی تم دعا میں مانگو گے وہ تمہیں ملیگا اگر تمہارا ایمان پختہ ہے۔” یہودی قائدین کا یسوع کے اختیار کے بارے میں شبہ کر نا 23 یسوع ہیکل میں چلے گئے۔ یسوع جب وہاں تعلیم دے رہے تھے تو سردار کاہنوں اور لوگوں کے بڑے بڑے رہنما یسوع کے پاس آئے اور وہ یسوع سے پو چھنے لگے “تو ان تمام باتوں کو کس کے اختیارات سے کر رہا ہے ؟ اور یہ اختیار تجھے کس نے دیا ہے ؟ ہمیں بتا” 24 یسوع نے کہا، “میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔اگر تم نے اسکا جواب دیا تو میں تم کو بتا دونگا کہ میں کس کے اختیارات سے انکو کر رہا ہوں۔ 25 اگر ہم کہتے ہیں کہ کیا یوحنا کو بپتسمہ دینے کا اختیار خدا سے یا کسی انسان سے ملا ہے؟ مجھے بتاؤ۔” کاہن اور یہودی قائدین یسوع کے سوال سے متعلق آپس میں باتیں کر نے لگے کہ اگر یہ کہیں کہ یوحنا کو بپتسمہ دینے کا اختیار خدا سے ملا ہے تو وہ پو چھے گا کہ ایسے میں تم اس پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟26 “اگر یہ کہیں کہ وہ انسان سے ملا ہے تو لوگ ہم پر غصّہ کریں گے۔ اسلئے کہ ان سبھوں نے یوحنا کو ایک نبی تسلیم کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہم ان سے ڈریں۔ اسطرح وہ آپس میں باتیں کر نے لگے۔” 27 تب انہوں نے جواب دیا، “یو حنا کو کس نے اختیار دیئے ہمیں نہیں معلوم” پھر یسوع نے کہا ، “میں ان تمام باتوں کو کس کے اختیارات سے کرتا ہوں وہ تمہیں نہیں بتاؤنگا! دولڑکوں سے متعلق یسوع کی کہی ہوئی تمثیل 28 “اس کے بارے میں تم کیا سمجھتے ہو۔ایک آدمی کے دو بیٹے تھے۔ وہ آدمی پہلے بیٹے کے پاس گیا اور کہا کہ بیٹا آج تو انگور کے باغ میں جا کر کام کر۔ 29 “اس پر بیٹے نے جواب دیا، میں نہیں جا ؤں گا۔لیکن پھر بعد میں ارادہ بدل کر کام پر چلا گیا۔ 30 “باپ نے پھر دوسرے بیٹے کے پاس جاکر کہا کہ بیٹا آج تو انگور کے باغ میں جاکر کام کر۔ تب بیٹے نے کہا، اے میرے ابّا ٹھیک ہے میں جاکر کام کرتا ہوں۔ لیکن وہ بیٹا کام پر گیا ہی نہیں۔ 31 “ان دونوں میں سے کون باپ کا فرماں بردار ہوا” ؟ تب یہودی قائدین نے جواب دیا، “پہلا بیٹا” تب یسوع نے ان سے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ محصول وصول کر نے والوں اور طوائفوں کو تم برے لوگ تصور کرتے ہو۔ لیکن وہ تم سے پہلے خدا کی بادشاہت میں داخل ہونگے۔ 32 تم کو زندگی کے صحیح طریقے اور ڈھنگ سکھا نے کے لئے یو حنا آئے تھے۔ لیکن تم تو یوحنا پر ایمان نہ لائے۔ جیسا کہ تم محصول وصول کرنے والوں اور فا حشاؤں کو ایمان لاتے ہو ئے تم دیکھ چکے ہو- لیکن اسکے با وجود بھی تم اپنے اندر تبدیلی لانا اور ایمان لانا نہیں چاہتے۔ اور ان پر ایمان لانے سے انکار کر تے ہو- خدا کے خاص بیٹے کی آمد 33 “ا س کہا نی کو سنو! ایک آدمی کا اپنا ذاتی باغ تھا۔اور وہ اپنے باغ میں انگور کی فصل لگا ئی۔ باغ کے اطراف دیوار تعمیر کی انگور کی مئے تیار کروا نے کے لئے گڑھے کھد وا یا اور نگرا نی کے لئے مچان بنو ایا۔وہ اس باغ کو چند کسانوں کو ٹھیکہ پر دیا اور دوسرے ملک کو چلا گیا۔ 34 جب انگور کی فصل توڑ نے کا وقت آیا تو اس نے نوکروں کو اپنا حصہ لا نے کیلئے کسا نوں کے پاس بھیجا۔ 35 تب ایسا ہوا کہ ان باغبانوں نے ان نوکروں کو پکڑ لیا اور ایک کی تو پٹائی کی اور دوسرے کو مار دیا اور تیسرے نوکر کو پتھر پھینک کر مار دیا *۔ 36 اس لئے اس نے پہلے جتنے نوکروں کو بھیجا تھا ان سے بڑھ کر نوکروں کو ان باغبانوں کے پاس بھیجا۔ لیکن باغبانوں نے جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا اسی طرح دوسری مرتبہ ان نوکروں کو بھی ایسا ہی کیا۔ 37 تب اس نے سمجھا کہ یقیناً باغبان میرے بیٹے کی عزت کریں گے اسلئے اس نے اپنے بیٹے ہی کو بھیجا۔ 38 لیکن جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا تو آپس میں باتیں کرنے لگے یہ تو باغ کے مالک کا بیٹا ہے۔ یہ باغ تو اسی کا ہوگا۔ اسلئے اگر ہم اسکو مار دیں تو یہ باغ ہمارا ہی ہوگا۔ 39 اسطرح باغبانوں نے بیٹے کو پکڑ کر باغ سے باہر کھینچ کر لایا اور اسکو قتل کر دیا۔ 40 “ان حالات میں جب باغ کا مالک خود آئیگا تو وہ ان کسانوں کا کیا کریگا ؟” 41 یہودی کاہنوں اور قائدین نے کہا، “یقیناً وہ ان ظالموں کو ماریگا اور اپنا باغ دوسرے کسانوں کو ٹھیکہ پر دیگا۔ تا کہ موسم پر اسکا حصّہ دیں سکیں۔” 42 یسوع نے ان سے کہا یقیناً تم نے اس بات کو صحیفو ں میں پڑھا ہے: گھر کی تعمیر کرنے والے نے جس پتّھر کو ردّ کیا وہی پتھّر میرے کو نے کا پتھّر بن گیا۔ یہ کام خدا وند نے کیا۔ اور یہ ہمارے لئے حیرت کا باعث ہے۔ [f] 43 “اسی وجہ سے میں تم سے جو کہتا ہوں وہ یہ کہ خدا کی بادشاہت تم سے چھین لی جائیگی اس خدا کی بادشاہت کو خدا کی مرضی کے مطابق کام کر نے والوں کو دی جائیگی۔ 44 جو شخص اس پتھّر پر گریگا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا۔ اور اگر پتھّر اس شخص پر گریگا تو یہ اس شخص کو کچل ڈالیگا۔” 45 سردار کاہنوں اور فریسیوں نے یسوع کی کہی ہوئی کہانیوں کو سنا تو ان لوگوں نے جانا کہ یسوع ان لوگوں کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ 46 انہوں نے یسوع کو قید کرنے کی تدبیر تلاش کی لیکن وہ لوگوں سے گھبراکر گرفتار نہ کر سکے۔ کیوں کہ لوگ یسوع پر ایک نبی ہو نے کے ناطے ایمان لا چکے تھے۔ Footnotes: a. متّی 21:5 زکریاہ ۹:۹ b. متّی 21:9 زبور ۱۱۸:۶ c. متّی 21:13 اِقتِباس یسعیاہ ۷:۵۶ d. متّی 21:13 اِقتِباس یرمیاہ ۱۱:۷ e. متّی 21:16 اِقتِباس زبور ۳:۸ f. متّی 21:42 زبور ۱۱۸:۲۲-۲۳ متّی 22 کھانے پر مدعو کئے گئے لوگوں سے متعلق کہانی 22 یسوع نے دیگر چند چیزوں کو لوگوں سے کہنے کے لئے تمثیلوں کا استعمال کیا۔ 2 “آسمان کی بادشاہی ایک ایسے بادشاہ کی مانند ہے جو اپنے بیٹے کی شادی کی ضیافت کی تیاری کرے۔ 3 اس بادشاہ نے اپنے نوکروں کو ان لوگوں کو بلا نے کے لئے بھیجا جنہیں شادی کی ضیافت کے لئے دعوت دیئے گئے تھے۔ لیکن وہ لوگ ضیا فت میں شریک ہو نا نہیں چاہا۔ 4 “تب بادشاہ نے مزید چند نوکروں کو بلا کر کہا کہ ان لوگوں کو تو میں نے پہلے ہی بلایا تھا۔ ان سے کہو کھا نے کی ہر چیز تیار ہے۔ میں نے فربہ بیل اور گائے ذبح کر وائی ہے۔ اور سب کچھ تیار ہے اور ان سے یہ کہلا بھیجا کہ شادی کی دعوت کے لئے وہ آئیں۔ 5 “نوکر گئے اور لوگوں کو آنے کے لئے کہا۔ لیکن ان لوگوں نے نوکروں کی بات نہیں سنی۔ ایک تو اپنے کھیت میں کام کر نے کے لئے چلا گیا۔ اور دوسرا اپنی تجارت کے لئے چلا گیا۔ 6 اور کچھ دوسرے لوگوں نے ان نوکروں کو پکڑا مارا پیٹا،اور ہلاک کردیا۔ 7 تب بادشاہ بہت غصّہ ہوا اور اپنی فوج کو بھیجا ان قاتلوں کو ختم کروایا اور ان کے شہر کو جلایا۔ 8 “پھر بادشاہ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ شادی کی ضیافت تیار ہے۔ اور میں نے جن لوگوں کو ضیافت میں دعوت دیا ہے وہ دعوت کے اتنے زیادہ اہل نہیں ہیں۔ 9 اور اس نے کہا کہ گلی کے کو نے کونے میں جا کر تم نظر آنے والے تمام لوگوں کو ضیافت کے لئے دعوت دو۔ 10 اسی طرح نوکر گلی گلی گھو م کر نظر آنے والے تمام لوگوں کو اچھے برے کی تخصیص کئے بغیر تمام کو جمع کرکے اسی جگہ پر بلا لا ئے جہاں ضیافت تیار تھی۔ اور وہ جگہ لوگوں سے پُر ہو گئی۔ 11 “تب بادشاہ تمام لوگوں کو دیکھنے کے لئے اندر آئے جو کھا رہے تھے۔ بادشاہ نے ایک ایسے آدمی کو بھی دیکھا کہ جو شادی کے لئے نا مناسب لبا س پہنے ہوئے تھا* 12 اور پو چھا، اے دوست تو اندر کیسے آیا؟ تم نے تو شادی کے لئے موزو و مناسب پو شاک نہیں پہن رکھّی ہے۔ لیکن اس نے کو ئی جواب نہ دیا۔13 تب بادشاہ نے چند نوکروں سے کہا اسکے ہاتھ پیر باندھکر اسکو اندھیرے میں اس جگہ پر جہاں وہ تکالیف میں مبتلا ہوگا اپنے دانتوں کو پیسے گا پھینک دو۔ 14 “ہاں ضیافت میں تو بہت سے لوگوں کو دعوت دی گئی ہے لیکن منتخب کردہ کچھ ہی افراد ہیں۔” چند یہودی قائدین کا یسوع کو فریب دینے کی کو شش کرنا 15 تب فریسی وہاں سے نکل گئے جہاں یسوع تعلیم دے رہے تھے۔ وہ منصوبے بنا رہے تھے کہ یسوع کو غلط کہتے ہو ئے پکڑ لیں۔ 16 فریسیوں نے یسوع کو فریب دینے کے لئے کچھ لوگوں کو بھیجا۔ انہوں نے اپنے کچھ پیرو کاروں کو روانہ کیا اور بعض لوگوں کو جو ہیرودی نامی گروہ سے تھے۔ ان لوگوں سے کہا، “اے آقا! ہم جانتے ہیں کہ تو فرمانبردار شخص ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی راہ کے بارے میں تو نے حق کی تعلیم دی ہے۔ تو خوفزدہ نہیں ہے کہ دیگر لوگ تیرے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ سب انسان تیرے لئے مساوی ہیں۔ 17 پس تو اپنا خیال ظا ہر کر۔کہ قیصر کو محصول دینا صحیح ہے یا غلط۔”18 یسوع ان لوگوں کی مکّاری وعیاری کو جان گئے۔ اس وجہ سے اس نے ان سے کہا کہ تم ریا کار ہو مجھے غلطی میں پھنسا نے کی تم کیوں کو شش کرتے ہو ؟ 19 محصول میں دیا جانے والا ایک سکّہ مجھے دکھلاؤ۔ “تب لوگوں نے ایک چاندی کا سکہ انہیں دکھایا۔ 20 تب اس نے ان سے پو چھا ، “سکّے پر کس کی تصویر ہے اور کس کا نام ہے ؟” 21 پھر لوگوں نے جواب دیا، “وہ توقیصر کی تصویر اور اسکا نام ہے۔” تب یسوع نے ان سے کہا، “قیصر کی چیز قیصر کو دے دو اور جو خدا کا ہے خدا کو د ے دو۔” 22 یسوع کی کہی ہو ئی باتوں کو سننے والے وہ لوگ حیرت زدہ ہو کر وہاں سے چلے گئے۔ چند صدوقیوں کا یسوع کو فریب دینے کی کو شش کر نا 23 اسی دن چند صدوقی یسوع کے پاس آئے (صدوقیوں کا ایمان ہے کہ کو ئی بھی شخص مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں ہو تا۔) صدوقیوں نے یسوع سے سوال کیا۔ 24 ان لوگوں نے کہا، “ا ے آقا! موسٰی نے کہا اگر کوئی شادی شدہ شخص مرجائے اور اسکی کوئی اولاد نہ ہو تب اسکا بھائی اس عورت سے شادی کرے اور پھر مرے ہو ئے بھا ئی کے لئے بچّے کرے۔ 25 ہمارے یہاں سات بھا ئی تھے پہلا شادی ہونے کے بعد مرگیا اس کے بچے نہیں تھے۔ اس لئے اسکی بیوی کی اس کے بھائی کے ساتھ شادی ہو ئی۔ 26 تب دوسرا بھا ئی بھی مر گیا۔ اسی طرح تیسرا بھا ئی بھی اسی طرح باقی تمام سات بھائی بھی مر گئے۔ 27 ان تمام کے بعد بالآخر وہ عورت بھی مر گئی۔ 28 لیکن ان سات بھائیوں نے بھی اس سے شادی کی۔ تب انہوں نے پو چھا کہ جب وہ مرکر دوبارہ زندہ ہونگے تو وہ عورت کس کی بیوی کہلا ئے گی۔ 29 یسوع نے ان سے کہا، “تم نے جو غلط سمجھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ مقدس صحیفے کیا کہتے ہیں اور خدا کی قدرت و طاقت کے بارے میں تم نہیں جانتے۔ 30 عورتیں اور مرد جب دوبارہ زندگی پائیں گے تو وہ ( دوبارہ ) شادی نہ کریں گے وہ سب آسمان میں فرشتوں کی طرح ہونگے۔ 31 مرے ہو ئے لوگوں کی دوبارہ زندگی سے متعلق خدا نے کہا۔ 32 کیا تم نے صحیفوں میں نہیں پڑھا میں ابراہیم کا خدا ہوں اسحٰق کا خدا اور یعقوب کا بھی خدا ہوں کیا تم نے اس بات کو نہ پڑھا ہے؟ اور کہا کہ اگر یہی بات ہے تو خدا زندوں کا خدا ہے نہ کہ مردوں کا۔” 33 جب لوگوں نے یہ سنا تو اسکی تعلیم پر حیران و ششدر ہو گئے۔ انتہائی اہم ترین حکم کونسا ہے؟ 34 جب فریسیوں نے سنا کہ یسوع نے اپنے جواب سے صدوقیوں کو خاموش کر دیا ہے تو وہ سب صدوقی ایک ساتھ جمع ہو ئے 35 شریعت موسٰی میں بہت مہارت رکھنے والا ایک فریسی یسوع کو آزمانے کے لئے پوچھا۔ 36 فریسی نے کہا، “اے استاد توریت میں سب سے بڑا حکم کونسا ہے ؟” 37 یسوع نے کہا، “تجھ کو اپنے خداوند خدا سے محبت کر نا چاہئے۔ تو اپنے دل کی گہرائی سے اور تو اپنے دل و جان سے اور تو اپنے دماغ سے اسکو چاہنا۔ [a] 38 یہی پہلا اور اہم ترین حکم ہے۔ 39 دوسرا حکم بھی پہلے کے حکم کی طرح ہی اہم ہے۔ تو دوسروں سے اسی طرح محبت کر جیسا خود سے محبت کر تےہو۔ [b] 40 اور جواب دیاکہ تمام شریعتیں اور نبیوں کی تمام کتابیں انہیں دو احکامات کے معنی اپنے اندر لئے ہو ئے ہیں۔” یسوع کا فریسیوں سے کیا ہوا سوال 41 فریسی جب ایک ساتھ جمع ہو کر آئے تو یسوع نے ان سے سوال کیا۔ 42 “مسیح کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ اور وہ کس کا بیٹا ہے ؟” فریسیوں نے جواب دیا، “مسیح داؤد کا بیٹا ہے۔” 43 تب یسوع نے فریسیوں سے پو چھا، “اگر ایسا ہی ہے تو داؤد نے اسکو خدا وند کہہ کر کیوں پکا را ؟ داؤد نے مقدس روح کی قوت سے بات کی تھی۔ داؤد نے یہ کہا ہے۔ 44 خداوند خدا نے میرے خداوند کو کہا میری داہنی جانب بیٹھ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں تلے ذلیل و رسوا کرونگا۔ [c] 45 داؤد نے مسیح کو خداوند کہہ کر پکا را ہے۔ ایسی صورت میں کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ داؤد کا بیٹا ہے۔” 46 یسوع کے سوال کا جواب دینا فریسیوں میں سے کسی کے لئے ممکن نہ ہو سکا۔ اسی لئے اس دن سے یسوع کو فریب دینے کے لئے سوال کرنے کی کو ئی ہمت نہ کر سکا۔ Footnotes: a. متّی 22:37 اِقتِباس استثناء ۵:۶ b. متّی 22:39 تو ... محبّت کر تا ہے احبار ۱۸:۱۹ c. متّی 22:44 زبور ۱:۱۱۰ متّی 23 یسوع کا مذہبی قائدین پر تنقید کرنا 23 تب یسوع نے وہاں موجود لوگوں سے اور پنے شاگردوں سے کہا۔ 2 “معلمین شریعت اور فریسیوں کو حق ہے کہ تجھ سے کہے کہ شریعت موسیٰ کیا ہے ؟ 3 اس وجہ سے تم کو ان کا اطا عت گذار ہو نا چا ہئے۔ اور ان کی کہی ہو ئی باتوں پر عمل کر نا چا ہئے۔ لیکن ان لوگوں کی زندگی پیروی کی جا نے کے لئے قابل عمل مثا ل نہیں ہے۔وہ تم سے جو باتیں کہتے ہیں اس پر وہ خود عمل نہیں کر تے۔ 4 وہ تو دوسروں کو مشکل ترین احکا مات دے کر ان پر عمل کر نے کے لئے ان لوگوں پر زبر دستی کر تے ہیں۔ اور خود ان احکا مات میں سے کسی ایک پر بھی عمل کر نے کی کوشش نہیں کر تے۔ 5 “وہ صرف ایک مقصد سے اچھے کام اس لئے کر تے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کو دیکھیں وہ خاص قسم کے چمڑے کی تھیلیاں جس میں صحیفے رکھے ہوتے ہیں جن کو وہ باندھ لیتے ہیں۔ اور وہ ان تھیلیو ں کے حجم کو بڑھا تے ہو ئے جا تے ہیں۔لوگو ں کو دکھا نے کے لئے وہ اپنے خاص قسم کی پو شاکوں کو اور زیا دہ لمبے سلوا تے ہیں۔ 6 وہ فریسی اور معلمین شریعت کھا نے کی دعوتوں میں یہودی عبادت گاہوں میں بہت خاص اور مخصوص جگہوں پر بیٹھنے کی تمنا کر تے ہیں۔ 7 با زاروں کی جگہ وہ لوگوں سے عزت و بڑا ئی پا نے کی آرزو کر تے ہیں۔ اور لوگوں سے معلم کہلوا نے کے متمنی ہو تے ہیں۔ 8 “لیکن تم معلم کہلوا نے کو پسند نہ کرو۔ اس لئے کہ تم سب آپس میں بھا ئی اور بہنیں ہو اور تم سب کا ایک ہی معلم ہے۔ 9 اس دنیا میں تم کسی کو باپ کہہ کر مت پکا رو۔ اس لئے کہ تم سب کا ایک ہی باپ ہے اور وہ آسمان میں ہے۔ 10 اور تم ہا دی بھی نہ کہلا ؤ اس لئے کہ تمہا را ہا دی صرف مسیح ہی ہے۔11 ایک خا دم کی طرح تمہا ری خدمت کر نے وا لا شخص ہی تمہا رے درمیان بڑا آدمی ہے۔ 12 خود کو دوسروں سے اعلیٰ وارفع تصور کر نے وا لا جھکا یا جا ئے گا۔ اور جو اپنے آپ کو کمتر اور حقیر جانے گا وہ با عزت (اونچاو ترقی یافتہ ) بنا دیا جا ئے گا۔ 13 “اے معلمین شریعت اور اے فریسیو! یہ تمہا رے لئے برا ہے۔ تم منا فق ہو۔ تم لو گوں کے لئے آسمان کی بادشاہت میں دا خل ہو نے کے راستے کو مسدود کر تے ہو۔ تم خود داخل نہیں ہو ئے اور تم نے ان لوگوں کو بھی روک دیا جو داخل ہو نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 14 (اے معلمین شریعت اور فریسیو میں تمہارا کیا حشر بتاؤنگا۔تم تو ریاکار ہو۔ “اس لئے تم بیواؤں کے گھروں کو چھین لیتے ہو اور تم لمبی دعا کرتے ہو تا کہ لوگ تمہیں دیکھیں – اس لئے تم کو سخت سزا ہوگی ۔”) [a] 15 “اے معلمین شریعت اے فریسیو! میں تمہا را انجام کیا بتا ؤں تم تو ریا کار ہو تمہا ری (بتا ئی ہوئی ) راہوں کی پیر وی کرنے والوں کی ایک ایک کی تلا ش میں تم سمندروں کے پار مختلف شہروں کے دورے کر تے ہو۔ اور جب اس کو دیکھتے ہو تو تم اس کو اپنے سے بد تر بنا دیتے ہو اور تم نہا یت برے ہو جیسے تم جہنم سے وابستہ ہو۔ 16 اے معلمین شریعت اور اے فریسیو!تمہا رے لئے برا ہو گا۔ تم تو لوگوں کو راستہ بتا تے ہو لیکن تم خود اندھے ہو۔ تم کہتے ہو کہ اگر کوئی شخص ہیکل کے نام کے استعمال پر وعدہ لیتا ہے تو اس کی کوئی قدر ومنزلت نہیں۔ اور اگر کوئی ہیکل میں پا ئے جا نے وا لے سونے پر وعدہ لے تو اس کو پورا کرنا چاہئے۔17 تم اندھے بیوقوف ہو! کونسی چیز عظیم ہے، سونا یا ہیکل؟ وہ سونا صرف ہیکل کی وجہ سے مقدس ہوا اس لئے ہیکل ہی عظیم ہے- 18 اگر کو ئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو کہتے ہو کہ اس کی کو ئی اہمیت ہی نہیں ہے اور اگر کوئی قربان گاہ پر پا ئی جانے وا لی نذر کی چیز پر قسم کھا ئے تو کہتے ہو اس کو پوری کرنی چاہئے۔ 19 تم اندھے ہو تم کچھ نہیں سمجھ تے۔کونسی چیز اہم ہے ؟ نذر یا قربان گاہ؟ نذر میں قربا ن گاہ کی وجہ سے پا کی پیدا ہو تی ہے۔ اس وجہ سے قربان گا ہ ہی عظیم ہے۔ 20 اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھا تا ہے تو گویا قربا ن گاہ اور اس پر جو کچھ نذر کے لئے رکھا ہے اس کی قسم لینے کے برا بر ہے۔ 21 اگر کو ئی ہیکل کی قسم کھا تا ہے تو حقیقت میں وہ ہیکل کی اور اس میں رہنے وا لے کی قسم کھا تا ہے۔ 22 جو آسمان کی قسم کھا تا ہے تو یہ خدا کے عرش اور اس عرش پر بیٹھنے وا لے کی قسم کھا نے کے برا بر ہوگا۔ 23 “اے معلمین شریعت اے فریسیو!یہ تمہارے لئے برا ہے! تم ریا کار ہو۔تم اپنی ہر چیز کا یہاں تک کہ پو دینہ، سونف اور زیرے کے پودوں میں بھی قریب قریب دسواں حصہ خدا کو دیتے ہو۔لیکن تم نے شریعت کی تعلیم میں اہم ترین تعلیمات کو یعنی عدل و انصاف ،رحم وکرم اور اصلیت کو ترک کر دیا ہے۔تمہیں خود ان احکا مات کے تا بع ہو نا ہو گا۔اب جن کاموں کو کر رہے ہو انہیں پہلے ہی کرنا چاہئے تھا۔ 24 تم لوگوں کی ر ہنما ئی کر تے ہو۔لیکن تم ہی اندھے ہو۔تم تو پینے کے مشروبات میں سے چھوٹے مچھر کو نکا ل کر بعد میں خود اونٹ کو نگل جا نے وا لو ں کی طرح ہو۔ 25 “اے معلمین شریعت ،اے فریسیو! یہ تمہا رے لئے براہے۔تم ریا کا ر ہو۔ تم اپنے بر تن و کٹوروں کے با ہری حصے کو دھو کر صاف ستھرا تو کر تے ہو لیکن انکا اندرونی حصہ لا لچ سے اور تم کو مطمئن کر نے کی چیزوں سے بھرا ہے۔ 26 اے فریسیو تم اندھے ہو پہلے کٹو رے کے اندرونی حصہ کو اچھی طرح صاف کر لو۔ تب کہیں جا کر کٹو رے کے با ہری حصہ حقیقت میں صاف ستھرا ہوگا۔ 27 “اے معلمین شریعت اے فریسیو!یہ تمہا رے لئے بہت برا ہے! تم ریا کا ر ہو۔تم سفیدی پھرائی ہو ئی قبروں کی ما نند ہو۔ ان قبروں کا بیرونی حصہ تو بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔لیکن اندرونی حصہ مردوں کی ہڈیوں اور ہر قسم کی غلاظتوں سے بھرا ہو تا ہے۔ 28 تم اسی قسم کے ہو۔ تم کو دیکھنے والے لوگ تمہیں اچھا اور نیک تصور کرتے ہیں۔ لیکن تمہارا باطن ریا کاری اور بد اعمالی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ 29 “اے معلمیں شریعت ،اے فریسیو! یہ تمہارے لئے بہت برا ہے! کہ تم ریا کار ہو۔ تم نبیوں کے مقبرے تعمیر کرتے ہو۔ اور تم قبروں کے لوگوں کے لئے تکریم ظاہر کرتے ہو۔ جنہوں نے نفیس زند گی گزاری ہے۔ 30 اور تم کہتے ہو کہ اگر ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں ہو تے تو نبیوں کے قتل و خون میں انکے مدد گار نہ ہو تے۔ 31 اس لئے تم قبول کرتے ہو کہ ان نبیوں کے قاتلوں کی اولاد تم ہی ہو۔ 32 تمہارے باپ دادا ؤں سے شروع کیا ہوا وہ گناہ کا کام تم تکمیل کو پہنچاؤگے۔ 33 “تم سانپوں کی طرح ہو۔ اور تم زہریلے سانپوں کے نسل سے ہو! لیکن تم خدا کے غضب سے نہ بچ سکو گے۔ تم سبھوں پر ملزم ہو نے کی مہر لگے گی اور سب جہنم میں گھسیٹے جاؤگے۔ 34 میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں تمہارے پاس نبیوں عالموں اور معلمین کو بھیجو نگا اور تم ان میں سے بعض کو قتل کرو گے۔ اور بعض کو صلیب پر چڑھا ؤ گے۔ اور چند دوسروں کو تمہارے یہودی عبادت گاہوں میں کوڑے ماروگے۔ اور انکو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کو بھگاؤ گے۔ 35 اس وجہ سے سطح زمین پر تمام راستبازوں کے کئے گئے قتل کے الزام میں تم قصور وار ٹھہرو گے۔ ہابل جو ایمان دار تھا اس سے لیکر برکیاہ کے بیٹے زکریاہ تک کے قتل کا الزام تمہارے سر آئیگا اسے ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا گیا تھا۔ 36 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس دور میں تم سبھوں پر جو کہ اب رہ رہے ہو یہ سب الزامات عائد ہو تے ہیں۔ یسوع کا یروشلم کے لوگوں پر تاکید کرنا 37 “اے یروشلم اے یروشلم! تو نے نبیوں کو قتل کیا ہے۔ خدا نے جن لوگوں کو تیرے پاس بھیجا انکو پتھّروں سے مار کر تو نے قتل کیا ہے۔ کئی مرتبہ میں تیرے لوگوں کی مد کرنا چا ہا۔ جس طرح مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں تلے چھپا لیتی ہے۔ اسی طرح مجھے بھی تیرے لوگوں کو یکجا کر نے کی آرزو تھی۔ لیکن تو نے یہ نہیں چاہا۔ 38 دیکھو! تمہارا گھر پوری طرح خالی ہو جائیگا۔ 39 میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم اب سے دوبارہ مجھے نہ دیکھ سکو گے جب تک تم یہ نہ کہو مبارک ہے وہ شخص جو خدا وند کے نام پر آتے ہیں۔” [b] Footnotes: a. متّی 23:14 آیت ۱۴ اس طرح چند یونانی صحیفوں میں ۱۴ویں آیت شامل کی گئی ہے – دیکھو مرقس ۴۰:۱۲،لوقا۴۷:۲۰ b. متّی 23:39 اِقتِباس زبور ۲۶:۱۱۸ متّی 24 مستقبل میں ہیکل کا انہدام 24 یسوع جب ہیکل میں جا رہے تھے تو اسکے شاگرد ہیکل کی عمارتوں کو دکھا نے کے لئے اس کے پاس آئے۔ 2 تب یسوع نے ان سے کہا، “کیا ان تمام عمارتوں کو تم دیکھ رہے ہو؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں یہ سب برباد ہو جائیں گے۔ یہاں کا ہر پتھرزمین پر پھینک دیا جائیگا۔ اور ایک پتھر بھی باقی نہ رہیگا۔ 3 جب یسوع زیتون کے پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے تو شاگرد اکیلے اس کے پاس آکر پوچھنے لگے کہ“یہ سب کچھ کب پیش آئیں گے! آپ دوبارہ کب آئیں گے اور دنیا کے ختم ہو نے کا وقت کب آئیگا ان کی نشانیاں کیا ہوں گی۔” 4 یسوع نے انہیں یہ جواب دیا، “چوکنّا رہو! اپنے کو دھوکہ دینے کے لئے کسی کو موقع نہ دو۔ 5 کیوں کہ بہت لوگ آئیں گے اور میرے نام پر اپنے آپ کو مسیح بتاکر بہت سے لوگوں کو دھو کہ میں ڈال دیں گے۔6 تم لڑائیوں کی آواز اور بہت دور واقع ہونے والی جنگوں کی خبریں سنو گے۔ لیکن گھبرانا نہیں۔ دنیا کے خاتمہ سے پہلے ان باتوں کا واقع ہو نا ضروری ہے۔ 7 ایک قوم دوسری قوم کے خلاف جنگ کریگی۔ ایک سلطنت دوسری سلطنت کے خلاف لڑیگی اور قحط سالیاں ہو نگی۔ خطوں میں زلزلے آئیں گے۔ 8 یہ تمام واقعات بچے کی ولادت کی تکلیف کے مماثل ہو نگے۔ 9 “تب تمہیں لوگ ستائیں گے، اور سزائے موت دینے کے لئے حاکموں کے حوالے کریں گے۔ تمام لوگ تمہارے مخالف ہونگے۔ محض تمہارا مجھ پر ایمان لانے کی وجہ سے یہ تمام باتیں تمہارے ساتھ پیش آئیں گی۔ 10 اسوقت کئی ایمان دار اپنے ایمان کو کھو دینگے۔ اور ایک دوسرے کے مخا لف ہونگے اور پلٹ کر ایک دوسرے کی مخا لفت کریں گے اور نفرت کریں گے۔ 11 کئی جھو ٹے نبی آکر بہت سے لوگوں کو فریب دینگے۔ 12 دنیا میں ظلم و زیادتی بڑھ جائیگی۔ بہت سارے ایمان والوں میں محبت و مروّت سرد پڑ جائیگی۔ 13 لیکن آخری وقت تک جو راسخ الیقین ہو گا وہ نجات پائیگا۔ 14 خدا کی بادشاہت کی خوشخبری اس دنیا میں ہر قوم تک پہنچا ئی جائیگی۔ تا کہ سب قومیں اس کو سنیں تب خاتمہ کی آمد ہو گی۔ 15 “خوفناک قسم کی تباہی کے لئے وجہ بننے والی ایک چیز جس کے بارے میں دانیال نبی نے کہا ہے۔ یہ ہیبت ناک چیز ہیکل کی پاک مقدس جگہ میں کھڑے ہو کر دیکھو گے۔” اس کو پڑھنے والا اسکے معنٰی سمجھ سکتا ہے۔ 16 “اسوقت یہوداہ میں رہنے والے لوگ پہاڑوں میں بھا گ جائیں گے۔ 17 جو گھر کی اوپری منزل میں رہتے ہیں نیچے اتر کر گھر میں سے اپنی چیزیں لئے بغیر ہی بھا گ جائیں گے۔ 18 کھیت میں کام کرنے والا بھی اپنا جبہ لینے کے لئے گھر کو واپس نہ لوٹے گا۔ 19 افسوس! اسوقت کی حاملہ عورتوں کے لئے اور شیرخوار بچوں کی ماؤں کے لئے سوگ اور ماتم کا وقت ہو گا۔ 20 تمہارے لئے راہ فرار اختیار کر نے کا یہ وقت موسم سرما میں یا سبت کے دن میں نہ آنے کی دعا کرو۔ 21 کیوں کے اس وقت ایک ہیبت ناک ماتم مچ جائیگا۔ دنیا کے وجود میں آنے کے بعد سے ایسی مصیبت و پریشانی نہ پیش آئی اور نہ آئندہ کبھی ایسی مصیبت اور پریشانی آئیگی۔ 22 خدا نے اس خوف ناک وقت کو دور کرکے اس میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ورنہ کسی کازندہ رہنا ممکن نہ ہو سکے گا۔ اور وہ اپنے چنے ہو ئے لوگوں کی معرفت سے اسوقت میں کمی کریگا۔ 23 ایسے وقت میں بعض تم سے کہیں گے کہ دیکھو مسیح وہاں ہے اور کو ئی دوسرا کہیگا کہ وہ یہاں ہے! لیکن انکی باتوں پر یقین نہ کرو۔ 24 جھو ٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئیں گے تاکہ خدا کے منتخب کردہ لوگوں کو معجزے اور نشانیاں دکھا کر فریب دینگے۔ 25 اسکے پیش آ نے سے پہلے ہی میں تم کو انتباہ دے رہا ہوں۔ 26 “بعص لوگ کہیں گے کہ مسیح بیابان میں ہے تو تم بیابان میں نہ جانا۔ اگر کوئی یہ کہیں کہ مسیح کمرہ میں ہے تو تم یقین نہ کرنا۔ 27 ابن آدم ایسے آئیگا کہ اسکے آنے کو تمام لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ ابن آدم کا ظہور ایسا ہوگا جیسا کہ آسمان میں بجلی چمکی ہے اور وہ آسمان کے ایک کو نے سے دوسرے کو نے تک دکھا ئی دیتی ہے۔ 28 تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ جہاں گدھ جمع ہو تی ہیں وہاں مردار چیز ہو تی ہے۔ ٹھیک اسی طرح میرا آنا بھی صاف اور واضح ہو گا۔ 29 “ان دنوں کی مصیبتوں کے فوراً بعد یہ واقعہ پیش آئیگا: سورج تا ریک ہو جائیگا اور چاند کی روشنی ماند پڑ جائیگی۔ اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے۔ نیلگوں آسمان کی تمام قوتیں لرزجائیں گی۔ [a] 30 “تب ابن آدم کی آمد کی علامت ظا ہر ہو گی۔دنیا کے لوگ گر یہ وزاری کریں گے۔آسمان میں بادلوں پر آتے ہو ئے تمام لوگ ابن آدم کو دیکھیں گے۔ اور وہ اپنی قوت و جلا ل اور بر کت کے ساتھ آ ئے گا۔31 بگل کی اونچی آواز کے اعلا ن کے ذریعہ ابن آدم اپنے فرشتوں کو زمین کے چا روں طرف بھیجے گا۔ وہ جن کو منتخب کیا ہے فرشتے انکوزمین کے چا روں طرف سے جمع کریں گے۔ 32 انجیر کا درخت ہمیں ایک سبق سکھا تا ہے۔ جب انجیر کے درخت کی شا خیں ہری ہو کر اس میں نرم کو نپلیں نکلنی شروع ہو تی ہیں تو تم سمجھ لیتے ہو کہ گرمی کا موسم آنے وا لا ہے۔ 33 اسی طرح جب سے تم ان حا لا ت کو پیش آتے ہو ئے دیکھو گے تو سمجھو کہ وہ وقت با لکل قریب ہے۔ 34 میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ آج کے دور کے لوگوں کی زندگی ہی میں یہ واقعات پیش آئیں گے۔ 35 پو ری دنیا زمین وآسمان تباہ ہو جا ئیں گے۔ لیکن میں نے جن باتوں کو کہا ہے وہ نہیں مٹیں گی۔ وہ (نازک) وقت صرف خدا ہی کو معلوم ہے 36 “وہ دن یا وہ وقت کب آ ئے گا کو ئی نہیں جانتا۔ بیٹے کو اور آسما نی فرشتوں کو وہ دن یا وہ وقت کب آئے گا معلوم نہیں۔صرف باپ کو معلوم ہے۔ 37 نوح کے زما نے میں جیسے حا لا ت پیش آئے تھے ویسے ہی حا لا ت ابن آدم کے آنے وا لے زمانے میں بھی پیش آئیں گے۔ 38 ان دنوں سیلاب سے پہلے لوگ کھا تے بھی تھے پیتے بھی تھے۔لوگ شادی بیاہ کر تے تھے۔ اور اپنے بچوں کی شادیاں بھی کیا کر تے تھے۔ نوح کی کشتی میں سوار ہو کر جانے سے پہلے تک لوگ ایسا ہی کیا کر تے تھے۔ 39 ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ کیا پیش آنے وا لا ہے۔ پھر بعد میں پانی کا طوفان آیا اور ان تمام لوگوں کو تباہ و برباد کردیا۔ ابن آدم کے آنے کے وقت بھی ایسا ہی ہوگا۔40 اگر کھیت میں دو آدمی کام کر رہے ہوں گے تو ایک کو لے لیا جائیگا اور دوسرے کو چھو ڑ دیا جائیگا۔ 41 دو عورتیں اگر چکی میں اناج پیس رہی ہو نگی تو ان میں سے ایک کو لے لیا جائیگا۔ اور دوسری کو چھو ڑ دیا جائیگا۔ 42 اس وجہ سے ہمیشہ تیار رہو۔ تمہارے خداوند کے آنے کا دن تمہیں معلوم نہ ہوگا۔ 43 اس بات کو یاد کرو۔ اگر یہ بات گھر کے مالک کو معلوم ہو کہ چو ر اس وقت آئیگا تو وہ جاگتا رہیگا اور چور کو گھر میں نقب لگا نے نہ دیگا۔ 44 اسلئے تم بھی تیار رہو۔ اور تم سوچ بھی نہ سکو گے کہ ابن آدم آجائیگا۔ اچھے اور برے خادم 45 “عقلمند اور قابل بھروسہ نوکر کون ہوسکتا ہے ؟ وہی نوکر جسے مالک دوسرے نوکروں کو وقت پر کھانا دینے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔ 46 اس نوکر کو بڑی ہی خوشی ہو گی جبکہ وہ مالک کے دیئے گئے کام کو کرتا رہے اور پھر اسوقت مالک بھی آجائے۔ 47 میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ وہ مالک اپنی ساری جائیداد پر اس نوکر کو بحیثیت نگراں کار مقرّر کرتا ہے۔ 48 اگر وہ نوکر بے وفا ہو اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اسکا مالک جلدی واپس لوٹنے والا نہیں ہے تو اسکے لئے کیا بات پیش آئیگی ؟ 49 وہ نوکر دوسرے نوکروں کو مارنا شروع کریگا۔ اور شرابیوں کی صحبت میں پیتا رہیگا۔ 50 اور وہ تیار بھی نہ رہیگا۔ کہ غیر متوقع طور پر اسکا مالک آجائیگا۔ 51 اور وہ اسکو سزا دیکر وہ جگہ جہاں ریا کار ہونگے اسکو ڈھکیل دیگا۔ اور اس جگہ پر لوگ تکلیف میں مبتلاء ہونگے اور اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔ Footnotes: a. متّی 24:29 یسعیاہ ۱۰:۱۳،۳۴:۴ متّی 25 د س کنواری لڑکیوں سے متعلق تمثیل 25 اس دن آسمان کی بادشاہت کی مثال ایسی ہوگی کہ دس کنواریاں اپنے چراغ لئے ہوئے دولہے سے ملاقات کے لئے گئیں۔ 2 ان میں سے پانچ احمق تھیں۔ اور دیگر پانچ عقلمند تھیں۔ 3 وہ جو کم عقل لڑ کیاں تھیں اپنے ساتھ مشعلوں کے ضرورت کے مطابق تیل نہ لائیں۔ 4 اور جو عقلمند لڑکیاں تھیں وہ اپنی مشعلوں کے لئے حسب ضرورت تیل ساتھ لے لیں۔ 5 دولہے کی تشریف آوری میں تا خیر ہو ئی۔ وہ سب تھک کر اونگھتے ہوئے سو گئیں۔ 6 “کسی نے اعلان کیا کہ آدھی رات گزرنے پر دولہا آرہا ہے! آجاؤ اور اس سے ملاقات کرو۔ 7 “تب تمام لڑ کیاں ہوشیاری سے اپنی تمام مشعلیں تیار کر لیں۔ 8 کم عقلمند لڑ کیاں عقلمند لڑکیوں سے کہنے لگیں کہ تمہارے تیل میں سے تھوڑا سا ہمیں بھی دے دو اس لئے کہ ہماری مشعلوں میں تیل ختم ہو گیا ہے۔ 9 عقلمند لڑکیوں نے جواب دیا کہ نہیں ہمارے پاس جو تیل ہے وہ ہمارے اور تمہارے لئے کافی نہ ہوگا۔ اور کہا کہ دکان کو جاکر تھوڑا تیل اپنے لئے خرید لو۔ 10 “تب پانچ کم عقلمند لڑکیاں تیل خرید نے کے لئے چلی گئیں۔ جب وہ جا رہی تھیں کہ دولہا آ گیا۔ وہ لڑکیاں جو نکلنے کے لئے تیار تھیں دولہے کے ساتھ دعوت میں چلی گئیں۔ پھر بعد دروازہ بند کر دیا گیا۔ 11 “کم عقلمند لڑکیاں آئیں اور کہنے لگیں کہ جناب جناب اندر جانے کے لئے ہمارے واسطے دروازہ کھولدو۔ 12 لیکن دولہے نے جواب دیا، “میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ تم کون ہو یہ میں نہیں جانتا۔ 13 “اس وجہ سے تم ہمیشہ تیار رہو۔ اسلئے کہ ابن آدم کے آنے کا دن یا وقت تو تم نہیں جانتے۔ تین نوکروں سے متعلق تمثیل 14 “آسمانی بادشاہت ایک ایسے آدمی سے مشابہ ہے کہ جو اپنے گھر کو چھو ڑ کر دوسرے مقام پر کسی سے ملاقات کرنے کے لئے سفر کرتا ہو وہ آدمی سفر پر نکلنے سے پہلے اپنے نوکر سے بات کر کے اپنی جائیداد کی نگرانی کرنے کے لئے کہا ہو۔ 15 وہ ان نوکروں کی استطاعت کے مطابق انکو کتنی ذمہ داری دی جائے اسکا اس نے فیصلہ کر لیا۔ اس نے ایک نوکر کو پانچ توڑے [a] اور دوسرے کو دو توڑے دیا۔ تیسرے نوکر کو ایک توڑا دیا۔ پھر وہ دوسری جگہ چلا گیا۔ 16 جس نوکر نے پانچ توڑے لیا تھا اس نے فوراً اس رقم کو تجارت میں لگایا۔ اور اس سے مزید پانچ توڑے نفع کمایا۔ 17 اور جس نوکر نے دو توڑے پایاتھا اسی طرح اس نے بھی اس رقم کو کار وبار میں لگایا۔ اور دو توڑے کا منافع کمایا۔ 18 لیکن جس نے ایک توڑا پایا تھا وہ چلا گیا اور زمین میں ایک گڑھا کھودا اور اپنے آقا کی رقم کو چھپا کر رکھ دیا۔ 19 “ایک عرصہ دراز کے بعد مالک گھر آیا اور اپنی دی ہو ئی رقم کے بارے میں اپنے نوکروں سے حساب پو چھا۔ 20 وہ نوکر جس نے پانچ توڑے پائے تھے اس نے مزید پانچ توڑے اپنے مالک کے سامنے لائے اور کہنے لگا کہ میرے مالک تم نے مجھ پر اعتماد کر کے پانچ توڑے دیئے تھے تو میں نے اس کو کاروبار میں شامل کیا اور دیکھو پانچ تورے میں نے کمائے ہیں۔ 21 “مالک نے کہا کہ تو ایک اچھا اور قابل بھروسہ نوکر ہے۔ اس چھو ٹی سی رقم کو اچھے انداز سے استعمال میں لا یا ہے۔ اس وجہ سے میں تجھے اس سے بھی ایک بڑا کام دونگا۔ اور تو بھی میری خوشی میں شریک ہو جا۔ 22 “پھر دو توڑے والا نوکر اپنے مالک کے پاس آکر کہنے لگا کہ میرے مالک! تو نے مجھے صرف دو توڑے دیئے تھے میں نے اس رقم کو استعمال کیا اور اس سے مزید دوتوڑے کمایا ہوں۔ 23 “مالک نے جواب دیا کہ تو بھی ایک قابل اعتماد اچھا نوکر ہے۔ تو نے اس چھو ٹی سی رقم کو ایک اچھے انداز میں خرچ کیا۔ اس کی وجہ سے میں تجھے اس سے بھی ایک برا کام دونگا۔ اس لئے تو میری خوشحالی میں شامل ہو جا۔ 24 “تب ایک توڑا پا نے والا نوکر اپنے مالک کے پاس آکر کہتا ہے کہ اے میرے مالک! تو ایک سخت آدمی ہے۔ تو ایسی جگہ سے پا تا ہے جہاں تو بویا ہی نہیں ہے۔ اور جہاں تخم ریزی نہیں کر تا ہے وہاں سے فصل کو کاٹتا ہے۔ 25 اس وجہ سے میں نے گھبراکر تیری رقم کو زمین میں چھپا دیا ہے۔ اور کہا کہ تو نے مجھے جو رقم دے رکھی تھی وہ یہاں ہے اسکو لے لے۔ 26 “اس پر مالک نے کہا کہ تو ایک سست و لا پرواہ اور برا نوکر ہے اور کیاتجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ میں تخم ریزی نہ کرنے کی جگہ سے فصل پاتا ہوں اور جہاں بیج نہیں بوتا ہوں وہاں سے فصل کاٹتا ہوں۔ 27 اس لئے تجھے چاہئے تھا کہ تو میری رقم کو سود پر دیتا۔ تب اصل رقم کے ساتھ میں سود بھی پا لیتا۔ 28 “تب مالک نے اپنے دوسرے نوکروں سے کہا کہ اس سے وہ ایک توڑا لے لو اور اس کو دیدو جس نے پانچ توڑے پا ئے ہیں۔ 29 اپنے پاس کی رقم جو کام میں لا تا ہے ہر ایک کو بڑھا کر دیا جائیگا اور جس کسی نے اسکا استعمال نہ کیا تو اس آدمی کے پاس جو بھی رقم ہو گی اسے چھین لی جائیگی۔ 30 پھر اس نوکر کے بارے میں یہ حکم دیا کہ بیکار کے نوکر کو باہر اندھیرے میں دھکیل دو جہاں لوگ تکلیف کا ماتم کرتے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے ہونگے۔ ابن آدم سے سب کے لئے دیا جانے والا فیصلہ 31 “ابن آدم دوبارہ آئیگا۔ وہ عظیم جلال کے ساتھ آئیگا۔ انکے تمام فرشتے انکے ساتھ آئینگے۔ وہ بادشاہ ہے اور عظیم تخت پر جلوہ فگن ہوگا۔ 32 تمام لوگ زمین پر ابن آدم کے سامنے جمع ہونگے۔ ایک چرواہا جس طرح اپنی بھیڑوں کو بکریوں سے الگ کرتا ہے ٹھیک اسی طرح وہ انکو الگ کریگا۔ 33 ابن آدم بھیڑوں کو اپنی داہنی جانب اور بکریوں کو اپنی بائیں جانب کھڑا کرے گا 34 “تب بادشاہ اپنی داہنی جانب وا لے لوگوں سے کہے گا کہ آؤ میرے با پ نے تمہا رے لئے بڑی بر کتیں دی ہیں۔ آؤ اور خدا نے تم سے جس سلطنت کو دینے کا وعدہ کیا ہے اس کو پا لو۔ وہ سلطنت قیام دنیا کے وجود سے ہی تمہا رے لئے تیار کی گئی ہے۔ 35 تم اس سلطنت کو حا صل کرو۔ کیوں کہ میں بھو کا تھا۔ اور تم لوگوں نے کھا نا دیا۔میں پیاسا تھا اور تم نے مجھے کچھ پینے کے لئے دیا۔ میں جب اکیلا گھر سے دور تھا تو لوگوں نے مجھے اپنے گھر مہمان بنا یا۔ 36 اور میں بغیر کپڑوں سے تھا تو تم نے مجھے پہننے کے لئے کچھ دیا میں بیمار تھا اور تم نے میری بیمار پرسی کی۔ میں قید میں تھا اور تم مجھے دیکھنے کے لئے آئے۔ 37 “تب نیک اور سچے لوگ کہیں گے اے ہمارے خداوند تجھے بھوکا دیکھ کر ہم نے کب تجھے کھا نا دیا ؟ اور تجھے پیا سا دیکھ کر ہم نے تجھے کب پانی دیا۔ 38 اور تجھے تنہا وطن سے دور دیکھ کر ہم نے کب تجھے مہمان بنایا اور کب تجھے بغیر کپڑوں کے دیکھ کر پہننے کے لئے کچھ دیئے۔ 39 ہم نے کب تجھے بیمار دیکھا یا قید میں اور تیری خاطر مدد کی۔ 40 “تب بادشاہ جواب دیگا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم یہاں میرے بندوں کے ساتھ جو کچھ کر تے ہو گویا کہ وہ میرے ساتھ کر نے کے برابر ہے۔ 41 پھر بادشاہ نے اپنی داہنی جانب کے لوگوں سے کہا کہ میرے پاس سے دور ہو جاؤ۔ خدا نے تمہیں سزا دینے کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا ہے۔ آ گ میں جاؤ جو ہمیشہ جلا ئیگی۔ وہ آ گ شیطان اور اسکے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی تھی۔ 42 کیوں کہ میں بھوکا تھا اورتم لوگوں نے مجھے کھا نا نہ دیا۔ اور تم چلے گئے۔ اور میں پیاسا تھا تم لوگوں نے مجھے پینے کے لئے کچھ نہ دیا۔ 43 میں تنہا تھا، اور گھر سے دور تھا اور تم لوگوں نے مجھے اپنے گھر میں مہمان نہ ٹھہرایا۔ اور میں کپڑوں کے بغیر تھا لیکن تم لوگوں نے مجھے پہنے کے لئے کچھ نہ دیا۔ میں بیمار تھا اور قیدخانے میں تھا اور تم نے میری طرف نظر نہ اٹھا ئی۔ 44 “تب ان لوگوں نے جواب دیا اے خدا وند ہم نے کب دیکھا کہ تو بھو کا اور پیاسا تھا ؟ اور تو کب اکیلا اور گھر سے دور تھا ؟ یا کب ہم نے تجھے بغیر کپڑوں کے یا بیما ر یا قید میں دیکھا ؟ تجھے ان تما م با توں کو دیکھ نے کے با وجود بھی ہم تیری مدد کئے بغیر کب گئے۔ ؟ 45 “تب بادشا ہ انہیں جواب دے گا میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ تم نے یہاں میرے بے شمار بندوں کے لئے کچھ کر نے سے انکا ر کیا تو میرے لئے بھی انکار کیا۔ 46 “پھر برے لوگ وہاں سے نکل جا ئیں گے۔ اور انہیں روزانہ سزا ملتی رہے گی لیکن نیک و راستباز لوگ ہمیشگی کی زندگی پا ئیں گے۔” Footnotes: a. متّی 25:15 توڑے ایک توڑے کی قیمت تیس ہزار دینار ہوتی ہے۔ ایک دینار یعنی ایک آدمی کی ایک دن کی آمدنی۔ متّی 26 یہودی قائدین کا یسوع کو قتل کر نے کی تدبیر کر نا 26 یسوع نے جب ان تمام باتوں کو سنا دیا اور اپنے شاگردوں سے کہا۔ 2 “تمہیں معلوم ہے کہ دو دن بعد فسح کی تقریب ہے اور یہ بھی کہا کہ اس دن ابن آدم کو صلیب پر چڑھا نے کے لئے دشمنوں کے حوا لے کر دیا جا ئے گا۔” 3 اور ادھر سردار کا ہنوں اور بزرگ یہودی قائدین نے اعلیٰ کا ہن کی رہا ئش گاہ پر اجلا س رکھا تھا اور اس اعلیٰ کا ہن کا نام کا ئفا تھا۔ 4 اس اجلاس میں انہوں نے بحث و مبا حشہ کیا یسوع کو کس طرح حکمت سے قید کریں اور قتل کریں۔ 5 لیکن اہل اجلا س کے ارکان نے کہا، “ہم فسح کی تقریب کے موقع پر یسوع کو گرفتار نہیں کرسکتے۔ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ غصہ میں آئیں اور فساد کا سبب بنیں۔ ایک عورت کی طرف سے کیا جانے وا لا خصوصی کام 6 جب یسوع بیت عنیاہ میں شمعون کوڑھی کے گھر میں تھے۔ 7 تب ایک عورت نے سنگ مر مر کی عطردان میں قیمتی عطر لا ئی اور جب یسوع کھا نا کھا نے کے لئے بیٹھا تو اسکے سر پر اس عطر کو انڈیل دیا۔ 8 اس منظر کو دیکھنے والے شاگرد اس عورت پر غصّہ ہوئے اور کہا، “اس نے اس قیمتی عطر کو کیوں ضا ئع کیا ؟ 9 اور انہوں نے کہا کہ اس کو اچھی قیمت میں بیچ کر اس رقم کو غریب لوگوں میں تقسیم کی جا سکتی تھی۔” 10 لیکن یسوع جو اس واقعہ کی وجہ کو سمجھتا تھا اپنے شا گردوں سے کہا ، “اس عورت کو کیوں تکلیف دے رہے ہو۔ جس نے تو میرے حق میں بہت ہی اچھا کام کیا ہے۔ 11 غریب لوگ تو تمہارے ساتھ ہمیشہ رہتے ہی ہیں۔ لیکن میں تو تمہارے ساتھ ہمیشہ نہ رہو نگا۔ 12 میرے مرنے کے بعد میرے دفن کی تیا ری کے لئے اس عورت نے میرے جسم پر عطر کو ڈالدیا ہے۔ 13 اور کہا کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دنیا میں جہاں جہاں خوشخبری سنا ئی جائےگی۔ تو وہاں اس کام کو اسکی یاد میں معلوم کرا یا جائیگا۔” یسوع کا دشمن یہوداہ 14 تب بارہ شاگردوں میں سے ایک یہوداہ اسکر یوتی تھا وہ سردار کاہنوں کے پاس گیا۔ 15 اور اس نے پوچھا، اگر میں یسوع کو پکڑ کر تمہارے حوالے کروں تو تم مجھے کتنے پیسے دوگے “۔؟ کاہنوں نے یہوداہ کو تیس چاندی کے سکّے دیئے۔ 16 اسی دن سے یہوداہ یسوع کو پکڑوانے کے لئے وقت کے انتظار میں تھا۔ یسوع فسح کا کھا نا کھا ئینگے 17 “فسح کی تقریب کے پہلے دن شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے کہ” ہم تیرے لئے فسح کی تقریب کے کھا نے کا کہاں انتظام کریں ؟ 18 یسوع نے کہا، “تو شہر میں جا اور میں جس شحص کی نشان دہی کرتا ہوں اس سے ملکر کہنا کہ مقرّرہ وقت قریب ہے۔ اور اس سے یہ بھی کہنا کہ فسح کی تقریب کا کھا نا تیرے گھر میں استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ کھا ئے گا۔” 19 شاگردوں نے و یسا ہی کیا جیسا کہ یسوع نے کہا اور فسح کی تقریب کے کھا نے کا انتظام کیا۔ 20 شام میں یسوع اپنے بارہ شاگردوں کے ساتھ کھا نا کھا نے بیٹھے تھے۔ 21 جب سب کھا نا کھا رہے تھے تو یسوع نے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ یہاں پر موجودہ بارہ لوگوں میں سے کوئی ایک مجھے دشمنوں کے حوالے کریگا۔” 22 شاگردوں نے اس بات کو سن کر بہت افسوس کیا اور شاگردوں میں سے ہر ایک یسوع سے کہنے لگا، “اے خدا وند! حقیقت میں وہ میں نہیں ہوں۔” 23 یسوع نے کہا، “وہ جس نے میرے ساتھ طباق میں اپنے ہاتھ ڈبویا ہے۔ وہی میرا مخالف ہو گا۔ 24 اور کہا کہ صحیفوں میں لکھا ہے کہ ابن آدم وہاں سے نکل جا ئے گا اور مر جائیگا۔ لیکن وہ جس نے اس کو قتل کے لئے حوالے کیا تھا اس کے لئے تو بڑی خرابی ہو گی۔ اور کہا کہ اگر وہ پیداہی نہ ہو تا تو وہ اسکے حق میں بہت بہتر ہو تا۔” 25 تب یسوع کو اسکے دشمنوں کے حوالے کر نے والے یہوداہ نے کہا، “اے میرے استاد! یقیناً میں تیرا مخالف نہیں ہوں۔ یہوداہ وہی ہے جس نے یسوع کو دشمنوں کے حوالہ کیا تھا۔ یسوع نے جواب دیا” ہاں وہ تو وہی ہے۔ عشائے ربّانی 26 جب وہ کھا نا کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی اٹھا لی اور خدا کا شکر ادا کیا اور اس کو توڑ کر کہا، “اسکو اٹھا لو اور کھا ؤ، اور اپنے شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ میرا جسم ہے۔” 27 پھر یسوع نے مئے کا پیا لہ اٹھا یا اور اس پر خدا کا شکر ادا کیا اور کہا، “ہر کو ئی اس کو پی لے۔28 نیا معاہدہ کو قائم کرنے کا یہ مئے میرا خون ہے۔ اور یہ بہت سے لوگوں کے گناہوں کی معا فی و بخشش کے لئے بہایا جا نے والا خون ہے۔ 29 میں اس وقت اس مئے کو نہیں پئیوں گا جب تک میرے باپ کی بادشاہی میں ہم پھر دوبارہ جمع نہ ہونگے تب میں تمہارے ساتھ اسکو دوبارہ پیونگا۔ اور یہ نئی مئے ہو گی۔ اس طرح کہتے ہو ئے وہ ان کو پینے کے لئے دیدیا۔” 30 تب تمام شاگرد فسح کی تقریب کا گیت گا نے لگے پھر اسکے بعد وہ زیتون کے پہاڑ پر چلے گئے۔ یسوع اپنے شاگردوں سے کہتا ہے کہ اسے چھوڑ دیں 31 یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “آج رات تم سب میرے تعلق سے اپنے ایمان کو ضائع کر لو گے۔صحیفوں میں لکھا ہے: میں چروا ہے کو قتل کروں گا اور بھڑیں منتشر ہو جا ئیں گی۔ [a] 32 لیکن میں مر نے کے بعد پھر موت سے جی اٹھوں گا۔ تب میں گلیل جا ؤں گا تمہا رے وہاں پہنچ نے سے پہلے ہی میں وہاں رہوں گا۔” 33 پطرس نے جواب دیا، “ہو سکتا ہے کہ دوسرے تمام شاگرد تیرے تعلق سے اپنے ایما ن کو ضا ئع کر لیں۔ لیکن میں تو ایسا ہر گز نہ کروں گا ۔” 34 “میں تجھ سے سچ کہتا ہوں آج رات مرغ بانگ دینے سے پہلے تو میرے با رے میں تین مرتبہ کہےگا کہ میں تو اسے جانتا ہی نہیں۔” 35 لیکن پطرس نے کہا، “میرے لئے تیرے ساتھ مرنا گوارہ ہوگا مگر تیرا انکا ر پسند نہ ہوگا۔” اسی طرح تمام شاگردوں نے بھی یہی کہا۔ یسوع کی تنہا ئی میں دعا 36 پھر اس کے بعدیسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ گتسمنی نام کے مقام کو گئے۔ تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “یہیں بیٹھے رہنا میں وہاں جا کر دعا کرتا ہوں۔” 37 یسوع پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر گیا۔تب یسوع بہت افسوس کرتے ہوئے شکستہ دل ہو کر ان سے کہا۔، 38 “میری جان غم سے بھر گئی۔ اور میرا قلب حزن و ملا ل سے پھٹا جا رہا ہے۔ اور کہا کہ تم سب یہیں پر میرے ساتھ بیدار رہو-” 39 تب یسوع ان سے تھو ڑی دور جا کر زمین پر منھ کے بل گرے اور دعا کی “اے میرے باپ! اگر ہو سکے تو غموں کا یہ پیالہ مجھے نہ دے۔تو اپنی مر ضی سے جو چا ہے کر اور میری مرضی سے نہ کر۔” 40 پھر اس کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے پاس لوٹ گئے۔ان کو سوتے ہو ئے دیکھ کر اس نے پطرس سے کہا، “کیا تمہا رے لئے میرے ساتھ ایک گھنٹہ بیدار رہنا ممکن نہیں ؟ 41 بیدار رہتے ہو ئے دعا کرو تا کہ آزما ئش میں نہ پڑو اور کہا روح تو آمادہ ہے لیکن جسم کمزور ہے۔” 42 یسوع دوسری مرتبہ دعا کر تے ہو ئے تھوڑی دور تک گئے اور کہے، “اے میرے باپ! اگر توغموں کا پیالہ مجھ سے دور کرنا نہیں چاہتا اور اگر مجھے یہ پینا ہی پڑیگا تو تیری مرضی سے ایسا ہو نے دے-” 43 پھر جب یسوع اہنے شاگردوں کے پاس واپس لوٹے تو وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سو رہے ہیں۔اور ان کی آنکھیں بہت تھکی ہو ئی تھیں۔ 44 اس طرح سے یسوع ایک بار پھر ان کو چھوڑ کر کچھ دور جانے کے بعد تیسری مرتبہ مزید اسی طرح دعا کر نے لگے۔ 45 تب یسوع نے اپنے شاگردوں کے پاس واپس لوٹ کر کہا، “کیا تم ابھی تک نیند اور آرام کر رہے ہو؟ابن آدم کو گنہگاروں کے حوا لے کر نے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ 46 کھڑے ہوجاؤ!ہمیں جا نا ہو گا۔ اور مجھے دشمنوں کے حوا لے کر نے والا آدمی یہاں پہنچ گیا ہے۔” یسوع کی گرفتا ری 47 یسوع باتیں کر ہی رہے تھے کہ یہوداہ وہاں آ گیا۔ اور یہوداہ ان بارہ شاگردوں میں سے ایک تھا۔سردار کا ہنوں اور بزر گ یہودی قائدین کی طرف سے بھیجے ہو ئے کئی لوگ اس کے ساتھ تھے۔ وہ چھری، چاقو، تلواریں اور لا ٹھیاں لئے ہو ئے تھے۔ 48 یہوداہ نے ان کو اشارہ کیا اس طرح وہ جان گئے کہ یسوع کو ن ہے جسے میں چوم لوں وہی یسوع ہے اس کوگرفتا ر کرو۔” 49 اسی وقت یہوداہ نے “یسوع”کے پاس جا کر اسے سلا م کرتے ہو ئے اس کو چوم لیا۔ 50 تب یسوع نے اس سے کہا ، “اے دوست! تو وہی کر جس کام کو کرنے آیا ہے۔” فوراً وہ سبھی لوگ آئے اور یسوع کو پکڑا اور گرفتا ر کرلیا۔ 51 جب یہ ہو رہا تھا یسوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے اپنی تلوار کو نکا لا اعلیٰ کا ہن کے نوکر کو ما را اور اس کا کان کاٹ دیا۔ 52 یسوع نے اس سے کہا ، “تو اپنی تلوار کو میان میں رکھ دے تلوار کا استعمال کر نے والے لوگ تلوا ر ہی سے مرتے ہیں۔ 53 یقیناً تم جانتے ہو کہ اگر میں اپنے باپ سے عرض کرتا تووہ میرے لئے فرشتوں کی فوج کی بارہ ٹکڑیو ں کو بلکہ اس سے بھی زیادہ میرے بھیجا ہو تا۔ 54 اور کہا کے جس طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے اس کو اسی طرح ہونا چاہئے۔” 55 تب یسوع نے ان لوگوں سے کہا تم مجھے ایک مجرم کی طرح قید کر نے کے لئے تلواریں اور لا ٹھیاں لئے ہو ئے یہاں آئے ہو۔ جب میں ہر روز ہیکل میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا تب تم نے مجھے قید نہ کیا۔56 اور کہا کہ نبیوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ پو را ہونے کے لئے یہ سب کچھ ہوا ہے۔” تب شاگرد اسے چھو ڑکر بھاگ گئے۔ یسوع یہودی قائدین کے سامنے 57 یسوع کو قید کر نے وا لے اسے اعلیٰ کا ہن کے گھر لے گئے۔وہاں پر معلمین شریعت اور یہودیوں کے بزرگ قائدین سب ایک جگہ جمع تھے۔ 58 یسوع کا کیا حشر ہوگا اس بات کو دیکھنے کے لئے پطرس اس کو دور سے دیکھتے ہو ئے اور پیچھے چلتے ہو ئے اس اعلیٰ کا ہن کے بنگلہ کے آنگن میں آکر سنتری کے ساتھ بیٹھ گیا۔ 59 سبھی سردار کا ہن اور یہودیوں کی نسل کے لوگ یسوع کو سزائے مو ت دینے کے لئے ضرو ری جھو ٹی گواہیاں ڈھونڈیں۔ 60 کئی لوگ آتے رہے اور یسوع کے بارے میں جھو ٹے واقعات کہنے لگے۔لیکن یسوع کو قتل کر نے کے لئے کو ئی معقول وجہ تنظیم والوں کو نہ ملی۔تب دو آدمی آئے۔ 61 اور کہنے لگے کہ “یہ آدمی کہتا ہے کہ میں ہیکل کو منہدم کر کے پھر تین ہی دنوں میں نئی تعمیر کروں گا۔” 62 اعلیٰ کاہن نے کھڑے ہو کر یسوع سے کہا، “یہ لوگ تجھ پر جن الزا مات کو لگا رہے ہیں ان کے بارے میں تو کیا کہے گا ؟اور پوچھا کہ کیا جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے ؟ 63 لیکن یسوع خا موش رہے۔ اعلیٰ کاہن نے دوبارہ یسوع سے پوچھا ، “میں زندہ اور باقی رہنے وا لے خدا کے نام پر قسم دے کر پوچھ رہا ہوں ہمیں بتا کہ کیا تو خدا کا بیٹا مسیح ہے ؟” 64 یسوع نے کہا، “ہاں تیرے کہنے کے مطا بق وہ میں ہی ہوں۔ لیکن میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اب تم ابن آدم کو خدا کے دائیں جانب بیٹھا ہوا اور آسمان میں بادلوں پر بیٹھا ہوا دیکھو گے-” 65 اعلیٰ کا ہن نے جب یہ سنا تو بہت غصہ ہوا اور اپنے کپڑے پھا ڑ لئے اور کہا، “یہ شخص خدا سے گستا خی کرتا ہے اب اسکے بعد ہمیں کسی اور گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہی اب خدا سے کئی گستا خی کے الزام کو تم نے اس سے سنا ہے۔ 66 تم کیا سوچتے ہو ؟یہودیوں نے جواب دیا، “یہ مجرم ہے اور اس کو تو مرنا ہی چاہئے۔” 67 تب لوگوں نے اس جگہ یسوع کے چہرے پر تھوک دیا۔ اسے گھونسا ما رے اور گال پر طمانچہ رسید کئے۔ 68 انہوں نے کہا، “توہمیں دکھا کہ تو نبی ہے۔ اور اے مسیح! ہمیں بتا کہ تجھے کس نے ما را۔” خوفزدہ پطرس کہہ نہ سکا کہ وہ یسوع کو جانتا ہے 69 اس وقت پطرس آنگن میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک خادمہ پطرس کے پا س آئی اور کہنے لگی۔، “تو وہی ہے جو گلیل میں یسوع کے ساتھ تھا۔” 70 لیکن پطرس نے سب کے سامنے انکار کر تے ہو ئے جواب دیا، “تو جو کہہ رہی ہے میں اس سے با لکل واقف نہیں ہوں۔” 71 تب پطرس نے آنگن کو چھو ڑا۔ پھا ٹک کے پاس ایک اور لڑکی نے اسے دیکھا۔لڑکی نے وہاں پر مو جود لو گوں سے کہا، “یہ آدمی یسوع ناصری کے ساتھ تھا-” 72 پطرس نے پھر دوبارہ کہا کہ میں یسوع کے ساتھ نہیں تھا۔اس نے کہا، “میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس آدمی کو جانتا تک نہیں ہوں-” 73 تھوڑی دیربعد وہاں کھڑے چند لوگ پطرس کے قریب جا کر کہنے لگے یسوع کے پیچھے چلے آنے والے لوگوں میں سے تو بھی ایک ہے اور اس بات کا اندازہ خود تیری گفتگو سے ہو رہا ہے۔ 74 تب پطرس خود پر لعنت بھیجتے ہوئے قسم کھا نے لگا، “اور کہنے لگا میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یسوع نام کے آدمی کو میں تو جانتا ہی نہیں ہوں۔” اسی دوران مرغ نے بانگ دی۔ 75 پطرس کو یسوع کی بات یاد آئی جو کہ اس نے کہا تھا، “مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو میرا تین بار انکا ر کرے گا۔” پطرس باہر گیا اورا س بات کویاد کر کے ز ا روقطار رو نے لگا۔ Footnotes: a. متّی 26:31 زکریا ۱۳:۷ متّی 27 یسوع حاکم وقت کے سامنے 27 دوسرے دن صبح تمام سردار کا ہن اور بڑے لوگوں کے بڑے قائدین ایک ساتھ ملے اور یسوع کو قتل کر نے کا فیصلہ کر لیا۔ 2 وہ اس کو زنجیروں میں جکڑ کر گور نر پیلا طس کے پاس لے گئے اور اس کے حوالے کیا۔ یہوداہ کی خود کشی 3 یہوداہ نے دیکھا کہ انہوں نے یسوع کو مارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہوداہ وہی تھا جس نے یسوع کو اسکے دشمنوں کے حوالے کیا تھا۔ 4 جب یہوداہ نے دیکھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اس نے اپنے کئے پر نہایت پچتایا۔ اس طرح وہ تیس چاندی کے سکّہ لیکر سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس آیا۔ اور بے گناہ کو قتل کر نے کے لئے تمہارے حوالے کردیا ہے۔ یہودی قائدین نے جواب دیا، “ہمیں اسکی پر واہ نہیں! وہ تو تیرا معاملہ ہے ہمارا نہیں۔” 5 تب یہوداہ نے اس رقم کو ہیکل میں پھینک دیا اور وہاں سے جاکر خود ہی پھانسی لے لی۔ 6 سردار کاہنوں نے ہیکل میں پڑے چاندی کے سکّے چنے اور کہا کہ وہ رقم جو قتل کے لئے دی گئی ہو اسکو ہیکل کی رقم میں شامل کر نا یہ ہماری مذہبی شریعت کے خلاف ہے۔” 7 اسلئے انہوں نے اس رقم سے“کمہار کا کھیت” نام کی زمین خرید لینے کا فیصلہ کیا۔ یروشلم کے سفر پر آنے و الے اگر کو ئی مرجائ تو ان کو اس کھیت میں دفن کر نا طے پایا۔ 8 یہی وجہ ہے کہ اس کھیت کو آج بھی “خون کا کھیت” کہا جاتا ہے۔ 9 اس طرح یرمیاہ نبی کی کہی ہوئی بات پوری ہوئی: “انہوں نے تیس چاندی کے سکّے لے لئے۔ یہودیوں نے اس کی زندگی کی جو قیمت مقّرر کی تھی وہ یہی تھی 10 خدا وند نے مجھے جیسا حکم دیا تھا۔ اسکے مطابق انہوں نے چاندی کے تیس سکّوں سے کمہار کا کھیت خرید لیا۔” حاکم پیلاطس کی یسوع کی چھان بین 11 یسوع کو حاکم پیلا طس کے سامنے کھڑا کیا گیا پیلا طس نے اس سے پو چھا، “کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے ؟” یسوع نے جواب دیا ، “ہاں تیرے کہنے کے مطابق وہ میں ہی ہوں۔” 12 سردار کاہنوں اور یہودیوں کے بڑے قائدین نے جب یسوع کی شکایت کی تو وہ خاموش تھا۔ 13 اس وجہ سے پیلا طس نے یسوع سے پو چھا، “لوگ تیرے تعلق سے جو شکایت کر رہے ہیں انکو سنتے ہو ئے تو جواب کیوں نہیں دیتا ؟” 14 اس کے باوجود یسوع نے پیلا طس کو کو ئی جواب نہیں دیا۔ اور پیلا طس کو اس بات سے بہت تعجب ہوا۔ یسوع کو رہا کرانے پیلا طس کی کوشش ناکامیاب 15 ہر سال فسح کی تقریب کے موقع پر لوگوں کی خواہش کے مطابق حاکم کا کسی ایک قیدی کو چھوڑنا اس زمانہ کا رواج تھا۔ 16 اس دور میں ایک شخص قید خانہ میں تھا جو نہایت بد نام تصور کیا جاتا تھا۔معروف قیدی جیل میں تھا اسکا نام بربّا تھا۔ 17 لوگ پیلاطس کی رہائش گاہ کے پاس جمع تھے۔ پیلاطس نے ان سے پوچھا ، “میں تمہارے لئے کس قیدی کو رہا کروں ؟ بربّا کو یا مسیح کہلا نے والے یسوع کو۔ 18 پیلاطس جانتا تھا کہ لوگ یسوع کو حسد سے پکڑوائے ہیں۔ 19 پیلاطس جب فیصلہ کے لئے بیٹھا ہوا تھا تو اسکی بیوی آئی اور ایک پیغام بھیجا۔ “اس آدمی کو کچھ نہ کر وہ مجرم نہیں ہے اسکے تعلق سے پچھلی رات میں خواب میں بہت تکلیف اٹھائی ہوں” یہی وہ پیغام تھا۔ 20 لیکن سردار کاہنوں اور بزرگ یہودی قائدین نے بربّا کے چھٹکا رے کے لئے اور یسوع کو قتل کر نے کے لئے لوگوں کو اکسایا کہ وہ اس بات کی گزارش کر لیں۔ 21 پیلاطس نے پو چھا، “میں تمہارے لئے کس کو رہا کروں ؟ بربا گویا یسوع کو لوگوں نے بربّا کی تائید میں جواب دیا۔” 22 پیلاطس نے کہا، “یسوع کو جو اپنے آپکو مسیح پکارتا ہے میں کیا کرو ں۔” لوگوں نے جواب دیا “اس کو صلیب پر چڑھا دو۔” 23 پیلا طس نے ان سے پو چھا، “تم اس کو صلیب پر چڑھا نے کیوں کہتے ہو اور اسکا کیا جرم ہے۔” لوگ اونچی آواز میں چیختے ہو ئے کہنے لگے “اسکو صلیب پر چڑھا دو۔” 24 “لوگوں کے خیالات کو بدلنا مجھ سے ممکن نہیں ہے۔ اس بات کو جا نتے ہوئے کہ لوگ فساد پر اتر آئے ہیں اسلئے پیلاطس نے تھوڑا سا پا نی لیا اور تمام لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھوں کو دھو تے ہو ئے کہا، “میں اس آدمی کی موت کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ کیوں کہ تم ہی لوگ ہو جو اسکی موت کا ذمہ دار ہو۔” 25 تمام لوگوں نے جواب دیا، “اس کی موت کے ہم ہی ذمہ دار ہیں۔ اور اسکی موت کے لئے بطور سزا کچھ مقّرر ہو تو اسکو ہم اور ہماری اولاد بھگت لیں گے۔” 26 تب پیلاطس نے بربّا کو رہا کیا اور یسوع کو کو ڑوں سے پٹوایا اور صلیب پر چڑھا نے کے لئے سپاہیوں کے حوالے کردیا۔ یسوع پر کیا جانے والا پیلاطس کے سپاہیوں کا مذاق 27 پیلا طس کے سپا ہی یسوع کو شاہی محل میں لے گئے۔ اور تمام سپا ہیوں نے یسوع کو گھیر لیا۔ 28 اس کے کپڑے اتار دئیے اور اس کو قر مزی چو غہ پہنا یا۔ 29 کانٹوں کی بیل سے بنا ہوا ایک تاج اس کے سر پر رکھا۔ اور اس کے دائیں ہا تھ میں چھڑی دی۔ تب سپا ہی یسوع کے سامنے جھک گئے۔ اور یہ کہتے ہو ئے مذاق کر نے لگے ، “تجھ پر سلام ہوا ے یہودیوں کے بادشاہ۔” 30 سپاہیوں نے یسوع پر تھو کا تب اس کے ہاتھ سے وہ چھڑی چھین لی۔ اور اس کے سرپر مار نے لگے۔ 31 اس طرح مذاق اڑا نے کے بعد اس کا چوغہ نکا ل دئیے اور اس کے کپڑے دوبارہ اسے پہنا دئیے اور صلیب پر چڑھا نے کے لئے لے گئے۔ یسوع کو مصلوب کیا جانا 32 سپا ہی یسوع کے ساتھ شہر سے با ہر جا رہے تھے۔سپا ہیوں نے زبردستی ایک اور شخص کو یسوع کے لئے صلیب اٹھا نے پر زور دیا۔ اس کا نام شمعون تھا جو کرینی سے تھا۔ 33 وہ گلگتا کی جگہ پہنچے۔(گلگتا جس کے “معنی کھوپڑی کی جگہ ”) 34 سپا ہیوں نے گلگتا میں اس کوپینے کے لئے مئے دی۔اور اس مئے میں درد دور کر نے کی دوا ملا ئی گئی تھی۔ یسوع نے مئے کا مزہ چکھا لیکن اسے پینے سے انکار کردیا۔ 35 سپاہیوں نے یسوع کو صلیب پر کیل سے ٹھونک دیا۔ پھر اسکی پوشاک حاصل کر نے کے لئے آپس میں قرعہ اندازی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 36 جبکہ سپاہی یسوع کی پہرہ داری کر تے ہو ئے وہیں پر بیٹھے رہے۔ 37 اس کے علا وہ اس پر جو الزام تھو پا گیا تھا اس الزام کو لکھ کر اس کے سر پر لگایا گیا۔ اور وہ الزام یہی تھا: “یہ یسوع ہے جو یہودیوں کا بادشاہ ہے۔” 38 یسوع کے پہلو میں دو چوروں کو بھی صلیب پر چڑھایا گیا تھا۔ ایک چور کو اسکی داہنی جانب اور دوسرے کو بائیں جانب مصلوب کیا گیا 39 راستے پر گزرنے والے لوگ سر ہلا تے ہوئے اسکا ٹھٹھا کر تے رہے۔ 40 “اور کہتے ،تو نے کہا کہ ہیکل کو منہدم کر سکے گا۔ اور تین دنوں میں دوبارہ تعمیر کریگا۔ بس خود کو بچا! اگر تو حقیقت میں خدا کا بیٹا ہے تو صلیب سے نیچے اتر کر آجا۔” 41 کاہنوں کے رہنما معلمین شریعت اور معزز یہودی قائدین وہاں پر موجود تھے۔ وہ بھی دیگر لوگوں کی طرح یسوع کا ٹھٹھا کر نے لگے۔ 42 وہ کہتے تھے اس نے دوسرے لوگوں کو بچا یا۔ لیکن خود کو بچا نہیں سکا! لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسرائیل کا بادشاہ ہے۔ اگر یہ بادشاہ ہے تو اس کو چاہئے کہ یہ صلیب سے نیچے اتر کر آئے تب ہم اس پر ایمان لائیں گے۔ 43 اسنے خدا پر بھروسہ کیا اسلئے خدا ہی اب اسکو بچائے اگر واقعی خدا کو اسکی ضرورت ہو۔ وہ خود کہتا ہے “میں خدا کا بیٹا ہوں۔” 44 اس طرح یسوع کی داہنی اور بائیں جانب مصلوب کئے گئے چوروں نے بھی اسکے بارے میں بری باتیں کہیں۔ یسوع کی موت 45 اس دن دوپہر بارہ بجے سے تین بجے تک ملک بھر میں اندھیرا چھا گیا تھا۔ 46 تقریباً تین بجے کے وقت میں یسوع نے زور دار آواز میں چیختے ہو ئے کہا تھا کہ“ ایلی ایلی لما شبقتنی۔” “یعنی اے میرے خدا، اے میرے خدا مجھے اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟” [a] 47 وہاں پر کھڑے چند لوگوں نے اسکو سن کر کہا یہ “ایلیاہ کو پکارتا ہے۔” 48 ان میں سے ایک دوڑے ہو ئے گیا اور اسپنچ لا یا اور اس میں سرکہ ڈبوکر بھر دیا اور اسکو ایک چھڑي سے باندھ دیا اور اسی چھڑی سے اسے اسپنچ کو یسوع کو دیا تا کہ وہ اسے پی لے۔ 49 لیکن دوسرے لوگوں نے کہا، “اس کے بارے میں فکر مند نہ ہو ں کیوں کہ ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا اسکی حفاظت کے لئے ایلیاہ آئیگا ؟” 50 تب یسوع پھر زور دار آواز میں چیخ کر جان دیدی۔ 51 پھر ہیکل کا پر دہ اوپری حصّہ سے نیچے کی جانب پھٹ کر دو حصوں میں بٹ گیا۔ اور زمین دہل گئی اور پتھر کی چٹانیں ٹوٹ گئیں۔ 52 قبریں کھل گئیں مرے ہو ئے کئی خدا کے لوگ قبروں سے زندہ ہو کر اٹھے۔ 53 وہ لوگ قبروں سے باہر آئے یسوع پھر دوبارہ جی اٹھا اور وہ لوگ مقدس شہر کو چلے گئے۔ اور کئی لوگوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ 54 سپہ سالار اور سپاہی جو یسوع کی نگہبانی کرر ہے تھے۔ زلزلہ اور چشم دید واقعات کو دیکھ کر گھبرا ئے اور کہنے لگے کہ“حقیقت میں وہ خدا کا بیٹا تھا۔” 55 کئی عورتیں جو گلیل سے یسوع کے پیچھے پیچھے اسکی خدمت کر نے کے لئے آئی ہو ئی تھیں دور سے کھڑی دیکھ رہی تھیں۔ 56 مریم مگدلینی یعقوب اور یوسف کی ماں مریم اور یوحنا و یعقوب کی ماں بھی وہاں تھیں۔ یسوع کی قبر 57 اس شام مالدار یوسف یروشلم کو آیا۔ یہ ارمتیاہ شہر کا باشندہ تھا وہ یسوع کا شاگرد تھا۔ 58 یہ پیلا طس کے پاس گیا اور اس نے یسوع کی لاش اسکے حوالے کر نے کی گزارش کی۔ اور پیلا طس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ یسوع کی لاش کو یوسف کے حوالے کریں۔ 59 یوسف لاش کو لیکر اور اسکو نئے سوتی کپڑے میں لپیٹا۔ 60 اور اس نے چٹان کے نیچے زمین میں جو قبر کھدوائی تھی اس میں رکھ دی۔ اور قبر کے منھ پر ایک بڑا پتھّر کو لڑکا کر چلا گیا۔ 61 مریم مگدلینی اور ایک دوسری عورت مریم اس جگہ قبر کے قریب بیٹھی ہو ئی تھیں۔ یسوع کی قبر کی نگہبانی 62 اگلے روز جو تیاری کا دوسرا دن تھا گزر جانے کے بعد تمام سردار کاہن فریسی پیلاطس سے ملے۔63 اور کہا کہ وہ دھوکہ باز جب زندہ تھا۔ اور کہا تھا، “تین دن بعد میں دوبارہ جی اٹھونگا یہ بات اب تک ہمیں یاد ہے۔ 64 اس لئے تین دن تک اس قبر کی سختی سے نگرانی کا حکم دو اسلئے کہ اسکے شاگرد اس کی لاش کو چراکر لے جائیں۔ اور لوگوں سے یہ کہیں گے کہ وہ زندہ ہو کر قبر سے اٹھ گیا ہے۔ اور یہ پچھلا دھو کہ پہلے سے بھی برا ہو گا۔” 65 تب پیلاطس نے حکم دیا، “تم چند سپاہیوں کو ساتھ لے جاؤ اور جس طرح چاہتے ہو قبر پر پو ری چوکسی کے ساتھ نگرانی کرو۔” 66 وہ گئے اور قبر کے منھ پتھّر سے مہر کرکے سپاہیوں کی نگرانی میں وہاں پر سخت پہرہ بٹھا دیئے۔ Footnotes: a. متّی 27:46 اِقتِباس زبور ۱:۲۲ متّی 28 یسوع کا دوبارہ جی اٹھنا 28 سبت کادن گزر گیا۔ یہ ہفتے کے پہلے دن کا سویرا تھا۔مریم مگدلینی اور ایک دوسری عورت مریم قبر کو دیکھنے کے لئے آئیں۔ 2 تب خوفناک زلزلہ آیا۔ خداوند کا ایک فرشتہ آسمان سے اتر کر آیا۔ وہ فرشتہ قبر کے قریب جا کر منھ سے پتھّر کی اس چٹان کو لڑھکایا اور اس چٹان پر بیٹھ گیا۔ 3 وہ فرشتہ بجلی کی چمک کی طرح تابناک تھا۔ اور اسکی پو شاک برف کی طرح سفید اور صاف و شفاف تھی۔ 4 قبر کی نگرانی پر متعین سپاہیوں نے جب فرشتہ کو دیکھا تو بہت خوفزدہ ہو ئے اور ڈر کے مارے کانپتے ہو ئے مر دے کی طرح ہو گئے۔ 5 فرشتہ نے ان خواتین سے کہا، “تم گھبراؤ مت کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ تم مصلوب یسوع کو تلاش کر رہی ہو۔ 6 اب یسوع تو یہاں نہیں ہے۔ اسلئے کہ وہ اپنے کہنے کے مطابق دوبارہ جی اٹھا ہے۔ آؤ اور جہاں اسکی لاش رکھی ہوئی تھی اس جگہ کو دیکھو p 7 جلدی کرو اور اسکے شاگردوں سے جا کر کہو ان سے کہو کہ یسوع دوبارہ جی اٹھا ہے۔ اور وہ گلیل کو جا رہا ہے۔ تم سے پہلے ہی وہ وہاں رہے گا۔ تم اسکو وہاں دیکھو گے۔” پھر سے فرشتے نے کہا، “تمہیں جو خبر سنانا چاہتا ہوں وہ یہی ہے بھولنا نہیں۔” 8 فوراً وہ عورتیں کچھ خوف کے ساتھ اور قدرے خوشی و مسرت کے ساتھ قبر کی جگہ سے چلی گئیں۔ پیش آئے ہو ئے واقعات کو شاگردوں سے سنانے کے لئے وہ دوڑی جا رہی تھیں۔ 9 یسوع فوراً انکے سامنے آگیا اور کہنے لگا “تمہیں مبارک ہو۔” تب وہ عورتیں یسوع سے قریب ہو ئیں اور اسکے پیروں پر گر کر اسکی عبادت کی۔ 10 یسوع نے ان عورتوں سے کہا، “تم گھبراؤ مت میرے بھائیوں کے پاس جاؤ اور انکو گلیل میں آنے کے لئے کہدو اسلئے کہ وہ وہاں پر میرا دیدار کریں گے” یہودی قائدین تک پہنچی ہو ئی اطلاع 11 وہ عورتیں شاگردوں کو با خبر کرنے کے لئے چلی گئیں۔ اور ادھر قبر پر نگرانی کر نے والے چند سپا ہی شہر میں جاکر پیش آئے ہوئے سارے حالات سردار کاہنوں کو سنائے۔ 12 تب کاہنوں کے رہنما نے بڑے اور معزز یہودیوں سے ملاقات کر کے گفتگوں کر نے لگے اور ان سے جھوٹ کہلوانے کے لئے ایک بڑی رقم بطور رشوت دینے کی بھی تدبیر سوچنے لگے۔ 13 انہوں نے سپاہیوں سے کہنا شروع کیا او ر کہا، “لوگوں سے یہ کہو کہ رات کے وقت جب ہم نیند میں تھے تو یسوع کے شاگرد آئے اور اسکی لاش کو چرا لے گئے۔ 14 اور کہا کہ اگر حاکم کو یہ بات معلوم بھی ہو جائے تو ہم اسکو مطمئن کر دیں گے اور تم کو کسی قسم کی مصیبت نہ پہنچے اسکا انتظام کریں گے۔” 15 سپاہی رقم لے لئے اور انکے کہنے کے مطابق کر گزرے۔ یہ قصّہ آج بھی یہودیوں میں عام ہے۔ یسوع کی اپنے شاگردوں سے کہی ہو ئی آخری باتیں۔ 16 وہ گیارہ شاگرد گلیل جاکر اس پہاڑ پر گئے جہاں یسوع نے انہیں جانے کے لئے کہا تھا۔ 17 پہاڑ پر شاگردوں نے یسوع کو دیکھا۔ انہوں نے اسکی عبادت کی۔ لیکن ان میں سے بعص شاگرد نے حقیقی یسوع کے ہو نے کو تسلیم نہ کیا۔ 18 اس لئے یسوع ان کے پاس آئے اور کہنے لگے، “آسمان کا اور اس زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا ہے۔ 19 اس وجہ سے تم جاؤ اور اس دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کو میرے شاگرد بناؤ۔ باپ کے بیٹے کے اور مقدس روح کے نام پر ان سب کو بپتسمہ دو۔ 20 میں تم کو جن تمام باتوں کے کر نے کا حکم دیا ہوں اس کے مطابق لوگوں کو فرمانبرداری کر نے کی تعلیم دو۔ اور کہا ،میں رہتی دنیا تک تمہارے ساتھ ہی رہونگا۔” مرقس 1 یسوع کی آمد 1 خدا کا بیٹا یسوع مسیح کے متعلق خوش خبری کی یہ ابتدا۔ 2 یسعیاہ نبی نے اس طرح لکھا ہے: “سنو! میں اپنے پیغمبر کو تجھ سے پہلے بھیج رہا ہوں۔ وہ تیرے لئے راہ کو ہموار کریگا۔ [a] 3 “خداوند کے لئے راہ کو ہموار کرو اس کی راہ کو سیدھی بناؤ اس طرح صحرا میں ایک شخص آواز لگا رہا ہے۔”[b] 4 اسی طرح یوحنا بپتسمہ [c] (اصطبا غ ) دینے والے نے جنگل میں آکر لوگوں کو بپتسمہ دیا “تم اپنے گناہوں پر توبہ کرتے ہوئے خدا وندکی طرف رجوع ہوکر بپتسمہ لو۔ تب ہی تمہارے گناہ معاف ہونگے۔5 اہلیان یہوداہ اور یروشلم یوحنا کے پاس آ ئے اور اپنے گنا ہوں کا اعتراف کیا۔ اس وقت یوحنا نے انکو دریائے یردن میں بپتسمہ دیا۔ 6 یوحنا اونٹ کے بالوں کا بُنا ہوا اوڑھنا اوڑ ھ کر کمر میں چمڑے کا کمر بند باندھ لیتا تھا۔ وہ ٹڈیا ں اور جنگلی شہد کھا تا تھا۔ 7 یوحناّ لوگوں کو وعظ دیتا “میرے بعد آنے والا مجھ سے زیادہ طاقت ور ہوگا میں جھک کر اس کی جوتیوں کی تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہیں ۔” 8 میں تمکو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن وہ تم کو مقدس روح سے بپتسمہ دیگا۔” یسوع کو بپتسمہ 9 ان دنوں یسوع گلیل کے ناصرت سے یوحنا کے پاس آیا یوحنا نے یسوع کو دریائے یردن میں بپتسمہ دیا۔10 جب یسوع پانی سے اوپر آ رہے تھے اس نے دیکھا آسمان کھلا اور روح القدس ایک کبوتر کی مانند اسکی طرف آرہا تھا۔ 11 تب آسمان سے ایک آواز آئی “توہی میرا چہیتا بیٹا ہے۔میں تجھ سے خوش ہوں۔” یسوع کا امتحان 12 اس وقت روح نے یسوع کو صحرا میں بھیج دیا۔ 13 یسوع وہا ں چالیس دن کی مدت تک درندوں کے ساتھ بسر کر کے شیطان سے آزمایا گیا۔ تب فرشتے آئے اور یسوع کی مدد کی۔ پہلے شا گرد کا انتخا ب 14 یو حنا کو جب قید کیا گیا یسوع نے گلیل جا کر لوگوں کو خدا کی خوش خبری دی۔ 15 “وقت پورا ہو گیا ہے۔خدا کی باد شا ہت قریب آ گئی ہے اپنے گنا ہوں پر توبہ کر کے خداوند کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور خوش خبری پر ایمان لاؤ”۔ 16 یسوع نے گلیل کی جھیل کے نز دیک سے گذ رتے وقت شمعون [d] اوراسکے بھا ئی اندریاس کو دیکھا۔یہ دونوں ماہی گیر تھے یہ مچھلی کا شکار کر نے کے لئے جھیل میں جال پھینک رہے تھے۔ 17 یسوع نے کہا “آ ؤ میرے پیچھے چلو میں تمکو دُوسرے ہی قسم کا ماہی گیر بناؤں گا۔اس کے بعد تم لوگوں کو پکڑو گے نہ کہ مچھلیوں کو”۔ 18 اس وقت وہ اپنے جالوں کواسی جگہ چھوڑ کراس کے پیچھے ہو لئے۔ 19 یسوع گلیل جھیل کے کنارے گھوم پھر ہی رہے تھے کہ انھوں نے زبدی کے بیٹوں یعقوب اور یوحنا نامی دونوں بھائیوں کو دیکھا جو اپنی کشتی میں مچھلیوں کا شکار کر نے کے لئے جالوں کو درست کر رہے تھے۔ 20 انکے باپ زبدی اور مز دور بھی بھائیوں کے ساتھ کشتی میں تھے۔یسوع نے اُن کو فوراً بلایا وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر فوراً ہی یسوع کے پیچھے ہولئے۔ بدروح کے اثرات سے متاثر آدمی کو چھٹکا رہ 21 سبت کے دن یسوع اور اس کے شاگرد کفر نحوم گئے۔ سبت کے دن یہو دی عبادت گاہ میں جاکر وہ لوگوں کو وعظ کر نے لگے۔ 22 یسوع کی تعلیمات سن کر لوگ حیران ہوئے۔وہ ان کو شریعت کے استاد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک حاکم کی طرح تعلیم دینے لگا۔ 23 یسوع جب یہودی عبادت گاہ میں تھے تو بدروح کے اثرات سے متاثر ایک آدمی وہاں موجود تھا۔ 24 وہ چلایا اے یسوع ناصری! تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟کیا تو ہمیں تباہ کر نے کے لئے آیا ہے؟مجھے معلوم ہے تو خدا کی جانب سے آیا ہوا مقدس ہے۔” 25 یسوع نے ڈانٹا “چپ رہ اس میں سے نکل کر باہر آجا” 26 بدروح اس سے پنجہ آز مائی کر تے ہوئے اور پورے زورو شور سے چلا تے ہوئے اس میں سے نکل کر باہر آئی۔ 27 حاضرین حیران و ششدر ہوگئے۔وہ آ پس میں سوال کر نے لگے “یہ کیا معاملہ ہے؟ یہ ایک نئی تعلیم ہے۔یہ صاحب مقتدر ہو کر تلقین کرتا ہے!حتیٰ کے بدروحوں تک پر حکم چلاتا ہے اور وہ روحیں فرمانبردارہو جاتی ہیں-” 28 یسوع کی یہ ساری خبر گلیل کے علا قے میں ہر سمت پھیل گئی۔ کئی لوگوں کو صحت و تندرستی 29 یسوع اور انکے شاگرد یہو دی عبادت گاہ سے نکل کر یعقوب اور یوحنا کے ساتھ شمعون اور اندریاس کے گھر گئے۔ 30 شمعون کی ساس بخار میں مبتلا تھی۔وہاں کے لوگوں نے اس کے بارے میں یسوع سے عرض کی۔ 31 اس طرح یسوع نے مریضہ کے بستر کے قریب جاکراس کا ہاتھ پکڑ لیااور اسکو بستر سے اوپر اٹھنے میں اس کی مدد کی فو راً وہ شفایاب ہو گئی۔اور وہ اٹھ کر اسکی تعظیم کر نے لگی۔ 32 اس شام غروب آفتاب کے بعدلوگوں نے مریضوں کو اور ان لوگوں کو جو بد روحوں سے متاثر تھے انکے پاس لائے۔ 33 گاؤں کے تمام لوگ اسکے گھر کے دروازہ کے سامنے جمع ہوئے۔ 34 یسوع نے مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو شفاء بخشی، بدروحوں سے متاثر کئی لوگوں کو اس سے چھٹکارا دلایا۔لیکن ان بدروحوں کو یسوع نے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔کیوں کہ بدروحوں کو معلوم تھا کہ یسوع کون ہے۔ خوش خبری کا اعلان کرنے کیلئے یسوع کی تیاری 35 دُوسرے دن صبح صادق ہی اٹھ کر یسوع باہر چلے گئے۔وہ تنہا مقام پر گئے اور عبادت کر نے لگے۔36 اس کے بعد شمعون اور اس کے ساتھی یسوع کی تلاش میں نکلے۔ 37 وہ یسوع کو پایااور کہنے لگے کہ“لوگ تمہاری ہی راہ دیکھ رہے ہیں ۔” 38 یسوع نے کہا، “یہاں سے قریبی قریوں کو ہمیں جا نا چاہئے ان مقامات پر مجھے تبلیغ کر نی ہے اس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں”۔ 39 اس طرح یسوع گلیل کے چاروں طرف دورہ کر کے ان کی یہودی عبادت گاہوں میں لوگوں کو تبلیغ کی اور بدروحوں سے متاثرلوگوں کونجات دلائی۔ کوڑھی کی تندرستی 40 ایک کوڑھی یسوع کے پاس حاضر ہوااور گھٹنے ٹیک کر عرض کر نے لگا، “اگر آپ چاہیں تو مجھے صحت بخش سکتے ہیں۔” 41 یسوع نے اس پر رحم کے تقاضے سے چھو کرکہا، “تیری صحت یا بی میری آرزوہے۔تجھے صحت نصیب ہو۔” 42 اس کے ساتھ ہی فوراً اسے تندرستی نصیب ہوئی۔ کوڑھ چھوٹ گیااور وہ کوڑھی چلا گیا۔ 43 - 44 یسوع نے اس کو روانہ کیا اور سختی سے تا کید کی کہ “اس چیز کے متعلق کسی سے نہ کہنا مگر جاکر اپنے تئیں کا ہن کو دکھا اور اپنے پاک صاف ہو جا نے کی بابت اُن چیزوں کا جو مُوسیٰ نے مُقرّر کی نذ رانہ پیش کر تاکہ ان کے لئے گواہی ہو۔” 45 وہ وہاں سے جاکر لوگوں سے کہا کہ یسوع ہی نے اس کو شفا دی۔ اس طرح یسوع کے بارے میں خبر ہر طرف پھیل گئی۔ اور اسی لئے جب لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں، اس وقت یسوع شہر میں داخل نہ ہو سکا۔یسوع ایسی جگہ قیام کرتا جہاں لوگ نہ بسر کرتے ہوں۔ لیکن لوگ تمام شہروں سے آتے اور وہاں پہنچتے جہاں یسوع ہوتے۔ Footnotes: a. مرقس 1:2 ملاکی ۱:۳ b. مرقس 1:3 یسعیاہ ۳:۴۰ c. مرقس 1:4 بپتسمہ یہ یونانی لفظ ہے جس کے معنی ڈبونا ،ڈبونا یا آدمی کو دفن کرنا یا کوئی چیز پانی کے نیچے- d. مرقس 1:16 شمعون اسکا دُوسرا نام پطرس ہے- مرقس 2 مفلوج آدمی کی صحت یابی 2 چند دن گزر نے کے بعد یسوع کفر نحوم کو واپس آئے۔ یہ خبر پھیل گئی کہ یسوع گھر واپس آگئے ہیں۔2 لوگ کثیر تعداد میں یسوع کی تبلیع سننے کے لئے جمع ہوئے۔ لوگوں سے گھر بھر گیا تھا۔ وہاں کسی ایک کے ٹھہر نے کے لئے دروازے کے باہر بھی جگہ نہ تھی۔ یسوع انہیں تعلیم دے رہے تھے۔ 3 چند لوگوں نے ایک مفلوج آدمی کو اس کے پاس لایا اسے چار آدمی اٹھائے ہوئے تھے۔ 4 گھر چونکہ لوگوں کی بھیڑ سے بھرا ہوا تھا اسلئے وہ اس کو یسوع تک نہ لا سکے۔ اس وجہ سے وہ لوگ یسوع جس گھر میں تھے اس کے چھت پر چڑ ھ گئے اور چھت کا وہ حصّہ ادھیڑ دیا جس کے نیچے یسوع بیٹھا ہوا تھا۔ اس طرح وہاں سے جگہ بنا کر مریض کو بستر سمیت جس پر وہ لیٹا ہوا تھا اتار دیا۔ 5 ان لوگوں کے اس گہرے ایمان کو دیکھ کر یسوع نے مفلوج آدمی سے کہا، “اے نوجوان! تیر ے گناہ معاف ہوگئے ہیں۔” 6 چند شریعت کے معلّمین وہاں بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے یسوع کی کہی ہوئی باتوں کو سنا اور سوچا ،7 “یہ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟یہ کلمات خدا کی بے عزّتی کرنے والے ہیں! کیوں کہ صرف خدا ہی گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔” 8 یسوع نے سمجھا کہ شریعت کے معلّمین اس کے متعلق سوچ رہے ہیں تو کہا، “تم ایسا کیوں سوچتے ہو ؟9 اس مفلوج آدمی کو کیا کہنا آسان ترین ہے ؟”تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں یا اس طرح کہنا چاہئے کہ اٹھ اور اپنا بستر اٹھا لے جا۔ 10 لیکن ابن آدم کو زمین پر گناہوں کو معاف کر نے کا حق ہے۔ یہ تمہیں سمجھنا ہوگا “تب یسوع نے مریض سے اس طرح کہا۔” 11 “میں تجھ سے کہہ رہا ہوں اٹھ اوراپنا بستر لے اور گھر جا ۔” 12 فوراً وہ مریض اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا بستر لیتے ہوئے سب کے سامنے وہاں سے باہر چلا گیا۔ اس منطر کو دیکھ کر لوگوں نے حیران ہوکر کہا، “ہم نے ایسا کوئی واقعہ پہلے کبھی نہ دیکھا ۔” اور وہ خدا کی تعریف کرنے لگے۔ لا وی (متی ) یسوع کے پیچھے ہو لیا 13 یسوع دوبارہ جھیل کے پاس گئے کئی لوگ انکے پیچھے گئے انہوں نے ان کو تعلیم دی۔ 14 جب یسوع جھیل کے کنارے سے گزر رہے تھے ایک محصول وصول کر نے والے نے حلفی کے بیٹے لاوی کو دیکھا۔ لاوی محصول وصولی کے چبوترے پر بیٹھا تھا۔ یسوع نے کہا ، “میرے پیچھے آؤ” تب وہ اٹھ کر یسوع کے پیچھے ہو لیا۔ 15 اسی دن کچھ ہی دیر بعد یسوع لاوی کے گھر میں کھانا کھا رہے تھے۔ وہاں کئی ایک محصول وصول کرنے والے اور دیگر بد کردار لوگ بھی یسوع اور ان کے شاگر دوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ ان لوگوں میں متعدد یسوع کے تابعین تھے۔ 16 شریعت کے معلمّین جو فریسی تھے دیکھے کہ محصول وصول کر نے والے عہدید اروں اور دیگر بد کردار لو گوں کے ساتھ یسوع کھا رہے تھے تو انہوں نے یسوع کے شاگردوں سے پوچھا، “وہ کیوں گنہگاروں اور محصول وصول کرنے والے عہدیدا روں کے ساتھ کھا نا کھاتاہے ؟۔” 17 یسوع نے یہ سناُ اور ان سے کہا، “صحت مندوں کے لئے طبیب کی ضرورت نہیں۔ بیماروں کے لئے طبیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں شریف لوگوں کو بلا نے کے لئے نہیں آیاہوں میں گنہگاروں کو بلا نے کے لئے آیا ہوں۔” یسوع دوسرے مذہبی پیشواؤں کی طرح نہیں ہے 18 یوحنا کے شاگرد اور فریسی لوگ روزہ رکھتے تھے۔چند لوگ یسوع کے پاس آئے اور پوچھا ، “یوحنا کے شاگرد اور فریسی بھی روزہ رکھتے ہیں۔لیکن تیرے شاگرد روزہ کیوں نہیں رکھتے ؟” 19 یسوع نے جواب دیا ، “جب شادی ہو رہی ہے ،اور جب دُلہا ساتھ رہتا ہے تو اس کے دوست غم نہیں کرتے اور نہ روزہ رکھتے ہیں۔ 20 لیکن ایک وقت آئے گا جب وہ اپنے دوستوں کو چھوڑ کر چلا جا ئے گا ،تب اسکے دوست فکر مند ہوں گے اور روزہ رکھیں گے۔ 21 “کوئی بھی اپنی پرانی اور پھٹی ہوئی پوشاک پر نئے کپڑے کا پیوند نہیں لگا تا۔ اگر وہ ایسا پیوند لگا تا بھی ہے تو وہ پیوند سکڑ کر پھٹی ہوئی جگہ کو مزید بڑا بنا تا ہے۔ 22 اسی طرح لوگ نئی مئے کو پرُا نے مشکوں میں ڈال کر نہیں رکھتے کیوں کہ ایسا کرنے سے مشک بھی ٹوٹ جاتی ہے اور مئے بھی ضائع ہو جا تی ہے۔ اس لئے لوگ ہمیشہ نئی مئے کو نئی مشکوں میں ڈال کر رکھتے ہیں۔” چند یہودیوں کا یسوع پر تنقید کرنا 23 سبت کے دن یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ چند کھیتوں سے گذر رہے تھے۔جب وہ چل رہے تھے تو شاگردوں نے کھا نے کے لئے دانے کی چند بالیاں توڑ لیں۔ 24 فریسیوں نے یہ دیکھا اور یسوع سے پوچھا، “تیرے شاگرد ایسا کیوں کرتے ہیں؟ سبت کے دن ایسا کرنا کیا یہودیوں کی شریعت کے خلاف نہیں ہے۔” 25 یسوع نے ان کو جواب دیا، “کیا تم نے نہیں پڑھاہے کہ داؤد اور اسکے لوگ جب بھوکے تھے اور جب انہوں نے کھا نا مانگا تو اس نے ان کے لئے کیا کیا تھا۔ 26 وہ اعلیٰ کاہن ابی یاتر کا دور تھا۔ داؤد ہیکل میں گیا اور اسنے خداوند کے لئے پیش کی ہوئی روٹی کھائی۔ موسٰی کی شریعت کہتی ہے صرف کاہن ہی روٹی کھا سکتا ہے داؤد نے اپنے ساتھ موجود لوگوں کو بھی روٹی دی۔” 27 اس کے بعد یسوع نے فریسیوں سے کہا ، “سبت کا دن اس لئے مقرّر ہوا کہ اس میں لوگوں کی مدد ہو نہ کہ لوگوں کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ سبت کے دن اس کے حوا لے ہو جائیں۔ 28 اسی لئے ابن آدم سبت کے دن کے لئے اور تمام دنوں کے لئے خداوند ہے۔” مرقس 3 وہ جس کا ہاتھ سوکھا ہوا تھا ان کا شفا پانا 3 دوسرے دن یسوع یہودی کے عبادت خانہ میں گئے۔ وہاں ایک ہاتھ کا سوکھا ہوا آدمی تھا۔ 2 وہاں پر موجود چند یہودی یسوع سے ہونے والی کسی غلطی کے منتظر تھے تا کہ وہ انکو مورد الزام ٹھہرائیں۔ وہ لوگ کڑی نظر رکھے ہوئے تھے کہ یسوع کیسے اس سکڑے ہاتھ والے آدمی کو اچھا کرینگے۔ یہ سبت کا دن تھا اس لئے وہ اس کے قریب ہی ٹھہرے۔ 3 یسوع نے ہاتھ کے سوکھے ہوئے آدمی سے کہا ، “کھڑا ہوجا سبھی لوگوں کو اپنے کو دیکھنے دے۔” 4 تب یسوع نے لوگوں سے پوچھا، “سبت کے دن کونسا کام کرنے کی اجازت ہے نیک کام یا برا کام؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ایک کی زندگی کو بچائی جائے یا نیست و نابود کردی جائے؟” لیکن وہ خاموش رہے کیوں کہ وہ جواب دینے سے قاصرتھے۔ 5 یسوع نے غصّہ سے لوگوں کی طرف دیکھا۔ انکی ضد نے اسے رنجیدہ کیا۔ یسوع نے اس آدمی سے کہا، “تو اپنا ہاتھ آگے بڑھا۔” اس نے اپنا ہاتھ یسوع کی طرف بڑھایا۔ فوراً ً ہی اسکا ہاتھ شفا یاب ہو گیا۔ 6 اس وقت فریسی یہودیوں کے ساتھ باہر گئے اور منصوبہ باندھنا شروع کیا کہ کس طرح یسوع کو قتل کیا جائے۔ یسوع مسیح کے پیچھے لوکوں کی بھیڑلگنا 7 یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جھیل کی طرف گئے۔ گلیل کے کئی لوگ اس کے ساتھ ہو لئے۔ 8 یہوداہ ،یروشلم اور ادونیہ سے دریائے یردن کے اس پار کے علاقے سے صور اور صیدا کے اطراف و اکناف والی جگہوں سے کثیر تعداد میں لوگ آئے۔ یسوع کی کار گزاریوں کو سن کر وہ لوگ آئے تھے۔ 9 یسوع نے لوگوں کی اس بھیڑ کو دیکھ کر اپنے شاگردوں سے کہا اس کے لئے ایک کشتی تیار کرے تا کہ وہ لوگ کچل نہ دیں۔ 10 یسوع نے کئی لوگوں کو شفایاب کیا۔ اس لئے تمام مریض اس کو چھو نے کے لئے اس پر گر پڑے تھے۔ ناپاک روحوں سے متاثر کئی لوگ وہاں تھے۔ 11 بد روحیں یسوع کو دیکھ کر اس کے سامنے نیچے گرتے اور زور سے چیختے تھے کہ“تو خدا کا بیٹا ہے۔” 12 اس لئے یسوع نے ان کو اس بات کی سختی سے تاکید کی تھی کہ لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ وہ کون ہے۔ یسوع کا بارہ رسولوں کا انتخاب کرنا 13 تب یسوع ایک پہاڑ پر چڑھ گئے یسوع نے چند لوگوں کو اپنے پاس آنے کے لئے کہا یسوع کی چاہت اور پسند کے لوگ یہی تھے۔ یہ لوگ یسوع کے پاس اُوپر گئے۔ 14 اس نے ان میں سے بارہ آدمیوں کو اسکے رسولوں کی حیثیت سے چن لیا۔ یسوع نے چاہا کہ یہ بارہ آدمی اس کے ساتھ رہیں اور ان کو دوسرے مقامات پر لوگوں کی تعلیم کے لئے بھیجا جائے۔ 15 اس کے علاوہ ان کو بد روحوں سے متاثر لوگوں کو بد روحوں سے چھٹکارہ دلانے کی لئے اختیارات دینا چاہا۔ 16 ان بارہ آدمیوں کو یسوع نے چن لیا وہ یہ ہیں: شمعون ،یسوع نے اسکو پطرس نام دیا۔ 17 زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحناّ ،یسوع نے انکو بُوانرگس کا نام دیا۔ اس کا مطلب “گرج کے بیٹے۔” 18 اندریاس ،فلپ اور برتلرمائی ، متّی ، توما ، حلفی کا بیٹا یعقوب ، تدّی اور شمعون قوم پرست۔ 19 اور یہوداہ اسکریوتی وہی ہے جس نے یسوع کو اس کے دشمنوں کے حوالے کیا۔ یسوع مسیح پر بد رُوح کے اثرات کا الزام 20 تب یسوع گھر کو گئے۔لیکن وہاں دوبارہ کئی لوگ جمع ہو گئے۔ اس وجہ سے یسوع اور اس کے شاگرد کھانا بھی نہ کھا سکے۔ 21 یسوع کے خاندان کے لوگوں کو ان تمام حالات کا علم ہوگا۔ چونکہ کچھ لوگوں نے کہا کہ یسوع پاگل ہے۔ ان کے خاندان کے لوگ ان کو لے جانے کے لئے آ ئے۔ 22 شریعت کے معلّمین جو یروشلم سے آئے تھے انہوں نے کہا، “بلجبل(شیطان) اس میں ہے۔ وہ بد روحوں کے سردار کی مدد سے بد روحوں سے متاثر لوگوں کو چھٹکارہ دلاتا ہے۔” 23 اس لئے یسوع نے لوگوں کو ايک ساتھ بلایا اور انہیں تمثیلوں کے ذریعہ تعلیم دی۔ یسوع نے کہا، “شیطان کو شیطان کس طرح نکال سکتا ہے۔” 24 بادشاہت جو خود اپنے خلاف لڑتی ہے۔ خود قائم نہیں رہ سکتی۔ 25 جو خاندان بٹ گیاہو وہ باقی نہیں رہ سکتا۔ 26 اگر شیطان خود اپنے ہی خلاف پلٹ جائے اور بٹ جائے وہ کھڑا نہیں رہ سکتا اس کی حکومت کا خاتمہ ہو جا تا ہے۔ 27 اگر کوئی آدمی کسی طاقتور آدمی کے گھر میں گھس کر چیزوں کو چرانا چاہتا ہو تو اسکو چاہئے کہ وہ پہلے طاقتور کو باندھے۔ تب کہیں اس کو طاقتور کے گھر سے اشیاء کا چرُانا ممکن ہو سکے گا۔ 28 میں تم سے سچائی بتاتا ہوں لوگوں سے ہو نے والے تمام گناہوں کو اور کفریہ کلمات کی معافی مل سکتی ہے۔ 29 لیکن رُوح القدس کے خلاف جو کوئی گناہ کرے گا اسے کبھی معافی نہ ملے گی کیونکہ وہ ہمیشہ اس گناہ کا مجرم رہے گا۔” 30 یسوع نے یہ اس لئے کہا کہ معلّمیں شریعت کہتے ہیں کہ یسوع کے اندر ناپاک روح ہے۔ یسوع کے شاگرد ہی اس کے خاندان کے حقیقی افراد ہیں 31 تب یسوع کی ماں اور اسکے بھائی وہاں آئے وہ باہر کھڑے ہو گئے اور ایک آدمی کو اندر بھیجا کہ یسوع مسیح کو باہر آنے کے لئے کہے۔ 32 کئی لوگ یسوع کے اطراف بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے یسوع سے کہا، “آپکی ماں اور آپکے بھائی باہر آپکا انتطار کر رہے ہیں۔” 33 یسوع نے جواب دیا ، “میری ماں کون ؟ میرے بھائی کون ؟” 34 تب اس نے اپنے اطراف بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا ، “یہی لوگ میری ماں اور میرے بھا ئی ہیں۔ 35 جو کوئی خدا کی مرضی کے مطابق چلے گا وہی میرا بھا ئی بہن اور میری ماں ہوگی۔” مرقس 4 تخم ریزی کرنے والے کسان کی مثال 4 ایک دُوسرے موقع پر یسوع جھیل کے کنا رے لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے۔ایک بڑی بھیڑ اس کے اطراف جمع ہو گئی۔ یسوع ایک کشتی میں جا بیٹھے اور جھیل کے کنارے تھوڑی دور فاصلہ پر چلے گئے تمام لوگ پانی کے کنارے تھے۔ 2 یسوع نے کشتی میں بیٹھ کر لوگوں کو مختلف تمثیلوں کے ذریعے تعلیم دی۔ انہوں نے کہا ، 3 “سنو ایک کسان تخم ریزی کرنے کے لئے کھیت کو گیا۔ 4 بوقت تخم ریزی چند دانے راستے کے کنارے گرے چند پرندے آئے اور وہ دانے چگ گئے۔ 5 چند دانے پتھریلی زمین پر گرے اس زمین پر زیادہ مٹی نہ تھی۔ زمین گہری نہ ہونے کی وجہ سے بہت جلد ہی اگ گئے۔ 6 لیکن جب سورج اوپر چڑھا گہری جڑیں نہ ہونے کی وجہ سے وہ پودے سوکھ گئے۔ 7 چند اور دانے خار دار جھاڑیوں میں گرے ,خار دار جھاڑیاں پھلنے پھولنے کے بعد اچھے پودوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جس کی وجہ سے وہ پودے کوئی پھل نہ دیئے۔ 8 چند دُوسرے دانے زرخیز زمین پر گرے۔ وہ دانے اُگے اور آگے بڑھ کر پھل دار ہوئے۔ ان میں چند درخت تیس گنا اور چند ساٹھ گنا اور دوسرے چند درخت سو گنا زیادہ پھل دیئے۔” 9 تب یسوع نے کہا ، “تم لوگ جو میری باتوں کو سن رہے ہو غور سے سنو!” یسوع کا کہنا کہ اسنے تمثیلوں کا استعمال کیوں کیا 10 جب یسوع اکیلے تھے تو اس کے بارہ رسولوں [a] اور اس کے دیگر شاگردوں نے ان تمثیلوں کی بابت ان سے پوچھا، 11 یسوع نے کہا ، “خدا کی بادشاہت کی سچائی کاراز صرف تم سمجھ سکتے ہو لیکن دوسرے لوگوں کو میں تمثیلوں ہی کے ذریعے ہر چیز سمجھا تا ہوں۔ 12 “تا کہ، وہ دیکھیں گے، دیکھتے ہی رہینگے لیکن حقیقت میں کبھی نہیں پہچان پائینگے۔ وہ سنیں گے، سنتے رہیں گے لیکن کبھی نہیں سمجھ پائینگے۔ اگر وہ دیکھینگے اور سمجھیں گے ,تو شاید بدل سکتے ہیں اور معافی مل سکتی ہے۔” یسعیاہ ۶:۹۔۱۰ بوئے ہوئے دانوں سے متعلق یسوع کی وضاحت 13 تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ، “کیا تم نے اس تمثیل کو سمجھا اگر تم اس تمثیل کو نہ سمجھے تو پھر دوسری کونسی تمثیل کو سمجھو گے؟ 14 کسان جو بوتا ہے اس کی نسبت ویسا ہی ہے جو خدا کی تعلیمات کو لوگوں میں تبلیغ کرتا ہے۔ 15 کچھ لوگ خداوند کی تعلیمات سنتے ہیں۔ لیکن شیطان ان میں ڈالے گئے کلام کو نکال کر باہر کردیتا ہے اور یہ لوگ راستے کے کنارے بوئے ہوئے بیج کی نمائند گی کرتے ہیں۔ 16 اور کچھ دوسرے لوگ جو خداوند کا کلام سنتے ہیں اور خوشی سے جلدی قبول بھی کر لیتے ہیں۔17 لیکن وہ اس کلام کو اپنے دل کی گہرائی میں جڑ پکڑنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ وہ اس کلام کو تھوڑی دیر کے لئے ہی رکھتے ہیں۔اس کلام کی نسبت سے ان پر کوئی مصیبت آئے یا ان پر کوئی ظلم و زیادتی ہو تو وہ اس کو بہت جلد ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ انکی تمثیل پتھریلی زمین پر بیج گرنے کی طرح ہے۔ 18 اور چند لوگ کانٹے دار جھاڑیوں کے بیچ بوئے ہوئے بیج کی طرح ہیں یہ لوگ کلام کو تو سنتے ہیں۔19 لیکن زندگی کے تفکرات، دولت کا لالچ اور کئی دوسری آرزوئیں ان کے دلوں میں اتری بات کو بڑھنے سے روکتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کی زندگی میں یہ کلام پھل دار نہیں ہوتا۔ 20 “اور بعض لوگ اس بیج کی طرح ہوتے ہیں جو زرخیز زمین پر گرے ہوں جب وہ کلام کو سنتے ہیں تو قبول کرکے پھل دیتے ہیں بعض مواقع پر تیس گنا زیادہ اور بعض اوقات ساٹھ گنا سے زیادہ اور بعض اوقات سو گنا سے زیادہ پھل دیتے ہیں۔” تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے ضرور استعمال کرو 21 پھر یسوع نے کہا، “کیا تم جلتے چراغ کوکسی برتن کے اندر یا کسی پلنگ کے نیچے رکھوگے؟ نہیں بلکہ چراغ کوچراغ دان میں رکھتے ہو۔ 22 ہر وہ چیز جو چھپی ہو ئی ہے اسے ظاہر کر دی جائے گی اور ہر وہ چیزجو پوشیدہ اور راز میں ہو اس پر سے پردہ اٹھا دیا جائیگا اور وہ واضح ہوجائیگی۔ 23 میری بات سننے والے توجہ سے سنو! 24 تم جن باتوں کو سن رہے ہو غور سے سنو۔تم جن ناپُوں سے ناپتے ہو ان ہی میں تم ناپے جاؤگے تم نے جتنا دیا ہے اس سے بڑھ کر وہ دینگے۔ 25 جس کے پاس کچھ ہے اس کو اور زیادہ دیا جائیگا۔ جس کے پاس کچھ نہ ہو اس سے جو بھی ہے لے لیا جائیگا۔” بوئے ہوئے دانے کی نسبت سے یسوع مسیح کی تمثیل 26 پھر یسوع نے کہا، “خدا کی بادشاہت زمین میں تخم ریزی کر نے والے آدمی کی مانند ہے۔ 27 کسان سو رہا ہو یا جاگتا ہو دانہ رات دن بڑھتا ہی رہتا ہے۔ کسان نہیں جانتا کہ دانہ کس طرح بڑھتا ہے۔ 28 زمین پہلے پودے کو پھر بالیوں کو اور اسکے بعد دانوں سے بھری بالی کو خود بخود پیدا کرتی ہے۔ 29 پھر کہا جب بالی میں دا نہ پختہ ہوتا ہے تو کسان فصل کاٹتا ہے “اس کو فصل کاٹنے کا زمانہ کہتے ہیں۔” خداوند کی باد شاہت رائی کے دا نے کی طرح ہے 30 پھر یسوع نے کہا ، “خدا کی باد شاہت کے بارے میں وضاحت کرنے کے لئے میں تم کو کونسی تمثیل دوں؟ 31 اس نے کہا خدا کی باد شاہت را ئی کے دا نہ کی مانند ہو تی ہے تم زمین میں جن دانوں کو بوتے ہو ان میں رائی ایک بہت چھوٹا دا نہ ہے۔ 32 جب تم اس دا نے کو بوتے ہو تو وہ خوب بڑھتا ہے اور تمہارے باغ کے دیگر پیڑوں میں وہ بہت بڑا ہوتا ہے اس کی بڑی بڑی شاخیں ہو تی ہیں۔ جنگل کے پرندے وہاں آکر اپنے گھونسلے بنا تے ہیں۔ اور سورج کی گرمی سے محفوط ہو تے ہیں۔” 33 یسوع ایسے بیشمار تمثیلوں کے ذریعے بہ آسانی سمجھ میں آنے والی باتوں کی تعلیم دیتے رہے۔34 یسوع ہمیشہ تمثیلوں کے ذریعہ لوگوں کو تعلیم دیتے رہے لیکن جب ان کے شاگرد ان کے سامنے ہوتے تو ان کو وہ سب کچھ وضاحت کرکے سمجھا تے تھے۔ یسوع کے حکم کی تعمیل میں آندھی کی اطاعت گزاری 35 اس روز شام یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،“میرے ساتھ آؤ جھیل کے اس کنارے پر جائینگے۔”36 یسوع اور انکے شاگرد وہاں کے لوگوں کو وہیں پر چھوڑ کر چلے گئے۔ جس کشتی میں بیٹھ کر یسوع تعلیم دے رہے تھے وہ اسی کشتی میں چلے گئے۔ ان کے لئے دوسری بہت سی کشتیاں موجود تھیں۔ 37 وہ جا ہی رہے تھے کہ جھیل پر بھیا نک آندھی چلنی شروع ہو گئی۔ اونچی اونچی لہریں کشتی سے ٹکرا نے لگیں۔ کشتی تقریباً پانی سے بھر گئی۔ 38 یسوع کشتی کے پچھلے حصّے میں تکیہ پر سر رکھکر سو رہے تھے شاگرد ان کے قریب جا کر انہیں جگایا اور انہیں کہا ، “اے استاد! کیا آپکا ہم سے تعلق نہیں؟ ہم پانی میں ڈوبے جا رہے ہیں۔” 39 یسوع نے نیند سے بیدار ہوکر آندھی اور لہروں کو حکم دیا، “پرُ جوش نہ ہو خاموش رہو تب آندھی تھم گئی اور جھیل پر موت کا سا سکوت چھا گیا۔ 40 یسوع نے اپنے شاگر دوں سے کہا، “تم کیوں گھبراتے ہو؟ کیا تم میں ابھی یقین پیدا نہیں ہوا ۔” 41 شاگرد خوفزدہ ہو گئے اور ایک دوسرے سے کہا، “یہ کون ہو سکتا ہے؟ ہوا اور پانی پر بھی اس کا تصّرف ہے۔” Footnotes: a. مرقس 4:10 رسولوں یسوع نے اپنے لئے ان خا ص مددگاروں کو چن لیاتھا- مرقس 5 بدروح سے متاثر آدمی کو نجات 5 یسوع اور اس کے شاگرد جھیل کے پار گراسینیوں کے ملک میں گئے۔ 2 یسوع جب کشتی سے باہر آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی قبروں سے نکل کر اس کے پاس آیا اس پر بد روح کے اثرات تھے۔ 3 وہ قبروں میں رہتا تھا اس کو باندھ کر رکھنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا اس کو زنجیروں میں جکڑ دینا بھی کوئی فائدہ مند ثابت نہ ہوا۔ 4 لوگوں نے کئی مرتبہ اس کے ہاتھ پیر باندھنے کیلئے زنجیروں کا استعمال کیا۔ لیکن وہ ان کو اکھا ڑ پھینک دیا۔کسی میں اتنی قوّت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں کرے۔ 5 وہ رات دن قبرستان میں قبروں کے اطراف اور پہاڑوں پر چلتا پھرتا تھا اور چیختے ہوئے اپنے آپ کو پتھروں سے کچل دیتا تھا۔ 6 یسوع اس سے بہت دور کے فاصلے پر تھے اس شخص نے اُسے دیکھا اور دوڑ تے ہوئے جاکر اس کے سامنے دراز ہوا آداب بجا لایا اور سجدہ کیا 7-8 یسوع نے اس سے کہا، “اے بد روح اس کے اندر سے تو باہر آجا”اس شخص نے اونچی آواز میں چلّا تے ہوئے کہا، “اور عرض کیا اے یسوع سب سے عظیم خدا کا بیٹا مجھ سے تو کیا چاہتا ہے ؟ خداوند کی قسم کھا کر کہتا ہوں مجھے تکلیف نہ دے۔” 9 پھر یسوع نے اس سے پوچھا، “تیرا نام کیا ہے؟”اس نے جواب دیا “میرا نام لشکر [a] ہے” کیوں کہ مجھ میں کئی بد روحیں ہیں۔ 10 اس آدمی کے اندر کی بدروحیں یسوع سے بار بار التجا کرنے لگیں کہ مجھے اس علاقے سے باہر نکا لا نہ جا ئے۔ 11 وہاں سے قریب پہاڑی پر سؤروں کا ایک غول چر رہا تھا۔ 12 بد روحوں نے یہ کہتے ہوئے یسوع سے عرض کیا ، “ہم سب کو سؤروں کے ساتھ بھیج دے۔ اور ہمیں ان میں داخل ہونے کی اجازت دے ۔” 13 جونہی ان کو یسوع سے اجا زت ملی تو وہ اس آدمی میں سے نکل کر سؤروں میں گھس گئی۔ تب تمام سؤر پہاڑ سے اتر کر جھیل میں گر کر ڈوب گئے۔ اس غول میں تقریباً دو ہزار سؤر تھے۔ 14 سؤر کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ شہر میں آئے اور باغات میں گئے اور لوگوں کو واقف کرایا۔ تب لوگ جو واقعہ پیش آیا اس کو دیکھنے کے لئے آئے۔ 15 وہ یسوع کے پاس آئے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی جو مختلف بد روحوں سے متاثر تھا اور کپڑے پہنے ہوئے وہاں بیٹھا ہے۔ وہ آدمی ہوش و حواس میں تھا وہ لوگ اس کو دیکھ کر ڈر گئے۔ 16 بعض لوگ وہاں موجود تھے اور یسوع نے جو کیا اس کو دیکھا ان لو گوں نے دوسرے لوگوں سے کہا کہ اس شخص کو جس کے اندر بد روحیں ہیں اُس کو کیا پیش آیا۔اور انہوں نے سؤروں کے بارے میں بھی کہا۔ 17 تب لوگوں نے یسوع کو اپنا ملک چھوڑ کر جا نے کی گزارش کی۔ 18 جب یسوع وہاں سے جانے کے لئے کشتی میں سوار ہو نے کی تیّاری کر رہے تھے تو اس وقت وہ آدمی جو بد روحوں سے نجات پایا تھا۔یسوع سے درخواست کی کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔ 19 لیکن یسوع نے اس کو اپنے ساتھ لے جا نے سے انکار کردیا اور کہا ، “تو اپنے گھر جا اور اپنے دوستوں کے پاس جا۔ اور خدا وند نے تیرے ساتھ جو بھلائی کی ہے اور اس نے تیرے ساتھ جو مہربانی کا سلوک کیا ہے ان کو بتا۔” 20 اس وقت وہ وہاں سے چلا گیا اور یسوع نے اس کے ساتھ جو احسان کیا تھا اسے اس نے دکپُلس [b]کے لوگوں کو معلوم کرا دیا۔ تو وہ لوگ نہایت متعجب ہوئے۔ مری ہوئی لڑکی کوزندگی دینااور بیمار عورت کو شفا یاب کرنا 21 یسوع دوبارہ کشتی میں جھیل کے اس پارکنا رے پہنچے جھیل کے کنارے بہت سارے لوگ ان کے اطراف جمع ہو گئے۔ 22 یہودی عبادت خانہ کا ایک عہدیدار وہاں آیا۔اس کا نام یائر تھا اس نے یسوع کو دیکھااور اس کے سامنے گر کر سجدہ کیا اور بہت التجا کی۔ 23 “میری چھو ٹی بیٹی مر رہی ہے برائے مہر بانی آپ آئیں اور اپنے ہاتھوں سے اس کو چھو ئیں تب وہ صحت یاب ہوجائیگی اور پھر سے جی سکے گی۔” 24 یسوع عہدیدار کے ساتھ گئے۔کئی لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے اور وہ انکے اطراف دھّکا پیل کر رہے تھے۔ 25 ان لوگوں میں ایک عورت تھی جسے بارہ سال سے خون جاری تھا۔ 26 وہ بہت تکلیف میں مبتلا تھی۔ اس کو تکلیف سے نجات دلانے کے لئے بہت سے طبیبوں نے نہایت کوشش کی اس کے پاس جو روپیہ پیسہ تھا وہ سب خرچ ہو گیا۔ اس کے با وجود وہ صحت نہ پائی۔ اس کا مرض بد تر ہو رہا تھا۔ 27 اس کو یسوع کے بارے میں معلوم ہوا اس لئے وہ لوگوں کی بھیڑ میں پیچھے سے آکر ان کے چغے کو چھوئی۔ 28 اس خاتون نے سوچا کہ “ان کا لباس چھونا کافی ہے میں صحت مند ہو جاؤنگی۔” 29 چھو تے ہی اس کا جاری خون رک گیا اور اپنی صحت یابی کا اسے احساس ہوا۔ 30 یسوع نے محسوس کیا کہ اس میں سے کچھ قوّت چلی گئی ہے اور وہ وہیں پر ٹھہر کر پیچھے مڑکر دیکھا اور پوچھا ، “میرے لباس کو کس نے چھوا ہے ؟” 31 شاگردوں نے کہا، “آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجمع آپ پر ہر طرف سے گر پڑ رہے ہیں ایسے میں آپ پوچھ رہے ہو کہ مجھے کون چھوا ؟” 32 اس نے چاروں طرف نگاہ کی تا کہ جس نے یہ کام کیا تھا اسے دیکھے۔ 33 عورت کو معلوم تھا کہ اس کو شفا ء ہوگئی ہے اس وجہ سے وہ عورت کھڑی ہوکر ڈرتی ہوئی یسوع کے سامنے آئی اور سجدہ میں گر گئی اور سارا حال سچ سچ بتادی۔ 34 یسوع نے اس سے کہا ، “بیٹی تیرے عقیدہ ہی کی وجہ سے تجھے شفا ہوئی ہے اطمنان و تسلّی سے جا۔ اس کے بعد تجھے اس بیماری کی کوئی تکلیف نہ ہوگی۔” 35 یسوع وہاں پر باتیں کرہی رہے تھے کہ اسی اثناء میں چند لوگ یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار یائر کے گھر سے آکر اس سے کہا ، “تیری بیٹی مر گئی ہے۔ اب ناصح کو تکلیف دینے کی ضرورت نہیں ہے۔” 36 لیکن یسوع نے ان کی با توں پر توجہ دیئے بغیر یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار سے کہا ، “تو گھبرا مت صرف یقین و عقیدہ رکھ۔” 37 یسوع اپنے ساتھ پطرس ، یعقوب ،اور یعقوب کے بھائی یوحنّا کو آنے کی اجازت دی۔ 38 یسوع اور یہ شاگرد یہودی عبادتخا نہ کے عہدیدار یائر کے گھر گئے۔ یسوع نے دیکھا کہ وہاں بہت سارے لوگ زارو قطار رورہے ہیں اور وہاں پر بہت زیادہ شور تھا۔ 39 یسوع گھر میں داخل ہوئے اور اُن لوگوں سے کہا ، “تم سب کیوں رو رہے ہو ؟ اتنا شور کیو ں کر رہے ہو ؟ یہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوئی ہوئی ہے۔”40 لیکن ان سب لو گوں نے یسوع پر ہنسنا شروع کیا۔ یسوع نے ان تمام لوگوں کو گھر کے باہر بھیجا اور اس لڑکی کے ماں باپ کو لیکر اپنے شاگردوں کے ساتھ کمرے کے اندر گئے۔ 41 یسوع نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑکر اس سے کہا ، “تلیتا قومی” اس کے معنٰی “اے چھوٹی لڑکی اٹھ جا میں تجھ سے کہہ رہا ہوں۔” 42 فوراً لڑکی اٹھی اور چلنا پھر نا شروع کردی۔ اس کی عمر تقریباً بارہ سال تھی اس لڑکی کے والدین اور شاگرد بہت حیرت زدہ ہوئے۔ 43 یسوع نے اس وا قعہ کے بارے میں کسی سے بیان کر نے کے لئے لڑکی کے والدین کو سختی سے منع کیا اور اس لڑ کی کو کھانا کھلانے کے لئے کہا۔ Footnotes: a. مرقس 5:9 لشکر لشکر کے معنیٰ ۵۰۰۰ فوجوں کا فوجی دستہ b. مرقس 5:20 دکپُلس دکُپلس کے معنی دس گاؤں مرقس 6 اپنے وطن کے لئے یسوع مسیح کا سفر کرنا 6 یسوع وہاں سے نکل کر اپنے شاگردوں کے ساتھ اپنے وطن کو واپس ہوئے۔ 2 سبت کے دن یسوع نےیہودی عبادت خانہ میں تعلیم دی انکا بیان سن کر کئی لوگوں نے تعجب کیا اور کہا، “اس علم و معرفت کو اُس نے کہاں سے سیکھا ہے ؟ اس کو کس نے دیا ؟ اور اس کو یہ معجزے کی طاقت کہاں سے آئی؟3 یہ توصرف بڑھئی ہے۔اس کی ماں مریم ہے یہ یعقوب ،یوسیس ، یہوداہ اور شمعون کا بھائی ہے اس کی بہنیں یہاں ہمارے ساتھ ہیں۔” ان لوگوں نے یسوع کو قبول نہیں کیا۔ 4 یسوع نے لوگوں سے کہا ، “دُوسرے لوگ تو نبی کی تعظیم کرتے ہیں۔لیکن نبی کو اپنے وطن میں اور اپنے خاص لوگوں میں اور اپنے ہی گھر میں عزت نہیں ملتی۔” 5 یسوع اس گاؤں میں زیادہ معجزے نہ دکھا سکے۔اُس نے اپنے ہاتھوں کو چند بیماروں کے اوپر رکھ کر انکو تندرست کیا۔اس کے علاوہ اس نے کوئی معجزہ نہیں دکھا یا۔ 6 ان لوگوں میں عقیدہ کی پختگی نہ پاکر یسوع کو حیرت ہوئی۔تب یسوع نے ان علاقوں کے مختلف گاؤں میں جاکر لوگوں کو تعلیم دی۔ یسوع کا اپنے رسولوں کو مقصد پر بھیجنا 7 یسوع بارہ حواریوں کو ایک ساتھ بلا کر ان کی دو دو کی جوڑی بنا کر باہر بھیج دیا یسوع بد رُوحوں کو قبضہ میں رکھنے کا اختیار ان کو دے دیا۔ 8 یسوع نے ان سے کہا ، “تم سفر پر جا تے وقت اپنے ساتھ لاٹھی کے سوا اور کوئی چیزنہ لینا۔ نہ توشہ اور نہ کوئی تھیلی اور نہ تمہاری جیبوں میں کوئی پیسے رہیں۔9 جوتیاں پہنو اور تم جس لباس کو پہنے ہو بس وہی کافی ہے۔ 10 جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اس گاؤں کو چھوڑنے تک تم اس گھر میں رہو۔ 11 جس گاؤں میں تم کو قبول نہ کریں اور تمہاری تعلیمات کاا نکا ر کریں وہاں اپنے پیروں کی دھول اور گرد کو جھاڑ دو اور اس گاؤں کو چھوڑ دو۔یہ بات ان کے لئے انتباہ کی ہوگی۔” 12 شاگرد وہاں سے نکل کر دیگر مقاموں کو گئے اور لوگوں میں تبلیغ کی اور کہا کہ اپنے گنا ہوں سے تو بہ کرو۔ 13 بد رُوحوں سے متاثر بے شمار لوگوں کو شاگر دوں نے صحت بخشی اور کئی بیماروں کو تیل مَل کر صحتیاب کئے۔ ہیرودیس کا سوچنا کہ یسوع بپتسمہ دینے وا لا یو حنّا ہے 14 یسوع اب مشہور ہو چکے تھے ہیرو دیس باد شاہ کو اس کے متعلق معلوم ہوا چند لو گوں نے کہا، “وہ یو حنّا بپتسمہ دینے والا ، یہ پھر دو بارہ جی اٹھا ہے۔ اسی وجہ سے وہ معجز ے بتا نے کے لا ئق ہے۔” 15 پھر چند لوگوں نے کہا، “یہ ایلیاہ ہے” اور دوسرے لوگوں نے کہا ، “یسوع نبیوں کی طرح جو پہلے گزر چکے ہیں ، ایک نبی ہے۔” 16 ہیرو دیس بادشاہ نے یسوع کے بارے میں لوگوں سے کہی جا نے والی ان تمام باتوں کو سنا اور کہا ،“یوحنّا جس کا سر میں نے کٹوایا ہے کیا وہ اب پھر زندہ ہوکر آیا ہے؟” بپتسمہ دینے والا یوحنّا کے قتل کئے جا نے کی قسم 17 خود ہیرو دیس باد شاہ نے یوحنّا کو قید کر نے کیلئے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا تھا اس لئے وہ یو حنّا کو قید میں ڈال دیا۔ ہیرودیس نے اپنی بیوی ہیرودیاس کو خوش کر نے کے لئے ایسا کیا۔ہیرودیاس ہیرودیس کے بھا ئی فلپس کی بیوی تھی۔ لیکن بعد میں ہیرو دیس نے ہیرودیاس سے شادی کرلی۔ 18 یوحنا ّنے جو ہیرودیس سے کہا تھا ، “یہ تیرے لئے صحیح نہیں ہے کہ تو اپنے بھائی کی بیوی سے شادی کرے۔”19 اسی وجہ سے ہیرودیاس یوحنّا سے نفرت کرنے لگی۔اور اس کو قتل کروانا چاہا۔ 20 لیکن وہ ایسا نہ کر سکی۔ ہیرودیس یوحنّا کو قتل کرانے کے لئے خوفزدہ ہوا لوگوں نے یوحنا کو مقدس آدمی ،نیک اور شریف آدمی سمجھتے تھے یہ بات ہیرو دیس کو معلوم تھی۔ اسی وجہ سے ہیرودیس نے یوحنا کی حفاظت کی۔ہیرودیس جب یوحنا کی تبلیغ سنتا تھا تو بے چین ہو جا تا تھا۔ اس کے با وجود اس کی تعلیمات کو وہ پو رے اطمینان اور خوشی سے سنتا تھا۔ 21 ایک مرتبہ یو حنا کو مار ڈالنے کا سنہرا مو قع ہیرودیاس کو ملا۔ اس دن ہیرو دیس کی سا لگرہ کا دن تھا۔ ہیرودیس نے حکومت کے اہم عہدیداروں کو اور فوج کے سپہ سالا رکو اور گلیل کے قائدین کو کھا نے کی دعوت پر مدعو کیا تھا۔ 22 ہیرودیاس کی بیٹی اس کھا نے کی دعوت میں آکر رقص کر نے لگی۔ ہیرو دیس اور اس کے ساتھ کھا نا کھانے والو ں کو بہت خوشی ہوئی۔ اس وقت بادشاہ ہیرودیس نے اس لڑکی سے وعدہ کیا اور کہا ، “تجھے جو مانگنا ہے وہ مانگ لے میں تجھے عطا کرونگا۔” 23 پھر اس نے وعدہ لے کر کہا: “اگر میری سلطنت سے آدھی سلطنت کا مطالبہ بھی کرے تو میں تجھے دونگا۔” 24 لڑکی نے اپنی ماں کے پاس جاکر پوچھا ، “میں کیا مانگوں؟” اس کی ماں نے کہا بپتسمہ دینے والے یوحنا کا سر مانگ۔” 25 وہ لڑکی تیزی سے بادشاہ کے پاس گئی اور کہا ، “بپتسمہ دینے والے یو حنا کا سر ایک طبق میں اسی وقت دے۔” 26 ہیرودیس بہت رنجیدہ ہوا لیکن اس نے لڑکی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جو بھی مانگے گی اس کو دیا جائیگا سب لوگ جو ہیرو دیس کے ساتھ کھا نا کھا رہے تھے انہوں نے بھی سنا۔ اس لئے اس نے انکا ر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ 27 بادشاہ ہیرودیس یوحنا کا سر کاٹ کر لا نے کے لئے ایک سپا ہی کو روا نہ کیا اور اس نے قید خا نہ میں یو حنا کا سر کا ٹ کر۔ 28 طبق میں رکھ کر لا یا اور اس لڑکی کو دیا۔ اس نے اس سر کو اپنی ماں کو دیا۔ 29 اس واقعہ کو یوحنا کے شاگردوں نے جان لیا وہ لوگ آکر یو حنا کا جسم لے گئے اور اس کو ایک قبر میں رکھ دیا۔ یسوع کا پانچ ہزار سے زیا دہ لوگوں کو غذا کی تقسیم 30 یسوع نے جن رسو لوں کو تبلیغ کر نے کے لئے بھیجا تھا وہ واپس آ ئے اور جو کچھ انہوں نے کہا ان واقعات کو سنا یا۔ 31 یسوع اور ان کے شاگرد ایک ایسی جگہ پر تھے۔ جہاں بے حساب لوگ آ تے جاتے تھے۔اور ان کے شاگردوں کو کھا نے تک کے لئے وقت نہ رہتا تھا۔یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “میرے ساتھ چلو ہم پرُ سکون جگہ پر جا کر تھوڑا آرام کریں گے۔” 32 پس یسوع اور اس کے شاگرد کشتی پر سوار ہو ئے اور ایسی جگہ گئے جہاں لوگ نہیں تھے۔ 33 ان کو جا تے ہو ئے کئی لو گوں نے دیکھا انہیں معلوم تھا کہ وہ یسوع ہی تھے۔اس وجہ سے لوگ تمام قر یوں سے اس جگہ آکر اس کے وہاں آنے سے پہلے ہی مو جود تھے۔ 34 یسوع جب وہاں آیا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ ان کے انتظارمیں ہیں۔چرواہے بغیربکریوں کی طرح رہنے والوں کودیکھ کردکھی ہوئے اور ان کو کئی باتوں کی تعلیم دی۔ 35 پہلے ہی دیر ہو چکی تھی۔یسوع کے شاگرداس کے قریب آ ئے او ر ان سے کہا، “کو ئی بھی شخص اس جگہ بسر نہیں کر تا۔ اور بہت دیر ہو چکی ہے۔ 36 اسلئے لو گوں کو بھیج دیں تا کہ وہ اطراف واکناف کے باغات اور شہروں سے کھا نے کے لئے کچھ خریدیں”۔ 37 لیکن یسوع نے کہا ، “تم انہیں تھو ڑا سا کھا نا دے دو” شاگر دوں نے یسوع سے کہا، “ان لوگوں کے لئے ہم حسب ضرو رت رو ٹی کہاں سے لا ئیں۔ ہمیں اس کے لئے کم از کم دو سو دینار [a] چاہئے جس سے انہیں مطلوب غذا پہنچیے۔” 38 یسوع نے شاگردوں سے کہا، “تمہا رے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟ جاؤ اور دیکھو” شاگردوں نے جا کر گنا اور وا پس آئے اور کہا، “ہما رے پاس پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں۔” 39 تب یسوع نے شاگردوں سے کہا، “ہری گھاس پر لو گوں سے کہو کہ قطار باندھ کر بیٹھ جائیں۔”40 لوگ قطاریں بنا کر گروہ کی شکل میں بیٹھ گئے ہر ایک قطار میں پچا س سے سو تک لوگ تھے۔ 41 یسوع نے پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں نکال کر آسمان کی طرف دیکھا روٹی کے لئے خدا کا شکر ادا کیا اس کے بعد روٹیوں کو توڑ کر شاگردوں کو دیں اور ہدایت کی کہ اس کو لو گوں میں بانٹ دیں۔اسی طرح دو نوں مچھلیوں کو ٹکڑے کرکے لوگوں میں تقسیم کر نے کے لئے اپنے شاگر دوں کو دیا۔ 42 تمام لوگ شکم سیر ہو کر کھا ئے۔ 43 اس کے بعد لوگ جو پوری روٹیاں کھا نہ سکے بچی ہوئی روٹیاں اور مچھلیوں کو شاگر دوں نے جب ایک جگہ جمع کیا تو ان سے بارہ ٹو کریاں بھر گئیں۔ 44 وہاں تقریباً پانچ ہزار لوگوں نے کھا نا کھایا۔ یسوع کا پا نی پر چلنا 45 تب یسوع نے اپنے شاگر دوں کو کشتی میں سوار ہو نے کے لئے کہا۔ یسوع نے ہدا یت کی کہ وہ جھیل کے اس پار بیت صیدا جائیں اور کہا کہ تھوڑی دیر بعد وہ آئیگا۔ یسوع وہاں رک گئے تا کہ لو گوں کو گھر جا نے کے لئے سمجھایا جائے۔ 46 یسوع لو گوں کو رخصت کر نے کے بعد پہاڑ پر گئے تا کہ عبادت کی جا ئے۔ 47 اس رات کشتی جھیل کے بیچ میں تھی یسوع اکیلے ہی زمین پر تھے۔ 48 یسوع نے کشتی کو دیکھا جو جھیل میں بہت دور تھی اور وہ شاگرد ان کو کنا رے پر پہونچا نے کے لئے سخت جد و جہد کر رہے تھے۔ ہوا انکے مخا لف سمت میں چل رہی تھی صبح کے تین سے چھ بجے کے درمیا ن یسوع نے پا نی پر چلتے ہوئے کشتی کے قریب آکر ان سے آگے نکل جا نا چا ہا۔ 49 لیکن پا نی پر چلتے ہوئے جب ان کے شا گر دوں نے اسے دیکھا تو اسے بھوت سمجھا اورخوف کے مارے چلّا نے لگے۔ 50 تمام شاگردوں نے جب یسوع کو دیکھا تو بہت گھبرائے۔ لیکن یسوع نے ان سے باتیں کیں اور کہا ، “فکر مت کرو! یہ میں ہی ہوں! گھبراؤ مت۔” 51 پھر یسوع اس کشتی میں ان کے ساتھ سوار ہوئے تب ہوا رک گئی شاگر دوں کو حیرت ہوئی۔ 52 پانچ روٹیوں سے پانچ ہزار لوگوں کے کھا نے کا واقعہ کو دیکھ چکے تھے لیکن اب تک اس کے معنی سمجھ نہ سکے۔ ان کے ذہن بند ہو گئے تھے۔ یسوع کا کئی لوگوں کو شفا ء بخشنا 53 یسوع کے شاگر د جھیل پار کر کے گنیّسرت گاؤں کو آئے اور کشتی جھیل کے کنا رے باندھ دی۔ 54 وہ جب کشتی سے باہر آئے تو لوگوں نے یسوع کو پہچان لیا۔ 55 یسوع کی آمد کی اطلاع دی۔ اس علاقے میں رہنے والے سبھی لوگ دوڑنے لگے جہاں بھی لوگوں نے سنا کہ یسوع آئے تو لوگ بیماروں کو بستروں سمیت لا رہے تھے۔ 56 یسوع اس علا قے کے شہر وں گاؤں اور باغات کو گئے وہ جس طرف جا تے تھے لوگ بازاروں میں بیماروں کو بلا لا تے تھے اور وہ یسوع سے گزارش کرتے تھے کہ ان کو اپنے چغہ کے دا من کو چھو نے کا موقع دے۔ وہ تمام لوگ جنہوں نے اس کے چغے کو چھوا تھا وہ تندرست ہو گئے۔ Footnotes: a. مرقس 6:37 دوسودینار دوسو دینار ایک آدمی کوملنے والی سالانہ آمدنی کے برا بر، دینار مساوی ایک آدمی کے روز کی مزدوری۔ مرقس 7 خدا کی مذ ہبی کتاب اور لو گوں کے اپنے بنا ئے ہو ئے اصول 7 چند فریسی اور کچھ شریعت کے معلّمین یروشلم سے آئے وہ یسوع کے اطراف جمع ہوئے۔ 2 فریسیوں اور شریعت کے معلّمین نے دیکھا کہ یسوع کے چند شاگرداپنے ہاتھوں کو دھوئے بغیر “ گندے ہاتھوں” سے کھانا کھا تے ہیں۔ 3 فریسی اور ُدوسرے تمام یہودی لوگ نے ایک خاص طریقے سے ہاتھوں کو دھو ئے بغیر کھانا نہ کھا تے تھے وہ اپنے آبا ء و اجداد سے آ ئے ہو ئے اصولوں کی تعمیل کر تے تھے۔4 جب بازار میں وہ کسی بھی چیز کو خرید تے تو بطور خاص اس کو دھو ئے بغیر ہر گز نہیں کھا تے تھے۔ لو ٹا ،کٹورہ، برتن وغیرہ دھو نے کے وقت بھی وہ اپنے بڑوں سے آئے ہو ئے اصولوں کی پا بندی کرتے تھے۔ 5 فریسیوں اور شریعت کے معلّمین نے یسوع سے پوچھا، “ہمارے بزرگوں کے رواج کو توڑ تے ہو ئے آ پکے شاگرد گندے ہاتھوں سے کھانا کیوں کھاتے ہیں ؟” 6 یسوع نے کہا، “تم سب ریا کار ہو۔تمہارے بارے میں یسعیا ہ نے بہت خوب کہا ہے: میری تعظیم کر تے ہو ئے یہ لوگ کہتے ہیں لیکن ان کے دل مجھ سے دور ہیں۔ 7 اور میری عبا دت کر تے ہیں کوئی فائدہ نہیں ہے بیکار ہے کیونکہ وہ انسانی اصول ہی کی یہ تعلیم دیتے ہیں۔ یسعیاہ ۲۹ :۱۳ 8 اس نے کہا تم نے خدا کے حکم کو رد کیا۔ لیکن لو گوں کی تعلیمات کی پیر وی کر رہے ہو۔” 9 تب یسوع نے ان سے کہا، “بڑی چالا کی سے خداوند کے احکامات کا انکار کرتے ہو اور اپنی تعلیمات کی تعمیل کر تے ہو۔ 10 موسیٰ نے کہا تھا تمہیں چاہئے کہ اپنے ماں باپ کی تعظیم کریں [a] کو ئی بھی شخص اپنے ما ں باپ کو برا بھلا کہا تو اس کو موت کی سزا ہو نی چاہئے۔ [b] 11 لیکن تم کہتے ہو کو ئی بھی اپنے ماں باپ سے یہ کہہ سکتا ہے “میرے پاس کچھ تھا جس سے میں تمہا ری مدد کر سکتا ہوں مگر میں یہ تحفہ خدا کے لئے رکھ چکا ہوں۔ 12 اس طرح اس کو اجا زت نہیں کہ اپنے ماں باپ کے لئے کچھ کر سکے۔ 13 اس لئے تم تعلیم دیتے ہو کہ خدا کے احکامات کی تعمیل اہم نہیں ہے تم سوچتے ہو کہ تم جن روحوں کی تعلیم لوگوں کو دیتے ہو اس کا بجا لا ناضروری ہے۔” 14 یسوع مسیح نے پھر دوبا رہ لوگوں کو اپنے پاس بلا کر کہا ، “میں جو بھی کہہ رہا ہوں اس کو تم سب سنو اور اس کو سمجھو۔ 15 کو ئی چیز ایسی نہیں ہے جو کہ با ہر سے انسان کے اندر داخل ہو کر اس کو گندہ اور نا پاک کر دیتی ہو اور اس نے کہا مگر ایک انسان کو اس کے اندر سے آنے والے معاملات و ارادے ہی گندے اور نا پاک بنا دیتے ہیں۔” 16 [c]- 17 پھر یسوع نے لو گوں کو وہیں پر چھوڑا اور گھر چلے گئے شاگردوں نے اس تمثیل کی با بت ان سے پوچھا۔ 18 یسوع نے جواب دیا، “کیا دوسروں کی طرح تم کو یہ سمجھ میں نہیں آتا؟ ایک آدمی کے اندر جا نے وا لی کو ئی چیز بھی کسی کو گندہ اور نا پاک نہیں کر تی کیا یہ بات تمہیں معلوم نہیں۔ 19 اس نے کہا کہ کو ئی بھی غذا انسانی جسم میں پیٹ کے اندر کے حصّہ میں داخل ہو تی ہے نہ کہ دل میں۔ اس کے بعد وہ ایک نالی کے ذریعہ وہاں سے با ہرنکل جاتی ہے۔”اس طرح کھائی جانے والی کو ئی بھی غذا گندی اور نا پاک نہیں ہو تی۔ 20 اس کے علاوہ یسوع نے ان سے کہا، “ایک انسان کے اندر آ نے والے ارادے ہی اس کو گندہ اور نا پاک بنا تے ہیں۔ 21 یہ ساری برُی چیزیں ایک انسان کے باطن میں انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہیں ،دماغ میں برے خیالات بد کا ریاں ، چوری اور قتل ،۔ 22 زنا کاری پیسوں کی حرص، برا ئی ،دھوکہ ر یا کاری، حسد، چغل خوری، غرور اور بے وقوفی۔ 23 تمام خراب خصلتیں برے خیالات و خراب باتیں انسان کے اندر سے آ کر آدمی کو گندہ اور نا پا ک بنا تی ہیں۔” یسوع کا غیر یہودی عورت کی مدد کرنا 24 یسوع اس جگہ کو چھوڑ کر صور شہر کے اطراف و اکناف والے علا قے میں گئے۔ یسوع وہاں ایک مکان کے اندر گئے۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ جس مقام پر رہے گا وہاں کے لوگوں کو اس کے موجود ہو نے کا علم نہ ہو۔ اس کے با وجود بھی اس کو چھپ کر رہنا ممکن نہ ہوا۔ 25 جلد ہی ایک عورت کو معلوم ہوا کہ یسوع وہاں ہے۔ اس کی چھوٹی بیٹی کو بد روح کے اثرات ہوئے تھے۔ اس وجہ سے وہ عورت یسوع کے پاس آئی اور اس کے قد موں پر گر کر اس نے سجدہ کیا۔ 26 وہ سیریا کے علا قے فینیلکی میں پیدا ہوئی تھی وہ یو نا نی تھی۔ اس نے یسوع سے عرض کیا کہ میری بیٹی پر جو بد روح کے اثرات ہیں اس کو وہ با ہر نکال دے۔ 27 یسوع نے اس عورت سے کہا ، “لڑکوں کو دی جا نے والی روٹی کتّوں کے سامنے ڈا ل د ینا منا سب نہیں۔ اور اپنی پسند کی غذا بچّوں کو پہلے کھا نے دیں۔” 28 عورت نے جواب دیا ، “خداوند یہ سچ ہے۔ لیکن بچّوں سے نہ کھا ئے گئے اور انکے گرائے ہوئے روٹی کے ٹکڑے میزکے نیچے رہنے وا لے کتّے تو کھا سکتے ہیں۔” 29 اس وقت یسوع نے اس عورت سے کہا ، “تو نے بہت ہی اچھا جواب دیا جا تیری بیٹی پر سے بد روح کا سا یہ دور ہو گیا ہے” 30 وہ عورت جب اپنے گھر گئی تو کیا دیکھتی ہے کہ اس کی لڑ کی بستر پر سوئی ہوئی ہے اور اس پر سے بد روح کے اثرات دور ہو گئے ہیں بہرے کی شفا یابی 31 پھر یسوع تائیر شہر کے اس علا قے کو چھوڑ کر صیدا شہر کی راہ سے دکپلس کے علاقے سے گزرتے ہوئے گلیل کی جھیل کو پہنچے۔ 32 جب وہ وہاں تھے تو لو گوں نے ایک بہرے اور ہکلے کو بلا لائے اور یسوع سے عرض کیا کہ اس پر ہاتھ پھیر کر اس کو تندرستی دیں۔ 33 یسوع نے اس کو بھیڑ میں سے الگ لے گئے اور اپنی انگلیاں اس کے کا نوں میں ڈالیں اور تھوک کر اس کی زبان کو چھوا۔ 34 پھر آسمان کی طرف دیکھ کر آہ بھری اور کہا، افتح افتح یعنی “کھل جا”35 اسی وقت اس کے کان کھل گئے۔ زبان لچکدار ہوئی اور وہ بالکل صاف اور واضح آواز میں بات کر نے لگا۔ 36 یسوع نے لوگوں کو سختی سے حکم دیا کہ وہ کسی سے اس واقعہ کو نہ بتا ئیں اپنے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو نے پا ئے کہ یسوع لوگوں کو ہدایت کر تے تھے۔ اس کے باوجود لوگ اس کے بارے میں اور زیادہ تشہیر کرتے۔ 37 لوگوں نے بہت حیرت زدہ ہو کر کہا ، “یسوع ہر چیز اچھے انداز سے کرتے ہیں وہ بہرے لوگوں کو سننے کے اور گونگوں کو بات کرنے کے قابل بنا تے ہیں۔” Footnotes: a. مرقس 7:10 اِقتِباس خروج ۱۲:۲۰ استثنا ۱۶:۵ b. مرقس 7:10 اِقتِباس خروج ۱۷:۲۱ c. مرقس 7:16 آیت۱۶ کچھ یونانی صحیفوں میں آیت۱۶ کو جوڑا گیا ہے جو اس طرح ہے “تم لوگ جو میں کہتا ہوں سنو” مرقس 8 یسوع کا چار ہزار سے زیادہ لوگوں میں کھا نا تقسیم کرنا 8 ایک اور موقع پر یسوع کے ساتھ کئی لوگ تھے ان کے پاس کھا نے کو کچھ نہ تھا یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلا یا اور کہا۔ 2 “میں ان لوگوں پر بہت ترس کھا تا ہوں یہ تین دنوں سے میرے ساتھ ہیں ان کے پاس کھا نے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ 3 اور کہا کہ یہ کچھ کھا ئے بغیر گھر کے لئے سفر شروع کریں تو را ستے میں نڈھال ہو جا ئینگے۔ ان لوگوں میں بعض وہ ہیں جو بہت دور سے آ ئے ہیں۔” 4 شا گر دوں نے جواب دیا، “یہاں سے قریب کو ئی گاؤں نہیں ہے۔ ان لوگوں کے لئے ہم اتنی رو ٹیاں کہاں سے فرا ہم کریں کہ جو سب کے لئے کا فی ہوں۔” 5 یسوع نے ان سے پو چھا، “تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں ؟” شاگردوں نے جواب دیا ، “ہمارے پاس سات روٹیاں ہیں۔” 6 یسوع نے ان لوگوں کو زمین پر بیٹھنے کے لئے کہا۔ اس کے بعد ان سات روٹیوں کو لیکر اور خدا کا شکر ادا کر کے ان کوتوڑ کر اپنے شاگر دوں کو دیا تا کہ ان لوگوں میں تقسیم کردے۔ شاگردوں نے ایسا ہی کیا۔ 7 شاگر دوں کے پاس چند چھوٹی مچھلیاں تھیں۔ یسوع نے ان مچھلیوں کے لئے خدا کا شکر ادا کر کے ان لوگوں میں بانٹ دینے کے لئے شا گردوں کو ہدا یت دی۔ 8 تمام لوگ کھا نا کھا کر سیر ہو گئے۔ اس کے بعد پھر جب شاگردوں نے کھا نے کے بعد بچے ہوئے تمام ٹکڑوں کو جمع کیا تو اس سے سات ٹوکریاں بھر گئیں 9 وہاں کھا نا کھا نے والوں میں کو ئی چار ہزار مرد آدمی تھے جب وہ کھا نے سے فارغ ہوئے تو یسوع نے ان کو بھیج دیا۔ 10 پھر اس نے اپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر دلمنو تہ کے علا قے میں گئے۔ فریسیوں کا یسوع کو آز ما نے کی کو شش 11 فریسی یسوع کے نز دیک آکر اس کو آز ما نے کے لئے اس سے مختلف سوالات کر نے لگے۔انہوں نے یسوع سے پو چھا ، “اگر تو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے تو کو ئی آ سما نی نشا نی بتا یا معجزہ دکھا؟ 12 تب یسوع نے گہری سانس لے کر ان سے کہا، “تم لوگ معجزہ کو کیوں پوچھتے ہو ؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں تمہیں کوئی آسمانی نشانی دکھا ئی نہیں جائیگی۔” 13 ادھر یسوع فریسیوں کے پاس سے نکل کر کشتی کے ذریعہ جھیل کے اس پار دو بارہ چلے گئے۔ یہودی قائد کے بارے میں یسوع کی ہدایت و تا کید 14 شاگردوں کے پاس کشتی میں صرف ایک ہی روٹی تھی وہ زیادہ روٹیاں لا نا بھول گئے تھے۔ 15 یسوع نے ان کو تا کید کی “ہوشیار رہو فریسی اور ہیرو دیس کی خمیر کے بارے میں خبر دار رہو۔” 16 اس بات پر شاگر د آپس میں گفتگو اور بحث کرنے لگے اور سوچا کہ “ہمارے پاس روٹی نہ ہو نے کی وجہ سے انہوں نے ایسا کہا ہے۔” 17 یسوع کو معلوم ہو گیا کہ شاگرد اس بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس نے ان سے کہا ، “روٹی کے نہ ہو نے پر تم گفتگو کیوں کرتے ہو ؟ کیا تم دیکھ نہیں سکتے کیا تمہیں سمجھ میں نہیں آتا ؟ کیا تمہارے دل ایسے سخت ہو گٹے ہیں۔ 18 اگر چہ کہ تم آنکھیں رکھتے ہو دیکھ نہیں سکتے اور تم کان رکھتے ہو سن نہیں سکتے اس سے قبل ایک مرتبہ جب کہ ہمارے پاس زیادہ مقدار میں روٹیاں نہ تھیں تو میں نے اس وقت کیا کیا تھا یاد کرو؟ 19 میں نے پانچ ہزار آدمیوں کے لئے پانچ روٹیاں توڑ کر تمہیں دی تھیں کیا تمہیں یاد نہیں کھا نے کے بعد بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑوں کو کتنی ٹوکریوں میں بھردیا گیا تھا ۔ ان شاگردوں نے جواب دیا، “ہم نے انکو بارہ ٹوکریوں میں بھر دیا تھا۔” 20 میں نے چار ہزار لوگوں کے لئے سات روٹیاں توڑ کر دی تھیں یاد کرو۔ وہ کھا نے کے بعد بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑے تم نے کتنی ٹوکریوں میں بھر دیا تھا ؟ “اور کیا یہ بات تمہیں یاد نہیں ہے ” اس پر شاگردوں نے جواب دیا، “ہم سات ٹوکریاں بھر دیئے تھے۔” 21 یسوع نے ان سے پوچھا ، “میں نے جن کا موں کو انجام دیا ہے تم ان کو یاد رکھے ہو اسکے با وجود کیا تم ان کو نہیں سمجھتے ؟” یسوع کا بیت صیدا میں ایک اندھے کو بینائی دینا 22 یسوع اور اسکے شاگرد بیت صیدا کو آئے۔چند لوگوں نے یسوع کے پاس ایک اندھے کو لائے اور یسوع سے گزارش کرنے لگے کہ اس اندھے کو چھوئے۔ 23 تب یسوع اس اندھے کا ہاتھ پکڑ کر اس کو گاؤں کے باہر لے گئے۔ پھر یسوع نے اس کی آنکھوں میں تھوکا اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا ، “کیا تو اب دیکھ سکتا ہے ؟”۔ 24 اس اندھے نے سر اٹھایا اور کہا ، “ہاں میں لوگوں کو دیکھ سکتا ہوں وہ درختوں کی مانند دکھا ئی دیتے ہیں جو ادھر ادھر چل پھر رہے ہیں۔” 25 یسوع نے اپنا ہاتھ پھر دو بارہ اندھے کی آنکھوں پر رکھا تب اس نے اپنی آنکھوں کو پوری طرح کھولا۔ اس کی آنکھیں اچھی ہو گئیں وہ ہر چیزکو صاف دیکھنے لگا۔ 26 یسوع نے اس کو یہ کہکر بھیج دیا کہ تو سیدھا اپنے گھر چلا جا۔ “اور گاؤں نہ جا نا۔” پطرس کا اعلان کرنا کہ یسوع ہی مسیح ہے 27 یسوع اور اسکے شاگرد قیصریہ فلپی کے گاؤں میں چلے گئے۔ دوران سفر یسوع نے ان سے پوچھا “میرے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ؟”۔ 28 شاگردوں نے جواب دیا، “بعض لوگ تجھے بپتسمہ دینے والا یوحنا کہتے ہیں اور دیگر لوگ ایلیاہ اور کچھ لوگ تجھے نبیوں میں سے ایک کہتے ہیں۔” 29 یسوع نے ان سے پوچھا ، “میرے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟” پطرس نے جواب دیا “تو مسیح ہے۔” 30 یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ، “میں کون ہوں کسی سے نہ بتا نا”۔ یسوع کا اپنی موت کے بارے میں اعلان کرنا 31 تب یسوع اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے ہیں اور کہتے ہیں، “ابن آدم کو بہت سی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یہودی بزرگ قائدین کاہنوں کے رہنما اور شریعت کے معلّمین ابن آدم کو قتل کریں گے لیکن تیسرے دن وہ موت سے زندہ اٹھ آ ئیگا۔ 32 آئندہ پیش آنے والے سارے واقعات کو یسوع نے ان سے کہا اور اس نے کسی بات کو راز میں نہیں رکھا۔ پطرس یسوع کو تھوڑی دور لے گیا اور اس بات پر احتجاج کیا کہ “تو کسی سے ایسا نہ کہنا”۔ 33 تب یسوع نے اپنے شاگردوں کی طرف دیکھ کر پطرس کو ڈانٹ دیا کہ “اے شیطان میری نظروں سے دور ہوجا! تیرا انداز فکر لوگوں جیسا ہے خدا کے جیسا نہیں!۔” 34 پھر یسوع نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا۔ انکے شاگر د وہا ں پر موجود تھے۔ یسوع نے ان سے کہا، “اگر کوئی چا ہتا ہے کہ وہ میری پیروی کرے تو وہ اپنے آپ کو نفی کے مقام پر لائے اور اپنی صلیب کو اٹھا ئے ہوئے میری پیروی میں لگ جائے۔ 35 وہ جو اپنی جان بچا نا چاہتا ہے وہ اس کو کھو دیگا جو میری اور اس خوش خبری کی خاطر اپنی جان دیتا ہے وہ اس کی حفاظت کریگا۔ 36 ایک آدمی جو ساری دنیا کا مالک تو ہے لیکن اگر وہ اپنی جان کھوتا ہے تو پھر اس کو کیا فائدہ ؟ 37 ایک آدمی دوبارہ جان خرید نے کے لئے کیا دے سکتا ہے؟ 38 پھر یسوع نے کہا بد کار اور اس خراب نسل میں کوئی بھی اگر مجھ سے شرمائے گا تو جب ابن آدم اپنے باپ کے جلال اور فرشتوں کے ساتھ آئیگا تو وہ بھی اس سے شرمائیگا۔ مرقس 9 9 تب یسوع نے لوگوں سے کہا، “میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں۔ یہاں ٹھہرے ہوئے تم میں سے چند لوگ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ خدا کی سلطنت ، قدرت و اقتدار کے ساتھ رہے۔” یسوع موسٰی اور ایلیاہ کے ساتھ 2 چھ دن بعد ایسا ہوا کہ یسوع پطرس ،یعقوب ،اور یوحنا کو ساتھ لیکر اونچے پہاڑ پر چلے گئے وہاں ان کے سوائے اور کو ئی نہ تھا یہ شاگرد یسوع کو دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ بدل گیا۔ 3 یسوع کے کپڑے سفید چمک رہے تھے۔ اتنے سفید کپڑے تیّار کرنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا۔ 4 تب موسٰی اور ایلیاہ وہاں ظاہر ہوئے اور یسوع کے ساتھ باتیں کر نی شروع کیں۔ 5 پطرس نے یسوع سے کہا، “اے استاد ہمارا یہاں رہنا بہتر ہے۔ ہم یہاں تین شامیانے نصب کرینگے۔ ایک تیرے لئے ایک مو سیٰ کے لئے اور ایک ایلیاہ کے لئے۔” 6 پطرس نہیں جانتا تھا کہ کیا کہے کیو ں کہ وہ اور دیگر شاگرد بہت زیادہ خوف زدہ تھے۔ 7 تب ابر آیا اور ان پر سایہ فگن ہوا۔ اس بادل میں سے ایک آواز آئی “یہ میرا چہیتا بیٹا ہے اس کے فرماں بردار ہو جاؤ ۔” 8 تب پطرس، یعقوب اور یوحنا نے آنکھ کھول کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا صرف یسوع ان کے ساتھ وہاں تھے۔ 9 یسوع اور وہ شاگرد پہاڑ سے نیچے اتر کر واپس آ رہے تھے انہوں نے اس کو حکم دیا، “جو کچھ تم نے پہاڑ پر دیکھا ہے اس کو کسی سے نہ کہنا۔ ابن آدم کے مر کر پھر زندہ ہوکر آنے کا انتظار کرو۔” 10 اس طرح شاگردوں نے یسوع کی بات مانی اور جو کچھ دیکھا اس کے بارے میں کچھ نہ کہا۔ لیکن مر نے کے بعد جی اٹھنا اس کا مطلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں آپس میں باتیں کر نے لگے۔ 11 شاگردوں نے یسوع سے پوچھا، “شریعت کے معلّمین کہتے ہیں کہ ایلیاہ کو پہلے آنا چا ہئے اس کی وجہ کیا ہے ؟” 12 یسوع نے جواب دیا، “انکا کہنا درست ہے ایلیاہ کو پہلے آنا چاہئے۔ کیوں کہ جس طرح ہو نا چاہئے اس طرح وہ ہر چیز کو راستے پر لا ئے گا لیکن ابن آدم بہت سی تکالیف کو برداشت کریں گے اور لوگ اس کو حقیر جا نیں گے صحیفہ ایسا کیوں کہتا ہے ؟ 13 لیکن میں تمہیں کہتا ہوں ایلیاہ تو کبھی کا آ چکا ہے اور پھر لوگ اپنے دل میں جیسا چا ہا ویسے ہی اس کی برائی کی۔ اس کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی بات صحیفوں میں پہلے ہی لکھا ہوا تھا ۔” یسوع کا ایک بیمار لڑکے کو تندرست کر نا 14 پھر یسوع پطرس ،یعقوب اور یوحنا اور دوسرے شاگرد وں کے پاس گئے تو ان شاگردوں کے اطراف بہت سے لوگ جمع ہوئے تھے۔ شریعت کے معلّمین ان کے ساتھ بحث کر رہے تھے- 15 جب ان لو گوں نے یسوع کو دیکھا تو متعجب ہوئے اور اسکا استقبال کر نے کے لئے اس کے نزدیک پہنچے۔ 16 یسوع نے ان سے پوچھا ، “تم شریعت کے معلّمین کے ساتھ کیا گفتگوکر رہے تھے؟” 17 مجمع میں سے ایک آدمی نے کہا، “اے استاد! میرے بیٹے کو بد روح کا اثر ہو گیا ہے اس بد روح نے میرے بیٹے کی بات چیت کر نے کی صلاحیت روک لی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو آپ کے پاس لا یا ہوں۔ 18 وہ بد روح جب بھی اس پر قابض ہوتی ہے تو اس کو زمین پر گرا دیتی ہے میرا بیٹا منھ سے کف گرا تا ہے اور دانتوں کو پیستا ہے اور بہت ہی سخت بن جا تا ہے اس کو اس بد روح سے آزاد کرانے کے لئے میں نے تیرے شاگردوں سے پوچھا۔ لیکن یہ کام ان سے ممکن نہ ہو سکا ۔” 19 یسوع نے جواب دیا، “اے بے اعتقاد نسل میں کب تک تمہارے ساتھ مزید کتنی مدّت رہوں ؟ اور کتنی مدّت بر داشت کروں ؟ اس لڑ کے کو میرے پاس لاؤ۔” 20 تب شاگر داس لڑکے کو یسوع کے پاس لائے۔ اس بد روح نے یسوع کو دیکھتے ہی اس لڑ کے پر حملہ کر دیا۔ وہ لڑکا نیچے گرا اور منھ سے کف گرا تا ہوا تڑپنے لگا۔ 21 یسوع نے اس لڑ کے کے باپ سے پوچھا، “کتنے عرصے سے یہ کیفیت ہے”؟ باپ نے اس بات کا جواب دیا، “بچپن ہی سے ایسا ہوتا ہے۔” 22 بد روح اکثر اسے آگ اور پا نی میں پھینکتی ہے تا کہ اسے ہلاک کرے۔ اگر آپ سے یہ بات ممکن ہو تو برائے مہربانی ہمارے اوپر رحم اور مدد کر۔” 23 یسوع نے اس کے باپ کو جواب دیا، “تو ایسی بات کیوں کہتا ہے اگر آپ سے ہو سکے؟ ایمان رکھنے والے آدمی کے لئے ہر بات ممکن ہوتی ہے۔” 24 اس لڑکے کے باپ نے پرُ جوشی سے جواب دیا، “میں یقین کرتا ہوں۔ اور زیادہ پختہ یقین کے لئے میری مدد کر۔” 25 وہاں پیش آئے ہوئے واقعات کو دیکھنے کے لئے تمام لوگ دوڑ تے ہوئے آئے اس وجہ سے یسوع نے اس بد روح سے کہا، “اے بد روح! تو نے اس لڑ کے کو بہرا اور گونگا بنا دیا ہے۔ میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ اس لڑ کے سے باہر آجا اور اس میں دو بارہ داخل مت ہو ۔” 26 وہ بد روح چلّائی۔ وہ بد روح اس لڑکے کو دو بارہ زمین پر گرا کر تڑپا کر باہر آئی وہ لڑکا مردے کی طرح گرا ہوا تھا کئی لوگ سمجھے کہ “وہ مر گیا ہے ۔” 27 لیکن یسوع نے اس لڑکے کا ہاتھ پکڑکر اٹھا یا اور کھڑا ہو نے میں اس کی مدد کی۔ 28 یسوع جب گھر میں چلے گئے تو اس کے شاگردوں نے تنہائی میں اس سے دریافت کیا “اس بد روح سے نجات دلانا ہم سے کیوں ممکن نہ ہوسکا” ؟ 29 یسوع نے جواب دیا “اس قسم کی بد روح سے دعا کے ذریعے ہی سے چھٹکارہ دلا یا جا سکتا ہے۔” اپنی موت کے بارے میں یسوع کا اعلان 30 اس کے بعد یسوع اور اس کے شاگردوں نے اس مقام سے نکل کر گلیل کے راستے سے سفر کیا۔ یسوع کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اس بات کاا ندازہ نہ ہو کہ وہ کہاں ہے۔ 31 کیوں کہ وہ اپنے شاگردوں کو تنہائی میں یقین دلا نا چاہتے تھے۔ یسوع نے ان سے کہا ، “ابن آدم کو لوگوں کے حوالے کیا جائے گا۔ اور لوگ اس کو قتل کریں گے۔ قتل ہونے کے تیسرے دن وہ زندہ ہو کر دوبارہ آئیگا ۔” 32 لیکن یسوع نے شاگردوں سے جو کہا وہ اس کا مطلب نہ سمجھ سکے۔ اور اس بات کو وہ پو چھتے ہوئے گھبرا رہے تھے۔ یسوع کا کہنا کہ کون سب سے عظیم ہے ؟ 33 یسوع اور اس کے شاگر د کفر نحوم گئے۔ وہ جب ایک گھر میں تھے تو اس نے اپنے شاگردوں سے پوچھا ، “آج راستے میں تم بحث کر رہے تھے وہ میں نے سن لی تم کس کے متعلق بحث کر رہے تھے ؟”۔ 34 لیکن شاگردوں نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ وہ آپس میں بحث کر رہے تھے کہ ان میں سب سے عظیم کون ہے۔ 35 یسوع بیٹھ گئے اور بارہ رسولوں کو اپنے پاس بلا کر ان سے کہا، “تم میں سے اگر کوئی بڑا آدمی بننے کی آرزو کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ ان سب کو خود سے بڑا سمجھے اور انکی خدمت کرے”۔ 36 پھر یسوع ایک چھوٹے بچے کو بلا کر اس بچے کو شاگر دوں کے سامنے کھڑا کر کے اس کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ان سے کہا،۔ 37 “جو کوئی میرے نام پر اپنے بچوں میں سے ایک کو قبول کرتا ہے گویا وہ مجھے قبول کرتا ہے۔ اور جو کوئی مجھے قبول کر تا ہے گویا وہ مجھے نہیں بلکہ اسے قبول کر تا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔” جو ہمارا دشمن نہیں وہ ہمارا دوست ہی ہے 38 اس وقت یوحنّا نے اس سے کہا،“اے استاد! کسی شخص کو تیرے نام کے تو سط سے ( بھوت ) بد روح سے چھٹکا رہ دلا تے ہو ئے ہم نے دیکھا ہے۔ جب کہ وہ ہما را آد می نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہم نے اس سے کہا کہ رک کیوں کہ وہ ہمارے گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔” 39 یسوع نے ان سے کہا، “اس کو مت رو کو میرا نام لے کر جو معجزے دکھا ئے گا۔ وہ میرے بارے میں بری باتیں نہیں کہے گا۔” 40 جو شخص ہمارا مخالف نہیں ہے وہ ہمارے ساتھ ہے 41 میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ تم کو اگر کوئی آدمی مسیحی سمجھ کر پینے کے لئے پانی دے تو ضرور اس کو اس کی نیکی کا بدلہ ملے گا۔ يسوع کا گناہ کروانے سے متعلق انتباہ 42 ان چھوٹے بچوں میں سے کسی ایک کو اگر کوئی گناہ کے راستے پر چلانے والا ہو تو اس کے لئے یہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے گلے سے چکّی کا ایک پاٹ باندھ کر سمندر میں ڈوب جائے۔ 43 اگر تیرا ہاتھ تجھے ہی گناہوں میں پھانستا رہا ہو تو بہتر ہوگا کہ اس کو کاٹ ہی ڈال دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے نہ بجھنے والی آ گ کے جہنم میں جانے سے بہتر یہ ہوگا کہ معذور ہوکر ابدی زندگی ہی کو پائے اور وہ راستہ ایسا ہو گا کہ جہاں کی آ گ ہر گز نہ بجھے گی- 44 [a]۔ 45 اگر تیرا پاؤں تجھے گناہوں کے کا موں میں ملوث کر رہا ہو تو اس کو کاٹ ڈال دو نوں پیر رکھتے ہوئے دوزخ میں پھینک دیئے جانے سے بہتر یہ ہے کہ تو لنگڑا بن کر رہے۔ 46 [b] 47 تیری آنکھیں اگر تجھے گناہوں میں ڈال رہی ہوں تو دو نوں آنکھ رکھتے ہوئے دوزخ میں جانے کی بجائے بہتر یہی ہوگا کہ ایک ہی آنکھ والا ہو کر ہمیشہ کی زندگی کو پا ئے۔ 48 دوزخ میں انسانوں کو کھانے والے کیڑے کبھی مرتے نہیں اور نہ ہی دوزخ کی آ گ کبھی بجھتی ہے۔ 49 ہر آدمی کو آ گ سے سزا دی جائیگی۔ 50 اس نے کہا “نمک ایک بہترین چیز ہے لیکن اگر نمک اپنے ذائقہ کو ضائع کردے تو تم اس کو پھر دوبارہ نمک نہیں بنا سکتے۔ اسی وجہ سے تم اچھائی کا مجسم بنو۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہو”۔ Footnotes: a. مرقس 9:44 آیت ۴۴ اس آیت کو چند یونانی نسخوں نے ۴۴واں آیت ہی تسلیم کیا ہے- اور یہ آیت ۴۸واں آیت ہی ہے- b. مرقس 9:46 آیت ۴۶ اس آیت کو چند یونانی نسخوں نے ۴۶ واں آیت ہی تسلیم کیا ہے– اور یہ ۴۸واں آیت ہے ۔ مرقس 10 یسوع کا طلاق کے بارے میں تعلیم دینا 10 تب یسوع اس جگہ سے روانہ ہو کریہوداہ کے علا قے میں اور پھر دریائے یر دن کے اس پار گئے۔ لوگو ں کی ایک بھیڑ دوبا رہ اس کے پاس آ ئی اور یسوع ان کو ہمیشہ کی طرح تعلیم دینے لگے۔ 2 چند فریسی یسوع کے پاس آ ئے اور اس کو آز ما نے لگے اور پوچھا ، “کیا کسی کا اپنی بیوی کو طلاق دینا صحیح ہے؟” 3 یسوع نے جواب دیا، “موسیٰ نے تمہیں کیا حکم دیا ہے؟” 4 فریسیوں نے جواب دیا، “موسیٰ نے کہا ہے کہ اگر کو ئی شخص اپنی بیوی کو طلا ق دینا چاہے تو وہ اپنی بیوی کو طلاق نا مہ لکھ کر طلاق دے سکتا ہے۔” 5 یسوع نے کہا، “خدا کی تعلیمات کو قبول کر نے کی بجا ئے انکار کر نے سے موسیٰ نے تم کو وہ حکم دیا ہے۔ 6 جب خدا نے دنیا کو پیدا کیا تو انسانوں کو مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کیا،۔ [a] 7 اسی وجہ سے مرد نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر عورت کو اپنا رفیق حیات بنایا۔ 8 پھر وہ دونوں ایک بن گئے۔ [b]جس کی وجہ سے وہ دونوں الگ نہیں بلکہ ایک ہوتے ہیں۔ 9 اس طرح جب خدا نے ان دونوں کو ملا یا ہے تو کوئی بھی انسان ان میں جدائی نہ ڈا لے۔” 10 یسوع اور ان کے شاگرد جب گھر میں تھے شاگردوں نے طلاق کے مسئلہ پر یسوع سے دوبارہ پوچھا۔11 یسوع نے انکو جواب دیا “جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے شادی کرے تو اپنی بیوی کے خلاف زنا کا مرتکب ہو تا ہے۔ 12 اور کہا کہ ایک عورت جو اپنے شوہرکو طلاق دے اور دوسرے مرد سے شادی کرے تو وہ بھی حرام کاری کی قصور وار ہوگی-” یسوع کا بچوں کا قبول کر نا 13 لوگ اپنے چھوٹے بچوں کو یسوع کے پاس لائے یسوع نے ان کو چھوا لیکن شاگردوں نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کو ڈانٹ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو نہ لے آئیں۔ 14 یہ دیکھتے ہوئے یسوع نے غصّہ سے ان سے کہا، “چھوٹے بچوں کو میرے پاس آنے دو اور ان کو مت روکو کیوں کہ خدا کی سلطنت ان لوگوں کی ہے جو ان بچوں کی مانند ہیں۔ 15 میں تم سے سچ کہتا ہوں تم خدا کی بادشاہی کو بچے کی طرح قبول نہ کرو گے تو تم اس میں کبھی داخل نہ ہو سکو گے۔” 16 تب یسوع نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر گلے لگایا اور ان کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو دعائیں دیں۔ ایک مالدار کا یسوع کی پیروی نہ کرنا 17 یسوع وہاں سے نکلنا چاہتے تھے لیکن اتنے میں ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور اسکے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے اس شخص نے کہا، “اے اچھے استاد ابدی زندگی پا نے کے لئے مجھے کیا کر نا چاہئے؟” 18 یہ سن کر یسوع نے کہا، “تو مجھے نیک آدمی کہہ کر کیوں بلاتاہے؟ کوئی آدمی نیک نہیں صرف خدا ہی نیک ہے۔ 19 اگر تو ابدی زندگی چاہتا ہے تو جو تم جانتے ہو اس کی پیروی کرو تجھے تو احکا مات کا علم ہوگا۔ قتل نہ کر ، زنا نہ کر ، چوری نہ کر ، جھوٹ بولنے سے بچ ،اور کسی آدمی کو دھوکہ نہ دے اور تو اپنے والدین کی تعظیم کر”۔ 20 اس نے جواب دیا، “اے استاد! میں تو بچپن ہی سے ان احکامات کی پابندی کر رہا ہوں”۔ 21 یسوع نے اس آدمی کو محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا ، “تجھے ایک کام کرنا ہے۔ جا اور تیری ساری جائیداد کو بیچ دے اور اس سے ملنے والی پوری رقم کو غریبوں میں بانٹ دے آسمان میں اسکا اچھا بدلہ ملے گا پھر اس کے بعد آکر میری پیروی کرنا”۔ 22 یسوع کی یہ باتیں سن کر اس کے چہرے پر مایو سی چھا گئی اور وہ شخص مایوس ہو کر چلا گیا۔ کیوں کہ وہ بہت مالدار تھا اور اپنی جائیداد کو قائم رکھنا چاہتا تھا۔ 23 تب یسوع نے اپنے شاگردوں کی طرف دیکھ کر کہا ، “مالدار آدمی کو خدا کی سلطنت میں داخل ہو نا بہت مشکل ہے۔” 24 یسوع کی یہ باتیں سن کر ان کے شاگرد چونک پڑے۔ لیکن یسوع نے دو بارہ کہا ، “میرے بچو! خدا کی سلطنت میں داخل ہونا بہت مشکل ہے۔ 25 ایک اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے پار ہونا آسان ہے بنسبت اس امیر آدمی کے کہ جو خدا کی سلطنت میں داخل ہو۔” 26 شاگرد مزید چوکنا ہوکر ایک دوسرے سے کہنے لگے، “پھر کون بچا ئے جائینگے؟” 27 یسوع نے شاگردوں کی طرف دیکھ کر کہا، “یہ بات تو انسانوں کے لئے مشکل ہے لیکن خدا کے لئے نہیں خدا کے لئے ہر چیز ممکن ہے۔” 28 پطرس نے یسوع سے کہا ،“تیرے پیچھے چلنے کے لئے ہم نے تو سب کچھ قربان کردیا ہے!” 29 یسوع نے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو شخص میری خا طر اور خوشخبری کے لئے اپنا گھر یا بھا ئی یابہن یا ماں باپ یا بچے یا زمین کو قربان کردیا تو۔ 30 وہ سو گنا زیادہ اجر پائیگا۔ اس دنیا کی زندگی میں وہ شخص کئی گھروں کو بھائیوں کو بہنوں کو ،ماؤں کو ، بچوں کو اور زمین کے ٹکڑوں کو پائیگا۔مگر ظلم و زیادتی کے ساتھ۔ اس کے علاوہ آنے والی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی کو پائیگا۔ 31 اور پھر کہا کہ وہ بہت سے لوگ کہ جو پہلے والوں میں ہیں۔ وہ بعد والوں میں ہو جائیں گے اور جو بعد والوں میں ہیں وہ پہلے والوں میں ہو نگے”۔ یسوع کا اپنی موت کے بارے میں تیسرا اعلان 32 یسوع اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ تھے یروشلم کو جا رہے تھے یسوع انکی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کے شاگرد حیران و پریشان تھے۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے آرہے تھے وہ بھی خوف زدہ تھے۔یسوع نے اپنے بارہ رسو لوں کو دوبارہ اکٹھا کیا ان سے تنہا ئی میں بات کی۔یسوع نے یروشلم میں اپنے ساتھ پیش آ نے والے واقعات کے بارے میں سنانا شروع کیا۔ 33 “ہم یروشلم جا رہے ہیں۔ ابن آدم کو کاہنوں کے رہنما اور معلّمین شریعت کے حوالے کیا جائے گا۔ وہ اس کو موت کی سزا دے کر قتل کرینگے اور اس کو غیر یہودیوں کے حوالے کریں گے۔ 34 وہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کا مذاق اڑا ئینگے اور اس پر تھو کیں گے اور اس کو چا بک سے ماریں گے پھر اس کو قتل کریں گے۔ لیکن وہ تیسرے ہی دن پھر جی اٹھے گا۔” یعقوب اور یوحنا کی خصوصی گزارش 35 پھر زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحنا دونوں یسوع کے پاس آئے اور کہا، “اے استاد! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری گزارش پوری کریں ۔” 36 یسوع نے پوچھا ، “تمہاری کونسی خواہش مجھ کو پوری کرنی چاہئے ؟” 37 ان دونوں نے جواب دیا “جب تو اپنی سلطنت میں جلال کے ساتھ رہے گا تو ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اور دوسرے کو اپنے بائیں ہاتھ کی طرف بٹھا نے کی مہر بانی کر نا”۔ 38 یسوع نے ان سے کہا تم نہیں جانتے ، “تم کیا پوچھ رہے ہو ؟ کیا تم وہ مصائب دکھ اٹھا سکتے ہو جو میں نے اٹھا ئے ہیں ؟ میں جس بپتسمہ کو لینے والا ہوں کیا تمہارے لئے اس بپتسمہ کا لینا ممکن ہو سکیگا”؟۔ 39 انہوں نے جواب دیا، “ہاں ہمارے لئے ممکن ہے” یسوع نے ان سے کہا، “تم بھی اسی طرح دکھ اٹھا ؤگے جس طرح میں اٹھا نے جا رہا ہوں مجھے جو بپتسمہ لینا ہے کیا وہ تم لوگے ؟ 40 میرے دائیں اور بائیں جانب بیٹھنے والے افراد کا انتخاب کر نے والا میں نہیں ہوں وہ جگہ جن کے لئے تیار کی گئی ہے وہ انہی کے لئے جگہ محفوظ کر لی گئی ہے۔” 41 دوسرے دس شاگردوں نے اس بات کو سن کر یعقوب اور یوحنا پر غصّہ کیا۔ 42 یسوع نے تمام شاگردوں کو ایک ساتھ بلا کر کہا ، “غیر یہودی کے وہ سردار جن کو لوگوں پر اختیار ہے اور ان اختیارات کو وہ لوگوں کو دکھانے کی کوشش کر تے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ وہ قائدین لوگوں پر اپنی قوت کا اظہار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور انکے اہم قائدین لوگوں پر اپنے تمام اختیارات استعمال کر نے کی چاہت رکھتے ہیں۔ 43 مگر تم میں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ جو تم میں بڑا ہونا چا ہے وہ تمہارا خادم بنے۔ 44 تم میں جو سب سے اہم بننے کی خواہش کرنے والا ہے وہ ایک غلام کی طرح تم سب کی خدمت کرے۔” 45 اسی طرح ابن آدم لوگوں سے خدمت لینے کے لئے نہیں آیا ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کر نے کیلئے آیا ہے۔ ابن آدم خود اپنی جا ن دینے کے لئے آیا ہے۔ تا کہ لوگ بچ سکیں۔ اندھے کو بینائی دینا 46 تب وہ سب جریکو کے گاؤں میں آئے یسوع اپنے شاگردوں اور دیگر کئی لوگوں کے ساتھ اس گاؤں کو چھوڑ کر نکل رہے تھے۔ تومائی کا بیٹا برتمائی جو اندھا تھا۔ راستے کے کنارے پر بیٹھ کر بھیک مانگ رہا تھا۔ 47 جب اس نے سنا کہ یسوع ناصری اس راستے سے گزرتا ہے تو اس نے چلا نا شروع کیا، “اے یسوع داؤد کے بیٹے مجھ پر کرم فرما۔” 48 کئی لوگوں نے اس اندھے کو ڈانٹا اور کہا، “خاموش رہ لیکن وہ اندھااور زور سے چلّا یا اے داؤد کے بیٹے! مجھ پر کرم فرما!” 49 یسوع نے رک کر کہا، “اس کو بلا ؤ” انہوں نے اندھے کو بلا یا اور کہا ، “خوش ہو کھڑا رہ کیوں کہ یسوع تجھ کو بلا رہا ہے۔” 50 وہ اندھا فوراً کھڑا ہو گیا اور اپنا اوڑھنا وہیں چھوڑکر یسوع کے پاس گیا۔ 51 یسوع نے اس سے پوچھا ، “مجھ سے تو کیا چاہتا ہے؟” تب اس اندھے نے جواب دیا،“اے استاد! مجھے بصارت دو۔” 52 یسوع نے اس سے کہا، “جا تیرے ایمان کی وجہ سے تو شفا یاب ہوا” تب وہ شخص دوبارہ دیکھنے کے قابل ہوا۔ وہ یسوع کے پیچھے راہ میں چلنے لگا۔ Footnotes: a. مرقس 10:6 اِقتِباس پیدائش ۲۷:۱ b. مرقس 10:8 اِقتِباس پیدائش ۲۴:۲ مرقس 11 یسوع کا بادشاہ کی حیثیت سے یروشلم میں دا خل ہونا 11 یسوع اور ان کے شاگرد یروشلم کے قریب تک آچکے تھے۔ وہ زیتون کے پہاڑ کے قریب بیت فگے اور بیت عنیاہ جیسے قریوں کے پاس آئے وہاں سے یسوع نے اپنے شاگر دوں میں سے دو کو کچھ کر نے کے لئے روانہ کیا۔ 2 یسوع نے شاگر دوں سے کہا ، وہاں نظر آنے والے گاؤں کو چلے جاؤ۔جب تم اس گاؤں میں داخل ہوگےتو وہاں تم ایک ایسے گدھے کے بچے کو بندھا ہوا پاؤگے کہ جس پر کبھی کسی نے سواری نہ کی ہو۔ اس گدھے کو کھول کر میرے پاس لاؤ۔ 3 اگر تم سے کوئی پوچھے کہ ایسا کیوں کر رہے ہو تو کہنا کہ خداوند کو اس کی ضرورت ہے۔ اور وہ اسکو بہت جلدی واپس بھیج دیگا۔” 4 شاگرد جب گاؤں میں داخل ہوئے تو راستے میں ملنے والے ایک گھر کے کنارے بندھے ہوئے ایک گدھے کے بچے کو انہوں نے دیکھا ، شاگر دوں نے جاکر اس گدھے کو کھولا تو۔ 5 وہاں کھڑے ہو ئے چند لوگوں نے پوچھا ، تم کیا کر رہے ہو ؟ اور اس گدھے کو کیوں کھول رہے ہو؟” 6 یسوع نے جو کچھ شاگر دوں سے کہا تھا وہ ویسے ہی جواب دیئے۔ لہذا لوگوں نے اس گدھے کو شاگردوں کو لیجا نے دیا۔ 7 شاگرد گدھے کو یسوع کے پاس لاے اور اپنے کپڑے اس کے اوپر ڈال دیئے تب یسوع اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے۔ 8 بہت سارے لوگوں نے یسوع کے لئے راستے پر اپنے کپڑے بچھا دیئے اور دوسرے چند لوگوں نے درختوں کی شاخیں راستے پر پھیلا دیں۔جسے انہوں نے درختوں سے کاٹاتھا۔ 9 بعض لوگ یسوع کے سامنے جا رہے تھے۔ اور بعض لوگ اس کے پیچھے جا رہے تھے۔اور تمام لوگوں نے نعرے لگائے کہ اس کی تعریف بیان کرو، “خداوند کے نام سے آنے والے کو خدا مبارک کہے! [a] 10 خدا کی رحمت ہمارے باپ داؤد کی سلطنت پر ہو اور وہ سلطنت آرہی ہے- خدا کی تعریف آسمان میں کرو۔” 11 یسوع جب یروشلم میں داخل ہوئے وہ ہیکل کو گئے اور وہاں کی ہر چیز کو دیکھا لیکن اس وقت تک دیر ہو گئی تھی۔اس لئے یسوع بارہ رسولوں کے ساتھ بیت عنیاہ کو گئے۔ یسوع کہتا ہے کہ انجیر کا درخت مرجائے گا 12 دوسرے دن جب یسوع بیت عنیاہ سے جا رہے تھے تو اسے بھوک لگی تھی۔ 13 اس نے کچھ فاصلے پر پتّوں سے بھرا ایک انجیر کے درخت کو پایا۔ وہ یہ سمجھ کر کہ درخت میں کچھ انجیر ملیں گے اس کے قریب گئے لیکن درخت میں وہ انجیر نہ پا یا۔وہاں صرف پتّے تھے۔کیوں کہ وہ انجیر کا موسم ہی نہ تھا۔14 تب یسوع نے اس درخت سے کہا ، “اس کے بعد پھر لوگ تیرے میوے کبھی نہیں کھا ئیں گے”۔ شاگردوں نے یسوع کو یہ بات کہتے ہوئے سنا۔ یسوع کا ہیکل کو جانا 15 یسوع اور ان کے شاگرد یروشلم پہونچے یسوع ہیکل میں دا خل ہوئے وہاں انہوں نے لوگوں کی خرید و فروخت کو دیکھا اور سودا گروں کی میز کی طرف پلٹا جو مختلف قسم کی رقم کا تبادلہ کر رہے تھے اور ہیر پھیر کر کے روپیہ جمع کر رہے تھے اور کبوتر فروخت کر رہے تھے۔ 16 اس نے کسی کو بھی ہیکل کے راستے سے چیزوں کو لا نے لے جا نے کی اجا زت نہ دی۔ 17 اس کے بعد یسوع نے لوگوں کو تعلیم دی، “میرا مرکز اور ٹھکا نہ تمام لوگوں کے لئے عبادت خانہ کہلا ئیگا” [b] اس طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے اور کہا کہ تم لوگوں نے خدا کے گھر کو چوروں کے چھپے رہنے کی جگہ بنا لی ہے [c] 18 سردار کاہنوں اور معلّمین شریعت نے ا ن واقعات کو سن کر یسوع کو قتل کرا نے کے لئے مناسب تدبیر کی فکر شروع کردی۔ وہ یسوع کی تعلیمات کو سن کر بے انتہا حیرت زدہ ہونے کی وجہ سے یسوع سے گھبرا گئے۔ 19 اس رات یسوع اور اس کے شاگرد وں نے شہر چھو ڑدیا۔ یسوع کا ایمان اور عقیدہ کی طاقت رکھنا 20 دوسرے دن صبح یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جا رہے تھے۔پچھلے دن جس انجیر کے درخت کو یسوع نے بد دعا دی تھی اس کو شاگردوں نے دیکھا وہ انجیر کا درخت جڑ سمیت سوکھ گیاتھا۔ 21 پطرس نے اس درخت کو یاد کر کے یسوع سے کہا ، “استاد دیکھو! کل جس انجیر کے درخت پر آپ نے لعنت کی تھی وہ درخت اب سوکھ گیا ہے”۔ 22 یسوع نے کہا ، “خدا پر ایمان رکھو۔” 23 میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں۔تم اس پہاڑ سے کہو کہ تو جا کر سمندر میں گر جا اگر تم بغیر شک وشبہ کے یقین کرو۔ تو تم نے جو کچھ کہا ہے وہ یقیناً پورا ہوگا۔خدا تمہارے لئے اس کو مبارک کریگا۔ 24 میں تم سے کہتا ہوں کہ تم دعا کرو۔اور عقیدہ رکھو کہ وہ سب مل جا ئے گا تو یقین کرو کہ وہ تمہا را ہی ہو گا۔ 25 اور یہ کہتے ہو ئے جواب دیا ، “جب تم دعا کر نے کی تیاری کرو اور تم کسی پر کسی وجہ سے غصہّ اور ناراض ہو، اور اگر یہ بات تمہیں یاد آئے تو اس کو معاف کر دو تا کہ آسمان پر رہنے والا تمہارا باپ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا۔” 26 [d] یسوع کے اختیا رات کے بارے میں یہودی قائدین کا شک کرنا 27 یسوع اور اس کے دو شاگرددوبارہ یروشلم گئے۔یسوع جب ہیکل میں چہل قد می کر رہے تھے تو سردار کاہن اورمعلمین شریعت اور بزرگ یہودی قائدین اس کے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔ 28 وہ دریافت کر نے لگے، “ایسا کو نسا اختیار آپکے پاس ہے کہ جس کی بنا پر آپ یہ سب کچھ کر تے ہیں؟ اور یہ اختیار آ پ کو کس نے دیا ہے؟” ہمیں بتا ئیں۔ 29 یسوع نے ان سے کہا ، “میں بھی تم سب سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔اگر تم میرے سوال کا جواب دو گے تو میں تم کو بتا ؤنگا کہ میں کس کے اختیار سے یہ سارے کام کرتا ہوں۔ 30 مجھے معلوم کراؤ کہ یوحنا ّ نے لو گوں کو جو بپتسمہ دیا تو کیا وہ خدا کے اختیار سے تھا یا لوگوں کے اختیار سے؟” 31 یہودی قائدین اس سوال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایک دوسرے سے کہنے لگے“اگر ہم یہ کہیں کہ یوحناّ نے لوگوں کو خدا کے آئے ہوئے اختیار سے بپتسمہ دیا تو پھر یسوع پوچھے گا کہ تم یوحناّ پر ایمان کیوں نہیں لائے؟ ” 32 اگر یہ کہیں کہ یو حنا ّ نے لوگوں کے اختیار سے بپتسمہ دیا تو اس وقت لوگ ہم پر غصّہ ہوں گے چونکہ لوگوں کا ایمان ہے کہ یوحناّ نبی تھے۔اس طرح وہ آپس میں باتیں کر نے لگے۔جس کی وجہ وہ لوگوں سے خوفزدہ رہے۔ 33 جس کی وجہ سے انہوں نے یسوع کو جواب دیا کہ ہم نہیں جانتے یسوع نے انہیں جواب دیا، “اگر ایسا ہے تو میں بھی کس کے اختیار سے ان تمام کاموں کو کر رہا ہوں وہ تم سے نہ کہوں گا” Footnotes: a. مرقس 11:9 زبور ۱۸ ۱: ۲۵۔۲۶ b. مرقس 11:17 اِقتِباس یسعیاہ ۷:۵۶ c. مرقس 11:17 اِقتِباس یرمیاہ ۷: ۱۱ d. مرقس 11:26 آیت۲۶ اگرتُم دُوسرے لوگوں کو معاف نہ کرو تو تمہارا باپ بھی جو جنّت میں ہے تمہارے گناہوں کو معاف نہ کرے گا۔” اسطرح یونان کی چند حالیہ نسخوں میں یہ آیت۲۶ اضافہ کئے گئے ہیں- مرقس 12 خدا کے بیٹے کی آمد 12 یسوع نے لو گوں کو تمثیلوں کے ذریعے تعلیم دی اور ان سے کہا ، “ایک شخص نے انگور کا با غ لگایا چاروں طرف دیوار کھڑی کی اور مئے لگا نے کے لئے ایک گڑھا کھدوایا۔ اور حفاظت و دیکھ بھا ل کے لئے ایک مچان بنوایا۔ اور وہ چند باغباں کو باغ ٹھیکہ پر دیکر سفر کو چلا گیا۔ 2 پھر ثمر پا نے کا موسم آیا تو اپنے حصّہ میں ملنے والے انگور حاصل کرنے کے لئے مالک نے اپنے ایک خادم کو بھیجا۔ 3 تب باغبانوں نے اس خادم کو پکڑا اور پیٹا پھر اسے کچھ دیئے بغیر ہی واپس لوٹا دیا۔4 پھر دوبارہ اس مالک نے ایک اور خادم کو باغبانوں کے پاس بھیجا باغباں نے اس کے سر پر چوٹ لگا ئی اور اس کو ذلیل کیا۔ 5 پھر اس کے بعد مالک نے ایک اور خادم کو بھیجا باغبانوں نے اس خادم کو بھی مارڈالا پھر مالک نے یکے بعد دیگر کئی خادموں کو باغبانوں کے پاس بھیجا۔ باغبانوں نے چند خادموں کو پیٹا اور بعض کو قتل کر ڈالا۔ 6 “اس مالک کو باغبانوں کے پاس بھیجنے کیلئے صرف اسکا بیٹا ہی باقی بچا تھا وہ اس آخری فرد کو بھیج رہا تھا وہ اسکا خاص بیٹا تھا۔ باغبان میرے بیٹے کی تعظیم کرینگے یہ سمجھ کر مالک نے اپنے بیٹے کو بھیج دیا”۔ 7 “تب باغبان ایک دوسرے سے یہ کہنے لگے کہ یہ مالک کا بیٹا ہے جو اس باغ کا مالک ہے اگر ہم اسکو قتل کردیں تو انگور کا باغ ہمارا ہو جائیگا۔ 8 انہوں نے اسکے بیٹے کو پکڑ کر قتل کر دیا اور اسکو انگور کے باغ کے باہر اٹھا کر پھینک دیا۔ 9 “اگر ایسا ہو تو باغ کا مالک کیا کریگا؟ وہ خود باغ کو جائیگا۔ اور اس باغ کے مالی کو قتل کرکے باغ کو دوسرے مالی کے حوالے کریگا۔ 10 کیا تم نے صحیفے کو پڑھا نہیں؟ جس کو معماروں نے رد کیا وہی پتھّر کو نے کا پتھّر ہو گیا۔ 11 یہ خدا وند سے ہی ہوا۔ اور ایسا ہونا ہم کو عجیب و غریب لگتا ہے۔” [a] 12 یسوع سے کہی ہوئی یہ تمثیل جس کو یہودی قائدین نے سنا تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ تمثیل اس نے انہی کے مطابق کہی ہے۔ اس لئے انہوں نے یسوع کو گرفتار کرنے کی تدبیروں کے با وجود وہ لوگوں سے ڈرے اور اسکو چھوڑ کر چلے گئے۔ یہودی قائدین کا یسوع کو فریب دینے کی کوشش کرنا 13 اس کے بعد یہودی قائدین نے چند فریسیوں کو اور ہیرو دیسیوں کو بھیجا کہ کچھ کہے تو اس کو پھانس لیں۔ 14 فریسی اور ہیرودیسی یسوع کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ “اے معلّم! تو سچّا ہے ہمیں معلوم ہے اور تجھے اس بات کا بھی خوف نہیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور تمام لوگ آپ کی نظر میں ایک ہیں اور آپ خدا کی راہ کے متعلق سچی تعلیم دیتے ہیں ہمیں اچھی طرح معلوم ہے اس لئے ہم سے کہہ دے کہ قیصر کو محصول کا دینا ٹھیک ہے یا غلط ؟ اور پوچھا کہ ہمیں لگان دینا چاہئے یانہیں ؟” 15 یسوع سمجھ گئے یہ لوگ حقیقت میں دھوکہ دینے کی تدبیر کررہے ہیں اس لئے انہوں نے ان سے کہا، “میرے باتوں میں غلطیوں کو پکڑنے کی کیوں کوشش کی جاتی ہے ؟مجھے چاندی کا ایک سکّہ دو” میں وہ دیکھنا چا ہتا ہوں۔” 16 انہوں نے اسکو ایک سکّہ دیا۔ یسوع نے ان سے پوچھا ، “سکّہ پر کس کی تصویر ہے ؟ اور اس کے اوپر کس کا نام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، “یہ قیصر کی تصویر ہے اور قیصر کا نام ہے۔” 17 یسوع نے ان سے کہا ، “قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو دو۔” یسوع نے جو کہا اسے سن کر وہ بے حد حیرت میں پڑگئے۔ فریسیوں کا یسوع کو فریب دینے کی کوشش کرنا 18 تب بعض صدوقیوں نے ( صدوقیوں کا ایمان ہے کہ کوئی بھی شخص مرنے کے بعد زندہ نہیں ہوتا۔ ) یسوع کے پاس آکے سوال کیا،۔ 19 “اے استاد موسیٰ نے یہ تحريري حکم نامہ ہمارے لئے چھوڑا ہے ایک شادی شدہ انسان جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور وہ مرجائے تو مرحوم کی بیوہ سے اس کا بھا ئی شادی کرلے اور مرے ہوئے بھائی کے گھر نسل کا سلسلہ جاری کرے اس بات کو موسیٰ نے لکھا ہے۔ 20 سات بھائی رہتے تھے پہلا بھائی شادی تو کر لیا مگر اولاد کے بغیرہی مر گیا۔ 21 تب دوسرے بھا ئی نے اس بیوہ سے شادی کی وہ بھی اولاد کے بغیر ہی مر گیا اور تیسرے بھائی کا بھی یہی حشر ہوا۔ 22 ساتو بھائی اسی سے شادی کئے مگر کسی سے اسکو اولاد نہ ہوئی اور سب کے سب مر گئے آخر کار وہ عورت بھی مر گئی۔ 23 تب لوگوں نے پوچھا ، “جب قیامت کے دن لوگ موت سے جی اٹھینگے تو وہ عورت ان میں سے کس کی بیوی کہلائیگی۔” 24 یسوع نے کہا، “تم ایسی غلطی کیو ں کرتے ہو ؟ مقدس صحیفہ ہو یا کہ خدا کی قدرت ہو اس کو تم نہیں جانتے ؟ 25 مرے ہوئے لوگ جب دوبارہ جی اٹھینگے تو شادی بیاہ نہیں ہوگی مرد اور عورتیں دوبارہ شادی نہیں کرینگے۔ سبھی لوگ آسمان میں رہنے والے فرشتوں کی طرح ہونگے۔ 26 تم قیامت یعنی لوگوں کی موت سے جی اٹھنے کے بارے میں خدا کی کہی ہوئی باتوں کو یقیناًپڑھتے ہو۔خدا نے موسیٰ سے کہا ، “میں ابراہیم کا خدا ہوں ،اسحاق کا خدا ہوں، اور یعقوب کا بھی خدا ہوں۔ [b] کیا تم نے موسیٰ کی کتاب میں جھاڑی کے ذکرمیں اس بات کو نہیں پڑھا؟ 27 یہ سب نہیں مرے، کیوں کہ خدا زندوں کا خدا ہے نہ کہ مرُدوں کا۔ اور یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ اے صدوقیو! تم نے اس حقیقت کو غلط سمجھا ہے۔” سب سے اہم ترین حکم کو نسا ہے ؟ 28 اس بحث و مبا حث کو سننے والے معلمین شریعت میں سے ایک یسوع کے پاس آیا، اس نے صدوقیوں اور فریسیوں کے ساتھ یسوع کو حجت کر تے ہوئے سنا۔ اس نے دیکھا کہ یسوع نے ان کے سوالات کے بہترین جواب دئیے۔ اس لئے اس نے یسوع سے کہا احکام میں سب سے اہم ترین حکم کو نسا ہے؟” 29 تب یسوع نے کہا، “سب سے اہم حکم یہ ہے اے بنی اسرائیلیو سنو، خداوند ہمارا خدا ہی صرف ایک خداوند ہے۔ 30 خداوند اپنے خدا کو تم دل کی یکسوئی کے ساتھ پوری جان کے ساتھ پوری عقلمندی کے ساتھ اور تمام طاقت کے ساتھ اس سے محبت کرو۔ یہی بہت اہم ترین حکم ہے۔ [c] 31 اور کہا تو جیسے خود سے محبت کرتا ہے اسی طرح ا پنے پڑوسیوں سے بھی محبت کر یہی اہم ترین دوسرا حکم ہے۔ تمام احکام میں یہ دو اہم ترین اور ضروری باتیں ہیں”۔ [d] 32 تب اس نے کہا ، “اے معلّم! وہ ایک بہت ہی اچھا جواب ہے۔ اور تو نے بہت ہی ٹھیک کہا ہے کہ خداوند ایک ہی ہے اور اس کے سوا دوسرا کوئی نہیں۔ 33 اور انسان کو پو رے دل کی گہرائیوں سے پوری دانشمندی سے اور ہر قسم کی قوت و طاقت سے خدا سے محبت کر نی چاہئے۔ جس طرح ایک آدمی خود سے جیسی محبت کر تاہے۔ایسی ہی دوسروں سے بھی محبت کرے۔ہم جانوروں کی قر بانیوں کو جو خدا کی نذر کر تے ہیں ،یہ احکامات اس سے بڑھ کرہے اور بہت اہم ہے”۔ 34 اس سے عقلمندی کا جواب سن کر یسوع نے اس سے کہا، “تو خدا کی باد شاہت سے بہت قریب ہے اس وقت سے کسی میں اتنی ہمت نہ رہی کہ مزید یسوع سے سوالات کئے جائیں۔ کیا مسیح داؤد کا بیٹا ہے یا خدا کا؟ 35 یسوع نے ہیکل میں ان کو تعلیم دیتے ہوئے کہا ، “معلمین شریعت کہتے ہیں کہ یسوع داؤد کا بیٹا ہے ایسا کیوں؟ 36 داؤد نے رُوح القدُس کی مدد سے خود کہا: خداوند نے میرے خداوند سے کہا۔ جب تک تیرے دشمنوں کو تیرے پیر کی چوکی نہ بناؤں تم میری داہنی طرف بیٹھے رہو۔” [e] 37 داؤد نے خود ہی مسیح کو ’خداوند‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔ اس وجہ سے مسیح ہی داؤد کا بیٹا ہو نا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟” کئی لوگوں نے یسوع کی باتیں سنی اور بہت خوش ہوئے۔ یسوع کا شریعت کے معلّمین پر تنقید کرنا 38 یسوع نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور کہا معلّمین شریعت کے بارے میں چوکنّا رہو وہ چوغہ پہن کر گھومنا پسند کرتا ہے۔ اور بازاروں میں لوگوں سے عزت حاصل کر نا چاہتے ہیں۔ 39 یہودی عبادت گاہوں میں اور دعوتوں میں وہ اعلیٰ نششتوں کی تمنّا کرتے ہیں۔ 40 اور کہا کہ بیواؤں کی جائیدادوں کو ہڑپ کر جاتے ہیں انکی طویل دعاؤں سے لوگوں میں اپنے آپ کو وہ شرفاء بتا نے کی کوشش کرتے ہیں خدا ان لوگوں کو سخت سزائیں دیگا۔” غریب بیوہ عورت کا تحفہ 41 یسوع ہیکل میں جب ندرانہ کے صندوق کے پاس بیٹھا تھا تودیکھا کہ لوگ نذرانے کی ر قم صندوق میں ڈال رہے ہیں کئی دولت مندوں نے کثیر رقم دی۔ 42 پھر ایک غریب بیوہ آئی اور ایک تانبے کا سکّہ ڈالی۔ 43 یسوع نے اپنے شاگر دوں کو بلا کر کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں جن لوگوں نے نذرانے ڈالے ہیں ان سب میں اس بیوہ عورت نے سب سے زیادہ ڈالا ہے۔ 44 دوسرے لوگوں نے اپنی ضروریات میں سے جو بچ رہا ہو اس میں سے تھوڑا سا ڈالا۔اور اس عورت نے اپنی غربت کے باوجود جو کچھ اس کے پاس تھا اس میں ڈال دیا جبکہ وہی اسکی زندگی کا اثاثہ تھا۔” Footnotes: a. مرقس 12:11 زبور۱ ۱۸:۲۲۔۲۳ b. مرقس 12:26 میں ہی ۔۔۔ خدا ہوں خروج ۶:۳ c. مرقس 12:30 اِقتِباس استثناء۴-۵:۶ d. مرقس 12:31 تو جیسے۔۔۔ہیں احبار ۱۸:۱۹ e. مرقس 12:36 زبور۱۱۰:۱ مرقس 13 مستقبل میں ہیکل کی تباہی 13 یسوع جب ہیکل سے باہر آرہا تھا تو اسکے شاگردوں میں سے ایک نے اس سے کہا، “استا د دیکھو! ان عمارتوں کو بنانے میں کتنے بڑے بڑے پتّھر استعمال کئے گئے ہیں اور یہ کتنی خوبصورت عمارتیں ہيں۔” 2 یسوع نے کہا ، “کیا تم ان بڑی عمارتوں کو دیکھ رہے ہو؟ یہ تمام عمارتیں تو تباہ ہو جائیں گی۔ ہر پتّھر کو زمین پر لڑھکا دیا جائیگا۔ ایک پتّھر پر دوسرا پتّھر نہ رہیگا۔” 3 بعد میں یسوع زیتون کے پہاڑ پر پطرس ، یعقوب ، یوحنا اور اندر یاس کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انکو وہاں سے ہیکل دکھائی دیا۔ 4 ان شاگردوں نے یسوع سے پوچھا، “یہ سب واقعات کب پیش آئیں گے ؟ اور ان واقعات کو پیش آنے کی کیا نشانی ہوگی جس سے معلوم ہوگا کہ واقعات عنقریب پیش آنے والے ہیں۔” 5 تب یسوع نے کہا خبر دار!کسی کو کوئی موقع نہ دو کہ تمہیں دھوکہ دے۔ 6 کئی لوگ آئینگے تم سے کہیں گے کہ میں ہی مسیح ہوں یہ کہتے ہوئے کئی لوگوں کو فریب دینگے۔ 7 قریب میں ہونے والی جنگوں کی آواز اور دور کے فاصلوں پر ہونے والی جنگوں کی خبریں تم سنو گے لیکن خوف زدہ نہ ہونا۔ اس قسم کے واقعات ہونا ہی چاہئے۔ لیکن اختتام ابھی باقی ہے۔ 8 قومیں دوسری قوموں کے خلاف لڑیں گی اس دوران حکومتیں دوسری حکومتوں سے لڑیں گی۔ ایک وقت ایسا آئیگا کہ لوگوں کو کھا نے کی لئے غذا نہ ہوگی۔ مختلف جگہوں پر زلزلے آئینگے۔ یہ واقعات دردزہ میں مبتلا عورتوں کی طرح مصیبتوں والے ہونگے۔ 9 ہوشیار رہو! میری پیروی کرنے کی وجہ سے لوگ تمہیں گرفتار کرینگے۔عدالتوں کو لے جائے جا ؤگے۔ اور یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تم کو مارا پیٹا کرینگے بادشاہوں اور حاکموں کے سامنے تم کو کھڑا کرکے میرے تعلق سے گواہی دینے کیلئے زبردستی کرینگے۔ 10 ان واقعات کے پیش آنے سے پہلے تم سب لوگوں کو خوش خبری کی تعلیم دینا 11 تم گرفتار کئے جاؤگے تمہارا محاصرہ ہوگا لیکن تم فکر نہ کرو کہ وہاں تمکو کیا کہنا پڑیگا۔ اس وقت خدا تمہیں جو سکھائیگا وہی کہنا ہوگا اس وقت بات کرنے والے تم نہیں ہوگے بلکہ روح القدس ہوگا۔ 12 “سگے بھائی اپنے سگے بھائی کو قتل کرنے کیلئے حوالے کر دینگے۔والدین اپنی خاص اولاد کواور اولاد اپنے خاص والدین کے مخا لف ہوکر انکو قتل کرائینگے۔ 13 میری پیروی کرنے کی وجہ سے لوگ تم سے نفرت کرینگے۔ لیکن آخر دم تک برداشت کرنے والا ہی نجات پائیگا۔ 14 “تباہی پیدا کرنے والی خطرناک چیزوں کو تم دیکھوگے۔ تم اسکو وہاں کھڑے ہوئے دیکھوگے جہاں اسے نہیں ہونی چاہئے۔(پڑھنے والے اس کے معنیٰ کو سمجھے) “اس وقت یہوداہ میں رہنے والے لوگوں کو پہاڑ وں میں بھاگ جانا چاہئے۔ 15 بالا خانہ میں رہنے والا اتر کر نیچے مکان میں سے کچھ لئے بغیر ہی بھاگ جائیگا۔ 16 کھیت میں رہنے والا اپنا اوڑھنا لینے کیلئے پیچھے مڑکر نہ دیکھے گا۔ 17 وہ وقت حاملہ عورتوں کے لئے اور ان ماؤں کے لئے جو اپنی گودوں میں بچّو ں کو رکھتی ہیں بہت کٹھن اور سخت ہوگا۔ 18 دُعا کرو! یہ واقعات جاڑوں میں نہ ہوں۔ 19 کیونکہ وہ ایام مصیبتوں سے پرُ ہونگے۔ جب سے خدا نے اس مخلوق کو پیدا فرمایا ہے ویسی مصیبت اب تک نہیں آئی اور آئندہ بھی واقع نہ ہوگی۔ 20 خدا ان مصیبت زدہ دنوں کو کم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو کسی انسان کا زندہ بچنا ممکن نہ ہوگا لیکن خدا اپنے منتخب شدہ خاص لوگوں کے لئے اس وقت میں تخفیف کریگا۔ 21 ایسے پر آشوب وقت میں کوئی بھی تم سے کہے گا کہ مسیح وہاں ہے ’دیکھو یا کوئی کہیگا وہ یہاں ہے‘ لیکن ان پر بھروسہ نہ کرو۔ 22 خدا کے منتخب لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ممکن ہے جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئینگے اور معجزے ظاہر کرینگے۔ 23 ان وجوہات کی بناء پر باخبر رہو۔ ان تمام باتوں کے واقع ہو نے سے پہلے ان تمام کے بارے میں تم کو انتباہ کرتا ہوں۔ 24 “ان مصیبت کے گزرجانے پر، سورج تاریک ہوجائے گا چاند روشنی نہ دیگا۔ 25 تا رے آسمان سے ٹوٹ کر گر پڑیں گے۔ پھر آسمانی طاقتیں کانپ اٹھیں گی۔ یسعیاہ۱۳:۱۰؛۳۴ :۴ 26 اس و قت ابن آدم کو اقتدار اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے ہوئے لوگ دیکھینگے۔ 27 ابن آدم اپنے فرشتوں کو زمین کے ہر حصّہ میں بھیج کر اپنے منتخب کردہ لوگوں کو دنیا کے کونے کونے سے یکجا کریگا۔ 28 “انجیر کا درخت ہمیں ایک سبق سکھا رہا ہے جب درخت کی ڈالیاں نرم ہو تی ہیں۔ اور نئے پتوں کا بڑھنا شروع ہوتا ہے تو تم سمجھتے ہو کہ گرمی کازمانہ قریب آگیا ہے۔ 29 ٹھیک اسی طرح میں نے تمہیں جو واقعات سنائے ہیں۔ تم اسے پورے ہوتے ہوئے دیکھوگے وہ وقت قریب آنے کے لئے منتظر ہے تم اس کو سمجھ جاؤ۔ 30 میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ اس نسل کے لوگ ابھی زندہ ہی رہینگے کہ وہ تمام واقعات پیش آئینگے 31 زمین و آسمان کا مکمل تباہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے لیکن میری کہی ہوئی باتیں رد نہیں ہو سکتی۔ 32 مگر وہ دن اور وقت کب آئے گا کوئی نہیں جانتا ہے نہ تو آسمان کے فرشتے اور نہ ہی بیٹا جانتا ہے ، صرف باپ ہی کو اس بات کا پتہ ہے۔ 33 ہوشیار رہو! ہمیشہ تیا ررہو وہ وقت کب آئیگا تم نہیں جانتے۔34 یہ اس شخص کی مانند ہے جو سفر پر نکلتا ہے اور اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ اپنے گھر کی خبر گیری اپنے خادموں کے حوالے کردیتا ہے وہ ہرایک خادم کو ایک خصوصی ذمہ داری دیتا ہے۔ ایک خادم کو دربان کی ذمہ داری دیتا ہے۔ اور وہ شخص اُس خادم سے کہتا ہے کہ “تو ہمیشہ تیار رہ اسی طرح میں تم سے کہتا ہوں۔ 35 ہمیشہ تیار رہو گھر کا مالک کب واپس لوٹے گا تمہیں معلوم نہیں ہو سکتا ہے وہ دوپہر میں آسکتا ہے یا آدھی رات کو یا جب مرغ بانگ دے یا طلوع سحر پر۔ 36 مالک اچانک پلٹ کر واپس آئیگا اگر تم ہمیشہ تیار رہو تو وہ جب آئیگا تو تم بحالت نیندنہ ہوگے۔ 37 میں تم سے اور ہر ایک سے یہی کہتا ہو ں کہ تیار رہو!” مرقس 14 یہودی قائدین کا یسوع کو قتل کرنے کی تدبیریں کرنا 14 فسح [a] اور بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب [b] کے لئے صرف دو دن باقی رہ گئے تھے۔ سبھی سردار کا ہن اور معلمین شریعت یہ چاہئے تھے کہ فریب کے کسی بھی طریقے کو اپنا کر یسوع کوگرفتار کریں اور قتل کر دیں۔ 2 “لیکن انھیں تقریب کے موقع پر یسوع کو گرفتار نہیں کر نا چاہئے یہ بات ممکن نہیں ہے کہ ہم یسوع کو گرفتار کریں ورنہ لوگ غیض وغضب میں آ سکتے ہیں اور فساد بر پا ہو سکتا ہے۔” یسوع کے ساتھ ایک عورت کا ایک عجیب کام کر نا 3 بیت عنیاہ میں یسوع جب کوڑھی شمعون کے گھر میں کھا نا کھا رہے تھے تو ایک عورت اس کے پاس آئی اس کے پاس ایک بہت قیمتی خوشبو دار عطر کی شیشی تھی۔ یہ عطر خا لص جٹا ما سی سے بنا یا گیا تھا۔ اس نے شیشی توڑی اور تیل کو یسوع کے سر پر ڈالدی۔ 4 وہاں موجودچند شاگردوں نے اس واقعہ کو دیکھا اور بہت غصّہ ہوئے اور اس عورت پر بہت تنقید کی اور کہا، “اس عطر کو ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ 5 وہ ایک سال بھر کی کمائی سے بڑھکر قیمتی چیز تھی اسکو فروخت کرکے اسی سے ملنے والی رقم کو غریب اور ضرورت مندوں میں بانٹ دینا چاہئے تھا۔” 6 یسوع نے کہا، “اس عورت کو تکلیف نہ دو۔ تم اسکو کیوں مشتعل کرتے ہو؟ اس عورت نے تو میرے ساتھ بہت بھلائی کا کام کیا ہے۔ 7 تمہارے ساتھ تو غریب لوگ ہمیشہ ہی رہتے ہیں تمہارا جی جب چاہے تم انکی مدد کرسکتے ہو میں ہمیشہ تمہارے ساتھ نہیں رہونگا۔ 8 یہ عورت جو کچھ میرے لئے کرسکتی تھی کیا۔ مرنے سے پہلے ہی تدفین کیلئے اس نے میرے بدن پر خوُشبودار تیل کوچھڑکا ہے۔ 9 میں بالکل سچ کہتا ہوں کہ دنیا میں جہاں بھی خوشخبری کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں اس عورت کے کئے ہوئے کام کے متعلق کہا جائے تو لوگ ا س کو یاد ر کھیں گے۔” یسوع کے دشمنوں کی مدد کیلئے یہوداہ کی رضا مندی 10 تب ان بارہ رسولوں میں سے ایک یہوداہ اسکریوتی جو سردار کاہن کے پاس یسوع کو حوالہ کر نے کی بات کرنے کیلئے گیا۔ 11 سردار کاہن اس بارے میں بہت خوش ہوئے اور اس بنا ء پر اسے رقم دینے کا وعدہ کیا۔ جس کی وجہ سے یہوداہ یسوع کو پکڑکر انکے حوالے کرنے کے لئے مناسب موقع کی تاک میں تھا۔ فسح کا کھانا 12 وہ دن بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب کا پہلا دن تھا اور یہودیوں کے پاس فسح کی تقریب میں بھیڑوں کی قربانی کا یہی وقت تھا یسوع کے شاگرد اس کے قریب آئے اور ان سے پوچھا، “ہم آپ کے لئے فسح کی تقریب کا کھانا کہاں تیا رکریں؟” 13 یسوع نے اپنے دو شاگردوں کو بھیجا اور انہیں ہدایت دی “اور کہا کہ جب تم شہر میں داخل ہو گے تو ایک آدمی پانی کا مٹکا اٹھاتے ہوئے نظر آئیگا تم اسکے پیچھے ہولینا۔ 14 وہ ایک گھر میں چلا جائیگا تم اس گھر کے مالک سے کہو کہ اُستاد نے کہا ہے کہ وہ کمرہ کہاں ہے جہاں میں اپنے شاگردوں کے ساتھ فسح کا کھانا کھا سکوں۔ 15 مکان کا مالک بالا خانہ کا کمرہ دکھا ئیگا۔ یہ کمرہ تمہارے لئے تیار ہے۔ ہمارے لئے وہاں کھانا تیار کرو۔” 16 تب شاگرد وہاں سے نکل کر شہر میں گئے یسوع کے کہنے کے مطابق ہی سب کچھ ہوا۔ شاگردوں نے فسح کی تقریب کا کھانا تیار کیا۔ 17 شام میں یسوع اپنے بارہ رسولوں کے ساتھ اس گھر میں گئے۔ 18 جب وہ سب میز پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو یسوع نے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک میرے ساتھ فریب کریگا اور وہ اب میرے ساتھ کھانا کھا رہا ہے۔” 19 جب یہ بات سنی تو شاگر دوں کو بہت دکھ ہوا تب ہر ایک شاگرد یسوع سے یکے بعد دیگر کہنے لگے، “میں وہ نہیں ہوں یقین دلاتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کوئی دھوکہ نہ کرونگا۔” 20 یسوع نے کہا، “ان بارہ لوگوں میں ایک میرے خلاف دشمنی کر رہا ہے۔ وہی میرے ساتھ ایک ہی کٹورہ میں اپنی روٹی ڈبوکر بھگورہا ہے۔ 21 ابن آدم مر ے گا جیسا کہ صحیفوں میں اس کے متعلق لکھا گیا ہے۔ لیکن ابن آدم کو قتل کرنے کے لئے پکڑوانے والے کیلئے نہایت درد ناک ہوگا۔ اور کہا، “اگر وہ پیدا ہی نہ ہوا ہوتا تو شاید اس کے حق میں بھلا ہوتا۔” عشائے ربّا نی 22 جب وہ کھا نا کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور خدا کا شکر اداکیا اُس نے روٹی توڑ کر اپنے شاگر دوں میں تقسیم کی۔ اور یسوع نے ان سے کہا ، “اس روٹی کو اٹھا لو اور کھاؤ اور کہا کہ یہ روٹی میرا بدن ہے۔” 23 تب یسوع نے شراب کا پیالہ لیا اور اس پر خدا کا شکر ادا کیا اور اسے اپنے شاگردوں کو دیا۔اور تمام شاگردوں نے اسے پیا۔ 24 یسوع نے کہا ، “یہ میرا خون ہے او ر یہ معا ہدہ کا خون ہے یہ بہت سے لو گوں کے لئے بہائے جا نے والا خون ہے۔ 25 “میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ میں اب اس وقت تک مئے پیوں گا جب تک خدا کی بادشاہت میں نئی مئے نہ پیوں۔” 26 تب تمام شاگردوں نے ایک گیت گایا۔اس کے بعد وہ زیتون کی پہاڑی کی طرف روانہ ہوئے۔ شاگردوں کی بے وفائی کے بارے میں پیش قیاسی 27 تب یسوع نے شاگردوں سے کہا تم سب ایمان کو کھو دوگے یہ صحیفوں میں لکھا ہے: میں چرواہے کو مارونگا تب تمہا ری بکریاں منتشر ہو جائیں گی۔ [c] 28 لیکن مر کر دوبارہ جی اٹھنے کے بعد تم سے پہلے ہی میں گلیل کو جا ؤں گا۔ 29 پطرس نے جواب دیا ، “دیگر تمام شاگرداپنا ایمان کھو دیں گے لیکن میں اپنا ایمان نہیں کھوؤں گا۔ 30 یسوع نے کہا،“میں سچ کہتا ہوں۔ آج کی رات مرغ کے دو مرتبہ بانگ دینے سے قبل ہی تو تین مرتبہ یہ کہے گا کہ تو مجھے نہیں جانتا۔” 31 لیکن پطرس نے یقین کے ساتھ جواب دیا، “اگر مجھے تیرے ساتھ مر نا بھی پڑے تو ٹھیک ہے تب بھی میں ہر گز یہ بات نہ کہوں گا کہ میں تجھے نہیں جانتا ۔” دوسرے شاگردوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ یسوع کا تنہائی میں عبادت کرنا 32 یسوع اور ان کے شاگرد ایک مقام جس کا نام گتسینی تھا اس جگہ آئے یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ، “جب تک کہ میں عبادت نہ کر لوں تم یہیں بیٹھے رہو۔” 33 وہ پطرس یعقوب ، اور یوحنا ّ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ پھر یسوع بہت حیران اور بہت دکھی بھی ہوئے۔ 34 یسوع نے ان سے کہا، “میری جان غموں سے اتنی بھر گئی ہے کہ جو موت کے برابر ہے اور کہا کہ جاگتے ہوئے یہیں پر میرا انتظار کرو۔” 35 یسوع ان کے ساتھ تھو ڑی دور جانے کے بعد زمین پر گرے اور دُعا کی اگر ممکن ہو سکے تو یہ مصیبت کا وقت مجھ تک نہ آنے دو۔” 36 تب یسوع نے دُعا کی اے باپ! تیرے لئے تو ہر بات ممکن ہے اور دعا کی کہ اس مصیبت کے پیا لے کو مجھ سے ہٹا دے لیکن تو جو چاہے سو کر اور میری مرضی کے مطا بق نہیں۔” 37 جب یسوع اپنے شاگردوں کے پاس لوٹے تو انکو سوتے ہو ئے پایا۔ اس نے پطرس سے کہا ، “اے شمعون کیا تو سو رہا ہے؟ کیا تیرے لئے یہ بات ممکن نہیں کہ تو میرے ساتھ ایک گھنٹے بیدار رہ سکے؟ 38 جاگتا رہ اور دعا کر تا کہ تو مشتعل نہ ہو۔ روح تو خو ا ہش مند ہے لیکن بدن میں کافی طاقت نہیں ہے۔” 39 دوسری مرتبہ یسوع دور جاکر پہلے ہی کی طرح دعائیں کرنے لگے۔ 40 یسو ع جب اپنے شاگر دوں کے پاس دوبارہ گئے تو ان کو سوتے پایا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انکی آنکھیں بہت تھک گئیں ہیں یسوع کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ شاگر دوں سے کیا کہے۔ 41 تیسری مرتبہ دعا کرنے کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے پاس واپس آئے اور ان سے کہا ، “تم اب تک سو رہے ہو اور آرام کر رہے ہو۔ ابن آدم کو اب گنہگاروں کے حوالے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ 42 اٹھو! ہم کو جانا چاہئے وہ جو مجھے ان لوگوں کے حوالے کریگا اب یہاں آرہا ہے۔” یسوع کی گرفتاری 43 یسوع باتیں کر ہی رہے تھے کہ یہوداہ وہاں آیا یہوداہ ان بارہ رسولوں میں سے ایک تھا۔ یہوداہ کے ساتھ کئی لوگ تلواروں اور لاٹھیوں کو لئے ہوئے تھے۔ سردار کاہنوں، معلّمین شریعت اور بزرگ یہودی قائدین نے ان لوگوں کو بھیجا تھا۔ 44 یسوع کون ہے لوگوں کو یہ معلوم کرانے کے لئے یہوداہ نے اشارہ کیا۔یہوداہ نے ان لوگوں سے کہا ، “میں جس کو بوسہ دوں وہی یسوع ہے۔ اسکو گرفتار کر کے بہت ہوشیاری اور نگرانی میں ساتھ لے جانا۔”45 تب یہوداہ نے یسوع کے نزدیک جاکر“اے استاد” کہا اور بوسہ دیا۔ 46 پھر ان لوگوں نے یسوع کو گرفتار کیا اور اس کو باندھ د یا۔ 47 یسوع کے نزدیک کھڑے ہوئے شاگردوں میں سے ایک نے اپنی تلوار کھینچ لی اور اعلٰی کاہن کے خادم کا کان کاٹ د یا۔ 48 تب یسوع نے ان سے کہا، “تم لوگ کیوں تلواروں اور لاٹھیوں کے ساتھ مجھے گرفتارکر کرنے آئے ہو؟ کیا میں مجرم ہو ں؟ 49 اور کہا، کہ روزانہ ہیکل میں تعلیم دینے کے لئے میں تمہارے ساتھ تھا۔ تم نے مجھے وہاں گرفتار نہیں کیا لیکن یہ سارے واقعات جیسا صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ایسا ہی ہوگا۔” 50 تب یسوع کے تمام شاگرد اسکو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ 51 یسوع کو ماننے والا ایک نوجوان آدمی وہاں موجود تھا۔ وہ سوتی کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ لوگوں نے اسکو بھی پکڑ لیا۔ 52 مگر اسکے جسم سے کپڑا گر گیا اور وہ برہنہ ہی وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ یسوع یہودی قائدین کے سامنے 53 یسوع کو جن لوگوں نے گرفتار کیا انہوں نے ان کو اعلٰی کاہن کے گھر لے گئے۔ تمام سردار کاہنوں اور بزرگ یہودی قائدین کے علاوہ معلّمین شریعت وہاں پر جمع تھے۔ 54 پطرس یسوع کے پیچھے کچھ فاصلے پر چلتے ہوئے اعٰلی کاہن کے گھر کے آنگن میں داخل ہوا اور محافظوں کے ساتھ بیٹھ گیا اور آگ تاپ نے لگا۔ 55 سردار کا ہنوں اور صدرِ عدالت نے یسوع کے خلاف شہادت تلاش کرنی شروع کی تا کہ اس کو قتل کیا جائے۔ لیکن وہ ایسی کو ئی شہا دت پا نے سے قاصر رہے۔ 56 کئی لوگ آئے اور یسوع کے خلاف جھوٹے ثبوت دیئے۔لیکن ان لوگوں نے مختلف باتیں کہیں جو ایک دوسرے سے میل نہیں کھا رہی تھیں۔ 57 تب چند لوگوں نے جو وہاں کھڑے تھے یسوع کے خلاف جھوٹے ثبوت پیش کئے۔ 58 ان لوگوں نے کہا ، “ہم نے سنا ہے کہ یہ آدمی کہہ رہا تھا کہ میں اس ہیکل کو تباہ کر دوں گاجسے انسانی ہاتھوں نے بنایا ہے اور تین دن میں دوسری ہیکل تعمیر کروں گا جسے انسانی ہاتھ نہیں بنائیگا۔” 59 اس کے باو جود بھی ان لو گوں کی کہی ہوئی باتوں میں کوئی موافقت نہیں پائی گئی۔ 60 پھر اعلیٰ کاہن نے تمام لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر یسوع سے پوچھایہ حاضرین جو تیرے خلاف الزا مات لگا رہے ہیں کیا تو ان کے خلاف اپنی صفا ئی میں کوئی بات نہیں کہے گا؟ اور پوچھا کہ لوگ جو تیرے خلاف کہہ رہے ہیں کیا وہ سچ ہے؟ 61 لیکن یسوع با لکل خا موش رہے اس کا کوئی جواب نہ دیئے۔ اعلیٰ کا ہن نے یسوع سے دوسرا سوال کیا،“کیا تو مسیح ہے؟ خدائے رحیم کا بیٹا ؟” 62 یسوع نے جواب دیا، “ہاں میں خدا کا بیٹا ہوں۔ اور ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کی داہنی جانب بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر سوار آتے ہوئے دیکھو گے۔” 63 اعلیٰ کاہن نے اپنے کپڑے پھاڑتے ہوئے کہا، “ہمیں مزید گواہی کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی! 64 تم سب نے اسے خدا کے خلاف کہتے ہوئے سنا اور پوُچھا کہ اس پر تم سب کا کیا فیصلہ ہے؟” سب لوگوں نے کہا، “وہ قصور وار ہے اور اسکو ضرور موت کی سزا ہونی چاہئے۔ 65 وہاں پر موجود چند لوگوں نے یسوع پر تھوکا اور انکا چہرا ڈھانک دیا اور مکّے مارے اور کہنے لگے، “ہمیں نبوت کی باتیں سنا” اور محافظوں نے طمانچے مار مار کر اُسے اپنے قبضہ میں لیا۔ پطرس کی بے وفائی 66 ا ُ س وقت پطرس ابھی آنگن ہی میں تھا کہ اعلیٰ کاہن کی ایک لونڈی پطرس کے پاس آئی۔ 67 پطرس کو جاڑوں میں آگ تاپتے ہوئے دیکھ کر اس لونڈی نے پطرس کو قریب سے دیکھا اور کہا، “تو وہی ہے جو اس ناصری یسوع کے ساتھ تھا۔” 68 لیکن پطرس نے انکار کیا اور کہا میں نہیں جانتا اور میں نہیں سمجھتا کہ تو کیا کہہ رہی ہے یہ کہتے ہوئے اٹھا اور آنگن کے باب الداخلہ۔کے پاس گیا [d] 69 اس لڑکی نے پطرس کو دوبارہ دیکھا اور وہاں کھڑے ہوئے لوگوں سے کہا، “یہ آدمی اس کے شاگردوں میں سے ایک ہے۔” 70 پطرس نے دو بارہ اس کی باتوں کا انکار کیا۔ تھوڑی دیر بعد پطرس کے قریب کھڑے ہوئے چند آدمیوں نے اس سے کہا ، “ہم جانتے ہیں کہ تو بھی اسکے شاگردوں میں سے ایک ہے اور توبھی گلیل ہی کا ہے۔” 71 تب پطرس اپنے آپ پر لعنت کرنا شروع کیا اور چلاّکر کہا کہ میں خدا کے لئے وعدہ کرتا ہوں یہ آدمی جس کے بارے میں تم مجھ سے کہتے ہو میں اسکو نہیں جانتا! 72 پطرس نے جب یہ کہا مرغ نے دوسری مرتبہ بانگ دیا ۔ تب پطرس نے یاد کیا کہ یسوع نے کیا کہا تھا: “مرغ کے دو بار بانگ دینے سے پہلے تو تین بار کہے گا کہ تو مجھے نہیں جانتا ہے۔” یسوع کی کہی ہوئی بات یاد کرکے وہ دکھ میں مبتلا ہوا اور رونے لگا۔ Footnotes: a. مرقس 14:1 فسح یہ یہودیوں کا اہم مقدس دن ہے۔یہودی اس دن مخصوص کھانا کھا تے ہیں۔ ہر سال یہ یاد کر تے ہیں کہ خدا نے مصر میں موسیٰ کے زما نے میں رہنے والے غلا موں کو آزاد کیا۔ b. مرقس 14:1 بغیر خمیر کے روٹی کی تقریب یہ یہودیوں کی چھٹیوں کا اہم ہفتہ ہے۔قدیم عہد نامہ میں یہ فسح کے دن کے بعد شروع ہوتاہے۔ لیکن اس وقت دو چھٹیاں ایک ہی بار آ جا تی ہیں۔ c. مرقس 14:27 زکریا۱۳:۷ d. مرقس 14:68 آیت ۶۸ بہت سارے یونانی صحیفوں میں یہ شامل ہے۔“ اور پرندوں کا ہجوم۔” مرقس 15 پیلاطس کا یسوع سے تفتیش کرنا 15 صبح سویرے سردار کاہنوں ، بڑے یہودی قائدین ، معلّمین شریعت اور صدر عدالت کے افراد نے اجلاس بلایا اور یہ طے کیا کہ یسوع کو کیا کر نا چاہئے۔ وہ یسوع کو باندھکر پیلاطس جو شہر کا گورنر تھا اسکے پاس لے گئے اور اسکے حوالے کیا۔ 2 پیلاطس نے یسوع سے پوچھا ، “کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے ؟” یسوع نے جواب دیا، “ہاں تو نے جو کہا ہے وہ ٹھیک ہے ۔” 3 سردار کاہنوں نے یسوع پر کئی الزامات لگائے۔ 4 تب پیلاطس نے یسوع سے پوچھا، “یہ لوگ تجھ پر کئی الزامات لگا رہے ہیں تو چپ ہے کوئی جواب نہیں دیتا ؟” 5 اس کے باوجود یسوع بالکل خاموش رہے اور اسکی خاموشی کو دیکھ کر پیلاطس کو بڑی حیرت ہوئی۔ پیلاطس کی یسوع کی رہائی کے لئے کی گئی نا کام کوشش 6 ہر سال فسح کی تقریب کے موقع پر گور نر کے حکم کی تعمیل میں قید خانہ سے ایک قیدی رہائی پاتا تھا۔ 7 اس وقت برابّا نامی ایک قیدی قبائلیوں کے ساتھ قید خانے میں تھا یہ سب جھگڑالو ایک جھگڑے کے وقت قتل کے الزام میں گرفتار تھے۔ 8 لوگ پیلاطس کے پاس آئے اور ہمیشہ کی طرح اپنے لئے ایک قیدی کی رہائی کی مانگ کر نے لگے۔9 پیلاطس نے لوگوں سے پو چھا کہ “کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارے لئے یہودیوں کے بادشاہ کی رہائی ہو ؟۔” 10 سردار کاہنوں کے حسد اور جلن سے یسوع کو قید کرکے اسکے حوالے کئے جانے کی بات پیلاطس کو معلوم تھی۔ 11 سردار کاہنوں نے لوگوں کو اکسایا کہ وہ پیلاطس سے برابّا کی رہائی کی گزارش کریں یسوع کے لئے نہیں۔ 12 پیلاطس نے لوگوں سے دوبارہ پوچھا ، “یہودیوں کے بادشاہ کے نا م سے تم جس آدمی کو پکارتے ہو اس کو میں کیا کروں” ؟ 13 لوگوں نے دوبارہ شور مچایا اور کہنے لگے ، “اسے مصلوب کرو۔” 14 پیلاطس نے پوچھا ، “کیوں؟ اور ا س کا جرم کیا ہے”؟ اس پر لوگوں نے ہنگامہ مچایا اور کہا ، “اسکو صلیب پر چڑھا ؤ ۔” 15 پیلاطس نے لوگوں کو خوش کر نے کے لئے برابّا نامی آدمی کو رہا کر دیا۔ اور درّے مار کر صلیب دینے کیلئے یسوع کو سپاہیوں کے حوالے کیا۔ 16 پیلاطس کے سپاہی یسوع کو گور نر کے محل کے آنگن میں لے گئے جو پر یتورین کہلاتا تھا اور انہوں نے دیگر تمام سپاہیوں کو ایک ساتھ بلایا۔ 17 سپاہیوں نے یسوع کے اوپر ارغوانی رنگ کا چوغہ پہنا کر اور کانٹوں کا ایک تاج بناکر اس کے سر پر رکھا۔ 18 تب انہوں نے یسوع کو سلام کرنا شروع کیا اور کہا، “اے یہودیوں کے بادشاہ ہم تم کو سلام کر تے ہیں!” 19 سپاہی اس کے سر پر چھڑی سے مارتے اور ان پر تھوکتے اور یسوع کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے اسکی عبادت مذاق کے طور پر کر رہے تھے۔20 جب سپاہیوں نے اس کا مذاق اڑا نا ختم کیا تو انہوں نے ارغوانی چغے کو نکال دیا۔ اور اسی کے کپڑوں کو دوبارہ پہنایا پھر وہ یسوع کو صلیب پر چڑھا نے کیلئے ساتھ لے گئے یسوع کو مصلوب کیا جانا 21 تب کرینی شہر کا ایک آدمی جس کا نام شمعون تھا وہ کھیت سے آرہا تھا۔ وہ سکندر اور روفی کا باپ تھا۔ سپا ہی یسوع کی صلیب اٹھا ئے لے جا نے کے لئے شمعون سے زبر دستی کر نے لگے۔ 22 اور وہ یسوع کو گلگتّا نام کی جگہ پر لائے۔گلگتّا کی معنی “کھوپڑی کی جگہ” 23 گلگتا میں سپاہیوں نے یسوع کو پینے کے لئے پیالہ دیا یہ مرُ ملی ہوئی مئے تھی۔لیکن یسوع نے اس کو نہ پیا۔ 24 سپا ہیوں نے یسوع کو صلیب پر لٹکا دیا اور میخیں ٹھونک دیں۔پھر یہودیوں نے قرعہ ڈالکر یسوع کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ 25 وہ جب یسوع کو صلیب پر چڑھائے تو صبح کے نو بجے کا وقت تھا۔ 26 یسوع کے خلاف جو الزام تھا وہ یہ کہ یہودیوں کا بادشاہ یہ صحیفہ صلیب پر لکھوائی گئی تھی۔ 27 اس کے علاوہ انہوں نے یسوع کے ساتھ دو ڈاکوؤں کو بھی صلیب پر لٹکا دیا تھا۔ انہوں نے ایک ڈاکو کو یسوع کی داہنی جانب اور دوسرے کو بائیں جانب لٹکا دیاتھا۔ 28 [a] 29 وہاں سے گزرنے والے لوگ اپنے سروں کو ہلا تے ہوئے یسوع کی بے عزتی کرتے اور کہتے “تو نےہیکل کو منہدم کر کے اس کو پھر تین دنوں میں دوبارہ تعمیر کر نے کی بات بتائی ہے۔ 30 اب تو صلیب سے اتر کر نیچے آجا اور اپنے آپ کی حفاظت کر ۔” 31 وہاں پر موجود سردار کاہن اور معلّمین شریعت بھی مذاق اڑا کر کہنے لگے، “اس نے دیگر لوگوں کی حفاظت کی مگر اب اپنے آپ کی حفاظت نہ کرسکا۔ 32 اگر وہ حقیقت میں اسرائیل کا بادشاہ مسیح ہے تو اب صلیب سے اتر کر نیچے آئے اور اپنے آپ کی حفاظت کرے تو اس وقت ہم اس پر ایمان لائینگے۔” اس طرح وہ طعنہ دینے لگے۔ یسوع کے بغل ہی میں دو ڈاکو صلیب پر چڑھا ئے گئے تھے ان لوگوں نے بھی اس کا مذاق اڑانے لگے۔ یسوع کی موت 33 دوپہر کا وقت تھا سارا ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا یہ اندھیرا دوپہر تین بجے تک تھا۔ 34 تین بجے یسوع نے بلند آواز سے پکارا ایلوہی ایلوہی لمّا سبقتنی جس کے معنٰی “میرے خدا! میرے خدا! تو نے میرا ساتھ کیوں چھوڑ دیا؟” [b] 35 وہاں پر کھڑے ہوئے چند لوگوں نے اس کو سُنا اور دیکھا “اور کہے کہ وہ ایلیاہ کو پکارتا ہے۔” 36 وہاں سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور اسپنج لیا اور اسکو سر کہ میں ڈبویا اور اس کو ایک لاٹھی سے باندھکر یسوع کو چسایا اور کہنے لگا ذرا ٹھہرو، “میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایلیاہ اسکو صلیب سے نیچے اتار نے کے لئے آتا ہے یا نہیں۔” 37 تب یسوع زور سے چیخے اور انتقال ہوگئے۔ 38 اس وقت ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک دو حصّوں میں پھٹ گیا۔ 39 صلیب کے سامنے کھڑا ہوا رومی فوجی عہدیدار جو یسوع کے دم توڑتے ہوئے منظر کو دیکھ رہا تھا اور کہا ، “ کہ یہ آدمی تو حقیقت میں خدا کا بیٹا ہی ہے۔” 40 وہاں چند عورتیں صلیب سے دور کے فاصلہ پر کھڑی ہوکر یہ سارا واقعہ دیکھ رہی تھیں ان چند عورتوں میں مریم مگدینی ،سلومے اور مریم یعقوب اور یسوع کی ماں ( یعقوب اسکا چھوٹا بیٹا شامل تھا ) تھیں۔ 41 یہ عورتیں گلیل میں یسوع کے ساتھ رہتی تھیں اور اسکی خدمت میں تھیں اور دوسری کئی عورتیں بھی تھیں جو یسوع کے ساتھ یروشلم کو آئیں تھیں یسوع کی تدفین 42 تب اندھیرا چھا نے لگا وہ تیاری کا دن تھا یعنی سبت سے پہلے کا دن۔ 43 ارمیتہ گاؤں کا رہنے والا یوسف پیلاطس کے پاس گیا جرآ ت کرتے ہوئے یسوع کی لاش خود لے جانے کی درخواست کی جب کہ یوسف یہودی تنظیم میں ایک اہم رکن تھا خدا کی بادشاہت کی آرزو کر نے والوں میں سے یہ بھی ایک تھا۔ 44 یسوع اس قدر جلد انتقال کر جانے پر پیلا طس کو حیرت ہوئی یسوع کی نگرانی پر متعین ایک سپاہی عہدیدار کو پیلاطس نے بلایا اور پوچھا ، “ کیا یسوع کا انتقال ہوگيا؟” 45 اس عہدیدار نے کہا ، “ہاں ان کا انتقال ہوگيا۔”اس طرح پیلاطس نے یو سف سے کہا وہ لاش کو لے جا سکتا ہے۔ 46 یو سف سوت کا موٹا کپڑا لا یا اور صلیب سے لاش اتار کر اس کو اس کپڑے میں لپیٹ دیا۔ پھر اسکے بعد چٹان والی قبر میں اسکو اتارا اور اس قبر میں پڑے پتّھرکو لڑھکا کر اس کو بند کردیا۔ 47 مریم مگدینی اور یو سیس کی ماں مریم نےجگہ کی نشاندہی کر لی تھی کہ یسوع کی لاش کس جگہ رکھی گئی ہے؟ Footnotes: a. مرقس 15:28 آیت ۲۸ چند یونانی نسخوں میں اس آیت کو شامل کئے ہیں، “وہ مجرموں میں رکھا گیا ہے-” شریعت کی یہ آیت اس طرح پوری ہوئی۔” b. مرقس 15:34 اِقتِباس زبور ۲۲:۱ مرقس 16 یسوع کا دوبارہ زندہ ہونا 16 سبت کے دوسرے دن مریم مگدینی سلومے اور یعقوب کی ماں مریم یہ چاہتی تھیں کہ چند خوشبودار چیزیں یسوع کی لاش کو لگا ئیں۔ 2 ہفتہ کا پہلا دن تھا صبح کے وقت وہ قبر کی جگہ چلی گئیں۔ اس وقت حالانکہ سورج طلاع ہو رہا تھا پھر بھی تاریکی تھی۔ 3 یہ عورتیں آپس میں باتیں کر تے ہوئے کہنے لگیں کہ “پتھر کی بڑی چٹان کے ذریعے قبر کے منھ کو بند کر دیا گیا ہے اور کہا کہ یہ چٹان ہمارے لئے کون لڑھکائینگے؟” 4 جب وہ عورتیں قبر پر پہونچی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ چٹان لڑھکی ہوئی ہے جب کہ وہ چٹاّن بہت بڑی تھی۔ لیکن اس کو قبر کے منھ سے دور لڑھکا یا گیا تھا۔ 5 وہ عورتیں جب قبر میں اتریں تو کیا دیکھتی ہیں کہ سفید چوغہ پہنا ہوا ایک نوجوان قبر کی داہنی جانب بیٹھا ہوا ہے اس کو دیکھ کر یہ گھبرا گئیں۔ 6 لیکن اس نے کہا ، “ گھبراؤ مت! صلیب پر چڑھا یا ہوا جس ناصری یسوع کو تم ڈھونڈ رہی ہو دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں اور وہ یہاں نہیں ہے دیکھو انکی لاش جس جگہ رکھی گئی تھی وہ یہی ہے۔ 7 اب جاؤ یسوع کے شاگر دوں میں منادی کرو۔ بطور خاص پطرس کو یہ بات معلوم کراؤ اور تم ان سے کہنا کہ یسوع گلیل کو جا رہے ہیں اور وہ تم سے قبل وہاں رہیں گے۔ اس نے تم سے پہلے ہی کہا ہے کہ تم اس کو وہاں دیکھو گے۔” 8 وہ عورتیں ڈرکے مارے بدحواس ہو گئیں اور کانپ رہی تھیں اور قبر چھوڑ کر بھاگ گئیں۔ چونکہ وہ بہت زیادہ خوف زدہ تھیں اس لئے وہ اس واقعہ کو کسی سے نہیں کہا۔ ( چند قدیم مرقس کی یونانی کتا بیں یہیں پر ختم ہوتی ہیں ) کچھ شاگر دوں کو یسوع کا دیدار 9 ہفتہ کے پہلے دن کی صبح ہی یسوع دوبارہ جی اٹھے۔ یسوع پہلے پہل مریم مگدینی کو نظر آئے۔ پچھلے دنوں کبھی یسوع نے مریم مگدینی پر سے سات بد روحوں کو نکال باہر کئے تھے۔ 10 مریم گئی اور انکے شاگر دوں کو معلوم کرایا۔ لیکن وہ اب تک غم میں ڈوبے ہوئے ماتم کر رہے تھے۔ 11 جب مریم نے شاگردوں کو یہ معلوم کرا یا کہ میں نے یسوع کو زندہ دیکھا تو شاگر دوں نے اس کی بات پر بھروسہ نہ کیا۔ 12 ایک دفعہ ایسا ہوا کہ یسوع کے دو شاگرد جب ایک گاؤں سے گز ررہے تھے تو یسوع ان کو ایک دوسری ہی شکل میں دکھا ئی دیا۔ 13 یہ شاگرد دوسرے اور شاگر دوں کے پاس واپس لوٹے اور ان کو یہ واقعہ سنا یا لیکن انہوں نے انکی بات پر یقین نہ کیا۔ یسوع کا اپنے شاگردوں کے ساتھ گفتگو کر نا (متّی ۲۸ :۱۶۔۲۰ ؛لوقا ۲۴:۳۶۔۴۹؛یوحنا۲۰:۱۹۔۲۳؛اعمال۱:۶۔۸) 14 جب گیارہ شاگرد کھانا کھا رہے تھے یسوع ان کو نظر آئے ، شاگر دوں میں چونکہ ایمان کم تھا جس کی وجہ سے یسوع نے انکی مخالفت کی وہ ضدّی تھے اور لوگوں کی اس بات پر یقین کر نے سے انکار کردیا کہ یسوع مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھا ہے۔ 15 پھر یسوع نے تمام شاگر دوں سے کہا ، “جاؤ اور ساری زمین میں پھیل جاؤ اور ہر ایک کو خوشخبری سناؤ۔ 16 وہ جو ایمان لائے اور وہ جو بپتسمہ لے نجات پائیگا اور جو ایمان نہ لائے وہ مجرم کے زمرے میں شا مل ہوگا۔ 17 ایما ن رکھنے والے معجزے دکھا ئیں گے۔اور وہ میرے نام کا واسطہ دیکر بد روحوں سے چھٹکارہ دلائیں گے۔اور وہ زبان جس کو وہ جانتے ہی نہیں اس میں وہ باتیں کریں گے۔ 18 اگر یہ سانپوں کو پکڑ بھی لیں تو ان کو ڈسینگے نہیں۔اگر یہ زہر بھی پی لیں تو ان پر اسکا کوئی اثر بھی نہ ہوگا اور کہا دست شفقت رکھیں گے تو بیمار بھی صحتیاب ہو جائیں گے۔” یسوع کا آسمان پر لوٹنا 19 خداوند یسوع ان واقعات کو اپنے شاگردوں سے بیان کیا اور پھر اسکے بعد انکو آسمان میں اٹھا لیا گیا۔ اور وہ وہاں پر خُدا کی داہنی جانب بیٹھ گئے۔ 20 شاگردوں نے روئے زمین میں ہر طرف پھیل کر لوگوں میں اس خوشخبری کی منا دی کر دی اور خدا وند نے ان لو گوں کی مدد کی۔ اور مختلف معجزوں کے ذریعے اس خوشخبری کی بات کو مستحکم کر تے رہے۔ لوقا 1 یسوع کی زندگی کے بارے میں لوقا کے صحیفے 1 معزّز تھیفلس کئی لوگوں نے کوشش کی ہے کہ ہم میں پیش آئے ہوئے واقعات کو ترتیب دیں۔ 2 یہی باتیں ان لوگوں کی معر فت بتائی گئیں اور لکھی گئیں جن واقعات کو ہم نے کچھ دوسرے لوگوں سے سنا اور سیکھا جنہوں نے ابتدا میں ان کو اپنی آنکھوں سےدیکھا اور لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچا کر ان کا خادم ہوا۔3 چونکہ میں نے خود ابتدا سے ہی تحقیق کر کے ترتیب سے لکھا اور انہیں تمہارے سامنے کتابی شکل میں تر تیب سے پیش کررہا ہوں۔ 4 تم واضح طور سے جان جاؤگے کہ جو تعلیم تمہیں دی گئی ہے وہ سچی ہے۔ زکریا اور الیشبع (الیزا بت) 5 باد شاہ ہیرودیس تب یہوداہ پر حکومت کرر ہے تھے وہاں ز کریا نامی ایک کاہن تھے۔ اور زکریا ا بیاّ ہ انہیں کے گروہ سے تھا۔ز کریا کی بیوی ہارون کے خاندان سے تھی۔ اور اس کا نام الیشبع (الیز ابت )تھا۔6 زکریا اور الیشبع دونوں حقیقت میں خدا کی نظر میں بہت اچھے تھے۔ وہ ہمیشہ خدا کے تمام احکا مات کی ا طا عت کر نے والے تھے اور وہ غلطیوں سے پاک صاف تھے۔ 7 ان کی اولاد نہ تھی۔ اور الیشبع بانجھ تھی اور وہ دونوں بہت معمر تھے۔ 8 ایک مرتبہ جب اسکے گروہ کی باری آئی توزکریا خدا کی خدمت بطور کاہن انجام دے رہے تھے۔ 9 کاہن لوگ عود جلا نے کیلئے انکے رسم ورواج کے مطا بق قرعہ ڈال کر ایک کاہن کا انتخاب کرتے تھے۔اس مرتبہ زکریا کا نام نکلا۔اس وجہ سے زکریاخوشبو جلا نے کے لئے ہیکل میں چلے گئے۔ 10 باہر لوگوں کی بڑی بھیڑ تھی۔ عود جلا تے وقت وہ دعا کر رہے تھے۔ 11 اس وقت عود پیش کر نے کے دوران داہنی جانب خدا وند کا ایک فرشتہ زکریا کے سامنے ظاہر ہوا۔12 خداوند کے فرشتے کو دیکھ کر زکریا سہم گئے اور ان پر دہشت چھا گئی۔ 13 لیکن فرشتہ نے ان سے کہا ، “اے زکریا مت ڈر تیری دعا خدا نے سن لی اور تیری بیوی الیشبع ایک لڑکے کو جنم دے گی۔ اور تو اسے یوحناّ کا نام دینا۔ 14 اور اس کی پیدائش سے تمہیں خوشی ومسرت ہوگی اور کئی لوگ بھی خوش ہوں گے۔ 15 خداوند کی نظر میں یوحناّ ایک عظیم آدمی ہوگا۔ وہ نہ مئے پئے گا اور نہ ہی شراب ، حتیٰ کے پیدا ئش کے وقت سے ہی روح القدس سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ 16 وہ کئی یہودیوں کوخداوند جو ان کا خدا ہے کی طرف رجوع ہو نے میں مدد کرے گا۔ 17 وہ پہلے خداوند کے سامنے پیامبر کے طور سے جا ئے گا اس کے پاس روح اور ایلیاہ کی قوت ہو گی وہ باپ اور بیٹوں کے درمیان سلامتی لا ئے گا۔کئی نا فرمانوں کو تقوٰی کی راہ پر چلا ئے گا اور لوگوں کو خداوند کی آمد کے لئے تیار کرے گا۔” 18 زکریا نے فرشتے سے کہا ، “میں کیسے جانوں کہ جو تو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بھی بوڑھی ہے۔” 19 فرشتے نے جواب دیا “میں جبرائیل ہوں میں ہمیشہ خدا کے حضور کھڑا رہتا ہوں خدا نے مجھے تیرے پاس کلا م کر نے کیلئے بھیجا ہے کہ تجھے ان باتوں کی خوشخبری دوں۔ 20 اب سن تو اپنی تقریر کھو دے گا اور تو اس دن تک بات نہیں کرے گا جب تک یہ چیزیں ہو نہ جا ئیں کیوں کہ تو نے میری باتوں پر یقین نہ کیا لیکن میری باتیں پوری ہوں گی۔ 21 لوگ زکریا کا انتظار کر رہے تھے اور حیرت کر نے لگے کہ ہیکل سے باہر نکلنے میں اس کو اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ 22 جب زکریا باہر آئے تو وہ ان سے بات نہیں کر سکے تو لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ شاید انہوں نے ہیکل میں خواب دیکھا ہوگا وہاں کھڑے رہے کیوں کہ وہ اشارہ کرتا تھا اور بولتا نہیں تھا۔ 23 بحیثیت کا ہن اس کی ملازمت کا دور مکمل ہوازکریا اپنے گھر کو لوٹا۔ 24 تب ایسا ہو ا کہ زکریا کی بیوی الیشبع حاملہ ہو گئی لیکن وہ پانچ ماہ تک اپنے گھر سے باہر نہ گئی۔25 الیشبع نے کہا، “دیکھو خدا نےمیری کیسی طرفداری کی کہ مجھے بچے نہ ہو نے سے لوگوں کے سامنے جو شر مندگی تھی اس کو اس نے دور کردیا۔” پاک دامن کنواری مریم 26 ۔ 27 الیشبع جب چھ ماہ کی حاملہ تھی تو خدا نے اپنے فرشتے جبرائیل کو گلیل شہر کے ایک گاؤں ناصرت میں رہنے والی ایک پاک دامن کنواری لڑ کی کے پاس بھیجا جس کی داؤد کے خاندان کے ایک یوسف نامی آدمی سے سگائی ہوئی تھی اور اس کا نام مریم تھا۔ 28 فرشتہ نے اس کے پاس آکر کہا ، “سلام! تجھ پر خدا کا فضل و کرم ہو یہ بات مبارک ہو کہ خدا تیرے ساتھ ہے۔” 29 فرشتہ کی بات سن کر مریم بہت پریشان ہوئی، “سلام کے کیا معنی ہیں؟۔” 30 فرشتے نے اس سے کہا، “اے مریم خوفزدہ مت ہو خدا تجھ پر بہت زیادہ فضل کرے گا۔ 31 سن لے! توحاملہ ہو کر ایک لڑ کے کو جنم دے گی تجھے اس کا نام “یسوع” رکھنا ہو گا۔ 32 وہ ایک عظیم آدمی بنے گا اور لوگ اس کو خدا ئے تعالیٰ کا بیٹا کہیں گے خداوند خدا ان کو انکے اجداد داؤد کا اختیار دے گا۔33 یسوع بادشاہ کی طرح یعقوب کی رعایا پر ہمیشہ حکمرانی کریں گے۔ اور اس کی بادشاہت کبھی ختم ہو نے والی نہ ہو گی۔” 34 مریم نے فرشتہ سے کہا، “یہ کیسے ممکن ہے میں تو شا دی شدہ نہیں ہوں؟” 35 فرشتہ نے مریم سے کہا ، “روح ا لقدس تجھ پر آئیگا اعلیٰ ترین خدا کی طاقت تجھے گھیر لے گی اسی لئے مقدس بچہ پیدا ہو نے والا خدا کا بیٹا کہلا ئیگا۔ 36 اس کے علاوہ تیری قرابت دار الیشبع بھی حاملہ ہے وہ بہت عمر رسیدہ ہے اور وہ مرد بچے کو جنم دے گی وہ عورت بانجھ کہلا تی تھی اب چھ ماہ کی حاملہ ہے۔ 37 خدا کے لئے کو ئی بات نا ممکن نہیں ہے۔” 38 مریم نے کہا ، “میں خدا کی خادمہ ہوں اور جیسا تو نے کہا ہے ویسا ہی میرے لئے ہو نے دے “تب فرشتہ وہا ں سے چلا گیا۔ مریم کا زکریا اور الیشبع ( الیزابت ) سے ملاقات کرنا 39 اس کے بعد جلدی مریم اٹھی ا ور یہوداہ کے پہاڑی علا قے میں ایک گاؤں کی طرف چلی گئی۔ 40 وہ زکریا کے گھر گئی اور الیشبع کو سلام کی۔ 41 جب الیشبع نے مریم کا سلام سنا تو اس کے پیٹ کا بچہ مچلنے لگا۔تب الیشبع رُو ح القدس سے بھر پور ہوئی۔ 42 تب وہ اونچی آواز میں بولی، “خدا نے تجھ کو دیگر تمام عورتوں سے بڑی فضلیت بخشی ہے اور تجھ سے پیدا ہو نے والا بچہ بھی فضلیت والا ہوگا۔ 43 میرے ساتھ یہ کیسا ماجرا ہوا کہ میرے خداوند کی ما ں مجھ سے ملنے آ ئی ہے میں کتنی خوش نصیب ہوں کہ میرے خداوند کی ماں مجھ سے ملنے آئی ہے۔44 جیسے ہی تیرے سلام کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تو میرے پیٹ کا بچہ خوشی سے مچل گیا۔ 45 تم پر فضل ہوا کیوں کہ تمہارا ایمان ہے کہ خداوند نے تم سے جو کہا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔” مریم کا خدا کی تعریف بیان کرنا 46 تب مریم نے کہا۔ 47 “میری جان خدا وند کی حمدوثنا کرتی ہے۔ میرا دل خوش ہے کیوں کہ خدا میرا نجات دہندہ ہے۔ 48 خدا نے اپنی مہر بانی میرے لئے، اس خدمت گذار لڑ کی کیلئے دکھا ئی ہے۔ تمام لوگ آج سے مجھے کہیں گے کہ مجھ پر فضل ہوا ہے۔ 49 کیوں کہ وہ جو قدرت والا ہے میرے لئے عظیم کام کیا ہے اوراس کا نام بہت مقدس ہے۔ 50 جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں ان لوگوں پر نسل در نسل اس کا رحم و کرم رہتا ہے۔ 51 اس نے اپنی قوت بازو دکھا کر مغروروں کو منتشر کردیا اور ان کے منصوبوں کو جو ان کے دماغوں میں تھے نیست ونابود کر دیا۔ 52 خد ا بڑے بڑے حاکموں کو تخت سے نیچے اتار دیا ہے اور عاجزوں کو اوپر اٹھایا ہے۔ 53 وہ بھوکوں کو مطمئن کیاہے اور دولتمندوں کو خالی ہاتھ لوٹایا ہے۔ 54 خدا نے اپنی خدمت کے لئے چنے ہوئے بنی اسرائیلیوں کی مدد کی ہے اسنے ہم لوگوں پر رحم کر نے کے اپنے وعدے کو نہیں بھولا۔ 55 خدا نے ہمیشہ وہی کیا ہے جو وعدہ اس نے ہما رے آباء و اجدا د، ابراہیم اور انکی اولادوں کے ساتھ کیا تھا۔” 56 مریم تقریباً تین ماہ تک الیشبع کے ساتھ رہی پھر اپنے گھر واپس لوٹی۔ یوحناّ کی پیدا ئش 57 الیشبع کے وضع حمل کا وقت آگیا اور اس کو ایک لڑ کا پیدا ہوا۔ 58 خدا کی اس پر جو مہر بانی ہوئی اس کے پڑوسیوں نے اور اس کے رشتہ داروں نے دیکھا۔ اور وہ سب اس کے ساتھ خوشی میں شامل ہوئے۔ 59 بچہ جب آٹھ دن کا ہوا تو وہ ختنہ کے لئے آئے اور وہ اس بچہ کا نام زکریا رکھنا چاہتے تھے کیوں کہ وہی بچے کے باپ کا نام تھا۔ 60 لیکن بچے کی ماں نے کہا، “نہیں اس کا نام ’یوحناُ‘ رکھنا چاہئے۔” 61 لوگوں نے الیشبع سے کہا،“تیرے خاندان میں یہ نام تو کسی کا نہیں ہے۔” 62 تب وہ اس کے باپ کو اشارہ کر کے پوچھا کہ “تم اس کا کیا نام رکھنا چاہتے ہو؟” 63 تب ز کریا اشارہ کر کے ایک تختی منگایا اور لکھا کہ “اس کا نام یو حنّا” ہے۔ سب لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی۔ 64 اسی وقت سے ز کریا دوبارہ پھر باتیں کر نے لگا اور خدا کی تعریف شروع کی۔ 65 یہ سب سن کر پڑوسیوں کو خوف ہوا یہوداہ کے پہاڑی علا قے میں لوگ اس واقعہ کے بارے میں آپس میں گفتگو کر نے لگے۔ 66 اس واقعہ کو سننے والے تما م لوگ متا ثر ہوئے اور کہا ، “یہ لڑکا بڑا ہو نے کے بعد نبی بنیگا؟ کیوں کہ خدا اس بچے کے ساتھ تھا۔ ز کریا کا خدا کی تعریف کرنا 67 تب یوحناّ کاباپ زکریا روح القدس سے معمور نبی کی طرح کہا۔ 68 “اسرائیل کے خداوند خدا کی تعریف ہو اس نے آکر اپنے لوگوں کو چھٹکارا دلایا ہے۔ 69 اور اپنے خادم داؤد کے گھرا نے میں ہمارے لئے نجات کا سینگ نکالا۔ 70 خدا نے کہا اس بات کو کر نے کا وعدہ اس نے اپنے مقد س نبیوں کے ذر یعے بہت پہلے کیا ہے۔ 71 خدا نے ہم کو ہمارے دشمنوں سے اور ہم سے نفرت کرنے والے لوگوں سے بچایا ہے۔ 72 اپنے رحم کو ظاہر کر نے کے لئے ہمارے آباء واجداد سے کئے ہو ئے اپنے مقدس وعدے کو اس نے یا دکیاہے۔ 73 خدا نے ہمارے آباء واجداد میں ابراہیم کو قسم کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ ہم کو ہمارے دشمنوں کی گرفت سے چھڑا ئیگا۔ 74-75 کیوں کہ اس کا منشاء ہے کہ ہم اس کی خدمت بلا خوف پرہیز گاری اور پاکبا زی کے ساتھ ساری زندگی گذاریں۔” 76 اے لڑ کے “تو خدا ئے تعالیٰ کا نبی کہلا ئے گا۔ تو خداوند کے آگے لوگوں کو اس کی آمد کے لئے تیار کر نے جائیگا۔ 77 تو اس کے لوگوں کو سمجھا ئے گا کہ انہیں اُن کے گناہوں کی معا فی کے ذریعے نجات دی جا ئیگی۔ 78 “ہمارے خدا کے بڑے فضل وکرم کے ذریعے آسمان سے ہمارے لئے ایک نیا دن طلوع ہوگا۔ 79 اور یہ اندھیرے میں رہنے والوں کے لئے اور موت کا خوف کرنے والوں کے لئے چمکے گا وہ ہمیں سلا متی کا راستہ بتائے گا۔” 80 وہ لڑ کا بڑا ہو رہا تھا اور بڑی روحانی طور پر قوت مند ہو رہاتھا۔ یوحناّ اسرائیلیوں کے سامنے کھلے عام آنے تک لوگوں سے دور جنگلوں میں رہتا تھا۔ لوقا 2 یسوع کی پیدائش 2 اس زمانے میں قیصر اوگوستس نے رومہ کے اقتدار کی حدود میں آنے والے تمام شہروں میں مردم شماری کروانے کا حکم دیا۔ 2 یہ پہلی مردم شماری تھی جبکہ کورنیس ملک سوریہ کا گورنر تھا۔ 3 سب لوگ اپنے اپنے ناموں کو اندراج کروانے کیلئے اپنے اپنے گاؤں کو جا نا شروع کئے۔ 4 اس وجہ سے یوسف بھی گلیل کے ناصرت نام کے گاؤں سے نکل کر یہودا ہ کے بیت اللحم گاؤں کو گئے۔ بیت اللحم داؤد کا شہر کہلاتا ہے یوسف چونکہ داؤد کے خا ندان کا تھا اسی لئے داؤد کے گاؤں بیت اللحم کو گیا۔ 5 وہ اپنے ساتھ مریم کو بھی اندراج کے لئے لے گیا۔ جبکہ اس سے اس کی سگائی ہو چکی تھی وہ حاملہ بھی تھی۔ 6 وہ جب بیت اللحم میں تھے تو مریم کے وضع حمل کا وقت آگیا۔ 7 اس کا پہلوٹھا بچہ پیدا ہوا انہیں سرا ئے میں کوئی جگہ نہ ملی۔ اسی لئے مریم نے بچہ کو کپڑے میں لپیٹ کر جانوروں کے باندھنے کی وہ جگہ جہاں جانور گھاس وغیرہ کھاتے ہیں بچے کو اس میں سلا دیا۔ چرواہوں کو پیغا م کا ملنا 8 اس رات اسی علاقے میں چند چرواہے کھیتوں سے قریب اپنے ریوڑ کی نگرانی کر رہے تھے۔ 9 خداوند کا ایک فرشتہ چرواہوں کے سامنے موجود تھا انکے اطراف خداوند کا جلال چمک رہاتھا۔چرواہے بہت زیادہ گھبرا گئے۔ 10 فرشتہ نے ان سے کہا ، “خوفزدہ مت ہو میں تمہارے لئے خوش خبری لا رہاہوں جوتم سب لوگوں کے لئے بڑی خو شیاں لا ئے گی۔ 11 آج کے دن تمہا رے لئے داؤد کے گاؤں میں ایک نجات دہندہ پیدا ہوا ہے یہ مسیح ہی خداوند ہے۔ 12 کپڑے میں لپیٹا ہوا ایک بچہ چرنی میں سویا ہوا تم دیکھوگے تم کو پہچا ننے کیلئے یہی نشا نی ہو گی۔” 13 اچانک آسمان سے فرشتوں کی بہت بڑی تعداد آئی اور پہلے والے فرشتہ کے ساتھ سب شامل ہو گئے۔ سب فرشتے خدا کی حمدوثنا کہتے تھے۔ 14 “عالمِ بالا میں خدا کی تمجید ہو اور زمین پر ان آد میوں میں جن سے وہ راضی ہے صُلح۔” 15 فرشتہ چرواہوں کے پاس آسمان پر لوٹے تو چرواہوں نے ایک دوسرے سے کہا ، “ہم اسی وقت بیت اللحم جائیں گے اور خداوند نے ہمیں جس واقعہ کو معلوم کرایا ہے اس کو دیکھیں گے۔” 16 پس انہوں نے جلدی جاکر مریم اور یوسف کو دیکھا اور چرنی میں بچے کو دیکھا۔ 17 جب چرواہوں نے بچہ کو دیکھا اس کے بارے میں فرشتوں نے جو کچھ معلوم کروایا تھا بچے کے متعلق اس کو بیان کیا۔18 وہ سب چرواہوں نے ان سے جو کچھ کہا اس کو سن کر وہ حیرت زدہ ہوئے۔ 19 مریم نے ان واقعات کو اپنے دل ہی میں رکھا اور انکے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ 20 چرواہوں نے جن واقعات کو سنا اور دیکھا تھا اس کے لئے وہ خدا کی تعریف اور شکر کر تے ہوئے اپنی جگہ چلے گئے جہاں انکی بکریاں تھیں۔اور یہ سب کچھ ویسا ہی ہوا تھا جیسا کہ فرشتہ نے کہا تھا۔ 21 جب بچہ آٹھ دن کا ہوا تو اسکا ختنہ کیا گیا۔پھر اسکا نام “یسوع” رکھا گیا۔مریم کا حاملہ ہونے سے پہلے فرشتے نے بھی اسکا یہی نام رکھنے کے لئے کہا تھا۔ ہیکل میں یسوع کا موجود ہونا 22 پاکی کے بارے میں موسٰی کی شریعت میں دی گئی تعلیم کو مریم اور یوسف کے لئے پورا کرنے کا وقت آیا۔یسوع کو خدا وند کی نذر کرنے کے لئے یوسف اور مریم دونوں اسکو یروشلم لے آئے۔ 23 کیوں کہ خدا کے قانون میں لکھا ہے کہ “ہر خاندان میں پہلوٹھا لڑکا ہو تو اسکو خدا وند کے لئے نذرانہ کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔ [a] 24 خدا وند کا قانون یہ بھی کہتا ہے کہ “دو کبوتروں یا دو فاختاؤں کو بطور قربانی پیش کرنا چاہئے۔” [b] اس وجہ سے یوسف اور مریم دونوں یروشلم کو گئے۔ شمعون کا یسوع کو دیکھنا 25 شمعون نام کا ایک آدمی یروشلم میں رہتا تھا وہ بہت ہی اچھا او ر مذہبی آدمی تھا شمعون اس بات کا منتظر تھا کہ کب خدا اسرائیل کی مدد کریگا۔اُس میں روح القدُس تھا۔ 26 روح ا لقدس نے شمعون سے کہا ، “خداوند کی جانب سے بھیجے جانے والے مسیح کو بغیر دیکھے تو نہیں مریگا۔ 27 شمعون روح القدس کی رہنمائی سے ہیکل کو آیا تاکہ یہودی شریعت کی ضرورتوں کو پورا کرے مریم اور یوسف دونوں ہیکل کو گئے اور وہ بچّہ یسوع کو بھی ہیکل میں لے آئے۔ 28 شمعون بچّہ کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر خدا کی تعریف اس طرح کرنے لگا: 29 “خدا وند نے اپنے وعدہ کے مطابق سکون سے مرنے کے لئے اپنے خادم کو اجازت دے دی۔ 30 میں نے خود اپنی آنکھوں سے تیری نجات کو دیکھا ہے۔ 31 تو نے تمام لوگوں کے لئے اسکو تیّار کردیا ہے۔ 32 وہ غیر یہودیوں کو تیرا راستہ بتا نے کے لئے نور ہوگا اس کی وجہ سے تیرے لوگوں کو اسرائیل میں جلال ملیگا۔” 33 شمعون نے بچّے سے جو باتیں کہیں ان باتوں کو سن کر اس کے ماں باپ کو بڑا تعجب ہوا۔ 34 تب شمعون نے ان کو دعائیں دیں یسوع کی ماں مریم سے کہا ، “اس بچّے کی وجہ سے یہودیوں میں کئی گرینگے اور کئی اٹھیں گے۔ اور بعض اسکو قبول نہ کریں گے۔ یہ خدا کی جانب سے نشانی ہوگی جس کو کچھ لوگ رد کریں گے۔ 35 لوگ جن پوشیدہ باتوں کو سوچیں گے وہ ظاہر ہو جائے گی۔اور ایک تلوار تیری جان کو بھی چھید دیگی۔” حناّ ہ کا یسوع کو دیکھنا 36 ہیکل میں حناّ نامی ایک نبیہ تھی۔ وہ آثر نام قبیلہ کے فنو ایل کے خا ندان سے تعلق رکھتی تھی۔حناّہ بہت عمر رسیدہ ہو چکی تھی۔ وہ اپنی شادی کے سات سال میں اپنے شوہر کو کھو چکی تھی۔ 37 تب اپنی باقی ساری عمر بیوہ رہ کر گذاری اس وقت وہ چوراسی سال کی تھی۔ حناّ ہ ہمیشہ ہیکل ہی میں رہتی تھی وہ اور کہیں نہیں جاتی تھی۔ وہ روزہ رکھتی تھی اور رات دن دُعا کرتے ہوئے خدا کی عبادت کرتی تھی۔ 38 وہ اسی وقت وہاں پہونچ کر خدا کا شکر ادا کی اور لوگوں کو یسوع کے بارے میں کہی جو اس نجات کے منتطر تھے جو خدا یروشلم کو دینے والا تھا۔ یوسف اور مریم کا گھر کو واپس ہونا 39 خداوند کی شریعت کے تمام احکامات کو پورا کرنے کے بعد یوسف اور مریم گلیل علاقے میں اپنے خاص گاؤں ناصرت کو واپس لوٹے۔ 40 اس دوران بچّہ بڑا اور طاقتور ہو رہا تھا۔ اور حکمت سے بھی معمور ہو رہا تھا اور خدا کا فضل و کرم اسکے ساتھ تھا۔ بچّہ یسوع 41 ہر سال یسوع کے ماں باپ فسح کی تقریب منانے یروشلم کو جایا کرتے تھے۔ 42 جب یسوع کی عمر بارہ برس کی ہوئی تو وہ ہمیشہ کی طرح فسح کی تقریب منانے کے لئے یروشلم کو گئے۔ 43 تقریب کا دن گزر جانے کے بعد وہ اپنے گھر کے سفر پر روانہ ہوئے لیکن بچّہ یسوع یروشلم ہی میں رک گئے اسکے ماں باپ کو اس بات کا علم نہ تھا اور وہ سمجھے کہ شاید وہ مسافرین کے گروہ میں ہوگا۔ 44 یوسف اور مریم دونوں نے د ن بھر کا سفر کیا جب وہ بچّہ کو نہ پائے تو اپنے خاندان اور اپنے دوستوں رشتہ داروں میں اسکو تلاش کرنے لگے۔ 45 لیکن وہ کہیں بھی یسوع کو نہ پائے تو وہ دوبارہ اسکو ڈھونڈنے کے لئے یروشلم گئے۔ 46 تین دن گزر نے کے بعد انہوں نے اس کو دیکھا۔ یسوع ہیکل میں معلّمین شریعت کے ساتھ بیٹھ کر انکی تعلیم کو بغور سن رہا تھا۔ اور حسب ضرورت ان سے سوالات بھی کر رہا تھا۔ 47 اس کی باتوں کو سن کر مزید اسکی سمجھ و فہم اور اسکے دانشمندانہ جوابات پر وہ سب حیرت میں پڑ گئے۔ 48 یسوع کے ماں با پ اس کو وہاں پاکر تعجب ہو گئے۔ مریم نے اس سے کہا ، “بیٹے تو نے ہم سے ایسا کیوں کیا ؟ تیرے باپ اور میں تیرے بارے میں بڑے فکر مند ہوئے تھے۔ اور ہم تجھے ڈھونڈتے رہے۔” 49 یسوع نے ان سے کہا تم نے مجھے کیوں تلاش کیا ؟ میرے باپ کا کام جہاں ہوتا ہے وہاں مجھے رہنا چاہئے۔ 50 لیکن جو کچھ اس نے کہا اسکا مطلب ان کی سمجھ میں نہ آیا۔ 51 یسوع انکے ساتھ ناصرت کو آیا اور انکا فرماں بردار رہا اس کی ماں نے ان تمام باتوں کو اپنے دل ہی میں رکھا تھا۔ 52 یسوع علمی صلاحیت میں اور جسمانی طور پر دن بدن بڑھتا رہا خدا اور لوگ اس سے خوش ہوئے۔ Footnotes: a. لوقا 2:23 ہر۔۔۔ چاہئے خروج ۱۲-۲:۱۳ b. لوقا 2:24 دو۔۔۔ چاہئے احبار ۸:۱۲ لوقا 3 یوحنّا کی تعلیم 3 حاکم وقت تبریس قیصر کی حکومت کے پندرہویں سال یہ آدمی قیصریہ کی زیر حکومت تھے: پُنطیس پیلاطس یہوداہ کے علاقے کیلئے، ہیرودیس گلیل کے لئے اور ہیرو دیس کا بھائی فلپس اتوریہ اور ترخوتی تس کے لئے اور لسانیاس اہلینے کیلئے حاکم تھے۔ 2 حناّہ کائفا ، سردار کاہن تھے۔ اس وقت زکریا کا بیٹا یوحناکو خدا کا حکم ملا یوحنّا صحرا میں تھا۔ 3 یوحنّا دریائے یردن کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں دورہ کرتا رہا۔ اور لوگوں میں تبلیغ کرتا تھا تا کہ تم گناہوں کی معافی کے لئے خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور بپتسمہ لو۔ 4 یسعیاہ نبی [a] نے اپنی کتاب میں جیسا لکھا ہے ویسا ہی واقع ہوا۔ “وہ یہ ہے خدا کے لئے راہ کو ہموار کرو اسکے راستوں کو سیدھے بناؤ۔ 5 ہر ایک وادی کو بند کردیا جائیگا ہر ایک پہاڑ اور ٹیلہ سطح کر دیا جائیگا ٹیڑھے راستے سیدھے کردیئے جائیں گے۔ نا ہموار اور کچّے راستے ہموار بنا ئے جائیں گے۔ 6 ہر ایک آدمی خدا کی نجات کو دیکھے گا اس طرح بیابان میں ایک آدمی پکار رہا ہے۔” [b] 7 لوگ یوحنا سے اصطباغ (بپتسمہ) لینے کے لئے آئے یوحنّا نے ان سے کہا ، “تم زہریلے سانپوں کی طرح ہو مستقبل میں آنے والے خدا کے عذاب سے بچنے کے لئے تم کو کس نے ہوشیار کیا ؟ جو آئندہ آنے والا ہے۔ 8 تمہارا دل اگر حقیت میں خدا کی طرف جھکا ہے تو اس کے ثبوت میں تم اپنے کام اور نیک عمل سے ظاہر کرو ابراہیم ہمارا باپ ہے کہہ کر فخر و غرور کی باتیں نہ کرو اگر خدا چاہتا تو ابراہیم کے لئے یہاں پڑے پتھروں سے اولاد پیدا کرسکتا ہے۔ 9 درختوں کو کاٹنے کیلئے کلہاڑی تیاّر ہے اچھے اور زیادہ پھل نہ دینے والے ہر درخت کو کاٹ کر آگ میں جلا دیا جائے گا۔” 10 اس لئے لوگوں نے پوچھا، “اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟” 11 یوحنّا نے کہا ، “اگر تمہارے پاس دو کرتے ہوں تو جس کے پاس کچھ نہ ہو اسکو ایک کرتا دیدو اگر تمہارے پاس کھانا ہو تو اس میں سے بانٹ کر دو۔ 12 محصول لینے والے بھی بپتسمہ لینے کیلئے یوحنّا کے پاس آئے اور اس سے پوچھا “اے استاد ہمیں کیا کر نا چاھئے؟” 13 یوحنّا نے ان سے کہا تم مقرّرہ لگان سے بڑھکر لوگوں سے زیادہ وصول نہ کرنا۔” 14 سپاہیوں نے بھی یوحنا سے پوچھ ، “ہم کو کیا کر نا چاہئے ؟” یوحنا نے اُ ن سے کہا، “لوگوں کو زبر دستی نہ کرو کہ وہ تمہیں رقم دیں اور دروغ گوئی کرکے قصور مت ٹھہراؤ تمہیں جو تنخواہ ملتی ہے اسی پر قناعت کرو۔” 15 تمام لوگ چونکہ مسیح کی آمد کا انتظار کر رہے تھے وہ یوحنا کے بارے میں حیرت میں پڑ گئے اور سوچنے لگے کہ “وہی مسیح ہو۔” 16 اس بات پر یوحنا نے کہا ، “میں تم کو پانی سے بپتسمہ دونگا لیکن مجھ سے زیادہ ایک طاقتور آئیگا میں اسکی جوتی کا تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہیں۔ وہ تو تم کو روح القدس سے اور آگ سے بپتسمہ دیگا۔17 وہ غلّے کے انبار کو صاف کر نے کے لئے تیّار ہو کر آئیگا۔ اور وہ اچھے بیجوں کو خراب بیجوں سے الگ کریگا۔ اور اسکو اپنے کھلیان اور گوداموں میں رکھیگا اور اس کے بعد بھو سے کو نہ بجھنے والی آگ میں جلائے گا”۔ 18 یوحنا نے ان سے اور بہت سی باتیں کیں انکی ہمّت افزائی کر نے کے لئے اور انکو خوشخبری کی تعلیم دی۔ یوحنّا کے کاموں کا اختتام ہونا 19 حاکم ہیرودیس اپنے بھائی کی بیوی ہیرودیاس سے غیر شائشتہ تعلقات پر اور پھر ہیرودیس کی برائیوں پر یوحنّا نے تنقید کی۔ 20 اس وجہ سے ہیرودیس نے یوحنّا کو قید کرواکر اپنے برے کاموں میں ایک اور برائی کا اضافہ کر لیا۔ یوحنا سے یسوع کا بپتسمہ لینا 21 یوحنا کے قید ہو نے سے پہلے تمام لوگ اس سے بپتسمہ لئے اس وقت یسوع بھی آکر اس سے بپتسمہ لیا۔ جب یسوع دعا کر ر ہے تھے تو تب آسمان کھلا۔ 22 رُوح القدُس اس کے ا ُ وپر کبوتر کی شکل میں اترا اس کے فوراً بعد آسمان سے ایک آواز آئی ، “تو میرا چہیتا بیٹا ہے میں تجھ سے راضی اور خوش ہوں۔” یوسف کے خاندانی تاریخ و حالات 23 یسوع نے جب اس کا کام شروع کیا تو اس وقت تقریبا تیس برس کا تھا یسوع کو لوگ یوسف کا بیٹا سمجھتے تھے۔ یوسف عیلی کا بیٹا تھا۔ 24 عیلی متا ت کا بیٹا تھا۔ متا ت لاوی کا بیٹا، لاوی میلکی کا بیٹا، میلکی نیّا کا بیٹا، نیّا یوُسف کا بیٹا تھا۔ 25 اور یوسف متّیتیا کابیٹا اور متیتیا عاموس کا بیٹا عاموس ناحوم کا بیٹا ناحوم اسلیاہ کا بیٹا اسلیاہ نوگہ کا بیٹا۔ 26 نوگہ ماعت کا بیٹا تھا اور ماعت متتیا کا بیٹا تھا متتیا شمعی کا بیٹا تھا شمعی یوسیخ کا بیٹا تھا یو سیخ یوداہ کا بیٹا تھا۔ 27 یوداہ یوحنا کا بیٹا تھا یوحنا ریسا کا بیٹا تھا ریسا زربابل کابیٹا تھا۔ زربابیل سیالتی ایل کا بیٹا تھا سیا لتی ایل نیری کا بیٹا تھا۔ 28 نیری ملکی کا بیٹا تھا مُلکی ادّی کا بیٹا تھا اور ادّی قوسام کا بیٹا تھا اور قوسام المودام کا بیٹا تھا اور المودام عیر کا بیٹا تھا۔ 29 عیر یشوع کا بیٹا تھا اور یشوع الیعزر کا بیٹا تھا الیعزر یوریم کا بیٹا تھا یوریم متّا ت کا بیٹا تھا اور متّات لاوی کا بیٹا تھا۔ 30 لاوی شمعون کا بیٹا تھا اور شمعون یہوداہ کا بیٹا تھا یہوداہ یوسف کا بیٹا تھا یوسف یو نان کا بیٹا تھا اور یونان الیاقیم کا بیٹا تھا۔ 31 الیاقیم ملے آہ کا بیٹا تھا ملے آہ مناّہ کا بیٹا تھا منّاہ متّاہ کا بیٹا تھا متّاہ ناتن کا بیٹا تھا ناتن داؤود کا بیٹا تھا۔ 32 داؤد لیسی کا بیٹا تھا لیسی عوبید کا بیٹا تھا عوبید بوعز کا بیٹا تھا بوعز سلمون کا بیٹا تھا سلمون نحسون کا بیٹا تھا۔ 33 نحسون عمّینداب کا بیٹا تھا عمیّنداب ارنی کا بیٹا تھا اور ارنی حصرون کا بیٹاتھا حصرون فارص کا بیٹا تھا اور فارص یہوداہ کا بیٹا تھا۔ 34 یہوداہ یعقوب کا بیٹا تھا یعقوب اسحٰق کا بیٹا تھا اسحٰق ابراہیم کا بیٹا تھا ابراہیم تار ہ کا بیٹا تھا تارہ نخور کا بیٹا تھا۔ 35 نخور سروج کا بیٹا تھا سروج رعو کا بیٹا تھا رعو فلج کا بیٹا تھا اور فلج عبر کا بیٹا تھا عبر سلح کا بیٹا تھا۔ 36 سلح قینان کا بیٹا تھا اور قینان ارفک کا بیٹا تھا اور ارفک سم کا بیٹا تھا سم نوح کا بیٹا تھا نوح لمک کا بیٹا تھا۔ 37 لمک متوسلح کا بیٹا تھا متو سلح حنوک کا بیٹا تھا حنوک یارد کا بیٹا تھا یارد مہلل ایل کا بیٹا تھا مہلل ایل قینان کا بیٹا تھا۔ 38 قینان انوس کا بیٹا تھا انوس سیت کا بیٹا تھا سیت ابن آدم تھا اور آدم خدا کا بیٹا تھا۔ Footnotes: a. لوقا 3:4 نبی یہ آدمی خدا کے متعلق کہتا ہے کبھی نبی ایسی باتوں کے بارے میں کہتا ہے جو آئندہ ہونے والی ہیں- b. لوقا 3:6 یعسیاہ ۴۰ :۳۔۵ لوقا 4 شیطان کا یسوع کا امتحان لینا 4 یسوع دریائے یردن سے واپس لوٹے۔ وہ ر ُ وح القدس سے معمور تھے رُوح یسوع کو جنگل و بیا بان میں سیر کرا تا رہا۔ 2 وہاں ابلیس انکو چالیس دنوں تک اکساتا رہا ان دنوں یسوع نے کچھ نہ کھا یا اس کے بعد یسوع کو بہت بھوک لگی۔ 3 تب ابلیس نے یسوع سے کہا، “اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو حکم کر اس پتھر کو کہ روٹی ہوجا۔” 4 تب یسوع نے جواب دیا کہ صحیفوں میں لکھا ہے: “لوگ صرف روٹی کھا کر جینے کے لئے نہیں ہیں” [a] 5 تب ابلیس یسوع کو ساتھ لے گیا اور ایک ہی لمحہ میں دنیا کی حکومتوں کی آن بان کو دکھا یا اور کہا ،6 “ان تمام حکومتوں کو اور ان کے کل اختیارات کو اور ان کی جلال کو میں تجھے دونگا یہ تمام چیزیں میرے اختیار میں ہیں اور میں جس کو چاہوں یہ دے سکتا ہوں۔ 7 “اگر تو میری عبادت کریگا تو میں یہ سب کچھ تجھے دونگا۔” 8 اس پر یسوع نے جواب دیا صحیفوں میں لکھا ہے کہ، “تجھے تو صرف خداوند اپنے خدا کی عبادت کرنی ہوگی۔ [b] 9 تب ابلیس یسوع کو یروشلم لے گیا اور یسوع کو ہیکل کے کسی بلند ترین مقام پر کھڑا کیا اور کہا، “اگر توخدا کا بیٹا ہے تو نیچے کود جا! کیوں کہ یہ صحیفوں میں لکھا ہے: 10 خدا تیری حفاظت کرنے کے لئے اپنے فرشتوں کو حکم دیگا۔ [c] 11 یہ بھی لکھا ہوا ہے: “کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے پیروں کو پتّھر کی ٹھوکر لگے وہ اپنے ہاتھوں سے تجھے اٹھا لیں گے۔” [d] 12 اس پر یسوع نے جواب دیا، “لیکن یہ بھی لکھا ہے۔ تمہیں خداوند خدا کی آزمائش کرنا نہیں چاہئے۔” [e] 13 ابلیس نے ہر طرح سے یسوع کو ا ُ کسایا پھر اسکے بعد ایک مناسب وقت کے انتظار میں اسکو چھوڑ کر چلا گیا۔ یسوع کا لوگوں کو تعلیم دینا 14 یسوع روح القدس کی طاقت سے معمور ہوکر گلیل کو واپس ہوئے۔ یسوع کی خبر گلیل کے اطراف والے علاقے میں پھیل گئی۔ 15 یسوع نے یہودی عبادت گاہوں میں تعلیم دینی شروع کی سبھی لوگ اس کی تعریف کر نے لگے۔ یسوع کا اپنے آبائی شہر روانہ ہونا 16 یسوع اپنی پر ورش پائے ہوئے مقام ناصرت کے سفر پر نکلے۔ رواج کے مطابق وہ سبت کے دن یہودی عبادت گاہ پہونچے یسوع پڑھنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ 17 یسعیاہ نبی کی کتاب اس کو پڑھنے کے لئے دی گئی تھی اور یسوع نے اس کتاب کو کھولا اور اس صحیفے کو دیکھا جس میں لکھا تھا: 18 “خداوند کی روح مجھ میں ہے غریب لوگوں تک اسکی خوشخبری کو پہنچانے کے لئے خدا نے مجھے منتخب کیا ہے گنہگار لوگوں کے لئے تم چھٹکارہ پائے اور اندھوں کو بینائی پا نے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔ 19 اور سال مقبول کی منادی کے لئے جس میں خداوند اپنی اچھائیاں دکھانے کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے۔” [f] 20 اس حصّہ کو پڑھنے کے بعد یسوع اس کتاب کو بند کر کے یہودی عبادت گاہ کے خادم کے ہاتھ میں دیکر بیٹھ گئے اس یہودی عبادت گاہ میں موجود ہر شخص یسوع ہی کو توجہ سے دیکھ رہے تھے۔ 21 تب یسوع نے ان سے کہا ، “میں ابھی جن باتوں کو پڑھ رہا تھا ان باتوں کو تم لوگوں نے سنا اور آج یہ مکمل ہو گئی۔” 22 تمام لوگوں نے یسوع کی تعریف کرنی شروع کی وہ اس کی میٹھی اور مؤثر باتوں کو سن کر کہنے لگے “ان کا اس قسم کی باتیں کر نا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے ؟ اور کیا یہ یوسف کا بیٹا نہیں ہے ؟” 23 یسوع نے ان سے کہا ، “میں جانتا ہوں کہ تم یہ حکایت مجھ سے کہوگے تم تو حکیم ہو اس لئے پہلے اپنے آپکو تو اچھا کرلو یہ ضرب المثل میں جانتا ہوں کہ تم کہنا چاہتے ہو“تو نے کفر نحوم میں جن نشانیوں کو بتا یا تھا ان کے بارے میں ہم نے سنا تھا انہیں نشانیوں کو تو اپنے خاص گاؤں میں کر دکھا “ا س طرح تم کہنا چاہتے ہو۔” 24 “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ نبی اپنے خاص گاؤں میں مقبول نہیں ہوتا۔ 25 میں سچ کہتا ہوں کہ ایلیاہ کے دور میں ساڑھے تین سال کے لئے اسرائیل کے علا قے میں بارش نہیں ہوئی۔ ملک کے کسی حصّہ میں اناج نہ رہا اس وقت اسرائیل میں بہت سی بیوائیں تھیں۔ 26 لیکن ایلیاہ کو کسی بیوہ کے پاس نہیں بھیجا لیکن صیدا ملک سے ملا ہوا صاریت گاؤں کی صرف ایک بیوہ کے پاس بھیجا گیا۔ 27 الیشع نبی کے زمانے میں اسرائیل میں کئی کوڑھی رہتے تھے لیکن ان میں سے ملک شا م کے نعمان کے سوائے کسی کو شفاء نہ ہوئی۔ 28 تمام لوگ جو یہودی عبادت گاہ میں موجود تھے انہوں نے ان باتوں کو سنا اور بہت غصّہ ہوئے۔29 یسوع کو شہر سے باہر نکال دیا اور وہ شہر ایک پہا ڑی علاقے پر بنا ہوا تھا وہ لوگ یسوع کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکر وہاں سے نیچے دھکیل دینا چاہتے تھے۔ 30 لیکن یسوع ان کے درمیان سے ہوتے ہوئے نکل گئے۔ یسوع کا بد روح سے متاثر آدمی کو چھٹکارہ دلا نا 31 یسوع گلیل کے کفر نحوم نام کے گاؤں کو گئے سبت کے دن یسوع نے لوگوں کو تعلیم دی۔ 32 یسوع کی تعلیم کو سنکر وہ بہت حیرت زدہ ہوئے کیونکہ وہ با اختیار گفتگو کر رہے تھے۔ 33 یہودی عبادت گاہ میں بد رُ وح کے اثرات والا ایک آدمی تھا وہ اونچی آواز میں پکار رہا تھا۔ 34 “اے یسوع ناصری تو ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ تو ہمارے لئے کیوں پریشان ہے ؟ ہمارے تمہارے درمیان کیا ہو رہا ہے اور کیا تو ہمیں تباہ کرنے کے لئے یہاں آیا ہے ؟ میں جانتا ہوں تو کون ہے تو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ایک مقدس ہے۔ 35 لیکن یسوع نے اس بد رُوح کو کہا ، “چپ ہو جا اس کو چھوڑ کر باہر چلا جا” بد رُوح اسکو تمام لوگوں کے سامنے نیچے گرا کر کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر چھوڑ کر چلی گئی۔ 36 لوگ کافی حیران ہوئے اور ایک دوسرے سے گفتگو کر نی شروع کی “یہ کیسی باتیں ہیں وہ اپنے اختیارات سے اور اپنی قوّت سے بد رُوحوں کو حکم دیتا ہے تو وہ چھوڑ کر چلی جاتی ہیں۔” 37 اس طرح یسوع کی خبر پوری سر زمین میں پھیل گئی۔ پطرس کی ساس کا یسوع سے شفاء حاصل کرنا 38 تب یسوع یہودی عبادت گاہ سے نکل کر شمعون کے گھر کو چلے گئے شمعون کی ساس تیز بخار میں مبتلا تھی اس کی مدد کرنے کے لئے وہاں پر موجود لوگ اس سے گزارش کر نے لگے۔ 39 یسوع اسکے سرہانے کھڑے ہوئے اور اس نے بخار کو جھڑکا کہ وہ اس عورت سے دور ہو جائے اور فورا ً وہ صحت یاب ہو گئی وہ کھڑی ہو کر انکی خدمت کرنی شروع کی۔ کئی لوگوں کو صحتیابی کا تحفہ 40 غروب آفتاب کے بعد لوگ اپنے بیمار دوست و رشتہ داروں کو یسوع کے پاس لائے انکو مختلف قسم کی بیماریاں لاحق تھیں۔ ہر مریض کے اوپر یسوع نے اپنا ہاتھ رکھ کر انکو شفاء دی۔ 41 کئی لوگوں پر سے بد رُوحیں چلّاتی ہوئی باہر نکل آئیں “تو خدا کا بیٹا ہے” یہ کہتے ہوئے چیخ کر چھوڑ کر چلی گئی تب یسوع نے ان بد روحوں کو سختی سے حکم دیا کہ وہ کوئی بات نہ کریں اور بد روحوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ یسوع ہی “مسیح” ہے۔ یسوع کا مختلف گاؤں میں جانا 42 دوسرے دن یسوع غیر آباد جگہ گئے لوگوں نے انکو ڈھونڈنا شروع کئے اور وہاں پہنچے جہاں وہ تھے وہ اس بات کی کوشش کرنے لگے کہ یسوع انکو چھوڑ کر نہ جائے۔ 43 لیکن یسوع نے ان سے کہا ، “مجھے دوسرے گاؤں کو بھی جاکر خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانی ہے میں صرف اس مقصد کے لئے بھیجا گیا ہوں۔” 44 پھر یسوع یہوداہ کی عبادت گاہوں میں تبلیغ کرنے لگے۔ Footnotes: a. لوقا 4:4 استثناء۸:۳ b. لوقا 4:8 ”استثناء۶:۱۳ c. لوقا 4:10 زبور۹۱:۱۱ d. لوقا 4:11 زبور۹۱:۱۲ e. لوقا 4:12 استثناء۶:۱۶ f. لوقا 4:19 یسعیاہ ۶۱:۱۔۲ لوقا 5 شمعون، یعقوب اور یوحّنا کا یسوع کی پیروی کرنا 5 جب یسوع گنیسرت کی جھیل کے پاس کھڑے تھے تو خدا کی تعلیمات سننے کے لئے کئی لوگ دھکّا پیل کرتے ہوئے اس کے اطراف جمع ہوئے۔ 2 جھیل کے کنارے دو کشتیاں یسوع نے دیکھا مچھیرے اپنی کشتیوں سے باہر آکر جھیل کے کنارے جال دھو رہے تھے۔ 3 یسوع ان میں سے ایک کشتی میں سوار ہوئے جوشمعون کی تھی اور اس سے کہا کہ کشتی کو کنارے سے کس قدر دور تک دھکیلنا۔ یسوع نے کشتی پر بیٹھکر لوگوں کو تعلیم دینی شروع کی۔ 4 بات ختم کی تو یسوع نے شمعون سے کہا، “کشتی کو پانی میں گہرائی کی جگہ تک چلائیں اور مچھلیاں پکڑنے کے لئے پانی میں جال پھیلا دیں۔” 5 شمعون نے کہا ، “اے استاد! ہم رات بھر محنت کر کے تھک گئے لیکن ایک مچھلی بھی نہ ملی۔ لیکن میں جال کو پھیلادونگا کیوں کہ آپ ایسا کہتے ہیں۔” 6 جب مچھیروں نے اپنے جالوں کو پانی میں ڈال دیا تو انکا جال اتنی زیادہ مچھلیوں سے بھر گیا تھا کہ کہیں جال پھٹ نہ جائے۔ 7 تب وہ اپنے دوستوں کو جو کہ دوسرے کشتی میں سوار تھے ان کو اپنی مدد کے لئے بلائے اور وہ آئے اور دونوں کشتیوں کو مچھلیوں سے بھر نے لگے۔ دونوں کشتیاں مچھلیوں سے اس طرح بھر گئیں کہ وہ ڈوبنے کے قریب تھیں۔ 8-9 اتنی مچھلیوں کو جو انہوں نے پکڑے تھے دیکھ کر پطرس اور سب مچھیرے اور جو اس کے ساتھ تھے حیرت زدہ ہو گئے۔شمعون پطرس نے یسوع کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کہا ، “خداوند مجھے چھوڑکر چلا جا کیوں کہ میں گنہگار ہوں۔” 10 زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحّنا ایک ساتھ تعجب کر نے لگے یہ دونوں شمعون کے ساتھ حصّہ دار تھے یسوع نے شمعون سے کہا ، “خوفزدہ مت ہو آج کے دن سے تو مچھلیاں نہیں پکڑیگا بلکہ لوگوں کو جمع کرنے کیلئے تو سخت محنت کریگا۔” 11 جب وہ اپنی کشتیاں کنارے لائے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یسوع کے پیچھے ہو لئے۔ یسوع سے شفاء پانے والے کوڑھی 12 ایک مرتبہ یسوع شہر میں تھے وہاں ایک کوڑھی رہتا تھا کوڑھی نے اس کو دیکھا اور اس کے سامنے جھک کر التجا کر نے لگا ، “خداوند میں جانتا ہوں اگر تو ارادہ کرے تو مجھے شفاء دے سکتا ہے۔” 13 یسوع نے کہا، “میں چاہتا ہوں کہ تو تندرست ہو تجھے شفاء ہو” یہ کہتے ہوئے اسے چھوا۔ فوراً وہ کوڑھی شفا پا چکا تھا۔ 14 یسوع نے اس سے کہا ، “تو کس طرح صحتیاب ہوا یہ بات کسی سے نہ بتا نا۔اور کاہن کے پاس جا کر اپنا بدن اسے دکھا اور موسٰی کی شریعت کے مطابق کوئی نذر خدا کو پیش کر دے تا کہ یہی بات لوگوں کے لئے تیرے شفاء پانے پر گواہ ٹھہرے۔” 15 لیکن یسوع کے بارے میں بات پھیلتی ہی چلی گئی لوگ اسکی تعلیمات کو سننے اور انکے ذریعے اپنی بیماریوں سے شفاء پانے کے لئے آئے۔ 16 یسوع اکثر ویران جگہوں پر جاکے دعائیں کیا کر تے تھے۔ یسوع سے مفلوج شخص کا شفاء پانا 17 ایک دن یسوع لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے۔فریسی اور معلّمین شریعت بھی وہاں بیٹھے تھے۔ وہ گلیل سے اور یہوداہ علاقے کے مختلف گاؤں سے اور یروشلم سے آئے تھے۔بیماروں کو شفاء دینے کے لئے خدا وند کی طاقت اس میں تھی 18 وہاں پر ایک مفلوج آدمی بھی تھا ایک چھوٹے سے بستر پر چند مرد آدمی اس کو اٹھائے ہوئے یسوع کے سامنے لاکر رکھ نے کی کوشش کر رہے تھے۔ 19 لیکن وہاں پر چونکہ بہت آدمی تھے اس لئے ان لوگوں کو اسے یسوع کے پاس لے جا نا ممکن نہ تھا اس وجہ سے وہ کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اس مفلوج آدمی کو اسکے بستر سمیت یسوع کے سامنے اتا ردئیے۔ 20 ان لوگوں کے عقیدے کو دیکھ کر یسوع نے مریض سے کہا ، “دوست تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔” 21 یہودی معلّمین شریعت اور فریسی آپس میں سوچ رہے تھے، “یہ آدمی کون ہے ؟ جو خدا کے خلاف باتیں کہتا ہے صرف خدا ہی گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔” 22 لیکن یسوع ان کے خیالات کو سمجھ گئے تھے۔ ان سے کہا، “تم اس طرح کیوں سوچتے ہو ؟ 23 آسان کیا ہے؟ یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں یا یہ کہنا کہ اٹھ اور جا۔ 24 لیکن میں تم کو قائل کرونگا کہ ابن آدم کو اس دُنیا میں گناہوں کو معاف کر نے کا اختیار ہے “تب اس نے مفلوج آدمی سے کہا، “اٹھ اور اپنا بستر کو اٹھا ئے ہوئے گھر کو چلا جا!” 25 اسکے فوراً بعد وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوکر اور اپنے بستر کو اٹھائے ہوئے اور خدا کی تعریف کر تے ہوئے گھر کو چلا گیا۔ 26 لوگ بہت حیرت زدہ ہوئے اور خدا کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور خدا سے ڈر کر یہ کہا “آج کے دن ہم نے حیرت انگیز نشانیاں دیکھی ہیں۔” لاوی کا یسوع کے پیچھے ہوجانا 27 تب یسوع وہاں سے جاتے ہوئے محصول کے چبوترے پر کسی بیٹھے ہوئے آدمی کو دیکھا اس کا نام لا وی تھا۔یسوع نے اس سے کہا “میرے پیچھے ہو لے۔” 28 لاوی اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی تمام چیزوں کو وہیں چھوڑ کر یسوع کے پیچھے ہوگیا۔ 29 تب لاوی اپنے گھر میں یسوع کے کھا نے کی ایک بڑی دعوت کا انتظام کیا۔ جس میں کئی لگان وصول کر نے والے اور بہت سے دوسرے لوگ بھی کھانے کے لئے بیٹھ گئے تھے۔ 30 لیکن فریسی اور معلّمین شریعت نے جن کا تعلق فریسیوں کی کلیسا سے تھا یسوع کے شاگر دوں پر تنقید کر تے ہو ئے کہا، “تم محصول لینے والوں کے ساتھ اور دوسرے بہت ہی برے لوگوں کے ساتھ کیوں کھا نا کھا تے ہو اور کیوں پیتے ہو ؟۔” 31 یسوع نے ان سے کہا، “طبیب کی ضرورت بیمار کو ہوتی ہے صحت مندوں کے لئے نہیں۔ 32 میں پرہیزگاروں کو انکے گناہوں پر نادم کرنے کیلئے اور انہیں خدا کی طرف رجوع کرنے نہیں آیا بلکہ برے لوگوں کی زندگی اور دلوں کو تبدیل کرنے آیا ہوں۔” روزے کے بارے میں یسوع کا جواب 33 انہوں نے یسوع سے کہا ، “یوحنا کے شاگرد اکثر روزہ سے رہ کر دعا کرتے ہیں اور فریسیوں کے شاگرد بھی وہی کرتے ہیں لیکن تیرے شاگرد ہمیشہ کھاتے پیتے رہتے ہیں۔” 34 یسوع نے ان سے کہا ، “شادی میں دو لہے کے ساتھ رہنے والے دوستوں کو تم روزہ رکھوا نہیں سکتے۔ 35 لیکن وقت آتا ہے کہ جس میں د و لہا دوستوں سے الگ ہوتا ہے تب اس کے دوست روزہ رکھتے ہیں۔ 36 “تب یسوع نے ان سے یہ تمثیل بیان کی” کوئی آدمی نئی پوشاک سے کپڑا پھاڑ کر پرانی پوشاک میں پیوند نہیں لگا تا اگر ایسا کوئی کر بھی لیتا ہے تو گویا اس نے اپنی نئی پوشاک کو بگاڑ لیا اس کے علاوہ نئی پوشاک کا کپڑا پرانی پوشاک کے لئے زیب بھی نہیں دیتا۔ 37 اسی طرح نئی مئے کو پرانی مئے کے مشکوں میں کوئی بھر کر نہیں رکھتا اگر اتفاق سے کوئی بھر بھی دے تو نئی مئے مشکوں کو پھاڑ کر خود بھی بہہ جائیگی اور مشکیں بھی ضائع ہو جا ئیں گی۔ 38 لوگ ہمیشہ نئی مئے کو نئے مشکوں میں بھر دیتے ہیں۔ 39 جس نے پرانی مئے پی وہ نئی مئے نہیں چاہتا کیوں کہ وہ کہتا ہے “پرانی مئے اچھی ہے۔” لوقا 6 یسوع سبت کے دن کا خداوند 6 ایک مرتبہ سبت کے دن یسوع اناج کے کھیتوں سے ہو کر گذر رہے تھے ان کے شا گرِد با لیں توڑ کر اور اپنے ہاتھوں سے مل مل کر کھا تے جاتے تھے۔ 2 چند فریسیوں نے کہا ، “تمہا را سبت کے دن ایسا کرنا گو یا موسیٰ کی شریعت کی خلا ف ورزی ہے تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟” 3 اس بات پر یسوع نے جواب دیا ،“تم نے پڑھا ہے کہ داؤد اور اس کے ساتھی جب بھو کے تھے۔ 4 تو داؤد ہیکل میں گئے اور خدا کو پیش کی ہو ئی روٹیاں اٹھا کر کھا لی اور اپنے ساتھ جو لوگ تھے ان کو بھی تھو ڑی تھوڑی دی یہ بات موسیٰ کی شریعت کے خلاف ہے۔ صرف کا ہن ہی وہ روٹی کھا سکتے ہیں یہ بات شریعت کہتی ہے۔” 5 تب یسوع نے فریسی سے کہا، “ابن آدم ہی سبت کے دن کا مالک۔” سبت کے دن یسوع سے صحت پا نے والا آدمی 6 کسی اور سبت کے دن یسوع یہودی عبادت گاہ میں گئے اور لوگوں کوتعلیم دینے لگے وہاں پر ایک ایسا آدمی بھی تھا جس کا داہنا ہاتھ مفلوج تھا۔ 7 معلمین شریعت اور فریسی اس بات کے منتظر تھے کہ اگر یسوع اس آدمی کو سبت کے دن شفا ء دے تو وہ ان پر الزام لگا ئیں گے۔ 8 یسوع ان کے خیالات کو سمجھ گئے یسوع نے ہاتھ کے سوکھے ہوئے آدمی سے کہا ، “ آؤ اور درمیان میں کھڑا ہو جا۔”وہ اٹھکر یسوع کے سا منے کھڑا ہو گیا۔ 9 تب یسوع نے اس سے پوچھا ، “سبت کے دن کو نسا کام کر نا اچھا ہو تا ہے ؟ اچھا کا م یا کو ئی برا کام کسی کی زند گی کو بچانا یا کسی کو بر باد کر نا ؟۔” 10 یسوع نے اپنے اطراف کھڑے ہو ئے تمام لوگوں کو دیکھے اور اس آدمی سے کہا ، “تو اپنا ہاتھ مجھے دکھا اس نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا اس کے فوراً بعد ہاتھ شفاء ہو گیا۔ 11 فریسی اور معلمین شریعت بہت غصہ ہوئے اور انہوں نے کہا ہم یسوع کے ساتھ کیا کریں؟ “اس طرح وہ آپس میں تد بیر کر نے لگے۔ یسوع کے بارہ رسول 12 اس وقت یسوع دعا کر نے کے لئے ایک پہاڑ پر گئے خدا سے دعا ئیں کرتے ہوئے وہ رات بھر وہیں رہے۔ 13 دوسرے دن صبح یسوع اپنے شاگردوں کو بلا ئے اور ان میں سے اس نے بارہ کو چن لئے یسوع ان بارہ آدمیوں کو “رسولوں” کا نام دیئے۔ 14 شمعون ( یسوع نے اس کا نام پطرس رکھا تھا) اور پطرس کا بھا ئی اندر یاس، یعقوب اور یوحناّ اور فلپس اور بر تلمائی۔ 15 متیّ تو ما، یعقوب،(حلفی کا بیٹا ) اور قوم پرست کہلا نے والا شمعون۔ 16 یہوداہ (یعقوب کا بیٹا) اور اسکر یوتی یہوداہ یہ وہ شخص ہے جس نے یسوع سے دشمنی کی۔ یسوع کی تعلیم اور لوگوں کو صحتیاب کر نا 17 یسوع اور رسول پہا ڑ سے اتر کر نیچے صاف جگہ آئے انکے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت وہا ں حاضر تھی لوگوں کا ایک بڑا گروہ یہوداہ کے علا قے سے یروشلم سے اور سا حل سمندر کے صور اور میدان کے علاقوں سے بھی وہا ں آئے۔ 18 وہ سب کے سب یسوع کی تعلیمات کو سننے کیلئے اور بیماریوں سے شفاء پا نے کے لئے آئے تھے۔بدروحوں کے اثرات سے جو لوگ متاثر تھے یسوع نے ان کو شفا ء بخشی۔ 19 سب کے سب لوگ یسوع کو چھو نے کی کو شش کر نے لگے کیوں کہ اس سے ایک طاقت کا اظہار ہو تا تھا اور وہ طاقت تمام بیماروں کو شفا ء بخشتی تھی۔ 20 یسوع نے اپنے شاگردوں کو دیکھ کر کہا، تم غریبوں کو مبارک ہو، خدا کی بادشا ہی تمہا ری ہے۔ 21 مبارک ہو تم جو ابھی بھو کے ہو، کیونکہ تم آسودہ ہو گے مبارک ہو تم جو ابھی روتے ہو، کیونکہ تم ہنسوگے۔ 22 “تمہارے ابن آدم کے زمرے میں شامل ہو نے کی وجہ سے لوگ تم سے دشمنی کریں گے اور تمہیں دھتکا ریں گے اور تمہیں ذلیل و رسوا کرینگے اور تمہیں برے لوگ بتائیں گے تب تو تم سب مبارک ہو۔23 اس وقت تم خوش ہو جاؤ اور خوشی سے کو دو اچھلو کیوں کہ آسمان میں تم کو اسکا بہت بڑا پھل ملیگا۔ ان لوگوں نے تمہارے ساتھ جیسا سلوک کیا ویسا ہی انکے آباؤ اجداد نے نبیوں کے ساتھ کیا تھا۔ 24 “افسوس اے دولت مندو! افسوس! تم تو آسودگی و خوشحالی کی زندگی کا مزا چکھے ہو۔ 25 افسوس اب اے پیٹ بھرے لوگو! کیوں کہ تم بھو کے رہوگے۔ افسوس اے لوگو! جو اب ہنس رہے ہو کیونکہ تم رنجیدہ ہو گے اور خوب روؤگے۔ 26 “افسوس تم پر جب سب لوگ تمہیں بھلا کہیں کیوں کہ انکے آباؤ اجداد جھوٹے نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اپنے دشمنوں سے محبت کرو 27 “میری باتوں کو سننے والو میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے پیار کرو جو تم سے نفرت کریں ان سے بھلائی کرو۔ 28 تمہارا برا چاہنے والے کے حق میں تم دعائیں دو اور تم سے نفرت کر نے والے لوگوں کے حق میں بھلائی چاہو۔ 29 اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو تم انکے لئے دوسرا گال بھی پیش کرو اگر کوئی تیرا چوغہ طلب کرے تو تو اسکو اندر کا پیرہن بھی دیدینا۔ 30 جو کوئی تم سے مانگے اسے دو۔اگر کوئی تمہارا کچھ رکھ لے تو اسے طلب نہ کرو۔ 31 اگر تم دوسرے لوگوں سے خوشگوارسلوک کے خواہش مند ہو تو تم بھی انکے ساتھ ویسا ہی کرو۔ 32 وہ لوگ جو تمہیں چاہتے ہیں اگر تم نے بھی انہیں چاہا تو تمہیں اس کی تعریف کیوں چاہئے ؟ نہیں! تم جن سے محبت رکھتے ہو ان سے تو وہ گنہگار بھی محبت رکھتے ہیں 33 اگر کوئی تم انکا بھلائی کرتے ہو جو تمہارا بھلائی کرتا ہے ، تو تمہارا کیا احسان ہے اور اسکے لئے تم کیا تعریف چاہتے ہو۔ 34 اگر تم نے کسی کو قرض دیا اور تم ان سے واپسی کی امید رکھتے ہو اس سے تم کو کیا نیکی ملیگی ؟ جب کہ گنہگار بھی کسی کو قرض دیکر اس سے پو را واپس لیتے ہیں! 35 اسی وجہ سے تم اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور انکے حق میں بھلا کرو تم جب انہیں قرض دو تو اس امید سے نہ دو کہ وہ تم کو لوٹائیں گے تب تمہیں اسکا بہت بڑا اجر و ثواب ملیگا تب تم خدائے تعالیٰ کا بیٹا کہلاؤ گے ہاں! کیوں کہ خدا گنہگاروں اور ناشکر گزاروں کے حق میں بھی بہت اچھا ہے۔ 36 تمہارا آسمانی باپ جس طرح رحم اور محبت کرنے والا ہے اسی طرح تم بھی رحم اور محبت کرنے والے بنو۔ خود کا جائزہ لو 37 “کسی کو قصور وار مت کہو تو تمہیں بھی قصور وار نہیں کہا جائیگا۔ دوسرے کو مجرم ہو نے کی عیب جوئی نہ کرو۔ تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائیگی۔ دوسروں کو معاف کرو تب تم کو بھی معاف کیا جا ئے گا۔ 38 دوسروں کو عطا کرو تب تم کو بھی دستیاب ہوگا وہ تمہیں کھلے دل سے دینگے اچھا پیمانہ داب داب کر اور ہلا ہلا کر اور لبریز کرکے ڈالو۔ اتنا ہی تمہارے دامن میں ڈال دیا جائیگا۔تم جس پیمانہ سے ناپتے ہو اسی سے تم کو بھرا جائیگا”۔ 39 یسوع نے ان لوگوں سے یہ تمثیل بیان کی” کیا ایک اندھا دوسرے اندھے کی رہنمائی کر سکے گا؟ نہیں! بلکہ وہ دونوں ہی ایک گڑھے میں گر جائیں گے۔ 40 شاگرد استاد پر فضیلت پا نہیں سکتا لیکن جب شاگرد پوری طرح علم حاصل کر لیتا ہے تو تب وہ استاد کی مانند بنتا ہے۔ 41 “جب تو اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہیں دیکھتا تو ایسے میں تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتا ہے ؟ 42 تو اپنے بھا ئی سے ایسا کیسے کہہ سکتا ہے کہ مجھے تیری آنکھ کے تنکوں کو نکالنا ہے ؟ جب کہ تجھے اپنی ہی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا تو ریا کار ہے۔ پہلے تو اپنی آنکھ میں سے شہتیر کو نکال تب تجھے اپنے بھا ئی کی آنکھ کا تنکا صاف نظر آئیگا اور تو اسے نکال سکے گا ۔” دوقسم کے پھل 43 اچھا درخت خراب پھل نہیں د ے سکتا اسی طرح خراب درخت اچھا پھل نہیں دیتا۔ 44 ہر درخت اپنے پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ لوگ خار دار درختوں میں انجیر یا خار دار جھاڑیوں میں انگور نہیں پا سکتے!45 اچھے آدمی کے دل میں اچھی بات ہی جمی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ اچھے آدمی کے دل سے اچھی باتیں ہی نکلتی ہیں اور برے آدمی کے دل میں بری باتیں ہی ہوتی ہیں اس لئے اس کے دل سے بری باتیں ہی نکلتی ہیں جو بات دل میں رہتی ہے وہی بات زبان پر آجاتی ہے۔ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں 46 “مجھے خداوند ، خداوند تو پکارتے ہو لیکن میں جو کہتا ہوں اس پر عمل نہیں کرتے ؟۔ 47 جو کوئی میرے قریب آتا ہے اور میری باتوں کو بھی سنتا ہے اور ا ن با توں کا فرماں بردار ہوتا ہے میں بتاؤں کہ وہ کیا پسند کرتا ہے! 48 وہ اس آدمی کی طرح ہے جس نے گہری بنیاد کھودی اور چٹان کے اوپر اپنے گھر کی تعمیر کرتا ہے کہیں سے پانی کا بہاؤ چڑھکر اس کے گھر سے ٹکرا کر بھی جائے تو وہ اس گھر کو ہلا بھی نہیں سکتا کیوں کہ وہ گھر مضبوط طریقہ سے تعمیر کیا گیا ہے۔ 49 ٹھیک اسی طرح جو میری باتوں کو سنتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ آ دمی ایسا ہے جیسا کہ کسی نے بغیر بنیاد کے ریت پر اپنا گھر بنایا۔ اگر پانی کا سیلاب آجائے تو وہ آسانی سے گھر منہدم ہوکر مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جا تا ہے ۔” لوقا 7 شفایاب ہونے والا خادم 7 یسوع لوگوں سے ان تمام واقعات کو سنا نے کے بعد کفر نحوم کو چلے گئے۔ 2 وہاں ایک فو جی افسر تھا۔ ان کا ایک چہیتا خادم تھا جو بیما ری سے مر نے کے قریب تھا۔ 3 جب اس نے یسوع کی خبر سنی تو وہ چند یہو دی بزرگ کو اس کے پاس روانہ کیا اور اپنے خادم کی جان بچا نے کے لئے گذارش کر نے لگا۔ 4 وہ لوگ یسوع کے پا س آ ئے اور کہنے لگے کہ “یہ فو جی افسر آپکی مدد کا محتاج ہے۔ 5 وہ تو ہمارے لوگوں سے بہت محبت کر تا ہے اور ہما رے لئے ایک یہودی عبادت گاہ بنا کردی ہے۔” 6 اس وجہ سے یسوع ان کے ساتھ چلے گئے۔جب یسوع گھر کے قریب تھے تواس افسر نے اپنے ایک دوست کے ذریعے پیغام بھیجا “اے خدا! میں اس لائق نہیں ہوں کہ آپ کو اپنے گھر لاؤں۔ 7 میں آپکے پاس آنے کے قابل نہیں ہوں اسلئے میں بذات خود نہیں آیا۔آپ صرف زبان سے کہہ دیں تو میرا خادم تندرست ہو جائیگا۔ 8 آپکے اختیارات کو تو میں نے جا ن لیا ہے جب کہ میں تو کسی کا تابع ہوں اور میرے ما تحت کئی سپاہی ہیں۔ میں ایک سپاہی سے کہوں، ’چلا جا‘ تو وہ چلا جاتا ہے اور ایک سپاہی سے کہوں’ آجا‘ تو وہ آجاتا ہے میرے نوکر کو یہ کہوں کہ ’ایسا کر‘ تو وہ میرے لئے اطاعت گزار ہو جائیگا۔” 9 یسوع نے اسکو سنا اور تعجب کر نے لگے اور اپنے پیچھے چلنے والے لوگوں کو دیکھ کر کہا، “اتنی بڑی عقیدت رکھنے والے ایک آدمی کو بھی اسرائیل میں کہیں بھی نہیں دیکھا۔” 10 اس افسر نے جن لوگوں کو بھیجا تھا جب وہ گھر واپس ہوئے اسی وقت اس نوکر کو تندرست پایا۔ یسوع کا مردے کو زندہ کرنا 11 دوسرے دن یسوع نائین نام کے گاؤں کو گئے یسوع کے ساتھ انکے شاگرد بھی تھے۔ ان کے ساتھ بہت سے لوگ بڑے اجتماع کی شکل میں جا رہے تھے۔ 12 جب یسوع گاؤں کے صدر دروازے کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک مرے ہوئے آدمی کو دفنانے کے لئے لے جا رہے ہیں۔ وہ کسی بیوہ کا اکلوتا بیٹا تھا جب اسکی لاش کو لے جایا جا رہا تھا تو گاؤں کے بہت سے لوگ اس بیوہ عورت کے ساتھ تھے۔ 13 جب خدا وند نے اس عورت کو دیکھا اور اپنے دل میں ترس کھا کر کہا ، “مت رو۔” 14 یسوع تابوت کے قریب گئے اور اسکو چھو ئے اس تابوت کو لے جا نے والے لوگ رک گئے یسوع نے اس مردہ شخص سے کہا ، “اے جو ان میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ جا!” 15 تب وہ مردہ شخص اٹھ کر بیٹھ گیااتب یسوع اسکو اسکی ماں کے حوالے کر دیئے۔ 16 سب لوگ حیران و ششدر ہو گئے وہ خدا کی تعریف بیان کر تے ہوئے کہنے لگے، “ایک بہت بڑے نبی ہمارے درمیان آئے ہیں وہ کہتے ہیں خدا اپنے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے آیا ہے۔” 17 جو کچھ یسوع نے کیا وہ خبر یہوداہ میں اور اسکے اطراف و اکناف کی جگہوں میں پھیل گئی۔ یوحنا کا یسوع سے سوال کرنا 18 یوحنا کے شاگردوں نے ان تفصیلی واقعات کو یو حنا سے بیان کیا تو یوحنا نے اپنے شاگردوں میں سے دو کو بلایا اور انہیں خدا وند سے یہ پو چھنے بھیجا۔ 19 “وہ جسے آنا چاہئے تھا وہ آپ ہی ہیں یا دوسرے شخص کا ہمیں انتظار کرنا ہوگا ؟۔” 20 اس وجہ سے وہ یسوع کے پاس آئے اور پوچھا، “یوحنا بپتسمہ دینے والے نے آپ سے پوچھنے کو بھیجا ہے۔ جن کو آنا چاہئے وہ آپ ہی ہیں یا کسی دوسرے کا ہمیں انتطار کر نا ہو گا ؟” 21 اس وقت یسوع نے کئی لوگوں کو انکی بیماریوں سے اور مختلف امراض سے شفاء دی۔ اور بدروحوں کے بد اثرات سے جو متاثر تھے انکو وہ آزاد کرائے یسوع نے کئی اندھوں کو آنکھوں کی بینائی دی۔22 تب یسوع نے یوحنا کے شاگردوں سے کہا، “تم جن واقعات کو یہاں سنے اور دیکھے ہو ان کو جاکر یوحنا سے سنا دینا۔کہ اندھوں کو بینائی ملی اور لنگڑے کے پیر ٹھیک ہوئے وہ چل سکتے ہیں۔ اور کوڑھی شفاء پائے اور بہرے سننے لگے اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری غریب لوگوں کو دی گئی۔ 23 بغیر شک و شبہ کے جو کوئی مجھے قبول کریگا وہ قابل مبارک باد ہوگا ۔” 24 جب یوحنا کے شاگرد چلے گئے تو “یسوع لوگوں سے یوحناّ کے بارے میں بات کر نی شروع کی اور کہا، “تم صحراؤں میں کیوں گئے تھے؟ اور کیا دیکھنا چاہتے تھے کیا ہوا سے ہلنے والے سر کنڈے؟۔25 تم کیا دیکھنا چا ہتے تھے جب تم باہر گئے تھے؟ کیا نئی طر ز کی پو شاک زیب تن کر نے والو ں کو ؟ نہیں وہ جو عمدہ قسم کے لباس پہننے والے آرام سے بادشاہوں کے محلوں میں رہتے ہیں۔ 26 آ خر کار تم کیا چیزیں دیکھنے کیلئے باہر گئے؟ کیا نبی کو ؟ ہاں یوحناّ نبی ہے۔ لیکن میں تمہیں بتا دوں یوحناّ نبی سے بھی بڑھکر ہے۔ 27 اس طرح یوحناّ کے بارے میں لکھا ہوا ہے: سنو! میں اپنے فرشتے کو پہلے تیرے پاس بھیجتا ہوں وہ تو تیرے لئے راہوں کو ہموار کرے گا۔ [a] 28 میں تم سے کہتا ہوں اس دنیا میں پیدا ہو نے وا لے لوگوں میں یوحناّ سے بڑا کوئی نہیں لیکن خدا کی بادشاہت میں سب سے کمتر آدمی بھی اس سے اونچا اور بڑا ہی ہو گا۔” 29 “یوحناّ نے خدا کے کلا م کی جو تعلیم دی تو سب لوگوں نے اسے قبو ل کر لیا محصول وصول کر نے والے نے بھی اس بات کو تسلیم کیا اور یہ سب یوحناّ سے بپتسمہ لئے۔ 30 لیکن فریسی اور معلمین شریعت نے خدا کے اس منصوبہ کو رد کر کے یوحناّ سے بپتسمہ نہیں لیا۔ 31 “اس دور کے لوگوں کے بارے میں کیا بتاؤں اور میں انکو کن سے تشبیہ دوں کہ وہ کس کے مشابہ ہیں۔ 32 موجودہ دور کے لوگ بازار میں بیٹھے ہوئے بچوں کی مانند ہیں ایک زمرہ کے بچے دوسرے زمرہ کے بچوں کو بلا کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لئے مر لی بجائی لیکن تم لوگوں نے ناچا نہیں ہم رنج و غم کا گانا گائے لیکن تم نہیں روئے۔ 33 جب کہ بپتسمہ دینے والا یوحنا آیا وہ دوسروں کی طرح کھایا نہیں یا مئے نہیں پی۔ لیکن تم اسکے بارے میں کہتے ہو کہ اس پر بد روح کے اثرات ہیں۔ 34 ابن آدم آئے وہ دوسرے آدمیوں کی طرح کھانا کھاتے ہیں اور مئے بھی پیتے ہیں لیکن تم کہتے ہو وہ ایک پیٹو ہے مئے خور!محصول وصول کرنے والے اور دوسرے برے لوگ ہی اسکے دوست ہیں۔ 35 لیکن حکمت اپنے کاموں سے ہی اپنے آپ کو طاقتور اور مستحکم بنا تی ہے۔” فریسی شمعون 36 ایک فریسی یسوع کو کھانے پر مدعو کیا اور یسوع اس کے گھر جا کر کھانے پر بیٹھ گئے۔ 37 اس گاؤں میں ایک گنہگار عورت تھی اس نے سنا کہ یسوع فریسی کے گھر میں کھا نا کھا نے بیٹھے ہیں تو وہ سنگ مرمر کی ایک شیشی میں عطر لائی۔ 38 وہ اسکے پاس پیچھے سے پہونچی اور قدموں کے پاس بیٹھی ہوئی روتی رہی اور اپنے آنسوؤں سے ان کے قدموں کو بھگوتی رہی اور اپنے سر کے بالوں سے یسوع کے قدموں کو پوچھنے لگی وہ متعدد مرتبہ انکے قدموں کو چوم کر اس پر عطر لگا نے لگی۔ 39 وہ فریسی جس نے اپنے گھر میں یسوع کو کھانے کی دعوت دی تھی اس بات کو دیکھتے ہوئے اپنے دل میں کہا، “اگر یہ آدمی ہی ہوتا تو خود کے قدموں کو چھونے والی عورت کے بارے میں جانتا کہ وہ گنہگار ہے۔” 40 اس بات پر یسوع نے فریسی سے کہا، “اے شمعون میں تجھے ایک بات بتا تا ہوں” شمعون نے کہا، “کہئے استاد۔” 41 یسوع نے کہا، “دو آدمی تھے وہ دونوں کسی ایک مالدار سے رقم لئے ایک نے پانچ سو چاندی کے سکّے لئے اور دوسرے نے پچاس چاندی کے سکّے لئے۔ 42 انکے پاس رقم نہ رہی جس کی وجہ سے قرض کی ادائیگی ان سے ممکن نہ ہوسکی تب امیر آدمی نے قرض کو معاف کر دیا تب اس نے ان سے پو چھا کہ ان دونوں میں سے کون مالدار سے زیادہ محبت کرتا ہے؟” 43 شمعون نے کہا، “میں سمجھتا ہوں زیادہ قرض لینے والا ہی معلوم ہوتا ہے” یسوع نے شمعون سے کہا، “تو نے ٹھیک ہی کہا ہے۔” 44 تب یسوع عورت کی طرف دیکھ کر شمعون سے کہتا ہے کیا تم اس عورت کو دیکھ سکتے ہو میں جب تیرے گھر آیاتھا تو تونے میرے قدموں کو پانی تک نہ دیا لیکن اس عورت نے اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے میرے قدموں کو بھگویا اپنے سر کے بالوں سے پونچھی۔ 45 تو نے میرے قدموں کو نہیں چوما لیکن وہ عورت جب سے میں گھر میں آیا ہوں تب سے وہ میرے قدموں کو چوم رہی ہے! 46 تو نے میرے سر میں تیل بھی نہیں لگا یا لیکن اس عورت نے تو میرے قدموں پر عطر لگایا۔47 میں کہتا ہوں کہ اس کے کئی گناہ معاف ہو گئے کیوں کہ اس نے مجھ سے بہت محبت کی۔ جس کو تھوڑی معافی ملتی ہے وہ تھوڑی سی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ 48 تب یسوع نے اس سے کہا ، “تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔” 49 دوسرے جو یسوع کے ساتھ کھا نا کھا رہے تھے وہ آپس میں کہنے لگے، “یہ اپنے آپکو کیا سمجھ لیا ہے؟ اور گناہوں کو معاف کرنا اس کے لئے کس طرح ممکن ہو سکتا ہے ؟” 50 یسوع نے اس عورت سے کہا، “تیرے ایمان کی بدولت ہی تو بچ گئی سلامتی سے چلی جا۔” Footnotes: a. لوقا 7:27 ملاکی ۱:۳ لوقا 8 وہ لوگ جو یسوع کے ساتھ تھے 8 دوسرے دن یسوع چند شہروں اور گاؤں سے گزرتے ہوئے لوگوں میں تبلیغ کرنے لگے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دینے لگے بارہ رسول بھی انکے ساتھ تھے۔ 2 چند عورتیں بھی انکے ساتھ تھیں یہ عورتیں ان سے بیماریوں میں صحت پائی ہوئی تھیں اور بد روحوں سے چھٹکارہ پائی ہوئی تھیں ان عورتوں میں سے ایک مریم تھی جو مگدلینی گاؤں کی تھی یسوع اس پر سے سات بد روحوں کو نکال باہر کیا تھا۔ 3 اس کے علاوہ خوزہ (ہیرودیس کا مدد گار) جس کی بیوی یوانہ ،سوسناہ اور دوسری بہت سی عورتیں تھیں یہ عورتیں یسوع کی اور اسکے رسولوں کی اپنی رقم سے مدد کیا کرتی تھیں۔ یسوع نے ایک تخم ریزی کر نے والے کی تمثیل دی 4 بہت سے لوگ مختلف گاؤں سے یسوع کے پاس اکٹھا ہو کر آئے تب یسوع نے ان لوگوں سے یہ تمثیل بیان کی۔ 5 “ایک کسان بیج بونے کے لئے کھیت میں گیا جب وہ تخم ریزی کر رہاتھا تو چند بیج پیدل چلنے کی راہ میں گر گئے اور لوگوں کے پیروں تلے روندے گئے اور پھر پرندے آئے اور ان دانوں کو چگ گئے۔ 6 چند بیج پتھر کی چٹان پر گر گئے اور اُ گ بھی گئے مگر پانی نہ ملنے کی وجہ سے سو کھ گئے۔ 7 چند بیج خاردار جھاڑیوں میں گر گئے وہ اُ گ تو گئے لیکن خاردار جھاڑیاں انکے برا بر بڑھنے لگیں اور ان کا گلا گھو ٹنے لگیں اس کی وجہ سے پنپ نہ سکے۔ 8 چند بیج جو عمدہ اور زرخیز زمین میں گرے یہ بیج اُ گ کر سبزشاداب ہو کر سو گنا زیادہ فصل بھی دی۔” یسوع نے اس تمثیل کو بیان کر نے کے بعد کہا، “میری باتوں پر غور کر نے والے لوگوسنو۔” 9 شاگردوں نے اس سے دریافت کیا کہ “اس تمثیل کا کیا مطلب ہے؟۔” 10 یسوع نے ان سے کہا تم کو خدا کی بادشاہت کے بھیدوں کو سمجھنا چاہئے اس لئے اس کام کے لئے تمہیں منتخب کیا گیا ہے۔ لیکن میں دوسروں کو تمثیلوں کے ذریعے سمجھا تا ہوں کیو نکہ وہ دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والوں کی طرح ہونگے اور وہ کان سے سن کر بھی نہ سننے والوں کی مانند ہونگے [a] یسوع کا بیجوں کے بارے میں ایک کہا نی کو بیان کرنا 11 یہاں اس تمثیل کے معنی اسطرح ہیں، بیج سے مراد خدا کی تعلیمات ہیں۔ 12 راستے پر گرے ہوئے بیج سے کیا مراد ہے؟ خدا کی تعلیمات کو کچھ لوگ سنتے ہیں لیکن شیطان آکر ان کے دلوں میں سے اس کلام کو باہر نکال دیتاہے اس تعلیمات پر انکا ایمان نہ ہونے کی وجہ سے وہ خدا کی پناہ سے محروم ہوتے ہیں۔13 “پتھّر کی چٹان پر گرنے والے بیج کا کیا مطلب ہے؟ چند لوگ خدا کی تعلیمات کو سن کر بہت ہی سکون سے اسکو قبول کرتے ہیں لیکن ان کے لئے گہرائی تک جا نے والی جڑیں نہیں ہوتیں چونکہ وہ ایک مختصر مدت کے لئے ہی اس پر ایمان لاتے ہیں تب کچھ مصائب میں گھر جاتے ہیں تو اپنے ایمان کو کھو دیتے ہیں اور خدا سے دور ہو جا تے ہیں۔ 14 خاردار جھاڑیوں میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟ بعض لوگ خدا کی تعلیمات کو سنتے ہیں۔ لیکن وہ دنیا کی فکروں اور مال و دولت اور زندگی کے سکون و چین کو ترجیح دیتے ہیں اس وجہ سے بڑھنے سے رک جاتے ہیں اور پھل نہیں پاتے اور با مراد نہیں ہو تے۔ 15 زرخیز زمین میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے ،؟بعض لوگ اچھے اور نیک دلی کے ساتھ خدا کی تعلیمات کو سنتے ہیں خدا کی تعلیمات کی اطاعت بھی کرتے ہیں صبر و برداشت کے ساتھ اچھے پھل دیتے ہیں۔ اپنی سوچ سمجھ اور عقل کو استعمال کرو 16 “کوئی بھی شخص چراغ جلا کر اس کو کسی برتن کے اندر یا کسی پلنگ کے نیچے چھپا کر نہیں رکھتا حالانکہ گھر میں آنے والوں کو روشنی فراہم کرنے کے لئے وہ اسکو شمعدان پر رکھتا ہے۔ 17 روشنی میں نہ آنے والا کوئی راز ہی نہیں ہے اور ظاہر نہ ہونے والا کوئی بھید نہیں ہے۔ 18 اسی وجہ سے جب تم کسی بات کو سنو تو ہوشیار رہو ایک شخص جو تھوڑی سمجھ رکھنے والا ہو زیادہ دانش مندی حاصل کر سکتا ہے لیکن وہ شخص جس میں سمجھ داری نہ ہو اپنے خیال میں جو سمجھ داری ہے اس کو بھی کھو دیتا ہے۔” یسوع کے شاگرد ہی اسکے خاندان کے صحیح افراد ہیں 19 یسوع کی ماں اور انکے بھائی ان سے ملاقات کے لئے آئے وہاں پر بہت لوگ جمع تھے۔ جس کی وجہ سے یسوع کی ماں اور ان کے بھائی کو انکے قریب جانا ممکن نہ ہو سکا وہاں پر موجود ایک آدمی نے یسوع سے کہا۔ 20 “آپکی ماں اور آپکے بھائی باہر کھڑے ہیں وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔” 21 یسوع نے جواب دیا، “خدا کی تعلیمات کو سن کر اس پر عمل پیرا ہو نے والے لوگ ہی میری ماں اور میرے بھا ئی ہیں!” یسوع کی قوت کو شاگردوں نے دیکھا 22 ایک دن یسوع اور انکے شاگرد کشتی پر سوار ہوئے یسوع نے کہا ، “آؤ جھیل کے اس پار چلیں” اس طرح وہ اس پار کے لئے نکلے۔ 23 جب وہ جھیل میں کشتی پر جا رہے تھے تو یسوع کو نیند آ نے لگی اس طرف جھیل میں تیز ہوا کا جھونکا چلنے لگا اور کشتی میں پانی بھر نے لگا اور تمام کشتی سواروں کو خطرہ کا سامنا ہوا۔ 24 تب شاگرد یسوع کے پاس گئے انکو جگا کر کہا، “صاحب صاحب!ہم سب ڈوب رہے ہیں” فوراً یسوع اٹھ بیٹھے اور انہوں نے ہوا کی لہروں کو حکم دیا تب آندھی رک گئی اور جھیل میں سکوت چھا گئی۔ 25 یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “تمہارا ایمان کہاں گیا؟” شاگرد خوف زدہ ہو تے ہوئے حیرانی سے ایک دوسرے سے کہنے لگے” یہ کون ہو سکتا ہے؟ یہ ہوا کو اور پانی کو حکم دیتا ہے اور وہ اسکی اطاعت کر تے ہیں۔” بد روحوں سے متاثر آدمی 26 یسوع اور انکے شاگردوں نے گلیل سے جھیل پار کر کے گراسینیوں کے علاقے کا سفر کیا۔ 27 جب یسوع کشتی سے اترے تو اس شہر کا ایک آدمی یسوع کے نزدیک آیا اس آدمی پر بد روح سوار تھی ایک لمبے عرصہ سے وہ کپڑے ہی نہ پہنتا تھا اور گھر میں نہیں رہتا تھا اور قبروں کے درمیان رہتا تھا۔ 28-29 بد روح اس پر ایک عرصے سے قابض تھی اس آدمی کو قید خانہ میں ڈال کر اس کے ہاتھ پاؤں کو زنجیروں میں جکڑ نے کے با وجود بھی وہ انکو توڑ دیتا تھا۔ اس کے اندر کی بدروح اسکو ویران جگہوں میں زبردستی لے جایا کرتی تھی۔ یسوع نے بد رُوح کو حکم دیا “اسے چھوڑ کر چلی جا” اس آدمی نے یسوع کے سامنے جھک کر اونچی آواز سے کہا ، “اے یسوع خدائے تعالیٰ کے بیٹے! مجھ سے تو کیا چاہتا ہے ؟ برائے مہربانی مجھے اذیت نہ دے۔” 30 یسوع نے اس سے پوچھا “تیرا نام کیا ہے ؟” اس نے جواب دیا “لشکر”کیوں کہ اس میں بہت سی بد رُوحیں جمع ہوئی تھیں۔ 31 بد روحوں نے یسوع سے بھیک مانگی کہ وہ انکو مقام ارواح میں نہ بھیجے۔32 وہاں پر ایک پہاڑ تھا پہاڑ کے اوپر سؤروں کا ا یک غول چر رہا تھا ا ن بد روحوں نے یسوع سے اجازت چاہی کہ انکو سؤروں میں جا نے دے تب یسو ع نے انکو اجازت دی۔ 33 تب بد روحیں اس آدمی سے باہر نکل کر سؤروں میں شامل ہو گئیں تب ایسا ہوا کہ سوروں کا غول پہاڑ کے نیچے د وڑتے ہو ئے جاکر جھیل میں گر پڑا اور ڈوب گیا۔ 34 سؤروں کو چرا نے والے بھا گ گئے اور یہ خبر شہروں میں اور گاؤں میں پھیل گئی۔ 35 اس واقعے کو جاننے کے لئے لوگ یسوع کے پاس آئے انہوں نے آدمی کو دیکھا جس پر سے بد روح نکل گئی تھی وہ کپڑے پہنے ہوئے تھا اور یسوع کے قدموں کے پاس بیٹھا تھا۔ اور وہ اپنے ہوش و حواس میں تھا۔ لوگ خوف زدہ ہوئے۔ 36 یسوع نے جس طریقے سے اس آدمی کو شفاء دی اور جنہو ں نے اسے دیکھا انہوں نے اس آدمی کو دیکھنے آئے ہو ئے دیگر لوگوں سے واقعہ کے تفصیل سناتے رہے۔ 37 تب گرا سینیوں ضلع کے تما م لوگوں نے یسوع سے التجا کی آپ یہاں سے تشریف لے جائینگے کیوں کہ وہ سب بہت ڈرے ہو ئے تھے اس وجہ سے یسوع کشتی میں سوار ہوئے اور پھر گلیل کو وا پس لوٹے۔ 38 بد روحوں سے چھٹکا رہ پا نے والے نے یسوع سے التجا کی کہ مجھے بھی تو اپنے ساتھ لے جا۔ یسوع نے یہ کہتے ہو ئے روانہ کیا۔” 39 “تو اپنے گھر کو واپس ہوجا اور خدا نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا انکولوگوں تک سنا۔” اس طرح کہکر اس نے اسکو بھیج دیا۔ وہ آدمی وہاں سے چلا گیا۔ اور گاؤں کے سب لوگوں سے جو کچھ یسوع نے کیا وہ کہنا شروع کیا۔” مری ہوئی لڑکی کو زندگی اور بیمار عورت کو صحتیابی دینا 40 جب یسوع گلیل کو واپس لوٹے تو لوگوں نے انکا استقبال کیا ہر ایک انکا انتظار کر رہے تھے۔ 41 یائیر نام کا ایک شخص یسوع کے پاس آیا وہ یہودی عبادت گاہ کا قائد تھا وہ یسوع کے قدموں پر جھک کر اپنے گھر آنے کی گزارش کر نے لگا۔ 42 اس کی اکلوتی بیٹی تھی وہ بارہ سال کی تھی اور بستر مرگ پر تھی۔ جب یسوع یائیر کے گھر جا رہے تھے تو لوگ انکو ہرطرف سے گھیرے ہوئے آئے۔ 43 ایک ایسی عورت وہاں تھی جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا۔ وہ اپنی ساری رقم طبیبوں پر خرچ کر چکی تھی لیکن کوئی بھی طبیب اس کو شفاء نہ دے سکا۔ 44 وہ عورت یسوع کے پیچھے آئی اور اسکے چوغے کے نچلے دامن کو چھوا فوراً اسکا خون بہنا رک گیا۔ 45 تب یسوع نے “پوچھا مجھے کس نے چھوا ہے؟” جب سب انکار کرنے لگے تو پطرس نے کہا، “اے خدا وند کئی لوگ آپکے اطراف ہیں اور تجھے دھکیل رہے ہیں۔” 46 اس پر یسوع نے کہا، “کسی نے مجھے چھوا ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ جسم سے قوت نکل رہی ہے۔” 47 اس عورت نے یہ سمجھا کہ اب اس کے لئے کہیں چھپے بیٹھے رہنا ممکن نہیں تو وہ کانپتے ہوئے اس کے سامنے آئی اور جھک گئی پھر اس عورت نے یسوع کو چھو نے کی وجہ بیان کی اور کہا کہ اسکو چھو نے کے فوراً بعد ہی وہ تندرست ہو گئی۔ 48 یسوع نے اس سے کہا، “بیٹی تیرے ایمان کی وجہ سے تجھے صحت ملی ہے سلامتی سے چلی جا۔” 49 یسوع باتیں کر ہی رہے تھے ایک یہودی عبادت گاہ کے قائد کے گھر سے ایک شخص آیا اور کہا، “کہ تیری بیٹی تو مر گئی ہے اب تعلیم دینے والے کو کسی قسم کی تکلیف نہ دے۔” 50 یسوع نے یہ سنکر یائیر سے کہا، “ڈرو مت ایمان کے ساتھ رہو تیری بیٹی اچھی ہو گی۔” 51 یسوع یائیر کے گھر گئے وہ صرف پطرس یوحنا یعقوب اور لڑکی کے باپ اور ماں کو اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دی یسوع نے کہا دوسرے کوئی بھی اندر نہ آئے۔ 52 بچی کی موت پر سب لوگ رو رہے تھے اور غم میں مبتلاء تھے لیکن یسوع نے ان سے کہا، “مت رو نا وہ مری نہیں ہے بلکہ وہ سو رہی ہے؟” 53 تب لوگ یسوع پر ہنسنے لگے اس لئے کہ ان لوگوں کو یقین تھا کہ لڑکی مرگئی ہے۔ 54 لیکن یسوع نے اس لڑ کی کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، “ننھی لڑکی اٹھ جا!” 55 اسی لمحہ لڑکی میں روح واپس آئی وہ اٹھ کھڑی ہوئی یسوع نے ان سے کہا، “اس کو کھانے کے لئے کچھ دو۔” 56 لڑکی کے والدین تعجب میں پڑ گئے یسوع نے انکو حکم دیا کہ وہ اس واقعہ کو کسی سے نہ کہیں۔ Footnotes: a. لوقا 8:10 یسعیاہ۶:۹ لوقا 9 یسوع کا رسولوں کو بھیجنا 9 یسوع نے بارہ رسولوں کو ایک ساتھ بلایا اور انکو بیماروں میں شفاء دینے کی قوّت اور بدروحوں کو قابو میں رکھنے کا اختیار دیا۔ 2 خدا کی بادشاہت کے بارے میں لوگوں میں منادی کر نے اور بیماروں کو شفاء دلانے یسو ع نے رسولوں کو بھیجا۔ 3 اس نے رسولوں سے کہا ، “جب تم سفر پر نکلو تو اپنے ساتھ کو ئی چیز نہ لیجا نا نہ لاٹھی ، نہ جھولی ، نہ روٹی ، نہ روپیہ پیسہ اور نہ ہی دو دو لباہی۔ 4 جب تم کسی گھر میں قیام کرو تو اس گاؤں کو چھوڑ کر جاتے وقت تک تم وہیں رہنا۔ 5 اگر اس گاؤں کے لوگوں نے تمہارا استقبال نہ کیا تو تم اس گاؤں کے باہر جا کر اپنے پیروں میں لگی دھول و گرد وغبار وہیں پر جھاڑ دینا اور یہ بات ان لوگوں کے لئے ایک انتباہ ہوگی۔” 6 تب رسول وہاں سے نکلے سفر کئے اور گاؤں، گاؤں جاکر جہاں موقع ملا خوشخبری کی منا دی کر نے لگے اور بیماروں کو شفا ء دی۔ یسوع کے بارے میں ہیرودیس کی حیرا نی 7 جب حاکم ہیرو دیس نے پیش آنے والے ان تمام واقعات کے بارے میں سنا تو وہ نہایت پریشان ہوا کیوں کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے “بپتسمہ دینے والا یو حنا مرنے والوں میں سے دو بارہ جی اٹھا ہے ۔”8 دوسرے لوگ یہ کہنے لگے کہ “ایلیاہ ہمارے پاس آیا ہے” اور بعض لوگ کہتے تھے، “گزرے ہو ئے زمانے کے نبیوں میں سے ایک دو بارہ زندہ ہو گئے ہیں۔” 9 ہیرو دیس کہنے لگا “میں نے یو حنا کا سر کاٹ دیا لیکن یہ کون آ دمی ہے جس کے متعلق میں یہ باتیں سن رہا ہوں اور وہ یسوع کو دیکھنے کے لئے بے چین تھا۔” یسوع کا پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں کو کھا نا کھلانا 10 رسول جب خوشخبری سنا نے کے بعد سفر سے واپس لوٹے تو ان لوگوں نے جو کچھ کیا تھا اس کے بارے میں اپنے سارے واقعات یسوع کو سنا دیئے۔ تب وہ انکو اپنے ساتھ بیت صیدا گاؤں کو لے گئے جہاں انکے ساتھ کوئی اور نہ تھا۔ 11 تب یسوع کا وہاں جانا لوگوں کو معلوم ہوا اور وہ اسکے پیچھے ہو لئے یسوع نے انکا استقبال کیا اور خدا کی بادشاہت کے بارے میں انہیں بتایا اور بیماروں کو شفا ء دی 12 اس شام بارہ رسول یسوع کے پاس آئے اور آکر کہا ، “اس جگہ پر کوئی نہیں رہتا ہے اس وجہ سے لوگوں کو بھیج دے تا کہ وہ قرب و جوار کھیتوں اور گاؤں میں جا کر کھا نا خرید لیں اور رات میں سو نے کیلئے جگہ دیکھ لیں۔” 13 تب یسوع نے رسولوں سے کہا ، “تم انکو تھو ڑا سا کھا نا دیدو۔” رسولوں نے کہا ہم تو صرف پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں اپنے پاس رکھتے ہیں ایسے میں ہم کو ان لوگوں کے لئے بھی کھا نا خرید نا ہو گا ؟” 14 وہاں پر تقریباً پانچ ہزار آدمی موجود تھے۔ تب یسوع نے اپنے شاگر دوں سے کہا، “ان میں پچاس پچاس لوگوں کی صفیں بنا کر بٹھا ؤ۔” 15 ان کے کہنے کے مطابق شاگردوں نے ویسا ہی کیا سب لوگ زمین پر بیٹھ گئے۔ 16 تب یسوع ان پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کو اپنے ہاتھ میں لیکر اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا انکے لئے خدا کی بارگاہ میں شکریہ ادا کیا پھر تقسیم کرکے شاگر دوں کو دیا اور کہا، “ان روٹیوں کو لوگوں میں بانٹ دو۔”17 سبھی کھا کر مطمئن ہوئے کھا نے کے بعد بچی ہوئی غذا کے ٹکڑوں کو جب ایک جگہ جمع کیا گیا تو اس سے بارہ ٹوکریاں بھر گئیں۔ یسوع ہی مسیح ہے 18 ایک دفعہ ایسا ہوا کہ یسوع تنہا دعا مانگ رہے تھے تب انکے شاگرد وہاں آئے یسوع نے ان سے پو چھا ، “لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟۔” 19 اس بات پر شاگردوں نے کہا، “بعص لوگ تجھے بپتسمہ دینے والا یوحنا کہتے ہیں۔ اور بعض لوگ ایلیاہ کہتے ہیں۔ اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ گزرے ہوئے زمانے کے نبیوں میں سے ایک دو بارہ زندہ ہو گئے ہیں۔” 20 تب یسوع نے شاگر دو ں سے پو چھا “تم مجھے کیا کہتے ہو ؟” پطرس نے جواب دیا، “تو خدا کی طرف سے آیا ہوا مسیح ہے۔” 21 یسوع نے ان کو تنبیہ کی کہ وہ کسی سے یہ بات نہ کہیں۔ یسوع کا اپنی موت کے بارے میں آ گاہ کرنا 22 تب یسوع نے کہا ، “ابن آدم کو بہت سے مصائب سے گزر نا ہے وہ بڑے یہودی کے قائدین کے رہنما سے اور معلّمین شریعت سے دھتکارہ جائیگا اور مارا جائیگا اور تیسرے ہی دن جی اٹھے گا۔” 23 یسوع نے اپنی تقریر کو جا ری رکھا ان سب سے کہا، “اگر کوئی میرا شاگرد بننا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا آپ ہی سے انکار کرے اور روزانہ اپنی صلیب کو اٹھائے ہوئے میری شاگردی کرے۔ 24 جو اپنی زندگی کو بچا نا چاہتے ہیں تو وہ اس کو کھو دیگا میری خاطر اپنی جان کو قربان کر نے والا ہی اس کو بچا ئے گا۔ 25 ایک آدمی جو ساری دنیا کو کمالیا ہے لیکن اپنے آپ کو کھو تا ہے یا تباہ کر تا ہے اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ 26 جو کوئی بھی میرے لئے یا میری تعلیم کے لئے شر ما ئے گا ابن آدم بھی جب اپنے باپ کے اور پاک فرشتوں کے جلال میں آئیگا تو ان سے شر مائیگا۔ 27 لیکن میں تم سے سچائی کے ساتھ کہتا ہوں۔ یہاں کچھ ایسے لوگ کھڑے ہیں جو اس وقت تک موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، جب تک خدا کی بادشاہت کو دیکھ نہ لیں۔” موسٰی ، ایلیاہ اور یسوع 28 تقریباً آ ٹھ دنوں کے بعد یسوع یہ سا ری باتیں کہنے لگے انہوں نے پطرس ، یوحناّ کو اور یعقوب کو اپنے ساتھ لے کر دعا کر نے کیلئے پہاڑ پر چلے گئے۔ 29 جب یسوع دعا کر رہے تھے تب ان کا چہرہ متغیر ہوگیا اور ان کے کپڑے سفید ہو کر چمکنے لگے۔ 30 تب دو شخص ان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے وہ دونوں موسیٰ اور ایلیاہ تھے۔ 31 یہ دونوں بھی تابناک تھے۔ یروشلم میں واقعہ ہو نے والی وہ موت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ 32 پطرس اور دوسرے نیند سے جب بیدار ہو ئے تو یسوع کے جلا ل کے ساتھ کھڑے ہوئے ان دو آدمیوں کے ساتھ دیکھا۔ 33 جب انہوں نے دیکھا تو موسیٰ اور ایلیاہ اس کو چھوڑ کر جا رہے تھے پطرس نے کہا، “ا ے استاد ہم یہاں ہیں یہ بہتر ہے اور کہا کہ ہم یہاں تین شا میانے نصب کریں گے ایک آ پکے لئے دوسرا موسیٰ کے لئے اور تیسرا ایلیا ہ کے لئے “پطرس کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ 34 پطرس جب ان واقعات کو سنا رہا تھا ایک بادل ان کے اطراف آکر گھر گیا جب وہ بادل میں تھے تب پطرس یعقوب اور یوحناّ کو خوف ہوا۔ 35 بادلوں میں سے ایک آواز سنائی دی وہ یہ کہ “یہ میرا بیٹا ہے اور وہ میرا منتخب کیا ہوا ہے اور تم اس کے فرمانبر دار ہو جاؤ۔” 36 اس آوا ز کو سنائی دینے کے بعد انہوں نے صرف یسوع کو ہی دیکھا۔پطرس ، یعقوب اور یوحناّ خا موش تھے اس واقعہ کو کسی سے بیان نہ کر سکے۔ بدروح سے متاثر ایک بچے کو چھٹکا رہ 37 دوسرے ہی دن وہ پہا ڑ سے اتر کر نیچے آئے لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ یسوع کے انتظار میں تھی۔38 بھیڑ میں سے ایک آدمی چلا یا اور کہا، “اے معلم! مہر بانی ہو گی کہ آپ آ ئیں اور میرے بچے کو دیکھیں اس لئے کہ وہ میرا اکلو تا بیٹا ہے۔ 39 ایک بدروح میرے بیٹے میں سما جاتی ہے تب وہ آہ و بکا کرتا ہے حواس کھو بیٹھتا ہے او ر منھ سے کف گرا تا ہے اور بدروح اس کو جھنجھو ڑ تی ہے اور اسے جکڑ تی ہے۔ 40 میں میر ے بیٹے کو بدروح سے چھٹکا رہ دلا نے کے لئے آپکے شا گردوں سے معروضہ پیش کیا لیکن ان سے یہ بات ممکن نہ ہو سکی۔” 41 تب یسوع نے جواب دیا، “اے ایمان نہ رکھنے والی ظالم قوم! زندگی میں مزید کتنا عرصہ تمہا رے ساتھ صبر و بر داشت کے ساتھ رہوں؟” اس طرح جواب دیتے ہو ئے اس آدمی سے کہا، “تو اپنے بچے کو یہاں لے آؤ۔” 42 جب وہ بچہ آ رہا تھا تو بدروح اس کو زمین پر پٹک دی۔۔بچّہ نے اپنا ہوش کھو دیا تب یسوع نے بد روح کو ڈانٹا اور اس بچّے کو شفاء دی پھر اس بچے کو اس کے باپ کے حوالے کردیا۔ 43 لوگ خدا کی اس عظیم قدرت کو دیکھ کر چونک پڑے۔ یسوع کا اپنی موت کے بارے میں اعلان کرنا یسوع جن کاموں اور نشانیوں کو کر دکھا ئے ان سے لوگ ابھی تک بہت حیران تھے یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، 44 “ابن آ دم کو بعض لوگوں کی تحویل میں دیدیا جائے گا اور تم اس بات کو نہ بھو لنا۔” 45 لیکن یسوع کی ان باتوں کو شاگرد سمجھ نہ سکے اس لئے کہ اس کے معنیٰ ان سے پوشیدہ تھے لیکن یسوع نے جن باتوں کو بتائے تھے ان باتوں کوپوچھنے کے لئے شاگرد گھبرا گئے۔ عظیم شخصیت 46 یسوع کے شاگردوں نے آپس میں بحث شروع کی کہ ان میں بہت عظیم تر شخصیت کس کی ہے۔47 یسوع نے ان کے دلوں کا خیال معلوم کر کے ایک بچّے کو لے لیا اور اپنے پاس کھڑا کیا۔ 48 یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “جو کوئی میرے نام پر چھوٹے بچے کو قبول کرتا ہے تو گویا اس نے مجھے ہی قبول کیا ہے اور اگر کو ئی مجھے قبول کرتا ہے تو گویا اس نے میرے بھیجنے وا لے خدا کو قبول کیا تم میں جو غریب اور کمزور ہے وہی تم میں اہم اور بڑا بنتا ہے۔” وہ جو تمہارا مخالف نہیں ہے وہ تمہارا ہی ہے 49 یوحنّا نے کہا، “اے استاد! تیرے نام کی نسبت سے ایک شخص بد روحوں سے چھٹکارہ دلا تے ہوئے ہم نے دیکھا ہے ہم نے اس سے کہا کہ وہ تیرے نام کا استعما ل نہ کرے کیوں کہ وہ ہماری جماعت سے نہیں ہے۔” 50 یسوع نے کہا ، “اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنو کیوں کہ وہ جو تمہارا مخالف نہیں ہو تا وہ تمہارا ہی ہوتا ہے۔” سامریوں کا شہر 51 یسوع کے پھر آسمان کو واپس لوٹنے کا وقت قریب آیا۔اسلئے انہوں نے یروشلم کو جا نے کا فیصلہ کر لیا۔ 52 یسوع نے چند لوگوں کو اپنے سے آگے بھیج دیا۔یسوع کے لئے ہر چیز تیار کرنے کے لئے وہ سامریوں کے ایک شہر کو گئے 53 چونکہ وہ یروشلم جا رہے تھے اس لئے وہاں کے لوگوں نے اس کا استقبال نہ کیا۔ 54 یسوع کے شا گرد یعقوب اور یوحنّا نے اس بات کو دیکھ کر کہا “اے خداوند!کیا تو چاہتا ہے کہ آسمان سے آگ برسا کر ان لوگوں کو تباہ کر دینے کے لئے ہم حکم دیں۔” [a] 55 لیکن یسوع نے ان کی طرف پلٹ کر ڈانٹ دیا 56 تب یسوع اور اسکے شاگرد دوسرے شہر کو چلے گئے [b] یسوع کی پیروی کرو 57 وہ سب جب راستے سے گزر رہے تھے کسی نے یسوع سے کہا ، “تو کہیں بھی جائے لیکن میں تیرے ساتھ ہی چلونگا۔” 58 یسوع نے جواب دیا ، “لومڑیوں کے لئے گڑھے ہیں اور پرندوں کے لئے گھونسلے ہیں لیکن ابن آدم کو سر چھپا نے کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔” 59 یسوع نے دوسرے آدمی سے کہا ، “میری پیروی کرو” لیکن اس آدمی نے کہا، “خدا وند اجازت دو کہ میں پہلے جاکر میرے باپ کی تدفین کر آؤں۔” 60 لیکن یسوع نے اس سے کہا، “جو مر گئے ہیں انہیں مر نے والوں کی تدفین کر نے دو تم جاؤ خدا کی بادشاہت کے بارے میں لوگوں سے کہو۔” 61 کسی دوسرے آدمی نے یسوع سے پوچھا، “اے میرے خداوند! میں تو تیرے ساتھ چلونگا لیکن پہلے مجھے میرے خاندان والوں کے پاس جا کر وداع کرنے کی اجازت دے۔” 62 یسوع نے کہا، “وہ شخص جو ہل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو وہ خدا کی بادشاہت کے قابل نہیں ہے۔” Footnotes: a. لوقا 9:54 آیت ۵۴ چند یونانی صحیفوں میں ایلیاہ نے جیسا کہا اسی طرح اس میں شامل ہے ۔ b. لوقا 9:56 آیت ۵۵ چند یونانی صحیفوں میں اس کو شامل کیا گیا ہے” یسوع نے ان سےکہا کہ تمہیں خود معلوم نہیں کہ تمہاری کیا عادتیں ہیں ۔ لوقا 10 یسوع کا ۷۲ آدمیوں کو بھیجنا 10 اس کے بعدخداوند یسوع نے مزید ۷۲ [a] لوگوں کو چن کر جن شہروں میں اور مختلف جگہوں پر خود جا نا چاہتے تھے وہاں پر قبل از وقت ہی دو دو گروہوں کو بھیج دیا۔ 2 یسوع نے ان سے کہا، “فصل تو بہت زیا دہ ہے لیکن اس کے لئے کام کر نے والے مزدور تھو ڑے ہیں اس لئے فصل کے مالک سے منت کرو کہ وہ زیا دہ مزدوروں کو بھیجے۔ 3 تم اب جا سکتے ہو لیکن میری باتیں سنو! بھیڑ یوں کے بیچ بکریوں کو بھیجنے کی طرح تم کو بھیج رہا ہوں۔ 4 ہاتھ کی تھیلی ہو کہ روپیہ ہو یا جوتیاں ہوں ساتھ نہ لے جائیں اور نہ راستے میں رک کر لوگوں سے باتیں کرو۔ 5 تم گھروں میں داخل ہو نے سے پہلے کہو اس گھر میں سلامتی ہو۔” 6 اگر اس گھر میں کوئی پر امن طبیعت کا آدمی ہو تو تمہاری سلامتی کی دعا اسے پہنچے گی اور اگر وہ شریف النفس نہ ہو تو تمہاری سلامتی کی دعائیں تمہاری ہی طرف لوٹ کر آئیں گی۔ 7 گھر میں قیام کرو وہ تمہیں جو بھی کھانے پینے کی چیز پیش کریں تو تم اس کو کھا لو اور بچا لو مزدور اپنی تنخواہ لینے کا مستحق ہوگا اس لئے قیام کے لئے تم اس گھر کو چھوڑ کر کوئی دوسرا گھر قبول نہ کرو۔ 8 جب تم کسی گاؤں میں جاؤ اور گاؤں والے تمہارا استقبال کریں اور اگر وہ کوئی کھا نا پیش کریں تو تم اسکو کھا ؤ۔ 9 اور وہاں کے بیماروں کو تم شفاء بخشو اور وہاں کے لوگوں کو کہو کہ خدا کی بادشاہت تمہارے بہت ہی قریب آنے والی ہے۔ 10 لیکن جب تم کسی گاؤں کو جاؤ اور وہاں کے مقامی لوگ تمہیں خوش آمدید نہ کہیں تو تم اس گاؤں کی گلیوں میں جاکر کہو کہ 11 ہمارے پیروں میں تمہارے شہر کی لگی دھو ل کو تمہارے ہی خلاف اس کو جھا ڑ دیتے ہیں لیکن تمہیں جاننا چاہئے کہ خدا کی بادشا ہت قریب آنے والی ہے کہو۔ 12 میں تم سے کہتا ہوں فیصلے کے دن ان لوگوں کا حال سدوم کے لوگوں کے حال سے زیا دہ خراب اور سخت ہوگا ایمان نہ لا نے والوں کے لئے یسوع کا انتباہ 13 “تم پر افسوس اے خرازین تم پر افسوس اے بیت صیدا میں نے تمہارے بیچ کئی معجزے دکھا ئے اگر وہ معجزے صور اور صیدا جیسے مقامات پر ہوئے ہو تے تو وہاں کے مقا می لو گ بہت پہلے ہی اپنی زندگی میں تبدیلیاں لا تے اور اپنے گناہوں پر تو بہ کرتے اور ٹاٹ اوڑھ لیتے اور راکھ لیپ لیتے تھے۔14 لیکن فیصلہ کے دن تیری حالت صور اور صیدا کے لوگوں کی حالت سے بھی خراب ہو گی۔ 15 اے کفر نحوم! کیا تجھے اتنی فصیلت ہو گی اور اتنا بلند ہو گا جیسا کہ آسمان؟ نہیں! بلکہ تو عالم ارواح میں اتا را جائیگا۔ 16 اور کہا ، “جو کوئی تمہاری باتیں سنتا ہے وہ میری باتوں کو سنتا ہے جو تمہیں نہیں مانتا گویا وہ مجھے نہیں مانتا اور جو مجھے نہیں مانتا گویا وہ خدا کو نہیں مانتا جس نے مجھے بھیجا ہے۔” شیطان کا زوال 17 جب ۷۲ شاگرد اپنے سفر سے واپس لوٹے تو وہ بہت خوش تھے انہوں نے یسوع سے کہا، “اے خداوند! جب ہم نے آپکا نام کہا تو بد روحیں بھی ہماری فرماں بردار ہو گئیں۔” 18 یسوع نے ان سے کہا ، “شیطان کو آسمان سے بجلی کی طرح نیچے گرتا ہوا میں نے دیکھا ہے19 سنو! کہ میں نے تم کو سانپوں اور بچھوؤں پر چلنے کی طاقت دی ہے۔ دشمن کی طا قت سے بڑھکر میں نے تم کو طاقت دی ہے اور کوئی چیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ 20 اور کہا ہاں روحیں تمہاری اطاعت گزار ہونگی اس بات سے خوش مت ہو کہ یہ طاقت تمہیں حاصل ہے بلکہ خوش اسلئے ہو کہ تمہارے نام آسمان میں لکھ دیئے گئے ہیں۔” یسوع کا باپ سے دعا کرنا 21 تب یسوع نے روح القدس کے ذریعے بہت خوش ہو کر اسطرح دعا کی ،“اے آسمان و زمین کے خداوند باپ! میں تیری تعریف کرتا ہوں تو نے عالموں پر اور عقلمندوں پر ان واقعات کو پوشیدہ رکھا۔اسی لئے میں تیری تعریف کرتا ہوں لیکن تو نے چھوٹے بچّوں کی طرح رہنے والے لوگوں پر اس واقعہ کو ظاہر کیا ہے۔ہاں! اے باپ وہی تو تیری مرضی تھی۔ 22 “میرے باپ نے مجھے ہر چیز دی ہے بیٹا کون ہے کسی کو معلوم نہیں ہے اور تنہا صرف باپ ہی کو یہ معلوم ہے اور باپ کون ہے صرف بیٹے ہی کو معلوم ہے۔اور اس شحص کو جس پر بیٹا ا سے ظا ہر کر نا چاہے ۔” 23 جب یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تنہا تھے تو وہ پلٹ کر ان سے کہا ، “تم پر فضل ہو کہ اب واقع ہو نے والے حالات کو تم دیکھتے ہو۔ 24 میں تم سے کہتا ہوں کہ نبیوں اور بادشاہوں نے ان واقعات کو دیکھنا چاہا جو تم دیکھ رہے ہو لیکن وہ کبھی نہیں دیکھے۔ اور جن واقعات کو تم سن رہے ہو وہ بھی سننے کی تمنّا کئے لیکن وہ کبھی نہیں سن پائے۔” ایک اچھے سامری کی کہا نی 25 تب ایک شریعت کا معلم یسوع کو آزمانے کے لئے اٹھ کھڑاہوا اور پو چھا، “اے استاد میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں؟” 26 یسوع نے اس سے پو چھا،“شریعت میں اس کے متعلق کیا لکھا ہوا ہے ؟ اور تم وہاں کیا پڑھتے ہو؟” 27 اس نے کہا، “یہ اس طرح لکھا ہوا ہے کہ آپکو اپنے خدا وند سے پورے دل و جان سے پوری روح سے اور پو ری طا قت سے اور پو رے ذہن کے ساتھ محبت کر نی چاہئے۔ [b] اور پھر جس طرح “تو اپنے آپ سے محبت کر تا ہے اسی طرح پڑوسیوں سے بھی محبت کر نی چاہئے۔” [c] 28 یسوع نے اس سے کہا، “تیرا جواب بالکل صحیح ہے۔ تو ویسا ہی کر تب کہیں تجھے ہمیشہ کی زندگی نصیب ہو گی۔” 29 “لیکن آدمی نے بتانا چاہا کہ وہ اسکا سوال پوچھنے میں سیدھا ہے اسلئے وہ یسوع سے پو چھا کہ میرا پڑوسی کو ن ہے ؟” 30 تب یسوع نے کہا، “ایک آدمی یروشلم سے یریحو کے راستہ میں جا رہا تھا کہ چند ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا۔ وہ اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اسکو بہت زیا دہ پیٹا بھی اس کی یہ حالت ہو ئی کہ وہ نیم مردہ ہو گیا وہ ڈاکو اسکو وہاں چھوڑ دیئے اور چلے گئے۔ 31 ایسا ہوا کہ ایک یہودی کا ہن اس راہ سے گزر رہا تھا وہ کاہن اس آدمی کو دیکھ نے کے با وجود اسکی کسی بھی قسم کی مدد کئے بغیر اپنے سفر پر آگے روانہ ہوا۔ 32 تب لاوی [d] اسی راہ پر سے گزر تے ہوئے اس کے قریب آیا۔ وہ بھی اس زخمی آدمی کی کچھ بغیر مدد کئے اپنے سفر پر آگے بڑھ گیا۔ 33 پھر ایسا ہوا کہ ایک سامری [e] جو اس راستے پر سفر کرتے ہو ئے اس جگہ پر آیا وہ راہ پر پڑے ہو ئے زخمی آدمی کو دیکھتے ہوئے بہت دکھی ہوا۔ 34 سامری نے اس کے قریب جا کر اسکے زخموں پر زیتون کا تیل اور مئے لگا کر کپڑے سے باندھ دیا۔ وہ سامری چونکہ ایک گدھے پر سواری کرتے ہوئے بذریعے سفر وہاں پہنچا تھا۔ اس نے زخمی آدمی کو اپنے گدھے پر بٹھا ئے ہوئے اس کو ایک سرائے میں لے گیا اور اسکا علاج کیا۔ 35 دوسرے دن اس سامری نے دو چاندی کے سکّے لئے اور اسکو سرائے والے کو دیکر کہا کہ اس زخمی آدمی کی دیکھ بھا ل کرنا اگر کچھ مزید اخراجات ہوں تو پھر جب میں دوبارہ آؤنگا تو تجھ کو ادا کرونگا۔” 36 یسوع نے اسکو پو چھا “ کہ ان تینوں آدمیوں میں سے کس نے ڈاکو کے ہاتھ میں پڑے آدمی کا پڑوسی ہو نا ثابت کیا ہے؟” 37 معلّم شریعت نے جواب دیا، “اسی آدمی نے جس نے اسکی مدد کی۔” تب یسوع نے کہا، “تب تو جاکر اپنے پڑوسیوں سے ایسا ہی کر۔” مریم اور مارتھا 38 یسوع اور انکے شاگرد سفر کرتے ہوئے ایک گاؤں آئے مارتھا نامی عورت نے یسوع کو اپنے گھر میں مدعو کیا۔ 39 اسکی مریم نامی ایک بہن تھی مریم یسوع کے قدموں کے قریب بیٹھکر ان کی تعلیم کو سنتی تھی۔ 40 لیکن اس کی بہن مارتھا مہمانوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتی تھی۔ گھر میں بہت سا کام کاج ہوتا تھا جس کی وجہ سے مارتھا غضب آلود ہوکر یسوع کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ “اے خداوند! میری بہن نے گھر کا سارا کام مجھ پر چھوڑ دیا ہے اس لئے میری مدد کر نے کے لئے اس سے کہو!” 41 لیکن خداوند نے جواب دیا “مارتھا ،مارتھا” تو بہت مصروف ہے اور کئی معاملات میں فکر مند ہے۔42 صرف ایک چیز ہی ضروری ہے اور مریم نے جو بہتر ہے وہ انتخاب کیا ہے اور اس سے وہ کبھی واپس نہ لیا جائیگا۔” Footnotes: a. لوقا 10:1 ۷۲لوگوں لوقا کے چند یونانی صحیفوں میں یہاں پر اسے “۷۰لوگ”بتایا گیا ہے- b. لوقا 10:27 اِقتِباس استثناء۵:۶ c. لوقا 10:27 اِقتِباس احبار۱۸:۱۹ d. لوقا 10:32 لاوی لاوی جماعت کا ایک آدمی- یہ خاندان ہیکل میں یہودیوں کا مدد گار ہوتا ہے ۔ e. لوقا 10:33 سامری سامریہ کے رہنے والے یہ یہودی گروہ کا ایک حصہ ہے لیکن یہودی ان کو خالص یہودی نہیں مانتے بلکہ نفرت کرتے ہیں- لوقا 11 دعا کے متعلق یسوع کا تعلیم دینا 11 ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ یسوع ایک جگہ دعا کر رہے تھے اور جب وہ دعا ختم کئے تو ان کے شاگردوں میں سے ایک نے کہا، “اے خداوند! یوحناّ اپنے شاگردوں کو دعا کر نے کا طریقہ سکھایا ہے برائے مہر بانی دعا کر نے کا طریقہ ہمیں بھی سکھا دے۔” 2 یسوع نے ان سے کہا، “تم اس طرح دعا کرواور کہو: اے باپ!تیرا نام ہمیشہ مقدس ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ تیری باد شاہت آئے۔ 3 ہمیں روز کی روٹی روز عطا کر۔ 4 ہما رے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم اپنے قرضدار کو معاف کر تے ہیں اور ہمیں آز ما ئشوں میں نہ ڈال۔” مسلسل دعا کرو 5-6 تب یسوع نے ان سے کہا یوں سمجھو، “تم میں سے ایک آدمی ہے کہ جو اپنے دوست کے گھر کو رات میں بہت تا خیر سے گیا وہ اپنے دوست سے کہتا ہے، “میرا ایک دوست مجھ سے ملنے کیلئے بہت دور سے میرے پاس آیا ہے لیکن اسے کھلا نے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے مہر بانی سے مجھے تین روٹیاں دے۔” 7 وہ دوست گھر کے اندر سے جواب دیتا ہے نکل جا اور مجھے تکلیف نہ دے اور دروازہ بند ہے! میں اور میرے بچے سو رہے ہیں میں اب اٹھ کر تجھے روٹی نہیں دے سکتا۔ 8 صرف اسکی دوستی ہی اس کو نہیں اٹھا سکتی اور نہ روٹی دے سکتی ہے لیکن اگر وہ مسلسل پو چھتا ہی رہے تو وہ اٹھ کر اپنے دوست کو یقیناً اس کے مطا لبہ کے مطا بق روٹی دے گا۔ 9 اس لئے میں تم سے کہتا ہوں مانگو تو ضرور تمہیں ملے گا۔ تلاش کرو اور تم پاؤگے۔کھٹکھٹا ؤ تب تمہا رے لئے دروازہ کھلے گا۔ 10 ہاں جو مسلسل مانگتا ہے پائے گا اگر ایک آدمی تلاش کر تا رہے تو پا ئیگا جو کھٹکھٹا تا ہے تو آ خر کار اس کے لئے دروا زہ کھول دیا جائیگا۔ 11 تم میں کتنے لوگ ہیں کہ جو باپ بنے ہیں اگر تمہا را کو ئی بچہ تم سے مچھلی مانگے تو کیا تم اس کو سانپ دو گے؟ ہر گز نہیں بلکہ تم مچھلی ہی دو گے۔ 12 اگر تمہا رابچہ تم سے انڈا پوچھے تو کیا تم اس کو بچھو دوگے ؟ ہر گز نہیں۔ 13 اگر تم دوسرے لوگوں کی طرح خراب اور برے ہو لیکن تم جانتے ہو کہ تمہا رے بچوں کو کس طرح اچھی اور عمدہ چیز یں دینا ہے ٹھیک اسی طرح تمہارا آسمانی باپ بھی مانگنے والوں کو روح القدس ضرور دیتا ہے۔” یسوع کی طاقت خدا کی طرف سے ہے 14 ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک گونگی بدروح سے ایک آدمی پر ہو ئے بد اثرات کو یسوع چھڑا رہے تھے وہ بد روح جب اس آدمی سے باہر آ گئی تو وہ آدمی باتیں کر نے لگا لوگ دیکھ کر حیران ہو گئے۔ 15 لیکن چند لوگوں نے کہا، “بدروح سے متاثرہ لوگوں کو یہ بعل زبول کی قوت سے چھڑا تا ہے اور بعل ز بول بدروح کا حا کم ہے۔” 16 کچھ لوگوں نے یسوع کو آ زمانے کے لئے کہا کہ خدا کی طرف سے کوئی نشا نی آسمان سے دکھا ؤ۔17 لیکن ان کے خیالات کو جان لینے والے یسوع نے ان سے کہا، “ہر باد شاہت تقسیم ہو جا ئے اور آپس میں لڑتی رہے تو وہ حکو مت تباہ و بر باد ہو جاتی ہے جو خا ندان میں تقسیم ہو جا ئے اور آپس میں جھگڑے ہوں وہ ٹوٹ جا تی ہے۔ 18 اسی طرح اگر شیطان بھی اپنے خلاف لڑا ئی کر ے تو ایسی صورت میں اس کی بادشا ہت کیسے آگے بڑھ سکتی ہے تم کہتے ہو کہ میں بد روحوں کا بعل زبول کی طاقت سے بدروحوں کو چھٹکا رہ دلا تا ہوں۔ 19 اگر میں بعل زبول کی طاقت سے بدروحوں کو چھڑا تا ہوں تو ایسی صورت میں تمہا رے لوگ بدروحوں کو کس قوت سے چھڑاتے ہیں؟ اس وجہ سے تمہا رے اپنے لوگ ہی تمہیں غلط ثا بت کرتے ہیں۔ 20 لیکن اگر میں بدروحوں کو خدا کی طاقت سے نکالتا ہوں تو یہ گواہی ہوگی کہ خدا کی بادشاہت تمہا رے پاس آئی ہے۔ 21 “ایک طاقتور مختلف قسم کے ہتھیاروں کے ذریعے مسلح ہو کر اگر وہ اپنے گھر کی حفا ظت کر تا ہے تو گھر کی چیزیں محفوظ رہتی ہیں۔ 22 لیکن اس سے بڑھ کر طاقت والا اگر کو ئی ا ور دوسرا آ جائے اور اس کو وہ شکست دے پہلا طاقتور اپنے گھر کو محفوظ رکھنے کیلئے وہ ہتھیار جن پر وہ منحصر تھا ان کو دوسرا ہی قوت والا اٹھا لے جا ئیگا تب دوسرا طاقتور اس آدمی کے سا مان کو مرضی کے مطا بق استعما ل کر ے گا۔ 23 “جو میرے ساتھ نہیں تو وہ میرے خلاف ہے میرے پاس جمع نہ کر نے والا منتشر کر نے والا ہو تا ہے۔ خا لی آدمی 24 “جب ایک بدروح کسی آدمی سے نکل آتی ہے تو وہ سوکھی جگہ میں گھو متی ہے اور آرام کے لئے جگہ تلاش کرتی ہے لیکن اسے آرام کر نے کیلئے کو ئی جگہ نہیں ملتی ہے۔اس وجہ سےروح کہتی ہے ، “میں جو جگہ چھوڑ آئی ہوں اسی جگہ میں واپس چلی جا ؤنگی۔” 25 جب وہ روح اس گھر کو پلٹ کر آنے کے بعد اس گھر کو بہت صاف سجا ہوا پاتی ہے۔ 26 تب وہ بدروح جا کر خود سے اور زیادہ خرا ب سات بدروحوں کو ساتھ لے کر آتی ہے اور وہ تمام بدروحیں اس آدمی میں داخل ہو کر اس میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ تب وہ آدمی کی حا لت پہلے کے مقابلے میں اور زیادہ خراب ہو جا تی ہے۔ حقیقی خوش نصیب لوگ 27 جب یسوع نے ان واقعات کو کہا تو وہاں کے لوگوں میں سے ایک عورت نے بلند آوا ز سے یسوع سے کہا، “تجھے پیدا کر کے اور تیری پر ورش کر نے والی تیری ماں ہی فضل والی ہو گی۔” 28 لیکن یسوع نے کہا، “لوگ جنہوں نے خدا کی تعلیما ت سن کر اس کے فرمانبر دار ہو نے والے لوگ ہی خوشی سے معمور ہونگے۔” ہمیں ثبوت دو 29 جیسے جیسے مجمع بڑھتا گیا یسوع نے ان سے کہا، “یہ نسل حقیقت میں ایک بری نسل ہے! وہ یہ معجزہ کو دیکھنا چاہتی ہے لیکن یو نس کی زند گی میں دیکھے گئے معجزہ کے سوا اس کو دوسری نشا نی نہیں ملتی۔ 30 نینوہ کے رہنے وا لے لوگوں میں یونس ایک نشان کے طور پر تھا ٹھیک اسی طرح مو جو دہ نسل کے لئے ابن آدم ایک نشا ن کے طور پر ہے۔ 31 قیامت کے دن جنو بی ملک کی ملکہ [a] اس نسل کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو گی اور وہ ثابت کرے گی کہ یہ قصور وار ہیں کیو نکہ وہ ملکہ بہت دور سے سلیمان کی تعلیمات کی باتیں سننے کے لئے یہاں آئی تھی۔ ایسے میں میں تم سے کہتا ہوں کہ میں سلیمان سے ز یادہ عظیم ہوں! 32 فیصلے (قیامت) کے دن نینوہ شہر کے لوگ اس نسل کے لوگوں کے مقا بل کھڑے ہو کر یہ ثابت کریں گے کہ وہ قصور وار ہیں کیوں کہ انہوں نے یونس کی تبلیغ کو سن کر اپنے گناہوں سے تائب ہوئے لیکن میں نبی یونس سے بھی ز یادہ عظیم ہوں۔ دنیا کے لئے روشنی بنو 33 “چراغ کو سلگا کر کسی برتن کے اندر یا کسی اور جگہ پر چھپا کر رکھا نہیں جاتا باہر آنے والوں کو روشنی نظر آنے کے لئے لوگ چراغ کو شمعدان پر رکھتے ہیں۔ 34 تیری آنکھ بدن کے لئے روشنی ہے اگر تیری آنکھیں اچھی ہوں تو تیرا سارا بدن بھی روشن ہو گا اور اگر تیری آنکھیں خراب ہوں تو تیرا بدن بھی اندھیرے میں ہوگا۔ 35 اس لئے ہوشیار رہ کہ تیرے اندر کی روشنی اندھیرے میں تبدیل نہ ہو نے پائے۔36 اور کہا کہ اگر تیرا پورا جسم روشنی سے بھر جائے اور کوئی حصہ تا ریک نہ رہے تو تو بھر پور روشنی کی ما نند ہوگا جیسے چراغ کی شعا عیں تجھے چمکا رہی ہوں۔” یسوع کا فریسیو ں پر تنقید کر نا 37 جب یسوع نے اپنی تقریر کو ختم کی تو ایک فریسی نے یسوع کو اپنے گھر پر کھا نا کھا نے کیلئے بلایا اسلئے یسوع اس کے گھر جا کر کھا نا کھا نے بیٹھ گئے۔ 38 اس نے یسوع کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ دھو ئے بغیر ہی کھا نا کھا نے بیٹھ گئے توفریسی کو تعجب ہوا۔ 39 خداوند نے اس سے جو کہا وہ یہ ہے کہ “تم فریسیو! تم تو برتن اور کٹورے کے اوپر کے حصہ کو تو صاف ستھرا رکھتے ہو جبکہ تمہارا باطن لا لچ اور برائیوں سے بھرا ہواہے۔ 40 تم بے وقوف ہو اسلئے کہ جس خدا نے تمہا رے ظا ہر کو بنایا ہے۔ وہی باطن کو بھی بنایا ہے۔ 41 اسی لئے بر تن اور کٹوروں کے اندر کی چیزیں غریبوں کو دیا کرو تب کہیں تم پوری طرح پاک ہو جا ؤگے۔ 42 اے فریسیو! افسوس ہے تم پر! کیوں کہ اپنے پاس کی تمام چیزوں میں سے دسواں حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہو تمہا رے باغ کی پیدا وار میں پو دینہ ، سداب جیسے چھو ٹے پو دوں والی فصل میں سے بھی دیتے ہو لیکن دوسروں کو انصاف بتا نے کے لئے اور خدا سے محبت کر نا بھلا بیٹھے ہو۔ پہلے تمہیں ان تمام باتوں کو کر نا ہے اور بچی ہوئی چیزوں کو نظر اندا ز کر نا ہے۔ 43 اے فریسیو! تم پر بڑا ہی افسوس ہے! کہ تم یہو دی عبادت گاہوں میں تو اعلیٰ واونچی نشستوں کے اور بازاروں میں لوگوں سے عزت کے خوا ہشمند ہوتے ہو۔ 44 افسوس ہے تم پر کہ تم تو بس ا ن پوشیدہ قبروں کی طرح ہو جس پر سے لوگ بغیر سمجھے ان پر سے گذرتے ہیں۔” یسو ع کا یہودی استاد سے بات چیت کر نا 45 کسی شریعت کے معلمین نے یسوع سے کہا، “اے استاد! جب تم یہ چیزیں فریسی کے متعلق کہتے ہو تو ہم پر تنقید بھی کر تے ہو۔” 46 اس پر یسوع نے جواب دیا ، “اے معلمین شریعت! تم پر افسوس ہے لوگوں کے لئے ایسے احکا مات کو لا زم کرتے ہو کہ جس پر عمل کرنا مشکل ہے اور ان احکامات کی بجا آوری کے لئے تم دوسروں پر ظلم کر تے ہو لیکن ان احکامات پر عمل کر نے کی تم کو شش بھی نہیں کرتے۔ 47 تم پر افسو س ہے! تم نبیوں کی قبریں تو بناتے ہو لیکن ان نبیوں کے قاتل تو تمہا رے باپ دادا ہی تھے۔ 48 اس طرح سے تم اپنے باپ داداؤں سے کئے گئے فعل کا اعترا ف کرتے ہو، انہو ں نے نبیوں کو قتل کیا اور اب تم ان نبیوں کی قبریں تعمیر کر رہے ہو۔ 49 اس لئے خدا کی حکمت یہ کہتی ہے کہ میں ان کے پاس نبیوں اور رسولوں کو بھیجونگا میرے چند نبی اور رسول ان لوگوں کے ذریعے قتل ہو نگے، اور دوسروں کو برا بھلا کہیں گے۔ 50 اس وجہ سے دنیا کے ابتدا ہی سے قتل کئے گئے تمام نبیوں کی موت کے لئے اس زما نے کے لوگوں کو سزا ملے گی۔ 51 ہا بیل اور زکریا کے قتل کی تمہیں سزا ملے گی۔ زکریا کو قربان گاہ اور ہیکل کے درمیان میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ہاں میں تم سے کہتا ہوں ان سب کے مار ڈالنے کے لئے اب جو زندہ ہیں ان کو سزا ملے گی۔ 52 “اے معلمین شریعت! تم پر افسوس ہے تم نے خدا کی معرفت کی کنجی کو چھپا ئے رکھا۔ تم کو سیکھنے کی خوا ہش نہ تھی دوسروں کے سیکھنے کے راستے میں رکاوٹ بنے۔” 53 یسوع جب وہاں سے نکلا تو معلمین شریعت اور فریسیوں نے اسے اور زیادہ تکلیف دینا شروع کیا۔ وہ اس سے مختلف سوالا ت پوچھتے ہوئے جرح کرتے تھے۔ 54 وہ چا ہتے تھے کہ یسوع کی کسی غلطی پر اسے پھانس لیں۔ Footnotes: a. لوقا 11:31 جنوبی ملک کی ملکہ یہ شبا کی ملکہ ہے – اس نےسلیمان بادشاہ سے خدا کے عقلمند کلمات سیکھنے کے لئے ۱۰۰۰ میل کا سفر کیا – ۱سلاطین۳-۱:۱۰ لوقا 12 فریسیوں جیسے نہ بنو 12 ہزاروں آدمی جمع تھے ایک دوسرے پر گرے جا رہے تھے لوگوں کو مخا طب کرنے سے پہلے یسوع نے اپنے شا گردوں سے کہا ، “فریسیوں کے خمیر سے ہو شیار رہنا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافق ہیں۔ 2 کوئی بھی چھپی ہو ئی چیز ایسی نہیں ہے جسے کہ ظا ہر نہ کیا جا ئیگا۔ ہر ایک پوشیدہ چیز ظا ہر ہو گی۔ 3 اور کہا کہ اندھیرے میں جو تمہاری کہی جانے والی باتیں روشنی میں کہی جا ئیں گی خفیہ کمروں میں تمہا ری کا نا پھو سی کی جا نے والی باتیں گھروں کے بالا خا نوں سے اعلان کیا جا ئے گا۔” صرف خدا سے ڈرو 4 تب یسوع نے لوگوں سے یوں کہا، “دوستو! میں تم سے جو کہنا چا ہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم لوگوں سے خوف مت کھا ؤ، وہ تمہیں جسما نی طور پر قتل تو کر سکتے ہیں لیکن اس کے بعد وہ تمہیں اور کچھ نقصان نہ پہنچا ئیں گے۔ 5 میں تمہیں بتا ؤنگا کہ تم کو کس سے ڈرنا چاہئے کہ تم اسی سے ڈرو جو تم کو قتل کر کے جہنم میں ڈالنے کا اختیار رکھتا ہے اور ہاں تم کو صرف اسی سے خوف کر نا چاہئے۔ 6 “پانچ چڑیاں صرف دو پیسے میں فروخت ہوتی ہیں، تو ان میں سے خدا ایک کو بھی نہیں بھولتا۔ 7 ہاں تمہارے سر میں کتنے بال ہو سکتے ہیں خدا کو وہ سب کچھ معلوم ہے۔ تم پریشان نہ ہو کہ تم کئی چڑ یوں سے زیادہ قدر وقیمت کے لا ئق ہو۔ یسوع کے بارے میں تم شر مندہ نہ ہو 8 “میں تم سے کہتا ہوں وہ یہ کہ کوئی بھی لوگوں کے سا منے یہ کہے کہ وہ مجھ میں ایمان رکھتا ہے تو میں بھی اس کو فرشتوں کے سامنے عز یز بتا ؤں گا۔ 9 اگر کو ئی شخص کسی دوسرے کے سامنے کہے کہ وہ میرا عزیز نہیں ہے تو میں بھی خدا کے فرشتوں کے سامنے اسکو اپنا عز یز نہیں بتا ؤں گا۔ 10 “کو ئی بھی ابن آدم کے خلاف باتیں کرے تو وہ معاف کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی روح القدس کے خلاف کہے تو وہ معاف نہیں کیا جا ئے گا۔ 11 “لوگ اگر تم کو یہودی عبادت گاہوں میں یا وہ حاکم وقت کے سا منے تمہیں کھینچ لے جا ئیں تو تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ تم کس طرح اپنا دفاع کروگے یا کیا کہو گے۔ 12 اس وقت تم کو کیا کہنا چاہئے ؟ اس کے بارے میں روح القدس تم ہی کو بتا ئے گا۔” خود غرض کے متعلق یسوع کا نصیحت کر نا 13 مجمع میں سے ایک آدمی نے یسوع سے کہا، “اے استاد میرا باپ حال ہی میں مر گیا ہے میرے باپ کی جائیداد میں مجھے میرا حق دینے کو میرے بھا ئی سے کہو۔” 14 لیکن یسوع نے اس سے پوچھا ، “تم سے کس نے کہا کہ میں منصف ہوں کہ تمہا ری یا وہ جا ئیداد جو تمہا رے باپ کی ہے کو دونوں میں تقسیم کروں ؟۔” 15 تب یسوع نے وہاں پر مو جود لوگوں سے کہا، “ہو شیار رہو تا کہ کسی بھی قسم کی خود غرضی کا تم شکار نہ بنو۔ اور کہا، “ایک شخص کے پاس بے حساب جائیداد ہو سکتی ہے لیکن اس سے وہ اپنی زندگی کو نہیں حا صل کر سکتا۔” 16 تب یسوع نے اس کہا نی کو بیان کیا: “ایک بہت ہی دولتمند آدمی تھا۔اور اس کی ایک بہت بڑی زمین تھی۔ایک مر تبہ اس کے ہاں بہت اچھی فصل ہو ئی۔ 17 تب وہ مالدار آدمی کہنے لگا میں کیا کروں ؟ میری فصل کے ذخیرہ کو رکھنے کے لئے کہیں بھی جگہ نہیں ہے۔ 18 تب اس نے اپنے آپ میں سوچا کہ کیا کرنا چا ہئے؟ میں اپنے گوداموں کو منہدم کروں گا، اور بڑے بڑے گودام تعمیر کروں گا! میں اپنے نئے گودا موں کو اچھی اچھی چیزوں کو اور گیہوں بھر کے ر کھو ں گا اس نے سوچا اور۔ 19 تب میں خود سے کہہ سکتا ہوں کہ کئی سالوں تک میری ضرورت کو پو را کر نے والا ذ خیرہ جمع رہے گا کھا ، پی اور اطمینان کی زندگی حا صل کر۔ 20 لیکن خدا نے اس سے کہا کہ تو تو کم عقل ہے! اس لئے کہ آج کی رات تو مرنے والا ہے۔اب کہہ کہ جن اشیاء کو تو جمع کر کے رکھا ہے اس کا کیا حشر ہو گا؟ اور وہ کس کے حوا لے ہوں گے؟۔ 21 “یہ اس آدمی کی قسمت ہے جو دولت خود کے لئے جمع کر تا ہے وہ خدا کی نظر میں مالدار نہیں ہو گا۔” خدا کی باد شاہت کو پہلے تر جیح 22 یسوع نے اپنے شاگردو ں سے یوں کہا، “اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ تمہا ری زندگی گذار نے کیلئے ضروری کھانا اور پہننے کے لئے ضروری کپڑوں کی تم فکر نہ کرو۔ 23 غذا سے زندگی بہت اہم ہو تی ہے اور کپڑوں سے بڑھکر جسم کی اہمیت ہو تی ہے۔ 24 تم پرندوں کو دیکھو! نہ وہ تخم ریزی کرتے ہیں نہ فصل کا ٹتے ہیں۔ وہ اپنی غذا کو نہ گھروں میں نہ گوداموں میں ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس کے با وجود خدا ان کی پرورش و دیکھ بھال کرتا ہے تم پرندوں سے زیادہ قدر وقیمت وا لے ہو؟ 25 تم کتنی ہی کو شش کیوں نہ کرو لیکن تمہا ری عمر میں اضا فہ ہو نے والا تو نہیں۔ 26 چھو ٹے کا موں کا کر نا تمہا رے لئے ممکن نہیں تو پھر بڑے کا موں کے لئے تم کیوں فکر مند ہو۔ 27 جنگل میں پھولوں کے کھلنے پر غور کرو کہ وہ محنت و مشقت نہیں کر تے۔ اور نہ خود کے لئے کپڑے سیتے ہیں۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں سلیمان بادشاہ اپنی ساری شان و شوکت کے ساتھ رہنے کے با وجود ان پھولوں میں سے کسی ایک پھول کی خوبصور تی کے برا بر بھی لباس زیب تن نہیں کیا۔ 28 خدا کھلے میدان کی گھا س کو اس طرح حسن کا لباس پہنا تا ہے جب کہ یہ گھاس آج رہ کر کل کو آگ میں جلے گی ایسی صورت میں خدا اس سے بڑھ کر تم کو کتنا پہنا ئیگا؟ اس لئے تم کمزور ایمان وا لے نہ بنو۔ 29 تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ کیا کھا ئیں گے ؟ اور کیا پئیں گے؟ اس قسم کی باتوں پر کبھی بھی فکر مند مت ہو اور نہ غور کرو۔ 30 ان چیزوں کے حصول کے لئے دنیا کے لوگ تو پوری کوشش کرتے ہیں تمہیں بھی ان چیزوں کی ضرورت ہے لیکن اس کا علم تمہا رے باپ کو ہے۔ 31 تم خدا کی بادشاہت کو پہلے ترجیح دو تب تمہیں اشیاء ملتی ہی رہیں گی۔ روپیہ پیسہ پر بھروسہ نہ کرو 32 “اے چھو ٹے گروہ گھبرا مت اسلئے کہ تمہا را باپ تو تم کو بادشاہت دینا چا ہتا ہے۔ 33 اپنی جائیداد کو بیچ دو، اور اس سے حا صل ہو نے والی رقم کو ان لوگوں میں بانٹ دو جو اس کے ضرورت مند ہیں اور اس دنیاکی دولت قائم نہیں رہتی اس وجہ سے ہمیشہ رہنے والی دولت کما ؤ۔ اور آسمان کے خزانے کا ذخیرہ کر لو جو ہمیشہ کے لئے مستقبل ہے اور اس خزانے کو چور بھی نہ چرا سکیں گے۔اور کوئی کیڑے بھی اس کو بر باد نہ کر سکیں گے۔ 34 “تمہا را خزانہ جہاں بھی ہو گا وہاں پرتمہارا دل بھی ہو گا۔ ہمیشہ تیار رہو 35 لباس زیب تن کر کے پوری طرح تیار رہو! اور تمہا رے چراغ کو جلا ئے رکھو۔ 36 شادی کی دعوت سے لوٹ کر آنے والے مالک کا انتظار کر نے والے خادموں کی طرح رہو جب ما لک آکر دروازہ کھٹکھٹا تے ہیں تو خادم اس کے لئے فوراً دروازہ کھو ل دیتا ہے۔ 37 وہ خادم بہت ہی خوش نصیب ہوگا کیوں کہ اس کامالک دیکھے گا کہ خادم تیار ہے اور ان کے لئے انتظار کر رہا ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تب مالک ہی خادموں کا لباس پہن کر خادم کو بٹھا دیتا ہے اور اس کے لئے کھا نا لگا دیتا ہے۔ 38 ا ن خادموں کو شاید کہ اپنے مالک کے لئے آدھی رات تک یااس سے زیادہ وقت تک انتظار کر نا پڑے۔ تب مالک آئیگا اور ان کو جاگتا ہوا پائیگا تو خود ان کو خوشی ہو گی۔ 39 یہ بات تمہا رے ذہن میں رہے: کہ اگر چور کے آنے کا وقت اگر مالک کو معلوم رہے تو کیا وہ اپنے گھر میں نقب زنی ہو نے دیگا ؟ 40 ٹھیک اسی طرح تم بھی تیار رہو! اس لئے کہ تمہارے غیر متو قع وقت میں ابن آدم آئے گا!” قابل بھروسہ خا دم کون 41 پطرس نے پوچھا، “خداوند تونے یہ کہا نی سنائی ہے کیا وہ صرف ہما رے لئے ہے یاتمام لوگوں کے لئے؟” 42 خداوند نے کہا، “عقلمند اور قابل بھروسہ مند خا دم کون ہے؟ وہی جسے مالک مقرر کرے مزدوروں کو وقت مقررہ پر غذا دے اور مالک کے گھر کی دیکھ بھا ل کرے۔ 43 اگر وہ خادم اپنی ذمہ داری کو پوری دلچسپی اور مستعدی کے ساتھ کرے اور جب مالک آئیگا تو اسے بہت خوشی ہوگی۔ 44 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مالک اس خادم کو اپنی پوری جائیداد پر نگراں کار مقرّر کرتا ہے۔ 45 لیکن اگر وہ خادم بری خصلت کا ہے اور یہ سمجھے کہ اس کا مالک جلد لوٹ کر نہ آئیگا تب کیا ہوگا ؟نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خادم ما لک کے دوسرے خادموں اور ملازموں کو مارنے پیٹنے لگے گا پھر کھا پی کر نشہ میں چور ہو نے لگے گا۔ 46 تب اس وقت اسکا مالک آجائیگا جس کی وہ امید نہ کریگا اور مالک اس کو سزا دیگا اور بے وفاؤں کی جگہ اس کو دھکیل دیگا۔ 47 وہ خادم “جو اپنے مالک کی خواہش جانتا ہے اور اس کے لئے تیار نہیں رہتا یا جیسا اسکا مالک چاہتا ہے ویسا نہیں کرتا تو اس خادم کو سزا ملیگی۔ 48 لیکن ایسا خادم جو اپنے مالک کی مرضی کو نہ سمجھا ہو تو اسکا کیا حشر ہوگا ؟وہ بھی ویسے ہی کام کریگا جس کی بناء پر وہ سزا کا مستحق ہو گا اس لئے اس کو غفلت میں رہنے والے خادم سے اسکو کم سزا ہو گی۔جبکہ زیادہ پانے والے سے زیادہ کی امید کی جاتی ہے۔اسکے مقابلے میں مزید پانے والے سے اور زیادہ کیا امید ہو سکتی ہے۔” یسوع کے بارے میں مختلف رائے 49 یسوع نے اپنی تقریر کو جا ری رکھا اور کہا میں اس دنیا کو آ گ لگا نے کے لئے آیا ہوں!اور میں چاہتا ہوں کہ آ گ جلتی ہی رہے۔ 50 مجھے ایک دوسری ہی قسم کا بپتسمہ لینا چاہئے اس بپتسمہ کو پا نے تک میں بہت ہی مصائب و آلام میں مبتلا تھا۔ 51 کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں دنیا کو چین و سکون دینے کے لئے آیا ہوں ؟ نہیں بلکہ میں دنیا میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ 52 آج سے جس گھر میں پانچ افراد ہوں ان میں اختلاف پیدا ہوگا۔اور ان میں سے تین دو کے مخالف ہو جائیں گے۔اور جو دو ہیں وہ تین کے مخالف رہیں گے۔ 53 باپ اور بیٹے میں اختلاف پیدا ہوگا۔ بیٹا اپنے باپ کا مخالف ہوگا اور باپ اپنے بیٹے کامخالف ہوگا۔ ماں اور بیٹی میں اختلاف پیدا ہو گا۔ بیٹی اپنی ماں کے خلاف ہوگی ماں اپنی بیٹی کے خلاف ہوگی۔ ساس اور بہو میں تفرقہ ہو گا۔ اور بہو اپنی ساس کے مخالف ہوگی۔ ساس اپنی بہو سے مخالف رہے گی۔” زمانے کے حالات پرغور کرو 54 تب یسوع نے لوگوں سے کہا، “جب تم دیکھو کہ ایک بڑا ابر مغرب کی سمت میں اٹھ رہا ہے اور تم اچانک کہو گے آج بارش ہو گی اسی طرح اس دن بارش ہو گی۔ 55 جنوبی سمت سے جب ہوا چلنے لگے تب کہو گے کہ آج بہت زیادہ گر می و حرارت ہوگی اور تم صحیح ہو۔ 56 تم تو منافق ہو!موسمی آب و ہوا کو تم جانتے ہو تو کیا موجو دہ حالات پر کیوں غور نہیں کر تے ؟ اپنے مسائل کو حل کرو 57 “تم خود ہی فیصلہ کیوں نہیں کر تے کہ کیا صحیح ہے ؟ 58 ایک آدمی کہ جو تمہارے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لئے عدالت جا نا چاہتا ہے تو ایسے میں تم ہی ممکنہ کو شش کرو کہ راستہ ہی میں مسئلہ حل ہو جا ئے۔ ورنہ وہ تم کو منصف کے سامنے کھینچ لا ئے گا اور منصف افسر کے حوالے کریگا اور وہ افسر تم کو قید میں ڈالے گا۔ 59 تیرے پورے قرض کے آخری حصّہ کو ادا کر نے تک قید سے چھٹکا رے کا کو ئی راستہ ہی نہ ہوگا!” لوقا 13 اپنے دلوں کو بدلو 13 اسی وقت چند لوگ یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ گلیل میں قربانی پیش کر نے والوں کو پیلا طس نے کس طرح عبادت کرنے والوں کو قتل کر وایا تھا اور قربان ہو ئے جانوروں کے خون کے ساتھ ان کا خو ن بھی ملا یا تھا۔ 2 یسوع نے جواب دیا “تم کیا سوچتے ہو کہ یہ گلیلی دوسرے سبھی گلیلیوں سے بد تر گنہگار تھے ، کیوں کہ انہیں یہ سب کچھ بھگتنا پڑا ؟ 3 نہیں وہ ایسے نہیں ہیں! بلکہ وہ ایسے گنہگار نہیں ہیں!لیکن اگر تم اپنے گناہوں پر توبہ کر کے خدا کی طرف متوجہ نہ ہو گے تو تم سب بھی تباہ و بر باد ہو جا ؤ گے! 4 شیلوخ مقام پر جب مینار گر گیا تھا تو اس میں مرنے والے ان اٹھا رہ آدمیوں کے بارے میں تمہا را کیا خیال ہے ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ یروشلم میں زندگی گزارنے والے ان تمام لو گوں سے بڑھکر گنہگار تھے ؟ 5 وہ ویسے گنہگار نہیں تھے۔لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم اپنے دلوں کو نہیں بدلو گے تو تم سب بھی تباہ و بر باد ہو جا ؤ گے۔” نفع نہ دینے والا درخت 6 یسوع نے یہ تمثیل بیان کی: “ایک شخص نے اپنے باغ میں ایک انجیر کا درخت لگا یا ایک دن وہ درخت کے پاس اس امید میں آیا کہ شاید درخت میں پھل لگے ہونگے۔لیکن اس نے درخت میں ایک پھل بھی نہ پا یا۔ 7 وہ اپنے باغ کی نگرانی کے لئے ایک باغ بان کو مقرّر کیا اس نے اپنے نو کر سے کہا کہ تین سال سے اس بات کا انتظار کر تا رہا کہ اس درخت میں پھل ہو نگے لیکن اب تک میں نے ایک بھی پھل نہیں پا یا۔ اس کو کاٹ ڈال!کہ یہ زمین کی قوت و صلاحیت کو کیوں ضائع کرے ؟” 8 لیکن اس نوکر نے کہا کہ اے خدا وند! مزید ایک سال صبر کے ساتھ انتظار کرو شاید کہ وہ پھلدار ہو گا اس کے اطراف کھود کر بہترین کھاد ڈالونگا۔ 9 تب کہیں اگلے سال یہ درخت شاید پھل دے اگر کسی وجہ سے یہ پھل نہ دے تو اس کو کاٹ ڈال۔” سبت کے دن ایک عورت کا یسوع سے شفاء پانا 10 سبت کے دن یسوع ایک یہودی عبادت گاہ میں تعلیم دے رہے تھے۔ 11 اس یہودی عبادت گاہ میں بد روح سے متاثر وہاں ایک عورت تھی۔ بد روح کے اثرات سے اٹھارہ برس سے اس عورت کی کمر جھکی ہو ئی تھی۔ اور سیدھے کھڑے رہنا انکے لئے ممکن نہ تھا۔ 12 یسوع نے اس عورت کو دیکھ کر اسے اپنے پاس بلا یا اور اس سے کہا ، “اے عورت! تیری بیماری تجھ سے دور ہو گئی ہے۔” 13 یسوع نے اس پر اپنے دونوں ہاتھو ں کو رکھے تو فوراً اس میں سیدھے کھڑی ہو نے کی طاقت آگئی۔اور اس نے خدا کی تعریف کرنا شروع کردی۔ 14 چونکہ یسوع سبت کے دن شفاء دیئے تھے اس لئے یہودی عبادت گاہ کا ایک سردار غصّہ ہوا اور لوگوں سے کہنے لگا ، “چھ دن ہفتہ میں جن میں کام کرنا چاہئے اس لئے ان ہی دنوں میں آکر شفاء پاؤ نہ کہ سبت کے دن۔” 15 اس پر خدا وند نے جواب دیا “تم لوگ منافق ہو اپنے ان بیلوں اور گدھوں کو کھول کر طویلہ سے ان کو پانی پلانے لے جا تے ہو سبت کے دن بھی تم حسب معمول وہی کر تے ہو۔ 16 میں نے جس عورت کو شفاء دی ہے وہ ایک یہودی بہن ہے شیطان گزشتہ اٹھا رہ سال سے اس کو اپنے قبضہ میں رکھا تھا اس وجہ سے اسکو سبت کے دن بیماری سے چھٹکا رہ دلانا کیا صحیح نہیں ہے؟” 17 جب یسو ع نے یہ کہا تو تمام لوگ جو اس پر انگشت نمائی کی تھی آپس میں شرمندہ ہوئے اور یسوع سے واقع ہو نے والے غیر معمولی عظیم کاموں پر لوگ خوش ہو ئے۔ خدا کی بادشاہت کس کے مشابہ ہے؟ 18 تب یسوع نے کہا ، “خدا کی بادشاہت کس کے مشابہ ہے؟ اور میں اسکا کس سے موازنہ کروں ؟ 19 خدا کی بادشاہت رائی کے دانے کی طرح ہے۔ کسی شحص نے اپنے باغ میں اس کے بیج کو بو دیا۔اور وہ نشو نما پا کر ایک درخت بنتا ہے۔اور پرندے اس کی ڈالیوں میں گھونسلے بنا تے ہیں۔” 20 یسوع نے دو بارہ کہا، “خدا کی بادشاہت کو میں کس سے موازنہ کروں۔ 21 یہ ایک خمیر کی مانند ہے جو ایک عورت روٹی بنا نے کے لئے بڑے برتن جس میں آٹا ہے ملا تی ہے اور وہ خمیر بھگو ئے ہوئے آٹے کو پھیلا تی ہے۔” تنگ دروازہ 22 یسوع ہر ایک گاؤں میں تعلیم دیتے ہو ئے یروشلم کی طرف سفر کئے۔ 23 ایک آدمی نے یسوع سے پو چھا، “اے خدا وند!کتنے آدمیوں کو نجات ہو گی؟ کیا کچھ ہی آدمیوں کی؟” 24 یسوع نے کہا ، “جنت کو جانے کے لئے تنگ دروازے سے داخل ہو نے کی کو شش کرو! کئی لوگ اس راستے سے جانے کی کو شش کر تے ہیں۔لیکن ان سے ممکن نہ ہو سکے گا۔ 25 گھر کا مالک اٹھ کر جب گھر کا دروازہ بند کرتا ہے تو تم گھر کے باہر کھڑے ہو کر صرف کہہ سکتے ہو کہ جناب ہمارے لئے دروازہ کھو لو تو وہ تمہیں جواب دیگا کہ تم کون ہو؟ میں تمہیں نہیں جانتا اور تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ 26 اس وقت تم کہنا شروع کرو گے کہ ہم نے تو تیرے روبرو کھایا پیا اور تو نے ہمارے بازاروں میں تعلیم دی۔ 27 تب وہ تم سے کہے گا کہ “تم کو ن ہو میں نہیں جانتا! اور تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟یہاں سے چلے جاؤ!تم تو گناہ کے کام کرنے والے لوگ ہو! 28 ابراہیم ، اسحاق ،یعقوب اور تمام نبیوں کو خدا کی بادشاہت میں تم دیکھو گے اور تم کو وہاں سے باہر کردیا جائیگا۔تب تم گھبرا کر غصّہ سے چیخ پکار کرو گے۔ 29 “لوگ مشرق ،مغرب ،شمال ، اور جنوب سے آئیں گے۔وہ خدا کی بادشاہت میں کھا نے کی دعوت پر بیٹھیں گے۔ 30 “خدا کی بادشاہت میں بعض وہ جو آخر والے ہو تے ہوئے بھی اولین والے ہو نگے اور بعض وہ کہ جو اولین والوں میں ہو تے ہو ئے بھی خدا کی بادشا ہت میں آخر والے ہو نگے۔” یسوع کا یروشلم میں انتقال ہو نا 31 اس وقت چند فریسی یسوع کے قریب آئے اور کہنے لگے ، “یہاں چھو ڑ کر کہیں اور چلا جا کیوں کے ہیرو دیس تجھے قتل کرنا چاہتا ہے!” 32 یسوع نے ان سے کہا، “تم جا کر اس لومڑی سے کہنا کہ آج اور کل میں لوگوں سے بد روحوں کو دور کرونگا اور بیماروں سے شفا بخشنے کا کام پو را کرونگا اور پرسوں میر ا کام مکمل ہو جا ئے گا۔”33 اس کے بعد مجھے جانا چاہئے اس لئے یہ سوچا نہیں جا سکتا کہ نبیوں کو یروشلم کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں انتقال ہو نا چاہئے۔ 34 “اے یروشلم اے یروشلم! تو وہ ہے جو نبیوں کو قتل کرتی ہے۔ خدا نے جن لوگوں کو تیرے پاس بھیجا ہے ان پر تو پتّھر بر ساکر مارڈالتی ہے جس طرح مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں تلے بٹھا لیتی ہے اسی طرح میں نے تیری مدد کرنے کے لئے کئی دفعہ چاہا۔ لیکن تم نے مجھے موقع ہی نہ دیا۔ 35 اس لئے تمہارے گھر خالی ہو جا ئیں گے۔ میں تمہیں بتا تا ہوں ،تم مجھے اس وقت تک پھر نہیں دیکھو گے جب وہ وقت نہ آجا ئے جب تم کہو گے مبارک ہے وہ جو خدا وند کے نام پر آرہا ہے۔” [a] Footnotes: a. لوقا 13:35 مبارک … ہے زبور ۲۶:۱۱۸ لوقا 14 کیا سبت کے دن شفاء دینا ٹھیک ہے؟ 14 سبت کے دن میں یسوع ایک اعلیٰ فریسی کے گھر میں کھا نا کھا نے چلے گئے وہاں پر مو جود تمام لوگ یسوع ہی کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ 2 یسوع کے سامنے انہوں نے ایک مریض کو لا یا جس کوجلندر [a] تھا۔ 3 یسوع نے فریسیوں اور معلمین شریعت سے پو چھا ، “سبت کے دن شفا ء دینا صیح ہے ؟ یا غلط ؟” 4 وہ کو ئی جواب دینے سے قاصر تھے۔ تب یسوع نے اس آدمی کا ہاتھ چھو کر شفاء دی اور اس کو بھیج دیا۔ 5 یسوع نے فریسیوں کے معلّمین شریعت سے پو چھا ، “تم جان تے ہو کہ اگر سبت کے دن تمہارا بیٹا ہو یا کہ تمہارا کو ئی جانور جن سے تم خدمت لیتے ہو کنویں میں گر جائے تو تم انکو خود ہی کنویں سے باہر نکال کر بچا تے ہو۔” 6 فریسی اور معلّم شریعت یسوع کی اس بات کا کو ئی جواب نہ دے سکے۔ تو اپنے آپ کو اہم نہ بنا 7 مہمان بن کے آنے والے چند لوگ کھانا کھانے کے لئے نمایاں اور عمدہ جگہ بیٹھے ہو ئے تھے ان لوگوں کے بارے میں یسوع نے یہ تمثیل پیش کی۔ 8 “اگر کسی نے تجھے شادی میں مدعو کیا تو تو اعلیٰ و ارفع جگہ پر نہ بیٹھ۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے اس نے تجھ سے زیادہ بڑے اور معزّز آدمی کو مدعو کیا ہوگا۔9 اگر تو کسی نمایاں جگہ پر بیٹھ گیا ہو تو میزبان آکر تجھ سے کہے گا کہ یہ جگہ فلاں آدمی کے لئے خالی کردو۔ تب تجھے محفل کی آخری جگہ میں بیٹھنا ہو گا جس سے احمق پن ظاہر ہو گا۔ 10 اس لئے اگر تجھے کو ئی آدمی مدعو کرے تو تجھے چاہئے کہ تو جاکر آخر میں بیٹھے۔ تب پھر میز بان آکر تجھ سے کہے گا کہ اے دوست اس اعلیٰ جگہ پر بیٹھ جا! تب تمام مہمان لوگ تیری عزت کریں گے۔11 ہر ایک جو اپنے آپ کو بڑا بنا نا چاہے گا وہ نیچا ہو جا ئیگا اور جو کو ئی اپنے آپ کو کمتر اور گھٹیا تصور کریگا تو اسے اونچا اور بڑا سمجھا جائیگا۔” تمہیں جزا ملے گی 12 تب یسوع نے مدعو کر نے والے فریسی سے کہا ، “جب تو دو پہر کے کھا نے یا رات کے کھا نے کی دعوت دے تو صرف اپنے دوستوں ، بھا ئیوں ، غریبوں ،عزیزوں اور مالداروں کو ہی مدعو نہ کر کیوں کہ وہ بھی تجھے دوسری مرتبہ کھا نے پر مدعو کریں گے اور وہ تیرا بدلہ ہو جا ئیگا۔ 13 اس کے بجائے جو تو کھا نے کی دعوت دے تو غریبوں ، لنگڑوں اور اندھوں کو مدعو کر۔ 14 تب تجھے خیر و برکت حاصل ہو گی کیوں کہ وہ لو گ تجھے اپنی دعوت میں بلا کر بدلہ چکا نے کے قابل نہ ہونگے۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن خدا تم کو اسکا اجر دیگا اس وقت جب نیک لوگ موت سے جی اٹھیں گے۔” محفل ضیافت کی کہانی 15 یسوع کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے ان تفصیلات کو سنکر کہا، “خدا کی بادشاہت میں کھانا کھانے والے ہی با فضل ہیں۔ 16 تب یسوع نے اس سے کہا کہ کسی نے کھانے کی ایک بہت بڑی دعوت کی اس آدمی نے بے شمار لوگوں کو مدعو کیا۔ 17 جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو اس نے اپنے خادم کو بھجواکر مہمانوں کو اطلاع دی اور کہا کہ کھانا تیّار ہے۔ 18 لیکن تمام مہمانوں نے کہا کہ وہ نہیں آسکتے ان میں سے ہر ایک نے نیا بہا نہ تلا شا۔ ان میں سے ایک نے کہا ، “میں نے ابھی ایک کھیت کو خرید لیا ہے۔ اسلئے مجھے جا کر دیکھنا ہے مجھے معاف کر دیں۔ 19 دوسرے نے کہا، “میں نے ابھی پانچ جوڑی بیل خریدا ہے اور مجھے جا کر انکو دیکھنا ہے۔ برائے کرم مجھے معاف کریں۔ 20 تیسرے نے کہا، “میں نے ابھی شادی کی ہے اس لئے میں نہیں آسکتا۔ 21 تب وہ نو کر واپس ہوا اور اپنے مالک سے تمام چیزیں بیان کر نے لگا پھر اسکا مالک بہت غضب ناک ہوا اور نوکر سے کہا، “راستوں ، میں گلیوں اور کوچوں میں جا کر غریبوں کو اور معذوروں کو اندھوں کو لنگڑوں کو یہاں بلا کر لے آؤ۔ 22 تب اس نو کر نے آکر کہا کہ اے میرے خداوند! میں نے وہی کیا جیسا کہ تم نے کہا تھا لیکن ابھی اور بھی لوگوں کی جگہ کی گنجائش ہے۔ 23 تب اس مالک نے اپنے نوکر سے کہا کہ شاہراہوں پر اور دیگر راستوں پر چلا جا اور وہاں کے رہنے والے تمام لوگوں کو بلا لا اور میری یہ آرزو ہے کہ میرا گھر لوگوں سے بھر جا ئے۔ 24 لیکن میں تجھ سے کہتا ہوں کہ میں نے پہلی مرتبہ جن لوگوں کو کھا نے پر مدعو کیا تھا ان میں سے کو ئی ایک بھی میری دعوت میں کھانا چکھ نے نہ پا ئے گا۔ منصوبہ بندی کی ضرورت 25 لوگوں کی ایک بھیڑ یسوع کے ساتھ گروہ در گروہ ہو کر چل رہی تھی وہ مڑے اور ان سے اس طرح کہنے لگے۔ 26 “اگر کوئی جو میرے پاس آئے اور میری محبت سے زیادہ اپنے ماں باپ بیوی بچوں بھا ئیوں بہنوں اور اپنے آپ سے محبت کرنے والے کے لئے ممکن نہیں کہ وہ میرا شاگرد بنے۔ 27 جو میری پیروی نہ کرے اور اسے دی گئی صلیب کو اٹھا ئے نہ پھرے وہ میرا شاگرد نہ ہو سکے گا۔ 28 اگر تو ایک عمارت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے تو پہلے تجھے چاہئے کہ اس پر کیاخرچ آئیگا غور کر۔ اور حساب لگا کہ اس عمارت کی تعمیر کے لئے کیا میرے پاس وافر مقدار میں پیسہ ہے یا نہیں۔ 29 اگر تو ایسا نہ کرے اور ہو سکتا ہے کہ عمارت کی تعمیر شروع کردے۔ لیکن اسکی تعمیر پوری نہ کر سکے گا اور لوگ تجھے دیکھکر مذاق اڑاتے ہو ئے کہیں گے۔ 30 اس نے تعمیر کا کام شروع کردیا لیکن کام کی تکمیل اس سے ہو نہ سکی۔” 31 “ایک بادشاہ جب دوسرے بادشاہ کے خلاف لڑنے کے لئے جاتا ہے وہ ایک منصوبہ بنا تا ہے اور اگر بادشاہ کے پاس صرف دس ہزار فوج ہو تو دوسرا بادشاہ جن کے پاس بیس ہزار فوج ہو تو وہ غور کریگا کہ کیا وہ اس کو شکشت دے سکے گا ؟ 32 اور اگر وہ دوسرے بادشاہ کو شکشت نہیں دے سکتا تو وہ اپنے سفیر کو بھیج کر اس سے امن معاہدہ کی گزارش کریگا۔ 33 ٹھیک اسی طرح تم کو بھی پہلے تدبیر کرنا چاہئے اور اگر تم چاہتے ہو کہ میری پیروی کرو تو پہلے تم کو تمہارے پاس کی ہر چیز کو چھوڑنا ہو گا ورنہ میرے شاگرد نہیں ہو سکتے۔ تم اپنے اثر و رسوخ کو ضائع نہ کرو 34 “نمک ایک اچھی چیز ہے لیکن اگر نمک اپنا ذائقہ کھو دے تو اسکی کو ئی قیمت نہ ہو گی تم اسکو دوبارہ نمکین بنا نہیں سکتے۔ 35 تو ایسی صورت میں اس سے مٹی کو یا کھاد کو کو ئی فائدہ نہ ہو گا لوگ اسکو باہر پھینک دیتے ہیں۔ “تم لوگ جو میری باتوں کو سنتے ہو غور فکر کرو!” Footnotes: a. لوقا 14:2 جلندر ایسا مرض جس کے پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے ۔ لوقا 15 آسمان میں خوشی 15 کئی ایک محصول وصول کر نے والے اور گنہگار یسوع کے اطراف اس کی تعلیمات کو سننے کے لئے جمع ہو ئے تھے۔ 2 تب فریسی اور معلّمین شریعت نے اس بات کی شکایت کر نی شروع کی “دیکھو یہ آ دمی گنہگاروں کو بلاتا ہے اور انکے ساتھ کھانا کھا تا ہے۔” 3 اس وقت یسوع نے ان سے یہ تمثیل بیان کی: 4 “فرض کرو کہ ایک آدمی کے پاس سو بکریاں ہیں اگر ان میں سے ایک بکری کھو جا ئے تو وہ ان ننانوے بکریوں کو چھوڑ کر ایک بکری کی خاطر ڈھونڈتا پھریگا اور اس بکری کے ملنے تک وہ اسکو تلاش ہی کرتا رہیگا۔ 5 جب اسے وہ بکری نظر آئیگی تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہے گی اور وہ اس بکری کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھر لے جائیگا۔ 6 تب وہ اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو بلاکر کہے گا کہ میرے ساتھ خوش ہو جاؤ کیوں کہ میری کھوئی ہوئی بکری پھر سے مجھے مل گئی۔ 7 اسی طرح میں کہتا ہوں اگر ایک گنہگار اپنے دل میں تبدیلی لاتا ہے۔تو اس کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہو گی ننانوے راستبازوں کی نسبت جو تو بہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک تو بہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہو تی ہے۔ 8 “فرض کرو کہ ایک عورت کے پاس دس چاندی کے سّکے ہیں۔اور وہ عورت ا ُ ن میں سے ایک سکّہ کھو دیتی ہے تو وہ چراغ لائے گی اور گھر کی صفائی کریگی وہ سکّہ ملنے تک اس کو بڑی احتیاط سے ڈھونڈے گی۔ 9 وہ جب گمشدہ سکّہ کو پا تی ہے تو وہ اپنے عزیزوں اور پڑوسیوں سے کہتی ہے تم سب میرے ساتھ خوش ہو جاؤ کیوں کہ میرا کھویا ہوا سکّہ پھر مل گیا ہے۔ 10 اسی طرح ایک گنہگار اپنے دل و دماغ میں تبدیلی لا تا ہے اور تو بہ کر کے خدا کی طرف رجوع ہو تا ہے تو فرشتوں کے سامنے خوشی ہو گی۔” گھر چھوڑ کر جا نے والا بیٹا 11 تب یسوع نے کہا ، “ایک آدمی کے دو لڑ کے تھے۔ 12 چھوٹے بیٹے نے اپنے باپ سے پو چھا کہ تیری جائیداد میں سے مجھے ملنے وا لا حصّہ دیدے تب باپ نے اپنی جائیداد دونوں لڑکوں میں بانٹ دی۔ 13 چھوٹا بیٹا اپنے حصّہ میں ملنے والی تمام چیزوں کو جمع کیا اور دور کے ملک کو سفر پر چلا اور وہاں پر وہ بے جا اسراف کر کے بیوقوف بن گیا۔ 14 تب اس ملک میں قحط پڑا اور وہاں برسات نہ ہو ئی اس ملک کے کسی حصہ میں بھی اناج نہ رہا وہ بہت بھو کا تھا اور اسے پیسوں کی شدید ضرورت تھی۔15 اس وجہ سے وہ اس ملک کے ایک شہری کے پاس مزدوری کے کام پر لگ گیا وہ آدمی اس کو سؤ روں کے چرانے کے لئے اپنے کھیت کو بھیج دیا۔ 16 اس وقت وہ بہت بھوکا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ سؤ روں کے کھا نے کے پھلوں کو ہی کھا نے کی خواہش کی مگر اسے کو ئی نہ دیتا تھا۔ 17 تب اسے اپنی کم عقلی کے کاموں کا احساس ہوا۔ اور اپنے آپ سے کہنے لگا کہ میرے باپ کے پاس کام کرنے والے نوکروں کو وافر مقدار میں اناج ملتا ہے جبکہ میں خود یہاں کھانا نہ ملنے پر بھوکا مر رہا ہوں۔ 18 میں یہاں سے اپنے باپ کے پاس چلا جاؤں گا اور اپنے باپ سے کہونگا کہ اے باپ میں خدا کے خلاف اور تیرے خلاف بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں۔ 19 میں تیرا بیٹا کہلوانے کا مستحق نہیں ہوں اور تو مجھے اپنے نوکروں میں ایک نوکر کی حیثیت سے شامل کر لے۔ 20 ایسے میں وہ نکل کر اپنے باپ کے پاس چلا گیا۔ چھوٹابیٹا واپس لوٹ آیا “بیٹا ابھی بہت دور ہی تھا کہ باپ نے اسے دیکھا اس کے دل میں شفقت پیدا ہو ئی وہ قریب دوڑتے ہو ئے آیا اور اسے گلے لگایا اور پیار کیا۔ 21 بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ اے باپ! میں نے خدا کے خلاف اور تمہارے خلاف غلطی کی ہے اور میں تیرا بیٹا کہلا نے کا مستحق نہیں ہوں۔ 22 لیکن باپ نے اپنے ملازموں سے کہا کہ جلدی کرو!عمدہ قسم کے ملبوسات لا کر اسے پہناؤ۔ اور اسکی انگلی میں انگوٹھی پہناؤ اور اس کے پیرو ں میں جو تے پہناؤ۔ 23 فربہ بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم دعوت اور خوشیاں منا ئیں گے۔ 24 میرا بیٹا تو مر گیا تھا اور اب پھر دو بارہ زندہ ہوا ہے! یہ گم ہو گیا تھا اب دوبارہ مل گیا ہے اس وجہ سے اب وہ خوشیاں منا نے لگے۔” بڑا بیٹا آیا 25 “بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ واپس لوٹ رہا تھا اور گھر کے قریب آیا تو گا نے بجانے اور ناچ کی آواز کو سنی۔ 26 اس وجہ سے وہ اپنے نوکروں میں سے ایک کو بلا یا اور پوچھا کہ یہ سب کیا ہے ؟27 اس نو کر نے کہا کہ تیرا بھا ئی لوٹ کر آیا ہے اور تیرا باپ فر بہ بچھڑے کو ذبح کرا یا ہے۔ تیرا بھا ئی خیر و عافیت سے واپس لوٹنے کی وجہ سے تیرا باپ بہت خوش ہوا ہے! 28 بڑا بیٹا غصہ میں آکر دعوت کی محفل میں نہیں گیا تب اس کا باپ باہر آکر اس کو سمجھا نے لگا۔29 بڑا بیٹا باپ سے کہنے لگا میں ایک غلام کی طرح کئی سا لوں سے تیری خدمت کرتا رہا اور میں ہمیشہ تیرے احکا مات کی فرمانبر داری کی لیکن تو نے میری خا طر کبھی ایک بکری بھی ذبح نہ کی۔ مجھے اور میرے دوستوں کے لئے تو نے کبھی ایک کھانے کی دعوت کا اہتمام نہ کیا۔ 30 لیکن تیرا چھو ٹا بیٹا تیرےسارے سرمایہ کو فا حشاؤں پر صرف کیا اور جب وہ گھر واپس لوٹا تو تو نے اس کے لئے ایک فربہ بچھڑے کو ذبح کرا یا۔ 31 لیکن باپ نے اس سے کہا ، “بیٹا! تو ہمیشہ میرے ساتھ ر ہا ہے اسلئے میراجو کچھ بھی ہے وہ سب تیرا ہی ہے۔ 32 ہم کو بہت خوش ہو نا چاہئے اور مسرت سے سرشار ہو نا چاہئے اس لئے کہ تیرا بھا ئی انتقال ہو گیا تھا اور اب پھر دوبارہ زندہ ہو کر آیا ہے اور کہا کہ وہ کھو گیا تھا اب دستیاب ہوا ہے۔” لوقا 16 حقیقی دولت 16 یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “کسی زمانے میں ایک دولت مند آدمی تھا اس مالدار آدمی نے اپنی تجارت کی دیکھ بھال کے لئے ایک نگراں کا ر مقر ر کیا کچھ عرصے بعد اس مالدار کو شکایتیں ملیں کہ نگراں کار اسکی جائیداد کو ضائع کر رہا ہے۔ 2 تب اس نے اس نگراں کار کو بلایا اور کہا کہ تیرے متعلق میں نے بہت ساری شکایتیں سنی ہیں میری دولت کو تو نے کس مصرف میں خرچ کیا ہے ؟میرے پاس تفصیلی رپورٹ پیش کر۔اور اس کے بعد سے تو میری تجارت میں بحیثیت نگراں کار مقرر نہ رہ سکے گا۔ 3 تب وہ نگراں کار اپنے آپ سے کہنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے ؟کیوں کہ میرا مالک مجھے اس خدمت سے سبکدوش کر رہا ہے! یہاں تک کہ گڑھا کھودنے کی بھی مجھ میں طاقت نہیں اور خیرات مانگنے میں مجھے شرم آتی ہے۔ 4 اب مجھے کیا کرنا چاہئے وہ مجھے معلوم ہے!میں کام سے نکل جانے کے بعد ایسا کام کرونگا کہ لوگ مجھے اپنے گھروں میں بلائیں گے۔ 5 پس وہ نگراں کار نے اپنے مالک کے قرض داروں میں سے ہر ایک کو بلایا اس نے پہلے قرضدار سے پو چھا کہ تجھ پر میرے مالک کا کتنا قرض واجب ا لاداء ہے ؟ 6 اس نے کہا چار ہزا ر کلو گرام زیتون کا تیل۔اس نے اس سے کہا اپنی دستاویز لے اور جلد بیٹھ کر دوہزار کلو گرام لکھ دے۔ 7 پھر دوسرے سے کہا تجھ پر کیا آتا ہے ؟ اُس نے کہا تیس ہزار کلو گرام گیہوں۔اس نے اس سے کہا اپنی دستا ویز لیکر پچیس ہزار کلو گرام لکھدے۔ 8 تب مالک نے اس دھو کہ باز نگراں کار سے کہا کہ تو تو عقلمندی سے کام لیا ہے ہاں اس دنیا کے لوگ تو کاروبار میں روحانی لوگوں سے بڑھکر ہوشیار ہو تے ہیں۔ 9 اس لئے میں کہتا ہوں “اس دنیا کی زندگی میں تم جن چیزوں کو پا ئے ہو انکا استعمال اپنے لئے دوست حاصل کر نے کے لئے کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے اور دنیا کی یہ چیزیں جب تمہارا ساتھ چھوڑ دیگی تب ہمیشہ دائم و قا ئم رہنے وا لا گھر تمہیں قبول کریگا۔ 10 جس کا تھو ڑے اور کم پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے تو اس کا بہت زیادہ پر بھی بھروسہ کیا جا سکتا ہے جو تھو ڑا ملنے پر بد دیا نت ہو سکتا ہے تو وہ بہت ملنے پر بھی وہ بد دیا نت بن سکتا ہے۔ 11 دنیا کے مال و متاع میں تم قابل بھرو سہ مند بن نہیں سکتے تو حقیقی دو لت میں تم کس طرح بھرو سہ مند بن سکو گے ؟ 12 تم اگر کسی کی امانت میں اپنے آپکو قابل بھرو سہ نہ ثابت کرو گے تو تمہاری امانت بھی تمکو کو ئی نہ لو ٹا ئیگا۔ 13 “کو ئی نوکر بیک وقت دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا وہ کسی ایک کی مخالفت کر کے دوسرے سے محبت کریگا یا کسی ایک کا کام کرکے دوسرے کا انکار کریگا ایسے میں تم ایک ہی وقت میں خدا کی اور دولت کی خدمت نہ کرسکو گے۔” خدا کی شریعت کبھی نہیں بدلتی 14 فریسی ان تمام واقعات کو سن رہے تھے۔ چو نکہ فریسی دولت سے محبت رکھتے تھے اس وجہ سے وہ یسوع پر تنقید کرنے لگے۔ 15 یسوع نے فریسیوں سے کہا تم لوگوں میں اپنے آپکو اچھے اور شریف کہلوانا چاہتے ہو۔ حالانکہ تمہارے دلوں کی بات کو تو صرف خدا ہی جانتا ہے انسانی نظر میں جو چیزیں قیمتی ہیں وہ خدا کی نظر میں بے قیمت ہیں۔ 16 یہ خدا کی مرضی تھی کہ مو سٰی کی شریعت کے مطابق اور نبیوں کے صحیفوں کی روشنی میں لو گ اپنی زندگی گزاریں۔ بپتسمہ دینے والا یو حنا جب سے آیا ہے اس وقت سے خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے۔ کئی لوگ خدا کی بادشاہت میں داخل ہو نے کے لئے بڑی ہی کو شش کر رہے ہیں۔17 زمین و آسمان کا ٹل جانا ممکن ہو سکتا ہے لیکن مذہبی شریعت سے ایک چھوٹے سے نقطے کا بدلنا بھی ممکن نہیں ہو سکتا۔ طلاق اور دوسری شادی 18 “جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور دوسری عورت سے شادی کرتا ہے تو وہ زنا کا مجرم ہے۔ اور مطلقہ عورت سے شادی کر نے والا بھی گویا زنا کر نے والا ہو تا ہے۔” ایک دولت مند آدمی اور لعزر 19 یسوع نے کہا ، “ایک مالدار آدمی تھا۔ وہ بہترین لباس زیب تن کیا کرتا تھا۔ چونکہ وہ بہت مالدار تھا اس وجہ سے وہ ہر روز شان و شوکت کے ساتھ دعوتیں کرتا۔ 20 وہاں پر لعزر نام کا ایک غریب آدمی بھی رہتا تھا۔ اس کے تمام بدن پر پھوڑے پھنسیاں تھے اور وہ ہمیشہ اس مالدار آدمی کے گھر کے صدر دروازہ کے باہر پڑا رہتا تھا۔ 21 مالدار آدمی جب کھا نے سے فارغ ہو تا تو اسی کے بچے ہو ئے ٹکڑے جو پھینک دیتا تو اس سے لعزر اپنی بھو ک مٹا تا تھا۔ تب ایسا ہوا کہ کتے آتے اور اسکی پھنسیوں کو چاٹ جا تے تھے۔ 22 کچھ عرصہ بعد لعزر مر گیا۔ فرشتہ لعزر کو اٹھا کر ابرا ہیم کی گود میں ڈال دیا ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ مالدار بھی مر گیا اور اس کو قبر میں دفن کر دیا گیا۔ 23 لیکن وہ عالم ارواح میں تکالیف اٹھا تے ہو ئے بہت دور پر لعزر کو ابراہیم کی گود میں پڑا دیکھا۔ 24 وہ پکارا اے میرے باپ ابرا ہیم مجھ پر رحم فرما اور لعزر کو میرے پاس بھیج دے اور گزارش کی کہ وہ اپنی انگلی پانی میں بھگوکر میری زبان کو تر کر دے کیوں کہ میں آگ میں تکلیف اٹھا رہا ہوں! 25 “تب ابراہیم نے جواب دیا کہ بیٹے یاد کر تو جب زندہ تھا وہاں پر تجھے ہر قسم کا آرام تھا۔ لیکن لعزر تو بیچارہ مصائب کی زندگی میں تھا۔ اب تو وہ سکھ اور چین سے ہے اور جب کہ تو تکالیف میں گھِرا ہے۔26 اس کے علا وہ تیرے اور ہمارے درمیان بڑا گہرا تعلق ہے وہاں پر پہنچ کر تیری مدد کر نا کسی سے بھی ممکن نہیں ہے کسی سے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہاں سے آئے۔ 27 مالدار نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو مہربانی کر کے لعزر کو دنیا میں واقع میرے باپ کے گھر بھیج دے۔ 28 کیونکہ میرے پانچ بھا ئی ہیں۔ لعزر انہیں آگاہ کریگا کہ وہ اس ایذا رسائی اور عذاب کی جگہ پر نہ آئیں۔ 29 ابراہیم نے کہا کہ موسٰی کی شریعت اور نبیوں کے صحیفے انکے پاس ہیں انکو پڑھکر انہیں سمجھنے دو۔ 30 تب مالدار نے کہا اے میرے باپ ابراہیم تو اس طرح نہ کہہ اگر کو ئی مرے ہوئے آدمیوں میں سے دو بارہ جی اٹھے تو وہ اپنی زندگیوں میں اپنے دلوں میں ایک تبدیلی لا ئیں گے۔ 31 پھر ابرا ہیم نے اس سے دو بارہ کہا “نہیں! تمہارے بھا ئی نےموسٰی کی اور نبیوں کی نہیں سنی۔ تو وہ مر دوں میں دو بارہ جی اٹھنے والے کی بات پر کبھی بھی تو بہ نہ کریں گے۔” لوقا 17 گناہوں میں ملوث مت رہو اور معاف کر نے کے لئے تیار رہو 17 یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “لوگوں کو گنا ہوں میں ملوث کر نے کے بہت سے واقعات تو پیش آئیں گے لیکن افسوس کون ان چیزوں کا سبب ہو گا۔ 2 وہ شخص کہ جوان کمزوروں کو گناہوں کی راہوں پر لے جاتا ہے وہ اپنے گلے میں ایک بڑے پتھر کو باندھ لے اور سمندر میں ڈوب جا ئے۔ 3 اس لئے ہوشیار رہو! اگر تیرا بھا ئی گناہ کا کام کرے اس کو ڈانٹ دو اگر اتفاق سے اپنے گناہوں پر نادم ہو تو اسے معاف کر۔4 اور کہا کہ اگر تیرا بھائی تیرے ساتھ دن میں سات بار بھی غلطی کرے اور تجھ سے ہر مرتبہ آ کے کہے کہ معاف کر توتجھے اسے معاف کر نا چا ہئے۔” تمہارا ایمان کتنا بڑا ہے ؟ 5 رسولوں نے خداوند سے کہا ، “ہمارے ایمان میں اضافہ کر۔” 6 خداوند نے ان سے کہا ، “اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برا بر بھی ہو تا تو تم شہتو ت کے درخت سے کہتے کہ یہاں سے اکھڑ کر جا اور سمندر میں گر جا تو بھی تمہارا فرمانبر دار ہو تا۔” اچھے خادم بنو 7 “یہ سمجھو کہ تمہا رے پاس کھیت میں کام کر نے کے لئے ایک نوکر ہے کہ جو زمین میں ہل جو تتا ہے یا بکریوں کو چراتاہے وہ نو کر کھیت میں کام ختم کر کے جب گھر لوٹتا ہے تو اس سے تو کیا کہے گا ؟اندر آؤ! اور کھا نے کے لئے بیٹھ جا ؟۔ 8 کبھی نہیں! تو اس سے کہے گا کہ میرے لئے شام کا کھانا پکا اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر آؤ اور میرے لئے کھا نا چن دے اور میرے کھا نے پینے کے بعد تو بھی کھا نا کھا لے۔ 9 وہ نو کر جس نے اپنی خدمت انجام دی ہے اس کے لئے تجھے اس کا کوئی خصوصی شکریہ ادا کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں کیوں کہ نو کر ہو تا ہی ہے تا کہ وہ اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کرے۔ 10 بس یہی حکم تم پر بھی لا گو ہو تا ہے کہ تمہا رے سپرد کئے گئے کا موں کو تم پورا کرو اور کہو کہ ہم تو صرف نو کر ہیں اور ہما رے فرض کو ہم نے انجام دیا ہے۔” شکر گذار بنو 11 یسوع یروشلم سے سفر کرتے ہوئے گلیل سے سامریہ کو چلے گئے۔ 12 وہاں وہ ایک گاؤں میں پہنچے۔ وہاں پر دس آدمی اس سے ملے اور وہ یسوع کے قریب نہ آئے کیوں کہ وہ سب کوڑھی تھے۔ 13 “وہ یسوع کو بلند آواز سے پکا ر نے لگے اور کہنے لگے کہ “خداوند مہر بانی کر کے ہماری مدد فرما۔” 14 یسوع نے ان کو دیکھا اور کہا، “جاؤ اور تم اپنے کاہنوں کو دکھا ؤ۔”جب وہ دس آدمی کا ہنوں کے پاس جا رہے تھے تب ان کو شفاء ہوئی۔ 15 پھر ان میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ میں شفاء پاگیا یسوع کے پاس لوٹ کر آیا اور بُلند آواز میں خدا کی تعریف کی۔ 16 وہ یسوع کے قدموں میں جھک گیا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔ 17 یسوع نے پوچھا ،” دس آدمیوں کو شفاء ہو ئی! دوسرے نو کہاں ہیں؟۔ 18 پھر پوچھا خدا کا شکر ادا کر نے کے لئے اس سامری کے علا وہ کو ئی دوسرا نہیں آیا؟۔” 19 تب یسوع نے اس سے کہا “اٹھ اور اب تو گھر چلا جا! اور کہا کہ چونکہ تو نے ایمان لا یاجسکی وجہ سے تجھے شفاء ہوئی۔” خدا کی بادشاہت تمہا رے اندر ہے 20 فریسیوں میں سے بعض نے یسوع سے پوچھا ، “خدا کی بادشاہت کب آئے گی؟” یسوع نے جواب دیا، “خدا کی بادشاہت تو آئے گی لیکن وہ اس طرح آئے گی تمہا ری آنکھوں کو نظر نہ آئیگی۔ 21 لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ دیکھو! خدا کی باد شاہت یہاں ہے! وہ تو وہاں ہے! خدا کی باد شاہت تمہا رے ہی اندر ہے۔” 22 تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “تمہا رے لئے وہ دن آئے گا کہ جب ابن آدم کے دنوں میں سے ایک دن کے دیکھنے کی خواہش کرو گے لیکن تم اس کو دیکھ نہ سکو گے۔ 23 لوگ تم سے کہیں گے کہ دیکھو وہ وہاں ہے یا دیکھو وہ یہاں ہے! تم جہاں پر رہو وہیں رہو انکے پیچھے جا تے ہوئے اسے مت ڈھونڈو۔ یسوع کی دوبارہ آمد پر دنیا کی حالت 24 “جب ابن آدم دوبارہ آئینگے تو تمہیں معلوم ہو گا۔آسمان کے ا یک طرف سے دوسری طرف بجلی چمکنے کی طرح وہ آئے گا۔ 25 لیکن اس سے پہلے ابن آدم کئی تکالیف برداشت کریں گے اور اس دور کے لوگوں کی طرف سے رد کر دیاجا ئے گا۔ 26 ابن آدم لوٹ کر آنے کے دنوں میں اس دنیا کی حالت ایسی ہی ہوگی جیسے کہ نوح کے زمانے میں تھی۔27 نوح کے زمانے میں لوگ کھا تے پیتے اور شادیاں رچا تے رہے۔نوح کی کشتی میں داخل ہو نے کے دن میں بھی وہ ویسا ہی کیا کرتے تھے تب سیلاب آیا اور تمام لوگوں کو ہلا ک کر دیا ہے۔ 28 لوط کے زما نے میں بھی خدا نے جب سدوم کو ہلا ک کیا تو حا لا ت بس اسی طرح کے تھے۔جبکہ وہ لوگ کھا تے پیتے خرید وفروخت اور تجارت کرتے تخم ریزی کرتے اور خود کی رہا ئش کے لئے گھروں کی تعمیر میں مصروف تھے۔ 29 جس دن لوط اس شہر کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔ تو ان دنوں بھی لوگ ویسے ہی کھا پی رہے تھے تب ایسا ہوا کہ آسمان سے گندھک اور آ گ کی بارش برس نے لگی اور وہ سب ہلاک ہوئے۔ 30 ابن آدم جب دوبارہ لوٹ کر آئیں گے تو دنیا کی حالت بالکل اسی طرح ہوگی۔ 31 “اس دن کوٹھے پر رہنے والا آدمی نیچے نہ جا ئے گا اپنے سامان کو گھر کے با ہر نہ لا ئے گا۔ اور اس طرح جو آدمی کھیت میں کام کر رہا ہے کہ وہ لوٹ کر گھر کو نہ آئیگا۔ 32 لوط کی بیوی کو جو واقعہ پیش آیا کیا وہ یاد ہے؟ 33 اپنی جان کو بچانے کی کوشش کر نے والا اس کو کھو دیگا لیکن جو اپنی جان کوقربان کر نے والا ہوگا تو وہ اس کو بچا ئے گا۔ 34 اس وقت اگر ایک کمرے میں دو آدمی سو بھی گئے ہوں تو ان میں سے ایک کو اٹھا لیا جائیگا اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائیگا۔ 35 کہیں پر اگر دو عورتیں ایک ساتھ مل کر اناج پیس رہی ہوں تو ان میں سے ایک لے لی جا ئے گی اور دوسری چھو ڑ دی جا ئے گی۔” 36 [a] 37 شاگردوں نے یسوع سے پوچھا، “خدا وند یہ سب کہاں واقع ہو گا؟” یسوع نے ان کو جواب دیا، “لوگ جانتے ہیں کہ جہاں گدھ منڈ لا تے ہوں وہاں لاش ہو تی ہے۔” Footnotes: a. لوقا 17:36 آیت۳۶ لوقا کی انجیل کے چند یونانی نسخوں کو ۳۶ویں آیت میں شامل کیا گیا ہے “دو مرد ایک ہی کھیت میں رہیں گے ان میں سے ایک کو الگ کر دیا جائے گا اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائیگا- لوقا 18 اپنے لوگوں کو خدا کا جواب 18 یسوع نے اپنے شاگردوں کو اس کہانی کے ذریعے تعلیم دیتے ہوئے یہ کہا کہ نا امید ومایوس ہوئے بغیر ہمیشہ دعا کرنی چاہئے۔ 2 “ایک گاؤں میں ایک منصف رہا کرتا تھا اس کو خدا کا ڈر نہ تھا اور وہ خدا کی پر واہی نہ کیا اور اس بات پر اس نے توجہ نہ دی کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟3 اسی گاؤں میں ایک بیوہ رہتی تھی۔وہ منصف کے پا س آکر کئی مرتبہ گذارش کر نے لگی کہ یہا ں پر ایک آدمی میرے لئے مسا ئل پیدا کر رہا ہے برائے مہر بانی میرے ساتھ انصاف کرو۔ 4 لیکن وہ منصف اس عورت کو ایک عرصے تک مدد کر نا نہ چا ہتا تھا۔لیکن وہ منصف اپنے آپ سے کہا کہ مجھے تو خدا کا ڈر نہیں ہے اور یہ بھی نہ سوچا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ 5 تب یہ عورت بار بار آتی ہے اور میرے لئے بوجھ بن گئی ہے۔ اگر میں انصاف کے ذریعے اس کا حق دلا ؤں تو یہ عورت مجھے تکلیف نہ دے گی۔ ورنہ وہ مجھے ستا تی ہی رہے گی۔” 6 خدا وند نے کہا، “سنو! کہ اس نا انصافی کر نے والے منصف کی بات میں بھی کچھ معنی اور مطلب ہے۔7 خدا کے پسندیدہ لوگ رات دن اُسے پکا ر تے ہیں خدا ان کی سنتا ہے اور یقیناً انہیں انصاف دیتاہے اور خداانہیں جواب دینے میں بھی تا خیر نہیں کر تا۔ 8 اور میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خدا اپنے بچوں کی جلدی مدد کرتا ہے جب ابن آدم دوبارہ آ ئیں گے تو کیا وہ دنیا میں لوگوں کو پا ئینگے جو اس پر ایمان رکھتا ہو ؟” تقویٰ 9 وہاں پر چند لوگ اپنے آپ کو شریف سمجھتے تھے۔اور یہ لو گ د وسروں کے مقابلے میں اپنے آپ اچھے ہو نے کا ثبوت دینے کی کوشش کر رہے تھے۔یسوع اس کہا نی کے ذریعے انکو تعلیم دینے لگے:10 “ایک مرتبہ دو آدمی جن میں ایک فریسی اور ایک محصول وصول کر نے والا تھا اور دعا کر نے کے لئے ہیکل کو گئے۔ 11 فریسی محصول وصول کر نے والے کو دیکھ کر دور کھڑا ہو گیااور اس طرح فریسی دعا کر نے لگا۔اے میرے خدا میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میں دوسروں کی طرح لا لچی نہیں ، بے ایمان نہیں اور نہ ہی محصول وصول کر نے والے کی طرح ہوں۔ 12 میں ہفتہ میں دو مرتبہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور کہا کہ جو میں کما تا ہوں اور اس میں سے دسواں حصہ دیتا ہوں، 13 محصول وصول کر نے والا وہاں پر تنہا ہی کھڑا ہوا تھا۔اس نے آسمان کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ خدا کے سامنے بہت ہی عاجز ی وانکساری کے ساتھ دعا کر نے لگا اے میرے خدا میرے حال پر رحم فرما ا س لئے کہ میں گنہگار ہوں۔ 14 میں تم سے کہتا ہوں کہ بحیثیت راستباز کے اپنے گھر کو لوٹا۔لیکن وہ فریسی راستباز نہ کہلا سکا ہر ایک جو اپنے آپ کو بڑا اور اونچا تصور کرتا ہے وہ گرا دیا جاتاہے اور جو اپنے آپ کو حقیر و کمتر جانتاہے وہ اونچا اور باعزت کر دیا جا ئے گا۔” خدا کی بادشاہت میں کون داخل ہو گا 15 چند لوگ اپنے چھو ٹے بچوں کو یسوع کے پاس لا ئے تا کہ یسوع ان کو چھوئے لیکن جب شاگردوں نے یہ دیکھا تو لوگوں سے کہا، “بچوں کو نہ لا ئیں۔” 16 تب یسوع نے چھو ٹے بچوں کو اپنے پاس بلا کر اپنے شاگردوں سے کہا ، “چھو ٹے بچوں کو میرے پاس آنے دو اور انکے لئے رکاوٹ نہ بنو۔ کیوں کہ خدا کی بادشاہت ان چھو ٹے بچوں کی طرح رہنے والے لوگوں کی ہو گی۔” 17 میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ اور کہا کہ خدا کی باد شاہت کو تمہیں ایک بچے کی حیثیت سے قبول کر نا ہوگا ور نہ تم اس میں ہر گز دا خل نہ ہو سکو گے۔” ایک مالدار آدمی کا یسوع سے سوال کر نا 18 ایک یہو دی قائد نے یسوع سے پو چھا ، “اے نیک استاد ہمیشہ کی زندگی حا صل کر نے کے لئے مجھے کیا کر نا چا ہئے؟۔” 19 یسوع نے اس سے کہا ، “تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے ؟ “صرف خدا ہی نیک ہے۔ 20 خدا کے احکا مات تجھے معلوم ہی ہیں توزنا نہ کر اور کسی کا قتل نہ کر اور کسی کی چیز کو نہ چرُا دوسرے لوگوں کے با رے میں تو جھوٹ نہ بول اور اپنے والدین کی تعظیم کر۔” 21 تب اس نے جواب دیا ، “میں بچپن ہی سے ان احکا مات کا فرمانبردار ہوں۔” 22 جب یسوع نے یہ سنا تو اس قائد سے کہا ، “تجھے ایک اور کام کرنا ہے وہ یہ کہ تو اپنی ساری جائیداد کو بیچ ڈال اور اس سے حاصل ہو نے والی رقم کو غریبوں میں تقسیم کر۔ تب تجھے جنت میں اس کا اچھا بدلہ ملیگا اور میرے ساتھ چل کر میری پیروی کر۔” 23 جب اس نے یسوع کی باتیں سنیں تو اسے بہت دکھ ہوا کیونکہ وہ بہت ہی دولت مند تھا۔ 24 تب یسوع نے اس کو دیکھ کر کہا ، “مالدار لوگوں کا خدا کی بادشاہت میں شامل ہو نا بہت مشکل ہے۔25 اور کہا ، “اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے پار نکل جانا ممکن ہے جب کہ ایک مالدار کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہو نا ممکن نہیں۔” کو ن نجات پا ئیگا 26 لوگوں نے یسوع کی یہ بات سن کر پو چھا ، “جب ایسا ہے تو نجات کس کو ہو گی۔” 27 یسوع نے انکو جواب دیا ، “وہ کام کہ جو انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے وہ بہ آسانی خدا کر سکتا ہے۔” 28 پطرس نے کہا ، “دیکھو ہم نے تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر تیرے پیچھے ہو گئے ہیں۔” 29 تب یسوع نے کہا،“میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت کی خاطر اپنا گھر ، بیوی ، بھائی ، ماں باپ یا اپنی اولاد کو چھو ڑ نے والا ہر شخص جو اس راہ میں جتنا چھوڑا ہے وہ اس سے زیا دہ پائیگا۔ 30 اور کہا کہ وہ اس دنیا کی زندگی ہی میں اس سے کئی گنا بڑھکر اجر پا ئیگا اور اپنی اگلی زندگی میں خدا کے ساتھ وہ ہمیشہ زندہ رہیگا۔” یسوع کا دوبارہ جی اٹھنا 31 تب یسوع اپنے بارہ رسولوں کو ایک طرف لے جا کر ان سے کہا ، “سنو! ہم یروشلم جا رہے ہیں اور جتنی باتیں نبیوں کے ذریعے سے ابن آدم کے بارے میں لکھی گئی ہیں ہر واقعہ سچا ثابت ہوگا۔ 32 اسی کے لوگ اسی کے خلاف ہو کر اس کو غیر یہودی لوگوں کے حوالے کر دیں گے اور وہ اس سے ٹھٹھا کر تے ہو ئے بے رحمی سے اسکے چہرے پر تھو ک دینگے۔ 33 اور کہا کہ وہ اسکو کو ڑے سے ماریں گے۔اور اسکو مار ڈالیں گے لیکن وہ اپنی موت کے تیسرے دن موت سے دوبارہ جی اٹھیگا۔” 34 رسولوں کے لئے یہ بات ممکن نہ ہو سکی کہ وہ معنٰی سمجھیں کو شش کر نے کے بعد بھی وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے اسلئے کہ اس کے معنیٰ ان کے لئے چھپا دیئے گئے۔ یسوع سے آنکھیں پا نے والا اندھا 35 یسوع جب یریحو شہر کے قریب پہنچے تو راستے کے کنا رے پر ایک اندھا بیٹھا ہوا بھیک مانگ رہا تھا۔ 36 اس راہ پر لوگوں کی بھیڑ کی آواز سن کر اس اندھے نے پو چھا، “کیا ہو رہا ہے ؟” 37 لوگوں نے اس سے کہا، “یسوع ناصری یہاں آیا ہے۔” 38 اس اندھے نے چیخ کر کہا ، “اے یسوع داؤد کے بیٹے مہر بانی سے میری مدد کر!” 39 بھیڑ میں سامنے والے لوگوں نے اس اندھے کو ڈانٹا اور کہا کہ وہ باتیں نہ کرے تب اس اندھے نے اور چیخ چیخ کر کہنے لگا ، “اے داؤد کے بیٹے! مہربانی سے میری مدد کر۔” 40 یسوع وہیں کھڑے رہے اور کہا ، “اس اندھے کو میرے پاس لا ؤ!” جب وہ اندھا قریب آیا تو یسوع نے اس سے کہا، 41 “تو مجھ سے کیا چاہتا ہے؟” تب اندھے نے کہا، “خدا وند مجھے بصارت دیدے تا کہ میں دیکھ سکوں۔” 42 یسوع نے اس سے کہا، “لے بصارت واپس لے تو ایمان لایا جسکی وجہ سے تجھے شفاء ہو ئی۔” 43 تب ایسا ہوا کہ وہ اندھا بینا ہو گیا۔ اور وہ خدا وند کی تعریف کرتا ہوا یسوع کے پیچھے ہو گیا۔ اس منظر کو دیکھنے والے تمام لو گ اس معجزے پر خدا کی تعریف کر نے لگے۔ لوقا 19 زکّائی 19 یسوع یریحو میں داخل ہو کر شہر میں سے گزر رہے تھے۔ 2 اسی شہر میں زکائی نام کا ایک آدمی تھا۔ وہ مالدار تھا تو دوسری طرف وہ محصول وصول کر نے والوں کا اعلیٰ عہدیدار تھا۔ 3 وہ یسوع کو دیکھنے کی تمنّا کر تا تھا۔ اور یسوع کو دیکھنے کے لئے بہت سارے لوگ وہاں موجود تھے۔ چونکہ زکا ئی بہت پست قد تھا اس لئے اسے لوگوں کی بھیڑ سے یسوع کو دیکھنا ممکن نہ ہو سکا۔ 4 اس وجہ سے وہ دوسری جگہ دوڑا اور ایک گولر کے درخت پر چڑھ گیا تا کہ وہ یسوع کو دیکھ سکے اور زکائی کو اچھی طرح یہ معلوم تھا کہ یسوع اسی راہ سے گزرینگے۔ 5 یسوع جب اس جگہ آئے اور درخت پر چڑھ کر بیٹھے ہو ئے زکائی پر انکی نظر پڑی تو انہوں نے اس سے کہا، “اے زکا ئی! جلدی سے نیچے اتر آج میں تیرے گھر میں مہمان رہوں گا۔” 6 تب زکاّئی جلدی سے اتر کر نیچے آیا اور بڑی خوشی سے یسوع کا استقبال کیا۔ 7 جب لوگوں نے اس منظر کو دیکھا تو بڑ بڑا تے ہو ئے کہا ، “یسوع کیسے آدمی کے گھر میں جا رہے ہیں ؟ زکائی ایک گنہگار ہے۔” 8 زکائی نے خداوند سے کہا، “میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کی مدد کروں میری رقم میں سے آدھی غریبوں میں بانٹ دوں اور کہا کہ اگر کو ئی کہہ دے کہ میں نے کسی سے دھو کہ کیا ہے تو اس شخص کو اس سے چار گنا زیادہ واپس دونگا۔” 9 یسوع نے کہا،“یہ آدمی تو حقیقت میں نیک ہے صحیح طور سے اسکا تعلق ابراہیم کے سلسلہ نسب سے ہے اس لئے آج ہی زکائی گناہوں سے نجات پا گیا۔ 10 اور کہا کہ ابن آدم راستے سے بھٹکے ہو ئے لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کو نجات دلانے کے لئے آیا ہے۔ خدا کی نعمتوں کا استعمال کر نا 11 لوگ جب ان باتوں کو سن رہے تھے تو یسوع نے ایک تمثیل کہی کیوں کہ یسوع دورہ کرتے ہو ئے یروشلم کے قریب تھے۔بعض لوگوں نے سوچا کہ خدا کی بادشاہت بہت جلد آنے والی ہے۔ 12 لوگوں کا یہ خیال یسوع کو معلوم ہوا۔اس وجہ سے اس نے یہ کہانی بیان کی ایک بہت بڑا آدمی شاہی اقتدار کو حاصل کر نے کے لئے دور کے ملک کا سفر کیا۔ اس کا منصوبہ تھا کہ وہ شاہی اقتدار کو حاصل کرنے کے بعد واپس لوٹ کر ملک پر حکومت کرے۔ 13 اس وجہ سے وہ اپنے نوکروں میں سے دس کو ایک ساتھ بلا کر ان میں سے ہر ایک کو تھیلی بھر رقم دی اور کہا میرے واپس آنے تک تم اس رقم سے تجارت کرتے رہو۔14 لیکن اس ملک کے لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اس لئے لوگوں کا ایک گروہ اس کے پیچھے لگا دیا اس گروہ کے لوگوں نے دور کے ملک میں جاکر کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہمارا بادشاہ بنے۔ 15 “لیکن وہ بادشاہ بن گیا جب وہ اپنے ملک کو واپس لوٹا تو کہا کہ وہ میرے نوکر جو مجھ سے رقم لئے تھے انہیں بلا ؤ۔ اور کہا کہ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس رقم سے کتنی کمائی کی ہے: 16 پہلا نوکر آیا اور کہنے لگا کہ میرے آقا! میں نے تمہاری رقم سے دس گنا زیادہ کمایا ہوں۔ 17 بادشاہ نے اس خادم سے کہا کہ تو ایک شریف نوکر ہے اس لئے میں سمجھ گیا کہ تجھ پر چھو ٹے معاملات میں بھی بھروسہ کر نا چاہئے اور کہا کے میرے دس گاؤں کی حکمرانی کے لئے میں تجھے منتخب کرتا ہو ں۔ 18 دوسرا نوکر آیا اور کہنے لگا، “اے میرے آقا میں نے تیری رقم سے پانچ گنا زیادہ کمایا ہے۔ 19 بادشاہ نے اس خادم سے کہا کہ تو میرے پانچ شہروں کا حاکم بن جا۔ 20 تیسرا نوکر آیا اور بادشاہ سے کہنے لگا ا ےمیرے مالک تیری رقم یہاں موجود ہے میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر رکھا ہے۔ 21 میں نے ایسا اس لئے کیا کہ میں تم سے ڈرتا تھا کیوں کہ تو سخت آدمی ہے جو تو نے نہیں رکھا اسے چھین لیتا ہے اور جو تو نے نہیں بویا اسے کاٹتا ہے۔ 22 تب بادشاہ نے اس نوکر سے کہا، “تو ایک برا نوکر ہے۔خود تیری باتوں ہی سے میں تجھے فیصلہ لکھ دیتا ہوں۔تو نے تو مجھے سخت آدمی کہدیا ہے اور مجھے بغیر محنت کے مفت کی رقم لینے والا اور بغیر کھیتی باڑی کر کے اناج کوا کٹھا کر نے والا کہا ہے۔ 23 اگر وہ بات حقیقت پر مبنی ہو تو تجھے چاہئے تھا کہ میری رقم کو مالدار کے یہاں رکھتا تا کہ جب میں لوٹ کر آتا تو میں اسکو سود کے ساتھ حاصل کر سکتا تھا۔ 24 تب بادشاہ نے وہاں پر موجود لوگوں سے کہا کہ اس نوکر کے پاس سے رقم لیکر اس آدمی کو دیدو کہ جس نے دس گنا زیادہ کمایا ہے۔ 25 ان لوگوں نے بادشاہ سے کہا کہ اے ہمارے مالک! اس نوکر کے پاس اس وقت دس گنا زیادہ روپئے ہیں۔ 26 بادشاہ نے کہا میں تم سے یہ کہتا ہوں جس کے پاس ہے وہ خرچ کرے تو اس کو مزید دیا جائے اور جس کے پاس تو ہے مگر وہ خرچ نہ کرے تو اس سے وہ بھی لے لیا جائے۔ 27 میرے دشمن کہاں ہیں ؟ جو نہیں چاہتے تھے کہ میں انکا بادشاہ بنوں میرے تمام دشمنوں کو یہاں لا ؤ اور انکو میری نظروں کے سامنے قتل کرو!” یروشلم میں یسوع کا داخل ہونا 28 یہ ساری باتیں کہنے کے بعد یسوع نے لگا تار یروشلم کی طرف اپنے سفر کو جا ری رکھا۔ 29 یسوع جب بیت فگے اور بیت عنیاہ کے قریب پہنچے جبکہ وہ مقامات زیتون کے پہاڑ کے قریب تھے۔ یسوع نے شاگردوں کو بلایا اور ان سے کہا، 30 “اس گاؤں کو جاؤ جسے تم دیکھ سکو جب تم اس گاؤں میں داخل ہو گے تو تم وہاں ایک جوان گدھے کو بندھا ہوا پاؤ گے۔ اور اب تک کسی نے اس گدھے پر سواری نہیں کی ہے اس گدھے کو کھول دو اور یہاں لاؤ۔ 31 اگر تم سے یہ کو ئی پو چھے کہ اس گدھے کو کیوں لے جا رہے ہو تو تم اس سے کہنا کہ خداوند کو اس گدھے کی ضرورت ہے۔” 32 وہ دونوں شاگرد گاؤں میں داخل ہو ئے۔ جیسا کہ یسوع نے کہا تھا اسی طرح انہوں نے اس گدھے کو دیکھا۔ 33 جب اسکو کھولا تو گدھے کے مالکوں نے باہر آکر شاگردوں سے پو چھا اس گدھے کو کیوں کھولتے ہو۔ 34 شاگردوں نے جواب دیا “خداوند کو اس کی ضرورت ہے۔” 35 اس طرح شاگردوں نے اس گدھے کو یسوع کے پاس لا ئے اور شاگردوں نے اپنے کپڑے گدھے کی پیٹھ پر ڈالدیا اور یسوع کو گدھے پر بٹھا دیا۔ 36 یسوع گدھے پر سوار ہو کر یروشلم کی طرف سفر پر نکلے راستہ میں شاگردوں نے اپنے کپڑے یسوع کے سامنے پھیلا دیئے۔ 37 یسوع جب یروشلم کے قریب آئے اور زیتون کے پہاڑ کے قریب پہنچا تو اسکے شاگردوں کاپورا حلقہ خوش ہوا اور جن نشانیوں اور معجزات کو دیکھا تھا اس سے خوش ہو کر وہ بلند آواز میں خدا کی تعریف کر نے لگے۔ 38 وہ پکار رہے تھے: “خداوند کے نام پر آنے والے بادشاہ کے لئے خوش آمدید۔”[a] “آسمان میں امن و امان ہوا ور خدا کے لئے جلال و عظمت ہو۔” 39 مجمع میں سے چند فریسیوں نے کہا، “اے استاد! اپنے شاگردوں کو تا کید کر دے کہ اس طرح نہ کہیں۔” 40 تب یسوع نے جواب دیا،“انکو ایسا کہنا ہی چاہئے کہ اگر وہ ایسا نہ کہیں تو یہ پتھّر انکی جگہ پکاریں گے۔” یروشلم کے لئے یسوع کا رونا 41 جب یسوع یروشلم کے قریب آئے اور اس شہر کو دیکھے تو اس کے لئے وہ رو ئے۔ 42 اس نے یروشلم سے کہا، “یہ اچھا ہو تا کہ اگر آج تو اس بات کو سمجھتا کہ تجھے کس سے سلامتی ہے لیکن تو اسکو سمجھ نہیں سکتا۔ کیوں کہ وہ تیری نظر سے چھپا ہوا ہے۔ 43 ایک وقت تم پر آئیگا جب میرے دشمن تیرے اطراف محاصرہ کی طرح حلقہ بنا کر چارو ں طرف سے تجھے گھیر لیں گے۔ 44 وہ تجھے اور تیرے سب لوگوں کو تباہ کریں گے اس طرح کریں گے کہ تیری عمارتوں کے پتھروں پر کو ئی پتھر نہ رہے یہ سب چیزیں تمہارے ساتھ پیش آئیں گی کیوں کہ تم نے اس وقت کو نہیں سمجھا جب خدا تمہیں بچا نے آیا تھا۔” ہیکل میں یسوع کا داخل ہو نا 45 یسوع ہیکل میں گئے اور وہاں پر ان لوگوں کا پیچھا کر نا شروع کیا جو چیزیں فروخت کر رہے تھے۔46 اس نے ان سے کہا، “میرا گھر دعا کا گھر ہے [b] اس طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے لیکن تم نے اسکو ڈاکوؤں کے غار میں تبدیل کر دیا ہے۔” [c] 47 یسوع ہیکل میں روزانہ لوگوں کو تعلیم دیتے تھے۔ کاہنوں کے رہنما اور معلمین شریعت اور لوگوں کے قائدین میں سے بعض یسوع کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ 48 لیکن تمام لوگ یسوع کی باتوں کو توجہ سے سنتے تھے۔ اور یسوع جن باتوں کو کہا تھا ان میں وہ دل چسپی لے رہے تھے۔ جس کی وجہ سے کاہنوں کے رہنما اور معلمین شریعت اور لوگوں کے قائدین نہیں جان پا ئے کہ وہ یسوع کو کس طرح قتل کریں۔ Footnotes: a. لوقا 19:38 زبور۱۱۸:۲۶ b. لوقا 19:46 اِقتِباس یسعیاہ ۷:۵۶ c. لوقا 19:46 اِقتِباس یرمیاہ ۱۱:۷ لوقا 20 یہودی قائدین کا یسوع سے کیا ہوا سوال 20 ایک دن یسوع ہیکل میں تھے۔ اور وہ لوگوں کو تعلیم دیتے ہو ئے خوش خبری سنا رہے تھے۔ 2 کا ہنوں کے رہنما معلمین شریعت اور بڑے بزرگ یہو دی قائدین یسوع کے پاس آئے۔ اور کہا، “ہمیں بتا ؤ کہ! تو کن اختیارات سے ان تمام چیزوں کو کر رہا ہے؟ اور یہ اختیا رات تجھے کس نے دیا ہے ؟” 3 یسوع نے کہا ، “میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ 4 مجھے بتا ؤ کہ لوگوں کو بپتسمہ دینے کا جو اختیا ر یو حناّ کو ملا تھا کیا اسے وہ خدا سے ملا تھا یا انسانوں سے ؟” 5 کا ہن و شریعت کے معلمین اور یہودی قائدین تما م ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کیا “یوحناّ کو بپتسمہ دینے کا اختیار اگر خدا سے ملا ہے کہیں تو وہ پو چھے گا کہ ایسے میں تم یوحناّ پر ایمان کیوں نہ لا ئے ؟” 6 اگر ہم کہیں کہ“بپتسمہ دینے کا اختیار اگر اسے لوگوں سے ملا ہے تو لوگ ہمیں پتھروں سے مار کر ختم کریں گے۔ کیوں کہ وہ اس بات پر ایمان لا تے ہیں کہ یوحناّ نبی ہے۔” 7 تب انہوں نے کہا، “ہم نہیں جانتے ؟” 8 یسوع نے ان سے کہا ، “اگر ایسا ہے تو میں تم سے نہ کہوں گا کہ یہ سارے واقعات کن اختیارات سے کرتا ہوں۔” خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا 9 تب یسوع نے لوگوں سے یہ تمثیل بیان کی کہ “ایک آدمی نے انگور کا باغ لگایا اور اسکو چند کسانوں کو کرایہ پر دیا۔ پھر وہ وہاں سے ایک دوسرے ملک کو جا کر لمبے عرصے تک قیام کیا۔ 10 کچھ عرصے بعد انگور ترا شنے کا وقت آیا تب وہ اپنے حصے کے انگور لینے کے لئے اپنے نوکر کو ا ن با غبانوں کے پاس بھیجا لیکن ان باغبانوں نے اس نوکر کو مار پیٹ کر خالی ہاتھ لو ٹا دیا۔ 11 جس کی وجہ سے اُس نے دوسرے نوکر کو بھیجا۔ تب ان باغبانوں نے اس نو کر کو ما را پیٹا ذلیل کیا اور خالی ہا تھ لو ٹا دیا۔ 12 اس کے بعد اس نے تیسری مرتبہ اپنے ایک اور نوکر کو ا ن باغبانوں کے پاس بھیجا تو انہوں نے اسکو بھی مار کر زخمی کردیا اور باہر دھکیل دیا۔ 13 تب باغ کے مالک نے سوچا، “اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اب میں اپنے چہیتے بیٹے ہی کو بھیجوں گا شاید وہ باغبان اس کا لحاظ کریں گے۔ 14 وہ باغبان بیٹے کو دیکھ کر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ مالک کا بیٹا ہے اور اس کھیت کا حق بھی اسی کو پہنچتا ہے اگر ہم اس کو قتل کر دیں گے تو اس کھیت پر ہما را ہی قبضہ ہوگا۔ 15 تب انہوں نے اس کے بیٹے کو باغ سے باہر د ھکیلتے ہوئے لے گئے اور قتل کر دیئے۔ “تو ایسے میں باغ کا مالک ان باغبانوں کا کیا کرے گا ؟” 16 وہ آکر باغبانوں کو قتل کرے گا اور اس کے بعد باغ کو دوسرے باغبانوں کو دے دیگا۔ لوگوں نے اس تمثیل کو سنا اور کہا، “نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو نا چا ہئے۔” 17 تب یسوع نے انکو غور سے دیکھا اور کہا، “اس کہا نی کا کیا مطلب ہے: “کہ معماروں نے جس پتھر کو نا کا رہ سمجھ کر رد کر دیاتھا وہی پتھر کونے میں سرے کا پتھر بن گیا؟”[a] 18 اور کہا کہ ہر ایک جو اس پتھرپر گرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے ہو جا تاہے اگر وہ پتھر کسی کے اوپر گرجا ئے تووہ اس کو کچل دے گا!” 19 یسوع نے جس تمثیل کو بیان کیا اس کو معلمین شریعت اور فریسیوں نے سنا اور وہ اچھی طرح سمجھ گئے کہاس نے یہ بات انکے لئے ہی کہی ہے جس کی وجہ سے وہ اسی وقت یسوع کو گرفتار کرنا چا ہتے تھے لیکن وہ لوگوں سے ڈرکر اس کو گرفتا ر نہ کر سکے۔ یہودی قائدین کا یسوع کو فریب دینے کی کو شش کرنا 20 اسی لئے معلمین شریعت اور کاہن یسوع کو گرفتار کر نے کے لئے صحیح وقت کا انتظار کر نے لگے اور یسوع کے پاس چند لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ اچھے لوگوں کی طرح دکھا وا کریں وہ چاہتے تھے کہ یسوع کی باتوں میں کوئی غلطی نظر آئے تو فوری اس کو گرفتار کریں اور حا کم کے سامنے پیش کریں۔21 جو ان پر اختیار رکھتا تھا۔اس وجہ سے انہوں نے یسوع سے کہا ، “اے استاد! ہم لوگ جا نتے ہیں کہ آپ جو کہتے ہیں اور جس کی تعلیم دیتے ہیں وہ سچ ہے۔ آپ ہمیشہ خدا کے راستے کے متعلق سچا ئی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا کہ سننے والا کون ہے۔ آپ ہمیشہ سب لوگوں کو ایک ہی تعلیم دیتے ہیں۔ 22 اب کہو کہ ہمارا قیصر کو محصول کا دینا ٹھیک ہے یا غلط ؟” 23 یہ بات یسوع کو معلوم تھی کہ یہ لوگ اسکو دھو کہ دینے کی کو شش کر رہے ہیں۔ 24 “اسی لئے یسوع نے انسے کہا کہ مجھے ایک دینار کا سکہ بتاؤ اور اس سکہ پر کس کا نام ہے؟ اور اس پر کس کی تصویر کندہ ہے ؟” انہوں نے کہا ، “قیصر” کی 25 تب یسوع نے ان سے کہا، “قیصر کا قیصر کو دے اور خدا کا خدا کو دے۔” 26 ان لوگوں نے جب اس سے عقلمندی کا جواب سنا تو حیرت کر نے لگے۔ اور لوگوں کے سامنے یسوع کو غلط باتوں میں پھانسنے میں نا کام ہو گئے۔ اس لئے انہوں نے خاموشی ا ختیار کی۔ چند صدوقیوں کا یسوع کو فریب دینے کی کو شش کر نا 27 چند صدوقی یسوع کے پاس آئے صدوقیوں کا ایمان تھا کہ لوگ مرنے کے بعد زندہ نہیں ہو تے انہوں نے یسوع سے پو چھا۔ 28 “اے استاد موسٰی نے لکھا ہے کہ اگر کسی کی شادی ہو ئی ہو اور وہ اولاد ہوئے بغیر مر جا ئے تو اسکا دوسرا بھا ئی اس عورت سے شادی کرے اور مرے ہو ئے بھائی کے لئے اولاد پائے۔ 29 کسی زمانے میں سات بھا ئی تھے پہلے بھا ئی نے ایک عورت سے شادی کی مگر وہ مر گیا اور اسکی اولاد نہیں تھی۔ 30 تب دوسرا بھا ئی اسی عورت سے شادی کی اور وہ بھی مر گیا۔ 31 پھر تیسرے بھا ئی نے شادی کی اور وہ بھی مر گیا اور باقی بھا ئیوں کے ساتھ بھی یہی حادثہ پیش آیا وہ ساتوں اولاد کے بغیر ہی مرگئے۔ 32 آخر کار وہ عورت بھی مر گئی۔ 33 جب کہ وہ ساتوں بھا ئی اس عورت سے شادی کی تھی اور پو چھا کہ ایسی صورت میں جبکہ وہ ساتوں بھا ئی دوبارہ زندہ ہونگے تو وہ عورت کس کی بیوی بن کر رہیگی؟” 34 یسوع نے صدوقیوں سے کہا ، “اس دنیا کی زندگی تو میں لوگ آپس میں شادیاں رچا تے ہیں۔ 35 جو لوگ دوبارہ زندہ ہو نے کے لائق ہو نگے وہ جی اٹھ کر دوبارہ نئی زندگی گزاریں گے اور اس نئی زندگی میں وہ دوبارہ شادی نہ کریں گے۔ 36 اس دنیا میں تو وہ فرشتوں کی طرح ہو نگے۔ان کو موت بھی نہ ہو گی اور وہ خدا کے بچّے بنیگے۔کیوں کہ وہ موت کے بعد دوبارہ زندگی پائیں گے۔ 37 لیکن موسٰی نے بھی جھاڑی سے تعلق رکھنے والی بات کو ظاہر کیا ہے کہ مرے ہو ئے جلائے گئے ہیں۔جبکہ اس نے کہا تھا خد اوند ابراہیم کا خدا ہے اسحاق کا خدا یعقوب کا خدا ہے۔ [b] 38 در اصل یہ لوگ مرے ہوئے میں سے نہیں ہیں۔خدا مردوں کا خدا نہیں وہ صرف زندوں کا خدا ہے۔سبھی لوگ جو خدا کے ہیں وہ زندہ ہیں۔” 39 معلّمین شریعت میں سے بعض کہنے لگے ، “اے استاد!تو نے تو بہت اچھا جواب دیا ہے۔” 40 دوسرا سوال پو چھنے کے لئے کسی میں ہمت نہ ہو ئی۔ کیا مسیح داؤد کا بیٹا ہے ؟ 41 تب یسوع نے کہا، “مسیح کو لوگ داؤد کا بیٹا کیوں کہتے ہیں؟ 42 کتاب زبور میں خود داؤد نے ایسا کہا ہے خداوند نے میرے خداوند کو کہا میری داہنی جانب بیٹھ جا۔ 43 میں تیرے دشمنوں کو تیرے پیروں تلے کی چوکی بنا دوں گا- [c] 44 جب داؤد نے مسیح کو خداوند کہہ کر پکا را تو وہ اسکا بیٹا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟” معلّمین شریعت کے بارے میں تاکید کرنا 45 تمام لوگوں نے یسوع کی باتوں کو سنا غور کیا یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا۔ 46 “معّلمین شریعت کے بارے میں ہو شیار رہو وہ ہم لوگوں کی طرح عمدہ لباس زیب تن کرکے گھومتے پھر تے ہیں اور بازاروں میں لوگوں سے عزت پا نے کے لئے آرزومند ہو تے ہیں۔یہودی عبادت گاہوں میں اور کھا نے کی دعوتوں میں وہ ا ونچی اور اچھی نشستوں کی تمنا کرتے ہیں۔ 47 لیکن وہ بیواؤں کو دھو کہ دے کر ان کے گھروں کو چھین لیتے ہیں پھر مزید لمبی دعائیں کر کے نیک لوگوں کی طرح بناوٹ و دکھا وا کرتے ہیں “خدا ان کو سخت اور شدید سزا دیگا۔” Footnotes: a. لوقا 20:17 زبور۱۱۸:۲۲ b. لوقا 20:37 ابراہیم … خدا ہے خروج ۶:۳ c. لوقا 20:43 زبور ۱۱۰: ۱ لوقا 21 سچّا نذرانہ 21 یسوع نے غور کیا کہ چند سرما یہ دار لوگ ہیکل میں رکھی گئی نذ رانہ ڈالنے کی صندوقچی میں خدا کے لئے اپنے نذرا نے کو ڈال رہے ہیں۔ 2 اسی اثناء میں ایک بیوہ عورت آ ئی اور دو چھو ٹے سکے اس صندوقچہ میں ڈالی۔ 3 یسوع نے اس عمل کو دیکھا اور کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں یہ غریب بیوہ جو دو چھوٹے تانبے کے سکے دی ہے وہ حقیقت میں ان تمام مالدا روں سے زیادہ دی ہے۔ 4 دولتمندوں کے لئے تو ضرورت سے زیادہ ہے اور وہ جو دئیے ہیں انکی ضرورت کا نہیں ہے یہ عورت بہت غریب ہو نے کے با وجود بھی اپنے پاس کا رہا سہا سب نذرانے کی صندوقچے میں ڈال دی اور کہا کہ اس کو اس رقم کی عین ضرورت تھی۔” ہیکل کی تباہی 5 چند شاگرد ہیکل کے متعلق باتیں کرر ہے تھے کہ اور کہا، “یہ بہت ہی عمدہ قسم کے پتھر وں سے اور خدا کو نذر کے گئے تحفوں سے بنائی گئی کتنی خوبصورت عمارت ہے۔” 6 لیکن یسوع نے ان سے کہا ، “تم یہاں جن تمام چیزوں کو دیکھ رہے ہو اس کے تباہ ہو نے کا وقت آئے گا اس عمارت کا ایک ایک پتھر نیچے گرا دیا جا ئے گا اس لئے کہ پتھر پر پتھر ٹک نہیں سکتا۔” 7 شاگردوں نے یسوع سے پوچھا، “اے استاد! یہ ساری باتیں کب ہوں گی ؟ اور اس وقت ہم کو کن علامتوں اور نشانیوں سے معلوم ہوگا؟۔” 8 یسوع نے ان سے کہا ، “ہوشیار رہو! کسی کے غلط رہنمائی کا شکار نہ بنو میرا نام لیکر کئی لوگ آئیں گے۔اور کہیں گے کہ میں ہی مسیح ہوں اور کہیں گے اب مناسب وقت آیاہے لیکن ان کے پیچھے نہ جانا۔9 جنگوں کے بارے میں اور فسادیوں کے بارے میں سن کر تم گھبرا نہ جانا اس لئے کہ یہ سا ری باتیں پہلے ہی پیش آئیں گی اور کہا لیکن اس کے بعد اس کا خاتمہ ہو گا۔” 10 تب یسوع نے ان سے کہا ، “ایک قوم دوسری قوم سے جنگ لڑے گی ایک حکومت دوسری حکومت کے خلاف لڑ پڑیگی۔ 11 خوف ناک قسم کے زلزلے آئیں گے کئی جگہوں پر قحط سالیاں اور وہ بیمار یاں آئیں گی ہیبت ناک واقعات اور آسمانوں میں تعجب خیز نشانیاں ظا ہر ہوں گی۔ 12 “لیکن ان علامتوں کے ظاہر ہو نے سے پہلے ہی لوگ تمہیں قید کریں گے اور ستا ئیں گے۔ تمہیں یہودی عبادت گاہوں کے حوالے کردیں گے اور تمہیں قید خانے میں بھیج دیں گے۔ اور بادشاہوں کے سامنے اور حاکموں کے سامنے تم کو زبر دستی کھڑا کیا جا ئے گا اور یہ ساری باتیں جو تمہیں پیش آئیں گی وہ محض میری پیروی کی وجہ سے ہوں گی۔ 13 تب میرے متعلق کہنے کے لئے تمہا رے واسطے ایک موقع بھی نہ ملے گا۔ 14 اس کو اچھی طرح ذہن میں رکھو تم کو کیا کہنا چاہئے تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ تمہیں تمہا رے دفاع میں کیا کہنا چاہئے۔ 15 کیوں کہ میں تم کو ایسی باتیں اور حکمت دوں گا جس کی وجہ سے تمہا رے دشمن تمہا ری مز ا حمت نہ کریں گے اور نہ ہی جواب دے سکیں گے۔ 16 تمہا رے والدین بھا ئیوں ،رشتہ دار اور دوست احباب بھی تمہارے مخا لف ہوں گے تم میں سے بعض کوتو وہ قتل بھی کر دیں گے۔ 17 کیوں کہ میرے راستے پر چلنے کی وجہ سے لوگ تم سے نفرت کریں گے۔ 18 اس کے باوجود تمہا را کچھ بگاڑ نہ پا ئیں گے۔ 19 اگر تم اپنے ایمان میں قائم رہو تو اپنے آپ کو بچا لو گے۔ یروشلم کی تبا ہی 20 “یروشلم کے اطراف فوج کے احا طہ کو تم دیکھو گے تب تم سمجھوگے کہ یروشلم کی تباہی وبر بادی کا وقت آیاہے۔ 21 اس وقت یہوداہ میں رہنے والے لوگوں کو پہا ڑوں میں بھا گ جانا ہوگا اور یروشلم کے رہنے والے لوگوں کو وہاں سے نقل مکان کرنے دو جو شہر کے قریب رہتے ہیں انہیں چاہئے کہ اس میں داخل نہ ہوں۔ 22 خدا اپنے بندوں کو سزا دینے کے زما نے کے بارے میں اور نبیوں نے جن و اقعات کو لکھا ہے وہ سب اس وقت پو رے ہوں گے۔ 23 اس ز ما نے میں حاملہ عورتوں کے لئے اور ان ماؤں کے لئے جن کی گود میں چھو ٹے دودھ پیتے بچے ہوں انکے لئے بڑی مصیبت اور تکلیف کے دن ہوں گے۔ کیوں کہ اس زمین پر بڑی تباہی ہوگی۔ اور یہ وقت ا ن لوگوں کی سزاؤں کا وقت ہو گا۔ 24 ا ن میں بعض لوگ سپاہیوں کے ہاتھوں ہلا ک ہوں گے اور بعض وہ ہوں گے کہ جو جنگی قیدی ہو کر دوسرے شہروں کو بھیجے جا ئیں گے۔غیر یہودی لوگ اپنا وقت ختم ہو نے تک وہ یروشلم میں پا مال رہیں گے۔ خوف زدہ مت ہو 25 “سورج چاند اور ستاروں میں عجیب و غریب قسم کی نشانیاں ظاہر ہو نگیں۔ سمندر کی لہروں کی آواز سے زمین پر قومیں اپنے آپ کو بے سہارا اور پریشان محسوس کر نے لگیں گی۔ 26 چونکہ آسمان کی قوّت ہلا دی جائیگی۔لوگ خوف زدہ ہو نگے اور صدمہ سے سوچیں گے کہ زمین پر کیا کیا حالات پیش آئیں گے۔ 27 تب لوگ دیکھیں گے کہ ابن آدم زبر دست قوّت اور عظیم جلال کو ساتھ لئے ہو ئے بادلوں پر سوار ہو کر آرہا ہے۔ 28 جب ان واقعات کو دیکھو تو تم گھبرانا نہیں۔اوپر دیکھ کر خوش ہو جاؤ کیوں کہ یہ نشانیاں ہیں وقت آگیا ہے کہ خدا تم کو چھٹکارہ دلا ئے۔” یسوع کی باتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں 29 تب یسوع نے اس کہا نی کو بیان کیا “تمام درختوں کو دیکھو ان میں انجیر کا درخت ایک بہترین مثال ہے۔ 30 اس میں جیسے ہی کونپلیں آنا شروع ہوں گی تو تم سمجھ جا ؤ گے کہ موسم گر ما قریب ہے۔ 31 اس طرح یہ تمام واقعات پیش آتے ہو ئے جب تم ان کو دیکھو گے تو سمجھو کہ خدا کی بادشاہت جلد آنے والی ہے۔ 32 “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانے کے لوگ ابھی زندہ ہی رہیں گے کہ یہ تمام واقعات وقوع پذیر ہوں گے! 33 ساری دنیا زمین و آسمان تباہ ہو جائیں گے لیکن میری کہی ہو ئی باتیں کبھی مٹ نہ پا ئیں گی۔ ہر وقت اپنے آپکو تیار رکھو 34 “ہوشیار رہو! لا پر واہی میں اور پی کر نشہ میں مست ہو تے ہوئے اور دنیا وی تفکرات میں تم مشغول نہ رہو ورنہ تمہا رے قلوب بوجھل ہو تے ہوئے اچانک زندگی کا چراغ گل ہو جائیگا۔ 35 وہ دن تو زمین پر رہنے والوں کے لئے بڑا ہی حیرت انگیز ہو گا۔ 36 اسی لئے تم اپنے آپ کو ہر وقت تیارر کھو۔پیش آنے والے ان تمام واقعات کا مقابلہ کر نے کے لئے اور اسکو محفوظ طریقے سے آگے بڑھا نے کے لئے اور ابن آدم کو سامنے کھڑے رہنے کے لئے در پیش قوّت و طاقت کے لئے دعا کرو۔” 37 یسوع دن بھر ہیکل میں لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اور رات میں کہیں شہر سے باہر زیتون کے پہاڑ پر رہا کرتا تھا۔ 38 ہر روز صبح لوگ جلدی اٹھ کر ہیکل میں یسوع کی تعلیم کو سننے کے لئے جاتے تھے۔ لوقا 22 یہودی قائدین کا یسوع کو قتل کر نے کی سازش کر نا 22 یہویوں کی بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب یعنی فسح کی تقریب قریب آن پہنچی تھی۔ 2 کاہنوں کے رہنما اور معلمین شریعت یسوع کو قتل کر نے کی فکر کر رہے تھے وہ یسوع کو قتل کر نے کے لئے مناسب موقع تلاش کر رہے تھے جس کے لئے وہ لوگوں سے ڈرے ہوئے بھی تھے۔ یسوع کے خلاف یہوداہ کی سازش 3 یسوع کے بارہ رسولوں میں یہوداہ اسکر یوتی ایک تھا۔شیطان اس میں داخل ہو گیا تھا۔ 4 یہوداہ کا ہنوں کے رہنما کے محا فظ چند سپا ہیوں کے پاس گیا اور یسوع کو پکڑ وا دینے کے بارے میں ان سے گفتگو کی۔ 5 وہ بہت خوش ہوئے تب انہوں نے یہودا ہ سے وعدہ کیا کہ وہ یسوع کو پکڑ کر انکے حوا لے کرے گا تو وہ اسے رقم دینگے۔ 6 یہوداہ اس بات پر متفق ہوئے اور یسوع کو پکڑ وا نے کے لئے مناسب موقع کی تاک میں رہا۔اس کی یہ خوا ہش تھی کہ وہ یہ کام ایسے وقت میں کرے کہ جب کہ لوگ جمع نہ ہوں۔ فسح کے کھا نے کی تیاری 7 بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب کا وقت آیا۔ یہودیوں کے لئے فسح کی بھیڑوں کو ذبح کر نے کا وہی دن تھا۔ 8 یسوع نے پطرس اور یو حنا سے کہا ، “جا ؤ اور ہمارے لئے فسح کے کھا نے کا انتظام کرو۔” 9 پطرس اور یوحنا نے یسوع سے پو چھا ، “کھانا کہاں تیار کرنا چا ہئے؟” یسوع نے ان سے کہا ،10 “سنو! تم شہر میں داخل ہو نے کے بعد تم ایک ایسے آدمی کو دیکھو گے کہ جو پانی سے بھرا ایک گھڑا اٹھا ئے ہو ئے جاتا ہوگا۔ اسی کے پیچھے چلتے رہو۔ پھر وہ ایک گھر میں داخل ہوگا۔ تم بھی اسکے ساتھ چلے جاؤ۔ 11 گھر کے اس مالک سے کہو کہ استاد پو چھتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ کس کمرہ میں فسح کا کھانا کھا ئے ؟ 12 تب گھر کا مالک بالا خانہ پر ایک بڑے کمرہ کی نشان دہی کریگا۔ اور کہے گا کہ یہ کمرہ تو صرف تمہارے لئے تیار کیا گیا ہے اور کہے گا کہ فسح کا کھا نا وہاں پر تیار کرو۔ 13 اسلئے پطرس اور یوحنا لوٹ گئے ہر بات یسوع کے کہنے کے مطابق پیش آئی اور وہ فسح کا کھا نا وہیں پر تیار کیا۔ عشائے ربانی 14 فسح کی تقریب کے کھا نے کا وقت آگیا۔ یسوع اور رسول دسترخوان کے اطراف کھا نا کھا نے کے لئے بیٹھ گئے۔ 15 یسوع نے ان سے کہا ، “میں مر نے سے پہلے فسح کا کھا نا تمہارے ساتھ کھا نے کی بڑی آرزو رکھتا ہوں۔ 16 کیوں کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت میں یہ پورا نہیں ہو نے کا تب تک میں دوبارہ فسح کا کھا نا نہیں کھا ؤنگا۔” 17 تب یسوع نے مئے کا پیا لہ اٹھا یا اور اس کے لئے خدا کا شکر ادا کیا تب پھر اُس نے کہا، “اس پیالہ کو لو اور تم سب آپس میں بانٹ لو۔” 18 اور کہا کہ خدا کی بادشاہت آنے تک میں مئے کبھی دوبارہ نہیں پیونگا۔” 19 تب یسوع نے تھوڑی سی رو ٹی اٹھا ئی۔ اس نے روٹی کے لئے خدا کی تعریف کرتے ہو ئے اسکو توڑا اور ٹکڑوں کو رسولوں میں بانٹ دیا۔ تب اس نے کہا، “میں تمہیں جو دے رہا ہوں وہ میرا بدن ہے اور کہا کہ مجھے یاد کر نے کے لئے تم اس طرح کرو۔” 20 اسی طریقے پر جب کھانا ختم ہوا تو اس نے مئے کا پیا لہ اٹھا یا اور کہا، “خدا نے اپنے بندوں سے جو نیا عہد کیا ہے یہ اسکو ظاہر کرتا ہے۔ میں تمہیں جو خون دے رہا ہوں اس سے نئے معاہدہ کا آغاز ہو تا ہے۔ [a] یسوع کے کون مخالف ہونگے ؟ 21 یسوع نے کہا ، “مجھ سے دشمنی کرنے والا میرے ساتھ اسی صف میں کھانے کے لئے بیٹھا ہے۔22 ابن آدم خدا کے منصوبہ کے مطابق مریگا لیکن افسوس ہے اس پر جو ہم میں ہے اور وہ یہ کام کریگا۔” 23 تب رسولوں میں ایک دوسرے سے باتیں ہونے لگی کہ“ہم میں سے وہ کون ہے کہ جو یہ کام کریگا ؟” نوکروں کی طرح رہو 24 تب رسول آپس میں بحث کرنے لگے کہ ہم میں سے کون زیادہ معزز اور اشرف ہے۔ 25 لیکن پھر یسوع نے ان سے کہا ، “دنیا کا بادشاہ اپنے لوگو ں پر حکومت کرتے ہیں۔” اور وہ شخص جو دوسروں پر اختیار رکھتے ہیں وہ ان سے اپنے آپ کو “لوگوں کا مدد گار” کہلواتے ہیں۔ 26 اور کہا کہ تم ہر گز ایسے نہ بننا۔ اور تم میں جو بڑا ہے وہ سب سے چھوٹا بنے اور قائدین کو چاہئے کہ وہ نوکروں کی طرح رہیں۔27 اہم ترین شخص کون ہے؟ کیاوہ جو کھا نے کے لئے بیٹھا ہے ؟ یا وہ جو اس کی خدمت کر تا ہے؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ جو کھانا کھانے کے لئے بیٹھا ہے وہ بڑا ہوتا ہے ؟ لیکن میں تو تم میں ایک خادم کی طرح ہوں! 28 “تم تو میرے ساتھ کئی مشکلات میں رہے ہو۔ 29 اور میں تمہیں ویسی ہی ایک حکومت دے رہا ہوں جیسی میرے باپ نے حکومت مجھے دی تھی۔ 30 میری بادشاہت میں تم بھی میرے ساتھ کھا نا کھا ؤ گے اور پیئو گے پھر تم تخت پر بیٹھ کر مطمئن ہو کر اسرائیل کے بارہ فرقوں کا فیصلہ کرو گے۔ اپنے ایمان کو ضائع نہ کرو! 31 “ایک کسان جس طرح اپنا گیہوں اچھالتا ہے اسی طرح شیطان نےبھی تمہیں آزمانے کے لئے اجازت لی ہے۔ اے شمعون! اے شمعون۔ 32 اور کہا کہ تیرا ایمان نہ کھو نے کے لئے میں نے دعا کی ہے اور جب تو واپس آئے تو تیرے بھا ئیوں کی قوت بڑھے۔” 33 اس بات پر پطرس نے یسوع سے کہا، “اے خدا وند! میں تیرے ساتھ جیل جانے کے لئے اور مرنے کے لئے بھی تیار ہو ں۔” 34 اس پر یسوع نے کہا ، “اے پطرس! کل صبح مرغ بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرتے ہو ئے کہیگا کہ میں اسے نہیں جانتا۔” تکالیف کا مقابلہ کر نے کے لئے تیار ہو جاؤ 35 تب یسوع نے رسولوں سے پوچھا ، “میں تمہیں لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے بغیر پیسوں کے بغیر تھیلی کے اور بغیر جوتوں کے بھیجا ہوں تو ایسی صورت میں کیا تمہا رے لئے کسی چیز کی کمی ہو ئی ہے؟ “رسولوں نے جواب دیا ، “نہیں۔” 36 یسوع نے ان سے کہا، “لیکن اگر اب تمہا رے پاس رقم ہو یا تھیلی ہو اس کو ساتھ لے جا ؤ اور اگر تمہارے پاس تلوار نہ ہو تو تمہاری پوشاک کو بیچ کر ایک تلوار خرید لو۔ 37 کیوں کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ صحیفے میں لکھا ہے مجھ پر یقینًا ہی پورا ہوگا۔ وہ ایک مُجر م سمجھ گیا تھا۔ [b] “ہاں میرے بارے میں لکھی گئی یہ بات پوری ہو نے کو آرہی ہے۔” 38 شاگردوں نے کہا، “خداوند یہاں دیکھو دو تلواریں ہیں” یسوع نے کہا، “بس اتنا ٹھیک ہے۔” یسوع نے رسولوں سے کہا کہ دعا کرو 39 یسوع شہر چھوڑنے کے بعد زیتون کے پہاڑ کو گئے۔ 40 ان کے شاگرد بھی انکے ساتھ چلے گئے یسوع نے اپنے شاگر دوں سے کہا، “تم دعا کرو کہ تمہیں اکسایا نہ جائے۔” 41 تب یسوع ان سے تقریباً پچاس گز دور چلے گئے اور گھٹنے ٹیک کر دعا کر نے لگے۔ 42 “اے باپ اگر تو چاہتا ہے تو ان تکلیفوں کے پیالہ کو مجھ سے دور کر اور میری مرضی کی بجائے تیری ہی مرضی پوری ہو۔” 43 تب آسمان سے ایک فرشتہ ظا ہر ہوا اس فرِشتے کو یسوع کی مدد کے لئے بھیجا گیا۔ 44 یسوع کو سخت پریشانی لا حق ہو ئی اور وہ دلسوزی سے دعا کرنے لگے اس کے چہرے کا پسینہ خون کی بڑی بوند کی شکل میں زمین پر گر رہا تھا۔ [c] 45 جب یسوع نے دعا ختم کی تو وہ اپنے شاگردوں کے پاس گئے۔ وہ سوئے ہو ئے تھے۔46 یسوع نے ان سے کہا ، “تم کیوں سو رہے ہو؟ بیدار ہو جاؤ؟ دعا کرو کہ آزمائش میں مبتلا نہ ہو۔” یسوع کی گرفتاری 47 یسوع جب باتیں کر رہا تھا تو لوگوں کی ایک بھیڑ وہاں آئی ان بارہ رسولوں میں سے ایک بھیڑ کا پیشوا تھا۔ وہی یہوداہ تھا۔ وہ یسوع کا بوسہ لینے قریب پہنچا۔ 48 یسوع نے اس سے پو چھا ، “اے یہوداہ! کیا بوسہ لینے کے بعد تو ابن آدم کو پکڑوادیگا ؟” 49 یسوع کے شاگرد بھی وہیں کھڑے ہو ئے تھے۔ وہاں پر پیش آنے والے واقعات کو وہ دیکھ رہے تھے۔ شاگردوں نے یسوع سے پو چھا، “اے خداوند ۱ کیا ہم تلواروں کو استعمال کریں ؟” 50 شاگردوں میں سے ایک نے سردار کا ہن کے نوکر پر حملہ کر کے داہنا کان کاٹ ڈالا۔ 51 یسوع نے اس سے کہا، “رک جا” اور ا ُ دھر نوکر کے کان کو چھوا اور وہ اچھا ہو گیا۔ 52 یسوع کو گرفتار کر نے کے لئے وہاں پر کاہنوں کے رہنما بزرگ یہودی قائدین اور یہودی سپاہی بھی آئے ہو ئے تھے۔ یسوع نے ان سے کہا، “تلواروں کو اور لاٹھیوں کو لئے ہو ئے یہاں کیوں آئے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں مجرم ہوں؟ 53 ہر روز میں تمہارے ساتھ ہیکل میں تھا۔ تم نے مجھے وہاں پر کیوں نہیں پکڑا؟ اسلئے کہ یہ تمہارا وقت اور تاریکی کا اختیار ہے۔” پطرس کی بے وفائی 54 انہوں نے یسوع کو گرفتار کئے اور اعلیٰ کا ہن کے گھر میں لا ئے۔ پطرس ان کے پیچھے ہو لیا لیکن یسوع کے قریب نہ آیا۔ 55 سپا ہی درمیانی آنگن میں آ گ سلگا کر سب جمع ہو کر بیٹھے ہو ئے تھے۔ اور پطرس بھی ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ 56 پطرس کو وہاں بیٹھے ہو ئے ایک خادمہ نے دیکھ لیا۔ اور آ گ کی روشنی میں اس نے پطرس کی شنا خت کر لی پطرس کی صورت کو بغور دیکھا اور کہا، “یہ تو وہی آدمی ہے جو یسوع کے ساتھ تھا۔” 57 لیکن پطرس نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے۔اور اس نے اس سے کہا، “اے عورت! میں تو اسے جانتا ہی نہیں کہ وہ کون ہے ؟” 58 کچھ دیر بعد ایک اور آدمی پطرس کو دیکھ کر کہا، “تو بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے” پطرس نے اس بات کا انکار کرتے ہوئے کہا، “نہیں میں ان میں سے ایک نہیں ہوں۔” 59 تقریباً ایک گھنٹے بعد ایک دوسرے آدمی نے پختہ یقین کے ساتھ کہا، “یقیناً یہ آدمی ان کے ساتھ تھا۔ اور کہا کہ یہ گلیل کا رہنے والا ہے۔” 60 تب پطرس نے کہا، “تو جو کہہ رہا ہے اس سے میں واقف نہیں ہوں۔” پطرس ابھی یہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ مرغ نے بانگ دی۔ 61 اس وقت خدا وند نے پیچھے مڑ کر پطرس کو دیکھا پطرس کو خداوند کی وہ بات یاد آئی جو اس نے کہی تھی، “مرغ بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کریگا۔” 62 تب پطرس باہر آیا اور زار و قطار رونے لگا۔ لوگوں نے یسوع کا مذاق اڑایا 63-64 چند لوگوں نے یسوع کو پکڑ لیا تھا۔ وہ یسوع کے چہرے پر نقاب ڈال دیئے اور اسکو مار نے لگے اور کہنے لگے کہ تو تو نبی ہے بتا کہ تجھے کس نے مارا؟” 65 انہوں نے مختلف طریقوں سے یسوع کی بے عزتی کی۔ یسوع یہودی قائدین کے سامنے 66 دوسرے دن صبح بڑے لوگ کے قائدین اور کاہنوں کے رہنما معلّمین شریعت سب ایک ساتھ مل کر آئے۔ اور وہ یسوع کو عدالت میں لے گئے۔ 67 انہوں نے کہا، “اگر تو مسیح ہے تو ہم سے کہہ۔” تو یسوع نے ان سے کہا، “اگر میں تم سے کہوں کہ میں مسیح ہوں تو تم میرا یقین نہ کرو گے۔ 68 اگر میں تم سے پو چھوں تو تم اس کا جواب بھی نہ دو گے۔ 69 لیکن! آج سے ابن آدم خدا کے تخت کی داہنی جانب بیٹھا رہیگا۔” 70 ان سبھوں نے پو چھا، “تو کیا تو خدا کا بیٹا ہے؟” یسوع نے ان سے کہا، “میرے ہو نے کی بات کو تم خود ہی کہتے ہو۔” 71 تب انہوں نے کہا، “ہمیں مزید اور کیا گواہی چاہئے ؟ کیوں کہ ہم سن چکے ہیں کہ خود اس نے کیا کہا ہے۔” Footnotes: a. لوقا 22:20 آ یت ۲۰-۱۹ کچھ یونانی صحیفوں میں یسوع کا کلام آیت ۱۹ کے آخری حصے میں اور آیت ۲۰ کي پوری آیت میں نہیں ہے ۔” b. لوقا 22:37 یسعیاہ۵۳:۱۲ c. لوقا 22:44 آیت ۴۴-۴۳ کچھ یونانی صحیفوں میں یہ ۴۵-۴۴ آیت نہیں ہے لوقا 23 حا کم پیلا طس کا یسوع سے تفتیش کر نا 23 تب ایسا ہوا کہ وہ سب جو وہاں جمع تھے اٹھے اور یسوع کو پیلا طس کے پاس لے گئے۔ 2 وہ سبھی یسوع پر الزامات لگانا شروع کئے اور پیلا طس سے کہنے لگے ، “یہ آدمی ہما رے لوگوں کو گمراہی کی را ہوں پر چلنے کے واقعات سنا تا تھا۔ اور قیصر کو محصول ادا کر نے کا مخا لف ہے اس کے علا وہ یہ اپنے آپ کو باد شاہ مسیح بھی کہہ لیتا ہے۔” 3 پیلا طس نے یسوع سے پو چھا ، “کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟” یسوع نے جواب دیا، “یہ بات توُ ہی تو کہتا ہے۔” 4 پیلاطس نے کاہنوں کے رہنما اور لوگوں سے کہا، “میں اس میں کو ئی غلطی نہیں پا تا کہ اس کے خلاف کو ئی الزام لگائیں۔ 5 اس بات پر انہوں نے اصرار سے کہا، “اس نے یہوداہ کے تمام علا قے میں تعلیم دے کر لوگوں میں ایک قسم کا انقلاب برپا کیا ہے۔ اس کا آغاز اس نے گلیل میں کیا تھا وہ اب یہاں بھی آیا ہے۔” یسوع ہیرودیس کے سامنے 6 پیلاطس اس کو سن کر پو چھا، “کیا یہ گلیل کا باشندہ ہے۔” 7 پیلاطس کو یہ بات معلوم ہو ئی کہ یسوع ہیرو دیس کے حکم کے تا بع ہے اور اس دوران ہیرودیس یروشلم ہی میں مقیم تھا۔ جس کی وجہ سے پیلاطس نے یسوع کو اس کے پاس بھیج دیا۔ 8 جب ہیرودیس نے یسوع کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔کیوں کہ وہ یسوع کے بارے میں سب کچھ سن چکا تھا اور عرصہ دراز سے وہ چاہتا تھا کہ و ہ یسوع سے کو ئی معجزہ دیکھے۔ 9 ہیرو دیس نے یسوع سے کئی سوالات کئے لیکن یسوع نے ان میں سے ایک کا بھی جواب نہ دیا۔ 10 کاہنوں کے رہنما اور معلّمین شریعت وہاں کھڑے تھے اور وہ یسوع کی مخالفت میں چیخ و پکار کرر ہے تھے۔ 11 تب ہیرودیس اور اس کے سپا ہی یسوع کو دیکھ کر ٹھٹھا کر نے لگے اور وہ یسوع کو ایک چمکدار پو شاک پہنا کر ٹھٹھا کر نے لگے پھر ہیرودیس نے یسوع کو پیلا طس کے پاس دوبارہ لو ٹا دیئے۔ 12 اس سے قبل کہ پیلا طس اور ہیرودیس ایک دوسرے کے دشمن تھے۔اور اس دن سے ہیرودیس اور پیلاطس ایک دوسرے کے دوست ہو گئے۔ یسوع کو موت کی سزا 13 پیلا طس نے کا ہنوں کے رہنما کو یہودی قائدین کو اور دیگر لوگوں کو ایک ساتھ جمع کیا۔ 14 اس نے ان سے مخاطب ہو کر کہا تم نے اس آدمی کو میرے پاس لا یا تم سبھوں نے کہا تھا یہ لوگوں کو ورغلا رہا ہے لیکن میں نے تو تم سب کے سامنے اس کی تفتیش کی۔ لیکن میں نے تو اس میں کسی بھی قسم کی غلطی اور قصور کو نہ پایا۔ اور تمہارے وہ تمام الزامات جو تم نے اس پر لگائے ہیں صحیح نہیں ہیں۔15 اسکے علا وہ ہیرودیس نے بھی اس میں کو ئی غلطی اور جر م کو نہ پا یا اور ہیرو دیس نے یسوع کو ہمارے پاس پھر دو بارہ بھیج دیا ہے۔ دیکھو یسوع نے کو ئی غلطی نہیں کی ہے۔ اس لئے اسے موت کی سزا بھی نہیں ہو نی چا ہئے۔ 16 پس میں اسے سزا دیکر چھوڑ دونگا 17 [a] 18 لیکن تمام لوگوں نے چیخنا شروع کردیا “اسکو قتل کرو! اور برابّاس کو آزاد کرو۔” 19 چونکہ برابّاس نے شہر میں ہنگا مہ اور فساد برپا کیا تھا جس کی وجہ سے وہ قید میں تھا۔ اور اس نے چند لوگوں کا قتل بھی کیا تھا۔ 20 پیلا طس یسوع کو رہا کر وانا چاہتا تھا۔اس لئے دوبارہ پیلا طس نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ یسوع کو چھو ڑنا ہو گا۔ 21 لیکن انہوں نے پھر زور سے پکار کر کہا ، “اس کو صلیب پر چڑھا دو، اسکو صلیب پر چڑھا دو!” 22 تیسری مرتبہ پیلا طس نے لوگوں سے کہا کیوں ؟ اس نے کس جرم کا ارتکاب کیا ہے ؟ اسکو قتل کرانے کے لئے مجھے کو ئی وجہ بھی نظر نہیں آتی۔ اور کہا کہ اس کو سزا دے کر چھوڑ دیتا ہوں۔” 23 لیکن ان لوگوں نے اپنی چیخ و پکار کو جاری رکھتے ہو ئے مطالبہ کیا کہ یسوع کو مصلوب کیا جائے۔ انکا شور و غل اور بڑھنے لگا۔ 24 پیلاطس نے انکی خواہش کو پورا کرنے کا عزم کر لیا۔ 25 لوگ برابس کی رہائی کی مانگ کر نے لگے۔ فتنہ و فساد پیدا کرنے کی وجہ سے اور قتل کر نے کی وجہ سے بر ا با س قید میں رہا۔ پیلاطس نے برابس کو رہا کرکے یسوع کو لوگوں کے حوالے کردیا تا کہ وہ لوگ جو چاہے اسکے ساتھ سلوک کرے۔ یسوع کو صلیب پر چڑھا دیا جانا 26 جب وہ یسوع کو قتل کر نے کے لئے جا رہے تھے تو اسوقت کھیت سے شہر کو آتے ہو ئے شمعون نام کے آدمی کو لوگوں نے دیکھا اور شمعون کرینی باشندہ تھا۔ یسوع کی صلیب اٹھا ئے ہو ئے شمعون کو یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے کے لئے سپاہیوں نے مجبور کیا۔ 27 بیشمار لوگ یسوع کے پیچھے ہو ئے ان میں عورتوں کا کثیر مجمع بھی تھا۔ وہ یسوع کے دکھ اور غم میں سینہ پیٹ کر ماتم کر نے لگیں۔ 28 تب یسوع نے ان عورتوں کی طرف پلٹ کر کہا، “اے یروشلم کی خواتین! میری خاطر مت روؤ۔ تم اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے روؤ۔ 29 لوگوں کو یہ کہنے کا وقت آئیگا کہ بانجھ عورتیں خوش نصیب ہو ں گی۔ نہ جننے والی عورتیں اورنہ دودھ پلا نے والی عورتیں بھی خوش نصیب ہوں گی۔ 30 تب لوگ پہاڑوں سے کہینگے کہ ہم پر گر جا! اور پہاڑیوں سے کہیں گے کہ ہمیں چھپا لے- [b] 31 زندگی چین و سکون والی ہو تو لوگ اس طرح سلوک کریں گے اور اگر زندگی تکالیف و مصائب میں مبتلا ہو تو لوگ کیا کریں گے؟” 32 یسوع کے ساتھ دو اور مجرم اور بد کار لوگوں کو قتل کر نے کا انہوں نے ارادہ کیا۔ 33 یسوع کو اور ان دو بد کاروں کو وہ “کھوپڑی”نام کے مقام پر لے گئے وہاں پر سپاہیوں نے یسوع کو مصلوب کیا اور مجرموں کو صلیب میں جکڑدیا۔ ایک کو یسوع کی داہنی طرف اور دوسرے اس کی کو با ئیں طرف جکڑ دیا۔ 34 یسوع نے دعا کی کہ اے میرے باپ ان کو معاف کر دے کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔” سپاہی قرعہ ڈالے اس لئے کہ یسوع کے کپڑے کس کو ملنے چاہئے۔ 35 لوگ دیکھ تے ہوئے وہاں کھڑے تھے۔ یہودی قائدین نے یسوع کو دیکھتے اور ٹھٹھا کر تے۔ اور انہوں نے کہا، “اگر یہ خدا کا منتخب مسیح ہے تو اپنے آپ کو بچا لے کیا اس نے دوسروں کو نہیں بچایا ؟” 36 سپاہی بھی یسوع کا مذاق کر نے لگے اور یسوع کے قریب آکر سرکہ کو دیتے ہوئے کہا۔ 37 “اگر تو یہودیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچا۔” 38 صلیب کے اوپر نمایاں جگہ پر لکھا ہوا تھا کہ “یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔” 39 ان دو بدکاروں میں سے ایک نے چیخ و پکار کر تے ہوئے یسوع سے کہا کہ کیا تو مسیح نہیں ہے ؟ “اگر تو ایسا ہے تو اپنے آپ کو اور ہم کو کیوں نہیں بچاتا ؟” 40 لیکن دوسرا بد کار نے اس پر تنقید کی اور کہا تجھے خدا سے ڈرنا چاہئے اس لئے کہ ہم سب جلدی ہی مرنے والے ہیں! 41 تو اور میں مجرم ہیں ہم نے جو غلطی کی ہے اسکی سزا بھگتنا چاہئے اور کہا کہ لیکن یہ آدمی نے کو ئی جرم نہیں کیا ہے۔” 42 تب اس نے کہا، “اے یسوع! جب تو اپنی حکومت قائم کریگا تو مجھے یاد کرنا!” 43 يسوع نے کہا، “سن! ميں تجھ سے سچ کہتا ہوں آج ہي کے دن تو ميرے ساتھ جنت ميں جائيگا۔” یسوع کی موت 44 اسی درمیان میں لگ بھگ دوپہر ہوگیا۔ لیکن پورا علاقہ غالباً تین بجے تک تاریکی میں ڈوب گیا۔45 سورج کی روشنی ہی نہ رہی ہیکل کا پر دہ دوحصّوں میں بٹ کر پھٹ گیا۔ 46 تب یسوع نے اونچی آواز میں کہا ، “اے میرے باپ! میں میری رُوح کو تیرے حوالے کرتا ہوں” یہ کہنے کے بعد وہ انتقال کر گئے۔ 47 وہاں پر مو جو د فوجی افسر نے سا را واقعہ دیکھا اور کہا ، “بے شک یہ را ستباز ہے” اور خدا کی تمجید کر نے لگا۔ 48 اس واقعہ کو دیکھنے کے لئے کئی لوگ شہر کے با ہر آئے ہو ئے تھے۔ اور جب لوگوں نے یہ دیکھا تو بہت افسوس کر تے ہوئے واپس ہوئے۔ 49 یسوع کے قریبی دوست وہاں پر مو جو د تھے گلیل سے یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے والی چند عورتیں بھی وہاں تھیں وہ سب صلیب سے دور کھڑی ہو کر اس سا رے واقعہ کو دیکھ رہی تھیں۔ ا رمتیہ کا یوسف 50-51 ا رمتیہ یہودیوں کاایک گاؤں تھا۔اور یوسف اس گاؤں کا باشندہ تھا یہ ایک بڑا مذ ہبی آدمی تھا۔ اور یہ خدا کی بادشاہت کی آمد کے انتظار ہی میں تھا۔ یوسف یہودیوں کے کلیسا کا ایک رکن تھا۔جب دوسرے یہودی قائدین نے یسوع کو قتل کر نے کا فیصلہ کیا تو یہ اس سے اتفاق نہ کیا۔ 52 یوسف پیلا طس کے پاس گیا اور اس سے گذارش کی کہ وہ یسوع کی لاش اسے دیدے۔ 53 اس نے یسوع کی لاش کو صلیب سے اتار کر اور ایک بڑے کپڑے میں لپیٹ کر چٹان کے نیچے کھودی گئی قبر میں اتار دیا۔ اور اس قبر میں اس سے پہلے کبھی بھی اور کسی کو دفن نہیں کیاگیا تھا۔ 54 وہ تیاری کا دن تھا۔سورج غروب ہوا تو سبت کے دن کا آغاز ہوا تھا۔ 55 وہ تمام عورتیں جو گلیل سے یسوع کے ساتھ آئی تھیں۔ یوسف کے پیچھے ہو گئیں تا کہ وہ قبر کو اور یسوع کی لاش کو رکھی گئی جگہ کو دیکھ لیں۔ 56 تب دو عورتیں یسوع کی لاش پر لگا نے والے خوشبو کی چیزیں اور دیگر لواز مات تیار کر نے کے لئے چلی گئیں۔سبت کے دن انہوں نے آرام کیا۔موسیٰ کی شریعت کے مطابق سبت کے دن تمام لوگ یہی کرتے ہیں۔ Footnotes: a. لوقا 23:17 آیت ۱۷ لوقا کے چند یونانی نسخوں میں ۱۷ویں آیت شامل کردی گئی ہے – جو اس طرح ہے “ہر سال فسح کی تقریب کے موقع پر پیلاطس کو لوگوں کے لئے ایک مجرم کو رہا کرنا ہونا تھا۔” b. لوقا 23:30 اِقتِباس ہوسیع ۸:۱۰ لوقا 24 یسوع کا دوبارہ جی اٹھنا 24 ہفتہ کے پہلے دن کی صبح جبکہ اندھیرا ہی تھا۔وہ عورتیں جوخوشبو کی چیزیں تیار کی تھیں قبر پر گئیں جہاں یسوع کی میت رکھی گئی تھی۔ 2 لیکن انہوں نے قبر کے داخلہ پر جو پتھر ڈ ھکا تھا اسکو لڑھکا ہوا پایاوہ اندر گئیں۔ 3 لیکن وہ خداوند یسوع کے جسم کو نہ دیکھ سکیں۔ 4 عورتوں کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی تھی اور تعجب کی بات یہ تھی کہ چمکدار لباس میں ملبوس دو فرشتے انکے پاس کھڑے ہو گئے۔ 5 وہ عورتیں بہت گھبرا ئیں اور اپنے چہروں کو زمین کی طرف جھکا کر کھڑی ہو گئیں۔ ان آدمیوں نے کہا، “تم زندہ آدمی کو یہاں کیوں تلاش کر تے ہو ؟ جب کہ یہ تو مُر دوں کو دفنانے کی جگہ ہے! 6 یسوع یہاں نہیں ہے۔ وہ تو دوبارہ جی اٹھا ہے اس نے تم کو گلیل میں جو بات بتا ئی تھی کیا وہ یاد نہیں ہے ؟ 7 کیا یسوع نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ابن آدم برے آدمیوں کے حوالے کیا جائیگا اور مصلوب ہوگا پھر تیسرے ہی دن دوبارہ جی اٹھیگا؟” 8 تب ان عورتوں نے یسوع کی باتوں کو یاد کیا۔ 9 جب وہ عورتیں قبرستان سے نکل کر گیارہ رسولوں اور تمام دوسرے ساتھ چلنے والوں کے پاس گئیں تو وہ عورتیں قبر کے پاس پیش آئے سارے واقعات کو ان سے بیان کئے۔ 10 یہ عورتیں مریم مگدینی اور یوانّہ، یعقوب کی ماں مریم ان کے علاوہ دوسری چند عورتیں تھیں۔ ان عورتوں نے پیش آئے ہو ئے ان تمام واقعات کو رسولوں سے بیان کیا۔ 11 لیکن رسولوں نے یقین نہ کیا۔ اور انکو یہ تمام چیزیں دیوانگی کی بات معلوم ہوئی۔ 12 لیکن پطرس اٹھا دوڑتے ہوئے قبر کی طرف چلا ، جب وہ اندر جا کر جھانک کر دیکھا کہ صرف کفن ہی کفن ہے جس سے یسوع کو لپیٹا گیا تھا۔ پطرس تعجب کرتے ہو ئے وہاں سے چلا گیا۔ اماؤس کے راستے میں 13 اسی دن یسوع کے شاگردوں میں سے دو شاگرد اما ؤس نام کے شہر کو جا رہے تھے اور وہ یروشلم سے تقریباً سات میل کی دوری پر تھا۔ 14 پیش آئے ہوئے ہر واقعہ کے بارے میں وہ باتیں کر رہے تھے۔15 جب یہ باتیں کر رہے تھے تو یسوع خود ان کے قریب آئے اور خود انکے ساتھ ہو لئے۔ 16 لیکن کچھ چیزیں ان کو ان کی شناخت کر نے میں رکاوٹ بنیں۔ 17 یسوع نے ان سے پو چھا ، “تم چلتے ہوئے کن واقعات کے بارے باتیں کر رہے ہو؟”وہ دونوں وہیں پر ٹھہر گئے۔ اور انکے چہرے غمزدہ تھے۔ 18 ان میں کلیپاس نامی ایک آدمی نے جواب دیا۔ ہو سکتا ہے “صرف تم ہی وہ آدمی ہو جو یروشلم میں تھے اور نہیں جانتے کہ ان واقعات کو جو کہ گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے۔” 19 یسوع نے ان سے پو چھا ، “تم کن چیزوں کے بارے میں آپس میں باتیں کر رہے تھے؟” انہوں نے اس سے کہا ، یسوع کے بارے میں جو کہ ناصرت کا ہے اور جو خدا کی اور لوگوں کی نظر میں ایک عظیم نبی تھا۔ انہوں نے کئی عجیب و غریب اور طاقتور معجزے دکھا ئے۔ 20 ہمارے قائدین اور کاہنوں کے رہنما اس کو موت کی سزا دلوانے کے لئے اس کو پکڑوایا اور صلیب پر چڑھا دیا۔ 21 ہم اس امید میں تھے کہ یسوع ہی بنی اسرائیلیوں کو چھٹکا رہ دلا ئے گا تمام واقعات پیش آئے مگر اب ایک اور واقعہ پیش آیاہے اب جب کہ انکو انتقال کئے تین دن ہو ئے ہیں۔ 22 آج ہی ہماری چند عورتیں بڑی ہی عجیب و غریب واقعات سنائے ہیں۔ صبح کے وقت یسوع کی میت رکھی گئی قبر کے پاس دو عورتیں گئیں۔ 23 لیکن وہاں پر اس کی لاش کو نہ پا سکے اور وہ عورتیں واپس ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ انہوں نے رویا میں دو فرشتوں کو دیکھا اور ان فرشتوں نے ان سے کہا کہ یسوع زندہ ہے۔ 24 ہمارے گروہ میں سے چند لوگ بھی قبر پر گئے جھانک کر دیکھا اور قبر خالی تھی جیسا کہ عورتوں نے کہا تھا۔” 25 تب یسوع نے ان دو آدمیوں سے کہا “تم احمق ہو اور صداقت قبول کر نے میں تمہارے قلب سست ہیں نبی کی کہی ہوئی ہر بات پر تمہیں ایمان لا نا ہی ہوگا۔ 26 نبیوں نے کہا ہے کہ مسیح کو اس کے جلال میں داخل ہونے سے پہلے تکالیف کو برداشت کر نا ہوگا۔” 27 تب یسوع نے خود کے بارے میں صحیفوں میں لکھی گئی بات پر وضاحت کی اور موسٰی کی شریعت سے شروع کرکے کہ نبیوں نے اس کے بارے میں جو کہا تھا۔ اس نے انکو تفصیل سے سمجھایا۔ 28 جب وہ اماوس گاؤں کے قریب پہنچے تو وہ خود اسطرح ظاہر کرنے لگے کہ وہ وہاں ٹھہر نے کے لئے نہیں جا رہے ہیں۔ 29 تب انہوں نے اس سے لگا تار گزارش کی کہ “اب چونکہ وقت ہو چکا ہے اور رات کا اندھیرا چھا جانے کو ہے اسلئے تم ہمارے ساتھ رہو۔” اسلئے وہ انکے ساتھ رہنے کے لئے گاؤں میں چلے گئے۔ 30 یسوع ان کے ساتھ کھا نے کے لئے دستر خوان پر بیٹھ گئے۔ اور اس نے تھوڑی سی رو ٹی نکالی۔ اور وہ غذا کے لئے خدا کا شکر ادا کرتا ہوا اس کو توڑ کر انکو دیا۔ 31 تب انہوں نے یسوع کو پہچان لیا کچھ دیر بعد وہ جان گئے کہ یہی یسوع ہیں اور وہ انکی نطروں سے اوجھل ہو گئے۔ 32 وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کر نے لگے کہ “جب راستے میں یسوع ہمارے ساتھ باتیں کر رہے تھے اور صحیفوں کوسمجھا رہے تھے تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہم میں آ گ جل رہی ہے۔ 33 اس کے فوراً بعد وہ دونوں اٹھے اور یروشلم کو واپس ہو ئے۔ یروشلم میں یسوع کے شاگرد جمع ہو ئے۔ گیارہ رسول اور دوسرے لوگ ان کے ساتھ ا کٹھے ہو ئے۔ 34 انہوں نے کہا ، “خدا وند سچ مچ موت سے دوبارہ جی اٹھے ہیں! وہ شمعون کو نظر آیا ہے۔” 35 تب یہ دونوں راستے میں پیش آئے ہو ئے واقعات کو سنانے لگے اور کہا جب اس نے روٹی کو توڑا تو انہوں نے اسے پہچان لیا۔ یسوع اپنے شاگردوں کو دکھا ئی دیا 36 جب وہ دونوں ان واقعات کو سنا رہے تھے تو تب یسوع شاگردوں کے گروہ کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر ان سے کہا ، “تمہیں سلا متی نصیب ہو۔” 37 تب ساگرد چونک اٹھے۔ اور ان کو خوف ہوا۔ اور وہ خیال کر نے لگے کہ وہ جو دیکھ رہے ہیں شاید کو ئی بھوت ہو۔ 38 لیکن یسوع نے کہا تم کیوں پس وپیش کر رہے ہو؟ اور تم جو کچھ دیکھ سکتے ہو اس پر شک کیوں کرتے ہو؟ 39 تم ہاتھوں اور پیروں کو دیکھو میں تو وہی ہوں! مجھے چھو ؤ۔ اور میرے اس زندہ جسم کو دیکھو۔اور کہا کہ بھوت کا ایسا جسم نہیں ہوتا جیسا کہ میرا ہے۔” 40 یسوع ان سے کہنے کے بعد اپنے ہاتھوں اور پیروں میں واقع ز خموں کے نشان بتا نے لگے۔ 41 شاگرد بہت زیادہ حیرت زدہ ہوئے اور یسوع کو زندہ دیکھ کر بیحد خوش ہو ئے۔ اسکے بعد بھی ان کو کامل یقین نہ آیا۔۔ تب یسوع نے ان سے پوچھا ، “کیا اب تمہارے پاس یہاں کھا نے کو کچھ ہے ؟” 42 تو انہوں نے پکائی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا د یا۔ 43 شاگردوں کے سامنے یسوع نے اس مچھلی کو لیا اور کھا لیا۔ 44 یسوع نے ان سے کہا ، “میں اس سے پہلے جب تمہارے ساتھ تھا تو اسوقت کو یاد کرو میرے تعلق سے موسٰی کی شریعت میں اور نبیوں کی کتاب میں زبور میں جو کچھ لکھا ہے اس کو پورا ہونا ہے۔” 45 پھر کتاب مقدس کو سمجھنے کے لئے اس نے انکی عقل کا دروازہ کھول دیا۔ 46 پھر یسوع نے ان سے کہا یہ لکھا گیا ہے کہ مسیح کے مصلوب ہو نے کے تیسرے دن موت سے وہ دوبارہ جی اٹھے گا۔ 47-48 ان واقعات کو پورا ہو تے ہوئے تم نے دیکھا ہے اور تم ہی اس پر گواہ ہو اور کہا تم لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو اپنے گناہوں پر تو بہ کر کے جو کوئی اپنی توجہ خدا کی طرف کر لیتا ہے تو اسکے گناہ معاف ہو نگے تم اس تبلیغ کو یروشلم میں میرے نام سے شروع کرو اور یہ خوشخبری دنیا کے تمام لوگوں میں پھیلاؤ۔ 49 سنو! میرے باپ کا تمہارے ساتھ جو وعدہ ہے وہ میں تمکو بھیج دونگا اور کہا کہ جب تک عالم بالا سے تم قوت کا لباس نہ پا ؤ اس وقت تک تم یروشلم ہی میں انتظار کرو۔” یسوع کا آسمان کو روانہ ہونا 50 یسوع اپنے شاگردوں کو یروشلم سے باہر بیت عنیاہ کے قریب تک بلا نے گئے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر شاگردوں کے حق میں دعا کی۔ 51 یسوع جب انہیں دعائیں دے رہے تھے تب اسے ان سے الگ کر کے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ 52 شاگردوں نے وہاں پر اس کی عبادت کی۔ تب پھر وہ شہر کو لوٹ گئے وہ بہت زیادہ خوش تھے۔ 53 اور وہ ہمیشہ ہیکل میں خدا کی حمد و ثنا کر نے لگے۔ یوحنا 1 مسیح کی دنیا میں آمد 1 دُنیا کی ابتدا ء سے پہلے کلام [a] وہاں تھا کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔ 2 وہ ابتدا ء میں خدا کے ساتھ تھا۔ 3 سب چیزیں اس کے ذریعے پیدا ہو ئیں۔ اس کے بغیر کو ئی چیز نہیں بنی۔4 اُ س میں حیات تھی اور وہ زندگی دُنیا کے لوگوں کے لئے نوُر تھی۔ 5 نوُر تاریکی میں چمکتا ہے لیکن تاریکی اس نور پر کبھی قابو نہ پا سکی۔ 6 یوحنّا [b] نامی ایک آدمی تھا اس کو خدا نے بھیجا تھا۔ 7 یوحناّ لوگوں سے اس نوُر کے متعلق کہنے آیا تا کہ یوحناّ کے ذریعہ لوگ نوُر کے متعلق جان سکیں اور مان سکیں۔ 8 یوحناّ خوُد نوُرنہ تھا لیکن وہ لوگوں کو نوُر کے متعلق بتا نے آیا۔ 9 سچّا حقیقی نور دُنیا میں آرہا تھا۔یہ نور جس نے تمام لوگوں کو روشنی دی۔ 10 وہ دُنیا میں پہلے ہی سے مو جود تھا دُنیا اسی کے وسیلے سے پیدا ہو ئی لیکن دُنیا کے لو گوں نے اسے نہیں پہچا نا۔ 11 وہ اپنی دُنیا میں آیا لیکن اس کے اپنے لوگوں نے اسے قبول نہ کیا۔ 12 کچھ لو گوں نے اسے قبول کیا جنہوں نے قبول کیا وہ ایمان لا ئے اورجو ایمان لا ئے ان کو کچھ عطا کیا گیا اس نے ان کو خدا کی اولا د ہو نے کا حق دیا۔ 13 یہ بچے اس طرح نہیں پیدا ہو ئے جس طرح عام بّچے پیدا ہو تے ہیں۔ وہ اس طرح نہیں پیدا ہوئے جیسا کہ کسی ماں باپ کی تمنایا خوا ہش سے پیدا ہو تے ہیں۔ ا ن بچوں کو خدا نے خود پیدا کیا۔ 14 کلا م نے انسان کی شکل لیا اور ہم لوگوں میں رہا۔ ہم نے اس کا جلا ل دیکھا۔ جیسا کہ با پ کے اکلوتے بیٹے کا جلا ل۔ کلا م سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا۔ 15 یوحناّ نے اپنے بارے میں لوگوں سے کہا۔ یوحناّ نے واضح کیا کہ “یہ وہی ہے جس کے متعلق میں بات کر رہا تھا وہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زیادہ عظیم ہے اسلئے کہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔” 16 کلام سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا اور ہم تمام نے اُس سے زیادہ سے زیادہ فضل پایا۔ 17 شریعت تو موسیٰ کے ذر یعہ دی گئی لیکن فضل اور سچا ئی یسوع مسیح کے ذریعہ ملی۔ 18 کسی نے کبھی بھی خدا کو نہیں دیکھا لیکن اکلوتا بیٹا خدا ہے وہ باپ سے قریب ہے اور بیٹے نے ہمیں بتا یا کہ خدا کیسا ہے۔ یوحناّ کا یسوع کے بارے میں لوگوں سے کہنا 19 یروشلم کے یہودیوں نے چند کا ہنوں اور لا وی [c] کو یوحناّکے پاس بھیجا یہ پوچھنے کے لئے کہ “وہ کون ہے ؟” 20 یوحناّ نے کھلے طور پر کہا اور اقرا ر کیا “میں مسیح نہیں ہوں۔” 21 یہودیوں نے یوحناّ سے پوچھا، “پھر تم کو ن ہو ؟ کیاتم ایلیاہ ہو ؟” یوحناّ نے جواب دیا، “میں ایلیاہ نہیں ہوں۔” پھر یہودیوں نے پوچھا، “کیا تم نبی ہو؟” یوحنا نے کہا، “نہیں میں نبی نہیں ہوں۔” 22 تب یہود یوں نے پوچھا ، “پھر تم کون ہو؟ اپنے بارے میں بتا ؤ” اور کہو تا کہ انہیں جواب دے سکیں۔ جس نے ہمیں بھیجا ہے۔ تم اپنے بارے میں کیا کہتے ہو۔ 23 یوحناّ نے یسعیاہ نبی کے الفا ظ کہے، “میں صحرا میں پکا ر نے والے کی آواز ہوں خداوند کی راہ سیدھی کرو۔” [d] 24 یہ یہودی فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ 25 ان لوگوں نے یوحناّ سے پوچھا ، “تم کہتے ہو کہ تم مسیح نہیں ہو اور یہ بھی کہتے ہو کہ تم ایلیاہ نہیں ہو اور نبی بھی نہیں پھر تم بپتسمہ لوگوں کو کیوں دیتے ہو؟” 26 یوحناّ نے جواب دیا، “میں لوگوں کو پانی سے پبتسمہ دیتا ہوں لیکن تم میں ایک آدمی ہے جسے تم نہیں پہچانتے۔” 27 وہ آدمی میرے بعد آ ئے گا میں تو اس کی جو تیوں کے تسمے کھو لنے کے بھی قابل نہیں ہوں۔ 28 یہ سب کچھ دریائے یردن کے پار بیت عنیاہ کے علا قے میں ہوا جہاں یوحناّ لوگوں کو بپتسمہ دے رہا تھا۔ 29 دوسرے دن یوحناّ نے دیکھا کہ یسوع اسکی طرف آ رہے ہیں۔یوحناّ نے کہا، “دیکھو یہ خدا کا میمنہ ہے یہ دنیا سے گنا ہوں کو لے جا نے آیا ہے۔ 30 یہ وہی آدمی ہے جس کی بات میں تم سے کہہ رہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آئے گا اور وہ مجھ سے عظیم ہو گا کیوں کہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔ اور وہاں ہمیشہ سے رہا تھا۔ 31 حتیٰ کہ میں اسے جانتا نہ تھاوہ کون تھا لیکن میں لوگوں کو پا نی سے بپتسمہ دینے کیلئے آیا۔اسطرح اسرائیلی جان سکتے ہیں کہ یسوع ہی مسیح ہیں۔” 32-33 یوحناّ نے کہا، “میں یہ بھی نہیں جانتا کہ مسیح کو ن ہے” لیکن خدا نے مجھے پانی سے بپتسمہ دینے کے لئے بھیجا اور خدا نے مجھ سے کہا، “روح ایک آدمی پر نازل ہو گی اور وہ وہی آدمی ہو گا جو لوگوں کو مقدس روح سے بپتسمہ دیگا۔” یوحناّ نے کہا، “میں نے دیکھا کہ وہ روح آسمان سے نیچے آئی وہ روح ایک کبوتر کی مانند تھی اور اس پر بیٹھ گئی” 34 اسی لئے میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ“وہ خدا کا بیٹا ہے۔” یسوع کا پہلا شاگرد 35 دُوسرے دن یوحناّ دوبارہ وہاں اپنے دو شاگردوں کے ساتھ تھے۔ 36 جب یو حنا نے دیکھا کہ یسوع وہاں آرہے ہیں تو اس نے کہا ،“خدا کے میمنہ کو دیکھو۔” 37 جب ان دونوں شاگردوں نے یوحنا کو یہ کہتے ہوئے سنا تو یسوع کے پیچھے ہو لئے۔ 38 جب یسوع نے پلٹ کر دیکھا کہ دونوں اسکی تقلید کر رہے ہیں تو یسوع نے پو چھا، “تم کیا چاہتے ہو ؟” دونوں نے کہا، “اے ربّی یعنی استاد آپ کہاں ٹھہرے ہیں ؟” 39 یسوع نے جواب دیا، “تم میرے ساتھ آؤ اور دیکھو” تب دونوں یسوع کے ساتھ گئے اور اس جگہ کو دیکھا جہاں یسوع ٹھہرے تھے۔ اور اس دن وہ یسوع کے ساتھ ٹھہرے یہ تقریباً چار بجے کا وقت تھا۔ 40 وہ دونوں آدمی یسوع کے متعلق یوحنا سے سن کر یسوع کے ساتھ ہو گئے ان دونوں میں سے ایک آدمی جس کا نام اندر یاس جو شمعون پطرس کا بھا ئی تھا۔ 41 اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ وہ اپنے بھا ئی شمعون کی تلاش میں نکلا اور اس سے کہا، “ہم نے مسیحا ( جس کے معنی مسیح ) کو پا لیا۔” 42 پھر اندر یاس شمعون کو یسوع کے پاس لا یا یسوع نے شمعون کو دیکھا اور کہا،“کیا تم یو حنا کے بیٹے شمعون ہو ؟ تم کیفا یعنی پطرس کہلاؤ گے۔” 43 دوسرے دن یسوع نے طے کیا کہ گلیل جائے اور وہ فلپ سے مل کر کہا، “میرے ساتھ ہو لے” 44 فلپ کا تعلق شہر بیت صیدا سے تھا یہ شہر اندریاس اور پطرس کا بھی تھا۔ 45 فلپ نے نتن ایل سے مل کر کہا، “یاد کرو کہ شریعت میں موسٰی نے کیا لکھا تھا موسیٰ نے لکھا تھا کہ ایک شخص آنے والا ہے۔ اور دوسرے نبیوں نے بھی اس کے متعلق لکھا تھا ہم نے اسکو پا لیا اس کا نام یسوع ہے جو یوسف کا بیٹا ہے اور وہ ناصری ہے۔” 46 لیکن نتن ایل نے فلپ سے کہا ،“ناصرت! کیا کو ئی اچھی چیز ناصرت سے آ سکتی ہے ؟” فلپ نے جواب دیا، “آؤ اور دیکھو۔” 47 یسوع نے دیکھا نتن ایل اسکی طرف آرہا ہے تو کہا، “یہ شخص جو آرہا ہے حقیقت میں اسرائیلی ہے اس میں کو ئی خامی نہیں ہے”۔ 48 نتن ایل نے پوچھا،“تم مجھے کیسے جانتے ہو ؟” یسوع نے جواب دیا، “میں نے تمہیں اس وقت دیکھا جب تم انجیر کے درخت کے نیچے تھے جبکہ فلپ نے تمہیں میرے متعلق بتا یا تھا۔” 49 تب نتن ایل نے یسوع سے کہا،“اے استاد آپ خدا کے بیٹے ہیں آپ اسرائیل کے بادشاہ ہیں۔” 50 یسوع نے نتن ایل سے کہا، “میں نے تم سے کہا تھا کہ میں نے تمہیں انجیر کے درخت کے نیچے دیکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تم مجھ پر یقین رکھتے ہو۔ لیکن! تم اس سے بھی زیادہ عظیم چیزیں دیکھو گے۔”51 یسوع نے مزید کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں تم سب کو ئی دیکھو گے کہ آسمان کھلا ہے اور خدا کے فرشتے اوپر جا رہے ہیں اور ابن آدم پر نیچے آرہے ہیں۔” [e] Footnotes: a. یوحنا 1:1 کلام یہاں اس کا معنی ہے مسیح۔ یونانی لفظ ہے “لوگوز” جس کا مطلب ہے ایک طرح کا مراسلہ – اس کا ترجمہ“پیغام” بھی ہو سکتا ہے۔ b. یوحنا 1:6 یوحناّ یوحنّا بپتسمہ دینے والا جس نے لوگوں کو مسیح کی آمد کی تعلیم دی- متّی ۳؛لوقا۳ c. یوحنا 1:19 لاوی لاوی لوگ لاوی خاندانی گروہ کےآدمی تھے جو کہ ہیکل میں یہودی کاہنوں کی مدد کیا کر تے تھے- d. یوحنا 1:23 یسعیاہ۴۰:۳ e. یوحنا 1:51 اِقتِباس پیدائش۱۲:۲۸ یوحنا 2 قا نا میں شادی 2 دو دن بعد گلیل میں شہر قانا میں ایک شادی ہو ئی جہاں یسوع کی ماں تھی۔ 2 یسوع اور اسکے ساتھی بھی شادی میں مدعو کئے گئے تھے۔ 3 شادی کی تقریب میں جب مئے ختم ہو گئی تب یسوع کی ماں نے کہا ، “ان کے پاس مزید مئے نہیں ہے۔” 4 یسوع نے اس سے کہا، “اے عورت تم یہ نہ کہو کہ مجھے کیا کر نا ہے ؟ میرا وقت ابھی نہیں آیا ہے۔” 5 یسوع کی ماں نے نوکروں سے کہا ، “تم وہی کرو جو یسوع کرنے کو کہے۔” 6 اس جگہ چھ پتھر کے بڑے مٹکے رکھے تھے جنہیں یہودی صفائی طہارت کے لئے استعمال کرتے تھے ہر مٹکے میں ۲۰یا ۳۰ گیلن پا نی کی گنجا ئش تھی۔ 7 یسوع نے خدمت گزا روں سے کہا ، “ا ن برتنوں کو پا نی سے بھر دو۔”اور خدمت گاروں نے برتنوں کو پا نی سے لبریز کر دیا۔ 8 یسو ع نے ان خدمت گاروں سے کہا، “اس میں سے تھو ڑا پا نی نکالو اور اس کو دعوت کے میر کے پاس لے جاؤ۔” چنانچہ خدمت گاروں نے پانی کو دعوت کے میر کے پاس پیش کیا۔ 9 اور جب دعوت کے میر نے اس کا مزہ چکھا تو معلوم ہوا کہ پا نی مئے میں تبدیل ہو گیا تھا ان لوگوں نے یہ نہیں جانا کہ مئے کہاں سے آئی لیکن خدمت گار جو پا نی لائے تھے انہیں معلوم تھا کہ مئے کیسے آئی۔ دعوت کے میر نے دولہا کو طلب کیا۔ 10 اور دولہا سے کہا ، “لوگ ہمیشہ پہلے بہترین مئے سے تواضع کرتے ہیں اور جب پی کر سیر ہو جا تے ہیں تب ناقص مئے دیتے ہیں لیکن تم نے عمدہ مئے اب تک بچا رکھی ہے۔” 11 یہ پہلا معجزہ تھا جو یسوع نے کیا۔ اس معجزے کو اس نے گلیل کے شہر قا نا میں کیا اور اسطرح اپنی عظمت کو دکھا یا اور اسکے ساتھی ایمان لا ئے۔ 12 تب یسوع اپنی ماں بھائیوں اور شاگردوں کے ساتھ کفر نحوم کو گیا اور وہاں کچھ دن ٹھہرا۔ یسوع کا ہیکل میں جانا 13 یہودیوں کی فسح [a] قریب تھی چنانچہ یسوع یروشلم گئے۔ 14 یسوع یروشلم میں ہیکل گئے وہاں اس نے دیکھا کہ لوگ وہاں مویشی بھیڑ کبوتر فروخت کر رہے ہیں۔ اور دوسرے لوگ میز پر بیٹھے ہو ئے پیسوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ 15 یسوع نے رسّیوں سے کو ڑا تیار کیا اور لوگوں کو ڈرا کر انہیں اور تمام مویشی بھیڑوں اور کبوتروں کو ہیکل کے باہر کر دیئے اور میز پر بیٹھے لوگوں کے پاس جا کر ان کی میز کو الٹ دیئے اور با ہر کر دیئے اور انکی رقم کو پھیلا دیئے۔ 16 تب یسوع نے ان لوگوں سے کہا جو کبوتر فروخت کر رہے تھے ، “یہ سب کچھ لیکر یہاں سے نکل جاؤ۔ میرے باپ کے گھر کو تجارت کی جگہ نہ بناؤ۔” 17 جب یہ واقعہ پیش آیا تب یسوع کے شاگردوں نے یاد کیا کہ صحیفوں میں جو لکھا ہے: “تیرے گھر کی غیرت مجھے تباہ کر دیگی” [b] 18 یہودیوں نے یسوع سے کہا، “ہم کو کونسا ایسا معجزہ دکھا ؤ گے جو یہ ثابت کرے کہ تم ایسا کر نے کا حق رکھتے ہو۔” 19 یسوع نے جواب دیا، “اس ہیکل کو تباہ کر دو میں اسکو پھر تین دن میں بنادونگا۔” 20 یہودیوں نے کہا، “لوگوں نے اس ہیکل کو بنانے میں ۴۶ سال لگا ئے ہیں کیا تمہیں یقین ہے کہ دوبارہ اسکو تین دن میں بناؤ گے ؟” 21 لیکن ہیکل کہنے سے یسوع کی مراد اپنا بدن تھا۔ 22 جب وہ مردوں میں سے زندہ ہوا تب اسکے شاگردوں کو یاد آیا کہ اس نے ایسا کہا تھا اور انہوں نے صحیفے پر اور یسوع کے قول پر ایمان لایا۔ 23 جب یسوع فسح کی تقریب پر یروشلم میں تھے کئی لوگوں نے اُس کے معجزوں کو دیکھ کر یسوع پر ایمان لا ئے۔ 24 لیکن یسوع نے ان پر بھروسہ نہیں کیا کیوں کہ یسوع کو وہ تمام لوگ معلوم تھے۔ 25 یسوع یہ ضروری نہیں سمجھا کہ کوئی اسے لوگوں کے بارے میں بتا ئے اس لئے کہ اسے معلوم تھا کہ ان لوگوں کے دماغوں میں کیا ہے۔ Footnotes: a. یوحنا 2:13 فسح یہودیوں کا مقدس دن اس روز ایک خاص کھانا بنتا ہے یہ یاد رکھنے کے لئے کہ اس دن مصر میں خدا نے انہیں غلامی سےآزاد کیا تھا موسی کے زمانے میں- b. یوحنا 2:17 زبور۶۹:۹ یوحنا 3 یسوع اور نیکو دیمُس کے درمیان بحث و مباحثہ کا ہونا 3 فریسیوں میں سے نیکو دیمس نامی ایک شخص تھا۔ وہ یہودیوں کا ایک اہم سر براہ تھا۔ 2 ایک رات نیکو دیمس یسوع کے پا س آیا اور کہا، “اے استاد! ہم جانتے ہیں کہ تم استاد ہو جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہو۔ کو ئی اور آدمی ان معجزوں کو بغیر خدا کی مدد کے نہیں دکھا سکتا۔” 3 یسوع نے جواب دیا ،“میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ آدمی کو دوبا رہ پیدا ہو نا چاہئے اگر وہ دوبارہ نہیں پیدا ہوتا تو وہ خدا کی بادشاہت میں نہیں رہ سکتا ہے۔” 4 نیکو دیمس نے کہا، “لیکن ایک آدمی جو پہلے ہی بو ڑھا ہے وہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔ آدمی دوبارہ اپنی ماں کے جسم میں دا خل نہیں ہو سکتا اسی لئے کو ئی آدمی دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا۔” 5 لیکن یسوع نے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ آدمی کو پا نی اور روح سے پیدا ہو نا چاہئے اگر آدمی پانی اور روح سے پیدا نہیں ہو تا ہے۔ تو خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ 6 ایک آدمی کا جسم اسکے والدین کے ذریعے پیدا ہو تا ہے لیکن ایک آدمی کی روحا نی زندگی صرف روح سے پیدا ہو تی ہے۔ 7 میرے کہنے سے حیران مت ہو تم کو دوبارہ پیدا ہو نا چاہئے۔ 8 ہوا کا جھونکا کہیں سے بھی چل سکتاہے تم ہوا کے جھو نکے کو سن سکتے ہو لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہوا آئی کہاں سے اور کہاں جائیگی یہی ہر اس آدمی کے ساتھ ہو تا ہے جو روح سے پیدا ہو تا ہے۔” 9 نیکو دیمس نے پوچھا، “یہ سب کس طرح ممکن ہے۔” 10 یسوع نے کہا، “اگر چہ کہ تم ایک یہودیوں کے اہم استاد ہو پھر بھی تم ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔11 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ہم جو کچھ جا نتے ہیں اس کے متعلق بات کر تے ہیں ہم وہی کہتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں لیکن تم لوگ یہ نہیں قبول کر تے جو ہم تم سے کہتے ہیں۔ 12 میں تم سے ان چیزوں کے متعلق جو زمین پر ہیں کہہ چکا ہوں لیکن تم مجھ پر یقین نہیں کر تے ہو تو پھر تم کس طرح اس بات کا یقین کرو گے اگر میں تمہیں آسمانی باتوں کے متعلق بتا ؤں۔ 13 کو ئی بھی آسمان تک نہیں گیا سوا ئے اس کے جو آسمان سے آیا یعنی ابن آدم۔ [a] 14 “موسیٰ نے صحرا سے سانپ اٹھا لیا اسی طرح ابن آدم کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔ 15 اسلئے وہ آدمی جو ابن آد م پر ایمان لا تا ہے وہ دائمی زندگی پاتا ہے۔” 16 ہاں! خدا نے دنیا سے محبت رکھی ہے اسی لئے اس نے اسکو اپنا بیٹا دیاہے۔ خدا نے اپنا بیٹا دیا تا کہ ہر آدمی جو اس پر ایمان لا ئے جو کھوتا نہیں مگر ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ 17 خدا نے اپنا بیٹا دنیا میں اسلئے نہیں بھیجا کہ وہ قصور واروں کا فیصلہ کرے بلکہ خدا نے اپنا بیٹا اس لئے بھیجا کہ اس کے ذریعہ دنیا کی نجات ہو۔ 18 جو شخص خدا کے بیٹے پر ایمان لا تا ہے اس پر سزا کا حکم نہیں ہوگا لیکن جو اس پر ایمان نہیں لا تا اس کی پرسش ہو گی اس لئے کہ وہ خدا کے بیٹے پر ایمان نہیں لایا۔ 19 لوگوں کی عدالت اس طرح ہو گی کہ نور دُنیا میں آیا لیکن انسان نیکی کی طرف نہیں آیا وہ گناہ کی طرف ما ئل ہوا۔کیوں کہ وہ بری حرکتیں کرتا ہے۔ 20 ہر آدمی جو بری چیز کر تا ہے وہ نیکی نہیں کرتا اور نیکی کی طرف نہیں آتا کیوں کہ نیکی کی طرف آنے سے اس کی برائیاں ظا ہر ہو تی ہیں۔ 21 لیکن جو شخص سچا راستہ اختیار کر تا ہے نور کی طرف بڑھتا ہے وہ جانتا ہے کہ نیک کام وہ جو کرتا ہے خدا کی طرف سے ہے۔ [b] یسوع اور بپتسمہ دینے والا یوحناّ 22 اس کے بعد یسوع اور اس کے ساتھی یہوداہ علا قہ کی طرف روانہ ہو ئے وہاں یسوع نے قیام کر کے لوگوں کو بپتسمہ دیا۔ 23 یوحناّ نے بھی لوگوں کو عنین میں پبتسمہ دیا۔عنین سالم کے قریب ہے۔ یوحناّ نے وہاں کے لوگوں کو بپتسمہ دیا کیوں کہ وہاں پانی کی بہتات تھی۔ لوگ وہاں بپتسمہ کے لئے جا تے تھے24 یہ واقعہ یوحناّ کے قید میں ڈالے جا نے سے پہلے کا ہے۔ 25 یوحناّ کے کچھ شاگردوں نے دوسرے یہودی سے بحث و مبا حشہ کیا مذ ہبی پاکیزگی سے متعلق و ضا حت چاہتے تھے۔ 26 یوحناّ کے شا گرد اس کے پاس آئے اور کہا، “اے استاد کیا آپ کو وہ آدمی یاد ہے جو دریائے یر دن کے اُس پار آپ کے سا تھ تھا آپ لوگوں کو اس کے متعلق کہہ رہے تھے۔ وہ شخص بپتسمہ دے رہا تھا اور کئی لوگ اس کے پاس جا رہے تھے۔” 27 یوحناّ نے کہا، “آدمی وہی لے سکتاہے خدا اسے جو عطا کرے۔ 28 جو کچھ میں نے کہا تم لوگوں نے سن لیا میں یسوع نہیں ہوں میں وہی ہوں جسے خدا نے اسکی راہ بتا نے کے لئے بھیجا۔ 29 دلہن صرف دولہا کے لئے ہو تی ہے۔ دوست جو دولہا کی مدد کر تے ہیں سنتے ہیں اور دولہا کی آمد کا انتظار کر تے ہیں اور یہ دوست جو دولہا کی آواز سنتے ہیں تو خوش ہو تے ہیں اور وہی خوشی میں محسو س کر تا ہوں اور میری خوشی اب مکمل ہو گئی ہے۔ 30 وہ بہت عظمت وا لا ہوگا اور میری اہمیت کم ہو گی۔ ایک وہ جو آسمان سے آیا ہے 31 “جو آسمان سے آیا ہے دوسرے تمام لوگوں سے زیا دہ عظیم ہے اور وہ آدمی جو زمین سے تعلق رکھتا ہے زمین کا ہے وہ زمین کی چیزوں کے متعلق ہی کہے گا۔ لیکن جو آسمان سے آیا ہے وہ سب سے عظیم ہے۔ 32 اس نے جو کچھ دیکھا اور سنا ہے وہی کہتا ہے لیکن لوگ اس کے کہنے کو نہیں مانتے۔ 33 وہ آدمی جو یسوع کا کہا مانتا ہے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا ہمیشہ سچ ہی کہتا ہے۔ 34 خدا نے اسکو بھیجا اور وہی کہتا ہے جو خدا نے کہا خدا نے اس کو روح کا پو را اختیار مکمل طور پر دیا۔ 35 باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے اور اسکو ہر چیز پر اختیار دیا ہے۔ 36 جو شخص بیٹے پر ایمان لا ئے اسکی زندگی ہمیشہ کی زندگی اور جو شخص بیٹے کی اطا عت نہ کرے اسکی ابدی زندگی نہیں اورخدا کا غضب ایسے انسان پر ہو تا ہے۔” Footnotes: a. یوحنا 3:13 ابن آدم یہ نام یسوع خود اپنے لئے استعمال کیا- b. یوحنا 3:21 آیت ۲۱-۱۶ کچھ عالم آیت ۲۱-۱۶ کے بارے میں سوچتے ہیں کہ یہ یسوع کا کلام ہے –دوسرے سوچتے ہیں کہ اسے یوحنا نے لکھا ہے- یوحنا 4 یسوع کا سامری عورت سے گفتگو کر نا 4 فریسیوں نے سنا کہ یوحنا سے زیادہ یسوع اپنے شاگرد بنا رہا ہے اور انہیں بپتسمہ دے رہا ہے۔ 2 لیکن یسوع نے بذات خود لوگوں کو بپتسمہ نہیں دیا اسکے شاگردوں نے اسکی طرف سے لوگوں کو بپتسمہ دیا۔3 یسوع نے سنا کہ فریسیوں نے اس کے متعلق سنا ہے۔ 4 یسوع یہودا ہ سے واپس ہو کر گلیل پہنچا گلیل کے راستے سے جا تے وقت یسوع کو سامریہ سے گزرنا پڑا۔ 5 سامریہ میں یسوع کی آمد شہر سوخار میں ہو ئی یہ شہر اسی کھیت کے قریب ہے جسے یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دیا تھا۔ 6 یعقوب کا کنواں وہیں تھا۔ یسوع اپنے لمبے سفر سے تھک چکے تھے وہ دوپہر کا وقت تھا اور وہ کنوئیں کے قریب بیٹھ گئے۔ 7 ایک سامری [a] عورت کنویں کے قریب پا نی لینے آئی یسوع نے اس سے کہا ، “براہ کرم مجھے پینے کے لئے پا نی دو۔” 8 اس وقت یسوع کے شاگرد شہر کھا نا لا نے کے لئے گئے تھے۔ 9 سامری عورت نے کہا، “مجھے تعجب ہے کہ تم مجھ سے پینے کے لئے پا نی مانگ رہے ہو۔ تم یہودی ہو اور میں سامری عورت ہوں” (یہودی سامریوں کے دوست نہیں ہیں ) 10 یسوع نے کہا، “جو خدا دیتا ہے اسکے بارے میں نہیں جانتے اور تجھے نہیں معلوم کہ میں کون ہوں۔ اور تجھ سے پا نی مانگ رہا ہوں۔ اگر ان باتوں کو تُو جانتی تو تُو مجھ سے پو چھتی اور میں تجھے زندگی کا پا نی دیتا۔” 11 عورت نے کہا، “جناب! آپ کے پاس کو ئی چیز نہیں جس سے پا نی لیں اور کنواں بہت گہرا ہے پھر کس طرح آپ مجھے زندگی کا پا نی دیں گے۔ 12 کیا تو ہمارے باپ یعقوب سے بڑا ہے جس نے ہمیں یہ کنواں دیا ہے ؟اور خود وہ اسکے بیٹے اور اسکے مویشی نے اس سے پانی پیا ہے۔” 13 یسوع نے جواب دیا ، “ہر آدمی جو اس سے پا نی پئے گا وہ پھر بھی پیا سا ہو گا۔ 14 لیکن جو کو ئی اس پا نی کو جو میں اسکو دونگا پئے گا وہ ابد تک پیا سا نہ ہوگا اور میرا دیا ہوا اس کے لئے ایک چشمہ بن جائیگا جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے ہوگا۔” 15 عورت نے یسوع سے کہا ، “تو پھر وہ پانی مجھے دے تاکہ پھر کبھی پیا سی نہ رہوں اور نہ ہی پھر کبھی پا نی لینے یہاں آؤ ں۔” 16 یسوع نے کہا ، “جا اور جاکر اپنے شوہر کو لے آ۔” 17 عورت نے جواب میں کہا، “میں شوہر نہیں رکھتی۔” یسوع نے کہا ،“توُ نے سچ کہا کہ تیرا شوہرنہیں۔18 جب کہ تو پانچ شوہر کر چکی ہے اور تو جس کے ساتھ اب ہے وہ تیرا شوہر نہیں اور یہ تو نے سچ کہا۔” 19 عورت نے کہا ،“میں دیکھ رہی ہوں کہ تم نبی ہو۔ 20 ہمارے باپ دادا نے اس پہاڑی پر عبادت کی لیکن تم یہودی یہ کہتے ہو کہ یروشلم ہی وہ صحیح جگہ ہے جہاں عبادت کی جانی چاہئے۔” 21 یسوع نے کہا ، “اے عورت یقین کر کہ وہ وقت آرہا ہے کہ نہ تم یروشلم جاؤ گی اور نہ ہی پہاڑی پر خدا کی عبادت کرو گی۔ 22 سامری لوگ کچھ ایسی چیزوں کی عبادت کر تے ہیں جو تم خود نہیں جانتے، “ہم یہودی جانتے ہیں کس کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں سے ہے۔ 23 وہ وقت آرہا ہے اور وہ اب یہاں ہے جب کہ سچے پرستار باپ کی پرستش روح اورسچائی سے کرینگے۔ تو مقدس باپ ایسے ہی لوگوں کو چاہتا ہے جو اسکے پرستار ہوں۔ 24 خدا روح ہے اور اسکے پرستاروں کو روح اور سچائی سے پرستش کر نی ہو گی۔ 25 عورت نے جواب دیا ،“میں جانتی ہوں کہ مسیحا (یعنی مسیح) آرہے ہیں اور جب وہ آئیں گے ہمیں ہر چیز سمجھا ئیں گے۔” 26 یسوع نے کہا ، “وہی شخص تم سے بات کر رہا ہے اور میں ہی مسیح ہوں۔” 27 اس وقت یسوع کے شاگرد شہر سے واپس آئے وہ لوگ بہت حیران ہو ئے کہ یسوع ایک عورت سے بات کر رہا ہے لیکن کسی نے بھی یہ نہ پو چھا ، “آپ کو کیا چا ہئے” اور “آپ اس عورت سے کیوں بات کر رہے ہو”۔ 28 تب وہ عورت پانی کا مٹکا چھوڑ کر واپس شہر چلی گئی اور اس نے شہر میں لوگوں سے کہا۔،29 “ایک آدمی نے مجھ سے ہر وہ بات کہی ہے جو میں نے کیں آؤ اور اسکو دیکھو ممکن ہے وہ مسیح ہو۔” 30 اور لوگ یسوع کو دیکھنے شہر سے آنے لگے۔ 31 جب وہ عورت شہر میں تھی یسوع کے شاگر دوں نے التجا کی ، “اے استاد کچھ کھا ئیے۔” 32 لیکن یسوع نے جواب دیا ، “میرے پاس کھا نے کے لئے ایسا کھا نا ہے جسے تم نہیں جانتے۔” 33 پھر شاگرد آپس میں سوال کر نے لگے ، “کیا کو ئی یسوع کے کھا نے کے لئے کچھ لا یا ہے؟” 34 یسوع نے کہا ، “میرا کھا نا یہی ہے کہ اس کی مرضی کے مطا بق کا م کروں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ میری غذا یہی ہے کہ میں اس کام کو ختم کروں جو خدا نے میرے ذمہ کیا ہے۔ 35 جب تم بوتے ہو تو کہتے ہو کہ فصل آنے میں چار مہینے چاہئے لیکن میں تم سے کہتا ہوں اپنی آنکھیں کھولو اور لوگوں کو دیکھو وہ فصل کی مانند کٹنے کے لئے تیار ہیں۔ 36 اور فصل کاٹنے والا اپنی اجرت پا تا اور بیرونی زند گی کے لئے اناج جمع کر تا ہے تاکہ فصل بونے اور کاٹنے والا دونوں خوش رہیں۔” 37 لوگ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہے فصل کو ئی بوتا ہے اور فائدہ دوسرا اٹھا تا ہے۔ 38 میں نے تمہیں فصل کی کاشت کے لئے بھیجا جس کے بونے میں تم نے محنت نہیں کی لیکن دوسروں نے محنت کی اور تم انکی محنت کا پھل پا تے ہو۔” 39 اس شہر کے کئی سامری لوگ یسوع پر ایمان لے آئے ان لوگوں نے اس عورت کی بات پر یقین کیا جو اس نے کہا تھا، “یسوع نے وہ سب کچھ کہا جو میں نے کیا۔” 40 سامری یسوع کے پا س آئے اور اس سے درخواست کی کہ وہ انکے پاس ٹھہرے اس طرح یسوع نے انکے پاس دو دن قیام کیا۔ 41 جو کچھ یسوع نے کہا اس پر بہت سارے لوگ نے ایمان لائے۔ 42 لوگوں نے عورت سے کہا، “سب سے پہلے ہم یسوع پر ایمان لائے کیوں کہ تم نے ہم سے کہا۔ لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کیوں کہ ہم خود ان سے سن چکے ہیں۔ ہمیں سچا ئی معلوم ہے کہ وہی نجات دہندہ ہے جو دنیا کو بچا لیگا۔” یسوع کا وزیر کے لڑ کے کا علاج کر نا 43 دو دن بعد یسوع نے شہر چھو ڑا اور گلیل روا نہ ہو گئے۔ 44 یسوع کہہ چکے تھے کہ اس سے قبل لوگوں نے اپنے ہی شہر میں کسی نبی کی عزت نہیں کی تھی۔ 45 جب یسوع گلیل پہونچے تو لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا۔ ان لوگوں نے وہ سب کچھ اپنی آنکھو ں سے دیکھاتھا جو یروشلم میں یسوع نے فسح کی تقریب پر ان کے سامنے کئے تھے۔ 46 یسوع دوبارہ گلیل شہر قانا روانہ ہوئے۔ قا نا ہی وہ شہر ہے جہاں یسوع نے پا نی کو مئے میں تبدیل کیا تھا۔ با دشاہ کے افسروں میں ایک اہم افسر کفر نحوم کے شہر میں رہتا تھا اس افسر کا ایک لڑ کا بیمار تھا۔ 47 لوگوں کو معلوم ہوا کہ یسوع یہوداہ سے آئے ہیں اور گلیلی میں ہیں اور وہ لوگ شہر قانا میں یسوع کے پاس گئے اور استد عا کی کہ یسوع شہر کفر نحوم کو آئے اور اس لڑکے کا علا ج کرے۔ افسر کا لڑ کا قریب مر چکا تھا۔ 48 یسوع نے اس سے کہا ، “جب تک تم لوگ معجزات اور عجیب وغریب چیزیں نہیں دیکھو گے مجھ پر ایمان نہیں لا ؤگے۔” 49 باد شاہ کے وزیر نے درخواست کی کہ“میرا بچہ مر نے کے قریب ہے اسکی موت سے پہلے چلیں۔” 50 یسوع نے کہا ، “جاؤ تمہا را بچہ زندہ رہیگا!” اور اس شخص کو یسوع کے بات پر ایمان تھا یسوع کے کہنے پر اپنے گھر روانہ ہُوا۔ 51 راستے ہی میں اس آدمی کا خادم ملا اس نے کہا ، “تمہا را لڑکا اب صحتیاب ہے۔” 52 تب اس نے خادم سے پوچھا ، “میرا بچہ کس وقت اچھا ہوا۔” خادم نے جواب دیا ، “گذشتہ کل تقریباً ایک بجے اس کا بخا ر کم ہوا۔” 53 اس لڑکے کے باپ (افسر) نے خیال کیا ایک بجے کا وقت وہی وقت تھا جس وقت یسوع نے کہا تھا ،تمہارا لڑکا زندہ رہیگا ، “تب وہ اور اس کے گھر کے تمام لوگ یسوع پر ایمان لا ئے۔ 54 یہ دوسرا معجزہ تھا جو یسوع نے یہوداہ سے گلیل آنے کے بعد کیا تھا۔ Footnotes: a. یوحنا 4:7 سامری سامریہ کی رہنے والی- یہ یہودی گروہ کا ایک حصّہ ہیں –لیکن یہودی ان کو خالص یہودی تسلیم نہیں کر تے ہیں– نفرت کرتے ہیں- یوحنا 5 چشمہ پر لا علاج مریضوں کو شفاء 5 اس کے بعد یہودیوں کی ایک تقریب پر یروشلم روانہ ہو ئے۔ 2 یروشلم میں بھیڑ دروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو پانچ برآمدوں پر مشتمل ہے اور عبرانی زبان میں بیت حسدا کہلا تا ہے۔ 3 کئی بیمار اندھے لنگڑے اور فالج زدہ لوگ اس حوض کے پاس رہتے ہیں اور پا نی کے ہلنے کے منتظر رہتے ہیں 4 [a]5 اسی مقام پر ایک شخص تھا جو تقریباً اڑتیس سال سے بیمار تھا۔ 6 جب یسو ع نے اسکو وہاں پڑے ہو ئے دیکھا اور یہ جان کر کہ وہ اڑتیس سال سے بیمار ہے اس سے پو چھا ، “کیا تو صحت پا نا چاہتا ہے۔” 7 اس آدمی نے جواب دیا ، “جناب میرے پاس کو ئی آدمی نہیں جو مجھے اس وقت مدد دے سکے جب فرشتہ پا نی کو ہلا تا ہے اور جب تک میں جاؤں کوئی دوسرا اس میں اتر جاتا ہے۔” 8 یسوع نے اس سے کہا، “اٹھ اپنا بستر اٹھا اور چل۔” 9 وہ شخص فوراً اچھا تندرست ہو گیا اور اپنا بستر اٹھا کر چلنے لگا۔ یہ واقعہ جس وقت ہوا وہ دن سبت دن کا تھا۔ 10 اس لئے یہودیوں نے جو آدمی تندرست ہوا تھا اس سے کہا، “آج سبت کا دن ہے ہماری شریعت کے خلاف ہے کہ تم اپنا بستر سبت کے دن اٹھاؤ۔” 11 لیکن اس آدمی نے کہا ، “جس آدمی نے مجھے شفا دی اس نے کہا کہ اپنا بستر اٹھا ؤ اور چلو۔” 12 یہودیوں نے اس سے دریافت کیا ، “کون ہے وہ آدمی جس نے تمہیں بستر اٹھا کر چلنے کے لئے کہا۔” 13 لیکن وہ آدمی جس کو شفاء ملی تھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھا اس مقام پر کئی آدمی تھے اور یسوع وہاں سے جا چکے تھے۔ 14 بعد میں یسوع اس آدمی سے ہیکل میں ملے یسوع نے اس سے کہا، “دیکھو تم اب تندرست ہو چکے ہو لیکن اب گناہوں سے اور بری باتوں سے بچنا ، ورنہ تمہارا بُراہوگا۔” 15 تب وہ آدمی وہاں سے نکل کر ان یہودیوں کے پاس پہو نچا اور کہا یسو ع ہی وہ آ دمی تھے جس نے مجھے تندرست کیا۔ 16 یسوع نے اس طرح کی شفاء سبت کے دن کی تھی۔اس وجہ سے اور یہودیوں نے یسوع کے ساتھ برا کرنا شروع کیا۔ 17 لیکن یسوع نے یہودیوں سے کہا ، “میرا باپ کبھی کام سے نہیں رُکتا اسلئے میں بھی کام کرتا رہونگا۔” 18 ان باتوں نے یہودیوں کو مجبور کردیا کہ وہ اسے قتل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلے تو یسوع نے شریعت کی خلاف ورزی کی پھر خدا کو اپنا باپ کہ کر اپنے آپ کو خدا کے برابر بنایا۔ یسوع کو خدا کا اختیار ہے 19 یسوع نے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیٹا اپنے آپ سے کچھ نہیں کرسکتا بیٹا وہی کرتا ہے جو وہ اپنے باپ کو کرتے دیکھے۔ 20 باپ بیٹے سے محبت کر تا ہے اسلئے وہ سب کچھ اپنے بیٹے کو بتا تا ہے جو وہ کرتا ہے۔ اسکے علاوہ وہ اس سے بھی بڑے کام دکھلا تا ہے جس سے تم حیران ہو جاؤ گے۔21 جیسے باپ مردوں کو زندہ اٹھا تا ہے۔اس طرح بیٹا جسے چاہے وہ بھی مردوں کو زندہ اٹھا تا ہے۔ 22 کیوں کہ باپ کسی کی عدالتی کار روائی نہیں کر تا اسلئے سب کچھ بیٹے کے سپرد کر تا ہے۔ 23 اس لئے لوگ جس طرح باپ کی عزت کر تے ہیں اسی طرح بیٹے کی بھی عزت کریں گے اور جو بیٹے کی عزت نہیں کرتا گو یا وہ باپ کی عزت نہیں کر تا۔ وہ باپ ہی ہے جس نے بیٹے کو بھیجا ہے۔ 24 میں تم سے سچ کہتا ہوں اگر کو ئی میرا کلام سن کر جو بھی میں نے کہا ہے، اس پر ایمان لا تاہے جس نے مجھے بھیجا ہے تو اسکو ہمیشہ کی زندگی نصیب ہو تی ہے۔ اس پر کسی بھی قسم کی سزا کا حکم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ موت سے نکل کرزندگی میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ 25 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایک اہم وقت آ نے والا ہے بلکہ ابھی بھی ہے جو لوگ گناہ میں مرے ہیں وہ خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو سن رہے ہیں وہ رہیں گے۔ 26 زندگی کی دین باپ کے طرف سے ہے اس لئے باپ نے بیٹے کو اجازت دی ہے کہ زندگی دے۔ 27 باپ نے بیٹے کو عدالت کا بھی اختیار دیا ہے کیوں کہ وہی ابن آدم ہے۔ 28 اس پر تعجب کر نے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ وقت آرہا ہے جب کہ مرے ہو ئے لوگ جو قبروں میں ہیں اس کی آواز سن سکیں گے۔ 29 تب وہ لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے اور جنہوں نے اچھے اعمال کئے ہیں انہیں ہمیشہ کی زندگی ملیگی اور جن لوگوں نے برائیاں کیں ہیں انہیں مجرم قرار دیا جائیگا۔ 30 “میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا جس طرح مجھے حکم ملتا ہے اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں اسی لئے میرا فیصلہ صحیح ہے کیوں کہ میں اپنی خوشی یا مرضی سے نہیں کر تا۔ لیکن میں وہی کر تا ہوں جس نے مجھے اپنی خوشی سے بھیجا ہے۔ یسوع کا مسلسل یہودیوں سے بات کرنا 31 “اگر میں لوگوں سے اپنے متعلق کچھ کہوں تو وہ میری گواہی پر کبھی یقین نہیں کریں گے اور جو میں کہتا ہوں وہ نہیں مانیں گے۔ 32 لیکن ایک دوسرا آدمی ہے جو لوگوں سے میرے بارے میں کہتا ہے اور میں جانتا ہوں وہ جو میرے بارے میں کہتا ہے وہ سچ ہے۔ 33 “تم نے لوگوں کو یوحناّ کے پاس بھیجا اور اس نے تم کو سچاّئی بتائی۔ 34 میں ضروری نہیں سمجھتا کہ کوئی میری نسبت لوگوں سے کہے مگر میں یہ سب کچھ تم کو بتاتا ہوں تاکہ تم بچے رہو۔ 35 یوحناّ ایک چراغ کی مانند تھا جو خود جل کر دوسروں کو روشنی پہنچا تا رہا اور تم نے چند دن کے لئے اس روشنی سے استفادہ حاصل کیا۔ 36 “لیکن میں اپنے بارے میں ثبوت رکھتا ہو ں جو یوحناّ سے بڑھ کر ہے جو کام میں کرتا ہوں وہی میرا ثبوت ہے اور یہی چیزیں میرے باپ نے مجھے عطا کی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بھیجا ہے۔ 37 جس باپ نے مجھے بھیجا ہے میرے لئے ثبوت بھی دیئے ہیں لیکن تم لوگوں نے اسکی آواز نہیں سنی اور تم نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ وہ کیسا ہے۔ 38 میرے باپ کی تعلیمات کا کو ئی اثر تم میں نہیں کیوں کہ تم اس میں یقین نہیں رکھتے جس کو باپ نے بھیجا ہے۔ 39 تم صحیفوں میں بغور ڈھونڈتے ہو یہ سمجھتے ہو کہ اس میں تمہیں ابدی زندگی ملے گی۔ لیکن ان صحیفوں میں تمہیں میرا ہی ثبوت ملے گا۔ جو میری طرف اشارہ ہے۔ 40 لیکن تم لوگ جس طرح کی زندگی چاہتے ہو اس کو پا نے کے لئے میرے پاس نہیں آتے۔ 41 میں نہیں چاہتا کہ لوگ میری تعریف کریں۔ 42 لیکن میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہیں خدا سے محبت نہیں۔43 میں اپنے باپ کی طرف سے آیا ہوں میں اسی کی طرف سے کہتا ہوں پھر بھی مجھے قبول نہیں کر تے لیکن جب دوسرا آدمی خود اپنے بارے میں کہتا ہے تو تم اسے قبول کر تے ہو۔ 44 تم چاہتے ہو ہر ایک تمہاری تعریف کرے لیکن اسکی کوشش نہیں کرتے جو تعریف خدا کی طرف سے ہو تی ہو۔ پھر تم کس طرح یقین کروگے۔ 45 یہ نہ سمجھنا کہ میں باپ کے سامنے کھڑا ہو کر تمہیں ملزم ٹھہراؤنگا موسٰی ہی وہ شخص ہے جو تمہیں ملزم ٹھہرا ئے گا۔ اور تم غلط فہمی میں ان سے امید لگا ئے بیٹھے ہو۔ 46 اگر تم حقیقت میں موسٰی پر یقین رکھتے ہو تو تمہیں مجھ پر بھی ایمان لا نا چاہئے اسلئے کہ موسٰی نے میرے بارے میں لکھا ہے۔ 47 تمہیں اسکا یقین نہیں کہ موسٰی نے کیا لکھا ہے اسلئے جو میں کہتا ہوں ان چیزوں کے متعلق تم کیسے یقین کروگے ؟” Footnotes: a. یوحنا 5:4 آیت ۳اور ۴ آیت۳ کے آخر میں کچھ یونانی صحیفوں میں یہ حصّہ جوڑا گیا ہے “وہ پانی کے بہنے کا انتظار کئے” اور کچھ حالیہ صحیفوں میں آیت ۴جوڑی گئی ہے “کبھی خدا وند کا فرشتہ آکر حوض کے پانی کو ہلایا –فرشتہ کے ایسا کر نے کے بعد کوئی بھی بیمار شخص جو سب سے پہلے اس میں اترتا تو اسے شفاء مل جاتی چاہے اسے کیسی ہی بیماری کیوں نہ ہو- یوحنا 6 یسوع کا پانچ ہزار سے زائد افراد کو دعوت کرنا 6 اسکے بعد یسوع گلیل کی جھیل کے اس پار پہونچے۔ 2 کئی لوگ یسوع کے ساتھ ہو لئے اور انہوں نے یسوع کے معجزوں کو دیکھا اور بیماروں کو شفاء بخشتے دیکھا۔ 3 یسوع اوپر پہاڑی پر گئے وہ وہاں اپنے شاگردوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔ 4 یہودیوں کی فسح کی تقریب کا دن قریب تھا۔ 5 یسوع نے دیکھا کہ کئی لوگ ان کی جانب آ رہے ہیں۔ یسوع نے فلپ سے کہا، “ہم اتنے لوگوں کے لئے کہاں سے روٹی خرید سکتے ہیں تا کہ سب کھا سکیں؟” 6 یسوع نے فلپ سے یہ بات اسکو آزمانے کے لئے کہی یسوع کو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ کیا ترکیب سوچ رکھے ہیں۔ 7 فلپ نے جواب دیا ، “ہم سب کو ایک مہینہ تک کچھ کام کرنا چاہئے تا کہ ہر ایک کو کھا نے کے لئے روٹی حاصل ہو سکے اور انہیں کم سے کم کچھ غذا میسّر ہو۔” 8 دوسرا ساتھی اندر یاس تھا جو شمعون پطرس کا بھا ئی تھا اندریاس نے کہا۔ 9 ، “یہاں ایک لڑکا ہے جس کے پاس بارلی کی روٹی کے پانچ ٹکڑے اور دو مچھلیاں ہیں لیکن یہ ا ن سب کے لئے کا فی نہیں ہوگا۔” 10 یسوع نے کہا ، “لوگوں سے کہو کہ بیٹھ جائیں۔” وہاں اس مقام پر کافی گھاس تھی وہاں ۵۰۰۰ آدمی تھے اور وہ سب بیٹھ گئے۔ 11 تب یسوع نے روٹی کے ٹکڑے لئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور جو لوگ بیٹھے ہو ئے تھے ان کو دیا اسی طرح مچھلی بھی دی اس نے انکو جتنا چاہئے تھا اتنا دیا۔ 12 سب لوگ سیر ہو کر کھا چکے جب وہ لوگ کھا چکے تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ، “بچے ہو ئے ٹکڑوں کو جمع کرو اور کچھ بھی ضائع نہ کرو۔” 13 اسطرح شاگردوں نے تمام ٹکڑوں کو جمع کیا اور ان لوگوں نے بارلی کی روٹی کے پانچ ٹکڑوں سے ہی کھانا شروع کیا اور انکے ساتھیوں نے تقریباً بارہ ٹوکریوں میں ٹکڑے جمع کئے۔ 14 لوگوں نے یہ معجزہ دیکھا جو یسوع نے انہیں بتا یا لوگوں نے کہا ، “یہی نبی ہے جو عنقریب دنیا میں آنے والے ہیں۔” 15 پس یسوع یہ بات معلوم کرکے کہ لوگ اسے آکر بادشاہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے وہ دوبارہ تنہا پہاڑی کی طرف چلے گئے۔ یسوع کا پانی پر چلنا 16 اس رات یسوع کے شاگرد گلیل جھیل کی طرف گئے۔ 17 اس وقت اندھیرا ہو چکا تھا اور یسوع انکے پاس اب تک واپس نہیں آئے تھے۔اور انکے شاگرد ایک کشتی پر سوار ہو کر جھیل کے پاس کفر نحوم جانے لگے۔ 18 اس وقت ہوا بہت تیز چل رہی تھی۔اور جھیل میں زور دار لہریں اٹھ رہیں تھیں۔ 19 وہ کشتی میں تین یا چار میل گئے تب انہوں نے دیکھا کہ یسوع پا نی پر چل رہے تھے اور کشتی کی طرف آرہے تھے اور یہ دیکھ کر انکے شاگرد ڈر گئے۔ 20 لیکن یسوع نے ان سے کہا ، “ڈرو مت یہ میں ہوں۔” 21 اتنا سن کر انکے ساتھی بہت خوش ہو ئے اور یسوع کو کشتی میں لے لیا اور کشتی جلد ہی واپس کنا رے آگئی جہاں وہ جا نا چاہتے تھے۔ لوگوں کا یسوع کو ڈھوڈنا 22 دوسرے دن لوگ جھیل کے پار جو لوگ ٹھہرے ہو ئے تھے انہیں معلوم تھا کہ یسوع کشتی میں اپنے شاگردوں کے ساتھ نہیں گئے بلکہ صرف انکے شاگرد ہی کشتی میں گئے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ صرف وہی کشتی وہاں تھی۔ 23 لیکن جب تبریاس سے چند کشتیاں آئیں اور آکر وہیں ٹھہریں جہاں ان لوگوں نے گزشتہ دن روٹی کھا ئی تھی اور جہاں خدا وند نے شکر ادا کیا تھا۔ 24 جب لوگوں نے دیکھا کہ یسوع اور انکے ساتھی اس وقت وہاں نہیں تھے، تو لوگ کشتی میں سوار ہو کر کفر نحوم کی جانب روانہ ہو ئے تا کہ یسوع سے ملیں۔ یسوع حیات کی روٹی 25 لوگوں نے دیکھا کہ یسوع جھیل کے دوسری طرف ہے ان لوگوں نے یسوع سے کہا ، “اے استاد! آپ یہاں کب آئے ؟” 26 یسوع نے جواب دیا ، “تم لوگ مجھے کیوں تلاش کر رہے ہو۔ کیا تم اسلئے مجھے تلاش کر رہے ہو کہ معجزے دکھا تا پھروں اور اپنی قوت کا مظاہرہ کروں ہر گزنہیں! میں تم سے سچ کہتا ہوں تم مجھے اس لئے تلاش کر رہے ہو تم لوگ پیٹ بھر روٹی کھا کر تسّلی کرو۔ 27 دنیا کی غذائیں خراب اور تباہ ہو جانے والی ہیں۔لہذا ایسی غذا کو مت حاصل کرو بلکہ ایسی غذا کو تلاش کرو جو ہمیشہ اچھی ہو اور تمہیں ابدی زندگی دے سکے ابن آدم ہی تم کو ایسی غذا دیگا خدا جو باپ ہے وہ یہ ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ابن آدم کے ساتھ ہے۔” 28 لوگوں نے یسوع سے پوچھا ، “ہمیں کیا کرنا چاہئے تا کہ خدا کا کام جو وہ چاہتا ہے کر سکیں ؟” 29 یسوع نے کہا ، “خدا تم سے یہی چاہتا ہے کہ اس نے جس کو بھیجا ہے اس پر ایمان لاؤ۔” 30 لوگوں نے کہا ، “تم کیا معجزہ دکھا ؤگے تا کہ یہ ثا بت ہو جا ئے کہ تم ہی وہ ہو جسے خدا نے بھیجا ہے۔ ایسا کو ئی معجزہ تم دکھا ؤ تب ہی ہم تمہا را یقین کریں گے کہ تم کیا کرو گے۔ 31 ہما رے آباء واجداد کو خدا نے ریگستا ن میں منّ ( کھا نے کی نعمتیں) عطا کی تھی اور یہ صحیفوں میں لکھا ہے اور خدا انہیں کھا نے کے لئے جنت سے روٹی بھیجوا تا تھا۔” [a] 32 یسوع نے کہا، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایک موسیٰ ہی نہیں تھے جو تمہا رے لوگوں کے لئے آسمان سے روٹی لا یا کر تے تھے در اصل وہ میرا باپ ہے جو تم لوگوں کو آسمان سے روٹی دیتا ہے۔33 خدا کی روٹی کیا ہے؟ جو روٹی خدا دیتا ہے وہ وہی ہے جو آسمان سے آکر دنیا کو اپنی زندگی دیتی ہے۔” 34 لوگوں نے کہا، “جناب تو یہ روٹی ہمیشہ کے لئے دلائیں۔” 35 تب یسوع نے کہا، “میں ہی وہ روٹی ہوں جو زندگی دیتی ہے۔جو بھی میرے پا س آتا ہے۔ وہ کبھی بھو کا نہیں رہیگا۔ اور جو مجھ پر ایمان لا یا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ 36 میں تم سے بھی یہ پہلے ہی کہہ چکا ہوں تم مجھے دیکھ چکے ہو لیکن تم کو اب تک یقین نہیں آرہا ہے۔ 37 میرا باپ میرے لوگوں کے پا س بھیجتا ہے ہر ایک شخص میرے پا س آتا ہے جو بھی میرے پاس آتا ہے میں اسے قبول کرتا ہوں۔ 38 میں آسمان سے آیا ہوں اور اپنی مرضی پو ری کر نے کے لئے نہیں آیا بلکہ خدا کی مرضی کے مطا بق کر نے کے لئے آیاہوں۔ 39 مجھے ان لوگوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں کھونا چاہئے جن کو خدا نے میرے پاس بھیجا ہے اور انکومیں آخرت کے دن زندہ اٹھا ؤں گا اور یہی کچھ وہ مجھ سے چا ہتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 40 ہر آدمی جو بیٹے کو دیکھتا ہے اور اس پر ایمان لا تا ہے اس کو ابدی زندگی حا صل ہو تی ہے اوراسی آدمی کو میں آخرت کے دن زندہ اٹھا ؤں گا ، “اور یہی میرا باپ چاہتاہے۔ 41 یہودیوں نے یسوع کے متعلق شکایت کر نی شروع کر دی کیوں کہ اس نے کہا ، “تھا میں روٹی ہوں جو خدا کی طرف سے آسمان سے آیاہوں۔” 42 یہودیوں نے کہا ، “یہ یسوع ہے ہم اس کے باپ اور ماں کو اچھی طرح جا نتے ہیں۔یسوع تو یوسف کا بیٹا ہے اس لئے وہ اب ایسا کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں آسمان سے آیا ہوں؟” 43 لیکن یسوع نے کہا، “ایک دوسرے سے شکا یت کر نی بند کرو۔ 44 باپ وہی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور لوگوں کو میرے پاس لاتا ہے جنہیں آ خرت کے دن اٹھا ؤں گا اگر باپ کسی کو میرے پا س نہ لا ئے تو ایسا آدمی میرے پاس نہیں آ سکتا۔ 45 یہ بات نبیوں نے لکھی ہے، “خدا تمام لوگوں کو تعلیم دیتاہے اور لوگ جوباپ سے سن کر سیکھتے ہیں وہ میرے پاس آتے ہیں۔” [b] 46 میرے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ ہر کسی نے باپ کو نہیں دیکھا ہے سوائے اس آدمی کے جو باپ کی طرف سے آیا ہے۔” 47 “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو شخص مجھ پر ایمان لا تا ہے وہی ابدی زندگی پا سکتا ہے۔” 48 میں وہ روٹی ہوں جو حیات بخشتی ہے۔ 49 تمہا رے آبا ء و اجدادنے ریگستان میں منّ کھایا لیکن وہ فوت ہو گئے۔ 50 میں وہ روٹی ہوں جو آسمان سے آئی ہے اور جو یہ روٹی کھا ئیگا وہ کبھی نہیں مریگا۔ 51 میں حیات کی روٹی ہوں جو آسما ن سے آئی ہے اور جس نے اس کو استعمال کیا اس نے ہمیشہ کی زندگی پا ئی ہے یہ روٹی جو میں دیتا ہوں میرا جسم ہے میں یہ جسم دوں گا تا کہ لو گ اس دنیا میں زندگی پا سکیں۔” 52 اس پر یہودیوں نے آپس میں بحث و مباحشہ شروع کیا اور کہا، “یہ شخص کس طرح اپنا جسم ہمیں کھا نے کو دیگا ؟” 53 یسوع نے کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمہیں ابن آدم کے جسم کو کھا نا چا ہئے اور اسکے خون کو پینا چاہئے۔اگر تم ایسا نہیں کر تے ہو تو تمہیں حقیقی زندگی نصیب نہیں ہو گی۔ 54 جس نے میرے جسم کو غذا بنائی اور خون کو پیا اس نے لا فا نی زندگی پا ئی اور ایسے آدمی کومیں آخرت کے دن اٹھا ؤں گا۔55 میرا جسم اور خون سچی مشروب ہے۔ 56 اور جو میرا جسم کھا تا ہے اور خون پیتا ہے ایسا آدمی میں ہوں اور مجھ میں وہ رہتا ہے۔ 57 باپ نے مجھے بھیجا اور میں باپ کی وجہ سے رہتا ہوں۔ اسی طرح جو مجھے غذا کے طور پر استعمال کریں گے میری وجہ سے وہ رہیں گے۔ 58 میں اس روٹی کی ما نند نہیں ہوں جو ہما رے آباء واجداد نے ریگستان میں کھا ئی تھی حا لانکہ وہ کھا تے تھے مگر اوروں کی طرح انہیں بھی موت آئی۔ میں وہ روٹی ہو ں جو آسمان سے آ ئی ہے اور جس نے اس روٹی کو کھایا کیا اس نے حقیقی زندگی پائی؟” 59 یسوع نے یہ تمام باتیں اس وقت کہیں جب کفر نحوم میں یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے۔ بہت سے شاگردوں کا یسوع کو چھوڑ دینا 60 کئی شاگردوں نے یسوع کی تعلیمات کو سنا اور سن کر کہا ، “یہ تعلیم تو بہت مشکل ہے اس کو کون قبول کریگا ؟۔” 61 یسوع اچھی طرح جان گیا کہ یہ شاگرد اس کے متعلق شکایت کر رہے ہیں۔ تب یسوع نے کہا کیا تم میری تعلیمات کی وجہ سے پریشان ہو؟ 62 اگر تم ابن آدم کو اوپر جاتے دیکھو گے جہاں وہ پہلے تھا توکیا ہوگا ؟ 63 یہ جسم کچھ بھی نہیں حا صل کر سکتا۔یہ تو روح ہے۔ جو انسان کو زندگی بخشتی ہے۔اور یہی باتیں جو میں نے کہی ہیں وہ روح کی ہیں جو تمہیں زندگی دیتی ہیں۔ 64 لیکن تم میں سے کچھ لوگ ان باتوں کا یقین نہیں کروگے۔”کیوں کہ یسوع نے جان لیا کہ کون یقین نہیں کر رہا ہے۔اور اس بات کو وہ شروع سے ہی جان گیاتھا کہ کون انہیں دھو کا دیگا۔ 65 یسوع نے کہا ، “جس آدمی کو با پ نہ بھیجے وہ آدمی میرے پا س نہیں آ سکتا۔” 66 جب یسوع نے یہ باتیں کہیں اس کے بہت سے شاگردوں نے اسے چھوڑ دیا۔وہ یسوع کی باتوں پرعمل کرنا چھوڑ دیا۔ 67 یسوع نے اپنے بارہ رسولوں سے یہ بھی پوچھا ، “کیا تم بھی مجھے چھوڑنا چاہتے ہو؟” 68 سائمن پطرس نے یسوع سے کہا، ، “خدا وند ہم کہاں جا سکتے ہیں آپ کے پاس کلا م ہے جو ہمیں ہمیشہ کی زند گی دے سکتا ہے۔ 69 ہم کو آپ پر عقیدہ ہے ہم جانتے ہیں کہ آپ ہی وہ مقدس ہستی ہیں جو خدا کی طرف سے ہیں۔” 70 تب یسوع نے کہا ، “میں تم بارہ کو منتخب کرتا ہوں لیکن تم میں ایک شیطان ہے۔” 71 یہ بات یسوع نے یہوداہ کے متعلق کہی تھی جو سائمن اسکریوتی کا بیٹا تھا۔ یہوداہ بارہ مریدوں میں سے ایک تھا لیکن بعد میں یسوع کا مخا لف ہو گیا۔ Footnotes: a. یوحنا 6:31 اِقتِباس زبور ۲۴:۷۸ b. یوحنا 6:45 اِقتِباس یسعیاہ ۱۳:۵۴ یوحنا 7 یسوع کا اپنے بھا ئی کے درمیان بات چیت کرنا 7 اس کے بعد یسوع نے ملک گلیل کے اطراف میں سفر کئے یسوع یہوداہ میں سفر کرنا نہیں چا ہتے تھے کیوں کہ وہا ں کے یہودی اسے قتل کر نے کی کوشش میں تھے۔ 2 اور یہودیوں کی پناہوں کی تقریب قریب تھی۔ 3 تب یسوع کے بھا ئیوں نے کہا ، “تو یہ جگہ چھوڑ کر یہوداہ چلے جا تا کہ جو معجزہ تو دکھا تا ہے وہ تمہارے شاگرد بھی دیکھیں۔ 4 اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ لوگوں میں پہچانا جائے تو پھر ایسے شخص کو جو کچھ وہ کرتا ہے چھپا نا نہیں چاہئے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے ظاہر کرو تاکہ وہ سب تمہارے معجزے دیکھ سکیں۔” 5 حتیٰ کہ یسوع کے بھا ئی کو بھی ان پر یقین نہیں تھا۔ 6 یسوع نے اپنے بھا ئیوں سے کہا ، “ابھی میرے لئے صحیح وقت نہیں آیا لیکن کو ئی بھی وقت تمہارے جانے کے لئے مناسب ہے۔ 7 دنیا تم سے نفرت نہیں کر سکتی وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے کیوں کہ میں انکو ان کی برائیاں بتا تا ہوں جو وہ کر تے ہیں۔ 8 اس لئے تم تقریب کے موقع پر جاؤمیں اس بار تقریب پر نہیں آؤنگا کیوں کہ ابھی میرے لئے صحیح موقع نہیں آیا۔” 9 یہ سب کچھ کہنے کے بعد یسوع نے گلیل میں قیام کیا۔ 10 اسلئے یسوع کے بھائی انکے کہنے کے مطابق تقریب کے موقع پر جانے کے لئے روانہ ہوئے۔انکے جانے کے بعد یسوع بھی وہاں چلے گئے اس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کیا۔بلکہ پوشیدہ ہو گئے۔ 11 تقریب کے موقع پر یہودی یسوع کی تلاش میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ وہ کہاں ہے ؟ 12 وہاں ایک بڑا گروہ لوگوں کا تھا جو خفیہ طور پر یسوع کے بارے میں ہی باتیں کر رہا تھا۔ کچھ لوگوں نے کہا ، “یسوع ایک اچھا آدمی ہے” لیکن دوسروں نے کہا، “نہیں وہ لوگوں کو بے وقوف بنا تا ہے۔”13 لیکن کسی نے بھی کھلے طور پر یسوع کے سامنے ایسا نہیں کہا کیوں کہ لوگ یہودی قائدین سے ڈر تے تھے۔ یروشلم میں یسوع کی تعلیمات 14 تقریب لگ بھگ آدھی ختم ہو چکی تھی تب یسوع عبادت گاہ میں داخل ہوا اور تعلیم شروع کی۔ 15 یہودی بڑے حیران ہو ئے انہوں نے کہا ، “یہ شخص تو اسکول میں نہیں پڑھا پھر اتنا سب کچھ اس نے کس طرح سیکھا ؟۔” 16 یسوع نے جواب دیا ، “جو کچھ میں تعلیم دیتا ہوں وہ میری اپنی نہیں میری تعلیمات اس کی طرف سے آتی ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 17 اگر کو ئی یہ چاہے کہ وہ وہی کرے جو خدا چاہتا ہے تب وہ جان جائیگا کہ میری تعلیمات خدا کی طرف سے ہیں۔وہ لوگ جان جائیں گے کہ یہ تعلیمات میری اپنی نہیں ہیں۔18 کوئی شخص جو اپنے خیالات لوگوں کو بتا تا ہے گویا وہ اپنی عزت بڑھا نے کے لئے کر تا ہے اگر چہ کو ئی شخص جو اسکی عزت بڑھا نے کی کو شش کرے جس نے اسکو بھیجا ہے تو ایسا شخص قابل بھروسہ سچّا ہے۔ اور اس میں کو ئی جھو ٹ نہیں ہے۔ 19 کیا موسٰی نے تم کو شریعت نہیں دی ؟لیکن تم میں سے کسی نے اسکی فرماں برداری نہیں کی تم لوگ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو ؟” 20 لوگوں نے جواب دیا ، “ایک خبیث تم میں آیا ہے اور تمہیں دیوانہ کر دیا ہے ہم تمہیں مار نے کی کو شش نہیں کر رہے ہیں؟” 21 یسوع نے کہا ، “میں نے ایک معجزہ کیا اور تم سب حیران ہو ئے۔ 22 موسٰی نے تمہیں ختنہ کر نے کا قانون دیا لیکن حقیقت میں موسٰی نے تمہیں ختنہ نہیں کر وایا ختنہ کا طریقہ ہم لوگوں سے آیا جو موسٰی سے قبل رہے تھے اس لئے کبھی تم لوگ بچے کی ختنہ سبت کے دن بھی کرتے ہو۔ 23 اس سے ظا ہر ہوتا ہے کہ ایک آدمی سبت کے دن ختنہ کرکے موسٰی کی شریعت کو پورا کرتا ہے اور اگر میں سبت کے دن کسی کو شفاء دیتا ہوں تو پھر کیوں غصہ کرتے ہو ؟ 24 اس قسم کا محاسبہ (جانچنے کا طریقہ )چھوڑ دو راستی سے ہر چیز کا محاسبہ کرو کہ سچ کیا ہے۔” لوگوں کا مبا حشہ کر نا کہ کیا یسوع ہی مسیح ہے؟ 25 تب کچھ لوگو ں نے جو یروشلم میں رہتے تھے کہا ، “یہی وہ شخص ہے جسے مار ڈالنے کے کو شش کی جا رہی ہے؟ 26 لیکن وہ اس جگہ تعلیمات دیتا ہے جہاں اس کو ہر کو ئی دیکھ اور سن سکے۔ مگر کسی نے اسکو تعلیمات دینے سے نہیں رو کا۔ ہو سکتا ہے کہ قائدین نے فیصلہ کیا ہو کہ وہ حقیقت میں مسیح ہے۔ 27 لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا مکان کہاں ہے اور حقیقی مسیح جب آ ئے گا کو ئی نہ جانے گا کہ وہ کہاں سے آئے گا۔” 28 یسوع اس وقت بھی ہیکل میں تعلیمات دے رہے تھے اس نے کہا، “ہاں تم مجھے جانتے ہو اور یہ بھی جا نتے ہو کہ میں کہاں سے آ یا ہوں لیکن میں اپنی مرضی سے نہیں آیا میں تو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں جو سچاّ ہے تم اس کو نہیں جانتے۔ 29 ، “لیکن میں اسے جانتا ہوں کیوں کہ میں اس سے ہوں اور اسی نے مجھے بھیجا ہے۔” 30 جب یسوع نے یہ سب کہا تو لوگوں نے یسوع کو پکڑ نے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی یسوع کو چھونے تک کے لا ئق نہ تھا۔اسلئے کہ یسوع کو قتل کر نے کا ابھی صحیح وقت آیا ہی نہیں تھا 31 لیکن بہت سا رے آدمی یسوع پر ایمان لا چکے تھے۔ لوگوں نے کہا ہم اب بھی یسوع کے منتظر ہیں کہ وہ آئے جب وہ آئے گا تو کیا اور معجزے دکھا ئے گا ؟بہ نسبت اس آدمی کے جو دکھا یا تھا۔نہیں! یہی آدمی مسیح ہے۔ یہو دی کا یسوع کو گرفتا ر کر نے کی کوشش کر نا 32 فر یسیوں نے یسوع کے بارے میں ان باتوں کو کہتے ہو ئے سُنا۔ اس لئے کا ہنوں کے رہنما نے اور فریسیوں نے ہیکل کے حفا ظتی دستہ کو یسوع کی گرفتا ری کے لئے بھیجا۔ 33 تب یسوع نے کہا ، “میں کچھ دیر تم لوگوں کے ساتھ رہوں گا اس کے بعد میں اس کے پاس جا ؤں گا جس نے مجھے بھیجا ہے۔34 تم مجھے تلا ش کرو گے لیکن مجھے نہیں پا ؤگے۔ اور میں جہاں بھی ہوں وہاں تم نہیں آسکو گے۔” 35 یہودیوں نے ایک دوسرے سے پوچھا ، “آ خر یہ آدمی کہاں جا ئے گا جسے ہم نہ پا سکیں گے کیا یہ آدمی یو نان کے شہروں کو جا ئے گا جہاں ہما رے لوگ رہتے ہیں؟ کیا وہ یونان جائے گا جہاں ہمارے لوگ ہیں۔کیا وہ ہما رے لوگوں کو یونان میں تعلیم دیگا۔ 36 یہ آدمی کہتا ہے کہ تم لوگ مجھے تلاش کرو گے لیکن پا نہ سکو گے اور یہ بھی کہتا ہے جہاں میں ہوں وہا ں تم نہیں آسکو گے۔ اس کے ایسا کہنے کا کیا مطلب ہے ؟” مقدس روح کے بارے میں یسوع کی باتیں 37 تقریب کا آخر دن جو اہم دن تھا آگیا۔اس دن یسوع نے کھڑے ہو کر لوگوں سے بلند آواز میں کہا، “جو بھی پیاسا ہے اس کو میرے پاس آ نے دو کہ اس کی پیاس بجھے۔ 38 جو آدمی مجھ پر ایمان لا ئے گا اس کے دل سے آب حیات بہے گا۔ ایسا صحیفوں میں لکھا ہے۔” 39 یسوع نے یہ بات مقدس روح کے بارے میں کہی کیوں کہ یہ روح اب تک نازل نہیں ہو ئی تھی۔ کیوں کہ یسوع کی اب تک موت نہیں ہوئی تھی اور اسے جلا ل کے ساتھ اٹھا یا نہیں گیاتھا۔ لیکن بعد میں جو لوگ یسوع پر ایمان لا ئیں گے ان پر روح نا زل ہو گی۔ لوگوں کا یسوع کے بارے میں بحث و مباحشہ کرنا 40 جب لوگوں نے یہ باتیں سنی تو کہا ، “یہ آدمی سچ مچ نبی ہے۔” 41 دوسروں نے کہا ، “یہ مسیح ہے” کچھ اور لوگوں نے کہا ، “مسیح گلیل سے نہیں آئیگا۔ 42 صحیفوں میں ہے کہ مسیح داؤد کے خا ندان سے ہوگا اور صحیفہ کہتا ہے بیت اللحم سے آئیگا جہاں داؤد رہتا تھا۔”43 اس طرح لوگوں نے یسوع کے متعلق آپس میں کسی بات پر اتفاق نہیں کیا۔ 44 کچھ لوگ یسوع کو گرفتار کر نا چا ہتے تھے لیکن کوئی بھی ایسا نہ کر سکا۔ یہودی قائدین کا یسوع پر ایمان نہ لا نا 45 لہٰذا ہیکل کے حفاظتی دستہ کا ہنوں کے رہنما اور کاہنوں و فریسیوں کے پاس واپس گیا اور فریسیوں اور کاہنوں نے پو چھا، “تم نے یسوع کو کیوں نہیں پکڑا ؟” 46 ہیکل کے حفاظتی دستہ نے جواب دیا، “اس نے ایسی باتیں کہیں جو کسی انسان نے آج تک نہیں کہیں۔” 47 فریسیوں نے کہا، “یسوع نے تمہیں بھی گمراہ کر دیا۔ 48 کیا کوئی سردار اس پر ایمان لا یا ہے یا نہیں۔ کیا کوئی فریسیوں میں ایمان لائے ہیں ؟ نہیں۔ 49 مگر وہ لوگ جو شریعت سے واقف نہیں وہ خدا کے لعنتی ہیں۔” 50 لیکن نیکو دیمس جو ان میں سے تھا اور اس کا تعلق جماعت سے ہی تھا۔ وہی ایک ایسا تھا جو یسوع کو پہلے ہی دیکھ چکا تھا کہا۔ 51 ، “ہماری شریعت یہ اجا زت نہیں دیتی کہ کسی شخص کو اس وقت تک مجرم نہ ما نیں جب تک یہ نہ جان لیں کہ وہ کیا کہتا ہے جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ اس نے کیا کیا ہے۔” 52 یہودی سردار نے کہا ، “کیا تمہارا تعلق بھی گلیل سے ہے۔ صحیفوں میں تلا ش کرو تب تمہیں معلوم ہوگا کہ کو ئی بھی نبی گلیل سے نہیں آئے گا۔” عورت کا زنا کا ری میں پکڑا جانا 53 تمام یہودی سردار نکلے اور گھر کو روانہ ہوئے۔ ( بہترین و قدیم یو حنا کے یونانی نسخوں میں آیت نمبر ۱۱:۸-۵۳:۷نہیں ہیں) یوحنا 8 8 یسوع زیتون کی پہا ڑی پر چلے گئے۔ 2 صبح سویرے وہ پھر سے ہیکل میں آگیا۔ تمام لوگ یسوع کے پاس جمع ہوئے۔ تب وہ بیٹھ گئے اور لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ 3 شریعت کے استاد اور فریسیوں نے وہاں ایک عورت کو لا ئے جو زنا کے الزام میں پکڑی گئی۔ اس کو ڈھکیل کر لوگوں کے سا منے کھڑا کیا گیا۔ 4 یہودیوں نے کہا ، “اے استاد یہ عورت زنا کے فعل میں پکڑی گئی ہے۔ 5 موسیٰ کی شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس عورت کو جو ایسا گناہ کرے اسے سنگسار کیا جائے۔ اب آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟” 6 ان لوگوں نے یہ سوال محض اسے آ ز ما نے کے لئے پوچھا تھا تا کہ اس طرح اس کی کوئی غلطی پکڑیں لیکن یسوع نے جھک کر ز مین پر انگلی سے کچھ لکھنا شروع کیا۔ 7 تب یہودی سردار یسوع سے اپنے سوال کے متعلق اصرار کر نے لگے تب یسوع اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا ، “یہاں تم میں کو ئی ایسا آدمی ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو اور ایسا آدمی اگر ہے تو اس عورت کو پتھر مارنے میں پہل کرے۔” 8 اور یسوع نے دوبارہ جھک کر زمین پر کچھ لکھا۔ 9 یہ سن کر سب کے سب چھوٹے بڑے ایک ایک کر کے وہاں سے کھسکنے لگے یہاں تک کہ یسوع وہاں اکیلا رہ گیا اور وہ عورت بھی وہیں کھڑی رہ گئی۔ 10 یسوع دوبارہ کھڑا ہوا اور کہا ، “اے خا تون وہ تمام لوگ کہاں ہیں؟ کیا کسی نے بھی تجھے مجرم قرارنہیں دیا؟” 11 عورت نے جواب دیا ، “کسی نے بھی کچھ نہیں کہا ؟” تب یسوع نے کہا ، “میں بھی تم پر الزام کا حکم نہیں لگاتا ہوں۔ تم یہاں سے چلی جا ؤ اور آئندہ کوئی گناہ نہ کرنا” یسوع دنیا کا نور ہے 12 بعد میں یسوع نے دوبارہ لوگوں سے کہا ، “میں دنیاکا نور ہوں جو بھی میری پیر وی کرے گا وہ اندھیرے میں نہیں چلے گا۔ بلکہ زندگی کا نور پا ئے گا۔” 13 لیکن فریسیو ں نے یسوع سے پوچھا ، “تم جب بھی کچھ کہتے ہو تو سب کچھ اپنی گواہی میں کہتے ہو تمہا ری گواہی قا بل ِ قبول نہیں اس لئے ہم اس کو قبول نہیں کرتے۔” 14 یسوع نے کہا ، “ہاں یہ سب کچھ میں اپنے متعلق گواہی میں کہتا ہوں کیوں کہ یہی سچ ہے اور لوگ اس پر یقین کرتے ہیں کیوں کہ میں جانتا ہوں میں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جاؤں گا میں تم لوگوں کی مانند نہیں ہوں تم نہیں جانتے کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جا ؤں گا۔ 15 تم لوگ اپنی انسا نی صلا حیت کے مطابق میرا فیصلہ کر تے ہو۔ میں کسی کا ایسا کوئی فیصلہ نہیں کر تا ہوں جیسا کہ تم کر تے ہو۔16 اور اگر میں کوئی فیصلہ کروں تو وہ فیصلہ سچاّ ہوگا۔کیوں کہ جب میں کچھ فیصلہ کر تا ہوں تو میں اکیلا نہیں ہوتا۔بلکہ میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے وہ بھی میرے ساتھ ہو تا ہے۔ 17 تمہا ری شریعت یہ کہتی ہے کہ جب د و گواہ کسی کے بارے میں کچھ کہیں تو اس کو سچ مانو اور ان کی گوا ہی کو قبول کرو۔ 18 میں اسی طرح انہیں میں سے ایک گواہ ہوں جو اپنی گوا ہی دیتا ہوں اور میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے وہ دوسرا گواہ ہے۔” 19 لوگوں نے پوچھا ، “تمہارا باپ کہاں ہے ؟” یسوع نے جواب دیا ، “تم نہ مجھے جانتے ہو اور نہ ہی میرے باپ کو جب تم لوگ مجھے جان جاؤگے تب میرے باپ کو بھی جا ن جا ؤگے۔” 20 یسوع یہ سا ری باتیں ہیکل میں تعلیم دیتے ہوئے کہہ رہے تھے اس وقت وہ بیت المال کے قریب تھے اور کسی نے اس کو پکڑا نہیں کیوں کہ اس کا وقت نہیں آیا تھا۔ یہودیوں کی یسوع کی بارے میں لا علمی 21 دوبارہ یسوع نے لوگو ں سے کہا ، “میں تمہیں چھوڑ جا تا ہوں اور تم مجھے ڈھونڈ تے رہوگے اور اپنے گنا ہوں میں ہی مرو گے تم وہاں نہیں آسکتے جہاں میں جا رہا ہوں۔” 22 پھر یہودیوں نے آپس میں کہا ، “کیا یسوع اپنے آپ کو مار ڈا لے گا ؟ کیوں کہ اسی لئے اس نے کہا جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں آ سکتے۔” 23 لیکن یسوع نے ان یہودیوں سے کہا تم لوگ نیچے کے ہو اور میں اوپر کا ہوں۔ تم اس دنیا سے تعلق رکھتے ہو لیکن میں اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا۔ 24 میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم اپنے گنا ہوں کے ساتھ مروگے۔یقیناً تم اپنے گنا ہوں کے ساتھ مروگے اگر تم نے ایمان نہیں لا یا کہ میں وہی ہوں۔ 25 تب یہودیوں نے پوچھا ، “پھر تم کون ہو ؟”یسوع نے جواب دیا ، “میں وہی ہوں جو شروع سے تم سے کہتا آیا ہوں۔ 26 مجھے تمہا رے بارے میں بہت کچھ کہنا ہے اور فیصلہ کر نا ہے لیکن میں لوگوں سے وہی کہتا ہوں جو میں نے اس سے سنا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور وہ سچ کہتا ہے۔” 27 لوگ سمجھے نہیں کہ یسوع کس کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ یسوع ان سے باپ کے متعلق کہہ رہا تھا۔28 اسی لئے لوگوں نے یسوع سے کہا ، “تم لوگ ابن آدم کو اوپر بھیجو گے تب تمہیں معلوم ہوگا میں وہی ہوں۔ جو کچھ میں کرتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کرتا ہوں بلکہ جو کچھ مجھے باپ نے سکھا یا وہی کہتا ہوں۔ 29 اور جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے میں وہی کر تا ہوں۔ جس سے وہ خوش ہو اسی لئے اس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔” 30 جب یسوع یہ باتیں کہہ رہے تھے تو کئی لوگ اس پر ایمان لا ئے۔ یسوع کا گنا ہوں سے چھٹکا رے کے با رے میں کہنا 31 یسوع نے ان یہودیوں سے جو اس پر ایمان لا ئے تھے کہا ، “اگر تم لوگ میری تعلیمات پر قائم رہو تو حقیقت میں میرے شاگرد ہو گے۔” 32 ، “تب ہی تم سچا ئی کو جان لوگے اور یہ سچا ئی ہی تمہیں آزاد کریگی۔” 33 یہودیوں نے جواب دیا ، “ہم ابراہیم کے لوگ ہیں اور کسی کی بھی غلا می میں نہیں رہے اور تم یہ کیوں کہتے ہو کہ آ زاد ہو جاؤگے۔” 34 یسوع نے جواب دیا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ہر وہ آدمی جو گناہ کر تا ہے غلام ہے گناہ اس کا آقا ہے 35 ایک غلام اپنے خاندان کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہ سکتا لیکن ایک بیٹا اپنے خاندان کے ساتھ ہمیشہ رہ سکتا ہے۔ 36 اس لئے اگر بیٹا تم کو آزاد کرتا ہے تو تم حقیقت میں آزاد ہو۔ 37 میں جانتاہوں کہ تم لوگ ابرا ہیم کی نسل سے ہو تم لوگ مجھے مار ڈالنا چاہتے ہو کیوں کہ تم لوگ میری تعلیم پر عمل کر نا نہیں چا ہتے۔ 38 میں تم لوگوں سے وہی کہتا ہوں جسے میرے باپ نے مجھے دکھا یا ہے۔ لیکن تم صرف وہ کر تے ہو جو تم نے تمہا رے باپ سے سنا ہے۔” 39 یہودیوں نے کہا ، “ہما را باپ ابراہیم ہے۔” یسوع نے کہا ، “اگر تم حقیقت میں ابراہیم کے بیٹے ہو تو وہی کروگے جو ابرا ہیم نے کیا۔ 40 میں وہی آدمی ہوں جس نے تم سے سچ کہا ہے جو اس نے خدا سے سناُ: لیکن تم لوگ میری جان لینا چا ہتے ہو اور ابراہیم نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا۔” 41 اور جو تم کر رہے ہو وہ ایسا ہے جیسا کہ تمہا رے باپ نے کیا ہے۔ لیکن یہودیوں نے کہا ، “ہم ایسے بچے نہیں جنہیں یہ معلوم نہ ہو کہ ہما را باپ کون ہے ہما را ایک باپ ہے یعنی خدا۔” 42 یسوع نے ان یہودیوں سے کہا ، “اگر خدا ہی حقیقت میں تمہارا باپ ہے تو تم لوگ مجھ سے بھی محبت رکھتے کیوں کہ میں خدا ہی کی طرف سے آیا ہوں اور اب میں یہاں ہوں اور میں اپنے آپ سے نہیں آیا بلکہ خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ 43 تم یہ باتیں جو میں کہتا ہوں نہیں سمجھتے کیوں کہ تم میری تعلیم کو قبول نہیں کر تے۔ 44 شیطان ابلیس تمہارا باپ ہے اور تم اس کے ہو اور اپنے باپ کی خوا ہش کو پورا کرنا چا ہتے ہو ابلیس شروع سے ہی قاتل ہے کیوں کہ وہ سچا ئی کا مخا لف ہے اس میں سچا ئی نہیں وہ جو کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے ابلیس جھوٹا ہے اور جھوٹوں کا باپ ہے۔ 45 میں سچ کہتا ہوں اس لئے تم مجھ پر یقین نہیں کرتے۔ 46 تم میں سے کو ن ہے جو میرے گناہ کو ثا بت کرے؟ اگر میں سچ کہتا ہوں تو تم میرا یقین کیوں نہیں کرتے ؟۔ 47 وہ جو خدا کا ہو تا ہے وہ خدا کی سنتا ہے لیکن تم خدا کے نہیں ہو اور یہی وجہ ہے کہ تم خدا کو نہیں مان تے۔ یسوع کا اپنے اور ابرا ہیم کے بارے میں بتا نا 48 یہودیوں نے کہا ، “ہمارا کہنا یہ ہے کہ تم سامری ہو اور یہ کہ تم پر بدروح کا اثر ہے جو تمہیں پا گل کر چکی ہے، کیا ہمارا ایسا کہنا سچ نہیں؟” 49 یسوع نے جواب دیا ، “مجھ میں کو ئی بدروح نہیں میں اپنے باپ کی عزت کرتا ہوں لیکن تم لوگ میری عزت نہیں کر تے۔ 50 میں اپنی بزرگی نہیں چا ہتاہاں ایک وہ ہے جو مجھے بزرگی دینا چاہتا ہے وہی ایک ہے جو فیصلہ کر ے گا۔ 51 میں سچ کہتا ہوں اگر کوئی آدمی میری تعلیمات کی اطاعت کرتا ہے تو وہ کبھی نہیں مرے گا۔” 52 یہودیوں نے یسوع سے کہا ، “ہمیں معلو م ہے کہ تجھ میں بدروح ہے حتیٰ کے ابراہیم اور دوسرے نبی بھی مر گئے لیکن تم کہتے ہو کہ جس نے تمہا ری تعلیمات کی اطا عت کی وہ کبھی نہ مرے گا” 53 کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ہما رے باپ ابرا ہیم سے زیادہ عظیم ہو ابراہیم کا اور دوسرے نبیوں کا بھی انتقال ہوا!تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ 54 یسوع نے جواب دیا ، “اگر میں اپنے آپ کی عزت کروں تو میری عزت کچھ بھی نہیں۔ وہ جو عزت دیتا ہے وہ میرا باپ ہے اور جسے تم کہتے ہو کہ وہ تمہارا خدا ہے۔ 55 لیکن حقیقت میں تم ا سے نہیں جانتے اور میں اسے جانتا ہوں اگر میں کہوں کہ اسے نہیں جانتا تو میں بھی تمہاری طرح جھوٹا ہوں مگر میں اسے جانتا ہوں اور جو کچھ وہ کہے اس پر عمل کرتا ہوں۔ 56 تمہا را باپ ابراہیم میرے آنے کا دن دیکھنے کے لئے بہت خوش تھا چنانچہ اس نے دیکھا اور خوش ہوا۔” 57 یہودیوں نے یسوع سے کہا ، “کیا تم نے ابراہیم کو دیکھا ابھی تو تم پچاس برس کے بھی نہیں ہو۔ اور (تم کہتے ہو ) کہ تم نے ابراہیم کو دیکھا ہے۔” 58 یسوع نے جواب دیا ، “میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ ابراہیم کی پیدا ئش سے قبل میں ہوں۔” 59 جب یسوع نے کہا، “تو ا ن لوگوں نے پتھر اٹھا یا تا کہ اس کو مارے لیکن وہ چھپ کر ہیکل سے نکل گیا۔” یوحنا 9 یسوع کا پیدائشی اندھے کو شفاء دینا 9 جب یسوع جا رہے تھے تو اس نے ایک اندھے آدمی کو دیکھا جوپیدائشی اندھا تھا۔ 2 یسوع کے شاگردوں نے اس سے پوچھا ، “اے استاد یہ آدمی پیدائشی اندھا ہے لیکن یہ کس کے گناہ کی سزا ہے کہ وہ اندھا پیدا ہوا ہے کیا اس کے اپنے گناہ میں یا پھر اس کے والدین کے گنا ہ میں؟” 3 یسوع نے جواب دیا ، ، “یہ نہ اس کا گناہ تھا اور نہ ہی اس کے والدین کا یہ اس لئے اندھا پیدا ہوا تھا تا کہ جب میں اس اندھے کو بینا ئی دوں تو لوگ خدا کی طا قت کو جان سکیں۔ 4 اب جبکہ یہ دن کا وقت ہے ہمیں اس کے کام کو جا ری رکھنا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے رات آرہی ہے اور کوئی آدمی رات میں کام نہیں کر سکتا۔ 5 اب جبکہ میں دنیا میں ہوں میں دنیا کا نور ہوں۔” 6 یسوع نے یہ کہہ کر مٹی پر تھوکا اور اس مٹی کو گوندھا اور اس کو اندھے کی آنکھوں پر لگایا۔ 7 یسوع نے اس آدمی سے کہا، “جا ؤ اور جا کر شیلوخ (یعنی بھیجا ہوا) کے حوض میں دھو لے۔ اس طرح وہ حوض میں گیا۔ اس نے دھو یا اور واپس گیا۔ اب وہ دیکھنے کے قابل ہوا۔ 8 اس سے پہلے لوگوں نے دیکھا تھا کہ وہ اندھا بھیک مانگا کر تا تھا۔یہ لوگ اور اس اندھے کے پڑو سی نے کہا، “دیکھو کیا یہ وہی نہیں جو بھیک مانگا کر تا تھا؟” 9 بعض نے کہا، “ہاں یہ وہی ہے” لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے کہا ، “نہیں یہ وہ اندھا نہیں مگر ایسا دکھا ئی دیتا ہے۔” تب اس اندھے نے خود کہا، “میں وہی اندھا ہوں جو پہلے اندھا تھا۔” 10 لوگوں نے پوچھا، “پھر تیری بینا ئی کیسے واپس آ ئی؟” 11 اس آدمی نے کہا، “وہ آدمی جسے لوگ یسوع کہتے ہیں اس نے مٹی اور لعاب کو ملا یا اور اس کو میری آنکھوں پر لگایا پھر اس نے کہا کہ میں شیلوخ میں جا کر آنکھیں دھولوں میں نے ویسا ہی کیا اور اب میں دیکھ سکتا ہوں۔” 12 لوگوں نے پوچھا، “وہ آدمی کہاں ہے؟” اس آدمی نے جواب دیا ، “میں نہیں جانتا۔” نابینا شخص جو بینا ہوا اس کا ثبوت 13 تب لوگوں نے اس آدمی کو فریسیوں کے پاس لا یا اور کہا یہی وہ آدمی ہے جو پہلے اندھا تھا۔ 14 یسوع نے مٹی اور لعاب کو ملا کر اس کی آنکھوں پر لگایا اور اس کو بینائی واپس دلا یا جس دن یسوع نے یہ کیا وہ سبت کا دن تھا۔ 15 فریسیوں نے اس آدمی سے پوچھا ، “تمہا ری بینا ئی کس طرح واپس آئی ؟” اس آدمی نے جواب د یا ، “یسوع نے میری آنکھوں پر مٹی لگائی اور آنکھیں دھو نے کو کہا جب میں نے آنکھیں دھو لیں تو مجھے بینا ئی مل گئی۔” 16 کچھ فریسیوں نے کہا، “یہ آدمی سبت کے دن کی پابندی کو نہیں مانتا اس لئے وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ دوسروں نے کہا، “لیکن جو آدمی گنہگار ہے وہ معجزہ کیسے کر سکتاہے۔” یہ یہودی آپس میں ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے۔ 17 یہودیوں کے سردار نے اس آدمی سے دوبارہ پوچھا، “اس آدمی نے تمہیں شفاء دی اور تم دیکھ سکتے ہو اس کے با رے میں تم کیا کہتے ہو؟” اس آدمی نے جواب دیا، “وہ نبی ہے۔” 18 یہودی اب بھی یقین نہیں کر رہے تھے کہ واقعی اس آدمی کے ساتھ ایسا کو ئی واقعہ ہوا ہے۔ انہیں یہ بھی یقین نہیں تھا کہ وہ آدمی پہلے اندھا تھا اور اب بینا ہو گیا۔ 19 اس لئے انہوں نے اسکے والدین کو بلا کر پو چھا ، “کیا تمہا را بیٹا اندھا تھا؟ اور کیا تم کہتے ہو کہ وہ پیدائشی اندھا تھا اور اب کس طرح دیکھ سکتا ہے؟” 20 اس کے والدین نے جواب دیا، “ہاں یہی ہما را بیٹا ہے اور یہ اندھا ہی پیدا ہوا تھا۔ 21 لیکن ہم نہیں جانتے وہ اب کیسے بینا ہو گیا اور اس کو کس نے بینا ئی دی اسی سے پو چھو وہ بالغ ہے وہ اپنے بارے میں کہے گا۔” 22 اس کے والدین نے یہودیوں کے سر دار کے ڈر سے ایسا کہا کیوں کہ یہودیوں نے فیصلہ کر لیا تھا جو بھی یسوع کو مسیح ما نے گا اس کو سزا دیں گے اور یہودی سر دار انہیں اپنی یہودی عبا دت گاہ میں دا خل نہیں ہو نے دیں گے۔ 23 اسی لئے اس کے والدین نے کہا ، “وہ بالغ ہے اسی سے پو چھو۔” 24 چنانچہ یہودی سردار نے دو بارہ اس آدمی کو جو پہلے اندھا تھا بلا یا ، “اور کہا تو خدا کی حمد کر اور سچ بتا ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گنہگار ہے۔” 25 اس آدمی نے جواب دیا ، “میں یہ نہیں جانتا کہ وہ گنہگار ہے لیکن یہ جانتا ہوں کہ میں پہلے اندھا تھا اب دیکھ سکتا ہوں۔” 26 یہودی سردار نے پو چھا ، “اس نے تمہا رے ساتھ کیا کیا اور کس طرح تمہا ری آنکھوں کو شفاء دی۔” 27 اس آدمی نے کہا ، “میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں لیکن تم لوگ سننا نہیں چاہتے پھر دوبارہ کیوں سننا چاہتے ہو ؟ کیا تم اس کے شاگرد ہو نا چاہتے ہو ؟” 28 یہودی سردار اس کا مذاق اڑا تے ہو ئے کہا تم ہی اس کے شاگرد ہو ہم تو موسیٰ کے عقیدت مند ہیں۔ 29 ہم یہ جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ سے کلا م کیا تھا ہم نہیں جانتے کہ کہاں سے یہ آدمی آیا ہے ؟” 30 تب اس آدمی نے کہا ، “بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آیا ہے مگر اس نے مجھے بینا ئی دی۔ 31 ہم سب یہ جانتے ہیں کہ خدا گنہگاروں کی نہیں سنتا لیکن خدا ان کی سنتا ہے جو اس کی عبادت کر تے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں۔ 32 یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ایسے آدمی کو جو پیدا ئشی اندھا تھا اس کو بینا ئی دی ہے۔ 33 وہ آدمی خدا کی طرف سے آیا ہے اگر وہ خدا کی طرف سے نہیں آیا ہو تا تو وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔” 34 یہودی سردا ر نے کہا، “تو خود گنہگار پیدا ہوا ہے تو ہم کو کیا سکھاتا ہے ؟” اور انہوں نے اسے باہر نکال دیا۔ روحانی اندھا پن 35 یسوع نے سنا کہ یہودی سردار نے اس آدمی کو پھینک دیا اس لئے جب اس نے اسکوپا یا تو پو چھا، “کیا تم ابن آدم پر ایمان رکھتے ہو۔ ؟” 36 اس آدمی نے پو چھا ، “ابن آدم کو ن ہے مجھے بتائیے تا کہ میں اس پر ایمان لاؤں-” 37 یسوع نے کہا ، “تم اسکو دیکھ چکے ہو اور جو تجھ سے باتیں کرتا رہا وہی ابن آدم ہے۔” 38 اس آدمی نے جواب دیا، “اے خدا وند ہاں میں ایمان لایا” تب وہ آدمی جھک گیا اور یسوع کی عبادت کر نے لگا۔ 39 یسوع نے کہا ، “میں اس دنیا میں فیصلہ کے لئے آیا ہوں۔میں آیا ہوں تا کہ اندھوں کو بینائی ملے اور جو دیکھ کر بھی نہ سمجھے وہ اندھے رہینگے۔” 40 چند فریسی جو یسوع کے قریب تھے سن کر کہا ، “کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم اندھے ہیں ؟” 41 یسوع نے کہا، “اگر تم حقیقت میں اندھے ہو تے تو گنہگار نہ ہو تے مگر اب یہ کہتے ہو کہ تم دیکھ سکتے ہو تو تم گنہگار ہو۔” یوحنا 10 سچا چرواہا اور اسکی بھیڑیں 10 یسوع نے کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں اگر کوئی آدمی بھیڑ خانہ میں داخل ہوگا وہ دروازہ کے ذریعے آئیگا لیکن وہ کسی اور طرف سے چڑھکر آئے تو وہ چور ہے جو بھیڑ چرانے آ تا ہے۔ 2 لیکن جو دروا زہ سے داخل ہوگا وہ چرواہا ہے جو بھیڑوں کا نگہبان ہوگا۔ 3 اور دربان اسکے لئے دروازہ کھول دیگا اور وہ چرواہا ہے اور بھیڑیں اپنے چر واہے کی آواز سنتی ہیں وہ اپنی بھیڑوں کو نام سے بلا کر لے جاتا ہے۔ 4 جب وہ اپنی تمام بھیڑوں کو باہر نکال لیتا ہے تو وہ انکے آگے چلتا ہے اور بھیڑیں اسکے پیچھے چلتی ہیں کیوں کہ وہ اسکی آواز کو پہچانتی ہیں۔ 5 اور بھیڑیں کسی غیر شخص کے پیچھے جسے وہ نہیں جانتیں نہیں جائیں گی۔ وہ اس غیر آدمی سے دور بھا گیں گی کیوں کہ وہ اسکی آواز کو نہیں پہچانتیں۔” 6 یسوع نے ان سے یہ قصّہ کہا۔لیکن لوگ سمجھ نہیں سکے کہ اس قصّے کا کیا مطلب ہے۔ یسوع ایک اچھا چرواہ 7 اس لئے یسوع نے ان سے دو بارہ کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں بھیڑوں کا در وازہ ہوں۔ 8 اور جو کوئی مجھ سے پہلے آئے ہیں وہ چور اور ڈاکو تھے اور بھیڑوں نے انکی آواز نہ سنی۔” 9 میں دروازہ ہوں اور جو کوئی میرے ذریعے داخل ہو گا وہی نجات پائیگا اور اندر باہر جا نے کا مستحق ہوگا اور جو کچھ وہ چاہے گا پا ئے گا۔ 10 چور تو چرانے اور مارنے تباہ کر نے کے لئے آتا ہے۔ لیکن میں زندگی دینے کے لئے آیا ہوں جو خوبی اور اچھا ئی سے بھر پور ہے۔ 11 “میں ایک اچھا چرواہا ہوں اور اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی زندگی دیتا ہے۔ 12 لیکن مزدور جسے بھیڑوں کی نگہداشت کے لئے اجرت دی جاتی ہے وہ چرواہے سے مختلف ہے۔ اجرت پا نے والا مزدور بھیڑوں کا مالک نہیں ہو تا لہذا جب مزدور یہ دیکھتا ہے کہ بھیڑ یا آرہا ہے تو وہ بھاگ جا تا ہے اور بھیڑوں کو چھو ڑ دیتا ہے تب بھیڑیا حملہ کرتا ہے اور انہیں منتشر کر دیتا ہے۔ 13 وہ مزدور اس لئے بھا گ جاتا ہے کہ وہ صرف ملازم ہے اور اسے بھیڑوں کی فکر نہیں ہو تی۔ 14-15 “میں اچھا چرواہاہوں میں بھیڑوں کو اسی طرح جانتا ہوں جس طرح باپ مجھے جانتا ہے اور میں باپ کو اور اسی طرح بھیڑیں بھی مجھے جانتی ہیں میں ان بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہوں۔ 16 میری اور بھیڑیں بھی ہیں جو اس بھیڑ خانہ میں نہیں ہیں مجھے انکو بھی لا نا ہے۔وہ میری آواز سنیں گی آئندہ ایک جھنڈ ہوگا اور انکا ایک چرواہا ہو گا۔ 17 باپ مجھ سے محبت کرتا ہے اس لئے کہ میں اپنی جان دیتا ہوں تا کہ اسکو پھر واپس لے سکوں۔ 18 کوئی بھی مجھ سے میری جان چھین نہیں سکتا۔بلکہ میں ہی اسے دیتا ہوں اور ایسا کر نے کا مجھے حق ہے اور اختیار ہے کہ واپس لوں یہ حکم مجھے میرے باپ نے دیا ہے۔” 19 ان باتوں پر یہودی آپس میں ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے۔ 20 ان میں سے بہت سے یہودیوں نے کہا ، “اس میں بد روح آگئی ہے اور اسے دیوانہ بنا دی ہے کیوں اسے سنیں۔” 21 لیکن کچھ یہودیوں نے کہا ، “ایک آدمی بد روح کے زیر اثر ہو ایسی باتیں نہیں کر سکتا۔کیا ایک بد روح اندھے آدمی کو بینائی دے سکتی ہے؟ کبھی نہیں۔” یہودی کا یسوع کے خلاف ہو نا 22 جاڑے کا موسم تھا اور یروشلم میں نذر کی تقریب تھی۔ 23 یسوع ہیکل کے سلیمانی برآمدہ میں تھا۔24 یہودی یسوع کے اطراف جمع تھے اور انہوں نے کہا ، “کب تک تم ہمیں اپنے بارے میں تنگ کر تے رہو گے ؟اگر تم مسیح ہو تو ہمیں صاف صاف کہدو۔” 25 یسوع نے جواب دیا میں تو تم سے کہہ چکا ہوں لیکن تم یقین نہیں کر تے میں اپنے باپ کے نام پر معجزہ دکھا تا ہوں وہ معجزے خود میرے گواہ ہیں کہ میں کو ن ہوں۔ 26 لیکن تم لوگ مجھ پر یقین نہیں کر تے کیوں کہ تم میری بھیڑ میں سے نہیں ہو۔ 27 میری بھیڑیں میری آواز پہچانتی ہیں میں انہیں جانتا ہو ں اور وہ میرے ساتھ چلتی ہیں۔ 28 میں اپنی بھیڑوں کو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ کبھی بھی ہلاک نہیں ہونگی اور کو ئی بھی انہیں مجھ سے نہیں چھین سکتا۔ 29 میرا باپ جس نے مجھے بھیڑیں دی ہیں وہ سب سے بڑا ہے۔ کو ئی بھی آدمی میرے باپ کے ہاتھوں سے انہیں نہیں چھین سکتا۔ 30 میرا باپ اور ہم ایک ہی ہیں۔” 31 یہودیوں نے یسوع کو مار ڈالنے کے لئے پھر پتھّر اٹھا ئے۔ 32 لیکن یسوع نے ان سے دو بارہ کہا ، “میں نے اپنے باپ کی طرف سے بہت اچھے کام کئے اور وہ تم سب دیکھ چکے ہو اور تم ان اچھے کاموں کی وجہ سے مجھے مارڈالنا چاھتے ہو؟” 33 یہودیوں نے کہا ، “ہم تمہیں سنگسار کرنا چاہتے ہیں اسلئے نہیں کہ تم نے اچھے کام کئے بلکہ اس لئے کہ تم خدا سے گستاخی کرتے ہو۔ تم تو صرف ایک آدمی ہو لیکن اپنے آپکو خدا کہتے ہو۔ 34 یسوع نے جواب دیا، “یہ تمہاری شریعت میں لکھا ہے، “میں نے کہا کہ تم دیوتا ہو۔” [a] 35 جب کہ اس نے انہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا اور صحیفوں کا باطل ہو نا ممکن نہیں۔ 36 تم مجھ سے یہ کیوں کہتے ہو کہ میں خدا کے خلاف کہہ رہا ہوں۔ کیوں کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں میں ہی ایک ایسا ہوں خدا نے مجھے چن کر دنیا میں بھیجا۔ 37 اگر میں اپنے باپ کے مقاصد کو پو را نہیں کرتا تو مجھ پر ایمان مت لاؤ۔ 38 لیکن اگر میں وہی کروں جسے باپ نے کیا ہے تب تو تمہیں اس پر یقین کرنا چاہئے جو میں کرتا ہوں۔ تم شاید مجھ میں یقین نہیں رکھتے ، لیکن جو چیزیں میں کرتا ہوں اس پر تمہیں یقین کر نا چاہئے۔ تب تم جانو گے اور سمجھو گے کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں۔” 39 یہودیوں نے دوبارہ یسوع کو گرفتار کر نے کی کوشش کی لیکن یسوع انکے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ 40 یسوع پھر دریائے یردن کے پار چلے گئے جہاں یوحنا بپتسمہ دیا کرتا تھا یسوع نے وہاں قیام کیا۔41 کئی لوگ یسوع کے پاس آئے اور کہا ، “یوحنا نے کبھی کو ئی معجزہ نہیں دکھایا اور جو کچھ یوحنا نے اس آدمی کے متعلق کہا وہ سچ ہے۔” 42 اور وہاں موجود لوگوں میں کئی لوگ یسوع پر ایمان لائے۔ Footnotes: a. یوحنا 10:34 اِقتِباس زبور ۶:۸۲ یوحنا 11 لعزر کی موت 11 بیت عنیاہ کے شہر میں ایک لعزر نا می آدمی تھا جو بیمار ہوا یہ وہی شہر تھا جہاں مریم اور اس کی بہن مار تھا رہتی تھیں۔ 2 یہ وہی مر یم تھی جس نے خدا وند یسوع پر عطر لگاکر اپنے بالوں سے اس کے پا ؤں پونچھی تھی۔ لعز ر مریم کا بھا ئی تھا جو بیمار تھا۔ 3 مریم اور مارتھا نے یسوع کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ“ خداوند تمہا را عزیز دوست لعزر بیمار ہے۔” 4 یسوع نے یہ سنُ کر کہا ، “یہ بیما ری اس کی موت کے لئے نہیں بلکہ یہ بیما ری خدا کا جلا ل ہے تا کہ اس کے ذریعہ خدا کے بیٹے کا جلا ل ظاہر ہو۔” 5 یسوع ما رتھا اور اس کی بہن مریم اور لعزر کو عزیز رکھتا تھا۔ 6 جب یسوع نے سنا کہ وہ بیمار ہے تو وہ جس جگہ ٹھہرے تھے وہاں مزید دو دن رہے۔7 تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ، “ہمیں یہوداہ کو وا پس جانا چاہئے۔” 8 شاگردوں نے جواب دیا ، “اے استاد تھو ڑی دیر پہلے یہوداہ کے یہودی تو آپ کو سنگسار کر کے مار نا چاہتے تھے۔ اور انہوں نے ایسا کر نے کی کوشش کی ہے اور آپ واپس وہیں جانا چاہتے ہیں۔” 9 یسوع نے جواب دیا ، “دن کے بارہ گھنٹے روشنی رہتی ہے اگر کوئی دن کی روشنی میں چلے تو ٹھو کر سے نہیں گرے گا۔ کیوں کہ وہ دنیا کی روشنی دیکھتا ہے۔ 10 لیکن اگر کو ئی رات کوچلے تو وہ ٹھو کر سے گرتا ہے کیوں کہ روشنی نہ ہو نے کی وجہ سے دیکھ نہیں پاتا۔” 11 یہ باتیں کہنے کے بعد یسوع نے کہا ، “ہما را دوست لعزر اس وقت سو رہا ہے۔ لیکن میں وہا ں اسے جگا نے کے لئے جا رہا ہوں۔” 12 شاگردوں نے کہا ، “مگر اے خداوند وہ سو رہا ہے تو وہ اچھا ہو گا۔” 13 یسوع نے اس کی موت کے بارے میں کہا لیکن شاگردوں نے سمجھا کہ فطری نیند کی با بت کہا ہے۔ 14 تب یسوع نے صاف طور سے کہا ، “لعزر مرگیا۔” 15 اور میں اس لئے خوش ہوں کہ میں وہاں نہ تھا میں تمہا رے لئے خوش ہوں۔ کیوں کہ اب تم مجھ پر ایمان لا ؤگے “اب ہم اس کے پاس چلیں۔” 16 تب تھا مس نے جو توام کہلا تا تھادوسرے شاگردوں سے کہا ، “ہم بھی یہوداہ جا ئیں گے اور یسوع کے ساتھ مریں گے۔” یسوع بیت عنیا ہ میں 17 یسوع بیت عنیاہ پہنچے وہاں جا کر اسے معلوم ہوا کہ لعزر کو مرے ہوئے چار دن ہو گئے اور وہ قبر میں ہے۔ 18 بیت عنیاہ یروشلم سے تقریباً دو میل دور تھا۔ 19 کئی یہودی مریم اور مار تھا کو اسکے بھائی لعزر کی موت کےموقع پر تسلی دینے یروشلم سے آئے تھے۔ 20 مارتھا یسوع کے آنے کی خبر سن کر باہر اس سے ملنے گئی لیکن مریم گھر میں رہی۔ 21 مارتھا نے یسوع سے کہا ، “اے خداوند اگر تم یہاں ہو تے تو میرا بھائی نہ مر تا۔ 22 اس کے باوجود میں جانتی ہوں کہ جو کچھ بھی تو خدا سے مانگے گا تو وہ تجھے دے گا۔” 23 یسوع نے کہا ، “تمہا را بھا ئی دوبا رہ زندہ اٹھے گا۔” 24 مارتھا نے کہا، “میں جانتی ہوں کہ میرا بھا ئی زندہ اٹھے گا جب کہ دوسرے لوگ موت کے بعد اٹھا ئے جا ئیں گے۔” 25 یسوع نے اس سے کہا ، “میں ہی حشر ہوں اور زندگی میں ہی ہوں جو لوگ مجھ پر ایمان لا ئیں گے حا لا نکہ وہ مریں گے مگر پھر بھی زندہ رہیں گے۔ 26 اور جو لوگ زندہ رہ کر مجھ پر ایمان لا ئے کیا وہ سچ مچ میں کبھی نہیں مریں گے۔مارتھا کیا تم اس پر ایمان لا ؤگی؟” 27 مارتھا نے جواب دیا ، “ہاں اے خدا وند! میں ایمان لا تی ہوں کہ تم مسیح ہو ، خدا کا بیٹا مسیح جو دنیا میں آنے وا لے تھے۔” یسوع کا رونا 28 اتنا کہہ کر مارتھا چلی گئی اور اپنی بہن مریم کو اکیلے لیجا کر کہی، “استاد یہاں ہے اور وہ تمہارے بارے میں پو چھ رہے ہیں۔” 29 جب مریم نے سنا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہو ئی اور یسوع سے ملنے چلی گئی۔ 30 یسوع ابھی گاؤں میں نہیں پہونچے تھے وہ ابھی تک اسی مقام پر تھے جہاں مارتھا اسے ملی تھی۔ 31 یہودی جو ابھی تک مریم کے ساتھ گھر میں تھے اور اسکو تسلّی دے رہے تھے انہوں نے دیکھا مریم جلدی سے اٹھی اور گھر کے باہر چلی گئی۔ انہوں نے سمجھا کہ وہ لعزر کی قبر کی طرف جا رہی ہے اور وہاں جاکر روئے گی اسلئے وہ اسکے پیچھے چلے۔ 32 مریم اس مقام تک گئی جہاں یسوع تھے جب اس نے یسوع کو دیکھا، اس کی قدم بوسی کی اور کہا ، “خداوند اگر آپ یہاں ہو تے تو میرا بھا ئی نہ مرتا۔” 33 یسوع نے دیکھا مریم رو رہی تھی اور جو یہودی اسکے ساتھ آئے تھے وہ بھی رو رہے تھے۔ یسوع اپنے دل میں بہت رنجیدہ ہوا وہ پریشان ہو گئے۔ 34 یسوع نے پو چھا ، “تم نے لعزر کو کہاں رکھا ہے؟ ”انہوں نے کہا اے خدا وند! آئیے اور دیکھئے۔ 35 یسوع روئے۔ 36 یہودیوں نے کہا، “دیکھو!یسوع لعزر کو بہت چاہتا تھا۔” 37 لیکن چند یہودیوں نے کہا، “یسوع نے اندھے کو بینائی دی۔ پھر لعزر کو کچھ نہ کچھ کر کے اس کو مر نے سے کیوں نہیں روکا ؟” یسوع کا لعزر کو زندہ کرنا 38 یسوع پھر رنجیدہ ہو گئے۔ یسوع لعزر کے قبر پر آیا۔ یہ ایک غار تھا اور پتھر سے ڈھکا ہوا تھا۔39 یسوع نے کہا ، “پتھر کو ہٹا ئیے” مارتھا نے کہا، “لیکن اے خدا وند لعزر کو مرے ہو ئے چار دن ہو گئے اور اس سے بد بو آرہی ہے۔” مارتھا مرے ہو ئے لعزر کی بہن تھی۔ 40 یسوع نے مارتھا سے کہا ، “یاد کرو میں نے تم سے کیا کہا تھا، میں نے کہا تھا اگر تم ایمان لاؤ گی تو خدا کا جلال دیکھو گی۔” 41 تب انہوں نے غار کے داخلہ کا پتھر ہٹایا تب یسوع نے دیکھ کر کہا ، “اے باپ میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے میری سن لی۔ 42 میں جانتا ہوں کہ تو ہمیشہ میری سنتا ہے مگر میں نے یہ اس لئے کہا کہ آس پاس جو لوگ کھڑے ہیں اور وہ ایمان لے آئیں اس بات پر کہ تو نے مجھے بھیجا ہے۔” 43 اتنا کہہ کر یسوع نے بلند آواز سے پکا رے “لعزر باہر نکل آ” 44 مردہ شخص باہر آیا اسکے ہاتھ پاؤں کفن میں لپٹے ہو ئے تھے اسکا چہرہ رومال سے ڈھکا ہوا تھا۔ یسوع نے لوگوں سے کہا ، “اس پر لپٹے ہو ئے کپڑے کو نکالو اور اسے جانے دو۔” یہودی قائدین کا یسوع کے قتل کا منصوبہ 45 وہاں کئی یہودی تھے جو مریم سے ملنے آئے تھے۔ جنہوں نے یسوع کا کارنامہ دیکھا تو ایمان لا ئے۔46 ان میں سے چند یہودی فریسیوں کے پاس گئے اور جو کچھ دیکھا وہ سب کہا۔ 47 تب سردار کاہنوں اور فریسیوں نے صدر عدالت کے لوگوں کو جمع کرکے کہا، “ہمیں کیا کرنا ہوگا یہ آدمی تو کئی معجزے دکھا رہا ہے۔ 48 اگر ہم خاموش رہیں اور اسے اسی طرح کرنے دیں گے تو سب لوگ جو اس پر ایمان لائیں گے پھر روم کے لوگ آکر ہماری قوم اور ہیکل کو تباہ کردینگے۔” 49 ان میں سے کائفا نامی شخص نے جو اس سال اعلیٰ کاہن تھا کہا ، “تم لوگ کچھ نہیں جانتے۔ 50 بہتر ہے کہ تم میں سے ایک آدمی قوم کے واسطے مر جائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو لیکن تم لوگ یہ نہیں سمجھتے۔” 51 کائفا نے خود نہیں سوچا۔ وہ اس سال اعلیٰ کاہن تھا اور اسی لئے وہ پیشین گوئی کر رہا تھا کہ یسوع یہودی قوم کے لئے مریں گے۔ 52 ہاں یسوع یہودی قوم کے لئے جان دیں گے۔ وہ خدا کے دوسرے فرزندوں کے لئے بھی مریں گے جو ساری دنیا میں بکھرے ہو ئے ہیں۔ وہ ان سبھوں کو جمع کرکے ایک بنانے کے لئے مریں گے۔ 53 اس دن سے یہودی سردار نے منصوبہ ترتیب دینا شروع کیا کہ کس طرح یسوع کو قتل کریں۔ 54 اس وجہ سے یسوع اعلانیہ طور پر ان لوگوں کے ساتھ سفر کرنا ترک کیا۔یسوع یروشلم سے روانہ ہو کر ریگستان کے قریب ایک جگہ ٹھہر گئے اسکا نام ا فرائم تھا وہاں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ ٹھہرے رہے۔ 55 ان دنوں یہودیوں کی فسح کی تقریب قریب تھی کئی لوگ فسح سے پہلے یروشلم گئے تا کہ اپنے آپ کو پاک کر لیں۔ 56 لوگ یسوع کو تلاش کر رہے تھے وہ ہیکل میں کھڑے ہو ئے تھے اور آپس میں ایک دوسرے سے پو چھ رہے تھے کہ “تم کیا سمجھتے ہو کیا وہ تقریب پر آئینگے؟” 57 لیکن سردار کاہنوں اور فریسیوں نے یسوع کے متعلق ایک خاص حکم جاری کیا انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو پتہ چل جا ئے کہ یسوع کہاں ہے تو اسکی اطلاع دینی چاہئے تا کہ سبھی سردار کا ہن اور فریسی اسکو گرفتار کر سکیں۔ یوحنا 12 یسوع کا بیت عنیاہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہونا 12 فسح کی تقریب سے چھ دن پہلے یسوع بیت عنیاہ گئے جہاں لعزر رہتا تھا اور جس کو یسوع نے موت سے زندہ کیا تھا۔ 2 بیت عنیاہ میں ان لوگوں نے یسوع کے لئے شام کا کھا نا تیار کیا اور ماتھا خدمت میں تھی لعزر ان میں شامل تھا جو یسوع کے ساتھ کھا نے بیٹھے ہو ئے تھے۔ 3 مریم نے جٹا ماسی کا خالص اور بیش قیمت عطر یسوع کے پاؤں پر چھڑکا پھر اسکے پاؤں کو اپنے بالوں سے پونچھا اور سارے گھر میں عطر کی خوشبو پھیل گئی۔ 4 یہوداہ اسکریوتی بھی وہاں تھا جو یسوع کے شاگردوں میں تھا جو بعد میں یسوع کا مخا لف بن گیا تھا۔ یہوداہ نے کہا۔، 5 “یہ عطر کی قیمت تین سو چاندی کے سکوں کی ہو گی اسکو فروخت کر کے ان پیسوں کو غریبوں میں تقسیم کر دیا جاتا۔” 6 یہوداہ کو غریبوں کی فکر نہ تھی اور اس نے یہ بات اس لئے کہی کیوں کہ وہ ایک چور تھا اور وہ ان میں سے تھا جنکے پاس ان لوگوں کی دی ہوئی رقم کی تھیلی ہو تی تھی۔ اور یہودا ہ کو جب بھی موقع ملتا اس میں سے چرا لیتا تھا۔ 7 یسوع نے کہا ، “اسے مت روکو یہ اس کے لئے صحیح ہے کہ وہ ایسا کرے اور یہ میرے دفن کی تیار یاں ہیں۔ 8 کیوں کہ غریب تو تمہا رے ساتھ ہمیشہ رہیں گے لیکن میں تمہا ر ے پاس نہیں رہوں گا۔” لعزر کے خلا ف منصو بہ 9 کئی یہودیوں نے سنا کہ یسوع بیت عنیاہ میں ہیں چنانچہ وہ ان لوگوں کو دیکھنے گئے اور ساتھ ہی لعزر کو بھی وہی لعزر جسے یسوع نے مر دہ سے زندہ کئے تھے۔ 10 اس طرح کا ہنوں کے رہنما نے لعزر کو بھی مار دینے کا منصوبہ بنایا۔ 11 لعزر کی وجہ سے کئی یہودی اپنے سردار کو چھوڑ رہے تھے اور یسوع پر ایمان لا رہے تھے۔اسی لئے یہودی سرداروں نے لعزر کو مارنے کا منصوبہ بنایا۔ یسوع کا یروشلم آنا 12 دوسرے دن لوگوں نے سنا کہ یسوع یروشلم آ رہے ہیں۔ یہ لوگ فسح کی تقریب پر یروشلم آئے ہو ئے تھے۔ 13 ان لوگوں نے کھجور کی ڈالیاں لیں اور یسوع سے ملنے چلے اور پکارنے لگے، “اس کی تعریف بیان کرو، اسکا خیر مقدم کرو، اور اس پر خدا کی رحمت ہو جو خدا وند کے نام پر آتے ہیں۔”[a] خدا کی رحمت اسرائیل کے بادشاہ پر ہے۔ 14 یسو ع کو گدھا ملا اور وہ اس پر سوار ہو ئے۔ جیسا کہ صحیفہ کہتا ہے۔ 15 “اے شہر صیون [b] مت ڈر اور دیکھ کہ تیرا بادشاہ آرہا ہے اور وہ گدھے کے بچے پر سوار ہے۔”[c] 16 اس وقت یسوع کے شاگردوں نے ان باتوں کو نہیں سمجھا لیکن جب یسوع اپنے جلال پر آئے تو انہیں یاد آیا کہ سب کچھ اسی کے متعلق لکھا گیا تب شاگردوں نے سمجھا اور یاد کیا کہ لوگوں نے کیا سلوک کیا ہے۔ لوگوں کا یسوع کے بارے میں کہنا 17 اس وقت جب یسوع نے لعزر کو زندہ کیا تو کئی لوگ اس کے ساتھ تھے اور وہ اس خبر کو پھیلا رہے تھے۔ 18 اسی وجہ سے کئی لوگ یسوع سے ملنے گئے کیونکہ انہوں نے سنا تھا کہ یسوع نے لعز رکے ساتھ معجزہ دکھا یا۔ 19 تب فریسیوں نے ایک دوسرے سے کہا ، “دیکھو ہمارا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے تمام لوگ اسکی پیروی کر رہے ہیں۔” یسوع کا زندگی اور موت کے بارے میں کہنا 20 و ہیں پر چند یونانی لوگ بھی تھے جو فسح کی تقریب کے موقع پر عبادت کرنے آئے تھے۔ 21 یہ یونانی لوگ فلپس کے پاس گئے فلپس بیت صیدا گلیل کا رہنے والا تھا اور اس سے کہا ، “ہم یسوع سے ملنا چاہتے ہیں۔” 22 فلپس نے اندر یاس سے کہا ، “تب فلپس اور اندریاس دونوں نے یسوع سے کہا۔ 23 یسوع نے ان سے کہا وقت آگیا ہے کہ ابن آدم جلال پا نے والا ہے۔ 24 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ گیہوں کا ایک دا نہ زمین پر گر کر مر جا تا ہے تب ہی زمین سے کئی اور دانے پیدا ہوتے ہیں لیکن اگر وہ نہیں مرتا تو پھر وہ ایک ہی دانہ کی شکل میں ہی رہتا ہے۔ 25 جو شخص اپنی ہی جان کو عزیز رکھتا ہے وہ کھو دیتا ہے لیکن جو شخص اس دنیا میں اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کر تا ہے اور اس سے نفرت کرتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے۔ 26 جو شخص میری خدمت کرے وہ میرے ساتھ ہو لے اور میں جہاں بھی ہوں میرے غلام میرے ساتھ ہوں گے۔ میرا باپ انکو بھی عزت دیگا۔ جو میری خدمت کریں گے۔ یسوع کا اپنی موت کے بارے میں کہنا 27 “اب میری جان گھبراتی ہے پس میں کیا کروں۔ کیا میں کہوں کہ اے باپ مجھے ان تکالیف سے بچا! نہیں میں خود ان تکالیف کو سہنے آیا ہوں۔ 28 اے باپ اپنے نام کی عظمت و جلال رکھ لے۔” تب ایک آواز آسمان سے آئی ، “میں نے اس نام کی عظمت و جلال کو قائم رکھا ہے۔” 29 جو لوگ وہاں کھڑے تھے انہوں نے اس آواز کو سن کر کہا بادل کی گرج ہے لیکن دوسروں نے کہا نہیں ، “یہ تو فرشتہ ہے جو یسوع سے ہم کلام ہوا۔” 30 یسوع نے لوگوں سے کہا ، “یہ آواز میرے لئے نہیں بلکہ تمہارے لئے تھی۔ 31 اب دنیا کی عدالت کا وقت آپہونچا ہے۔ اب دنیا کا حاکم (شیطان ) دنیا سے نکال دیا جائیگا۔ 32 اور مجھے بھی زمین سے اٹھا لیا جائیگا جب ایسا ہوگا میں سب لوگوں کو اپنے پاس لے لونگا۔” 33 اس طرح یسوع نے بتا یا کہ وہ کس طرح کی موت مریگا۔ 34 لوگوں نے کہا ، “لیکن ہماری شریعت بتا تی ہے مسیح ہمیشہ کے لئے رہیگا پھر تم ایسا کیوں کہتے ہو کہ ابن آدم کو اوپر اٹھا لیا جائیگا یہ ابن آدم کون ہے ؟” 35 تب یسوع نے ان سے کہا ، “کچھ دیر تک نور تمہارے ساتھ ہے جب تک نور تمہارے ساتھ ہے تاریکی تم پر غالب نہ آئیگی اور جو تاریکی میں چلتا ہے اسے معلوم نہیں کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ 36 جبکہ نور تمہارے پاس ہے لہذا اب تم نور پر ایمان لاؤ تا کہ تم نور کے بیٹے بنو۔” جب یسوع نے اپنا کہنا ختم کیا اور ایسی جگہ گئے جہاں لوگ اسے پا نہیں سکے۔ یہودیوں کا یسوع کے لئے عدم یقین 37 یسوع نے کئی معجزے دکھا ئے اور لوگوں نے سب کچھ دیکھا اس کے باوجود اس پر ایمان نہیں لائے۔38 اس سے یسعیاہ نبی کے کلام کی وضاحت ہوئی جو اس نے کہا: “اے خداوند کس نے ہمارے پیغام کو مانا اور ایمان لایا اور کس نے خداوند کی طاقت کا مظاہرہ دیکھا؟” [d] 39 اسکی ایک اور وجہ تھی جس سے وہ ایمان نہ لائے جیسا کہ یسعیاہ نے کہا: 40 “خدا نے انہیں اندھا اور انکے دلوں کو سخت کر دیا۔ اسلئے اس نے ایسا کیا تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں اور نہ دل سے سمجھیں اور میری طرف رجوع ہوں۔ تا کہ میں انہیں شفاء دوں۔” [e] 41 یسعیاہ نے یہ اسلئے کہا کہ اس نے اس عظمت و جلال کو دیکھا تھا اس لئے یسعیاہ نے اس کے بارے میں ایسا کہا۔ 42 کئی لوگوں نے یسوع پر ایمان لایا حتٰی کہ یہودی سرداروں نے بھی اس پر ایمان لائے مگر وہ فریسیوں سے ڈرتے تھے اسلئے انہوں نے اعلانیہ طورپر اپنے ایمان لا نے کو ظاہر نہیں کیا۔ انہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں انہیں یہودیوں کی عبادت گاہ سے نکال نہ دیا جائے۔ 43 اسلئے کہ انہیں خدا کی تعریف کی بجائے لوگوں کی تعریف چاہئے تھی۔ یسوع کی تعلیمات لوگوں کا انصاف کریگی 44 یسوع نے بلند آواز سے کہا ، “جو مجھ پر ایمان لاتا ہے تو وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتا گویا وہ میرے بھیجنے والے پر ایمان لا تاہے۔ 45 “جو مجھے دیکھتا ہے گویا اس نے میرے بھیجنے والے کو دیکھا۔46 میں نور ہوں ،اور اس دنیا میں آیا ہوں۔ تا کہ لوگ مجھ پر ایمان لائیں اور جو کوئی مجھ پر ایمان لائے گا وہ تاریکی میں نہ رہیگا۔ 47 “میں اس دنیا میں لوگوں کا انصاف کر نے نہیں آیا بلکہ لوگوں کو پا نے کے لئے آیا ہوں تو پھر میں وہ نہیں ہوں کہ لوگوں کا انصاف کرو ں جو میری تعلیمات کو سنکر ایمان نہ لا ئے میں اسے مجرم ٹھہراؤں۔48 جن لوگوں نے میری باتیں سنیں اور ایمان نہیں لائے انہیں مجرم ٹھہرا نے والا ایک ہی ہے۔ جو کچھ میں نے تمہیں سکھایا اور اس کے مطابق آخری دن اسکا فیصلہ ہوگا۔ 49 کیوں کہ جن چیزوں کی میں نے تعلیم دی ہے وہ میری اپنی نہیں۔ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اسی نے کہا کہ کیا کہنا ہے کیا کرنا ہے۔ 50 اور میں جانتا ہوں کہ ہمیشہ کی زندگی باپ کے احکام پر عمل کرکے ملتی ہے چنانچہ جو کچھ کہتا ہوں وہ سب باتیں باپ ہی کی ہیں جس نے مجھے کہنے کے لئے کہا۔” Footnotes: a. یوحنا 12:13 زبور۱۱۸ :۲۵۔۲۶ b. یوحنا 12:15 صیّون ادبی طور پر” صیون کی بیٹی” اس کے معنی ہیں شہر یروشلم- c. یوحنا 12:15 زکریاہ۹:۹ d. یوحنا 12:38 یسعیاہ۵۳:۱ e. یوحنا 12:40 یسعیاہ۶:۱۰ یوحنا 13 یسوع کا اپنے شاگردوں کا پیر دھونا 13 فسح کی تقریب کے قریب یسوع نے جان لیا کہ وقت آپہنچا ہے کہ دنیا سے نکل کر باپ کے پاس جا ؤں۔ اس نے دنیا میں ہمیشہ ا ن لوگوں سے محبت کی جو ان کے اپنے تھے۔ اس وقت انہوں نے اپنی محبت کا پوری طرح اظہار کیا۔ 2 یسوع اور اس کے شاگرد رات کے کھا نے پر تھے۔ شیطان ابلیس یہوداہ اسکریوتی کے دل میں بات ڈال چکا تھا کہ وہ یسوع کے خلاف ہو جا ئے۔یہوداہ شمعون کا بیٹا تھا۔ 3 یسوع کو باپ نے ہر چیز پر اختیار دے دیاتھا یسوع یہ جان گئے تھے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے اور واپس خدا کے پاس ہی جا رہا ہے۔ 4 وہ جب کھا نا کھا رہے تھے یسوع نے کھڑے ہو کر اپنے کپڑے اتا رے اور رومال اپنی کمر سے باندھا۔ 5 یسوع پھر برتن سے پا نی ڈال کر اپنے شاگردوں کے پا ؤں دھوئے اور اسے پھر اپنے رومال سے پو نچھا جو اس کی کمر میں بندھا تھا۔ 6 یسوع پھر شمعون پطرس کے پاس آئے پھرپطرس نے یسوع سے کہا ، “اے خداوند آپ میرے پیر نہ دھو ئیں۔” 7 یسوع نے کہا ، “اب تم نہیں جانتے کہ میں کیا کر رہا ہوں لیکن بعد میں تمہا ری سمجھ میں آجائے گا۔” 8 پطر س نے کہا ، “میں آپ کو اپنے پیر کبھی نہیں دھو نے دونگا۔” یسوع نے جواب دیا، “اگر میں تمہا رے پاؤں نہ دھوؤں تو پھر تم میرے لوگوں میں سے نہیں ہو گے۔” 9 شمعون پطرس نے کہا ، “اے خدا وند! میرے پیر دھو نے کے بعد میرے ہا تھ اور میرا سر بھی دھو ڈالو۔” 10 یسوع نے کہا ، “جو نہا چکا ہے اس کو سوائے پاؤں کے کسی اور عضو کو دھونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس کا پورا بدن صاف ہے اس کو صرف پیر ہی دھو نے کی ضرورت ہے اور تم لوگ پاک ہو۔ لیکن سب کے سب پاک نہیں۔” 11 یسوع یہ جان گئے تھے کہ کون اس کا مخا لف ہے اسی لئے اس نے کہا ، “تم میں ہر کو ئی پاک نہیں۔” 12 جب یسوع ان کے پا ؤں دھو چکے تو پھر کپڑے پہن کر واپس میز پر آگئے یسوع نے پوچھا ، “کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہا رے لئے کیا کیا ؟ 13 تم مجھے استاد اور خدا وند کہتے ہو یہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو کیوں کہ میں وہی ہوں۔ 14 میں تمہا را خداوند اور استاد ہوں لیکن میں نے تمہا رے پیر ایک خا دم کی طرح دھو ئے اس لئے تم بھی آپس میں ایک دوسرے کے پیر دھوؤ۔ 15 میں نے ایسا اس لئے کیا تا کہ تمہا رے لئے ایک مثال قائم ہو اس لئے تمہیں بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی کر نا چاہئے جیسا کہ میں نے تمہا رے ساتھ کیا۔ 16 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایک خادم اپنے آقا سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا اور نہ قاصد ہی اپنے بھیجنے والے سے بڑا ہو سکتا ہے۔ 17 اگرتم یہ جانتے ہو تب تم خوش رہو گے اگر یہ سب تم کروگے۔ 18 “میں تم سب کے بارے میں نہیں کہتا ہوں۔میں جن کو منتخب کیا ہوں انہیں میں جانتا ہوں لیکن جو صحیفہ میں ہے وہ پو را ہوگا۔ جو میرے ساتھ کھانے میں شریک رہا وہی میرا مخا لف ہوا۔ 19 اب میں اس کے ہو نے سے پہلے خبر دا ر کر تا ہوں تا کہ جب یہ واقعہ ہو جا ئے تو تم ایمان لا ؤ کہ میں وہی ہوں۔ 20 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جس نے میرے بھیجے ہو ئے کو قبول کیا گویا اس نے مجھے قبول کیا اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبول کرتا ہے۔” یسوع کا بیان کرنا کہ مخالف کون ہے 21 یہ باتیں کہہ کر یسوع نے اپنے آپ کو تکلیف میں محسوس کیا اور اعلانیہ طور پر کہا ، “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک میرا مخالف ہو گا۔” 22 یسوع کے شاگردوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور وہ سمجھ نہیں سکے کہ یسوع کس آدمی کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔” 23 ایک شاگرد جو یسوع کے قریب تھا اور یسوع کی طرف جھک کر بیٹھا ہوا تھا اور وہ یسوع کا چہیتا شاگرد تھا۔ 24 شمعون پطرس نے اس کو اشارہ سے کہا کہ پو چھو یسوع اس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ 25 اور وہ شاگرد اسی طرح قربت کے سہارے سے کہا ، “اے خداوند کون ہے جو تمہارا مخالف ہو گا ؟” 26 یسوع نے جواب دیا ،“میں اس روٹی کو ڈبو کر ایک شخص کو دونگا وہ و ہی ہے” اور یسوع نے ایک روٹی کا ٹکڑا لیا اور اس کو برتن میں ڈبو کر یہوداہ اسکریوتی کو دیا جو شمعون کا بیٹا تھا۔ 27 جب یہوداہ نے روٹی لی شیطان یہوداہ میں سما گیا۔ یسوع نے یہوداہ سے کہا ، “جو تو کر نا چاہتا ہے وہ جلدی سے کر ۔” 28 میز پر بیٹھے ہو ئے شاگردوں میں کسی نے نہ سمجھا کہ یسوع نے اسکو ایسا کیوں کہا۔29 چونکہ یہوداہ کے پاس رقم کی تھیلی رہتی تھی اس لئے شاگردوں نے سمجھا شاید یسوع کی مرضی یہ ہے کہ یہوداہ بازار جا کر تقریب کے لئے کچھ خرید لا ئے یا پھر وہ سمجھے کہ شاید یسوع یہوداہ کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ غریبوں میں کچھ بانٹ دے۔ 30 یہوداہ روٹی کا ٹکڑا لیا اور فوراً باہر چلا گیا۔یہ رات کا وقت تھا۔ یسوع کا اپنی موت کے بارے میں کہنا 31 جب یہوداہ چلا گیا تو یسوع نے کہا ، “اب ابن آدم جلال پا رہا ہے۔ اور خدا نے ابنِ آ دم سے جلال پایا۔32 اگر خدا اسکے ذریعے جلال پاتا ہے تب خدا بھی بیٹے کو جلال دیتا ہے اور اسکو جلد ہی جلال دیگا۔” 33 یسوع نے کہا ، “میرے بچو میں تمہارے ساتھ صرف مختصر عرصے کے لئے رہونگا تم مجھے ڈھونڈو گے اور جیسا میں نے یہودیوں سے کہا تھا اسی طرح تم سے اب بھی کہتا ہوں: “میں جہاں جا رہا ہوں تم نہیں آسکتے۔ 34 “اب میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں ایک دوسرے سے محبت کرو جیسا کہ میں نے تم سے محبت کی تھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت کرو۔ 35 سب لوگ یہ جان جائیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو اگر تم ایک دوسرے سے محبت کرو گے۔” یسوع نے بتایا کہ پطرس اس کا انکار کریگا 36 شمعون پطرس نے یسوع سے کہا ، “اے خدا وند آپ کہاں جا رہے ہیں۔” یسوع نے کہا، “جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں آسکتے وہاں بعد میں تم میرے پیچھے آؤ گے۔” 37 پطرس نے کہا ، “اے خدا وند! میں اب آپکے پیچھے کیوں نہیں آسکتا میں آپ کے لئے مر نے کو تیار ہوں۔” 38 یسوع نے جواب دیا! “کیا تم حقیقت میں اپنی زندگی میرے لئے دو گے میں سچ کہتا ہوں جب تک مرغ بانگ نہ دیگا تب تک تو تین بار میرا انکار کرے گا کہ تو مجھے نہیں جانتا ہے۔” یوحنا 14 یسوع کا اپنے ماننے والوں کو خوش خبری دینا 14 یسوع نے کہا ، “اپنے دل کو تکلیف نہ دو خدا پر اور مجھ پر بھروسہ رکھو۔ 2 میرے با پ کے گھر میں کئی کمرے ہیں اگر یہ سچ نہ ہو تا تو میں تم سے کبھی نہ کہتا۔ میں وہاں جارہا ہوں تا کہ تمہا رے لئے جگہ تیار کروں۔ 3 جب میں وہا ں جا کر تمہا رے لئے جگہ بنا لوں تب دوبارہ میں پھر آؤں گا۔ اور میں تمہیں اپنے ساتھ لے جا ؤں گا۔ اور تب تم میرے ساتھ جہاں میں ہوں وہاں تم بھی رہنا۔ 4 اور تم اس راہ کو جانتے ہو جہاں میں جا رہا ہوں۔” 5 تھوما نے کہا، “ا ے خداوند! ہم نہیں جانتے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں پھر ہم کس طرح راہ کو جانیں گے ؟” 6 یسوع نے جواب دیا ، “میں راستہ ہوں میں سچا ئی ہوں اور زندگی بھی۔ میں ہی ایک ذریعہ ہوں جس سے تم باپ کے پاس جا سکتے ہو۔ 7 اگر تم حقیقت میں مجھے جان گئے ہو تے تو میرے باپ کو بھی جانتے اب تم اسے جانتے ہو اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے۔” 8 فلپ نے یسوع سے کہا ، “اے خداوند! ہمیں اپنے باپ کو دکھا ؤ یہی ہم چا ہتے ہیں۔” 9 یسوع نے جواب دیا ، “فلپ میں اتنے عرصہ سے تمہا رے ساتھ ہوں اور تمہیں مجھے جاننا چاہئے۔جس شخص نے مجھے دیکھا ہے اس نے باپ کو بھی دیکھا ہے پھر تم ایسا کیوں کہتے ہو کہ ہمیں باپ کو دکھا ؤ؟ 10 کیا تمہیں یقین نہیں ہے کہ میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے جو کچھ میں تمہیں کہہ چکا ہوں وہ میری طرف سے نہیں بلکہ باپ مجھ میں ہے اور وہ اپنا کام کر رہا ہے۔ 11 جب میں یہ کہوں کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں تو یقین کر نا چا ہئے یا پھر معجزے کی وجہ سے ایمان لے آ ؤ جو میں نے کئے۔ 12 میں سچ کہتا ہوں جو شخص مجھ میں یقین رکھتا ہے اور ایمان رکھتا ہے اور جو کام میں کرتا ہوں وہ بھی کرے۔ہاں! وہ اس سے بھی بڑا کام کرے گا جو میں نے کئے ہیں۔کیوں کہ میں باپ کے پا س جا رہا ہوں۔ 13 اگر تم میرے نام سے کچھ چا ہو گے میں تمہا رے لئے کروں گا اس طرح باپ کی عظمت و جلال کا اظہار بیٹے کے ذریعے ہو گا۔ 14 اگر تم میرے نام سے کچھ چا ہو گے میں تمہا رے لئے کروں گا۔ مقدس روح کا وعدہ 15 “اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو تم وہی کروگے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ 16 میں باپ سے استدعا کروں گا تو وہ تمہا رے لئے دوسرا مدد گار [a] دیگا۔ اور وہ ہمیشہ تمہا رے ساتھ رہے گا۔ 17 وہ مدد گا ر یعنی روح حق [b] جسے دنیا تسلیم نہیں کرتی کیوں کہ دنیا نہ اسے جانتی ہے اور نہ دیکھتی ہے“لیکن تم جانتے ہو وہ تمہا رے ساتھ ہے اور تم میں رہے گی۔ 18 “میں تمہیں اس طرح تنہا نہیں چھو ڑوں گا جیسے بغیر والدین کے بچے رہتے ہیں میں دوبارہ تمہا رے پاس آؤں گا۔ 19 بہت کم وقت میں دنیا کے لوگ مجھے پھر نہ دیکھیں گے لیکن تم مجھے دیکھو گے تم زندہ رہوگے اس لئے کہ میں زندہ ہوں۔ 20 اس روز تم جان جاؤگے کہ میں با پ میں ہوں۔ اور یہ بھی جان جا ؤگے تم مجھ میں ہو اور میں تم میں ہوں۔ 21 اگر کوئی شخص میرے احکام کو جانتا ہے اور اس پر عمل کر تا ہے تو ایسا شخص حقیقت میں مجھ سے ہی محبت کرتا ہے اور میرا باپ بھی اس سے محبت کرتا ہے جو مجھ سے محبت کر ے گا اور میں خود کو اس پر ظاہر کروں گا اور میں اس سے محبت کروں گا اور اپنے آپ کو اس پر ظا ہر کروں گا۔” 22 تب یہوداہ نے ( یہوداہ اسکر یوتی نہیں )کہا ، “اے خدا وندتم اپنے آپ کو ہم پر ظا ہر کرنے کا منصوبہ کیوں بنا رہے ہو اور دنیا پر کیوں نہیں ؟” 23 یسوع نے جواب دیا ، “اگر کو ئی آدمی مجھ سے محبت کریگا تو میرے کلام پر عمل کرے گا۔ میرا باپ اس سے محبت کرے گا۔ میں اور میرا باپ اس کے ساتھ رہے گا۔ 24 لیکن جو شخص مجھ سے محبت نہیں رکھتا میری تعلیمات پر عمل نہیں کرتا۔ اور یہ تعلیمات جو تم سنتے ہو حقیقت میں میری نہیں ہیں بلکہ میرے باپ کی طرف سے ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 25 “میں تم سے یہ سب کچھ کہہ چکا ہوں جبکہ میں تمہا رے ساتھ ہوں۔ 26 لیکن مددگار تمہیں ہر چیز کی تعلیم دے گا یہ مددگار جو مقدس روح ہے تمہیں میری ہر بات کی یاد دلا ئیگا۔”یہ مددگار مقدس روح ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا۔ 27 “میں تمہیں اطمینان دلا تا ہوں یہ میرا اپنا اطمینان ہے تمہیں دیتا ہوں مگر اس طرح نہیں جیسا کہ دنیا تمہیں دیتی ہے اس لئے مت گھبرا ؤ اور نہ ڈرو۔ 28 تم سن چکے ہو جو کچھ کہ میں تم سے کہہ چکا ہو ں کہ میں جانتا ہوں لیکن میں پھر تمہا رے پاس آؤں گا۔اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو تم خوش ہو گے کیوں کہ میں باپ کے پاس جا رہا ں ہوں۔ کیوں کہ باپ مجھ سے زیادہ عظیم ہے۔ 29 میں تم سے کچھ ہو نے سے قبل سب باتیں کہہ چکا ہوں۔ تا کہ جب ہو جائے تو تم یقین کر سکو۔” 30 میں تم سے اور زیادہ بات نہیں کروں گا کیوں کہ دنیا کا حا کم (ابلیس ) آرہا ہے اس کا مجھ پرکو ئی اختیار نہیں ہے۔ 31 لیکن دنیا کو یہ جاننا چاہئے کہ میں باپ سے محبت کر تا ہو ں اس لئے میں وہی کچھ کر تا ہو ں جو باپ نے مجھ سے کرنے کو کہا ہے “آؤ ہم یہاں سے چلیں گے۔” Footnotes: a. یوحنا 14:16 مدد گار یا “آرامدہ” روح القدس b. یوحنا 14:17 روح حق یہ روح القدس ہے– اس کا کام یسوع کی مدد کرنا اس لئے خدا کی سچّائی کو اس کے شاگرد سمجھ سکے یوحنّا ۱۳:۱۶ یوحنا 15 یسوع انگور کی بیل کی طرح ہے 15 یسوع نے کہا ، “میں انگور کی حقیقی بیل ہوں اور میرا باپ باغبان ہے۔ 2 میری ہر شاخ جو پھل نہیں لاتی وہ کا ٹ ڈالتا ہے اور ہر شاخ کو چھانٹتا ہے جو پھل لا تی ہے تاکہ اور پھل زیادہ ہو۔ 3 میری تعلیما ت جو تم کو ملی ہیں جس کی وجہ سے تم پاک ہو۔ 4 تم مجھ میں ہمیشہ قائم رہو اور میں تم میں ہمیشہ قائم رہو ں گا کوئی بھی شاخ جو درخت سے الگ تنہا ہو پھل نہیں لا تی اس لئے اسے درخت سے قائم لگے رہنا ہے اور یہی معاملہ تمہا رے ساتھ بھی ہے اگر مجھ پر قائم نہ رہو تو پھل نہیں لا سکتے۔ 5 “میں انگور کا درخت ہوں اور تم اسکی شاخیں ہو اگر کوئی شخص مجھ پر قائم رہے اور میں اس میں رہوں زیادہ پھل لا ئیگا۔ میرے بغیر تم کچھ نہ کر سکو گے۔ 6 اگر کوئی شخص مجھ میں قائم نہ رہا تو اسکی مثال اس شاخ کی ہے جسے پھینک دی جا تی ہے۔اور وہ شاخ مردہ ہو جاتی ہے یعنی سوکھ جا تی ہے لوگ سوکھی شاخ اٹھا کر آگ میں جلا دیتے ہیں۔ 7 “مجھ میں قائم رہو اور میری تعلیمات پر عمل کرو اگر تم ایسا کرو تو تم جو چا ہو طلب کرو اور وہ تمہیں دی جا ئیں گی۔ 8 تم بہت سے پھل لا ؤاور ثابت کر دو کہ تم میرے شاگرد ہو اور میرے باپ کا جلا ل اسی سے ہے۔ 9 میں تم سے محبت اس طرح کرتا ہوں جس طرح باپ مجھ سے کرتا ہے تم میری محبت میں قائم رہو۔10 میں نے اپنے باپ کے احکام کی تعمیل کی اور اس کی محبت کو قائم رکھا اسی طرح اگر تم بھی میرے احکام کی تعمیل کرو تو تم میری محبت میں قائم رہو گے۔ 11 یہ سب کچھ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم ویسے ہی خوش رہو جس طرح میں ہوں میں چا ہتا ہوں کہ تمہا ری ہر خوشی مکمل ہو جا ئے۔ 12 میں حکم دیتا ہوں کہ جیسی محبت میں نے تم سے رکھی ہے اسی طرح تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔13 سب سے زیادہ محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے دوستوں کے لئے اپنی جان دیدے۔ 14 اگر تم وہ چیزیں کرو جس کا میں نے حکم دیاہے تو تم میرے دوست ہو۔ 15 میں تمہیں اور دوبارہ خادم نہیں کہوں گا کہ خا دم نہیں جانتا کہ اس کا آقا کیا کر رہا ہے۔ لیکن میں تمہیں دوست کہتا ہوں کیوں کہ میں وہ سب کچھ کہہ چکا ہوں جو میں نے باپ سے سنی ہیں۔ 16 تم نے مجھے منتخب نہیں کیا بلکہ میں نے تمہا را انتخاب کیا ہے کہ تم جا کر پھل لا ؤ۔ میں چا ہتا ہوں کہ یہ پھل تمہا ری زندگی میں قائم رہے۔تب ہی باپ تمہیں ہر وہ چیز دے گا جو تم میرے نام سے مانگو۔17 یہ تم کو میرا حکم ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ یسوع کا اپنے شاگردوں کو خبر دار کرنا 18 “اگر دنیا تم سے نفرت کرے تویہ یاد رکھوکہ دنیا مجھ سے پہلے ہی نفرت کر چکی ہے۔ 19 اگر تم دنیا کے ہو تے تودنیا تمہیں اپنے لوگوں جیسا عزیز رکھتی چونکہ تم دنیا کے نہیں ہو کیوں کہ میں نے تمہیں دنیا سے چن لیا ہے اسی لئے دنیا نفرت کر تی ہے۔ 20 جو کچھ میں نے تم سے کہا اسے یا د رکھو کہ خادم اپنے آقا سے بڑا نہیں ہوتا اگر لوگوں نے مجھے ستایاہے تو تمہیں بھی ستا ئیں گے۔ اور اگر لوگ میری تعلیمات پر عمل کئے ہیں تو وہ تمہا ری بات پر بھی عمل کریں گے۔ 21 لوگ یہ سب کچھ میرے نام کی وجہ سے تمہا رے ساتھ کریں گے اور یہ لوگ اس کو نہیں جانتے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 22 اگر میں نہ آتا اور دنیا کے لوگوں سے نہ کہتا تب وہ گناہ کے مجرم نہ ہو تے۔لیکن ا ب میں انہیں کہہ چکا ہوں اس لئے وہ گناہ کی معافی کا جواز نہیں دے سکتے۔ 23 جو مجھ سے نفرت کرتا ہے وہ میرے باپ سے بھی نفرت کرتا ہے۔ 24 میں نے لوگوں میں ایسے کام کئے کہ اس سے پہلے کسی نے نہیں کئے اگر میں ایسا نہ کرتا تو وہ گنہگار ٹھہرتے لیکن وہ سب کام جو میں نے کیا انہوں نے دیکھا ہے۔ اور اب بھی مجھ سے اور میرے باپ سے نفرت کر تے ہیں۔ 25 لیکن یہ سب اس لئے ہوا کہ ان کی شریعت میں جو لکھا ہوا تھا وہ سچ ثابت ہوا انہوں نے بلا وجہ مجھ سے نفرت کی۔ 26 میں تمہا رے پاس مدد گار بھیجونگا جو میرے با پ کی طرف سے ہوگا وہ مددگار سچا ئی کی روح ہے جو باپ کی طرف سے آتی ہے جب وہ آئے تو میرے بارے میں گواہی دے گی۔ 27 اور تم بھی لوگوں سے میرے بارے میں کہوگے کیو ں کہ تم شروع ہی سے میرے ساتھ ہو۔ یوحنا 16 16 “میں نے تم سے یہ باتیں اس لئے کہیں تا کہ تم اپنا ایمان نہ کھو دو۔ 2 لوگ تمہیں یہودی عبا دت خا نے سے نکال دیں گے ہاں یہ وقت آ رہا ہے کہ لوگ تمہیں ما ر نے کو خدا کی خدمت کر نے کے برا بر سمجھیں گے۔ 3 لوگ ایسا اس لئے کریں گے کہ نہ انہوں نے باپ کو جانا اور نہ مجھے۔ 4 میں اب تمہیں یہ سب کچھ کہتا ہوں تا کہ جب ان چیزوں کا وقت آئے تو تمہیں یاد آجا ئے کہ میں نے تم کو خبر دار کر دیا تھا۔ مقدس روح کا کام “میں نے شروع میں یہ بات تم سے اس لئے نہ کہی کیوں کہ میں تمہا رے سا تھ تھا۔ 5 اب میں جا رہا ہو ں اس کے پاس جس نے مجھے بھیجا ہے اور تم میں سے کو ئی نہیں پوچھتا کہ تم کہاں جا رہے ہو ؟6 تمہا رے دل غم سے بھرے ہو ئے ہیں کیوں کہ میں تم سے یہ باتیں کہہ دیا ہوں۔ 7 میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے بہتر ہے کیوں کہ اگر میں جاتا ہوں تو تمہا رے لئے مددگار بھیجوں گا۔ اگر میں نہیں جا ؤں توتمہا رے پاس مددگار نہ آئے گا۔ 8 جب مدد گار آئے تو وہ دنیا کی خرابی کو ثابت کرے گا اور گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں بھی بتا ئے گا۔ 9 مددگار دنیا کی غلطی کو ثابت کر یگا کیوں کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لا ئے۔ 10 وہ ثابت کرے گا کہ دنیا راستبازی میں غلط ہے۔کیوں کہ میں اپنے باپ کے پاس جا رہا ہوں اور تم پھر مجھے نہ دیکھو گے۔ 11 وہ مددگار یہ ثابت کریگا عدالت کے بارے میں دنیا کو اس لئے کہ اس دنیا کے حا کم(ابلیس ) کو پہلے ہی مجرم ٹھہرا دیا گیاہے۔ 12 “مجھے تم سے اور بہت کچھ کہنا ہے مگر ان سب باتوں کو تم برداشت نہ کر سکوگے۔ 13 لیکن جب روح حق آئیگا تو تم کو سچا ئی کی راہ دکھا ئے گا۔ روح حق اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ وہ وہی کہے گا جو وہ سنتا ہے وہ تمہیں وہی کہے گا جو کچھ ہو نے والا ہے۔ 14 روح حق میری عظمت و جلا ل کو ظا ہر کرے گا اس لئے کہ وہ مجھ سے ان چیزوں کو حا صل کر کے تمہیں کہے گا۔ 15 جو کچھ باپ کا ہے وہ میرا ہے۔ اسی لئے میں نے کہا وہ روح مجھ سے ہی حا صل کر کے تمہیں معلوم کرا ئے گا۔ غم کا خوشیوں میں تبدیل ہونا 16 “تھوڑی ہی دیر بعد تم مجھے نہ دیکھو گے۔ پھر اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ہی تم مجھے دوبا رہ دیکھو گے۔” 17 بعض شاگردو ں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا ، “اسکا کیا مطلب ہے کہ جو یسوع کہتا ہے تھوڑی دیر بعد تم نہ دیکھو گے اور پھر تھوڑی ہی دیر میں مجھے دو بارہ دیکھو گے ؟ “اور پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ جب وہ کہتا ہے کہ میں باپ کے پاس جا رہا ہوں۔ 18 شاگردوں نے پو چھا ، “اس کا کیا مطلب ہے جب وہ کہتا ہے تھو ڑی دیر بعد؟ہم لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔” 19 یسوع نے دیکھا کہ شاگرد کچھ پوچھنا چاہتے ہیں اس لئے یسوع نے اپنے شاگردو ں سے پو چھا ، “کیا تم میری اس بات کی تحقیق چا ہتے ہو جو میں نے تم سے کہی کہ تھو ڑی دیر بعد تم مجھے نہ دیکھو گے اور پھر تھو ڑی ہی دیر میں دوبا رہ دیکھ لو گے ؟ 20 میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ تم رو ؤگے اور رنجیدہ ہوگے مگر دنیا خوش ہو گی تم رنجیدہ ہو گے لیکن تمہا ری رنجید گی ہی تمہا ری خوشی بنے گی۔ 21 جب عورت بچہ جنتی ہے تو اس کو درد ہو تا ہے کیو ں کہ اس کا وقت آ چکا ہے لیکن جب بچہ پیدا ہو جاتاہے تو وہ درد کو بھول جا تی ہے کیوں کہ وہ خوش ہو تی ہے کہ دنیا میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ 22 یہی کچھ تمہا رے ساتھ ہے اب تم رنجیدہ ہو لیکن میں تم سے پھر ملوں گا تو تم خوش ہو گے۔ اور کو ئی بھی تمہا ری خوشی تم سے نہیں چھین سکتا۔ 23 اس دن تم مجھ سے کچھ نہ پو چھوگے میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ میرا باپ تمکو ہر چیز دیگا جو تم میرے نام سے مانگو گے۔ 24 تم نے میرے نام سے اب تک کچھ نہیں مانگا۔مانگو اور تمہیں ملے گا تا کہ تمہیں کامل خوشی مل سکے۔ یسو ع ہی دنیا کا فا تح ہے 25 “میں نے یہ باتیں تم سے تمثیل میں کہیں لیکن ایک وقت آئے گا تب میں تم سے اس طرح تمثیل سے باتیں نہ کہوں گا میں تم سے واضح الفاظ میں باپ کے متعلق کہوں گا۔ 26 اس دن تم باپ سے میرے نام پر مانگو گے اور میرا مطلب یہ کہ مجھے باپ سے تمہا رے لئے درخواست کی ضرورت نہیں۔ 27 اس لئے کہ باپ خود تم سے محبت کر تا ہے وہ تمہیں اس لئے عزیز رکھتا ہے کیوں کہ تم مجھے عزیز رکھتے ہو اور تم نے میرے خدا کی جانب سے آنے پر ایمان لا یا۔ 28 میں باپ کے پاس سے اس دنیا میں آیا اور اب میں دنیا چھوڑ رہا ہوں اوربا پ کے پاس جا رہا ہوں۔ 29 تب یسوع کے شاگردوں نے کہا ، “اب آپ صاف صاف کہتے ہو اور کوئی تمثیل نہیں کہتے۔ 30 اب ہم جان چکے ہیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہو۔ حتیٰ کے کوئی تم سے سوال کرے آپ اس سے پہلے اس کا جواب دے سکتے ہو۔ اور ہم اسی سبب سے ایمان لا تے ہیں کہ آپ خدا کی طرف سے آئے ہو۔” 31 یسوع نے کہا، “تو کیاتم اب ایمان لا تے ہو ؟ 32 سنو! “وقت آرہا ہے کہ تم میں سے ہر ایک بکھر کر اپنے گھروں کی راہ لو گے اور مجھے اکیلا چھوڑ دو گے تو بھی میں کبھی اکیلا نہیں ہوں کیوں کہ باپ میرے ساتھ ہے۔ 33 “میں نے تم سے یہ باتیں اس لئے کہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پا ؤ اس دنیا میں تمہیں تکلیفیں ہوں گی لیکن مطمئن رہو کہ میں نے دنیا کو فتح کیا ہے۔” یوحنا 17 یسوع کی دعا شاگردوں کے لئے 17 جب یسوع یہ ساری باتیں کہہ چکے تو اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا!” اے باپ! وہ وقت آگیا ہے کہ بیٹے کو جلا ل عطا کر تا کہ بیٹا تمہیں جلا ل دے سکے۔ 2 تم نے بیٹے کو ہر بشر پر اختیا ر دیا تا کہ میں ان کو ابدی زندگی دے سکو ں جن کو تو نے میرے حوا لہ کیا ہے۔ 3 اور یہی ابدی زندگی ہے کہ آدمی تجھے جان سکے کہ تو ہی سچا خدا ہے اور یسوع مسیح کو جان سکے جسے تو نے بھیجا ہے۔4 وہ کام جو تو نے میرے ذمہ کیا تھا میں وہ ختم کیا۔ اور تیرے جلا ل کو زمین پر ظا ہر کیا۔ 5 اور اب اے باپ اپنے ساتھ مجھے جلا ل دے اور اسی جلا ل کو دے جو دنیا بننے سے پہلے تیرے ساتھ مجھے حا صل تھا۔ 6 “تو نے مجھے دنیا میں سے چند آدمیوں کو دیا میں نے تیرے بارے میں انہیں بتا یا میں نے یہ بھی بتا یا کہ تو کون ہے وہ آدمی تیرے ہی تھے جو تو نے مجھے دیئے تھے۔ انہوں نے تیری تعلیمات پر عمل کیا۔7 اب انہوں نے یہ جان لیا کہ جو کچھ تو نے مجھے دیا وہ تیری ہی طرف سے تھا۔ 8 “جو تو نے مجھے دیا تھا، اسی تعلیما ت کو میں نے ان لوگوں کو دی۔ انہوں نے تعلیما ت کو قبول کیا۔ اور سچ مانا کہ میں تیری ہی طرف سے آیا ہوں اور ایمان لا ئے کہ تو نے ہی مجھے بھیجا ہے۔ 9 ان کے لئے میں دعا کرتا ہو ں۔ میں دنیا کے لوگوں کے لئے دعا نہیں کرتا لیکن میں ان کے لئے دعا کرتا ہو ں جو تو نے مجھے دیا کیوں کہ وہ تیرے ہیں۔ 10 جو کچھ میرے پا س ہے وہ تیرا ہی ہے جو کچھ تیرا ہے وہ میرا ہے اور انہی کی وجہ سے یہ لوگ میرے جلا ل کو لا تے ہیں۔ 11 آئندہ میں دنیا میں نہ ہوں گا اب میں تیرے پاس آرہا ہوں اور اب یہ لوگ دنیا میں رہیں گے مقدس باپ انہیں محفوظ رکھ اپنے نام کے وسیلہ سے جو تو نے مجھے بخشا ہے تا کہ وہ متفق ہو ں جیسا کہ ہم متفق ہیں۔ 12 میں نے تیرے اس نام کے وسیلے سے جب تک رہا ان کی حفا ظت کی اور ان کو بچا ئے رکھا ان میں سے ایک آدمی نہیں کھو یا سوا ئے ایک جس کا انتخاب ہلا کت کے لئے تھا۔ وہ اس لئے ہلا ک ہوا تا کہ صحیفوں کا لکھا پورا ہو۔ 13 “اب میں تیرے پاس آرہا ہوں لیکن میں ان چیزوں کے لئے جب تک میں دنیا میں ہو ں دعا کرتا رہو ں تا کہ ان لوگوں کو میری خوشی حا صل ہو۔ 14 میں نے تیرا کلام (تعلیمات) انہیں پہنچا دیا اور دنیا نے ان سے نفرت کی۔ دنیا نے ان سے اس لئے نفرت کی کہ وہ ا س دنیا کے نہیں جیسا کہ میں اس دنیا کا نہیں۔ 15 میں یہ نہیں کہتا کہ تو انہیں دنیا سے اٹھا لے بلکہ میں یہ کہتا ہو ں کہ تو انہیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھ۔ 16 جیسا کہ میں اس دنیا کا نہیں وہ بھی دنیا کے نہیں۔ 17 تو انہیں سچا ئی سے اپنی خدمت کے لئے تیار کر تیری تعلیمات سچ ہیں۔ 18 میں نے انہیں دنیا میں بھیجا جس طرح تو نے مجھے بھیجا۔ 19 میں اپنے آپ کو خدمت کے لئے تیار کررہا ہو ں۔ یہ ان ہی کے لئے کررہا ہو ں تا کہ وہ میری سچی خدمت کر سکیں۔ 20 “میں ان لوگوں کے لئے دعا کر تا ہو ں بلکہ میں ان تمام لوگوں کے لئے دعا کر تا ہو ں جو ان کی تعلیمات سے مجھ پر ایمان لا ئے۔ 21 اے باپ! میں دعا کرتا ہو ں کہ تمام لوگ جو مجھ پر ایمان لا ئے ایک ہو ں جس طرح میں تجھ میں ہوں اور میں دعا کرتا ہو ں کہ وہ بھی ہم میں متفق ہو جا ئیں۔ تا کہ دنیا ایمان لا ئے کہ تو نے ہی مجھے بھیجا ہے۔ 22 میں نے انہیں وہی جلال دیا ہے جسے تو نے مجھے دیا تھا۔ میں نے انہیں یہ جلا ل دیا تا کہ وہ ایک ہو سکیں جیسے تو اور میں ایک ہیں۔ 23 میں ان میں ہوں اور تو مجھ میں ہے تا کہ وہ تمام با لکل ایک ہو جا ئیں اور دنیاجان لے کہ تو نے مجھے بھیجا ہے۔اور تو نے ان سے ایسی محبت کی جس طرح مجھ سے۔ 24 “اے باپ! میں چا ہتا ہو ں کہ جن لوگوں کو تو نے مجھے دیا ہے وہ میرے ساتھ ہر جگہ رہیں جہاں میں رہتا ہو ں تا کہ وہ میرے جلا ل کو دیکھیں جو تو نے مجھے دیا ہے کیوں کہ تو دنیاکے وجود کے پہلے سے مجھے عزیز رکھتا ہے۔ 25 اے اچھے باپ دنیا نے تجھے نہیں جانا لیکن میں تجھے جانتا ہو ں اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ تو نے مجھے بھیجا ہے۔ 26 میں نے انہیں بتا یا ہے کہ تو کیا ہے اور لگا تار بتا تا رہوں گا کہ جو محبت تجھ کو مجھ سے ہے وہ انہیں ہو اور میں ان میں رہوں۔” یوحنا 18 یسوع کا گرفتار ہونا 18 یسوع دعا ختم کر کے اپنے شاگردں کے ساتھ وادی قدرون کے پار گئے جہا ں زیتون کا ایک باغ تھا۔ وہ اور اس کے شاگرد اس میں گئے۔ 2 یہوداہ اس جگہ کو جانتا تھا کیوں کہ یسوع اکثر اپنے شا گردوں کے ساتھ یہیں ملا کر تا تھا۔ یہ وہ یہو داہ تھا جو یسوع کا مخا لف تھا۔ 3 اور یہوداہ سپا ہیو ں کے دستہ کے ساتھ وہاں آیا یہوداہ اپنے ساتھ چند سردار کا ہنوں اور فریسیوں کے حفا ظتی دستوں کو لے آیا تھا جنکے پاس مشعل ،لا لٹین اور ہتھیار تھے۔ 4 یسوع ان سب باتوں کو جو اس کے ساتھ ہو نے وا لی تھیں جانتے تھے۔ یسوع باہر آئے اور پو چھے کسے دیکھنے کے لئے تم آئے ہو ؟ 5 ان آدمیوں نے جواب دیا ، “یسوع نا صری” یسوع نے کہا ، “میں یسوع ہوں” ( یہوداہ جو یسوع کا دشمن تھا ان کے ساتھ کھڑا تھا ) 6 جب یسوع نے کہا ، “میں یسوع ہوں” تب وہ آدمی پیچھے ہٹے اور زمین پر گر گئے۔ 7 پھر یسوع نے کہا تم کس کو ڈھونڈ رہے ہو۔ لو گوں نے کہا ، “یسوع ناصری کو۔” 8 یسوع نے کہا، “میں تم سے سچ کہہ چکا ہوں کہ میں یسوع ہوں اگر تم مجھے ڈھونڈ رہے ہو تو ان دوسروں کو جانے دو۔” 9 یہ اس نے اس لئے کہا کہ جو قول تو نے دیا وہ پورا ہو۔ جن آدمیوں کو تو نے مجھے دیا: “میں نے کسی کو بھی نہ کھویا۔” 10 شمعون پطرس کے پا س تلوار تھی اس نے نکا ل کر اعلیٰ کا ہن کے خادم پر وار کر کے اس کا داہنا کان اڑا دیا ( اس خا دم کا نام ملخس تھا )۔ 11 یسوع نے پطرس سے کہا ، “تلوار کو نیام میں رکھ لے میں اس پیا لہ کو جو باپ نے دیا ہے کیوں نہ قبول کروں۔” یسوع کو حناّ کے پاس لا یا گیا 12 تب سپا ہیوں اور ان کے افسروں اور یہودیوں نے یسوع کو پکڑا اور باندھ دیا۔ 13 اور اسے حناّ کے پاس لا ئے۔ حناّ در اصل کائفا کا خسر تھا۔ کا ئفا ہی اس سال اعلیٰ کا ہن تھا۔ 14 کا ئفا ہی وہ شخص تھا جس نے یہو دیوں سے کہا تھا سارے آدمیوں کے لئے ایک آدمی کا مر نا بہتر ہے۔ پطرس کا یسوع کو پہچاننے سے انکار 15 شمعون پطرس اور یسوع کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد یسوع کے ساتھ گئے۔یہ شاگرد اعلیٰ کا ہن سے واقف تھا اسلئے وہ یسوع کے ساتھ اعلیٰ کا ہن کے مکان کے آنگن میں گئے۔ 16 لیکن پطرس دروازہ کے با ہر ہی رہا۔ وہ شاگرد جو اعلیٰ کا ہن کو جانتا تھا واپس آیا اور اس لڑ کی سے بات کی جو دربان تھی اور وہ پطرس کو اندر لائی۔ 17 دروازہ پر کھڑی لڑکی نے پطرس سے کہا کیا تم بھی اسکے شاگردوں میں سے ایک ہو؟” پطرس نے کہا، “نہیں میں نہیں ہوں۔” 18 سردی کی وجہ سے خادم اور پیا دے آگ دہکا رہے تھے اور اسکے ارد گرد کھڑے لوگ آگ تاپ رہے تھے اور پطرس بھی انہی کے ساتھ کھڑا ہو کر آگ تاپ رہا تھا۔ اعلیٰ کاہن کا یسوع سے تفتیش کرنا 19 اعلیٰ کاہن نے یسوع سے اس کے شاگردوں کی اور تعلیم کی بابت پوچھا۔ 20 یسوع نے جواب دیا ، “میں نے ہمیشہ علانیہ طور پر لوگوں سے کہا اور میں نے ہیکل میں اور یہودی عبادت گاہ کے اندر بھی کہا۔جہاں تمام یہودی جمع تھے۔ میں نے کبھی کوئی بات خفیہ نہیں کی۔ 21 پھر تم مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟ “ان سے پو چھو جنہوں نے میری تعلیمات کو سنا جو کچھ میں نے کہا وہ جانتے ہیں؟” 22 جب یسوع نے ایسا کہا تو پیادوں میں ایک جو وہاں کھڑا تھا یسوع کے چہرے پر مارا اور کہا، “ تو اعلٰی کا ہن کو اسطرح جواب دیتا ہے ؟” 23 یسوع نے کہا ، “اگر میں نے غلط کہا تو جو کو ئی یہاں ہے وہ کہے کہ کیا غلط ہے اگر میں نے سچ کہا ہے تو پھر مجھے مارتے کیوں ہو۔” 24 پھر حنّا نے یسوع کو کائفا اعلیٰ کاہن کے پاس بھیج دیا یسوع اس وقت بندھے ہوئے تھے۔ پطرس کا دوبارہ جھوٹ بولنا 25 شمعون پطرس آ گ کے قریب کھڑا آ گ تاپ رہا تھا دوسرے آدمی نے پطرس سے کہا ، “کیا تم اس آدمی کے شاگردوں میں سے ایک ہو؟” لیکن پطرس نے کہا ، “نہیں میں نہیں ہوں۔” 26 اعلیٰ کاہن کے خادموں میں سے ایک نے جو اسکا رشتہ دار تھا جس کا کا ن پطرس نے کا ٹا تھا کہا ، “کیا میں نے تجھے اس کے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا تھا۔” 27 لیکن پطرس نے دوبارہ کہا ، “نہیں میں اسکے ساتھ نہیں تھا۔” اور اسی وقت مرغ نے بانگ دی۔ یسوع کا پیلاطس کے سامنے لایا جانا 28 اس کے بعد یہودیوں یسوع کو کائفا کے مکان سے رومی گورنر کے محل کو لے گئے یہ صبح کا وقت تھا۔ یہودی گور نر کے محل کے اندر نہیں گئے وہ اپنے آپ کو نا پاک نہ کر نا چاہتے تھے۔ کیوں کہ وہ فسح کا کھا نا کھانا چاہتے تھے۔ 29 تب پیلا طس نے باہر آکر ان سے کہا ، “تم لوگ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو، اس نے کیا برائی کی ہے ؟” 30 یہودیوں نے جواب دیا ، “یہ بڑا خراب آدمی ہے اسلئے ہم اسے تمہارے پاس لا ئے ہیں۔” 31 پیلاطس نے یہودیوں سے کہا ، “تم اسے لے جاؤ اور اپنی شریعت کے مطا بق اسکا فیصلہ کرو ؟”یہودیوں نے جواب دیا ، “لیکن تمہارا قانون ہمیں کسی کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔” 32 یہ اس لئے ہوا تا کہ یسوع کی بات پو ری ہو جو اس نے موت کے متعلق کہی تھی۔ 33 پیلاطس واپس گور نر کے محل میں گیا اور یسوع کو بلا کر پو چھا ، “کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟” 34 یسوع نے کہا، “کیا یہ سوال تمہارا ہے؟ یا پھر دوسروں نے میرے بارے میں تجھ سے کہا؟” 35 پیلاطس نے کہا ، “میں یہودی نہیں ہوں! یہ تو تمہارے لوگ اور ان کے سردار کا ہن تھے جنہوں نے تمہیں میرے پاس لے آیا۔ تم نے کیا برائی کی ہے ؟” 36 یسوع نے کہا ، “میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں اگر میری بادشاہت اس دنیا کی ہو تی تب میر ے خادم یہودیوں کے خلاف لڑے ہو تے تا کہ مجھے یہودیوں کے حوالے نہیں کیا جاتا۔ لیکن میری بادشاہت کسی اور جگہ کی ہے۔” 37 پیلاطس نے کہا، “تو پھر تم بادشاہ ہو!” یسوع نے کہا، “تمہارا خود کا کہنا ہے کہ میں بادشاہ ہوں یہ سچ ہے میں اسی لئے پیدا ہوا تھا اور اسی لئے دنیا میں آیا تاکہ سچائی کی گواہی دوں اور ہر وہ شخص جو سچ سے تعلق رکھتا ہے وہ میری آواز سنے۔” 38 پیلاطس نے کہا، “سچائی کیا ہے؟”اور اتنا کہہ کر وہ باہر یہودیوں کے پاس دوبارہ گیا اور ان سے کہا ، “میں اس کا کچھ جرم نہیں پا تا ہوں۔ 39 مگر تمہارے رواج کے مطا بق فسح پر میں ایک قیدی کو رہا کرتا ہوں کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے لئے اس یہودیوں کے بادشاہ کو چھو ڑ دوں؟” 40 یہودی چّلا اٹھے اور کہا ، “نہیں! اس کو نہیں برّبا کو چھو ڑ دو” ( برّبا ایک ڈاکو تھا- ) یوحنا 19 19 تب پیلاطس نے حکم دیا کہ یسوع کو لے جاکر کوڑے لگا ئے جا ئیں۔ 2 سپاہیوں نے کانٹوں کا تاج بنایا اور اسکے سر پر پہنایا اور اس کو ارغوانی رنگ کے کپڑے پہنا ئے۔ 3 اور اسکے قریب یکے بعد دیگر آکر اسکے چہرے پر طمانچے مارتے ہوئے کہتے “اے یہودیوں کے بادشاہ! آداب۔” 4 پیلاطس دوبارہ باہر آکر یہودیوں سے کہا، “دیکھو میں یسوع کو تمہارے پاس باہر لا رہا ہوں میں تمہیں بتا نا چاہتا ہوں کہ میں نے ایسی کو ئی چیز نہیں پائی جسکی بناء پر اسے مجرم قرار دوں۔” 5 تب یسوع باہر آئے اس وقت وہ کانٹوں کا تاج پہنے ہوئے تھے اور ارغوانی لباس بدن پر تھا پیلاطس نے یہودیوں سے کہا ، “یہ رہا وہ آدمی۔” 6 سردار کاہن اور یہودی سپاہیوں نے یسوع کو دیکھا تو پکار اٹھے “اس کو صلیب پر چڑھا دو! صلیب پر چڑھا دو!” لیکن پیلاطس نے کہا ، “تم ہی اس کو لے جاؤ اور صلیب پر چڑھا دو کیوں کہ میں اس کا کچھ بھی جرم نہیں پا تا ہوں۔” 7 یہودیوں نے کہا ، “ہم اہل شریعت ہیں اور اس شریعت کے مطا بق اسکو مر نا چاہئے کیوں کہ اس نے کہا وہ خدا کا بیٹا ہے۔” 8 جب پیلاطس نے یہ سنا تو وہ مزید ڈر گیا اور۔ 9 پیلاطس گور نر کے محل کے اندر واپس چلا گیا اور یسوع سے پو چھا ، “تو کہاں کا ہے؟” لیکن یسوع نے کو ئی جواب نہیں دیا۔ 10 پیلاطس نے کہا، “تم مجھ سے کچھ کہنے سے انکار کر تے ہو۔ یاد رکھو میں وہ اختیار رکھتا ہوں کہ تم کو چھوڑ دوں یا صلیب پر چڑھا کر ماردوں۔” 11 یسوع نے کہا، “اگر خدا تمہیں یہ اختیار نہ دیتا تب تمہارا مجھ پر کچھ اختیار نہ ہو تا جسے خدا نے تمہیں دیا ہے۔ اس لئے جس نے مجھے تیرے حوالے کیا اس کا گناہ زیادہ ہے بنسبت تیرے۔” 12 اسکے بعد پیلاطس نے کوشش کی کہ اسے چھوڑ دے مگر یہودیوں نے چلا کر کہا، “جو آدمی اپنے آپکو بادشاہ کہے وہ قیصر کا مخالف ہے اگر تو اسے چھوڑے گا تو قیصر کا خیر خواہ نہیں ہے۔” 13 پیلاطس سے یہودیوں نے جو کہا وہ سنا اور یسوع کو باہر اس جگہ پر لے آیا اور فیصلہ کر نے کی نشست پر بیٹھا ، “اس جگہ کو سنگ چبوترہ” (عبرانی زبان میں گبّتھّا) کہتے ہیں۔ 14 یہ وقت دو پہر کا تھا تقریباً چھٹا گھنٹہ تھا فسح کی تیاری کا دن [a] تھا۔ پیلاطس نے یہودیوں سے کہا ، “تمہارا بادشاہ یہاں ہے۔” 15 یہودی چیخ رہے تھے” لے جاؤ اسے ,لے جاؤ اسے ,اور صلیب پر چڑھا دو! “پیلاطس نے یہودیوں سے پو چھا ،”تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے بادشاہ کو صلیب پر چڑھا دوں ؟” تب سردار کاہنوں نے کہا ، “ہمارا بادشاہ صرف قیصر ہے!” 16 اس کے بعد پیلا طس نے یسوع کو انکے حوالے کیا کہ مصلوب کیا جائے۔ یسوع کا مصلوب ہو نا سپاہی یسوع کو لے گئے۔ 17 یسوع نے خود اپنی صلیب اٹھا ئی اور اس جگہ جو“کھو پڑی کی جگہ کہلاتی تھی” گئے۔ (عبرانی زبان میں اس جگہ کو“گولگتّا” کہا جاتا ہے ) 18 گولگتّا کے مقام پر انہوں نے یسوع کو اور اسکے ساتھ دو اور آدمیوں کو صلیب پر چڑھا دیا۔ دو آدمی یسوع کے دو طرف تھے اور یسوع ان دونوں کے درمیان میں تھے۔ 19 پیلاطس نے ایک تختی نشان کے طور پر لکھی اور صلیب پر لگا دی جس پر لکھا تھا “ یسوع ناصری یہودیوں کا بادشاہ۔” 20 تختی عبرانی ,لاطینی ,اور یونانی زبانوں میں لکھی ہوئی تھی۔ جس کو بہت سے یہودیوں نے پڑھا کیوں کہ یہ جگہ جہاں انہوں نے یسوع کو مصلوب کیا وہ جگہ شہر کے قریب تھی۔ 21 سردار یہودی کاہنوں نے پیلاطس سے کہا ، “اس کو یہودیوں کا بادشاہ نہ لکھو بلکہ ایسا لکھو اس شخص نے کہا تھا کہ میں یہودیوں کا بادشاہ ہوں۔” 22 پیلاطس نے کہا ، “جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کو تبدیل کر نا نہیں چاہتا۔” 23 جب سپاہیوں نے یسوع کو مصلوب کیا تو ان لوگوں نے انکے کپڑے لے لئے ان لوگوں نے کپڑوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہر سپا ہی نے ایک ایک حصہ لیا ان لوگوں نے انکا کر تا بھی لے لیا یہ بغیر سلا ہوا اوپر سے نیچے تک بنا ہوا تھا۔ 24 سپاہیوں نے کہا اس کو نہ پھا ڑو بلکہ اس کے لئے قرعہ ڈالیں تا کہ معلوم ہو کہ یہ کس کے حصہ میں آیا ہے۔ یہ اس لئے ہوا تا کہ صحیفے میں جو لکھا ہوا ہے وہ پو را ہو سکے۔ جو اسطرح سے ہے: “انہوں نے میرے کپڑے آپس میں تقسیم کر لئے اور میری پو شاک کے لئے قرعہ ڈالا ۔”[b] چنانچہ سپاہیوں نے یہی کیا۔ 25 یسوع کی ماں صلیب کے پاس کھڑی تھی اور اسکی ماں کی بہن کلوپاس کی بیوی مریم اور مریم مگدلینی کے ساتھ کھڑی تھی۔ 26 یسوع نے اپنی ماں اور شاگرد جس کو وہ عزیز رکھتے تھے دیکھے اور اپنی ماں سے کہا، “اے عورت تیرا بیٹا یہاں ہے ”اور یسوع نے شاگرد سے کہا، 27 “یہاں تمہاری ماں ہے۔”اسکے بعد سے شاگرد نے یسوع کی ماں کو اپنے ہی گھر میں رہنے دیا۔ یسوع کی موت 28 اس کے بعد یسوع نے جا ن لیا کہ سب کچھ ہو چکا اور صحیفہ کا لکھا ہوا پو را ہوا تو اس نے کہا، “میں پیا سا ہوں۔” [c] 29 وہا ں پر سر کہ سے بھرا ایک مر تبان تھا چنانچہ سپا ہیوں نے اسپنج کو سرکہ میں بھگو کر اسے زوفے کی شا خ پر رکھ کر اس کو دیا۔ یسوع نے اسے منھ سے لگا یا۔ 30 جب سر کہ یسوع نے پیا تو کہا ، “سب کچھ تمام ہوا ۔”اور گردن ایک طرف جھکا دی اور اپنی جان دیدی۔ 31 یہ دن تیا ری کا دن تھا۔ اور دوسرے دن خاص سبت کا دن تھا یہودی نہیں چا ہتے تھے کہ سبت کے دن اس کا جسم صلیب پر ہی رہے اس لئے انہوں نے پیلا طس سے کہا کہ اس کی ٹانگیں توڑ دی جا ئیں اورلاشیں اتا ری جا ئیں۔ 32 چنانچہ سپا ہیوں نے آ کر پہلا آدمی جو مصلوب ہوا تھا اس کی ٹانگیں توڑ دیں اور دوسرے آدمی کی بھی ٹانگیں توڑ دیں جو یسوع کے ساتھ تھا۔ 33 لیکن جب سپا ہی نے یسوع کے قریب آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو انہوں نے اس کی ٹانگیں نہیں تو ڑی۔ 34 لیکن ایک سپا ہی نے اپنے بھا لے سے اس کے بازو کو چھید ڈالا اور اس سے ایک دم خون اور پانی نکلا۔ 35 جس نے یہ دیکھا اس نے گواہی دی اور وہ گواہی سچی ہے وہ سچ کہتا ہے تا کہ تم بھی ا یمان لاؤ۔ 36 یہ تمام واقعات صحیفے کے پورے ہونے کے لئے ہوئے “اس کی کوئی ہڈی نہ تو ڑی جا ئے گی۔”[d] 37 لیکن ایک دوسرے صحیفے کے مطا بق لوگ “اس کو دیکھیں گے جس نے بر چھی ما را۔” [e] یسوع کی تدفین 38 ان واقعات کے بعد ایک شخص یوسف نامی جو آرمینہ کا رہنے والا تھا اور یسوع کا شاگرد تھا پیلا طس سے یسوع کی لاش لے جا نے کی اجازت چا ہی۔یوسف یسوع کا خفیہ شا گرد تھا۔ کیوں کہ وہ یہودیوں سے ڈرتا تھا پیلا طس نے اجا زت دے دی۔ تب یوسف آکر یسو ع کی لاش لے گیا۔ 39 نیکو دیمس بھی آیا۔ نیکو دیمس وہ شخص تھا جو یسوع سے ملنے رات کو آیا تھا نیکو دیمس تقریباً ایک سو پا ؤنڈ مصا لحے لے آیا جو مرّ اور عود سے ملے ہو ئے تھے۔ 40 ان دونوں نے یسوع کی لا ش کو لے لیا اور لاش کو سوتی کپڑے میں خوشبو کے ساتھ کفنایا جیسا کہ یہودیوں کے یہاں دفن کا طریقہ ہے۔41 جس جگہ یسوع کو صلیب ہر چڑھایا گیا وہا ں ایک باغ تھا اس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں اب تک کسی کو نہیں دفن کیا گیاتھا۔ 42 ان آدمیوں نے یسوع کو اس قبر میں رکھا کیوں کہ وہ قریب تھی اور یہودیوں نے اپنے سبت کے دن کی تیاری شروع کر دی۔ Footnotes: a. یوحنا 19:14 تیاری کا دن سبت کے دن سے پہلے کا دن یعنی جمعہ b. یوحنا 19:24 زبور ۲۲:۱۸ c. یوحنا 19:28 میں پیا سا ہوں دیکھو زبور ۱۵:۲۲؛۲۱:۶۹ d. یوحنا 19:36 اِقتِباس زبور ۲۰:۳۴ e. یوحنا 19:37 لوگ … برچھی مارا زکریاہ ۱۰:۱۲ یوحنا 20 یسوع کی موت سے جی اٹھنے کی خبر 20 ہفتہ کا پہلا دن مریم مگد لینی قبر پر آئی ابھی تا ریکی تھی دیکھا کہ قبر کا پتھر ہٹا ہوا ہے۔ 2 وہ دوڑ کر شمعون پطرس اور دوسرے شاگردوں کے پاس گئی۔(جو یسوع سے محبت کرتے تھے ) مریم نے کہا ، “انہوں نے خدا وند کو قبر سے نکا ل لیا ہے پتہ نہیں انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔” 3 پھر پطرس اور شاگرد قبر کی طرف گئے۔ 4 وہ دونوں دوڑ رہے تھے لیکن شاگرد پطرس سے زیادہ تیز دوڑا اور سب سے پہلے قبر پر پہونچا۔ 5 شاگرد نے قبر میں دیکھا کہ سوتی کپڑے کے ٹکڑے پڑے ہو ئے تھے لیکن وہ اندر نہیں گیا۔ 6 شمعون پطرس ان کے پیچھے ہی پہونچا اس نے قبر میں جا کر دیکھا کہ سوتی کپڑے کے ٹکڑے پڑے تھے۔ 7 اس نے یہ بھی دیکھا جو رومال یسوع کے سر پر لپیٹا تھا اس کو لپیٹ کر ان ٹکڑوں سے علٰیحدہ کچھ دور پڑا تھا۔ 8 تب دوسرا شاگرد اندر آیا یہ وہ شاگرد تھا جو قبر پر پہلے پہونچا تھا جو کچھ اس نے دیکھا اور یقین کیا۔ 9 کیوں کہ وہ اب تک صحیفوں کو نہ جانتے تھے جس کے مطا بق مسیح کو مردوں میں سے زندہ ہو ناتھا۔ یسوع کا مریم مگد لینی پر ظاہر ہونا 10 پس وہ شاگرد واپس گھر چلے گئے۔ 11 لیکن مریم قبر کے با ہر کھڑی رو تی رہی اور روتے ہوئے اس نے قبر میں جھانک کر دیکھا۔ 12 مریم نے دیکھا دو فرشتے جو سفید لباس میں ملبوس وہاں بیٹھے تھے جہاں یسوع کی لا ش کو رکھا گیا تھا ایک فرشتہ یسوع کے سرہا نے بیٹھا تھا اور دوسرا فرشتہ یسوع کے پاؤں کی طرف بیٹھا تھا۔ 13 فرشتوں نے مریم سے پوچھا ، “اے عورت تم کیوں رورہی ہو ؟”مریم نے جواب دیا ، “کچھ لوگ میرے خداوند کی لاش لے گئے ہیں میں نہیں جانتی ان لوگوں نے اسے کہاں رکھا ہے۔” 14 جب مریم نے یہ کہہ کر رخ پھیرا تو دیکھا کہ یسوع کھڑا ہے لیکن وہ نہیں سمجھی کہ وہ یسوع ہے۔ 15 یسوع نے اس سے پو چھا ، “اے عورت! تو کیوں رو رہی ہے اور کس کو ڈھونڈ رہی ہے؟” مریم سمجھی شاید یہ آدمی باغ کا نگہبان ہے۔ چنانچہ مریم نے اس سے کہا ، “جناب کیا تم نے ہی یسوع کو یہاں سے اٹھا یا ہے مجھ سے کہو تم نے اسے کہاں رکھا ہے تا کہ میں جا کر اسے لے آؤ ں۔” 16 یسوع نے اس سے کہا ، “اے مریم!” اور مریم نے یسوع کی جانب مڑکر عبرانی زبان میں کہا ، “ربوّنی”(جسکے معنٰی استاد کے ہیں ) 17 یسوع نے اس کو کہا، “مجھے مت چھو نا کیوں کہ میں ابھی تک اپنے باپ کے پاس اوپر نہیں گیا” لیکن میرے بھائیوں (شاگردوں) کے پاس جا کر کہو کہ ’میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس اوپر جا رہا ہوں۔ میں اوپر اپنے اور تمہا رے خدا کے پاس جا رہا ہوں۔‘” 18 مریم مگدلینی نے آکر شاگردوں سے کہا ، “میں نے خدا وند کو دیکھا اور اس نے مجھ سے یہ باتیں کہیں۔” یسوع کا شاگردوں پر ظاہر ہونا 19 ہفتہ کا پہلا دن تھا اسی دن شام میں سب شاگرد جمع تھے۔ دروازوں کو یہودیوں کے ڈر سے بند رکھا تھا۔ تب یسوع آکر ان کے درمیان کھڑا ہوا۔ 20 اور کہا تم پر سلامتی ہو یہ کہہ کر اس نے شاگردوں کو اپنا ہاتھ اور بازو دکھا یا پس شاگردوں نے خداوند کو دیکھا اور بہت خوش ہو ئے۔ 21 یسوع نے دوبارہ کہا ، “تم پر سلامتی ہو باپ نے مجھے یہاں بھیجا ہے اسی طرح اب میں تم سب کو بھیجتا ہوں۔” 22 یسوع نے ان پر پھو نکا اور کہا، “روح مقدس لو۔ 23 جن لوگوں کا گناہ تم معاف کرو انکا گناہ معاف اور جنہیں معاف نہ کرو ان کا گناہ معاف نہ ہو گا۔” یسوع تھو ما پر ظا ہر ہوا 24 تو ما جسے توام بھی کہتے ہیں۔ یسوع کے آنے کے وقت دوسرے شاگردوں کے ساتھ نہ تھا۔ تھو ما ان بارہ شاگردوں میں سے ایک تھا۔ 25 دوسرے شاگردوں نے تھو ما سے کہا ، “ہم نے خدا وند کو دیکھا” تب تھو ما نے کہا ، “میں جب تک اسکے ہا تھوں میں کیلوں کے نشان نہ دیکھوں اور ان سورا خو ں میں اپنے ہا تھ نہ ڈالوں اور جب تک میں اپنا ہاتھ اسکے بازو پر نہ رکھوں میں یقین نہیں کر تا۔” 26 ایک ہفتہ بعد دوبارہ شاگرد گھر میں جمع تھے اور تھو ما بھی انکے ساتھ تھا اس وقت دروازہ بند تھا۔ یسوع وہاں آکر انکے درمیان کھڑے ہو گئے یسوع نے کہا ، “سلامتی ہو تم پر۔” 27 تب یسوع نے تھو ما سے کہا ، “اپنی انگلی یہاں رکھو اور اپنے ہاتھ میرے بازو میں رکھو اور مزید شک میں نہ پڑو اور اعتقاد رکھو”۔ 28 تھو ما نے یسوع سے کہا ، “اے میرے خدا وند، اے میرے خدا۔” 29 یسوع نے اس سے کہا ، “تم نے مجھے دیکھا اور ایمان لا ئے لیکن جن لوگوں نے مجھے بغیر دیکھے ایمان لا ئے وہ قابل مبارک باد ہیں۔” یوحنا کی کتاب کا مقصد 30 یسوع نے اور کئی معجزے دکھا ئے جو اسکے شاگردوں نے دیکھے وہ تمام معجزے اس کتاب میں نہیں لکھے گئے۔ 31 لیکن یہ اس لئے لکھے گئے کہ تم ایمان لا ؤ کہ یسوع ہی مسیح ہے جو خدا کا بیٹا ہے تا کہ اس طرح ایمان لاکر تم اسکے نام سے زندگی پا ؤ۔ یوحنا 21 یسوع کا سات شاگردوں پر ظا ہر ہو نا 21 اس کے بعد یسوع نے پھر اپنے آپ کو تبر یاس کی جھیل کے پاس اپنے شاگردوں پر ظا ہر کیا وہ اس طرح کیا۔ 2 چند شاگرد وہا ں جمع تھے جن میں شمعون پطرس، تو ما ،نتن ایل،جو قانا گلیل کا تھا اور زبدی کے دو بیٹے اور دوسرے دو شاگردتھے۔ 3 شمعون پطرس نے کہا ، “میں مچھلی کے شکا ر پر جا رہا ہوں” دوسروں نے کہا، “ہم بھی تمہا رے ساتھ چلیں گے” پھر سب ملکر کشتی پر سوار ہوئے۔ اس رات انہوں نے کچھ بھی شکار نہ کیا۔ 4 صبح یسوع کنا رے پر آکر کھڑے ہو گئے مگر شاگردوں نے پہچا نا نہیں کہ یہ یسوع ہے۔ 5 تب یسوع نے شاگردوں سے کہا ، “دوستو کیا تم نے مچھلی کا شکا ر کیا؟” شاگردوں نے جواب دیا ، “نہیں” 6 یسوع نے کہا ، “اپنے جال کشتی کے دائیں جانب پھینکو اس طرف تمہیں مچھلیاں ملیں گی” چنانچہ شاگردوں نے ویسا ہی کیا پھر شاگردوں نے جال میں اتنی مچھلیا ں پائیں کہ اس جال کو کھینچ نہ سکے۔ 7 تب اس شاگرد نے جو یسوع کو عزیز تھا پطرس سے کہا ، “یہ تو خداوند ہے” اور پطرس نے اس سے یہ کہتے ہو ئے سن کر کہ “وہ آدمی خدا وند ہے” اپنا کرتا کمر سے باندھ کر (پطرس کام کر نے کے لئے اپنے کپڑے اتار چکے تھے ) پانی میں کود پڑا 8 دوسرے شاگرد کشتی میں سوار مچھلیوں کا جال کھینچتے ہو ئے آئے کیوں کہ وہ کنارے سے زیادہ دور نہ تھے صرف لگ بھگ سو گز کی دوری پر تھے۔ 9 جب شاگرد کشتی سے باہر آئے تو انہوں نے کوئلوں کی آ گ دیکھی جس پر مچھلی اور روٹی رکھی ہو ئی تھی۔10 تب یسوع نے کہا ، “کچھ مچھلیاں جو تم ابھی پکڑے ہو لے آؤ۔” 11 شمعون پطرس کشتی میں جاکر مچھلیوں کے جال کو کنارے پر لے آیا جو بہت سی بڑی مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا جس میں تقریباً ۱۵۳ مچھلیاں تھیں اس کے با وجود وہ نہ پھٹا۔ 12 یسوع نے ان سے کہا ، “آؤ کھا نا کھا ؤ لیکن کو ئی بھی شاگرد نہ پو چھ سکا کہ وہ کون ہے ؟” وہ جان گئے کہ وہ خداوند ہے۔13 یسوع نے آکر انہیں روٹی اور مچھلی دی۔ 14 یہ تیسرا موقع تھا جب یسوع مر کر جی اٹھنے کے بعد اپنے شاگردوں کے سامنے ظا ہر ہوا۔ یسوع کا پطرس سے گفتگو کر نا 15 جب وہ کھا نا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا ، “اے یو حناّ کے بیٹے شمعون! کیا تو ان لوگوں سے زیا دہ مجھ سے محبت کر تا ہے ؟”پطرس نے جواب دیا ، “ہاں! اے خداوند تم جانتے ہو کہ آپ مجھے کتنے عزیز ہیں۔” تب یسوع نے پطرس سے کہا ، “میرے میمنوں کی دیکھ بھال کر۔” 16 دوبارہ یسوع نے پطرس سے کہا ، “اے یو حناّ کے بیٹے شمعون! کیا تم مجھے عزیز رکھتے ہو ؟” پطرس نے جواب دیا ، “ہاں اے خدا وند تم جانتے ہو کہ میں تمہیں عزیز رکھتا ہوں۔” تب یسوع نے پھر پطرس سے کہا، “میری بھیڑوں [a] کی نگہبا نی کر۔” 17 تیسری مرتبہ یسوع نے پطرس سے پوچھا ، “اے یوحناّ کے بیٹے شمعون! کیا تم مجھے عزیز رکھتے ہو؟” “پطرس بہت رنجیدہ ہوا کیو ں کہ یسوع نے تین بار یہ پوچھا ، “کیا تم مجھے عزیز رکھتے ہو؟”پطرس نے کہا ، “اے خدا وندتم ہر بات جانتے ہو تم یہ بھی جاتے ہو کہ میں تمہیں عزیزرکھتا ہو ں۔ یسوع نے پطرس سے کہا ، “تو میری بھیڑوں کی نگہبانی کر۔ 18 میں تم سے سچ کہتا ہو ں جب تم جوان تھے اپنی کمر کس کر جہاں چاہتے جاتے تھے مگر جب تو بوڑھا ہو گا تو دوسرا آدمی تیری کمر کسے گا اور جہا ں تو نہ جا سکے گا وہا ں لے جائے گا۔” 19 یسوع نے ان باتو ں کے ذریعہ بتایا کہ پطرس کی کس قسم کی موت سے خدا کا جلا ل ظاہر ہوگا “اتنا کہہ کر اس نے کہا ، “میرے پیچھے آ۔” 20 پطرس نے پلٹ کر اس شاگرد کو پیچھے آتا ہوا دیکھا جس کو یسوع عزیز رکھتے تھے اور اس نے شام کے کھانے کے وقت اس کے سینہ پر سر رکھ کر پوچھا تھا! “خداوند آپ کا مخا لف کون ہوگا ؟” 21 جب پطرس نے دیکھا کہ وہ شاگرد پیچھے ہے تب یسوع سے پوچھا، “خداوند اس کا کیا حال ہوگا ؟” 22 یسوع نے جواب دیا، “ہو سکتا ہے میں آنے تک اسے رہنے دو ں لیکن تجھے اس سے کیا تو میرے پیچھے آ۔” 23 پس دوسرے بھا ئیوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ یہ شاگرد جسے یسوع عزیز رکھتا ہے نہیں مریگا۔ لیکن یسوع نے ایسا نہیں کہا کہ وہ نہیں مریگا اس نے صرف یہی کہا ، “ہو سکتا ہے میرے آنے تک اسے رہنے دوں لیکن تجھے اس سے کیا۔” 24 یہ وہی شاگرد ہے جو ان باتوں کو کہتا ہے اور جس نے اسکو لکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اسکا کہنا سّچا ہے۔ 25 اور کئی کام ہیں جو یسوع نے کئے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر بات کو لکھا جائے تو ساری دنیا بھی ان ساری کتابوں کے لئے جسے لکھی جا ئے نا کا فی ہو گی۔ Footnotes: a. یوحنا 21:16 بھیڑوں یسوع نے یہ الفاظ اپنے شاگردوں کے لئے استعمال کئے یوحنّا ۱۰ رسولوں 1 لوقا کا دوسری کتاب تحریر کرنا 1 عزیزتھِیُفِلس، پہلی کتاب میں جو میں نے بیان کیا تھا اس میں وہ سب کچھ تھا جو یسوع نے شروع میں کر نے کی تعلیم دی۔ 2 میں نے اس میں ابتداء سے اس دن تک کے واقعات درج کيا ہے جب یسوع کو آسمان میں اٹھا ليا گيا تھا۔اس واقعہ سے پہلے یسوع نے ان رسولوں سے بات کی جسے اس نے چنا تھا۔اس نے روح القدس کے ذریعے رسولوں کو کہا کہ اسے کیا کر نا ہے۔ 3 یسوع نے خود رسولوں کو بتا یا کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ تھے۔ یسوع نے بہت سے طریقے سے اس کو ثابت کیا ہے وہ کیا کرنا چاہتے تھے۔ یسوع موت سے جی اٹھنے کے بعد بھی اپنے رسولوں کو چالیس دن تک نظر آتے رہے ،اور یسوع خدا کی بادشاہت کے متعلق رسولوں سے کہتے رہے۔ 4 ایک دن جب وہ ان کے ساتھ کھا رہے تھے تو اس نے انہیں کہا تھا، “وہ یروشلم کو چھوڑ کر نہ جا ئے گا۔ یسوع نے کہا تھا کہ باپ نے تم سے کچھ وعدہ کیاہے جو میں پہلے تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم یروشلم میں ہی رہو تا کہ وعدہ پو را اور سچ ہو جا ئے۔ 5 یوحناّ نے تم کو پانی سے بپتسمہ دیا تھا لیکن اگلے چند دنوں میں تمہیں مقدس روح کے ذریعہ سے بپتسمہ ملے گا۔” یسوع کا آسما نوں پر لیجایا جانا 6 تما م مسیح کے رسولوں نے وہاں جمع ہو کر یسوع سے پوچھا، “خداوند! کیا اسی وقت آپ یہودیوں کو پچھلی بادشاہت عطا کر رہے ہیں؟” 7 یسوع نے جواب دیا، “صرف با پ کو اختیار ہے کہ وہ تاریخ اور وقت کا تعین کرے اور تم انہیں نہیں جا نتے۔ 8 لیکن مقدس رُوح تم پر آئے گا تب تم قوت پا ؤگے۔ تم لوگوں کو میرے متعلق گواہی دوگے۔ تم لوگوں کو سب سے پہلے یروشلم میں کہو گے اور پھر یہو داہ اور سامریہ کے لوگوں سے کہوگے اور دنیا کے ہر خطے میں کہو گے۔” 9 یہ سب باتیں کہنے کے بعد یسوع آ سمان پر اٹھا لئے گئے۔ ان کے رسو لوں نے اس کی طرف دیکھا تو اسے بادلوں نے اپنے اندر لے لیا اور وہ اسے دیکھ نہ سکے۔ 10 جب یسوع اوپر آسمان میں جا رہے تھے تو وہ آسمان کو دیکھتے رہے اچا نک دو آدمی جو سفید کپڑے پہنے ہو ئے تھے اس کے پہلو میں آئے۔11 دو آدمیوں نے رسولوں سے پوچھا، “اے گلیل کے مر دو!تم کھڑے رہ کر آسمان کی طرف کیا دیکھتے ہو ؟” تم نے دیکھا نہیں یسوع کوآسمان کی طرف اٹھا لیا گیا یہی یسوع ہیں اور اسی طرح پھر دوبارہ واپس آئیں گے۔ اور تم ا نکو اسی طرح دیکھو گے جس طرح جا تے ہو ئے دیکھا ہے۔ ایک نئے رسول کا انتخاب 12 وہ سب رسول زیتون کی پہا ڑی سے واپسی کے بعد یروشلم کی طرف روانہ ہو ئے وہ پہا ڑی یروشلم سے تقریباً نصف میل کی دوری پر واقع ہے۔ 13 تمام رسول یروشلم میں داخل ہو ئے اور اوپر اس کمرے میں پہنچے جہاں پر وہ ٹھہرے ہو ئے تھے۔ان سارے رسولوں میں پطرس ،یوحنا ، یعقوب ،اندریاس ، فلپس،تو ما ،برتلما ئی ،متیّ اور الفا ئس کا بیٹا یعقوب سائمن جو قوم پرست تھا اور یہوداہ جو یعقوب کا بیٹا بھی تھا۔ 14 تما م ر سول جو وہاں اکٹھے ہو ئے تھے سب ہی ایک مقصد کے ساتھ دعا کے لئے جمع ہو ئے تھے ان میں چند عورتیں بھی تھیں جن میں مریم یسوع کی ماں اور اس کے بھا ئی بھی رسولو ں کے ساتھ شا مل تھے۔ 15 اس کے چند دن بعد ایمان لا نے وا لوں کا ایک اجلاس مقرر ہوا۔ جس میں تقریباً ایک سو بیس افراد جمع ہوئے تھے 16-17 پطرس اٹھ کھڑا ہوا اور مخا طب ہوا“بھا ئیو! روح القدس نے صحیفوں کے ذریعہ داؤد سے کہلا یا تھا کہ کچھ واقعات پیش آئیں گے جسکا تعلق یہودا ہ سے تھا وہ ہم میں سے ایک ہے یہودا ہ ہی ہما رے ساتھ خدمت کر تا رہا تھا۔ اوراس روح مقدس نے کہا کہ یہودا ہ ہی یسوع کو گرفتار کروانے میں رہنما ہو گا۔” 18 یہودا ہ کو اس شیطانی کام کے لئے رقم دی گئی جس سے اس نے میدان خریدا لیکن یہوداہ سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹا اور انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔ 19 ان تمام لوگوں نے جو یروشلم کے رہنے والے تھے حقیقت سے آشنا ہو ئے اسی لئے اس کھیت کا نام انہو ں نے ہقل دما رکھا “یعنی خونی کھیت” ان کی زبان میں یہی اسکے معنی ہیں۔ 20 پطرس نے کہا، “زبور میں یہوداہ کے متعلق لکھا ہے: کہ کو ئی بھی اس کے گھر کے قریب نہ جا ئے اور کو ئی بھی وہاں نہ رہے [a] اور یہ بھی لکھا ہے: کہ اور کو ئی دوسرا اس کے کام کو نہ کرے۔ [b] 21-22 اس لئے دوسرے آدمی کو ہما رے ساتھ مل کر یسوع کے جی اٹھنے کا گواہ ہو نا ہو گا۔یہ آدمی ان میں سے ایک ہو نا چاہئے جو ہما رے ساتھ اس دوران رہے جب یسوع ہم لوگوں کے ساتھ رہے تھے ، اور یوحنا کا لوگوں کو بپتسمہ دینے سے لیکر اس دن تک جب یسوع کو ہم لوگوں میں سے آسمانو ں میں اٹھا لیا گیا ہم لوگوں کے ساتھ رہے۔ 23 رسو لوں نے دو آدمیوں کو پیش کیا ایک یوسف برسیاّ جس کو جستس بھی کہا گیا ہے۔ اور دوسرا آدمی متیاہ تھا۔ 24-25 رسولوں نے دُعا کی“خدا وند تو تمام آدمیوں کے ذہنوں کو جانتا ہے ہمیں راستہ بتا کہ ان دو میں سے کس کو منتخب کیا جا ئے اور کون اس وزرات میں رہے گا۔”یہودا ہ اس کا مستحق تھا اور وہ اس جگہ پلٹ کر آیا۔ 26 تب وہ دو میں سے ایک کو منتخب کر نے کے لئے قرعہ ڈا لا قرعہ متیاہ کے نام نکلا اور وہ بحیثیت رسول دیگر گیارہ افراد کے منتحب ہوا۔ Footnotes: a. رسولوں 1:20 زبور۶۹:۲۵ b. رسولوں 1:20 زبور۱۰۹:۸ رسولوں 2 روح القدس کی آمد 2 جب پنکت کی تقریب [a] کا دن آیا تو تمام رسول ایک جگہ اکٹھے ہو ئے۔ 2 اچانک ایک زور دار آواز زوردار ہوا کے چلنے سے آسمان سے آئی۔اس آواز کی گونج سے جس جگہ یہ لوگ بیٹھے تھے وہ جگہ دہل گئی۔ 3 انہوں نے دیکھا جیسے آ گ کے شعلے لپک رہے ہوں۔ یہ شعلہ علحدٰہ ہو کر ان کے پاس آکر گرے جہاں پر یہ بیٹھے ہوئے تھے۔ 4 اور وہ تمام روح القدس سے بھر گئے اور مختلف ز بانیں بولنے لگے جیسا کہ روح القدس نے انہیں ایسا کر نے کی طاقت دی ہو۔ 5 وہاں کچھ مذ ہبی یہو دی لوگ یروشلم میں تھے۔ جو دنیا کے ہر ممالک کے تھے۔ 6 ایک بڑا گروہ بھی ا ن لوگوں کے ساتھ آیاتھا جنہوں نے یہ آواز سنی اور وہ سب حیرت میں تھے۔ دیکھیں کہ رسول لوگ اپنی زبان سے کیا کہتے ہیں۔ 7 تمام یہو دی حیران تھے۔ اور وہ سمجھ نہ سکے کہ کس طرح ان رسو لوں نے اایسا کیا انہوں نے کہا، “دیکھو یہ لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ کہیں گلیل کے تو نہیں!” 8 لیکن یہ جو کہتے ہیں ہم اسے اپنی اپنی زبان میں سمجھ رہے ہیں۔ یہ کس طرح ممکن ہے کیوں کہ ہما را تعلق مختلف جگہوں سے ہے جیسے۔ 9 ہم پا رتھی،ما وی،ایلام ، مسو پو ٹا میہ،یہوداہ،کپد کیہ،پونٹس ایشیاہ۔ 10 فریگیہ،پمفلیہ،مصر، اور لیبیا کے خطے جو شہر سائرن ،روم کے قریب ہیں۔ 11 کریتی اور عربیہ کے ہیں۔ہم میں سے چند پیدائشی یہودی ہیں اور چند ہمارے مذہب میں تبدیل ہو گئے ہیں- اور ہم مختلف ممالک سے ہیں لیکن ہم ان آدمیوں کی گفتگو کو جو خدا کے بارے میں ہے بہتر سمجھ رہے ہیں۔” 12 تمام لوگ حیران اور پریشان تھے- اور وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے، “یہ کیا ہو رہا ہے ؟”13 ان میں سے بعض نے مسیح کے رسولوں کا مذاق اڑایا اور انہوں نے کہا، “وہ زیادہ مئے پینے سے نشہ میں مست ہیں۔ پطرس کا لوگوں سے خطاب کرنا 14 تب پطرس دیگر گیارہ رسولوں کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور با آواز بلند جس کو سب سن سکیں کہا،“اے میرے یہودی بھائیو اور دیگر حضرات جو یروشلم میں رہتے ہو میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں” اس لئے غور سے میرے جملے سنو جسے تم جاننا چاہتے ہو۔ 15 تم غلط خیال کر رہے ہو کہ یہ لوگ نشہ میں ہیں اب صبح کے نو بجے ہیں۔ 16 یہ سب باتیں یوایل نبی کے ذریعہ کہی گئی ہیں جو تم آج یہاں دیکھ رہے ہو یوایل نے کہا اور لکھا ہے: 17 خدا کہتا ہے آخر دنوں میں ایسا ہو گا کہ میں اپنی روح تمام لوگوں پر ڈالوں گا اور تمہارے بیٹے و بیٹیاں بھی نبوّت کریں گے- تمہارے نوجوان رویا اور تمہارے عمر رسیدہ بزرگ خواب دیکھیں گے۔ 18 بلکہ ان دنوں میں اپنی رو ح اپنے خدمت گزاروں جن میں مرد و عورت سبھی ہوں گے پر ڈالونگا اور وہ نبوت کی باتیں کریں گے۔ 19 میں آسمان میں معجزے اور زمین پر عجیب و غریب کرشمے دکھا ؤنگا، گویا خون آ گ اور دھوئیں کے گھنے بادل دکھا ؤنگا۔ 20 سورج اندھیروں میں گم ہو گا اور چاند بالکل خون کی مانندسرخ ہوگا۔ تب خداوند کا عظیم و شاندار دن آئیگا۔ 21 جو کوئی بھی خداوند کا نام لیگا نجات پائے گا۔محفوظ رہے گا [b] 22 میرے یہو دی بھا ئیو! یہ سا رے الفاظ غور سے سنو کہ یسوع نا صری کوخدا نے واضح طور پر خاص آدمی بنایا۔ اور اس بات کو ثا بت کر نے کے لئے اپنے معجزے اور حیرت انگیز کاموں کو جو اس نے یسوع کے ذریعہ تمہیں بتا ئے۔ اور تم سب نے اس کو دیکھا اوراسے سچ جانا۔ 23 یسوع کو تمہا رے لئے دیا گیا لیکن تم نے برے لو گوں کے ذریعے انہیں مصلوب کئے اور کیل ٹھو کے لیکن خدا جانتا تھا کہ سب کچھ ہو گا اور یہ خدا وند کا ہی مقررہ نظام تھا جو اس نے بہت پہلے تیار کیا تھا۔ 24 یقیناً یسوع موت کی دردوتکلیف کو برداشت کیا۔ لیکن خدا نے اس کودوبارہ زندگی دے کر نجات دی۔ وہ موت یسوع کو قابو میں نہ کر سکی۔ 25 داؤد نے یہ سب کچھ یسوع کے ذریعہ کہا ہے کہ، میں نے خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھا ہے۔ اور وہ میری داہنی جانب ہے اور وہ مجھے سلامتی میں رکھا ہے۔ 26 اسی سبب سے میرا دل بہت خوش ہے اور میری زبان بھی خوش ہے اور میرا جسم بھی پرُ امید ہے۔ 27 اس لئے کہ تم میری جان کو عالم ارواح میں نہ چھو ڑوگے۔ اور نہ اپنے مقدس کو سڑ نے کی نو بت پر پہنچنے دو گے۔ 28 تم نے مجھے سکھا یا کہ کس طرح رہنا چاہئے تم میرے بہت قریب ہو اور میری خوشیاں حا صل کر تے ہو۔ [c] 29 “میرے بھا ئیو! کیا میں تمہیں آزادانہ طور پر داؤد کے متعلق کہہ سکتا ہوں جو ہما رے آبا ؤ اجداد ہیں انکی وفات ہو ئی دفن ہو ئے اور ان کی قبر آج بھی ہما رے درمیان ہے۔ 30 دا ؤد نبی تھے اور وہ جانتے تھے کہ خدا کیا کہتا ہے۔ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ داؤد کے خاندان ہی میں سے ایک شخص کو بادشاہت دے گا اور وہ اسی تخت پر بادشاہ بن کے بیٹھے گا۔ 31 اور داؤد نے بہت پہلے ہی سے اس بات کو جان کر کہا تھا: کہ وہ عالم موت میں نہیں چھوڑا جا ئے گا اور نہ اس کے جسم کو قبر میں کو ئی نقصا ن ہو گا اور داؤد نے یہ سب یسوع کے متعلق کہا تھا کہ مر نے کے بعد پھر اٹھا یا جائے گا۔ 32 یسوع ہی ایک ایسا ہے جسے خدا نے مر نے کے بعد پھر اٹھا یا اور ہم سب اس کے گواہ ہیں۔ 33 یسوع کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور اب یسوع خدا کی داہنی جانب ہے۔ اور باپ نے اس کو روح القدس عطا کیا۔ جیسا کہ وعدہ کیا تھا۔ اور یسوع اب روح کو تم پر نازل کیا جو تم دیکھتے اور سنتے ہو۔ 34 داؤد کو آسمان پر نہیں اٹھا یا گیا تھا۔ یہ یسوع تھا جس کو آسما نوں پر اٹھا لیا گیا۔داؤد نے خود کہا: خداوند نے میرے خداوند سے کہا کہ میری داہنی طرف بیٹھ۔ 35 جب تک کہ میں تمہا رے دشمنوں کو تمہا رے قبضہ میں نہ دوں۔ [d] 36 چنانچہ “سبھی اسرائیلیوں کو یہ سچا ئی جاننا چاہئے کہ خدا وند نے اسی یسوع کو جسے تم لوگوں نے صلیب پر چڑھا دیا، خداوند اور مسیح بنا یا۔ 37 جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ نہا یت رنجیدہ ہو ئے اور انہوں نے پطرس اور دوسرے رسولوں سے پوچھا کے بھا ئیو! اب ہمیں کیا کر نا چا ہئے؟” 38 پطرس نے ان سے کہا، “تم اپنے دلوں اور اپنی زندگی کو بدل ڈالو اور تم میں سے ہر ایک یسوع مسیح کے نام سے بپتسمہ لے تا کہ خدا تمہا ر ے گناہوں کو معاف کرے۔ اور اس طرح تمہیں روح ا لقدس عطیہ کے طور پر حاصل ہو۔ 39 یہ وعدہ تمہا رے لئے ہے اور تمہا رے بچوں کے لئے اور ا ن سب کے لئے جو یہاں سے بہت دور ہیں۔ اور ہر ایک کے لئے ہے کہ خداوند ہمارا خدا اپنے پاس بلا ئے۔” 40 پطرس نے ان لوگوں کو خبر دار کیا اور بہت سی باتیں کہہ کر ان سے یہ ا لتجا کی کہ اپنے آپ کو ایسے برے لوگوں سے بچاؤ۔ 41 وہ لوگ جنہوں نے پطرس کے پیغام کو سنا اور ایمان لے آئے اور بپتسمہ قبول کیا۔ اس روز تقریباً تین ہزار لوگ ایمان وا لے لوگوں کے مجمع میں شامل ہو ئے۔ 42 تمام کے تمام ایک دوسرے سے مل کر رسو لوں کی تعلیم پر عمل کر نا شروع کیا اور با ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھا نے میں اور دعا کر نے میں بھی شامل رہے۔ اہلِ ایمان کا حصہّ 43 بہت سی عجیب چیزیں جو رسو لوں کے ذریعہ ظا ہر ہو ئیں ان تمام چیزوں کو دیکھ کر سب کے دل میں خدا کی عظمت بیٹھ گئی۔ اور سارے لوگ اس کی تعظیم کر نے لگے۔ 44 تمام اہلِ ایمان ایک جگہ رہنے لگے اور ہر ایک معاملہ میں ایک دوسرے کی مدد کر تے رہے۔ 45 اور اپنی زمینات اور دوسری اشیاء فروخت کر کے ایسے لوگوں کے کام آتے جو ضرورت مند ہو تے تھے۔ ان کو اپنا مال متاع وغیرہ بانٹ دیتے تھے۔ 46 سب اہلِ ایمان ایک ساتھ ہر روز عبادت خا نے میں اجلا س کر نے کے لئے جمع ہو تے سب کا ایک ہی مقصد ہو تا اور خوشی خوشی ایک دل ہو کر اپنے گھروں میں ساتھ کھا تے۔ 47 اہلِ ایمان خدا کی تعریف کر تے اور تمام لوگ انہیں چاہتے تھے۔ زیا دہ سے زیادہ لوگ ان کے ساتھ شامل ہو تے گئے اور خداوند انہیں اہلِ ایمان کے ساتھ ملا دیتا تھا۔ Footnotes: a. رسولوں 2:1 پنتُکست یہودی تقریب جو گیہوں کی فصل ہونے پر فسح کے ۵۰دن بعد منائی جاتی ہے b. رسولوں 2:21 یوایل۲:۲۸۔۳۲ c. رسولوں 2:28 زبور۱۶:۸۔۱۱ d. رسولوں 2:35 زبور۱۱۰:۱ رسولوں 3 لنگڑے آدمی کا پطرس کے ذریعہ شفاء پا نا 3 ایک دن پطرس اور یوحناّ ہیکل میں دوپہر تین بجے گئے۔اور یہ وقت ہیکل کی روزا نہ کی دعا کا وقت تھا۔ 2 وہ جب ہیکل کے آنگن میں داخل ہو رہے تھے تو وہاں ایک معذور آدمی ملا۔ جو پیدائشی لنگڑ ا تھا اور چل پھر نہیں سکتا تھا وہ ہر روز اس کو ہیکل لے آتے اور ہیکل کے دروازہ کے نزدیک چھو ڑ جا تے جو خوبصورت دروازہ کہلا تا تھا جہاں وہ ہیکل میں ہر ایک آنے جانے وا لے سے بھیک مانگتا تھا۔3 اس روز اس معذور نے پطرس اور یوحناّ کو دیکھا کہ وہ ہیکل کو جا رہے ہیں تو اس نے ان سے بھیک مانگی۔ 4 پطرس اور یو حناّ نے اس لنگڑے معذور کو دیکھا اور کہا، “ہما ری طرف دیکھ۔” 5 تب معذور نے انہیں دیکھا اور یہ خیال کیا کہ یہ لوگ اسے کچھ رقم دیں گے۔ 6 لیکن پطرس نے کہا، “میرے پاس کوئی سونا یا چاندی نہیں بلکہ میرے پاس کچھ اور چیزہے جو میں تمہیں دے سکتا ہوں اور تو ناصرت کے یسوع مسیح کے نام سے کھڑا ہو اور چل۔” 7 تب پطرس نے اس لنگڑے معذور کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا فوراً ہی اس لنگڑے معذور کے پیروں میں طاقت آئی۔ 8 وہ کود کر کھڑا ہوگیا اور چلنا شروع کیا۔ وہ ہیکل کے اندر گیا۔ وہ اچک اچک کر چلنے لگا اور خدا کی تعریف کر تا رہا۔ 9-10 سب لوگوں نے اس کو پہچان لیا کہ وہ لنگڑا معذور وہی تھا جو ہیکل کے خوبصورت دروازہ کے پاس بیٹھ کر بھیک مانگا کرتا تھا اور سب نے دیکھا کہ اب چل رہا ہے اورخدا کی حمد کر رہا ہے۔لوگ حیرت زدہ تھے اور سمجھ نہیں سکے ایسا کیسے ہو گیا۔ پطرس کا لوگوں سے بات کر نا 11 وہ آدمی پطرس اور یوحنا کو پکڑا ہوا تھا تمام لوگ حیران تھے آدمی کو شفاء یاب دیکھ کر وہ بر آمدہ سلیمان کی جانب دوڑے جہاں پطرس اور یوحناّ کھڑے تھے۔ 12 پطرس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا، “اے میرے یہودی بھا ئیو!، کیا تم اس چیز سے حیران ہو تم ہمیں اس طرح دیکھ رہے ہو گویا یہ ہما ری کوئی طاقت تھی جس کی وجہ سے وہ آدمی چلنے لگا۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم کوئی نیک ہیں جس کی وجہ سے اس کو چلنے کے قابل بنایا۔ 13 نہیں! بلکہ یہ خدا نے کیا جو ابراہیم کا خدا ہے اور اسحاق کا خدا ہے یعقوب کا خدا ہے وہ ہما رے آباؤاجداد کا بھی خدا ہے۔اس نے یسوع کو جو اس کا خاص بندہ ہے اپنے جلا ل سے نوازا۔لیکن تم نے انہیں قاتلوں کے حوا لے کردیا تاکہ ماردیا جا ئے۔جب پیلا طس نے یسوع کو چھڑا نے کا ارادہ کیا تو تم نے اس کوقبول نہیں کیا۔ 14 یسوع تو پاک اور اچھا ہے لیکن تم نے پیلا طس سے کہا کہ یسوع کی بجا ئے کوئی قاتل کو رہا کیا جائے۔ 15 تم نے زندگی دینے والے کو مار ڈالا لیکن خدا نے اسے موت سے اٹھا لیا جس کے ہم گواہ ہیں جس کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ 16 یسوع کی قوت نے لنگڑے معذور کو شفاء دی یہ اس لئے ہوا کہ ہمیں یسوع کی قوت پر بھروسہ ہے تم اس آدمی کو دیکھتے ہو وہ با لکل شفایاب تندرست ہے کیوں کہ اس کو یسوع پر ایمان ہے۔ 17 “میرے بھا ئیو! میں جانتا ہوں کہ تم نے جو کچھ یسوع کے ساتھ کیا تم واقف نہ تھے کہ تم کیا کر رہے ہو تمہا رے قائد بھی واقف نہ تھے کہ کیا کر رہے ہیں۔ 18 خدا نے اپنے نبیوں کے ذریعہ کہا تھا کہ جو واقعات ہو نے وا لے تھے اس سے مسیح موت کا دکھ اٹھا ئیگا، میں نے اب ان حا لا ت سے جو کچھ اس نے کہا تھا اس کو پورا کیا۔ 19 اس لئے تمہیں چاہئے کہ تم دلوں میں اور زندگی میں تبدیلی کر تے ہو ئے واپس خدا کے پاس آجا ؤ۔ اس طرح خدا تمہا رے گنا ہوں کو معاف کرے گا۔ 20 تب خداوند تمہا رے لئے وقت دے گا تا کہ تم رُوحا نی سکون حا صل کرو وہ یسوع کو تمہارے پاس بھیجے گا جس کو مسیح چنا گیا ہے۔ 21 یسوع آسمان میں رہتے ہیں وہ وہیں رہیں گے جب تک وہ سب باتیں بحال نہ کی جا ئیں جن کا ذکر خدانے اپنے مقدس نبیوں کی زبانی کیا ہے۔ 22 موسیٰ نے کہا خداوند تمہا را خدا تمکو نبی دے گا۔ وہ نبی تم لوگوں میں سے ہی آئے گا وہ میرے جیسا ہو گا۔ جو کچھ وہ تم سے کہے اسے سننا ہوگا۔ 23 اور جو کوئی اس نبی کو سننے سے انکار کرے گا تو وہ مر جا ئے گا اور خدا کے محبوب لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا۔ [a] 24 سموئیل اور دوسرے نبیوں نے جو کچھ خدا کی جانب سے کہا انہوں نے اس مو جودہ وقت کے متعلق ہی کہا تھا۔ 25 جن چیزوں کے بارے میں نبیوں نے کہا تھا تم نے اسے حا صل کیا ہے تمہا رے آبا ؤ اجداد سے خدا نے جو معاہدہ کیا تھا اس کو حاصل کیا خدا تمہارے باپ ابراہیم سے کہہ چکا ہے کہ روئے زمین کی ہر قوم پر انکی نسل کے ذریعہ ہی فضل ہو گا ۔ [b] 26 “خدا نے اپنے خاص خادم کو تمہارے پاس بھیجا خدا نے اسکو سب سے پہلے تمہارے پاس بھیجا۔ تمہارے پاس تم پر فضل کر نے کے لئے بھیجا تاکہ تم بدی کی راہ چھوڑ کرپلٹ آؤ۔” Footnotes: a. رسولوں 3:23 اِقتِباس استثناء ۱۹،۱۵:۱۸ b. رسولوں 3:25 اِقتِباس پیدائش ۱۸:۲۲؛۲۴:۲۶ رسولوں 4 پطرس اور یوحنّا یہودی مجلس کے رو برو 4 جب پطرس اور یوحنا لوگوں سے باتیں کر رہے تھے تب کچھ لوگ ان کے پاس آئے ان میں کچھ یہودی کاہن اور جن میں ہیکل کے سردار بھی تھے جن میں ہیکل کے حفاظتی دستہ کا کپتان اور تھوڑے صدوقی بھی تھے۔ 2 وہ غصّہ میں تھے کیونکہ پطرس اور یوحنا یہ تعلیم دے رہے تھے کہ لو گوں کو موت کے بعد اٹھایا جائے گا اور وہ دو رسولوں کو مر کر زندہ ہو نے کی بات یسوع کی مثال دے کر کہہ رہے تھے۔3 انہوں پطرس اور یوحنا کو پکڑ کر حوالات میں رکھا یہ رات کا وقت تھا اور انہوں نے پطرس اور یوحنا کو دوسرے دن صبح تک حوالات میں بند رکھا۔ 4 کئی لوگ پطرس اور یوحنا کی تعلیمات سنیں ایمان لائے اہل ایمان کے گروہ میں ان کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تک بڑھ گئی۔ 5 دوسرے دن یہودی قائد اور انکے قدیم یہودی رہنما اور شریعت کے معلمین یروشلم میں جمع ہو ئے۔ 6 حنّا (اعلٰی کاہن)، کائفا ،یوحنّااور سکندر بھی موجود تھے جو اعلٰی کاہن کی خدمت انجام دیا کرتے تھے۔ 7 پطرس اور یوحنا کو ان کے سامنے لے آئے اور یہودی قائدین نے ان سے کئی بار پو چھا، “تم نے لنگڑے معذور آدمی کو کس طرح اچھا اور تندرست کیا ؟ تم نے کونسی طاقت استعمال کی ؟کس اختیار کے تحت کیا؟” 8 تب اسی وقت پطرس روح القدس سے معمور ہوا اور اس نے کہا، “اے لوگوں کے قائدو!اور اے بزرگ قائدو! 9 کیا تم اس بھلائی کے متعلق سوال کر رہے ہو جو اس لنگڑے معذور کے ساتھ آج کی گئی ؟کیا تم ہم سے پوچھ رہے ہو کہ کس چیز نے اسے اچھا کر دیا ؟ 10 ہم چاہتے ہیں کہ تم سب یہودی یہ جان لو کہ ناصری یسوع مسیح کی طا قت سے یہ شخص تندرست ہوا ہے۔تم نے اس یسوع کو مار ڈالا اور مصلوب کیا لیکن خدا نے اسے موت سے پھر اٹھا یا اور یہ آدمی جو لنگڑا معذور تھا اب دوبارہ چلنے کے قابل ہو گیا محض اسی یسوع کی قوّت کی وجہ سے ہوا ہے۔ 11 یسوع وہی پتھّر ہے جسے معماروں نے کو ئی اہمیت نہ دی، لیکن وہی پتھّر کو نے پتھّر ہو گیا۔ [a] 12 صرف یسوع ہی لوگوں کو بچا سکتا ہے دنیا میں صرف اسی کا نام نجات کے لئے کافی ہے۔ہم یسوع کے ذریعے ہی نجات پا سکتے ہیں۔” 13 یہودی سردار یہ جان کر کہ پطرس اور یوحنا کو ئی تعلیم یافتہ اور مذہبی تربیت یافتہ نہیں ہیں وہ حیران ہو ئے۔اور یہ کہ پطرس اور یو حنا بلا کسی خوف و جھجھک کے باتیں کر تےہیں تب وہ سمجھے کہ پطرس اور یوحنا یسوع کے ساتھ تھے۔ 14 انہوں نے دیکھا کہ لنگڑا شحص جو معذور تھا۔ان کے قریب تندرست کھڑا تھا اس لئے انہوں نے رسولوں کے جواب میں کچھ نہ کہا۔ 15 انہوں نے انہیں اس مجلس سے باہر جا نے کا حکم دیا اور پھر آپس میں ایک دوسرے سے مشورہ کر نے لگے کہ انہیں کیا کر نا چاہئے۔ 16 انہوں نے کہا، “ہم ان آدمیوں کے ساتھ کیا کریں ؟ہر ایک جو یروشلم میں ہے وہ اچھی طرح واقف ہے کہ انہوں نے ایک عظیم معجزہ دکھایا ہے در حقیقت ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ 17 لیکن ہمیں چاہئے کہ انہیں دھمکائیں اور کہیں کہ وہ لوگوں سے مزید مسیح کی بات نہ کریں ور نہ اور بھی زیادہ یہ مسئلہ لوگوں میں پھیل جائیگا۔” 18 یہودی قائدین نے پطرس اور یوحنا کو بلاکر تاکید کی کہ وہ لوگوں کو یسوع کا نام لیکر کسی قسم کی تعلیمات کی بات نہ کریں۔ 19 لیکن پطرس اور یوحنا نے انکو جواب دیا، “تم یہ فیصلہ کرو کہ خدا کی نظر میں کیا صحیح ہے، کہ ہم تمہاری اطاعت کریں یا خدا کی اطاعت کریں ؟ 20 ہم خاموش نہیں رہ سکتے ہم نے جو دیکھا اور سنا اسے لوگوں سے کہیں گے۔” 21-22 وہ انہیں سزا دینے کا کو ئی جواز نہ پا سکے کیوں کہ معجزہ جو واقع ہوا اسے دیکھ کر لوگ خدا کی بڑا ئی بیان کر رہے تھے اور جو آدمی اچھا ہوا وہ چالیس سال سے زیا دہ کا تھا اس لئے یہودی قائدین نے انہیں ایک بار پھر دھمکا کر اور تاکید کر کے چھوڑ دیا۔ پطرس اور یوحنا کا اہل ایمان کی طرف واپس ہو نا 23 پطرس اور یوحنا یہودی قائدین کی مجلس سے باہر نکل آئے اور اپنے گروہ سے جا ملے پرا نے یہودی کاہن اور بزرگ یہودی سرداروں نے جو کچھ ان سے کہا تھا وہ سب کچھ ان سے کہدیا۔ 24 جب انکے گروہ نے یہ سنکر ایک ساتھ خدا کی حمد کی اور کہا، “خداوند تو ہی ہے جس نے آسمان زمینوں اور سمندر کو اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا۔ 25 ہمارے آبا ؤ اجداد بھی تمہارے خادم تھے اور روح القدس کی مدد سے انہوں نے یہ الفاظ لکھے: قومیں کیوں چیخ اور چلّا رہی ہیں، دنیا کے لوگ خدا کے خلاف کیوں منصوبے باندھ رہے ہیں، جو بے فائدہ ہے۔ 26 زمین کے بادشاہوں نے اپنے آپ کو لڑا ئی کے لئے تیار کیا اور تمام حکام، خداوند اور اسکے مسیح کے خلاف ملکر اکٹھا ہو نے لگے۔ [b] 27 حقیقت میں یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ہیرودیس ، پنطیس، پیلاطیس، دیگر قومیں اور یہودی لوگ ایک ساتھ ملکر یسوع کے خلاف یروشلم میں جمع ہو ئے۔ یسوع ہی تمہا را خاص خادم ہے یہ وہی ہے جسے خدا نے مسیح کے طور پر چنا ہے۔ 28 یہ لوگ جو یہاں یسوع کے خلاف اکٹھے ہو ئے ہیں تمہارے منصبوبہ کے مطابق اور تمہاری قوت اور منشا سے سارے کام کر نے کے لئے جمع ہو ئے ہیں۔ 29 انہیں خداوند سنتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں وہ ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں۔اے خداوند ہم سب تیرے خادم ہیں اسلئے ہماری مدد کر تا کہ ہم تیرے کلام کو جرات ہمّت کے ساتھ کہہ سکیں۔ 30 ہمیں ہمت دے تا کہ ہم تیری قوت کا اظہار کرسکیں۔ اور بیمار کو تندرست کر سکیں۔ ثبوت دکھا کر انہیں معجزہ فراہم کریں اور یہ سب مقدس خادم یسوع کی طاقت کے بل بوتے پر ہوں۔” 31 جب وہ دعا ختم کر چکے تو وہ جگہ جہاں وہ جمع تھے دہل گئی اور وہ سب روح القدس سے معمور ہو گئے اور وہ خدا کے پیغام کو بغیر کسی خوف کے دلیری سے جاری رکھا۔ اہل ایمان کا حصّہ 32 اہل ایمان کا گروہ ایک دل اور ایک روح رکھتا تھا اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ ملکیت انکی ہے۔ بلکہ ہر چیز کا ایک دوسرے سے اشتراک کیا۔ 33 مسیح کے رسولوں نے بڑی قوت سے خداوند یسوع کے دوبارہ جی اٹھنے کی گواہی دی ا ور خدا کا بہت بڑا فضل ا ن تما م لوگوں پر تھا۔ 34 اور وہ تمام حاصل کیا جن کی انکو ضرورت تھی۔کیوں کہ جس کسی کے پاس زمینات یا مکانات تھے وہ فروخت کر دیتے اور انکی قیمت لاکر رسولوں اور مریدوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ 35 اس طرح ہر ایک رسول کو اسکی ضرورت کے مطابق دیا گیا۔ 36 ایک شخص جس کا نام یوسف اور رسولوں میں اسکو برنباس یعنی “دوسروں کی مدد کر نے والا رکھا۔” وہ لاوی تھا اور وہ کپرس میں پیدا ہوا تھا۔ 37 یوسف کا ایک کھیت تھا اس نے اسکو فروخت کیا اور رقم لاکر مسیح کے رسولوں کو دیدی Footnotes: a. رسولوں 4:11 زبور۱۱۸:۲۲ b. رسولوں 4:26 زبور۲:۱۔۲ رسولوں 5 حننیاہ اور صفیرہ 5 حننیاہ نامی ایک شخص تھا۔حننیاہ کی ایک بیوی تھی جس کا نام صفیرہ تھا۔ اس نے زمین کا کچھ حصہ فروخت کردیا۔ 2 لیکن اپنی زمین فروخت کر نے کے بعد رقم کا ایک حصہ رسولوں کو پیش کیا اور ایک حصہ بیوی کی مرضی سے اپنے لئے رکھ لیا۔ 3 پطرس نے کہا، “حننیا ہ کیا شیطان نے تیرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ روح القدس سے جھوٹ بولے اور زمین کی قیمت میں سے کچھ اپنے لئے رکھ چھوڑے۔؟ 4 فروخت کر نے سے پہلے اس پر تمہا را حق تھا اور بعد اس کے بھی تم رقم کو اپنی مرضی کی مطا بق رکھ سکتے تھے پھر یہ شیطا نی خیال کیسے آیا ؟ دل میں کس طرح آیا۔ تم نے انسان سے نہیں خدا سے جھوٹ کہا۔ 5-6 جب حننیاہ نے یہ سنا تو وہ گرا اور مر گیا کچھ نو جوانوں نے آکر اس کے جنازہ کو لپیٹ کر دفن کیا۔ اور جس کسی نے بھی یہ واقعہ سنا تو سن کر خوفزدہ ہو گیا۔ 7 تین گھنٹے کے بعداس کی بیوی صفیرہ اندر آئی اس کو تمام واقعات معلوم نہیں تھے جو اس کے شوہر کے ساتھ پیش آئے تھے۔ 8 پطرس نے اس سے کہا، “تمہیں کتنی رقم زمین کے فروخت کرنے پر ملی تھی کیا رقم اتنی ہی تھی جتنی کہ حننیاہ نے بتا ئی تھی؟”صفیرہ نے جواب دیا ، “ہاں اتنی ہی رقم ملی تھی۔” 9 پطرس نے کہا، “تم اور تمہا رے شوہر نے کیوں خداوند کی روح کو جانچنے کا فیصلہ کیا؟ سنو!”کیا تم پیروں کی آہٹ سنتی ہو وہ آدمی جس نے تمہا رے شوہر کو دفنایا وہ دروازے پر ہے۔ اور وہ تمہیں بھی لے جا ئیں گے۔” 10 دوسری صبح صفیرہ اس کے پیروں پر گری اور مر گئی نو جوان نے اندر آکر دیکھا تو وہ مر چکی تھی چنانچہ با ہر لے جا کر اس کے شوہر کے پاس دفن کر دیا۔ 11 تمام اہلِ ایمان اور وہ لوگ جنہوں نے یہ واقعہ دیکھا اور سنا تو یہ سن کر خوفزدہ ہو گئے۔ خدا کی طرف سے ثبوت 12 رسولو ں نے بہت سے معجزے دکھا ئے اور کئی عجیب چیزیں بھی ظاہر کیں تمام لوگو ں نے ان چیزوں کو دیکھا۔ تمام رسول ایک ساتھ سلیمان کے بر آمدہ میں جمع ہوئے۔ ان تمام کا ایک ہی مقصد تھا۔13 لیکن ان لوگوں میں سے کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ ان میں جا ملے ، اور تمام لوگ مسیح کے رسولوں کے متعلق اچھے خیالات بیان کرے۔ 14 زیادہ سے زیادہ لوگ جن میں مرد اود عورتیں بھی ہیں خداوند پر ایمان لا ئے۔ 15 پس لوگ اپنے بیماروں کو سڑکوں پر لے آئے، کیوں کہ وہ سن چکے تھے کہ پطرس وہاں آرہا ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے بیمار لوگوں کو چار پائیوں اور پلنگوں پر لا ئے اس خیال سے کہ کم ازکم اس کا سا یہ ہی پڑنے سے وہ لوگ تندرست ہو جا ئیں گے۔ 16 جو لوگ یروشلم کے اطراف گاؤں سے آکر جمع تھے، اور اپنے ساتھ بیماروں اور نا پاک روحوں کے ستا ئے ہو ئے لوگوں کو لا ئے تھے اور یہ تمام لوگ شفا یاب ہو گئے۔ یہودی رہنماؤں کا رسولوں کو روکنے کی کوشش کر نا 17 اعلیٰ کا ہن اور اس کے دوستوں کا گروہ جن کا تعلق صدوقیوں سے تھا ان سے حسد کر نے لگے تھے۔18 انہوں نے مسیح کے رسولوں کو گرفتار کر کے حوا لات میں بند کردیا۔ 19 لیکن رات کے وقت خداوند کے فرشتے نے جیل کے دروازے کو کھولا اور انہیں باہر لا کر کہا،۔ 20 “جاؤ اور ہیکل میں کھڑے ہو کر تمام لوگوں کو اس یسوع کی نئی زندگی کے متعلق بتا ؤ۔” 21 جب رسولوں نے یہ سنا تو انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور ہیکل کو گئے یہ پہلی صبح کا وقت تھا۔ رسولوں نے تعلیم دینی شروع کی۔ اعلیٰ کاہن اور ان کے دوستوں کے گروہ نے یہودی قائدین کی اور اہم یہودی بزرگوں کی مجلس طلب کی۔22 انہوں نے چند لوگوں کو جیل بھیجا تا کہ وہ مسیح کے رسولوں کو لا ئیں۔ وہ لوگ جیل گئے۔ لیکن انہوں نے وہاں رسولوں کو نہیں پا یا اور وہ واپس آئے، آکر یہودی قائدین سے اس واقعہ کی اطلاع دی۔ 23 انہوں نے کہا، “جیل بند اور اس میں تالا لگا ہوا تھا اور نگراں کار سپا ہی بھی دروازوں پر تھے۔ لیکن جب ہم نے جیل کا دروازہ کھو لا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں کو ئی نہ تھا۔” 24 ہیکل کے کپتان اور دوسرے کاہنوں کے رہنما نے یہ سنا تو حیران ہو ئے اور سوچنے لگے کہ“اس کاانجام کیا ہوگا ؟” 25 تب دوسرا شخص آیا۔اور ان سے کہا، “سنو! جن لوگوں کو تم نے جیل میں رکھا تھا وہ ہیکل کے آنگن میں کھڑے ہیں اور لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔” 26 تب کپتان اور پہرے دار ہیکل گئے اور رسولوں کو لے آئے۔ لیکن انہوں نے طاقت کا استعمال نہیں کیا کیوں کہ وہ لوگوں سے ڈرے ہو ئے تھے اس خیال سے کہ کہیں لوگ غصّہ میں آکر انہیں سنگسار نہ کر دیں۔ 27 سپاہی رسولوں کو مجلس میں لے آئے اور انہیں یہودی قائدین کے سامنے کھڑا کر دیا۔ اعلیٰ کاہن نے رسولوں سے سوال کیا۔ 28 “ہم نے تم سے کہا تھا کہ اس آدمی کے متعلق سے تعلیم نہ دینا لیکن تم نے سارے یروشلم میں اپنی تعلیم پھیلا دی اس طرح تم اس شخص کی موت کی ذمّہ داری ہماری گردن پر رکھنا چاہتے ہو۔” 29 پطرس اور دوسرے رسولوں نے جواب دیا، “ہمیں خدا کا حکم ماننا ہے تمہارا نہیں۔ 30 تم نے یسوع کو صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا ، لیکن خدا جو ہمارے آباؤ اجداد کا خدا ہے یسوع کو موت سے اٹھا لیا ہے۔31 یسوع کو خدا نے داہنی جانب سے بلند کیا اور اسکو خدا وند اور نجات دہندہ بنایا۔ یہ اس لئے کیا تاکہ تمام یہودی اپنے دلوں کو اور زندگیوں کو بدلیں تب خداوند انکے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے۔ 32 ہم نے یہ سب کچھ دیکھا اسلئے ہم کہتے ہیں، “یہ سب کچھ سچ ہے۔روح القدس بھی اور سب چیزیں سچ ہیں۔خدا نے ان سب لوگوں کو جو اسکی اطا عت کر تے ہیں روح دی ہے۔” 33 جب یہودی قائدین نے یہ ساری باتیں سنیں تو غصہ میں آگئے اور رسولوں کو قتل کر نا چاہا۔ 34 ایک فریسی جس کا نام گیملی ایل جو شریعت کا استاد تھا۔سب لوگ اسکی عزت کر تے تھے اس نے کہا کہ مسیح کے رسولوں کو چند منٹ کے لئے اجلاس سے باہر بھیج دیا جائے۔ 35 اور پھر ان سے کہا، “اے بنی اسرائیلیو خبردار رہو تم ان لوگوں کے ساتھ جو کر نا چاہتے ہو ہوشیاری سے کرو۔ 36 یادکرو جب تھیوداس ظاہر ہوا تھا۔اس نے کہا تھا کہ میں ایک اہم شخص ہوں تو تقریباً ۴۰۰ آدمی اسکے ساتھ ہو گئے۔لیکن وہ مارا گیا اور اسکے لوگ سب پراگندہ ہو گئے۔اور تمام چیزیں بغیر فائدہ کے ختم ہو گئیں۔ 37 اس کے بعد ایک آدمی یہودا گلیل سے مردم شماری کے وقت آیا تھا۔اس نے بھی کچھ لوگوں کو اپنی طرف راغب کر لیاتھا۔وہ بھی مارا گیا اور جتنے اسکے ماننے والے تھے سب پراگندہ ہو گئے۔اور بھاگ گئے 38 میں تم سے کہتا ہوں ان آدمیوں سے دور رہو انہیں تنہا چھوڑ دو اگر یہ لوگوں کا منصوبہ ہے تو یہ ناکام ہوگا۔ 39 لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو تم انہیں روک نہیں سکو گے اور تم بھی شاید خدا سے لڑنے والوں میں شمار کئے جاؤ گے۔” یہودی قائدین نے گیملی ایل کی بات سے اتفاق کر لیا۔ 40 انہوں نے رسولوں کو دوبارہ بلایا اور انکو پٹوایا اور حکم دے کر چھوڑ دیا، “وہ دوبارہ یسوع کے متعلق کچھ نہ کہا، “تب انہوں نے رسولوں کو آزاد کیا۔41 مسیح کے رسولوں نے وہاں مجلس کو چھو ڑا۔وہ خوش ہو ئے کیوں کہ یسوع کے نام کی خاطر بے عزت ضرور ٹھہرے۔ 42 اور ہر روز وہ مسلسل لوگوں کو تعلیم دیتے رہے گھروں میں اور ہیکل میں اور خوشخبری کہتے تھے کہ یسوع ہی مسیح ہے۔ رسولوں 6 مخصوص کام کے لئے سات آدمیوں کا انتخاب 6 یسوع کے ماننے والے کئی لوگ شامل ہو تے گئے تو یونانی مائل یہودی عبرانیوں کی شکایت کر نے لگے وہ کہتے تھے کہ انکی بیویاں برابر کا حصّہ جو ہر روز تقسیم ہو تا تھا نہیں پاتی تھیں۔ 2 مسیح کے بارہ رسولوں نے تمام اہل ایمان کو بلاکر کہا، “یہ صحیح نہیں ہے کہ خدا کے پیغام کی تعلیم کو روک دو جو ہمارا کام ہے۔ہمارے لئے یہی بہتر ہو گا کہ غذا کی تقسیم میں مدد کر نے کی بجائے ہم خدا کی تعلیمات کو جاری رکھیں۔ 3 پس اے میرے بھائیو! اپنے میں سے کسی سات آدمیوں کو چن لو ، جو روحانی طور سے کامل اور عقلمند بھی ہو ں۔ہم یہ کام انکے حوالے کر دیں گے۔ 4 تا کہ اپنے کام میں دل جوئی سے وقت دیں: دعا اور خدا کے کلام کی تعلیم دے سکیں۔” 5 تمام گروہ نے اس منصوبہ کو پسند کیا اور یہ سات افراد چنے گئے جو یہ ہیں:اسٹیفن (جو روح القدس اور بہتر عقیدہ کا مالک فلکیہ کا رہنے والا )، لوگپ، پروکورس،نکاتور،تائمون،پرمناس اور نیکلاؤس(جو انطاکیہ کا نو مرید یہو دی تھا)- 6 ان لوگوں نے ان آدمیوں کو رسولوں کے سامنے لائے۔ رسولوں نے انکے لئے دعا کی اور اپنا ہاتھ ان پر رکھا۔ 7 خدا کا کلام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ،یروشلم میں اہل ایمان کا گروہ زیادہ سے زیادہ بڑھتا گیا حتیٰ کہ یہودی کاہنوں کی بڑی کلیساء ا س دین کی تابع ہو گئی۔ یہودی کا اسٹیفن کے خلاف کرنا 8 اسٹیفن جو فضل اور قوّت سے معمور تھا خدا نے اسکو معجزہ دکھا نے کی اور لوگوں کو نشانیاں دکھا نے کی صلاحیت دی تھی۔ 9 چند یہودی جن کا تعلق یہودیوں کے کسی ایک یہودی ہیکل سے تھا اسٹیفن کے پاس آکر لڑنے لگے جو لبرتینوں کا ہیکل کہلاتا تھا یہ ہیکل کرینیوں کے یہودیوں کا بھی تھا اور اسکندریہ کے رہنے والے یہودیوں کا بھی سلیسیاہ اور ایشیاء کے یہودی بھی ان میں تھے۔ یہ تمام آئے اور اسٹیفن سے بحث کر نے لگے۔ 10 لیکن روح اسٹیفن کی مدد کررہی تھی اور وہ دانائی کی بات کر رہا تھا۔ اسکے الفاظ اتنے طاقتور اور جامع تھے کہ یہودی اسکا مقابلہ نہ کر سکے۔ 11 وہ یہودی چند آدمیوں کو لائے جنہوں نے کہا، “ہم نے سنا ہے کہ اسٹیفن لوگوں سے موسٰی اور خدا کے خلاف بری باتیں کہتا ہے۔” 12 ان یہودیوں نے لوگوں کو مشتعل کرنا شروع کردیا اور ساتھ ہی عمر رسیدہ یہودی قائدین اور شریعت کے معلّمین کو بھی اور وہ سب اسٹیفن کے پاس گئے اس کو پکڑا یہودی قائدین کے اجلاس میں پیش کیا۔ 13 یہودیوں چند لوگوں کو اس مجلس میں اسٹیفن کے خلاف جھوٹ بولنے کے لئے لا ئے ان لوگوں نے کہا، “یہ آدمی مقدس مقامات کے لئے نہ صرف بری باتیں کہتا ہے بلکہ موسٰی کی شریعت کے خلاف بھی کہتا ہے اور یہ باز نہیں آتا۔ 14 ہم نے اس کو یہ کہتے سنا ہے کہ یسوع ناصری اس مقام کو برباد کریگا۔اور ان رسموں کو بدل ڈالیگا جو موسٰی نے ہمیں سونپی ہیں۔” 15 تمام لوگ جو اجلاس میں تھے بغور اسٹیفن کو دیکھ رہے تھے اور انہوں نے دیکھا اس وقت اسکا چہرہ کسی فرشتے کے مماثل تھا۔ رسولوں 7 اسٹیفن کی تقریر 7 اعلیٰ کاہن نے اسٹیفن سے پوچھا، “کیا یہ سب چیزیں سچ ہیں ؟” 2 اسٹیفن نے جواب دیا، “میرے یہودی باپ اور بھائیو غور سے سنو! “خدا ذوالجلال ہمارے باپ ابراہیم پر اس وقت ظا ہر ہوا جب کہ وہ مسوپتامیہ میں تھے یہ ان کے حاران میں رہنے سے پہلے کی بات ہے۔ 3 خدا نے ابراہیم سے کہا، “تم اپنے ملک اور لوگوں کو چھوڑو اور ایسے ملک کو چلے جاؤ جو میں تمہیں بتاؤنگا۔ [a] 4 اس لئے ابراہیم نے کلدیہ کو چھوڑا اور حاران میں جا بسا اور وہاں اسکے باپ کے مرنے کے بعد خدا نے اسکو اس ملک میں لا کر بسا دیا جہاں اب تم رہتے ہو۔ 5 لیکن خدا نے اسکو یہاں کی زمین کی کوئی میراث نہیں دی حتٰی کہ ایک فٹ زمین بھی نہیں دی لیکن خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا کہ آئندہ اسکو اور اسکے بچوں کو یہ زمین دیگا۔اس وقت ابراہیم کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ 6 اور یہی خدا نے ابراہیم سے کہا تھا، “تمہاری نسل دوسرے ملک میں اجنبی کی طرح رہے گی اور وہاں کے لوگ انکو غلا می میں رکھیں گے اور ان سے چار سو سال تک برا سلوک کریں گے۔” 7 لیکن میں اس قوم کے لوگوں کو سزا دونگا جنہوں نے انہیں غلام بنایا [b] اور خدا نے یہ بھی کہا اس کے بعد تمہاری نسل وہاں سے چلی آئیگی اور اسی جگہ میری عبادت کریگی۔ [c] 8 خدا نے ابراہیم سے ایک عہد لیا اور اس عہد کی نشا نی تھی ختنہ اور جب ابراہیم کا بیٹا ہوا تو اس نے اس کی پیدا ئش کے آٹھویں دن ختنہ کر وا یا یہ لڑکا اسحاق کہلا یا اسحاق نے بھی اپنے بارہ لڑ کوں کا ختنہ کر وایا۔ جو بعد میں بارہ قبیلوں کے بزرگ پیدا ہو ئے۔ 9 “یہ بزرگ باپ اپنے بھا ئی یوسف سے حسد کر تے تھے۔ انہوں نے یوسف کو بطور غلام بنا کر مصر میں فروخت کر دیا لیکن خدا یوسف کے ساتھ تھا۔ 10 یوسف نے کئی تکا لیف کا سامنا کیا لیکن خدا نے اس کو ان تمام تکا لیف سے بچایا، فرعون جو مصر کا بادشا ہ تھا یوسف کو چاہتا تھا اور اس نے یوسف کو مقبولیت دی یہ مقبولیت اس کی دانائی کی بنا ء پر جو خدا نے یوسف کو عطا کی تھی۔ فرعون نے یوسف کو مصر کا سردار بنایا اور یوسف کو فرعون کے محل کا حاکم بھی۔ 11 مصر اور کنعان میں ز بردست قحط پڑا جس کی وجہ سے بڑی مصیبت آئی اور ہمارے آباؤ اجداد کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملا تھا۔ 12 لیکن یعقوب نے سنا کہ مصر میں انا